Baaghi TV

Category: تعلیم

  • دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ۔تحریر: روشن دین دیامری

    دیامر میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ۔تحریر: روشن دین دیامری

    کہتے ہیں اگرایک مرد پڑھا لکھا ہوتو ایک فرد پڑھا لکھا مانا جاتا لیکن جب ایک عورت پڑھی لکھی ہوتو ایک معاشرہ پڑھا لکھا بنا دیتے ہے ۔گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں خواتین کے تعلیم پہ ایک عرصہ تک پابندی لگائی گی تھی جب کوئی سکول بنایا جاتا تو شر پسند عناصر اس کو بارود سے اڑادیتےتھے اکثر بیشتر والدین اپنے بچوں کو تعلیم دینا پسند ہی نہیں کرتے تھے اس کے وجہ یا تو مجبوری تھی حالت سے تنگ اکے یا قبائلی ذہنیت تھی۔ ہمارا ہاں اکثر جن کو پڑھایا جاتا تھا بھی تو ساتویں یا اٹھاوی پاس کرلیتے تو شادی کروادی جاتی تھی۔یہ صورتحال چند علاقوں کے علاوہ اج بھی جاری و ساری ہے۔ دیامر کے شہر چلاس میں تو خواتین کو تعلیمی سہولیات ہیں اس کے علاوہ دیامر کی تقریبا دو تحصیلوں داریل تانگیر اور تحصیل چلاس کے سات نالہ جات میں اج بھی وہی پرانا رواج جاری ہے۔

    خواتین کو تعلیم دینے سے مراد ان کے ہاں بے دینی پھیلانے کی لی جاتی ہے ۔اکثر رشتہ دار جب کسی ایسی گھر ائیں جہاں کوئی بچی سکول جاتی ہوتو انہیں نصیحت کی جاتی ہے اس کو مذید نا پڑھائیں ۔اس کی شادی کی عمر ہوگی شادی کروا دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ میرے پاس ایسے سیکڑوں واقعات ہیں جن کو لکھنے بیٹھ جاو تو بیسوں کالم لکھے جا سکتے ہیں۔(ایک واقع ابھی کے دو ہزار اکیس کا بتاتا چلو میں گاوں سے اسلام اباد ارہا تھا تو میرے اگلی سیٹ پہ ایک ہمارے جاننے والی اپنے بچی کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔چونکہ ان علاقوں میں خواتین کے تعلیم نہی تو میں نے سلام دعا کے بعد پوچھا پوچھا انکل سس (بہن) بیمار ہے کیا ۔ہمارے لوگ خواتین کو شہروں میں صرف انتہائی بیماری کی صورت میں لے کر اتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا نہی بیٹھا یہ مدرسہ پڑھتی یے۔ اس کو مدرسہ چھوڑنے ایا ہوں خیر ہمارے گاوں سے اسلام اباد کا سفر تقریبا تیرا چودہ گھنٹوں کا ہے تو میرے ان سے باتیں چلتی رہی مجھے جب بھی کوئی ملتا ہے تو میں خواتین کے تعلیم کی ترغیب دیتا ہوں ۔خیر ہم لوگ اسلام انے تک شاہد اس نے مجھے سمجھ گیا ہوگا انہوں نے کہاکسی کو بتانا نہیں یہ کالج میں پڑھتی ہے اس کو پڑھنے کا شوق ہے اس نے مجھ سے واعدہ کیا اگر یہ ایف ایس سی کے بعد ڈاکٹر نہ بن سکی تو اگے پڑھنے کی ضد نہی کرے گی اس کے خواہش کے لے میں نے یہ بہانہ بنایا ہے ۔)

    اس لے میں کوشش کرونگا اس کو مختصر کر کے لکھوں۔ اس ساری صورت حال میں ریاست کا بھی بڑھا رول رہا ریاست نے ان علاقوں کو جان بجھ کے ان پڑھ رکھا اور ان کو شعور نہیں دیا گیا ۔ایک طرف گلگت بلتستان کا لٹریسی ریٹ پاکستان میں سب سے ذیادہ اور دوسرے طرف ایک ضلع ایسا جہاں خواتین کی تعلیم با مشکل چھے فیصد ہے ۔تعلیم کا فقدان کی وجہ سے ان علاقوں میں قتل غارت عام رہا ہے لوگوں میں دشمنی اس قدر بڑھ گی تھی کے مجھے یاد جب ہم سکول میں تھے تو ہم اس بات بہث کرتے تھے کس کس خاندان میں دشمنیاں نہیں ہیں تو ہمیں کوئی ایسی فیملی نہیں ملتی جو دشمن داری سے خالی ہوتی ۔ہمارے ہاں اسلحہ کا اس قدر رواج تھا کے ہم بندوقیں گن گن کے ایک دوسرے کو نیچے دیکھاتے تھے۔ باوجود اس کے کبھی حکومت کے طرف سے کوئی پالیسی واضع نہیں رہی ۔ہمارے ان علاقوں سے افغانستان کشمیر میں بیسیوں جوان شہید ہوگے ہیں۔ اور گذشتہ دو دہائی سے کچھ پالیسیاں بدل گے جسے مشرف کے دور میں ان علاقوں کے طرف توجہ دی گی کچھ کالج سکول بنائے گئے۔
    جاری ہے۔

  • علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب . تحریر: اقصیٰ یونس

    علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب . تحریر: اقصیٰ یونس

    Mعلم کی بدولت قوموں نے عروج پایا۔ علم نے آدمیت کو انسانیت کے رنگ میں ڈھالاورنہ آدمی کھانے پینے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کو اپنا عروج سمجھتا تھا۔ زندگی گزارنے کا مقصد نفسانی خواہشات کی تکمیل کے سوا کچھ نہ تھا۔ انسان تہذیب وثقافت سے عاری تھا۔ نیکی اور بدی کی تمیز سے نابلد تھا۔ علم نے تہذیب سکھائی۔ اچھائی اور برائی کی تمیز سکھائی۔ علم کا مقصد سمجھ بوجھ اور فہم و فراست میں پاکی حاصل کرنا ہے۔

    کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت ناگزیر ہے۔ ہمیشہ وہی قومیں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئی جن کا تعلیمی نظام بہترین تھا ۔ تعلیم کیُ اہمیت سے انکا نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا تعلیمی نظام معیار کے لحاظ سے 94 نمبر پر ہے – اور تعلیمی بجٹ کے لحاظ سے 126 نمبر پہ ہے – اس بات سے پاکستان کے تعلیمی نظام کی خستہ حالی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے-

    پاکستان میں تعلیم کی نگرانی وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی حکومتوں کے زیر نگرانی کی جاتی ہے جبکہ وفاقی حکومت زیادہ تر نصاب کی ترقی ، منظوری اور تحقیق و ترقی کی مالی اعانت میں معاونت کرتی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیار کی تعلیم فراہم کرے۔ "ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو اس طریقے سے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی ”

    ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 226903 سکول ،41018384 طلبہ 1535461 اساتذہ ہیں ۔ ان میں 180846 سرکاری ادارے جبکہ 80057 نجی ادارے شامل ہیں ۔ یعنی ہر 26 طلبہ کیلئے ایک استاد موجود ہے جبکہ پرائمری سکول میں حالات اس سے بھی زیادہ خستہ حال ہیں اور وہاں 31 طلبہ کیلئے فقط ایک استاد موجود ہے۔

    پنجاب میں اس وقت سکولوں میں تقریباً نوے ہزار آسامیاں خالی ٹیچرز کی بھرتی کی منتظر ہیں اور پنجاب میں بچوں کی
    تعلیمی استحصال روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے موجودہ حکومت اور وزیر تعلیم کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔

    سرکاری اداروں کی زبو حالی اور تباہی کی ایک الگ داستان ہے، ایسے ادارے جہاں سہوتوں کے فقدان کی لمبی قطار ہے اور ڈیجیٹل پاکستان کا راگ الاپنے والے کسی ایک سرکاری سکول کا نام بتا دیں جہاں ڈیجیٹل طریقے اپناتے ہوئے بچوں میں علم کی شمع جلائی جاتی ہو۔ حال ہی میں ایک سرکاری سکول کے طالب علم سے بات کرنے کا موقع ملا اور یہ جان کر دل ہی بج گیا کہ وہاں کے اساتذہ بچوں کو انکے نام لینے کی بجائے گدھے ، الو, کالے ، موٹے جیسے القابات سے پکارتے ہیں ۔صرف یہی نہیں کچھ استاد ایسے بھی ہیں جو بچوں کو ان القابات کی بجائے گالیاں دے کر پکارتے ہیں ۔

    آج بھی اسلام آباد کے اچھے سکولوں میں جہاں 15 سالوں کی ملازمت کے بعد پرائمری ٹیچر بھی 1 لاکھ روپیہ تنخواہ وصول کرتے ہیں،مگر جن نو نہالوں کو پرائمری کی سطح پر تخلیقی تعلیم دینی چاہئے،کتابوں اور بستوں سے 5 سے10 سال کے بچے جھکے کندھوں کے ساتھ خوف اور دہشت کی علامت بن کر سکول جاتے ہیں۔صبح ماں اور باپ کی ڈانٹ ڈپٹ ،سکول داخل ہوتے ہی سکول ٹیچر کی اونچی اور خوفناک آواز ان کے حوصلے اور سیکھنے کے عظم کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔کم از کم پرائمری کے دوران بچوں کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے،مگر گھر اور درسگاہوں میں کہاں تربیت ہوتی ہے،وہاں آج بھی A-Apple اور B-Bat کے علاوہ کچھ نہیں رٹایا جاتا۔

    علامہ اقبال مغربی نظامِ تعلیم سے بہت نالاں تھے کیونکہ مغربی نظام تعلیم مادیت پرستی، عقل پرستی اور بے دینی و الحاد کا سبق دیتی ہے۔ اسی نظام تعلیم کی حقیقت کو علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اس انداز سے پیش کیاکہ:
    اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم
    ایک سازش

    <Writer Aqsa Younas


     Aqsa Younas

    Aqsa Younas is a Freelance Journalist Content Writer, Blogger/Columnist and Social Media Activist. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes columns on political, international as well as social issues. To find out more about her work on her Twitter account

      

     


    https://twitter.com/AqsaRana890

  • طلبہ شفقت محمود سے کیا چاہتے ہیں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    طلبہ شفقت محمود سے کیا چاہتے ہیں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    کورونا وباء موت تعلیمی نظام کو شدید متاثر کردیا. امتحانی نظام تو بالکل ہی مفلوج ہوکر رہ گیا. 2020 میں تو طلبہ کو پروموشن دے دی گئی لیکن موجودہ سال میں بھی طلبہ بضد ہیں کہ امتحانات نہ لئے جائیں. آل پاکستان سٹوڈنٹ محاذ نے مطالبہ رکھا تھا ’امتحانات کینسل کرکے ہمیں اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے.راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاج ہوئے. اس دوران ٹویٹر ٹرینڈ ٹاپ پر رہا. طلبہ رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا گیا. وزیر تعلیم شفقت محمود کے اعلان کے بعد کہ 10 جولائی کو ہر حال میں امتحانات ہوں گے, طلبہ میں غم و غصہ کی لہر میں اضافہ ہوگیا. طلبہ نے دوبارہ احتجاج کی کال دی, اس دوران پولیس کی بھی سیکیورٹی سخت تھی ,پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کا پہلے سے پلان ترتیب دے دیا تھا. اس دن بھی طلبہ ملک کے مختلف حصوں سے اسلام آباد پہنچے, طلبہ کو گرفتار کیا گیا. طالبات بھی احتجاج کا حصہ بنیں. جن کا صرف ایک مطالبہ تھا کہ ہمیں نا صحیح پڑھایا گیا ہے یہاں تک کہ ہمیں پڑھانے والوں کو زوم تک چلانا نہیں آتا تھا اس لئے یا تو وقت دیا جائے یا تو امتحانات منسوخ کئے جائیں لیکن اس احتجاج سے بھی طلبہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا. اور تو اور دو دن سے انٹر کے امتحانات بھی جاری ہیں. مزمل شفیق طلبہ رہنماء ہیں اور ان دنوں ہونے والی سرگرمیوں میں کافی ایکٹو رہے. مزمل شفیق ہمارے دوست بھی ہیں اور ایک ہی صحافتی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں, میرا مزمل شفیق سے تعلق بھی اسی تنظیم کے ذریعے بنا. مزمل شفیق امتحانات کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ‏راولپنڈی بورڈ کے زیر نگرانی قائم کردہ سنٹرز میں نہ تو طلباء کا Temperatureچیک کیا گیا نہ ہی Sanitizerلگایا جاتا اور امتحانی حال میں ہوا کے ناکافی وسائل کی وجہ سے طلباء پریشان۔

    آج بھی مسلم ہائی اسکول میں ایک طالب علم کی حالت خراب ریسکیو 1122 نے اسپتال منتقل کیا۔اور یہ صرف راولپنڈی ہی نہیں دیگر شہروں کے سنٹرز سے بھی اطلاعات موصول ہوئیں. مزمل شفیق نے بتایا کہ ہماری وزیر تعلیم شفقت محمود سے بھی میٹنگ ہوئی ہے. انہوں نے بتایا کہ ‏وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی, شفقت محمود صاحب نے کہا کہ طلباء کے تمام مسائل پر تفصیلی جائزہ لیا گیا تاہم کوئی اور پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے امتحانات لینا مجبوری ہے,مزمل بتلاتے ہیں کہ میں نے درخواست کی کہ نصاب نا مکمل ہونے کے باوجود مشکل امتحانات بنانا نا انصافی ہے۔‏براہ کرم آپ احکامات جاری کریں کہ پیپر چیکنگ میں نرمی برتی جائے تا کہ طلباء امتحانات میں کامیاب ہو سکیں۔دیگر یہ بھی درخواست کی کہ یونیورسٹیز کے میرٹ کو کم کیا جائے تاکہ طلباء با آسانی داخلہ لے سکیں۔آخر میں سپلیمنٹری امتحانات کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جس پر نظرثانی کی جائے گی.

    یاد رہے طلبہ کی حوالے سے اپوزیشن نے بھی آواز اٹھائی اور اس مسئلے کو اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا لیکن وفاقی حکومت امتحانات لینے پر بضد رہی اور اس وقت انٹر کے امتحانات جاری ہیں, یہی امید رکھتے ہیں کہ مولا کریم طلبہ کی مدد فرمائے, آمین

  • اسکول  بند ہونے سے دوسرے ممالک کی طرح سہولیات فراہم کرنے کی طاقت ہے؟۔تحریر : حمیداللہ شاہین

    اسکول بند ہونے سے دوسرے ممالک کی طرح سہولیات فراہم کرنے کی طاقت ہے؟۔تحریر : حمیداللہ شاہین

    بدقسمتی سے پاکستان میں کرونا مرحلے کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد تعلیمی اداروں کو بھی تباہی کی طرف گامزن کردیا۔ 26 فروری 2020 کو کراچی میں جب پہلا معاملہ سامنے آیا، تھوڑے ہی عرصے میں یہ پورے ملک میں پھیل گیا جس نے معمولات زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبوں کو بھی لاک ڈاؤن میں گھسیٹنا شروع کردیا۔
    کیا طلباء اسکول واپس جائیں گے؟؟؟۔۔
    ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت ہے، کیوں کہ اداروں کی طویل اور پیچھے سے بندش کے بعد طلبہ کا مطالعہ بہت متاثر ہوا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیل چکا ہے، اس لئے حکومت نے بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں پر بھی لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔ تعلیمی ادارے بند ہونے سے اور بچوں کے اسکول نہ جانے سے شرع خواندگی میں کمی آنا شروع ہوگئی۔ 2019 میں ہماری خواندگی کی شرح 60٪ تھی لیکن 2020 میں اس نے 2٪ کم کرکے 58٪ تک پہنچا دیا۔ اگر مزید ہم نے اسی طرح کا کام جاری رکھا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ ان طویل وقفوں سے بہت سارے طلبا کی دلچسپی ختم ہوگئی۔ پہلے وقفے میں کئی بچوں نے اپنی تعلیم چھوڑ دی، تیسری لہر میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے۔

    جب بھی ان سے وجہ پوچھی گئی کہ انہوں نے تعلیم کیوں چھوڑ دی؟، جواب ملتا کہ ہر دو تین ماہ بعد ہمیں طویل وقفے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو ہم اس فعل سے بیمار ہوگئے۔
    اسی طرح بہت سارے دوسرے طلباء بھی اسی مصائب کا شکار ہیں۔ اس سے ہمارے ڈراپ آؤٹ تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    اس سے انکار نہیں کیا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے تعلیم کو بے حد قبولیت حاصل ہے۔ اسکول تقریبا سارا سال بند رہتے تھے اور اب گرمیوں کی تعطیلات کے بہانے بہت سارے دوسرے اسکولوں کی چھٹی جاری رہتی ہے۔
    کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بندش کے دوران طلباء کو آن لائن کلاسوں کی طرف بڑھا دیا گیا جو کسی بھی موقع سے قابل قبول نہیں تھے۔ سب سے پہلے انٹرنیٹ بہت بڑا پہلا مسئلہ تھا کیونکہ ملک کے متعدد حصوں میں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی رسائی تو دور کی بات موبائل کے سگنلز بھی نہیں آتے، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے علاوہ آن لائن لرننگ سسٹم میں دیگر بہت ساری خرابیاں ہیں۔
    طلباء اساتذہ سے روبرو بات چیت سے محروم ہوجاتے ہیں اور اس مواد پر توجہ مرکوز نہیں کرسکتے ہیں جو اساتذہ فراہم کرتا ہے۔
    دوم زیادہ تر طلبا ڈیجیٹائزڈ نہیں ہیں اور ان کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فونز نہیں ہیں۔ حکومت نے تو وائرس سے کھل کر مقابلہ کیا لیکن تعلیم کے شعبے میں بھی کچھ دیکھنے کو ملا، یونیورسٹی سطح کے طلباء پر خاصی توجہ دی گئی اور ان کے لئے آن لائن کلاسز جاری کیں لیکن تقریبا 40٪ طلبا پرائمری سیکشن میں ہیں، وہ ان سہولیات سے محروم ہوگئے؟۔ اور پھر بڑے شہروں کے یونیورسٹیاں تو آن لائن کلاسز دے سکتی ہیں لیکن چھوٹے شہروں اور قصبوں میں یہ ممکن نہیں۔
    ان وقفوں کے مہلک نتائج تعلیم، طالب علم اور اساتذہ پہ اثر اندا ہوئے ہیں۔ دوسرے ممالک نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے مختلف طریقوں کی تجاویز پیش کی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
    تاہم اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند تو کردئے گئے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی بات چیت کو محدود کرے۔ لیکن اس کے باوجود عوام نے ایس او پیز کا خیال نہ رکھتے ہوئے باہر نکلتے رہے اور مواصلات، اجتماعات سیر و تفریح ویسے ہی تھے جیسے پہلے تھے۔

    احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور اپنی صحت کو بچانا واقعی بہت اچھا ہے لیکن ہمیں اپنی تعلیم کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
    حکومت کو ان طویل وقفوں کو ختم کرنا چاہئے اور ان کو جاری رکھنے کے لئے تعلیمی اداروں میں ایک نئی بڑی اور بہتر تبدیلی لانا چاہئے۔
    پاکستان کے کئی علاقوں میں سہولیات کے فقدان کی مثالیں موجود ہیں، میرا تعلق چونکہ بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے، اس لئے پہلے اگر یہاں کی بات کی جائے تو اس میں کوئی شق نہیں کہ پرائیویٹ اسکول نے دھڑادھڑ پیسے کمائے، والدین پر اسکول بند ہونے کے باوجود فیس بھرنے کی زور دی گئی، یہاں پر شہر میں لڑکوں کے دو ہائی اسکول، گرلز کی ایک ہائی اسکول اور ایک گرلز ڈگری کالج جبکہ ایک بوائز ڈگری کالج اور ایک بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ کی سب کیمپس ہے، لیکن پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کی بھرمار ہے، 80 فیصد بچے مختلف دیہی علاقوں سے آکر شہر میں پڑھتے ہیں اور یہاں پہ 30 فیصد سے کم لوگوں کو انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کی سہولت میسر ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں تو موبائل کے سگنلز تک نہیں آرہے اور پھر دیہی علاقوں میں 18 جبکہ شہر میں 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہونے کے بعد صرف ایک پرائیویٹ اسکول نے آن لائن کلاسیں دینا شروع کیں جوکہ دیہی علاقوں انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور بجلی کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بند کردی گئی۔
    حکومت پاکستان بالخصوص حکومت بلوچستان کو صوبہ بھر میں تعلیم کے شعبے پر زور دینی چاہئے، اور تعلیم کی اہمیت سمجھنے کے لیے دیہی علاقوں یا ضلعوں میں ماہانہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، تاکہ لوگوں کو اگاہی ملے اور ہر سہولت فراہم کرنے میں مدد فرمائے، اساتذہ کو بھی جدید ٹیکنالوجی اور معیار تعلیم سکھانے پر توجہ دی جائے۔

  • سپیشل بچوں کا سپیشل خیال ،‏تحریر: شاہدہ بانو

    سپیشل بچوں کا سپیشل خیال ،‏تحریر: شاہدہ بانو

    انسان کو اللہ پاک نے بڑی پیاری اور اعلی جسامت سے نوازا ہے
    انسان کا جسم ہڈیوں، گوشت، خون وغیرہ سے مل کر ایک جسم کی شکل میں سامنے ہوتا ہے
    سامنے دیکھنے میں تو انسان تقریبا سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں میں اللہ پاک کی طرف سے کوئی نا کوئی کمی رکھ دی جاتی ہے یا پھر زندگی میں آگے بڑھتے ہوئے انسان کی زندگی میں کوئی ایسا حادثہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس سے انسان اپنے جسم کا ظاہری یا اندرونی حصوں میں سے کوئی ایک کھو دیتا ہے جس سے وہ معذور ہو جاتا ہے
    کچھ بچے پیدائش کے وقت ہی کسی نا کسی جسمانی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں
    ایسے بچے نارمل بچوں سے زیادہ توجہ مانگتے ہیں جب ان کو خصوصی توجہ دی جائے تو وہ بچے احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے اور وہ بھی زندگی کی دوڑ مین شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں سپیشل بچوں کے لیے الگ سے سکولز ہیں وہاں بچوں کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں کوشش کریں وہاں بھی بچوں کو بھیجا جائے اور خصوصی توجہ دلائی جائے اور گھر مین بھی بچوں کو ایسا ماحول دیا جائے جس سے وہ اپنی کمزوری کو سوچنے کے بجائے وہ اپنی زندگی کا سوچیں

    وہ کھڑے نہیں ہو سکتے تو لیٹا کر ہی ان کو ورزش کرائی جائے ان کے ساتھ باتیں کی جائیں ان کو زیادہ سے زیادہ ٹائم دیا جائے
    اگر وہ بول نہیں سکتے تو ان کے اندر پڑھنے لکھنے کی اتنی صلاحیت پیدا کی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں دنیا کو بتا سکیں
    وہ اپنے کام کروا سکیں
    آگے جا کر وہ اپنے لیے خود کما کر کھا سکیں

    بہت جگہوں پےچل دیکھا گیا ہے اسپیشل بچوں کو الگ کر کے رکھ دیا جاتا یے ان کو کوئی توجہ نہیں دی جاتی ان کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا جس سے وہ بچے پہلے تو بیمار ہوتے ہی ہیں بعد میں وہ سوچ سوچ کر احساس کمتری جیسی لعنت کا بھی شکار ہو جاتے ہیں
    آئیں مل کر معاشرے کو اسپیشل بچوں کا اسپیشل خیال رکھنے کی طرف لے کر آئیں
    خود بھی کوشش کریں ہمارے معاشرے میں ہمارے ارد گرد ہمارے خاندان میں کوئی ایسا بچہ ہے تو ہم خود اس کا زیادہ سے زیادہ خیال بھی رکھیں گے

  • پاکستان میں تعلیم ،تحریر ! صاحبزادہ ملک حسنین

    پاکستان میں تعلیم ،تحریر ! صاحبزادہ ملک حسنین

    تعلیم انفرادی و اجتماعی طور پر سب کے لیے نہایت اہم ہے تعلیم معاشرے کو بہترین شہری پڑھے لکھے نوجوان اور معاشرے کو باشعور کرتی ہے تعلیم ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے تعلیم ایک اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے انفرادی طور پر کسی بھی ملک کا تعلیم یافتہ ہونا ملکی استحکام اور ترقی کے لئے بہت ضروری ہے جس سے وہ ملک ترقی کرتا ہمارے دن اسلام نے مسلمانوں پر تعلیم فرض کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی اہمیت اس قدر بیان کی ہے کہ "علم عبادت سے افضل ہے”
    تحریک پاکستان سے قبل برصغیر میں سرسید احمد خان نے تعلیم کے لئے جو اقدامات کیے آج ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں ایک سکول کو کالج اور یونیورسٹی تک لے گئے اگر اس وقت مسلمان ایسی اعلی کاوشیں کر سکتے ہیں تو آج ہم اس آزاد ملک میں کیوں نہیں کر سکتے

    ہماری آزادی کو 73 گزر چکے ہیں مگر آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے کیا اچھا کیا اور کیا برا کیا کبھی ہم پکے مسلمان بننے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی مغربی ممالک کی نقالی کرتے نظر آتے ہیں یہ یہ بات صرف رہن سہن کی حد تک نہیں ہمارا تعلیمی نظام بھی اس سے نہیں بچ سکا ہرسال بدلتے تعلیمی نصاب نے ہمارے تعلیمی نظام کو مکمل تباہ کر دیا ہے ہم تو آج تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمارے تعلیمی نظام کی زبان اردو ہونی چاہیے یا انگریزی ملک کا حال یہ ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہم لوگ انگریزی کو پسند کرتے ہیں تعلیمی نظام میں بھی انگریزی کو پسند کیا جاتا ہے آخر کون سی احساس کمتری ہے جو ہمیں ہماری قومی زبان اردو سے دور کر رہی ہے دنیا میں جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے وہ اپنی قومی زبان میں کی ہے

    مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب امریکا اور یورپ کا ہی مرہون منت رہا ہے ہمارے مصنفین نے جو بھی اردو میں کتابیں لکھی ہیں ان کو ترقی یافتہ ممالک میں لکھی گئی کتابوں کا ترجمہ کہہ سکتے ہیں جو کتابیں ہمارے مصنفین نے انگریزی میں لکھی ہیں ان کو ترقی یافتہ ممالک میں لکھی گئی کتابوں کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں جب سے نجی اسکولوں اور اور کالجوں کا رواج پڑا ہے تب سے کتابیں بھی انہی مصنفین کی پڑھائی جاتی ہیں جو یورپین یا امریکن سکولوں کالجوں میں پڑھائی جاتی ہیں
    قوموں کی ترقی کا دارومدار کتابیں پڑھ لینے یا ڈگریاں حاصل کرنے میں نہیں ہے کہا جاتا ہے کہ گریجویٹ اسمبلی بن جانے سے ہمارا سیاسی کلچر تبدیل ہو جائے گا اکثر ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ آگے آئیں گے تو یہ ملک ترقی کرے گا مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان ہر محکمے میں پڑھے لکھے افراد موجود ہیں جن کی تعلیمی قابلیت ایم فل یا پی ایچ ڈی ہے مگر پھر بھی ملک ترقی نہیں کر رہا ہے تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں جن کا ذکر ہمیں کتابوں میں ملتا ہے

    مگر "پاکستان میں حقیقت اس چیز کے بالکل برعکس ہے یہاں طلبہ کو تعلیم نہیں ڈگریاں دی جاتی ہیں”
    پاکستان میں ہزاروں گورنمنٹ کالج اور سکول قائم ہیں جن میں نہ جانے کتنے زمین پر اور کتنے کاغذوں پر موجود ہیں لیکن ہزاروں کالجوں اور سکولوں کے باوجود لوگ بنیادی تعلیم سے محروم ہیں تعلیم مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہے لوگوں میں اس کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے "بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کو کاروبار سمجھا جاتا ہے اور لاکھوں نہیں کروڑوں کمائے جاتے ہیں ”
    دنیا کے وہ 26ممالک جو پاکستان سے بھی زیادہ غریب ہیں مگر تعلیم پر پاکستان سے زیادہ خرچ کرتے ہیں مگر ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بجٹ میں سے صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ ہمیں سکولوں اور کالجوں کی خستہ حالت کی صورت میں نظر آتا ہے جو چند لوگ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ سرکاری اداروں کے بجائے نجی اداروں کو فوقیت دیتے ہیں

    تعلیم کے لیے مختص کیا گیا 2 فیصد بجٹ بھی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے ” پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے بھی زیادہ بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتے ہم اس وجہ سے بھی تعلیم میں دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں کہ ہمارے حکمران تعلیم پر توجہ نہیں دیتے اگر پاکستان میں نظام تعلیم بہتر کرنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں تعلیمی بجٹ بڑھانا ہوگا اور اپنا تعلیمی نصاب درست کرنا ہوگا اور تعلیم کے لیے ان اساتذہ کا انتخاب کرنا ہوگا جو نئی نسل کی ذہنی صلاحیت سے واقف ہوں اور ان کے تعلیمی تقاضوں کو پورا کر سکیں اور اس کا بہترین ذریعہ ہے وہ طلباء ہیں جو حال ہی میں تعلیم حاصل کرکے فارغ ہوئے ہو (یعنی نوجوان اساتذہ )وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز تبدیل ہوئی ہے تو لازما” ایجوکیشن کے طور طریقے اور تقاضے بھی تبدیل ہوئے ہیں انہیں وہ اساتذہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں جو چند سال قبل ہی تعلیم سے فارغ ہوئے ہوں حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لئے تمام عملی اقدامات بروئے کار لائے اور پورے ملک میں ایک ہی نظام تعلیم ہو۔

  • اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

    اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

    وہ دور جس میں تعلیم کو ذریعہ معاش بنا لیا گیا ھو
    اس دور میں تعلیم، کھانا ، رھائش، یونیفارم اور دیگر ضروری سامان کی مفت فراہمی ایک دیوانے کا خواب ھی لگتا تھا۔
    لیکن یہ خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ھے۔

    میں آپ کو متعارف کروانے جا رھا ھوں
    لاھور اور قصور کے سنگم پر للیانی نہر کے کنارے واقع اخوت کالج یونیورسٹی قصور سے۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کا ایک اور خواب ایک اٹل حقیقت کا روپ دھارے ھمارے سامنے کھڑا ھے۔

    اخوت کالج یونیورسٹی میں پنجاب، سندھ ، کے پی کے ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام علاقوں سے برابری کی بنیاد پر طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ھے۔

    اخوت کالج میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسز کا آغاز 2015 سے ھو چکا تھا اور اب یونیورسٹی کلاسز کا بھی آغاز ھو چکا ھے۔
    طلباء سے ایک روپیہ بھی فیس کی مد میں نہیں لیا جاتا۔
    اعلیٰ معیار کا کھانا ، تعلیم اور رہائش مفت فراھم کی جاتی ھے۔
    طلباء کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ھے۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب سے جب طلباء کی فیس کے بارے میں پوچھا جاتا ھے تو ان کا یہ کہنا ھے کہ
    اخوت کالج یونیورسٹی میں طلباء سے پڑھائی سے قبل لاکھوں روپے فیس کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ طلبا سے کہا جاتا ھے کہ پڑھ لکھ کر جب کامیاب ھو جاؤ تو پھر آ کر اپنی فیس ادا کر دینا تا کہ آپ کسی کا سہارا بن سکو اور آپ کی دی ھوئی فیس سے کوئی اور پڑھ لکھ کر کامیاب ھو سکے۔

    اس قدر اعتماد؟ اس قدر بھروسہ ؟
    اسے خاموش انقلاب ھی کہا جا سکتا ھے ۔

    ایسا انقلاب جو ھمیں کچھ سالوں بعد نظر آنا شروع ہو جاے گا جب اخوت کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔
    اخوت ایجوکیشن پروگرام میں اخوت کالج یونیورسٹی قصور ، اخوت انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیصل آباد ، اخوت کالج فار وومن چکوال ، این جے وی سکول کراچی اور اخوت پرائمری سکولز (350 سے زائد) شامل ھیں ۔

    نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

  • تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    تعلیمی اداروں میں کیمرے کیوں ضروری ۔۔۔تحریر:حنا

    جیسا کہ آپ جانتے ہیں ۔ہمارے ملک میں بدفعلی زنا اور فحاشی دن بدن بڑتی جارہی ہے ۔حکمران ریاست حتی کہ سبھی لوگ بے بس نظر آتے ہیں ۔۔کہ اس بدفعلی کو کیسے روکا جاے ۔آئے روز ِنت نئے کیس دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں میں کیمرے نصب کیے جاتے ہے اساتذہ سمیت بچوں کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے ۔بطور مسلمان ہم سب جانتے ہیں فحاشی اور بدفعلی گناہ ہے جرم ہے اور اسلام میں اس کی کیا سزا ہے ۔
    زنا کی سزا بتاتے وقت ۔
    اللہ تعالی نے فرمایا ۔
    اور تمھیں اللہ کے دین کے نفاد کے متعلق ان دونوں کے بارے میں کوئ ترس نہ آئے ۔
    اگر تم اللہ تعالی اور یوم آخرت پر یقین رکھتے ہو ۔
    (النور 2:24)
    وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)ترجمہ: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔
    زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے، 

    پاکستان میں اس وقت تین بڑے مکتبہ فکر ہیں جنکے مدارس کثیر تعداد میں پورے پاکستان میں پھیلے ہوۓ ہیں دیوبندی مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس سے ہے جس سے تقریبا 18600 مدارس منسلک ہیں جنمیں 20 لاکھ کے قریب طلباء طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ بریلوی مکتبہ فکر کا الحاق تنظیم المدارس سے ہے اور اس سے تقریبا 9000 بریلوی مدارس منسلک ہیں جنمیں 13 لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں
    اس طرح اہل حدیث مکتبہ فکر کا الحاق وفاق المدارس اسلافیہ سے ہے اس کے تحت تقریبا 1400 مدارس ملک بھر میں فعال ہیں جنمیں کل ملا کے 39000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    خلاصہ یہ نکلا کے پاکستان میں 29000 رجسٹرڈ مدارس ہیں جنمیں 3339000 طلباءوطالبات زیر تعلیم ہیں
    اسی طرح دنیاوی تعلیم کے اداروں پر بات ہو تو سرکاری غیر سرکاری ابتدائی مڈل سیکنڈری کالج یونیورسٹی سمیت 2234255 ادارے دنیاوی تعلیم کے لیۓ پاکستان میں فعال ہیں جنمیں قریب 8 کروڑ قوم کے بچے بچیاں زیر تعلیم ہیں

    پاکستان بھر میں مدرسہ ہو یا کالج یونیورسٹی ہو یا جامعہ الا قلیل ہر ایک ادارے میں ہفتے مہینے میں ایک دو کیس ایسے ضرور سامنے آتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے طلباء نے آپس میں یا طالب علم نے طالبہ سے یا ٹیچر نے طالبہ کیساتھ قاری نے بچے کیساتھ ٹیچر نے شاگرد کے ساتھ پروفیسر نے طلبہ کے ساتھ زیادتی کی ہے اور سینکڑوں ایسی زیادتیاں ہوتی ہیں جو سامنے ہی نہیں آتیں بچے مسلسل زیادتی کا شکار ہو ہو کر مفلوج ہو جاتے ہیں کچھ عرصہ پہلے گجرانوالہ کی دینی درسگاہ کی ویڈیو سامنے آئی تھی اس طرح اک کالج میں کلاس روم کے سیکنڈل کی بھی لاہور یونیورسٹی میں ایک طلبہ کا گینگ ریپ بھی مانسہرہ کے قاری شمس الدین کی زیادتی ہو یا آئے روز جو دین کے ٹھیکدار ہوتے ۔جو خود کو دین کا وارث کہتے ہیں آئے روز ان کی بدفعلی کی وڈیو آرہی ہے ۔

    اگر ہم سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھیں ۔تو ہمارے آس پاس ان گنت بچے اس وقت زیادتی کے بعد قتل کیے جا چکے ہیں. انصاف نہیں ملتا ۔۔کیوں؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہے ۔۔میرے حکمرانوں کی خاموشی ۔۔۔موجودہ حکمران ہوں یا ماضی کے ۔۔سبھی ہمیشہ تب بولتے ہیں جب قتل یا درندگی سے متاثرہ ہونے والے بچے کا تعلق مخالف پارٹی کے صوبے یا علاقے سے ہو ۔۔ہمیشہ اس وقت انصاف کا رونا رویا جاتا ہے جب مخالف کو ذلیل اور لعن طعن کرنا ہو ۔حکمران انبیاء اور صحابہ کی مثالیں عوام کو تو دیتے ہیں لیکن خود عمل کیوں نہی کرتے درندگی فحاشی کتنا ہی بڑھ گئ ہو ۔اسے روکنا حکمرانوں پر فرض ہے ۔۔لیکن میرے حکمران تو جیسے ستو پی کر سووے ہووے ہیں ۔۔جناب عالی صرف گرفتار کرنے کو سزا دینا نہیں کہتے ۔۔کہ کسی نے جرم کیا تو آپ نے اسے سزا دے دی ۔۔جیلوں میں عیاشی کی زندگی دے دی ۔۔اور پھر وہی مجرم پولیس کو رشوت دے کر ضمانت کروا لیتا ہے ۔۔۔خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوبیس لاکھ مربع میل کر حکومت کی……..راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے…..کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی……

    ۔۔جب مدرسہ کا مولوی بچے کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ قتل کرتا ہے تو تمام علماء خاموش ہوتے ہیں ۔مگر ڈگری والے ماسٹر رونا ڈال رہے ہوتے ہیں ۔انصاف کا ۔۔ اصل میں انصاف کا نہیں ۔بلکہ مدرسے کو بدنام کرنے کا اور اس وقت میری تمام حقوق کی تنظیمیں بھی بڑھ چڑھ کہ بولتی ہے میرے اداکار میرے گلوکار چینلوں پہ کالے رنگ کے لباس پہن کہ آجاتے ہیں۔مگر انصاف نہیں مانگتے ۔انصاف مانگتے تو جس مولوی کی غلطی ہو وہ اس کی سزا کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ تمام مولوی طبقے کو گالی گلوچ مدرسوں کو غلط جگہ قرار دے کر اپنا الگ ہی بغض نکالنے لگ جاتے ہیں ۔ مدرسے کو بدنام وہ تمام مولوی طبقہ بھی کرتا ہے جو ایک مولوی کی غلطی پہ گناہ پہ خاموش ہوتا ہے ۔وہ تمام حافظ قرآن وہ تمام عالم بھی اس گناہ میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ وہ خاموش رہے ۔اب آپ لوگ مجھے کہیں گے ۔تم علماء کو برا کیوں بول رہی ۔۔ باقی جگہوں پر بھی تو ایسا ہوتا ہے ۔۔ارے باقی جگہیں خدا کا گھر نہیں کہلائ جاتی مساجد مدارس کو خدا کا گھر کہا گیا ہے ۔۔اور علماء کا رتبہ بہت بلند رکھا گیا ہے ۔۔قرآن جیسی عظیم کتاب پڑھانے والا بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے والا ایسا فحش عمل کرے گا تو سوال تو ہوں گے ۔۔ انگلی تو اٹھے گی ۔۔صرف اس پر نہیں ہر مولوی ہر داڑھی والے پر کہ کہیں یہ بھی ایسا تو نہیں ۔۔ایک مچھلی گندی ہو تو پورا تالاب گندہ کرتی ہے۔۔۔دوسری بات ۔جب سکول کالجز یونیورسٹیوں میں کسی لڑکی لڑکے کے ساتھ غلط ہوتا ہے یا قتل ہوتا ہے تو میڈیا خاموش ہوتا ہے ۔میرے حکمران خاموش ہوتے ہیں ۔میرے اداکاروں میری گلوکاروں کے سیاہ رنگ کے لباس گم ہو جاتے ہیں ۔کیوں؟ کیوں کہ وہ جگہیں ڈگری والوں کی ملکیت ہوتی ہے ۔۔وہاں منہ بند رکھنے کے پیسے ملتے ہیں میڈیا مالکان کو ۔حقوق کے علمبرداروں کو ۔موم بتی مافیا کو ۔وہاں ہر تیسرا بندہ یہ کہ کر جھٹلا دیتا ہے کہ لڑکی ہی غلط ہو گی ۔لڑکا ہی غلط ہو گا ۔۔۔والدین ہی برے ہوں گے ۔۔۔ آج زنا کی اس وباء سے چھوٹے چھوٹے بچے بھی محفوظ نہیں۔وہ لڑکا ہو یا لڑکی ۔۔آج یہ کہنا کہ لڑکی نے ہی ورغلایا ہوگا ۔۔یا یہ کہنا بچی کا لباس پورا نہ تھا تو مرد بہک گیا ۔۔ایک ماں کا لاڈلہ بہک گیا ۔۔دین کا خودساختہ ٹھیکدار بہک گیا ۔۔یا سکول ماسٹر پروفیسر بچے کی خوبصورتی اور میک اپ کو دیکھ کر بہک گیا یہ بالکل غلط بات ہے۔ سال دو سال کے بچے جو ماں تک بولنا نہی جانتے ہوتے ۔ وہ بھی محفوظ نہیں ۔۔کیوں؟ اس کے ذمہ دار آپ سب بھی ہے ۔آپ نے کیوں نہیں مانگا انصاف ۔۔اسماء کے لیے ۔عاصمہ کے لیے ۔مدیحہ کے لیے ۔آمنہ کے لیے ۔ ۔نور کے لیے ۔ہادیہ کے لیے ۔رضوان کے لیے ۔عامر کے لیے ۔اور ان جیسے بے شمار بچوں کے لیے ۔۔آپ کیوں صرف اک دوسرے کی مخالفت پہ ہی بولتے ہو۔سرے عام پھانسی پر کیوں نہیں بولتے ؟کیوں نہیں سرے عام سنگسار کی بات کرتے۔۔کوی بھی بندہ کسی دوسرے کے ایسے جرم پر اسے سنگسار نہیں کر سکتا ۔۔یہ قانون حکمران بناتا ہے حکمران مجرم کو سنگساری کی سزا دے سکتا ہے ۔

    کچھ ماہ قبل جب بشریٰ انصاری نے مدارس میں کیمرے لگانے کا مطالبہ کیا تو ایک مشہور سلفی دانشور نے غلاظت اگلتے ہوئے اس مطالبے پہ بشریٰ کو طوائف قرار دیا تھا۔وہ اداکارہ ہے تو وہ طوائف ٹھہری اور مذہب کے نام پر بدفعلی کرنے والے کیا کہلاے؟
    ہاں یہ کہا جاسکتا تھا کہ سکولوں کالجوں میں بھی کیمرے لگاے جائیں ۔آپ مدرسوں میں کیمرے لگاو کوی مولوی مخالفت کرے اسے الٹا لٹکاو ۔۔علماء مولوی کو بھی ہم نے خدا سمجھ لیا ہے ۔۔کہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا اور اگر کرتا ہے تو چپ کر جاو خاموش ہو جاو ۔۔نہ جانے کیوں یہ سوچ لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کی ہووی ہے ۔کہ عالم حافظ کو سزا کی بات کی تو دین خطرے میں پڑھ جاے گا ۔۔۔ارے دین کو سب سے زیادہ بدنام خود یہ علماء کررہے ہیں علماء کے بارے ایک فرمان ہے
    عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)۔۔۔تو علماء کو علماء ہی سمجھیے ۔۔خدا یا رسول نہیں کہ یہ مجرم ہے تو خاموش ہو جاو

    ہم ملکر حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں ۔پورے پاکستان میں خفیہ کیمرے نصب کیے جائیں
    مدارس میں کیمرے لگائے جائیں ۔ بشرطیکہ وہ کیمرے کالج، یونیورسٹی،ایم این اے، ایم پی ایز کے ریسٹ ہاؤسز، افسران کے دفاتر، پولیس، وکلاء اور بڑے بڑے دفاتر جو حکومت کے ماتحت ہے ہر جگہ خفیے کیمرے نصب کیے جائیں ۔۔ہاں یہ مفت کا کام نہیں ہے اس پہ بہت پیسہ لگے گا ہم عوام دیں گے پیسہ ۔۔ویسے بھی ہم بہت ٹیکس دیتے ہیں ۔۔چند پیسے اگر ہماری نسل کے تحفظ پہ لگ جائیں تو ہمیں قابل قبول ہے ۔۔آپ کیمرے لگائیں ۔پھر دیکھیں گے ۔۔برائی کس جگہ سے جنم لے رہی ہے ۔۔۔اور کون اس برائ سے پاک صاف ہے

    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • اسکول نہیں نوٹوں کی مشین ہیں! تحریر: عقیل احمد راجپوت

    پاکستان کا سب سے بڑا المیہ تعلیم کا بوسیدہ نظام سرکاری اسکولوں میں تعلیم نام کی چڑیا اگر کسی پاکستانی نے دیکھی تو وہ 80 کی دھائی کا زمانہ تھا اس کے بعد سیاست دانوں سے لیکر ہر کاروباری شخصیت نے اپنے ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر اسکول کا انتخاب کیا جس میں کبھی نقصان ہو ہی نہیں سکتا اس بھیانک صنعت کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں معنوں تعلیم ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسے غائب ہورہی ہے جیسے کراچی سے صفائی کا نظام کراچی والوں کی مثالیں اب اسی طرح کی ہوگئی ہے خیر اسکول مافیا کا زور آج اتنا بڑھ چکا کے سپریم کورٹ کے فیصلوں اور واضح احکامات کے باوجود یہ مافیا اپنی مان مانی جاری رکھا ہوا ہے فیسوں سے لیکر کاپیوں اور یونیفارم سے لیکر مختلف پروجیکٹس کے نام پر والدین کی جیبوں سے پیسہ ایسے نکالا جاتا ہے جیسے کراچی میں مرغی کا ریٹ پھر کراچی والا!

    تو قدر دانوں بات یوں ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے نام پر اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہیں اسکولوں کے نام پر جاری ہونے والے فنڈ ایسے غائب ہورہے ہیں جیسے کچرے میں کراچی غائب ہو رہا ہے!
    اسکول پر اربوں کھربوں لگانے والے حکمرانوں میں سے کسی ایک اولاد ان سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہوئی دکھائی دیتی تو مجھے احساس ہوتا کے پاکستان دو نہیں ایک ہوگیا تبدیلی کے بعد مگر پاکستان تبدیلی کے بعد بھی دو ہیں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے یہ حکمران اپنے بچوں کو بیکن ہاؤس اور ماما پارسی جیسے اسکولوں سے نکال کر کالے پیلے اسکول میں جب داخلہ کروانا شروع ہوجائیں تو سمجھ لینا تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آگئی ہے مگر فلحال تبدیلی ایسی ہی ہے جیسے کراچی کی پینے کے پانی کی لائنوں سے آتا ہوا گٹر ملا پانی!

    اسکول مافیا کی من مانیاں اس قدر بھڑ چکی ہے کے اب انہوں نے ان کاروباری سرگرمیوں کو رہائشی علاقوں میں بھی شروع کردیا عام سا بجلی پانی اور ٹیکس دینے کے بعد یہ کمرشل کاروبار کو رہائشی علاقوں میں چلا کر علاقے کی عوام کو روزانہ کی بنیاد پر مشکل اور پریشانیوں میں ڈال رہے ہیں اسکول کی چھٹیوں کے وقت اس پاس کے لوگ اپنے گھروں سے کسی ایمرجنسی کی صورت میں باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے بلکل کراچی کی سڑکوں پر چوتھے گیر میں لگاتار گاڑی چلانے کی طرح!

    تو حکمرانوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ مافیا ختم تو آپ نہیں کرسکتے کم سے کم اس پر قانون سازی کرکے ایک راہ ہموار کریں جس کے زریعے گزرنے والے والدین کو اپنی پریشانیوں کو کس حد تک بڑھانا ہے اور اپنا کتنا پیٹ کاٹنا ہے معلوم ہو بلکل اسی طرح جیسے کراچی والوں کو پانی آنے اور ٹینکرز کس دن ڈلوانا ہے معلوم ہوتا ہے
    کرونا وائرس کے ادوار میں فیسوں کا معاملات کو دیکھا جائے فیسوں کو والدین کی استقامت کے مطابق وصول کیا جائے بچوں کو فیسوں کے جمع نا کروانے پر اسکول سے نکالنے کے عمل کو رکوایا جائے بچوں کو فیس نا دینے کی پاداش میں سزائیں نا دی جائے ان کی دل آزاری اور تضحیک نا کی جائے بلکل اسی طرح جیسے کراچی کے نالے صاف نہیں کئے جاتے!

    آخری اور اہم نوٹ پر بات کا اختتام کرتا ہوں کہ رہائشی علاقوں سے اسکولوں کو فوری کمرشل جگہوں پر شفٹ کیا جائے کیونکہ خدا نا خواستہ کسی حادثے کی صورت میں وہاں ریسکیو آپریشن نہیں کیا جاسکتا اسکول میں ایمرجنسی اخراج کا کوئی موثر نظام نہیں اس پر فوری عملدرآمد کروایا جائے تاکہ حادثے کی صورت میں جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے میری یہ درخواست چارج شیٹ ہیں ان اداروں کے افسران کے خلاف جو اس کے کرتا دھرتا ہیں ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں وہ اسکے زمہ دار ہونگے

  • کینسل ایگزیمز سیو سٹوڈنٹس؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    کینسل ایگزیمز سیو سٹوڈنٹس؟ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پچھلے کچھ عرصے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طالبعلموں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اُن کے امتحانات منسوخ کر کے انہیں پروموٹ کیا جائے۔ اس مطالبے کا پس منظر، وجوہات، مثبت و منفی پہلو اور اثرات پر بات کرتے ہیں۔

    2020 میں کوویڈ (کرونا وائرس) کی وجہ سے جہاں دوسرے معمولات زندگی متاثر ہوئے، وہیں تعلیمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی ادارے بھی بند تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر وزارت تعلیم نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد امتحانات کے بغیر پروموشن کا فیصلہ کیا۔ دہم اور بارہویں جماعت کے امیدواروں کو پچھلے سال کے امتحانات کی بنا پر نمبر دیے گئے اور نہم اور گیارہویں کے طالبعلموں کو کہا گیا کہ اُنکو اگلے سال کے امتحانات کی بنا پر نمبر دیے جائیں گے۔

    یہ ایک مجبوری میں کیا گیا فیصلہ تھا کیوں کہ اُس وقت نا تو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب تھی اور نہ ہی حالات کنٹرول میں تھے۔ لیکن اُس وقت کچھ ذہین/ محنتی بچوں نے امتحانات کی منسوخی کے خلاف احتجاج کیا تھا، جن کا موقف تھا کہ اس فیصلے کی وجہ سے نہ صرف اُنکی محنت رائیگاں جائے گی بلکہ مستقبل میں انکا میریٹ بھی متاثر ہو سکتاہے۔
    2021 کے آغاز میں ہی وزیرِ تعلیم نے بول دیا تھا کہ اس سال امتحانات کے بغیر کسی کو بھی پروموٹ نہیں کیا جائے گا، لیکن وقتاً فوقتاً اس کے خلاف طالب علموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ جس میں باقاعدہ اعلان کے بعد شدت آ گئی۔

    کچھ روز قبل کُچھ سٹوڈنٹس نے فیض آباد احتجاج کرتے ہوئے سرینگر ہائی وے کو نہ صرف بند کر دیا بلکہ وہاں موجود نجی گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے درجنوں گرفتاریاں کیں۔

    سٹوڈنٹس کے تحفظات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اعلان کیا کہ اس سال امتحانات صرف آدھے اختیاری مضامین کے ہوں گے اور اُن 4-3 مضامین کا سلیبس بھی کم کر دیا گیا ہے۔

    کچھ طالبِ علموں کا مطالبہ ہے کہ امتحانات کو منسوخ کر کے ان کو پروموٹ کر دیا جائے۔ اس کے لیے وہ پہلی توجیح یہ دیتے ہیں کہ ہمیں امتحانات کی تیاری کا وقت نہیں دیا گیا۔ دوسری توجیح کرونا کی دی جاتی ہے کہ ہماری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک سال کا عرصہ 3 یا 4 مضامین کی تیاری کے لیے کم تھے؟ کیا انہوں نے پورا سال اِس اُمید میں تیاری نہیں کی کہ اگلے سال بھی امتحان کینسل ہو جائیں گے؟ اور اگر کرونا کی بات کی جائے تو اِسکی تیسری ویو تقریباً ختم ہو چُکی ہے، ویکسینیشن کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ اور اگر ہمیں شاپنگ کرتے وقت کرونا کی فکر نہیں ہوئی، احتجاج کرتے وقت کرونا کا خطرہ نہیں ہوتا تو امتحانات میں بھی کرونا کُچھ نہیں کہے گا۔

    سٹوڈنٹس کے ایک دوسرے گروپ کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ہماری کلاسز آن لائن ہوئی ہیں اِس لیے امتحانات بھی آن لائن لیے جائیں۔ یہ گروپ بھی آن لائن امتحانات کے لیے کرونا کی توجیح پیش کرتے ہیں۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی تیاری اچھی ہے تو اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ امتحان فزیکل ہوتے ہیں یا آن لائن۔ کرونا کی پیک میں کلاسز آن لائن ہوئی تھی، لیکن اس وقت اسکول اور کالج کھولے جا چُکے ہیں، اگر اس وقت بھی تعلیمی ادارے بند ہوتے تو یہ مطالبہ شاید قابلِ قبول ہوتا۔ اور ویسے بھی اگر روز مرہ زندگی کے لیے ہم کرونا کو خاطر میں نہیں لاتے تو امتحانات کے لیے یہ توجیح کچھ مضحکہ خیز ہے۔

    آنلائن امتحانات کے لیے توجیح پیش کی جاتی ہے کہ چونکہ آنلائن کلاسز ٹھیک طرح سے نہیں ہوئیں اور بہت سارے لوگ انٹرنیٹ ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے کلاسز بھی نہیں لے سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پڑھائی تو کتابوں کی مدد سے خود بھی کی جا سکتی ہے لیکن ایسے سٹوڈنٹس جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں وہ آن لائن امتحان کیسے دیں گے؟

    کچھ بچے مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ اُنکو تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں ملا اس لیے اُنکے امتحانات کو ملتوی کیا جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ ایک سال میں تیاری نہ کر سکے تو مزید کتنا وقت چاہیے؟
    اور اس سب میں کچھ لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے طالب علموں کو بڑھاوا بھی دیا۔ ان معصوم بچوں کے درمیان موجود کُچھ شر پسند عناصر نے تو امتحانات منسوخ نا ہونے کی صورت میں املاک کو آگ لگانے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

    کُچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سٹوڈنٹس کو بغیر امتحان پاس کر دیا گیا تو یہ نہ صرف اُن کے لیے بلکہ مُلک کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ سٹوڈنٹس کے رویے سے لگتا ہے کہ انہوں نے تیاری نہیں کی۔ آج انکو امتحان کے بغیر ڈگری دی دی گئی تو کل کو یہ لوگ بغیر محنت نوکری کا مطالبہ بھی کریں گے۔ اور نوکری مل بھی گئی تو یہ پرفارم کیا کریں گے۔
    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طالب علم آن لائن امتحانات کا مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کہ اِن میں نقل کرنا آسان ہے۔ لوگ اپنی جگہ کسی اور سے پیپر حل کروا سکیں گے یا کسی سے مدد لے سکیں گے۔

    بالفرض اگر امتحان منسوخ ہو جاتے ہیں تو مستقبل کی پڑھائی کے لیے میرٹ کیسے بنیں گے؟ اور اگر اس سال بغیر امتحان ڈگری لینے والوں کو انڈسٹری نے قبول نہ کیا تو انکا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ لوگ پھر سڑکوں پر آئیں گے؟

    ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو لوگ امتحان دینا چاہتے ہیں اُنکی اِس خواہش کا احترام کون کرے گا؟ ایسے سٹوڈنٹس تو اکثریت میں ہیں جو مطالبہ کرتے ہیں کہ اِن کے امتحان جلد سے جلد لیے جائیں۔ یہ طبقہ امتحان منسوخ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والے میرٹ اور نوکری کے مسائل کی وجہ سے بھی پریشانی کا شکار ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر فزیکل امتحانات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے لئے 29 جون کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جبکہ بین الصوبائی وزیر تعلیم کانفرنس (آئی پی ای ایم سی) میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس سال بغیر امتحان کسی بھی طالب علم کو اگلی کلاس میں ترقی نہیں دی جائے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں حکومت کو چاہیے کہ امتحانات میں بچوں کی صحت کے لیے خصوصی اقدامات کرے وہیں والدین کو بھی اپنے بچوں کو امتحانات کے لیے قائل کرنا چاہئے۔ طالب علموں کو بھی اپنی پڑھائی پر توجہ دینی ہوگی کیوں کہ امتحانات کا منسوخ ہونا مسائل کا حل نہیں ہے۔ بغیر امتحان ترقی کا سب سے زیادہ نقصان سٹوڈنٹس کا ہی ہوگا۔اس سے نہ صرف مزید مسائل پیدا ہوں گے بلکہ زندگی کے دوسرے امتحانات زیادہ مُشکِل ہو جائیں گے۔