Baaghi TV

Category: تعلیم

  • تحریر: محمداسعد لعل نصاب واحد کی ضرورت

    تحریر: محمداسعد لعل نصاب واحد کی ضرورت

    نصاب کے لغوی معنی راستہ ، رن وے ، گھوڑ دوڑ کے مقابلے کا راستہ ہے ۔جہان تک تعلیمی نصاب کا تعلق ہے اس کے مطابق ایسا نصاب جس کے تحت محتلف مدارج کے طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیت کے مطابق مجوزہ راستے کو اپنا سکیں ۔
    نصاب کی ضرورت پیش کیوں آتی ہے ؟ نصاب کو کیساہونا چاہیے ؟ اور اس سے بڑھ کر کسی قوم کےلیے یکساں اور واحد نصاب کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ۔ ان تمام سوالات کےجواب ہمیں مختلف نصاب سازوں کی تحریروں اور نصاب ساز اداروں کی دستاویز سے مل جاتے ہیں ۔ سب سے پہلےان دستاویز سے ہمیں نصاب سازی کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ایک بہتر اور جدید نصاب کی بدولت ہمارا معاشرہ فلاح اور کامیابی کی طرف ایک قوم کی صورت میں بڑھ سکتاہے۔
    دوسرا سوال جو ہمارے ذہن میں پیدا ہوتا ہےکہ نصاب کو کیساہونا چاہیے ؟ اس کے لیےماہرین تعلیم کی ہر دورمیں خواہش رہی ہے کہ نصاب کوجدید سے جدید بنایا جائے تاکہ ہماراطالب علم جدیددنیا کی بدلتی ہوئی ضروریات کوپورا کر تے ہوئےجدید عالمی مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا سکے۔جدید نصاب سازی کے دوران معلم، متعلم ،تعلیم کےعالمی سطح پر مثبت اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئےطلبا کے فطری میلان کا بھی خاص خیال رکھا جائے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا بہتر ین نصاب مرتب کیا جائے جس کی بدولت ہماری آنے والی نسلوں کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی ممکن ہو سکے۔
    اس بحث میں تیسرا سوال یہ کہکسی قوم کےلیے یکساں اور واحد نصاب کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے ۔ اگر ہم پاکستان کے نظام تعلیم کا جائزہ لین تو یہاں بھانت بھانت کی بولی بولی جاتی ہے ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنائے ہوئی ہے گویا پاکستان میں تعلیمی نظاموں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے یہ وجہ ہے کہ موجودہ خومت نے اس قوم کو اس گورکھ دھندے سے نکالنے کے لیے ایک قوم ایک نصاب کا نعرہ لگایا ہے اور اس کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے قومی نصاب کونسل کے زیر اہتمام مختلف تعلیمی نظاموں کے اکابرین کی کئی بیٹھکیں بلائیں گئیں جس میں مغربی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے مذہبی مدارس نے بھی بھر پور حصہ لیا اور اپنی اپنی سفارشات پیش کیں ۔ان سفارشات کو ایک قومی شکل دے کر پرائمری سطح تک کایکساں نصاب مرتب کیا گیا اور پھر اس بنیاد پر پرائمری سطح تک کی کتابیں چھاپی گئیں جوکہ موجودہ تعلیمی سال میں پڑھائی جارہی ہیں۔یکساں تعلیمی نصاب کی بدولت طبقائی نظام کا خاتمہ ہوگاجس سےطلبہ کی یکساں ذہنیت اور قومی سوچ ہونے کی وجہ سے برتری کا احساس ہوگا۔ اب مدارس کے طلبہ بھی اپنی تدریس کو یکساں اور جدیدنصاب کے تحت عصر حا ضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر قومی ترقی میں متحرک کردار ادا کر سکیں گے۔
    جبکہ دوسری طرف وہ ادارے جوغیر ملکی تعلیمی اداروں سے الحاق شدہ ہیں ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی ذہن سازی اس انداز میں کی جاتی تھی کہ آپ صرف حکمرانی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ۔ جبکہ موجودہ نصاب ِواحد کے ذریعے اس طبقاتی تفریق کا کسی حد تک خاتمہ ہوگا ۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماراقومی نصاب ایسا ہو جس سے پیدا کندگان کی تعداد میں اضافہ اور صارفین کی تعداد میں کمی آئے۔ ہماری افرادی قوت روایتی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے جدید تکنیکی تعلیم حاصل کرے۔تاکہ یہ ہنر مند افرادی قوت ہماری ملکی ضرورت کو پورا کرنےکے ساتھ ساتھ سمندر پار باعزت روزگار حاصل کر کے ملکی زرِ مبادلہ میں اضافے کا سبب بن سکیں۔
    امید ہےہمارا یکساں تعلیمی نصاب قومی ضروریات اور کردار سازی میں بھر پور کردار ادا کرے گا۔شرط یہ ہے کہ نصاب سازی قومی اْمنگوں کے مطابق ہو۔
    @iamAsadLal

  • تعلیمی ادارے یا فحاشی کے اڈے ،تحریر: فروا نزیر

    تعلیمی ادارے یا فحاشی کے اڈے ،تحریر: فروا نزیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    بظاہر ہم ایک اسلامی ریاستِ مدینہ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں اس ملک کو حاصل کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ہم اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزاریں
    کیا ہم واقعی اسلامک تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار رہے ہیں…؟؟
    چلئیں ایک مثال سے واضح کرتے ہیں اس بات کو..
    گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے تہلکہ مچادیا جس میں ایک تعلیمی ادارے میں کچھ نازیبا گانے لگا کر لڑکیاں ناچ گانا کرتی دکھائی گئیں…
    اوّل تو اسے ایک فیسٹیول کا نام دیا گیا جس می یہ سب بہت عام ہے لیکن میرے نزدیک وہ فیسٹیول کم اور ناچ گانا زیادہ لگ رہا تھا
    دوسرا یہ کہ اگر ایک تعلیمی ادارے کی یہ سرگرمیاں اسطرح کی ہوں گی تو ہمارا معاشرہ اس سے کیا سیکھے گا..؟
    اس طرح کی تقریبات منعقد کرنے سے ہماری نوجوان نسل کیا سیکھے گی؟ اپنی اولاد کو کیا سکھائے گے؟ کیسے اچھی تربیت کریں گے..؟؟

    کہتے ہیں ایک پڑھی لکھی عورت پورا گھر سنوار سکتی ہے لیکن اگر یہی عورت تنگ لباس زیب تن کر کے یونیورسٹی میں جائے گی
    تمام لڑکوں کے سامنے اپنے جسم کی نمائش کریں گی تو کیا ہمارا معاشرہ اسلامی کہلائے گا..؟؟
    خاص طور پر ایک تعلیمی ادارے میں اس طرح کی فحاش قسم کی چیزیں بند کرنی چاہیے
    تعلیم حاصل کرنے کیلیے دوسری غیر نصانی سرگرمیاں بہت ضروری ہیں مگر یہ ناچ گانا ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ ہمیں تباہی کی طرف گامزن کر رہا ہے…
    اس تمام واقع کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی اور پھر ٹویٹر پر کچھ ٹرینڈز کیے گئے اور اس معاملے کو دبا دیا گیا. کسی نیوز چینل نے اس پر کوئی کالم کوئی خبر میڈیا پر لانے کی کوشش نہیں کی..
    میرا مقصد کسی تعلیمی ادارے کا نام ظاہر کر کے اسکی ساخت کو خراب کرنا نہیں یے بلکہ مجھے اپنے ملک کے جوان نسل کے زوال کا اندیشہ ہے..

    مجھے ڈر ہے جو خواب ہمارے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے دیکھا، نوجوانوں کو شاہین کے نام سے پکارا گیا کہیں یہ سب خاک میں نہ مل جائے.
    ان تمام چیزوں کو بیان کرنے کاصرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے پاکستان کی جوان نسل کی اچھی تربیت کی جاأے
    ہماری تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری نسلیں تباہ اسی وقت ہوئی جب وہ غفلت میں پڑ گیئں..

    میں گورنمنٹ آف پاکستان سے اس پینل کے زریعے گزارش کرتی ہو کہ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے.
    ہمارے وزیر تعلیم کو خاص طور پر سلیبس میں رد وبدل کے علاوہ ان چیزوں پر خاص طور پر دھیان دینا ہو گا

    اللہ پاک ہم سبکو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین ثمہ آمین

  • تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم. ملک منیب محمود

    علم کی اہمیّت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے آج کے اس عہد میں تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنا کے زندگی کے لیے سانس کی آمدورفت۔ ایک بچہ کے لئے ماں کی گود سب سے پہلا مدرسہ ہوتا ہے ایک نومولود جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل معصوم اور فرشتے کی طرح گناہوں سے پاک ہوتا ہے تمام دنیاوی امور اور مسائل سے آزاد ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنی طفلانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے ہر شے لا شعوری طور پر اس کے سامنے آئی ہے بچہ جب اپنی ماں کی گود سے اترتا ہے تو وہ اپنے گھر کی زمین پر قدم رکھتا ہے گویا اسے یہی احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے اطراف کا ماحول کیا ہے کہ اپنے اطراف کے ماحول سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے اور ان چیزوں کو قبول کرتا ہے جو اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہیں۔

    سماجی نقطہ نظر سے ایک بچے کا سماج اس کا گھر ہوتا ہے اور بچہ اپنے اس ماحول کے تمام طور طریقوں سے مطابقت کرنا سیکھتا ہے یا والدین اسے سکھاتے ہیں اس میں مرکزی کردار ماں کا ہوتا ہے اس لئے کہ باپ تو تلاش معاش میں گھر سے باہر ہوتا ہے اگر ماں تعلیم یافتہ ہے تو سب سے پہلے بچے کو لکھنا پڑھنا سیکھاتی ہے لیکن ماں اگر ان پڑھ ہے تو وہ اس کی چنداں فکر نہیں کرتی لہذا بچہ اس سے آزاد اور کھیل کود میں مگن رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اس میں وہ دلچسپی یار محبت مفقود ہوتی ہے جو تعلیم یافتہ ماحول سے آنے والے بچوں میں ہوتی ہے ۔

    ماں کی گود کے بعد اور اسکول میں داخلے سے پہلے ایک بچے کا جو مکتب ثانی ہوتا ہے وہ اس کا گھر اور آس پاس کا ماحول ہوتا ہے
    گھر کے باہر کا ماحول بھی بچے کو اتنا ہی متاثر کرتا ہے جتنا کے اندر کا عموما بچے گھر کے باہر نازیبا کلمات اور گالی گلوچ سیکھتے ہیں اور اس کا ردعمل کم یا زیادہ گرمیں بھی نظر آتا ہے بہن بھائی کی لڑائی میں ان کی زبان سے کلمات نہ چاہتے ہوئے بھی ادا ہوتے ہیں یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیرونی ماحول سے اپنے ہم عمر بچوں سے سننے والی باتیں وہ جلدی قبول کرتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں بچے زیادہ نفساتی اور حساس ہوتے ہیں مشترکہ خاندانوں میں افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب توتو میں میں عام بات ہوتی ہے اور دو افراد کے بیچ ردعمل کو جب دیکھتے ہیں تو اس کا اثر قبول کر لیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اکثر بچے اپنے گھر کے باہر لڑائی جھگڑے میں پیش پیش رہتے ہیں اگر مشترکہ خاندانوں میں بچوں کے سامنے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائے تو بچے اسی رو میں بہنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں آگے چل کر خاندان کے دوسرے افراد متاثر ہو سکتے ہیں تجربات اور مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بچوں کا ذہن و دماغ ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچپن میں جو باتیں یا عادتیں انہیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ان کے دماغ میں ثبت ہو جاتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ بھی ہو جاتی ہیں

    ہمیں اپنے معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے اس قول کو اہمیت دے کر ایک بچے کو آنے والے کل کا ایک بہترین انسان بنانا ہوگا تاکہ وہ ایک اچھا اور سمجھدار انسان بن سکے جس طرح ایک سمجھدار انسان ایک چھوٹے سے بچے سے بہت ساری باتیں سیکھتا ہے بعینہ ایک بچہ بھی اپنے بڑے بزرگوں سے بہت ساری نہیں بلکہ تمام باتیں سیکھتا اور قبول کرتا ہے
    بچے فطرتا نقال ہوتے ہیں اس لئے گھر کے افراد کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو بھی حرکات و سکنات ان سے سرزد ہوں گی بچہ اسے فورا قبول کرلے گا اس لئے بچوں کے سامنے لغویات اور فضولیات سے پرہیز کرنا والدین اور دیگر بڑوں کی اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم ان بچوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ان ایک صالح صاف ستھرے ماحول کی تشکیل کے لیے فضا سازگار کرتے ہیں

    بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں اس لئے یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ ان کی پرورش کیلئے گھر کا ماحول خوشگوار اور صحت مند رکھیں کیوں کہ ایک بچہ اپنے گھر میں والدین کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کے ساتھ بھی وقت گزرتا ہے ایک نیک اور سوال بچہ جب گھر کے باہر قدم رکھتا ہے تو سماج میں مختلف لوگوں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے متعلقہ افراد بچے کی عادات و اطوار اور کردار و گفتار سے اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس بچے کے گھر کا ماحول کس طرح کا ہے

    ماحول دینی ہو تو اس کا اثر بچے کے ذہن کو متاثر ضرور کرتا ہے ورنہ عموما نئی نسل اپنے مذہب اور دین سے کوسوں دور نظر آتی ہے اس کمی کے لئے بھی والے اور گھر کے افراد کی ذمہ دار ٹھہراۓ جائیں گے بچے قدرتی طور پر معصوم ہوتے ہیں اور ان کی اس معصومیت میں آنے والے کل کا مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے بالخصوص ایک ماں کی گود میں بچے کی تقدیر بدلتی ہے جو کہ اس مصرعے کی عماز ہے
    تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم

    Written by” Malik Muneeb Mehmood”
    ملک منیب محمود

  • آپ حیران ہوں گے . تحریر:شفقت سجاد دشتی

    آپ حیران ہوں گے . تحریر:شفقت سجاد دشتی

    میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک وہند میں 1858ء میں ہوا اوربرطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیرکے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اسلئے ہمارے پاس ‘پاسنگ مارکس’ 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں 2 سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کیلئے پاسنگ مارکس 33 کر دئیے گئے اورہم 2021ء میں بھی انہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کوتلاش کرنے میں مصروف ہیں.

    جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھایا جاتا ہے اور وہ ‘اخلاقیات’ اور’آداب’ ہیں، حضرت علیؓ نے فرمایا: ‘جس میں ادب نہیں، اس میں دین نہیں مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اورہمیں ابھی تک انکی یہ بات معلوم کیوں نہ ہوسکی بہرحال، اس پرعمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے ہمارے ایک دوست جاپان گئے اورایئرپورٹ پرپہنچ کرانہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اورپھرانکو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔

    یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

    آپ یقین کیجئے استادوں کوعزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کوعزت دیتی ہے اوراپنی آنیوالی نسلوں سے پیارکرتی ہے جاپان میں معاشرتی علوم ‘پڑھایا’ نہیں جاتا کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اوروہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کیساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں، جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کیلئے بچے اوراساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنیکے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول، بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اورچھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ‘پبلشرز’ بن چکے ہیں÷

    آپ تماشہ دیکھیں جوکتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پرنقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پرچھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اورچھپے ہوئے مواد کوامتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پرنشانات لگواتے ہیں اورخود ہی پیپربناتے ہیں اورخود ہی اسکو چیک کر کے خود ہی نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونیکا فیصلہ بھی خود ہی صادر کر دیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اورقابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جنکے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پرافسوس کرتے رہتے ہیں اوراپنے بچے کو ‘کوڑھ مغز’ اور’کند ذہن’ کا طعنہ دیتے رہتے ہیں.

    آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اورچھاپنے کے؟
    ہم پہلی سے لے کراوردسویں تک اپنے بچوں کو ‘سوشل اسٹڈیز’ پڑھاتے ہیں اورمعاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اورسمجھانے کیلئے کافی ہے کہ ہم نے کتنا ‘سوشل’ ہونا سیکھا ہے؟ سکول میں سارا وقت سائنس ‘رٹتے’ گزرتا ہے اورآپکو پورے ملک میں کوئی ‘سائنسدان’ نامی چیزنظرنہیں آئیگی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس ‘سیکھنے’ کی اورخود تجربہ کرنے کی چیزہے اورہم اسے بھی ‘رٹّا’ اور ‘گھوٹا’ لگواتے ہیں.

    ہمارا خیال ہے پالیسی ساز، پرنسپل، اساتذہ اورتمام اسٹیک ہولڈر اس ‘گلے سڑے’ اور’بوسیدہ’ نظام تعلیم کو اٹھا کرپھینکیں بچوں کو’طوطا’ بنانے کے بجائے ‘قابل’ اور’باشعور’ بنانے کے بارے میں سوچیں.

    @balouch_shafqat

  • ایچی سن کالج اورہمارے خواب . تحریر: صائم مصطفیٰ

    ایچی سن کالج اورہمارے خواب . تحریر: صائم مصطفیٰ

    جون ایلیا صاحب ہمارے دورکے بہت بڑے شاعر گزرے ہیں وہ ایک مزاحیہ بات کرتے تھے جو کسی حد تک ٹھیک بھی ہے خاص طورپر ان لوگوں کیلیے جو تاریخ میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں نہ کہ معاشرتی علوم میں ۔
    ‘پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی’

    نیا پاکستان ایچی سن کے لونڈوں کی شرارت ہے ۔جن کو نہیں پتہ ان کو بتا دوں کہ ایچی سن لاہور کا ایک اعلیٰ شاندارشاہی قسم کا کالج ہے جو دوسوایکڑ کے رقبے پرمحیط ہے۔ 1886میں انگریزوں نے امرا، اشرافیہ، جاگیرداروں اوراعلی سرکاری طبقے کے لیے بنایا تھا اوراب تک یہ روایت چلی آرہی ہے۔ جہاں پرنصابی اورغیر نصابی سرگرمیاں بھرپورطریقے سے کروائی جاتی ہیں ۔ ایسا ملک جہاں پینےکا صاف پانی نہیں اورصحت کی بنیادی ترین سہولیات میسرنہیں وہاں ہم ایسے کالج کی بات کررہے ہیں جس کا نام ایچی سن کالج لاہور ہے ۔

    اس وقت حکومت میں شامل لوگوں کی بات کریں تواکثریت اسی کالج کے فارغ التحصیل ہیں ۔
    ہمارے وزیراعظم عمران خان، سابق وزیرخزانہ حفیظ شیخ شاہ محمود قریشی، پرویزخٹک، خسروبختیار، حاضر سپریم کورٹ کے چارجج ایچی سن کالج کے پڑھے ہوئے ہیں ۔ ماضی میں بہت سے اہم لوگ جو یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اعلی عہدوں پربیٹھے رہے ہیں ان میں فاروق لغاری، اعتزاز احسن، فیروزخاں نون، ایازصادق، اکبربگٹی، فیصل صالح حیات، غلام مصطفی کھروغیرہ ۔

    کچھ مہینے پہلے ایک والدین نے اپنے بچے کو ایچی سن داخل کروانے کی درخواست دی اوردرخواست یہ کہہ کر رد کردی جاتی ہے کہ آپکی سالانہ آمدن اٹھارہ لاکھ روپے ہے اس لیے آپ ہمارے تعلیمی اخراجات اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔ مطلب ایک آدمی جسکی ماہانہ آمدن ڈیڑھ لاکھ روپے ہیں وہ اس کالج میں پڑھنے کا ایل نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تین قسم کے لوگ حکمرانی کرنے کیلیے آتے ہیں۔

    ایک جاگیردار، دوسرےبیورکریٹ، تیسرےفوجی افسر۔

    وہ لوگ جو ہماری طرح کسی سرکاری سکول یا کالجزمیں پڑھتے ہیں اوربعد میں بیس ہزارکی نوکری کی خاطرساری زندگی داو پرلگا دیتے ہیں۔ ایک معمولی نوکری کیلیے دن رات ایک کرتے ہیں نیند قربان کرتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ یہ ہوتی ہے ہم کو وہ ماحول اورتعلیم کی آسائشیں حاصل نہیں ہوتی جوکسی جاگیرداریا اعلی سرکاری شخص کے بیٹے کو حاصل ہوتی ہیں ۔

    معذرت کے ساتھ ہمارے ملک کی تمام سرکاری جامعات میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ ہمیں ایچی سن یا لمزکے برابرلا کھڑا کرے۔ انہی نرسریوں سے یہ بڑے ہوکرباہرتعلیم حاصل کرتے ہیں اورواپس آکراعلی عہدوں پربراجمان ہوتے ہیں اورہم پرحکمرانی کرتے ہیں ۔

    اگرآپ کو یقین نہیں آتا تو خود دیکھ لیں کتنے لوگ ہیں جو ٹاٹ کے سکولوں سے پڑھ کرحکمران بنے ہوں، جوکسی مزدورکا بیٹا سینٹربنا ہو، کسی ریڑھی بان کی بیٹی آرمی میں اعلی عہدے پرہو، کسی مزارعے کے بیٹے نے سی ایس ایس ٹاپ کیا ہو۔ آپ کو یہ مثالیں کہیں نہیں ملیں گی۔ امیرکا بچہ امیرہی رہتا ہے اورغریب کا بچہ غریب ہی. ہمارے ملک میں دو طبقے پیدا ہوئے ہیں ایک وہ جنہوں نے غربت کھڑکی سے دورکہیں ناچتی دیکھی ہے دوسرے وہ جو گلے تک غربت کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔

    انہی کلاس کے لوگوں نے ملک کے اہم اداروں میں پنجے گاڑھے ہوئے ہیں وہ ملٹری ہو، عدلیہ ہو، بیورکریسی ہو یا سیاست ہو۔ ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہم ایچی سن، لمزیا آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ اس سے شاہد ہم بھی اپنے ٹوٹے بکھرے خوابوں کو جوڑ لیتے۔ میرے جیسے ہزاروں نوجوان جو اپنی پہچان چاہتے ہیں جو ملک و معاشرے کیلیے کچھ زیادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ خواب اپنے سینے میں دفنا کرمرجائیں گے۔

    @saimmustafa9

  • معلم علم دیتا ہے . تحریر: صاحبزادہ ملک حسنین

    معلم علم دیتا ہے . تحریر: صاحبزادہ ملک حسنین

    بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے دوسری درسگاہ اساتذہ کی تربیت ہے "معلم” یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب سکھانے والا ہے معلم قوم کا معمارہوتے ہیں معلم وہ ہے جوبے ادب کو باادب اور بے ہنرکو باہنرکردے معلم کا کردارصرف کلاس کی چاردیواری تک محدود نہیں بلکہ قوم کی ذہنی واخلاقی تربیت میں بھی موجود ہے یہ معلم ہی ہے جو طلبہ میں اخوت، مساوات، بھائی چارہ اورجذبہ حب الوطنی پیدا کرتا ہے معلم ہی طلباء میں شخصیت سازی اورکردارسازی کی بنیاد ڈالتا ہے معلم ہی نے اس دنیا کوعظیم مفکرین ماہرین دیے ”

    معلم بادشاہ نہیں ہوتا مگر وہ اپنے طلبا کو بادشاہ بناسکتا ہے معلم انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا! میں دنیا میں ایک معلم بنا کربھیجا گیا ہوں عظیم مفکر روسوں کہتا ہے کہ بچہ ایک کھلی کتاب ہوتا ہے اوراس کے ہرورق کو پڑھنا معلم کے لیے لازمی ہوتا ہے معلم ایک ایسا زینہ ہے جو خود تو ہمیشہ اپنی جگہ پررہتا ہے لیکن اس کے سہارے ہزاروں لاکھوں لوگ بلندیوں کی طرف بڑھ جاتے ہیں معلم اپنے ہنراپنے فن اوراپنے علم کو طلبہ تک ایسے ہی پہنچاتا ہے جیسے ایک پرندہ اپنے بچے کے منہ میں دانہ ڈالتا ہے اسی لیے ہزاروں سالوں سے معلم کو عزت احترام اورتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے فاتح عالم سکندرایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ جنگل میں سے گزررہا تھا کہ راستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آگیا نالہ بارش کی وجہ سے نالہ طغیانی پرآیا ہوا تھا استاد اورشاگرد دونوں بضد تھے کہ پہلے نالہ کون پارکرے گا آخرکار ارسطو نے سکندرکی بات مان لی سکندرنے پہلے نالہ پار کیا اور پھرارسطو نے نالہ پار کرکے سکندر کوکہا کہ تم نے پہلے نالہ پارکر کے میری توہین نہیں کی کیا؟ سکندر نے جواب دیا نہیں استاد مکرم! میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوسکتے ہیں لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کرسکتا معلم بچے سے وہاں سے امید لگاتا ہے جہاں سے دوسرے امید چھوڑ دیتے ہیں

    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا وہ میرا استاد ہے وہ چاہے تو مجھے بیچ دے یا ساری زندگی کے لیے اپنا غلام بنا لے

    دنیا میں جس معاشرے میں اساتذہ کی عزت نہیں کی گئی تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے تباہ اوربرباد ی کا شکار ہوئےہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے آج کل کے پر فتن دورمیں معلم کے ساتھ جس قدربرا سلوک کیا جاتا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں کبھی اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کرقتل کردیا جاتا ہے وہ معاشرہ کیا ترقی کرے گا جواساتذہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرے گا
    استاد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب خلیفہ وقت ہارون الرشید نے اپنے بچوں کواستاد کی جوتیاں پہنانے کے لیے لڑتے ہوئے دیکھا ایک کہتا ہے کہ استاد محترم کو جوتیاں میں پہناؤں گا دوسرا کہتا ہے کہ میں "تاج رکھا ہے زمانوں نے ان کے سروں پر
    جو تھے استاد کے جوتوں کو اٹھانے والے”

    اگر ہم واقعی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں اوراپنے طلبا کو صحیح معنوں میں علم دلوانا چاہتے ہیں تو "معلم”کے وہ تمام حقوق دیئے جائیں جن پر ان کا حق ہے اگر اساتذہ خوش ہوں گے وہ پریشانیوں سے دورہوں گے تو طلباء کو اچھے طریقے سے پڑھا سکیں گے اللہ رب العزت سے میری دعا ہے اللہ پاک میرے ان اساتذہ کی مغفرت فرمائے جو اس دنیائے فانی سے کوچ کر چکے ہیں اورآخرمیں اتنا ہی کہوں گا مجھ ناچیزکی اتنی اوقات نہیں کہ میں اساتذہ کی شان میں کچھ لکھ سکوں آج میں جو کچھ بھی ہو اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہوں۔

    Malik_Hasnain92

  • تعلیم نسواں . تحریر : ملک عمان سرفراز

    تعلیم نسواں . تحریر : ملک عمان سرفراز

    تعلیم کے بغیرکوئی بھی معاشرہ نا مکمل ہے ہمیشہ وہ معاشرہ ترقی کی راہوں پرگامزن ہوتا ہے جس معاشرہ کے افراد پڑھے لکھے ہوں۔ علم حاصل کرنا ہرمرد اورعودت پرفرض ہے تعلیم حاصل کرنا بلا تفریق ہرانسان پرفرق ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب مرد ہویاعورت۔

    حضوراکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ ’’حصول علم تمام مسلمانوں پر(بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے۔ علم کا حصول عورتوں پربھی اس طرح ہی فرض ہے جس طرح مردوں پرکوئی بھی معاشرہ عورت کی تعلیم کے بغیرنا مکمل ہے۔

    جیسا کہ سب جانتے ہیں کے ایک بچےکی پہلی درس گاہ اس کی ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ اگرماں ہی تعلیم کےزیورسے آراستہ نہیں ہوگی تو کیسے ممکن اس بچے نے اپنی پہلی درس گاہ سے کچھ بہترسیکھا ہوگا. جس طرح مرد تعلیم  حاصل کرنے کے بعد ریاست کے نظام اور دوسرے نظام کوچلاتا ہے اسی طرح ایک عورت تعلیم حاصل کرکے ایک گھر کے نظام کو چلاتی ہے مرد کی تعلیم ایک ادارے کو فائدہ پہنچاتی ہے جبکہ عورت کی تعلیم  پورے معاشرے کو پڑھے لکھے افراد مہیا کرتی ہے۔

    ایک تعلیم یافتہ خاتون ایک نسل کو پروان چڑھانے میں بہت اہم فریضہ ادا کرتی ہے اگرماں پڑھی لکھی ہوگی تو یقیناً اس کی اولاد میں بھی اچھے اوصاف ہوں گے جو یقیناً معاشرے کے لئے سود مند ثابت ہوں گے کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے اس معاشرے کے لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے، جہاں تک بچوں کے ابتدائی تربیت و تعلیم کی بات ہے تو اس کے لئے تعلیم نسواں ہی انتہائی اہم اورضروری ہے۔

    آپ کسی مرد کو تعلیم دلوائیں تو وہ ایک شخص کی تعلیم ہوگی لیکن اگرآپ ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں توگویا آپ پورے معاشرے کو تعلیم دیتے ہیں” نپولین کے قول کے مطابق توقوم کی تہذیب و تمدّن کا دارو مدار ہی عورت کی تعلیم پر ہے: ” تم مجھے تعلیم یافتہ ماں دو میں تمہیں مہذب قوم دوں گا”

    اور یہ مقولہ تو زبان زدِ عام ہیں کہ:
    ” بچے کا اولین مدرسہ ماں کی گود ہے

    اسی لئے کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے مرد کے ساتھ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک مضبوط اورپڑھے لکھے معاشرے کی پروان تعلیم یافتہ خواتین کے ہاتھوں ہی ممکن ہے۔

    @Speaks_Umn

  • "تعلیم کی افادیت .تحریر:نـــازش احمــــد

    "تعلیم کی افادیت .تحریر:نـــازش احمــــد

    آج کے اس پر آ شوب اور تیز تیرین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ترقی کرلے حالانکہ آ ج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے۔ ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے۔مگر اسکول میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، انجینٔرنگ، وکالت ، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا
    آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔ جدید علم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بہی اہمیت اپنی جگہ مسمم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لیے اخلاقی تعلیم بہی بے حد ضروری ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی عبادت،محبت ، خلوصِ، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معا شرہ کی تشکیل ہو سکتی ہے۔
    تعلیم کے حصول کے لیے قابل اساتذہ بہی بے حد ضروری ہیں جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھ کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہو گیا بلکہ استاد وہ ہے جو طلباء وطالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو پیدا کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک، علم و آگہی نیز فکر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا. ان کے شاگرد آ خری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر آ ج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو بہی آ لودہ کر دیا ہے۔

    محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہوگیا۔کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تو آج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے۔مگر افسوس کہ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قصر شاہی کی طرح قابض رہا ہے
    جن کے نزدیک اس عظیم پیشہ کی قدرو قیمت کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے،بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیا ہو۔ مگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔موازنا کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
    @itx_Nazish
    نـــازش احمــــد

  • بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار! .تحریر: فیضان علی

    بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں باپ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے جو کے پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے
    ابتدائی عمر سے لے کر اسے شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسے کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں کیونکہ وہ جس ماحول میں رہے گا اور وہاں کے لوگوں کے درمیان رہے گا جو انہیں کرتا دیکھے گا وہی اس کورے کاغذ یا سلیٹ جیسے دماغ میں نقش ہوجائے گا

    (ماں کی گود بچے کی پہلی درست گاہ ہوتی ہے)

    تعلیم و تربیت انسانی روح کی بہت اہم غذا ہیں
    جب بچہ دنیا میں آ کر اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو اس کے کانوں میں اذان دی جاتی ہے گویا اسی وقت اس کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے بچے کا دماغ کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے بچہ جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے بہت جلد وہ اسی ماحول کا اثر پکڑ لیتا ہے
    اپ جیسا ماحول بچوں کو مہیا کریں گے وہ اسی ماحول کی تعلیم حاصل کریں گا اور اسی رنگ میں ڈھل جائیں گے یہ بات ہم پر لازم ہے کے ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا ماحول اور کس قسم کی تعلیم اپنے بچوں کو دیتے ہیں
    ابتدائی عمر سے لے کر انہیں شعور آجانے تک یہ والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ بچوں کو ایک اچھا ماحول دیں اور ان کی اچھی تربیت کریں بچے اپنے ماحول میں اردگرد کے لوگوں کو جو کرتا دیکھیں گے جن کے ساتھ نشت و برخاست ہوں گا انہی چیزوں کو انہی کے آداب طور طریقے اپنے دماغ میں نقوش کرتے جائیں گے اور یہ ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے
    سب سے بڑھ کر ماں باپ کی محبت بچوں کے لیے، بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے آپ اپنے بچوں کے ساتھ جس شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئیں گے اپ کے بچے بھی اسی طرح ایک میٹھی تربیت حاصل کریں گے دنیا میں محبت اور شفقت سے بڑھ کر کچھ نہیں یہی شفقت بچوں کو ایک اچھا انسان بھی بناتی ہے

    اب جب بچہ اسکول جانے لائق ہوجاتا ہے تو لازماً اسے ادب و آداب و اخلاقیات اور حسنِ عمل کی بنیادی تربیت فراہم کی جائے والدین کو اپنے گھروں میں مذہبی اور روحانی ماحول تشکیل دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے انہیں جھوٹ، بدزبانی اور لڑائی جھگڑے سے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہیے بچوں کو کھیلنے کے لیے کون سا کھلونا دینا ہے یہ فیصلہ کرتے ہوئے والدین کو بہت بڑی احتیاط برتنی چاہیے
    گھر کا ماحول سب سے اہم ترین عنصر ہے جو بچے کی زندگی پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے ایک بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی لمحات سے ہی اپنے والدین پر منحصر ہوتا ہے جو اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں والدین بچوں کے پہلے معلمین ہوتے ہیں اور ان کے لیے رول ماڈل کا کردار ادا کرتے ہیں
    بہت سارے بچے خوش قسمت ہوتے ہیں کے جن کو گھر کا ماحول والدین کی محبت اور شفقت سے بھرپور ایک اعلیٰ سازگار ماحول ملتا ہے اور یہ بچوں کی کامیابی کا بہت اہم ضامن ہے
    اگر والدین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کتنے کامیاب ہیں تو اس کا اندازہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں اگرچہ بچے اخلاقی طور پر اچھے ہیں تو یہ والدین کی اعلیٰ کامیابی ہے یوں بچے کامیابی اور ناکامی پرکھنے کا حقیقی پیمانہ ہیں

    بچوں کو چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ والدین کے زیرِنگرانی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
    جب بچہ 10، 12 سال کا ہو جاتا ہے تو والدین کی ذمہ داریوں میں بھی تبدیلی آ جانی چاہیے اس عمر میں بچہ اسکول میں محلے میں اور معاشرے میں دوستیاں قائم کرنے لگتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اس عمر میں بچوں کے دوست بن جائیں اور ان کے لیے صحیح راستے کی رہنمائی کریں۔
    بچوں کی یہ عمر ہر لحاظ سے خوب پھلنے پھولنے کی ہوتی ہے اس عمر میں بچوں کی نقل و حرکات پہ کڑھی نظر رکھنی چاہیے بچوں کو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے ساتھ اپنے ساتھ نماز ادا کرنے کا پابند بھی بنائیں اور معاشرے میں بڑھتے کچھ جرائم اور تشدد کے واقعات کے بارے میں بڑی احتیاط کے ساتھ بچوں کو انکے بارے میں آگاہ کیا جائے،
    ایک سنہری کہاوت ہے کے گھر میں بچوں کے اچھے دوست بن جائیں تو بچے باہر کی بری دوستی سے بچ جاتے ہیں سادہ الفاظ میں یہ کہوں گا کے بچوں کو گھر میں اچھا دوستانہ ماحول مہیا کریں تاکے اپ کے بچے بُری صحبت سے بیچیں
    اولاد ﷲ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا تحفظ کرنا والدین کی زمہ داری ہے
    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ، ‘اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے گهر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندهن آدمی اور پتهر ہیں۔‘ (66:6)

  • ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    ‏”تعلیم” .تحریر:سعدیہ ناز

    کیا کبھی ہم نے لفظ تعلیم پر غور کیا ہے؟ تعلیم ہے کیا؟ اور جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ شاید ہم نے کبھی اس چیز پر غور ہی نہیں کیا، یا ہمیں اس چیز کی ضرورت ہی نہیں پڑی.
    تعلیم کی بنیادی معنی ہے "علم حاصل کرنا” اور علم حاصل کرنے کا مطلب شعور کا آ جانا اور جب شعور آ جاتا ہے تو ہم ہر چیز سے واقف ہو جاتے ہیں،ہمیں اچھے اور برے کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے،ہمارے دل میں انسانیت جاگ جاتی ہے،ہمیں لوگوں کی مدد کرنا سمجھ آ جاتا ہے اور سب سے بڑی چیز ہم ایک اچھے انسان بن جاتے ہیں جس کی ہمارے معاشرے کو بہت ضرورت ہے،وہ اچھا انسان جو لوگوں کے کام بنا مطلب اور بنا رشوت کے کرے،وہ اچھا انسان جو محنت سے ایمانداری سے اپنا کام کرے اپنے ملک کا نام روشن کرے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے..آپ نے دیکھا ہوگا تعلیم سے ہم کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے، میرا مقصد اصل میں یہ سمجھانا تھا کہ اگر ہم علم حاصل کرنے کی وجہ سے تعلیم لیں گے تو اس کے کتنے فوائد ہیں اور اس سے ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں.

    سب سے پہلے ضروری چیز جو ہم تعلیم لے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اگر میں یہ کہوں کے وہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے تو بلکل بھی غلط نہیں ہوگا کیوں کہ ہم جو آج کل تعلیم لے رہے ہیں وہ فقط "ڈگری” ہے ۔اگر ہم لفظ ڈگری پر چلے گئے تو اس کے بھی بہت زیادہ مطلب نکل آئیں گے بہرحال ہم اس پر نہیں جا رہے لیکن ہمیں ڈگری اور تعلیم میں فرق جاننا بھی بہت ضروری ہے۔
    یہ 2021 چل رہا ہے آج کل بچے جو اسکول جاتے ہیں وہ تعلیم نہیں بلکہ ایک ڈگری لینے جاتے ہیں ایک فرسٹ کلاس کی ڈگری.اس چیز میں بچوں کا کوئی قصور نہیں بچے تو جو اسکول ،گھر اور معاشرے میں سُنیں گے ،دیکھیں گے تو وہ وہی کریں گے۔اگر ہم گھر کی مثال لیں تو والدین اپنے بچوں کو کہتے ہیں بیٹا/بیٹی تم نے کلاس میں فرسٹ آنا ہے اور فرسٹ کلاس کی ڈگری لینی ہے،تمہارا فلاں کے ساتھ مقابلہ ہے دیکھتے ہیں تم کیا پوزیشن لیتے ہو تم نے بس نمبر ون کی ڈگری لینی ہے جیسے ہم اپنے آس پاس، پڑوس، رشتےداروں کو بتائیں ہمارے بچے بہت قابل اور ذہین ہیں پہلے نمبر کی پوزیشن اور ڈگری لے کر آئیں ہیں۔اور یہی چیز اسکول میں استاد کرتے ہیں مقابلہ کراتے ہیں پوزیشن کا ۔اب آپ خود سوچیں جب بچہ اسکول اور گھر میں یہ سب سُنے گا تو وہ تعلیم نہیں بلکہ نمبر ون کی ڈگری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔اور اس سب میں تعلیم جو بنیادی چیز ہے وہ چلی گئی پیچھے .

    اور جب یہ ڈگری والے لوگ نمبر ون ہائے فائے نوکری کرنے لگتے ہیں تب وہ اپنے دل میں ایک چیز رکھتے ہیں وہ یہ کہ”ہم نے اتنے پیسے بھر کے اچھے ڈگری لی ہے تو اب ہمیں وہ سارے پیسے دوسرے لوگوں سے وصول کرنے ہیں۔اب اس کی مثال ایک ڈاکٹر کی لیں جو پیسے بھر کر ایک اعلیٰ ڈگری لے کر آیا ہے ،تو وہ کہے گا مجھے یہ پیسے اپنے مریضوں سے علاج کی صورت میں وصول کرنے ہیں۔ایسی بہت ساری مثالیں ہیں ہمارے معاشرے میں ڈگری یا فتہ لوگوں کی جو پڑھ کر ڈگری تو لے لیتے ہیں لیکن افسوس وہ علم جو بنیادی چیز ہے اسے حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں.

    اگر ہم چاہتے ہیں ہماری آنے والی نسل اچھے انسان،اچھے شہری ،اچھے پاکستانی بنے تو ہمیں چاہیے ہم انہیں وہ علم دیں جو ان کے بھی کام آئیں اور دوسرے لوگوں کے بھی۔ جسے حاصل کر کے انہیں سب سے پہلے خود کی اچھے سے پہچان ہو پھر اپنے آس پاس کے لوگوں کی.اور اس چیز کے لیے ضروری ہے ہمارے والدین،بزرگ اور ہمارے استاد جو بچوں کو صرف علم لینا سکھائیں اور علم حاصل کر کے ایک اچھا شہری بننا سکھائیں جس کے دل میں انسانیت اور ہمدردی ہو لوگوں کے لیے.

    "ہمارے معاشرے اور ملک کو علم والے لوگوں کی ضرورت ہے”