Baaghi TV

Category: تعلیم

  • کیڈٹ کالج کی فیسوں میں 10 فیصد اضافہ پر وزیر اعلیٰ نے بڑا حکم سنا دیا

    کیڈٹ کالج کی فیسوں میں 10 فیصد اضافہ پر وزیر اعلیٰ نے بڑا حکم سنا دیا

    کیڈٹ کالج سوات کے بورڈ آف گورنرز کا چھٹا اجلاس وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کیڈٹ کالج میں باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کیلئے نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کی منظوری دے دی گئی ہے، پلان کے تحت چھ مختلف مرحلوں میں تعمیراتی کاموں کا عمل مکمل کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں رہائشی ہاسٹل، مسجد، کثیر المقاصد ہال اور ٹراما سنٹر تعمیر کئے جائیں گے، دوسرے مرحلے میں سیوریج، لانڈری، گریڈ 1تا6 ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس ، تیسرے مرحلے میں گریڈ 7تا16 ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس، اسپورٹس کمپلیکس، چوتھے مرحلے میں گریڈ17 سے اوپر کے ملازمین کیلئے اپارٹمنٹس، اسٹاف بیرک، پانچویں مرحلے میں سکواش کورٹ، سوئمنگ پول اور رائیڈنگ کلب جبکہ چھٹے مرحلے میں پرنسپل ہاﺅس، لنک روڈز اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر کئے جائیں گے.
    جنرل آفیسر کمانڈنگ 21 آرٹلری ڈویژن، سیکرٹری ابتدائی و ثانونی تعلیم، سیکرٹری منصوبہ بندی، سیکرٹری خزانہ، کمشنر ملاکنڈ، چیئرمین بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سوات، پرنسپل کیڈٹ کالج سوات کے علاوہ بورڈ آف گورنر کے دیگر ممبران نے بھی اجلاس میں شرکت کی ہے، اجلاس کے شرکاء کو بورڈ آف گورنر کے سابقہ اجلاس میں کئے گے فیصلوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں پیشرفت کے علاوہ ادارے میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں، ادارے کی مجموعی کارکردگی، مالی و انتظامی اُمور میں درپیش مسائل اور دیگر اُمور پر بریفینگ دی گئی ہے، بورڈ آف گورنرز نے مالی سال 2020-21 کے لئے ادارے کے اخراجات کی توثیق کے علاوہ مالی سال 2021-22 کیلئے بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، اجلاس میں ادارے کی فنانس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے طریقہ کار کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے کیڈٹ کالج سوات کی فیسوں میں 10 فیصد سالانہ اضافے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں طلباء اور اُن کے والدین پر کسی صورت بھی اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا ہے، اُنہوں نے کہا کہ اضافی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے حکومت اداروں کو خصوصی گرانٹ دینے پر غور کرے گی، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے رحمتہ اللعالمین سکالر شپ پروگرام کے تحت کیڈٹ کالجوں کے مستحق طلباء کو بھی سکالرشپ دینے کا اعلان کیا ہے، کیڈٹ کالج کیلئے فیس پالیسی کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم وزیراعلیٰ نے ادارے کے حکام کو فیس چارجز کو حقیقت پسندانہ بنانے اور چھٹیوں کے دوران طلباء سے میس چارجز کی مد میں وصولیاں نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، بورڈ آف گورنر نے ادارے میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے بطور پائلٹ پراجیکٹ اکیڈمک بلاک کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، اسی طرح اجلاس میں کیڈٹ کالج سوات میںگیارہویں کلاس میں داخلوں کیلئے میرٹ فارمولے میں چند ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، کیڈٹ کالج سوات کو پورے ملاکنڈ ڈویژن میں معیاری تعلیم کی فراہمی کا ایک اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ اس ادارے سے اب تک 637 کیڈٹ فارغ التحصیل ہو کر آرمی، میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس ادارے کی مزید تعمیر و ترقی اور اس کے مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، اُنہوں نے کالج انتظامیہ کو نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کے مطابق انفراسٹرکچر کی تعمیر پر جلد کام شروع کرنے اور اگلے دو سالوں کے اندر اس کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے.

  • تعلیم، تعلیمی نظام اور طالب علم. تحریر: فضل عباس

    تعلیم، تعلیمی نظام اور طالب علم. تحریر: فضل عباس

    علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب

    انسان جنت سے زمین کا مسافر ہوا تو زندگی کی شروعات انتہائی سادگی سے کی
    جوں جوں وقت گزرتا گیا انسان اپنے اردگرد کی چیزوں کے بارے میں کھوج لگاتا رہا اور ان کے بارے میں جاننے لگا انسان کی اس کھوج لگانے اور اردگرد کے بارے میں جاننے کی کوشش کو علم کہتے ہیں اور علم حاصل کرنے کو تعلیم کہتے ہیں

    اگر ہم تعلیم کے حوالے سے اسلام کی بات کریں تو اسلام دین فطرت ہے اسلام تعلیم کی طرف بلاتا ہے اسلام دعوت دیتا ہے کہ زمین میں جو کچھ ہے اسے تلاش کرو جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
    "اے ایمان والو زمین کی سیر کرو اور اس میں جو کچھ ہے اس کی تلاش کرو”

    تعلیم کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار احادیث بیان فرمائی ہیں ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:
    "علم حاصل کرو ماں کی گود سے لے کر قبر تک”

    "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”

    ہمارے ہاں تعلیم کے بنیادی طور دو نظام رائج ہیں ایک دینی تعلیم ایک دنیاوی تعلیم
    دینی تعلیم میں قرآن پاک،احادیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے جبکہ دنیاوی تعلیم میں سائنس آرٹس اور دیگر علوم کی تعلیم دی جاتی ہے

    دنیاوی تعلیم کی بات کریں تو اس کے مختلف نظام ہیں سرکاری اسکولوں میں اردو میڈیم پرائیویٹ اسکولوں میں انگلش میڈیم اور اس کے علاوہ کیمبرج آکسفورڈ وغیرہ کے نظام ہیں

    اس تقسیم نے پاکستان کے طلباء کے درمیان تفریق پیدا کر دی ہے پاکستانی طلباء کی سوچ بٹ چکی ہے اردو میڈیم والے طلباء کو انگلش میڈیم والے طلباء اچھے نہیں لگتے انگلش میڈیم والے طلباء کو اردو میڈیم والے طلباء گوار لگتے ہیں آکسفورڈ اور کیمبرج والے طلباء خود کو اعلیٰ مانتے ہیں

    اس کے علاوہ جو تعلیم ان سب ذرائع سے مل رہی ہے اس سے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچ رہا کوئی تعلیم حاصل کر کے مغرور بن رہا ہے تو کوئی بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے کوئی پیسہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے تو کوئی اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے
    بقول شاعر
    جس قوم کے بچے نہیں خود دار و ہنر مند
    اس قوم سے تاریخ کے معمار نہ مانگو

    اس سے آگے چلیں تو امتحان کا نظام آتا ہے جو شروع سے بہت کمزور رہا ہے اس نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں یہاں طالب علم کی قابلیت، محنت ممتحن کی مرہون منت ہوتی ہے اگر اس کا مزاج اچھا ہو تو طالب علم کی محنت وصول ہو جاتی ہے اگر وہ غصے میں ہو تو طالب علم کی محنت ضائع ہو جاتی ہے

    اس کے علاوہ امتحان کے نظام میں رشوت خوری عام ہو چکی ہے امیر طلباء بغیر محنت کے پاس ہو جاتے ہیں جبکہ غریب طلباء محنت کر کے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں یہ نظام طلباء کے لیے باعث مایوسی ہے

    اور اوپر سے ستم یہ کہ کورونا وائرس آ گیا کورونا وائرس نے تعلیمی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے نہ طالب علم کو پتا ہوتا ہے کہ اسکول کب کھلیں گے نہ یہ پتا ہوتا ہے کہ کب اسکول بند ہوں گے اس کی تازہ مثال پچھلے سال ہونے والا ایم ڈی کیٹ کا امتحان ہے جہاں لاکھوں طلباء میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے امتحان دے رہے تھے لیکن آخری وقت تک تاریخ بدلتی رہی جس کی وجہ سے مجھ سمیت لاکھوں طلباء ذہنی اذیت میں مبتلا رہے

    اب آتے ہیں طالب علموں پر دنیا بھر میں کئی طرح کے طالب علم ہوتے ہیں محنتی بھی ہوتے ہیں کام چور بھی اسی طرح پاکستان میں بھی طالب علموں کا امتزاج ہے لیکن کورونا وبا نے طلباء کی اکثریت کو پڑھائی سے بیزار کر دیا ہے اب طالب علم ہر وقت تعلیم سے راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر چند نام نہاد راہنماؤں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں ہر وقت امتحان منسوخ کروانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں یہ صورت حال پاکستان کے لیے بہت افسوس ناک ہے

    لیکن اس کے باوجود گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم سب مل کر اس نظام میں بہتری لا سکتے ہیں بطور طالب علم ہمیں اپنے اندر ولولہ پیدا کرنا ہے اور یک نصابی کتب کے حوالے سے موجودہ حکومت کی کوششیں قابل تعریف ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں تعلیم کے میدان میں کامیابی عطاء فرمائے آمین ♥️
    تحریر: فضل عباس

  • تعلیم کیوں ضروری ہے. تحریر: ملک ضماد

    تعلیم کیوں ضروری ہے. تحریر: ملک ضماد

    حدیث شریف کا مفہوم ہے
    طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
    عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت)پرفرض ہے۔
    (سنن ابن ماجہ)
    اب تعلیم کے مختلف مراحل اور شعبے ہیں جن میں انسان کو پہلے مرحلے میں وہ تعلیم حاصل کرنی جس سے وہ ایمان کو سمجھ بوجھ سکے
    پھر اس کو اتنا علم حاصل کرنا چاہیے جس سے وہ پاکی، ناپاکی، حلال، حرام، کا فرق کر سکے
    پھر ارکان اسلام کے بارے میں اتنا علم ضروری ہے جس سے وہ اسلام کے بنیادی ارکان کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے والا بن جائے
    پھر اس کو معاشرے، ماحول کے بارے میں بھی اتنا علم ہونا چاہئے تاکہ اس کو پتہ چل سکے اس وقت ہمارے معاشرے میں کیا اور کیسے چل رہا ہے سب
    معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار اپنے علم کی بنیاد پے ادا کر سکے
    دور حاضر میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے جس سے انسان کو نا صرف اپنے ادر گرد بلکہ ضلع، صوبہ، ملکی سطح پر حالات و واقعات سے واقف ہو سکے اور دنیا میں چلنے والی ٹیکنالوجی کو بھی سمجھ سکتا ہو اور اس کے مطابق معاشرے میں چلنے اور اس پے عمل کرنے کی صلاحیت رکھنا بھی آج کے دور میں ضروری ہے
    تاکہ انسان اگر دین کا کام بھی کرے تو اس کے لیے بھی اس کو مشکل نا ہو وہ آسانی سے ہر علاقے، گلی، محلے  میں جا کر دیں اسلام کی تبلیغ کر سکے

    اسی طرح اگر اس نے کوئی کام کاروبار کرنا ہے تو اس کے لیے بھی ضروری ہے اس کو اتنا علم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے کاروبار کو حلال طریقے سے چلا سکے
    اپنے ماتحت لوگوں کے حقوق کا اس طرح خیال رکھے جیسے شریعت اس کو اجازت دیتی ہے اور شریعت اس کو بتاتی ہے
    دنیاوی علم اتنا ضروری ہے اس دور جدید میں ہم دنیا سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں
    علم حاصل کرنے کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کا ایک اہم فرد بننے کے لیے ضروری ہے اتنا علم ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے میں اپنی روز مرہ کی زندگی عزت و احترام سے گزارے اور اپنے ارد گرد لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچائے
    علم کا مقصد صرف حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ اس علم سے دوسروں کو سیراب کرنا بھی ضروری ہے
    ہم علم حاصل کر کے اپنے آپ کو تو فائدہ دے سکتے ہیں لیکن اس سے وہ علم جہاں تک ہے وہاں ہی رک جائے گا لیکن اگر ہم اسی علم کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور اس سے باقی لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے تو وہ علم بڑھتا رہے گا اور اس میں ہمارا حصہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    ایک اور حدیث شریف کا مفہوم ہے
    ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: علم حاصل کرو، گو تمہیں چین میں جانا پڑے”
    اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی اہمیت کے بارے میں بتایا علم حاصل کرنے کے لیے آپ کو کتنا بھی دور جانا پڑے آپ جاو اور علم حاصل کرو
    تعلیم کے بعد اگر کوئی انسان کوئی چھوٹا موٹا کام یا نوکری بھی کرتا ہے تو اس میں اور جو بغیر تعلیم کے بڑے سے بڑا کاروبار بھی کر لے اس میں واضح فرق دیکھنے کو ملتا ہے
    بڑھا لکھا آدمی چھوٹا کام، کاروبار کر کے بھی بڑا بن سکتا ہے لیکن تعلیم کے بغیر شروع کیا گیا کام، کاروبار جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں ہی رہتا ہے اکثر دیکھا گیا ہے پڑھے لکھے لوگ نیچے سے اوپر جانے پر یقین رکھتے ہیں جب اس کے برعکس جو لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے وہ ڈائریکٹ اوپر جانا چاہتے ہیں جس سے وہ اکثر منہ کے بل گرتے ہیں اور اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں
    تعلیم کا اتنا ہونا ضروری ہے انسان اپنے معاشرے میں روزمرہ کی زندگی عزت و احترام اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ساتھ گزار سکے اور دور جدید میں دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہو

  • انتشاری گروہ اور بلوچ طلبا، تحریر: حنا

    انتشاری گروہ اور بلوچ طلبا، تحریر: حنا

    بلوچستان میں سب سے بڑی دہشتگرد تنظمیں دو ہیں۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف۔ دونوں کے کمانڈروں سے لے کر نیچے لڑنے والوں تک سب کو افرادی قوت بی ایس او فراہم کرتی ہے جو بلوچ طلباء کی تنظیم ہے اور تمام سرخے ہیں۔ یعنی مارکسسٹ۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا ۔۔ BLA گروہ کا کوئی مرتا ہے یا سیکورٹی فورسز پر حملہ کرتے ہوئے یا ایف سی جوانوں کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے والا دہشتگرد جب مارا جاتا ہے تو پچھلے کچھ عرصے سے بعد تحقیقات کے پتہ چلا کہ ان دہشتگردوں کا تعلق ہماری ہی کچھ یونیورسٹیوں سے ہوتا ہے جن میں خاص کر ایک اہم یونیورسٹی کے ذہین طلباء شامل ہوتے ہیں ۔وہ یونیورسٹی اس وقت مارکسزم کی نمبر ون پرچارک بلکہ آماجگاہ بن چکی ہے۔ یوں کہ لیں۔ کسی دن یہ یونیورسٹی دوسری لال مسجد بن جائے گی.اسی یونیورسٹی کے پچاس اساتذہ کو پکڑا جائے تحقیقات کی جاے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کے دماغوں میں جو زہر بھرا جارہا ہے وہ کیسے اور کون بھرتا ہے ۔۔

    PTM TTP یہ سب نام کے conservative ہیں اصل میں یہ بھی اسی ایجنڈا کو پروموٹ کرتے ہیں جس کو لبریز پروموٹ کرتے ہیں وہ واحد ایجنڈا پاکستان مخالف اسلام مخالف ایجنڈا ہے۔پاکستانی وراثت روایت مخالف ایجنڈا ہے ۔ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ بھی اسی تنظیم سے نکلا تھا ۔پاکستان میں بڑی یونیورسٹیوں اور طلباء تنظمیوں پر انہی سرخوں کا کنٹرول ہے جو طلباٰء کی بڑی تعداد کو اسلام اور پاکستان سے متنفر کر چکے ہیں۔۔جب تک ان یونیورسٹیوں کی اصلاح نہیں کی جاتی یہ جنگ ختم نہیں ہوسکتی

    بی ایل اے اور بی ایس او اب تک بلوچستان سے میں چار ہزار سے زائد دہشتگردانہ حملے کر چکی ہے۔۔۔کریمہ بلوچ اسی بی ایس او کی چئیرمین تھیں اور بی ایس او کو پاکستان کلعدم قرار دے چکا ہے۔۔۔کل بھوشن نے بھی یہی کہا تھا کہ وہ طلباء تنظیموں کی مدد سے اپنی دہشتگردی کے نیٹورکس چلاتا رہا۔۔بلوچستان میں 1972/1973 میں جن کے خلاف آپریشن ہوا تھا وہ لوگ یعنی مری اور مینگل یہ سب مارکسزم اور کیمونزم کے حامی تھے۔ یہ لوگ خود پڑھے لکھے ہوتے لیکن اپنے نیچے کسی کو پڑھنے نہیں دیتے اور انکو پھر ریاست کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔۔۔محرومی کے مارے طلباء کو پیسوں کا بہت پیسوں کا لالچ دے کر ۔اور کچھ کرنے کا جذبہ رکھنے والے ذہین طلباء کو ہی یہ اکساتے ہیں ۔اساتذہ کے زریعے ایسے بچوں کا برین واش کرتے ہیں ۔

    سننے میں آیا ہے کہ یونیورسٹی میں اساتذہ جان بوجھ کر ایسے موضوعات پر بحث کرتے ہیں جو شدت پسندی انتشار پسندی کی طرف جاے ۔۔ہر انتشار پسندی ہر لبرزم کا کیڑہ اسی یونیورسٹی سے کیوں نکلتا ہے ۔۔وہ طلباء یکجہتی ہو یا نقیب اللہ کے قتل پر طلباء کو ملا کر ساتھ احتجاج کر کہ بننے والی جماعت پی ٹی ایم ہی ہو یا لال لال لہراے گا نعرے والے سرخے ہوں ۔۔سب کا تعلق اسی گروہ سے نکلتا ہے ۔۔۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ریاست ان کی چال بازوں سے واقف نہیں ۔لیکن یہ ان کی بھول ہے ۔۔ریاست اگر ان کو کھلا چھوڑتی ہے تو اس لیے نہیں کہ ریاست ان کی سازشوں سے انجان ہو ۔۔بلکہ اس لیے کہ یہ اپنی موت اپنے مرتے ہیں ۔

    ۔دنیا کے سامنے یہ ملک دشمنوں سے فنڈ لیکر ریاست کو بدنام کرتے کرتے خود بے نقاب بھی ہوتے ہیں۔اور ننگا بھی کہ دنیا ان کی اصلیت جان جانتی ہے کہ یہ پیسے پہ بکنے والا گروہ جو اپنے ملک کا وفادار نہیں ۔وہ ہمارا کیسے ہو سکتا ۔۔تبھی ان کا حال کریمہ بلوچ کی طرح ہوتا ہے دنیا کے کسی کونے چلے جائیں یہ لوگ ۔۔ان کو استعمال کرنے والے خود ہی ان کا سر کچل دیتے ہیں
    حناء سرور
    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • تعلیم نسواں معاشرے کی اہم ضرورت .تحریر: ملک ضماد

    تعلیم نسواں معاشرے کی اہم ضرورت .تحریر: ملک ضماد

    عورت کا تعلیم یافتہ ہونا معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے
    ایک عورت اگر پڑھی لکھی یے تو اس سے کا پورا گھر، پورا خاندان پڑھ لکھ سکتا ہے لیکن اگر عورت پڑھی لکھی نہیں تو اس کو کوئی پرواہ و دلچسپی نہیں ہوتی اس کے گھر میں کوئی پڑھا لکھا ہے یا نہیں اس کو بس اپنی زندگی گزارنے کی فکر ہوتی ہے باقی اس کے ارد گرد کیا ہوتا ہے اس کو پرواہ نہیں ہوتی عورت کے لیے تعلیم یافتہ ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا مرد کے لیے
    اس دور جدید میں عورت کے لئے دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے جس سے وہ دور جدید کے تقاضوں کو پورا کر سکے اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقفیت ہو سکے اگر ایک عورت پرھی لکھی ہوتی ہے تو وہ اپنی اولاد کو بھی پڑھا لکھا بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود کو کہا گیا ہے جہاں سے بچہ سب سے پہلے جو لفظ بھی سکتا ہے وہ بھی ماں ہی ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کی زندگی میں جو بھی آتا ہے بھلے وہ اچھا ہے یا برا اس کے پیچھے تربیت کا اثر ہوتا ہے وہ تربیت اس کو بادشاہ بھی بناتی ہے اور گداگر بھی

    "”کہتے ہیں نا ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے””
    وہ عورت اس کی ماں ہی ہوتی ہے جو اس کی تربیت ایسی کرتی ہے جس سے وہ دنیا کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے اگر ماں بچے کو شروع سے اچھا راستہ دیکھاتی ہے تو وہ ماں اس بچے کی بہترین خیر خواہ اور بہترین معلمہ ہوتی ہے اگر ہم تاریخ انسانیت کو دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے جس معاشرے جو بھی پڑھا لکھا ہوتا ہے بھلے وہ مرد ہو یا عورت اس کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کو معاشرے میں اہم مقام دیا جاتا ہے

    تعلیم نسواں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف کا مفہوم ہےجو شخص اپنی بیٹی کی خوب اچھی طرح تعلیم وتربیت کرے اور اس پر دل کھول کر خرچ کرے تو (بیٹی) اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگی(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۰۴۴۷)
    ایک بیٹی، رحمت اسی وقت بن سکتی ہے، جب کہ اس کا قلب اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منور ہو، وہ فاطمی کردار و گفتار کا پیکر ہو

    آج تعلیم گاہوں اور دینی تعلیمات کے متعدد ذرائع کے موجود ہونے کے باوجود، دینی تعلیم سے بے رغبتی اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے، جس مذہب نے دینی تعلیم کو تمام مردوں عورتوں کے لیے فرض قرار دیا ہو اور جس مذہب میں علم وحکمت سے پُرقرآن جیسی عظیم کتاب ہو اور جس مذہب کی شروعات ہی ”اقرأ“ یعنی تعلیم سے ہوتی ہو، اسی مذہب کے ماننے والے دینی تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہیں اور اگر بات عورتوں کی مذہبی تعلیم کی، کی جائے (نہ کہ محض عصری ومغربی تعلیم کی) تو معاملہ حد سے تجاوز ہوتا ہوا نظر آتا ہے، کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچوں کے لیے پہلا مکتب ہوتا ہے

    تعلیم نسواں معاشرے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مرد کے لیے مرد اگر گھر سے باہر رہ کر گھر کو سنبھالنے میں لگا رہتا ہے تو عورت گھر کی چاردیواری کے اندر اپنا فرض نبھا رہی ہوتی ہے مرد اگر پیشہ کماتا ہے تو عورت اس کے خاندان کی خدمت کر کے اس کا ساتھ دیتی ہے مرد اگر گرمی سردی میں باہر رہ کر کام کرتا ہے تو عورت گرمی کی تپتی دوپہر ہو یا سردی کی ٹھٹرتی رات ہو اس کے بچوں کو سنبھال رہی ہوتی ہے مرد گھر سے باہر اگر اپنے بچوں پر فخر کر رہا ہوتا ہے تو عورت انہی بچوں کی تربیت کر کے قابل فخر بنا رہی ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں اس دور میں تعلیم کا رحجان تو بہت ہے لیکن دینی تعلیم سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں جس کی ہمیں زیادہ ضرورت ہے

  • معاف کیجیے گا! تحریر: ماریہ ملک

    معاف کیجیے گا! تحریر: ماریہ ملک

    معاف کیجیے گا! تحریر: ماریہ ملک

    فروری 2016 کی شام 8 گھنٹے کے لمبے ہوائی سفر کے بعد جب میں اپنے ہوسٹل میں پہنچی تو سفری تھکاوٹ اور گرد و نواح کے ماحول کا بیگانہ پن جسم و دماغ پر حاوی تھا۔ لیکن اس کے باوجود اُس رات دِل میں اپنی آرزو بر آنے کی خوشی اور نئی صبح کے انتظار میں دِل پُر جوش تھا جس کی وجہ سے نیند تھی کہ جیسے روٹھ سی گئی ہو۔۔۔۔۔ طرح طرح کے خیالات وسوالات زہن و قلب کو عجیب کیفیت میں مبتلا کیے ہوئے تھے۔۔۔۔

    اس دیارِ غیر کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی میں پہلا دِن کیسا ہو گا؟
    ساتھی طلبا کیسے ہوں گے؟ اُن کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی ہو سکے گی یا نہیں؟
    میرے لیکچرار کیسے ہوں گے؟ اُن کا انداز تکلم اور اندازِ تعلیم و تربیت کیسا ہو گا؟
    مجھے اچھے انداز میں ویلکم کیا جائے گا یا ایک نئی طالبہ ہونے کے ناطے میرا مزاق اُڑایا جائے گا؟

    غرضیکہ اس طرح کے بیشُمار سوالات دِل و دماغ کو گھیرے ہوئے تھے۔ انہیں خیالات میں گُم کب آنکھ لگی کُچھ پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔۔۔

    میری اور میرے والد کی یہ خواہش تھی کہ میں بیرونِ ملک اپنی ڈگری مکمل کروں۔ گو امی جان کو یہ بات زیادہ پسند نہی تھی لیکن اُنہوں نے بھی میری خواہش کے سامنے زیادہ رکاوٹ کھڑی نہی کی۔
    بالا خر وہ صبحِ نو آگئی جِس کا شدت سے انتظار تھا۔ یونیورسٹی کے پہلےدِن کے جوش و خروش میں نہ بھوک تھی نا کسی اور چیز کی تمنا۔ جلدی جلدی تیار ہوئی اور وقت سے پہلے ہی یونیورسٹی کے لئے نکل پڑی۔ ہوسٹل میں مقیم دیگر طلبا کی رائنمائی، مدد، شفقت اور برتاؤ نے بہت متاثر کیا۔
    یونیورسٹی میں بھی محسوس کیا کہ ہر کوئی بہت نرمی اور محبت بھرے انداز میں ہمکلام ہوتا ہے۔ بات بات پر ہر کسی کے Excuse me, Please, Sorry جیسے الفاظ کے ساتھ ساتھ ہلکی سی مسکراہٹ زیرِ لب تھی
    میری کلاس میں تمام طلبا نے بہت اچھے انداز میں مجھے ویلکم کیا۔ لیکچرار اور طلبا کی اس دیے جانے والی خصوصی توجہ اور دوستانہ ماحول نے میرے اعتماد کو سہارا دیا۔ یقیناً یہی وہ حسنِ اخلاق ہوتا ہے جو دِلوں کو ایک دوسرے کے قریب اور کدورتوں کو رفع کرتا ہے۔
    جہاں اچھے اخلاق ہوں وہاں بغض، کینہ اور نفرت جیسے دلی امراض نہی پنپتے۔ برطانیہ میں میرے 2 برس کے دورِ طالبعلمی میں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہی اچھے اخلاق تھے۔
    دوکاندار ہو یا گاہک، بس ڈرائیور ہو یا مسافر، طالبعلم ہو یا استاد، شوہر ہو یا بیوی، عام راہ گُزر ہو یا ہمسایہ، کاروباری شخص ہو یا ملازم، بڑا ہو یاچھوٹا غرضیکہ راہ چلتے، سفر کرتے، خریداری کرتے ہر قسم کے افعال و عوامل میں آپ کو یہ مشاہدہ کرنے کو ملتا ہے کہ ہر کسی کی تربیت میں یہ چند خصوصیات ہر کسی کی طبیعت میں گویا کہ نقش کر دی گئی ہیں

    // نرمی
    // مسکراہٹ
    // خوش کلامی
    // عفو و درگز کا جزبہ
    // جزبہِ مدد و ہمدردی

    یقیناً یہ سب خصوصیات حسنِ اخلاق کی بہترین مثالیں ہیں۔ یہی وہ عادات و خصوصیاتِ ہیں جو ایک فرد کو معاشرے میں پسندیدہ و جازبِ نظر بناتی ہیں۔
    اور چونکہ فرد سے معاشرہ بنتا ہے، تو افراد کے حسنِ اخلاق جیسا وصف ہی معاشرہ کو خوبصورت اور لطف و کرم کا منبع بنا سکتا ہے۔
    یقیناً مغرب میں بھی برائی اور بد سلوکی کی مثالیں موجود ہیں لیکن مغرب کا عمومی تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ وہ لوگ مہذب اور سُلجھے ہوئے ہیں۔ اور یہی تاثر اصل میں اچھے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔
    ہماری ایک تعداد ہے جو مغرب کی طرح ترقی یافتہ اور ماڈرن بننے کی خواہشمند ہے۔ اعلٰی تعلیم، فیشن اور چال ڈھال میں مغربی تہزیب کےدلدادہ افراد بھی اخلاقی پستی کا شکار نظر آتے ہیں۔ تھوڑی سی دولت یا بڑا عہدہ ملنے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ دولت و عہدہ میں اپنے سے کم کو انسان سمجھنے سے بھی عاری نظر آتے ہیں۔ غرور و تکبر کی یہ چلتی پھرتی مورتیں غریب و پسماندہ افراد سے اچھے انداز میں بات کرنے، ہاتھ ملانے اور مسکرا کر بات کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
    یہ عادات صرف امیر لوگوں میں ہی نہی بلکہ تقریباً معاشرہ کے ہرفرد میں مشاہدہ کی جا سکتی ہیں گویا کہ ہم مسکرا کر نرمی اور شفقت سے بات کرنے کو کوئی عیب سمجھتے ہیں۔
    میرے 2 سال کے تعلیمی دور میں مغربی معاشرے میں اخلاقیات و مساوات کا مشاہدہ بکثرت ہوا لیکن بطورِ مسلمان میں یہ فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ مغربی معاشرے میں پائی جانے والی یہ تمام خصوصیات اسلامی تعلیم و تربیت میں مذکور حسنِ اخلاق کا عشرِ عشیر بھی نہی۔
    اسلام ایک مکمل ظابطۂ حیات ہے اور بقول قرآن نبی کریم ‎ﷺ کی زندگی ایک بہترین نمونہ۔ لیکن جوں جوں ہم اسلامی تعلمات سے دور ہوتے چلے گئے توں توں ہمارے اخلاقیات پستی و جہالت کا شکار ہوتے گئے۔
    اسلام ہمیں ہر ایک سے حسنِ اخلاق سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔ غرور، تکبر، غیبت، جھوٹ، بہتان، گالی گلوچ، چغلی، بے حیائی، فریب ودھوکہ، ناپ تول میں کمی، والدین و پڑوسی کے حقوق، بہن بھائی و رشتہ داروں کے حقوق، مالک و ملازم، دوکاندار و گاہک، مسافر و مقیم کے حقوق و فرائض غرضیکہ ہر ہر شعبہ و مقام و مرتبہ کے بارے میں حقوق و فرائض اور حلال و حرام کی واضح تعلیمات دینِ اسلام میں مذکور ہیں۔
    حسنِ اخلاق یقیناً بہت وسیع عادات و خصوصیات پر محیط ہے۔ اور ہمارے ہیارے مذہب میں حسنِ اخلاق کی اہمیت اس سے بڑھ کر اور کیا بتائی جا سکتی ہے:

    چنانچہ فرمانِ مصطفٰے ﷺ ہے کہ

    “ أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔”
    ترجمہ: سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے

    گویا اگر ہم کامل (مکمل) ایمان کے وصف سے متصف ہونا چاہتے ہیں تو اپنی اخلاقیات کو تعلیماتِ اسلام کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔

    نبی کریم ‎ﷺ کے حسن اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے الله تبارک و تعالٰی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

    وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ
    ترجمہ:
    “اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو ۔”

    تیرے خُلق کو حق نے عظیم کہا
    تِری خِلق کو حق نے جمیل کیا
    کوئی تُجھ سا ہُوا ہے نہ ہو گا شہا
    تیرے خالِقِ حسن و ادا کی قسم

    قارئین ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ااِن تعلیمات کو حاصل کریں اور پھر اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے اخلاقیات کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔ والدین چھوٹی عمر سے اولاد کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ سکول و کالجز کی سطح پر دیگر شعبوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ہر خاص و عام معاشرے میں حسنِ اخلاق کی چلتی پھرتی تصویر بن جائے تو یقیناً ہمارا معاشرہ حسنِ اخلاق کا نمونہ بن کر ابھرے گا۔
    تحریر: ماریہ ملک

  • پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے اعزاز میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں الوداعی تقریب

    پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے اعزاز میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں الوداعی تقریب

    ایبٹ آباد میں پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے اعزاز میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں الوداعی تقریب کا انعقادعوام کی خدمت میرا اخلاقی اور قومی فرض تھا جو میں نے اپنی دل و جان سے کیا،پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کا الوداعی تقریب سے خطاب ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے اعزاز میں آئی ٹی ڈائریکٹر ایوب ٹیچنگ ہسپتال انجینئر شہریار علی نے الوداعی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ڈین ایوب میڈیکل کالج و سی ای او ایوب ٹیچنگ ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم اختر نرسنگ ڈائریکٹر ایوب ٹیچنگ ہسپتال شمس الہدیٰ فائنس ڈائریکٹر اے ٹی ایچ عبدالقدیر ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل اکبر میڈیا مینیجر ملک سیف اللہ نے شرکت کی۔ تقریب کے میزبان انجینئر شہریار علی نے پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کی عوامی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی کمی کو شدت سے محسوس کیاجائیگا۔ ہسپتال کمیونٹی آپ کی اس خدمت اور جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب نے انجینئر شہریار علی اور دیگر ایڈمنسٹریشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الحمدللہ اپنی زندگی کا کافی عرصہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں گزارا جو میری زندگی کا اثاثہ ہے ۔ بس یہاں کی یادیں زندگی کی سنہری یادیں ہیں جہاں تک عوامی خدمات کا ذکر کیا گیا وہ میرا اخلاقی اور قومی فرض تھا ۔ عوام کی خدمت پر خوشی اور فخر محسوس ہوتاہے۔ جہاں تک ممکن ہوتا تھا میں ہر ایک کے کام آنے کی کوشش کرتا تھا انہوں نے کہاکہ ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹرز ایڈمنسٹریشن اور تمام تر ورکرز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ محبت اور شفقت کی نگاہ سے دیکھا آپ سب سے یہی اپیل کرونگا کہ ہم سب ایک فیملی کی طرح ہیں ۔ ہم نے ایک دوسرے کے کام آنا ہے۔ میں آپ تمام کا شکر گزار ہوں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو.
    تقریب کے آخر میں ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن کی طرف سے پروفیسر ڈاکٹر احسن اورنگزیب کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا.

  • ابھی بھی وقت ہے، بچوں پر ترس کھالیں ،شفقت محمود کے حالیہ بیان پر عاصم اظہر کا ردعمل

    ابھی بھی وقت ہے، بچوں پر ترس کھالیں ،شفقت محمود کے حالیہ بیان پر عاصم اظہر کا ردعمل

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے نوجوان گلوکار عاصم اظہرنے وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود سے کہا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے، بچوں پر ترس کھالیں۔

    باغی ٹی وی :عاصم اظہر نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے، بچوں پر ترس کھالیں۔


    گلوکار نے ایک اور ٹوئٹ میں سوالیہ انداز میں شفقت محمود سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر طلباء کمرۂ امتحان سے اپنے گھر کورونا وائرس لے کر گئے تو اُس کا ذمہ دار کون ہوگا؟


    عاصم اظہر کے ان ٹوئٹس پرطلباء کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیا جا رہا ہے بعض طلباء کا کہنا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بند کرکے امتحانات آن لائن لینے چاہئیں پہلے ہی سال ضائع ہو گیا ہے –

    واضح رہے کہ وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ اے لیول، او لیول، اے ایس، آئی جی سی ایس ای کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے جبکہ نویں سے بارہویں جماعت کے امتحانات نئی تاریخوں کے تحت ہوں گے، امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان متعلقہ بورڈ کریں گے۔

    شفقت محمود نے کہا تھا کہ امتحانات کا نیا شیڈول مدِنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹیز میں داخلے کئے جائیں گے، متاثرہ اضلاع کی یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسیں جاری رہیں گی 8 فیصد سے کم کیسز والے اضلاع میں یونیورسٹیاں کھول دی جائیں گی۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر حکومت نے ملک بھر میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک اسکول عید الفطر تک بند رہیں گے۔

    کلاس اول سے ہشتم تک سکولوں کوبندرکھنے کے فیصلے کی توسیع کی مذمت کرتا ہوں:کاشف مرزا

    عاصم اظہر امتحانات سے متعلق پریشان طلبا کی مدد کے لیے میدان میں کود پڑے

    براہ کرم بچوں کے بارے میں سوچیں حدیقہ کیانی کی وزیر تعلیم شفقت محمود سے درخواست

  • شاباش خان صاحب۔ ترش و شیرین، نثار احمد

    خان صاحب کی شخصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ خان صاحب اپنا مافی الذہن پُراعتماد لہجے میں صاف صاف بیان کرنے میں زرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ جو چیز اُنہیں جیسی سمجھ آتی ہے ویسی ہی کہہ دینے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ بڑے منصب پر فائز لوگ اظہارِ ما فی الضمیر سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس باب میں خان صاحب اپنی ایک نرالی شان اور منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ ناقدین کی ملامت کی رتی برابر پروا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے "اظہارییے” پر ممکنہ مرتب اثرات و نتائج دیکھ کر مافی الضمیر کا گلا گھونٹ کر اندر ہی اندر کُڑھتے ہیں۔
    یہ خان صاحب کی صاف گوئی اور لہجے میں تاثیر کا ہی کمال ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے باوصف بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ صرف خان صاحب کے طلسم میں گرفتار ہے بلکہ بہتر معاشی حالات کے لیے خان صاحب سے ہی امید بھی باندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف درمیانے طبقے کا چولہا بجھ رہا ہے، اُسے تین وقت کا کھانا برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف اسی درمیانےطبقے کے نوجوان اب بھی تبدیلی اور بہتری کی امید میں خان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔
    پروفیسروں کی خُوبو اور انداز ِ تکلّم رکھنے والے خان صاحب وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس کی گونج عرصے تک سیاسی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی سمجھیے کہ چند دن قبل موصوف کے دہن مبارک سے پُھوٹنے والا ارشادِ گرامی میڈیا میں زیر ِ بحث ہی نہیں رہا بلکہ جنسی آزادی پر یقین رکھنے والے ایک چھوٹے طبقے کے لیے سخت باعثِ اذیت بھی بنا ہے۔ خان صاحب کا یہ ارشاد ہمیں بہت پسند آیا۔ وجہ خان صاحب سے بے لوث محبت نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور عالمی میڈیا کا اِسے لے کر سیخ پا ہونا ہے۔ اگر خان صاحب یورپ کے کسی ملک کا وزیر اعظم ہوتے تو اس گفتگو کو بنیاد بنا کر اُن پر تنقید کی گنجائش بنتی تھی لیکن پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے اُن کی یہ بات ناقابلِ گرفت ہی نہیں، اکثر پاکستانیوں کے دل کی آواز و ترجمان بھی ہے۔

    خان صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ صرف قوانین کے زریعے جنسی جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی اور پھیلائی گئی فحّاشی کے اثرات ہوتے ہیں۔ خان صاحب کا اس دلیل پر اپنی بات کی تان توڑنا مزید دلچسپ لگا کہ ہمارے دین میں پردے کی تاکید بلا وجہ نہیں آئی ہے۔
    حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ بی بی سی سمیت دیگر عالمی میڈیا نے اس بیان کو مخصوص زوائیے میں رکھ کر نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اشاروں کنایوں میں اِسے ہدفِ تنقید بھی بنایا۔ بلکہ افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے لوگوں نے بھی اس بیان کو نذرِ سیاست کر ڈالا۔ کم از کم مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر اس بیان کی پرزور تائید کرنی چاہیے تھی۔ میڈیا کے شور شرابے سے ایسا محسوس ہوا کہ خان صاحب کوئی زیادہ ہی غلط بات کہہ گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
    ڈیجیٹل ترقی کی بدولت دن بدن سمٹ سمٹ کر دنیا نہ صرف ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے بلکہ یہاں برسوں سے چلی آنے والی مختلف تہذیبیں بھی شکست وریخت سے گذر رہی ہیں۔ اس شکست وریخت کے زریعے وہی تہذیبیں غالب آ رہی ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت و قوت ہے۔ جن کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور پروپگنڈے کے زرائع بھی۔ جن کے پاس دولت بھی ہے اور دیگر وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درست و غلط کو جانچنے کے لیے اُن کی تہذیب معیار ٹھہر رہی ہے۔
    ہماری آنکھیں اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی ہیں کہ پردے اور بے پردگی کے باب میں اسلام اور مغرب نہ صرف الگ الگ تہذیبی تصورات پر کاربند ہیں، بلکہ جدا گانہ بودو باش بھی رکھتے ہیں۔ اسلام عریان گھومنے سے ہی منع نہیں کرتا بلکہ نامحرموں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کے علاوہ جسم کا باقی حصہ حتی الامکان ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ جب کہ مغربی ممالک میں یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ جنسی آزادی کے تیئں مغربی تہذیب کی اپنی ترجیحات ہیں اور اسلام کی اپنی۔ اسلامی احکام کے دو بڑے مآخذ قرآن وسنت میں پردے کی بابت اجمالی ہی نہیں، تفصیلی باتیں بھی آئی ہیں جب کہ مغربی معاشرہ کب کا آسمانی تعلیمات کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ چکا ہے۔ مغرب میں مذہب الگ کھڑا ہے اور سوسائٹی الگ۔ مغرب میں بہ رضا و رغبت جنسی تعلق ایک نارمل کیس ہے۔ وہاں جنسی خواہش کی تکمیل سرے سے کوئی ایسا سبجیکٹ ہی نہیں ہے جسے کسی قانون کی بنیاد بنا کر کچھ اصولوں کا پابند کیا جا سکے۔ آزادی کا خوشنما عَلم تھامے یہ معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی اب اس کے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

    رہنمایان ِ قوم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں اصولی، بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں فاصلاتی فرق کم رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا فرق ہی بھلا دیں۔ آپ عمران خان کو بدھو ثابت کرنے اور اُن کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اسلامی اقدار کی تخفیف کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کے پاس ایشوز کی کونسی کمی ہے؟
    اس قضیے میں کچھ لوگ اس نقطہء نظر کے بھی پرچارک ہیں کہ مرد کی نیت ٹھیک ہو تو عورت کی نیم لباسی اور عریانیت کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ سارا مسئلہ بدنیت مرد کا پیدا کردہ ہے۔ ہماری دانست میں یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ہمارا مذہب اس کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی ہماری عمومی نفسیات۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مزاج اس حد تک سدھایا ہو کہ اُن کی طبیعت جنس مخالف کی طرف بالکل بھی مائل نہ ہوتی ہو۔ چند مستثنیٰ مثالوں کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے چلا آنے والا اصول قربان نہیں کیا جا سکتا۔
    ویسے اگر اس لوجک میں جان ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو پردے کی تلقین کی جاتی اور نہ ہی پاکیزہ کردار صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے ضروری بات چیت کے دوران پردے کے پیچھے رہنے کی تاکید کی جاتی۔
    ہمارے ایک کولیگ تھے۔ وہ اسی صیغے کی گردان پڑھتے رہتے تھے کہ بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے بس۔ پھر کچھ مہینے ساتھ رہ کر انہی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ موصوف اس "معاملے” میں نارمل حضرات سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

    یہ بات درست ہے کہ مَردوں کو بھی اپنی نگاہوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کو پردہ کروانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ جو خواتین پردہ کیے بغیر باہر نکلیں۔ آپ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں گھورتے رہیں۔ جس قرآن میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے اسی قرآن میں مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم آیا ہے۔
    بہرحال پردہ قرآن وسنت سے مستفاد ایک اٹل حکم ہی نہیں، مسلم تہذیب کا جزوِ لاینفک بھی رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن وسنت کی اہمیت و ماخذیت کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اسلامی تہذیبی شناخت کا۔
    شاہ زیب خانزادہ جیسے سینیئر اینکرز کو ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا کرنا چاہیے۔۔

  • وزیرتعلیم کی جانب سے سکولز،کا لجز اور یونیورسٹٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰیزبند کرنے کا اعلان

    وزیرتعلیم کی جانب سے سکولز،کا لجز اور یونیورسٹٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰیزبند کرنے کا اعلان

    وزیر تعلیم کی جانب سے15روز تک سکول بند کرنے رکھنے کا اعلان،طلبا ء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ والدین کی پریشانی میں اضافہ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی جانب سے کرونا وبا میں اضافے کے پیش نظر 7اضلاع فیصل آباد،گجرات،گوجرانوالہ،ملتان،راوالپنڈی،لاہور اورسیالکوٹ کے اضلاع میں کل سے 15 روزتک سکول بندکرنے کے اعلان کے بعد طلباء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ والدین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا والدین کا کہان ہے کہ پہلے ہی چھٹیوں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم کا کافی حرج ہو چکا ہے مزید چھٹیوں کی وجہ سے بچے تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ جائیں گے سکول بند کر نے کے بجائے ایس او پیز کے تحت سکول کھولے جائیں اور بچوں کو تعلیم دی جائے تاکہ ان کے قیمتی سال کے ساتھ ان کی پڑھائی کا حرج نہ ہو۔