Baaghi TV

Category: تعلیم

  • محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے انٹرمیڈیٹ طلبا کے لیے پروموشن پالیسی جاری

    محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے انٹرمیڈیٹ طلبا کے لیے پروموشن پالیسی جاری

    محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے انٹرمیڈیٹ طلبا کے لیے پروموشن پالیسی جاری کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق محکمہ ہائرایجوکیشن پنجاب کی جانب سے طلبا کو فرسٹ ایئر کے نمبروں کی بنیاد پر سینکنڈ ایئر کے نمبرز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب فرسٹ ایئر میں فیل ہونے والے طلبا کو بھی رعایتی نمبروں سے انٹرمیڈیٹ کی ڈگری ملے گی۔

    اسپیشل کیٹیگری میں شامل طلبا کے لیے امتحانات کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور اپنا نتیجہ بہتر کرنے کے لیے دوبارہ امتحان کی تیاری کرنے والے طلبا کو فرسٹ ایئر کے برابر نمبرز دے کر پاس کیا جائے گا۔

    سال 2020 میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان دینے کے لیے آخری چانس کے حامل طلبا کو اوسطاً نمبروں کی بنیاد پر پاس کر دیا جائے گا جبکہ فرسٹ ایئر کے 40 فیصد مضامین میں فیل ہونے والے طلبا کو پاسنگ نمبروں سے ڈگری دی جائے گی۔

  • سکول کھولنے کے بارے حکومت ابھی تک  تردد کا شکار

    سکول کھولنے کے بارے حکومت ابھی تک تردد کا شکار

    سکول کھولنے کے بارے حکومت اب بھی تردد کا شکار

    باغی ٹی وی : سکول کھلیں‌گے کہ نہیں‌ حکومت ابھی تک تردد کا شکار ہے اس سلسلے میں شفقت محمود نے کہا ہے کہ 7 ستمبر کو فیصلہ ہوگا سکول 15 ستمبر کو کھولنے ہیں یا نہیں، وزارت صحت سکول کھولنے سے متعلق ایس او پیز پر کام کر رہی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہم نے باقاعدگی سے چاروں صوبوں کیساتھ اجلاس کیے، کوئی بھی فیصلہ صوبوں کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا، تعلیم کے معاملے پر وفاق نے صوبوں کو اعتماد میں لیا، پاکستان نے کورونا سے نمٹنے کیلئے مثبت اقدامات کیے۔

    شفقت محمود کا کہنا تھا یکساں تعلیمی نصاب پر کام کیا، پہلی جماعت سے پانچویں تک یکساں نصاب بن گیا، ماڈل ٹیکسٹ بک بنا رہے ہیں جو ہمارے نصاب کی عکاسی کرے گی، اپریل 2021 میں پاکستان کے تمام سکولوں میں ایک ہی نصاب ہوگا
    واضح‌ رہے کہ اس سے پہلے واضح‌ رہے کہ پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے کہا ہے کہ وفاق کے ساتھ مل کر 15 ستمبر کو سکول کھولنے کا حتمی فیصلہ ہو گا۔ کلاسز میں بچوں کی حاضری اور اوقات کار پر مشاورت جاری ہے۔ ایک کلاس کو ہفتے میں تین دن بلانے کی تجویز ہے۔

    پنجاب کے صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن مراد راس نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی سکول انتظامیہ یا ایسوسی ایشن حکومت سے زیادہ طاقتور نہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کہتے ہیں جو 15 ستمبر سے پہلے سکول کھولے گا سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ سکولز کھلنے کی صورت میں بچوں کو شفٹوں میں بلانے کی تجویز ہے۔

  • پاکستان کا نظام تعلیم توجہ چاہتا ہے  تحریر:علی حسن اصغر

    پاکستان کا نظام تعلیم توجہ چاہتا ہے تحریر:علی حسن اصغر

    پاکستان کا نظام تعلیم توجہ چاہتا ہے
    علی حسن اصغر

    ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں پر ذہنی دباؤ بہت زیادہ ڈالا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پاتے ۔ کیوں کہ جب تک وہ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کے قابل ہوتے ہیں ، وہ اپنا اعتماد اور حوصلہ کھو چکے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر اوقات وہ بذاتِ خودملک پر ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔۔۔
    ہمارے تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ ہمارے امتحانی نظام میں بھی بہت سی خامیاں موجود ہیں جن کا اثر تعلیمی نظام پر بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر اوقات امتحانی پر چہ جات وقت سے پہلے آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً آج سے تین سال قبل 2017ء میں ،جب یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز(UHS) کے پرچےMCAT (جس کی بنیاد پر طلبہ کو میڈیکل کالجوں ، یونیورسٹیوں میں داخلہ دیتے ہیں) کی جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ دس سالوں سے وہ پرچہ لیک ہوتا رہا ہے ۔
    یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ ملک کیلئے جس قدر مہلک اور تباہ کن بدعنوانی ہے وہ کسی اور شعبے میں نہیں بلکہ تعلیم کے شعبے میں ہے ۔کیونکہ طلبہ اپنے اساتذہ سے سیکھتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جب اساتذہ بدعنوانی کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر ان کے ذہن میں میں یہ بات محفوظ ہو جاتی ہے کہ بدعنوانی کوئی بڑا جرم نہیں اور جب یہی طلباء تعلیمی اداروں سے نکل کر مختلف شعبوں میں اپنی عملی زندگی کا آغاز کرتے ہیں تو انہیں بدعنوانی کرنے اور رشوت لینے میں قباحت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ انہوں نے اپنے اساتذہ کو بدعنوانی کرتے دیکھا ہوتا ہے ۔
    ایک بات جس کا میں خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا وہ یہ کہ بدقسمتی سے ہمارے چند تعلیمی ادارے ایسے بھی ہیں کہ جہاں اپنی محنت سے امتحان پاس کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے نقل کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ وہ طالب علم جو پڑھائی میں ذرا کمزور ہو ، اسے پڑھنے کی بجائے نقل کرنے کے طریقے بتائے اور سمجھائے جاتے ہیں۔۔ اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ امتحانی عملہ بھی رشوت میں ملوث ہوتا ہے جس کی وجہ سے ذہین طلبہ کی حق تلفی ہوتی ہے اور طلبہ میں نقل کرنے کا رجحان بڑھتا ہے ۔
    اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا اور اہم نقص جو ہمارے ملک کی بنیادوں کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے وہ یہ کہ اکثر تعلیمی اداروں میں سمجھانے کی بجاۓ رٹہ بازی کو ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے طلباء امتحانات میں تو اچھے درجوں کے ساتھ پاس ہوتے ہیں ہیں لیکن جب میدانِ عمل میں قدم رکھتے ہیں تو بری طرح ناکام ہوجاتے ہیں۔مثلاً گزشتہ برس 2019ء کے میٹرک کے بورڈ ٹاپرز کا جب نصاب سے متعلق conceptual امتحان لیا گیا تو وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ جس سے ہم اپنے تعلیمی نظام کی بخوبی سمجھ آ جاتی ہے۔
    یہاں میں نے پاکستان کے تعلیمی نظام کے کچھ نقائص پر روشنی ڈالی ہے۔ یقیناً اور مسائل بھی ہوں گے لیکن اگر ہم مسائل کی کثرت سے گھبرا کر قدم نہیں اٹھائیں گے تو مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ کسی بھی راستے پر چلیں،راہ میں پتھر ضرور آئیں گے۔ یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان سے اپنی راہ میں دیوار کھڑی کرتے ہیں یا اپنے لیے پُل تعمیر کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ، قدم بہ قدم ہم اگر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہم اپنی محنت کا ثمر حاصل کریں گے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسائل سے گھبرانے کی اور ان سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ عطا فرمائے۔
    ( آمین)
    اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
    شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

  • آن لائن کلاسز کے دوران بچے پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے کیسے بہانے گھڑتے ہیں سنیل گروور نے پردہ فاش کر دیا

    آن لائن کلاسز کے دوران بچے پڑھائی سے جان چھڑانے کے لئے کیسے بہانے گھڑتے ہیں سنیل گروور نے پردہ فاش کر دیا

    بھارتی معروف کامیڈین اداکار سنیل گروور کی آن لائن کلاسز سے متعلق بنائی گئی مزاحیہ ویڈیو سوسل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی کامیڈی شو ’ دی کپل شرما شو‘ میں گُتھی کا دلچسپ اور مزاحیہ کردار ادا کرنے والے سنیل گروور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا ہے کہ ورچوئل کلاسز میں بدمعاش بچے کیا کرتے ہیں

    سنیل گروور کی جانب سے شئیرکی گئی ویڈیو میں کامیڈین اداکار طالب علم اور استانی بن کر دُہرا کردار نبھا رہے ہیں ۔
    https://www.instagram.com/p/CCFoWgYHiCX/?igshid=1go18me6b5igh
    سنیل گوروور نے ویڈیو میں آن لائن کلاسز کے دوران طالب علموں کی جانب سے نیٹ خرابی کا نہ بنا کر نہ پڑھنے والوں طُلبہ کی شرارتوں سے پردہ اٹھا دیا ہے

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچہ کیسے ٹیچر کے مشکل سوالوں سے بچنے کے لیے نیٹ کنکشن کمزور ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے ویڈیو کے پھنس جانے کی اداکاری کر رہا ہوتا ہے مگر پیچھے کے منظر میں کام والی ماسی کمرے میں آتی ہے اور جھاڑ پونچھ کر کے چلی جاتی ہے۔ٹیچر کے پوچھنے پر بچہ بتاتا ہےے کہ پیچھے زیادہ اچھے سگنل آرہے ہیں یہاں کے سگنل کم ہیں اسی لئے سٹک ہو گیا-

    سنیل گرور کی اس ویڈیو سے صارفین خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں-

  • کرونا، لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے۔۔!!! تحریر: خواجہ رضوان احمد کشمیری

    کرونا، لاک ڈاؤن اور تعلیمی ادارے۔۔!!! تحریر: خواجہ رضوان احمد کشمیری

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے آزاد کشمیر کا وہ طبقہ جو دن بھر کی کمائی کے بعد رات کا راشن لے کر اپنے بیوی بچوں کے پاس جاتا تھا، جن میں دیہاڑی دار مزدور، مستری، ٹھیلے اور ریڑھی لگانے والے غریب، اور سب سے بڑی تعداد دکاندار حضرات کی ھے، اسکے علاوہ وہ لوگ جو دیار غیر سے یہاں چھٹی آئے اور یہاں پھنس کر رہ گئے جو کہ اپنی فیملیز کے اکیلے سورس آف انکم ھیں، جن میں راقم بھی شامل ھے۔

    جیسا کہ سب کو معلوم ھے کہ چند اقسام کی دکانوں کے علاوہ باقی تمام کاروبار اور کام مکمل طور پر بند کر دئیے گئے ھیں، جس سے کہ یہ تمام طبقوں کے سفید پوش لوگ شدید تر متاثر ھو رھے ھیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ کافی سنگینی اختیار کرتا جائیگا۔

    اس تمام معاملہ سے قطع نظر یہ حقیقت ھیکہ آزاد کشمیر میں تعلیم کی شرح پاکستان سے بھی زیادہ ھے، سب جانتے ھیں کہ ایک معصوم غریب مزدور باپ بھی اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دینا اپنا اولین فرض سمجھتا ھے چاھے وہ بیٹا ھو یا بیٹی، اور آجکل تعلیم، شائد روزگار یعنی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے بچھانے، سب سے مہنگا بوجھ بن چکا ھے، (اسکی وجوھات و اسباب یہاں لکھنا تحریر کے اصل مقصد سے دوری کا سبب بن جائیگا، اسلئیے فی الوقت اسکو موقوف کرنا بہتر ھے۔

    تعلیمی اداروں کو پہلے 5 اپریل تک بند کر دینے کا اعلان کیا گیا جسے کہ اب غالبا مئی کے اختتام تک بند کرنیکا حکم صادر کر دیا گیا ھے، یہ حکومت وقت کا بہت اچھا اور احسن عمل ھے کیونکہ باقی لوگوں کی نسبت بوڑھے عورتیں اور چھوٹے بچے بیماریوں کے گھیرے میں جلد آ جاتے ھیں، کیونکہ انکا ایمیون سسٹم، انکا جسمانی ڈیفینس میکینزم، یعنی کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے کی طاقت ان میں بقدر کم ھوتی ھے، اور اس پر یہ کہ چھوٹے معصوم بچوں کو اسکولوں میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق سنبھال کر چلانا بھی ایک سعی لا حاصل ھے، جسکی بہت سی وجوھات ھیں، جن میں سہولیات اور وسائل کا فقدان قابل ذکر ھیں۔
    اسلئیے وقت کا تقاضا اور مصلحت اسی میں مضمر ھیکہ ھر ایک فرد انفرادی طور پر "کرونا وائرس” covid-19، نامی آفت سے بچاؤ بھی کرے، تمام احتیاطی تدابیر خود بھی اختیار کرے اور اہنے حلقہ احباب میں بھی اسکی آگاھی کو یقینی بنائے۔

    اپنی تحریر کے اصل مدعا کو پیش نظر رکھتا ھوں کہ، اسکولوں اور باقی تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد جہاں جہاں ممکن تھا تعلیمی اداروں، یونیورسٹیز و کچھ دینی درسگاھوں میں بھی اپنے شاگردوں کو آن لائن یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے مستفید کیا گیا اور کیا جا رھا ھے، جو کہ بہت ھی اچھی بات ھے، اور یہ سلسلہ جاری بھی رھنا چاھئیے۔۔۔
    مگر آج ایک بھائی سے انفارمیشن ملی کہ کچھ پرائیویٹ سکولز بھی چھوٹے بچوں، یعنی پلے گروپ، نرسری، پریپ یا اس سے بڑی کلاسز کے بچوں کو آن لائن سبق دینے کا سلسلہ شروع کرنا چاھتے ھیں، ساتھ ھی ساتھ والدین کو اسکول کی ماھانہ فیسز کی ادائیگی اور لیٹ ھونیکی صورت میں لیٹ فیس جمع کروانے کے حکم نامے بھی جاری کئیے جا رھے ھیں۔۔۔!

    پہلی بات تو یہ کہ کشمیر میں نہ ھی انٹرنیٹ اس معیار کا ھیکہ ھر کوئی اسکے ذریعے ایسا کام جاری رکھ پائے اور نہ ھی عام عوام کے پاس ایسی سہولت موجود ھوتی ھے کہ وہ آن لائین چھوٹے بچوں کے لئیے ایسی سہولت کا انتطام کرپائیں۔ ایک عام دیہاڑی دار مزدور کے لئیے ایسی باتیں کوہ قاف کی کہانیوں سے زیادہ کچھ معنی نہیں رکھتیں، اور دوسری بات کہ اس لیول کے بچوں کو اگر کوئی پرائیویٹ اسکولز آن لائن کلاسز کے لئیے کہیں تو یہ منطق بھی فہم سے بالاتر ھے، اور اگر ایسا اسلئیے کرنا مقصود ھیکہ اس تمام لاک ڈاؤن کے عرصے میں بند اسکولوں کے باوجود اور بند کاروباروں کے باوجود غریب والدین سے ماھانہ بڑی بڑی فیسز لینے کے سلسلے کو جاری رکھا جائے تو ہھر یہ علم کی اشاعت نہیں محض کاروبار ھی کہلائیگا۔

    عوام الناس میں اسوقت ایک طرف تو موجودہ حالات کو لے کر خوف کا عنصر پایا جاتا ھے، جو کہ ایک فطری ردعمل ھے اور دوسری بڑی تلوار اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی سوچ کی صورت میں انکے سروں پر لٹک رھی ھے، کہ اگر یہ بندش کچھ عرصہ تک مسلسل رھی تو ایک عام آدمی اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ کیسے پالے گا، اس سوچ کو شائد آپ میں سے ھر ایک قاری ھی باآسانی سمجھ لے گا کیونکہ ھر ایک کے قرب و جوار میں ایسے سفید پوش لوگ لازم موجود ھوتے ھیں، بلکہ یہ پریشانی تو مڈل کلاس طبقے کو بھی لاحق ھے، جو کہ ھمارے بشمول معاشرے کا 95% طبقہ ھے۔ اور ان تمام بنیادی کھانے پینے اوڑھنے کے اخراجات میں شامل بند اسکولوں کی فیسز کی ادائیگی بھی ان تمام غریب عوام کے لئیے سولی پر لٹکنے سے کم نہیں، یہ تمام باتیں میں کافی لوگوں سے اس موضوع پر مکالموں کے بعد تحریر کر رھا، جن میں کچھ لوگوں کا خیال تو یہ ھے کہ بند کام و کاروبار کے دوران ھم اتنے اخراجات کسی طور نہیں اٹھا سکتے اسلئیے اہنے بچوں کو ھی اسکولوں سے ھٹا دیں۔

    میں بہت سوچنے کے بعد اور بہت درد میں یہ تحریر لکھ رھا ھوں اپنے ان تمام غیور ھم وطنوں کی طرف سے جو خود جسم پر پھٹا کپڑا پہنتے ھیں لیکن اپنے بچوں بچیوں کو نئے اسکول بیگز اور یونیفارمز دلانے میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کرتے، اللہ سب کے حالات پر رحم کا معاملہ فرمائیں اور سب پر اپنا خاص کرم فرمائیں۔

    میری ان تمام والدین کی طرف سے یہ استدعا اور اپیل ھیکہ جب تک یہ لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رھیگا اور جب تک لوگ اپنے معمول کے کام کاج اور روزگار پر دوبارہ سے رواں نہیں ھو جاتے، یہ بند اسکولوں کی فیسز کی ادائیگی کو روکا جائے، اور پرائیویٹ اداروں سے بھی گزارش ھیکہ جہاں سارا سال اور ھمیشہ یہی عوام اپنے بچوں کے درخشاں مستقبل کو لے کر آپکے ساتھ تعاون کرتے ھیں وھاں آپ بھی اس مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ تعاون کریں اور کم از کم جب تک یہ عارضی لاک ڈاؤن ختم ھو کر سب معمول پر نہیں آ جاتا، تب تک خدارا غریب والدین کی گردنوں ہر اسکول فیسز کے نام ہر چھریاں نہ ہھیری جائیں۔۔۔
    اسکول، کالجز، اساتذہ کسی بھی قوم کے بچوں اور حتی کے والدین کے لئیے بھی رول ماڈل ھوتے ھیں، لہذا تمام طرح کی مادیت پرست سوچوں سے نکل کر آگے بڑھ کر بھلائی اور اسلامی بھائی چارے کا مظاھرہ کریں اور غریب والدین کو کم از کم بند اداروں کے دوران کی فیسز کے جال سے آزاد کریں، ھماری حکومت وقت سے بھی گزارش ھیکہ وہ بھی اس پر عملدرامد کروائے، تاکہ لوگ ریاستی ھم آھنگی میں جڑ کر مل کر ناگہانی آفات کا مقابلہ کریں۔۔۔ !!!
    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ھو، سب کو رزق حلال عطا فرمائے اور سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

  • قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی

    قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی

    راولپنڈی:قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی وچادر پوشی کی گئی ۔جن میں 18 طالبات اور 12 طلباء شامل ہیں

    ۔ جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کےبانی و مہتمم مفتی ناصر محمود عباسی کی زیر صدارت منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی مولانا عبدالکریم ندیم نے مرکز اہلسنت جامع مسجد سید المرسلین خانقاہ عباسیہ ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی میں قر آن حفظ کرنے والے 12 طلباء کی دستار بندی کی ۔ تقریب ختم بخاری اوردستار بندی وچادر پوشی سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پاکستان علماء کونسل العالمی کے سینئر نائب چیئرمین مولانا عبدالکریم ندیم کا کہنا تھا کہ علم نبوت حاصل کرنے والے ہی اصلی امت مسلمہ کا اساس اور بنیاد ہیں اور اسی پر ہی اہل اسلام اور دنیا کی بقاء ہے

    یہی وہ چیز ہے جس کی ہر ایک انسان کو ضرورت ہے ۔الحمد اللہ اس ضرورت کو پورا کرنے کےلیے دنیا بھر میں دینی مدارس قائم ہیں ۔

    مدرسہ جامعہ تعلیم القران اکیڈمی و جامع مسجد سید المرسلین علوم نبوت کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔ اس وقت بھی جامعہ میں 200 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ جبکہ18 سالوں میں ہزاروں علماء یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک بھر میں دینی کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں

    جس پر جامعہ تعلیم القران کےبانی و مہتمم مفتی ناصر محمود عباسی کو ان کی دینی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مہمان خصوصی کا کہنا تھا کہ دینی مدارس پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور ان مدارس کے سبب کوئی بھی دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے ۔

    تقریب میں پاکستان علماء کونسل کے نائب چیئرمین مولانا نعمان حاشر،قاری اسد جان، صاحبزادہ سعد ندیم ، مفتی عبداللہ بن عباس ،مفتی مجیب الرحمان ،مولانامحمد نعیم عباسی ،قاری عبدالرشید ،قاری امجد اقبال ،چیئرمین پختون ایکشن کمیٹی پاکستان جاوید خان بنگش اور نواب آف پسوال نوازش علی خان نے بھی شرکت کی ۔

  • تعلیم کی اہمیت —-از—-وسیم احمد

    تعلیم کی اہمیت —-از—-وسیم احمد

    تعلیم کی اہمیت ازل سے ابد تک رہے گی خواہ وہ مذہبی نوعیت کی یا دنیاوی نوعیت کی,ہمیشہ معاشرے کی فلاح و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے.تعلیم کی بدولت ہی معاشرے سے جہالت کا خاتمہ ممکن ہے.تعلیم کو ہمیشہ سے اہم مقام حاصل ہے مگر اسلام نےتعلیم کی اہمیت پر خاص زور دیا ہے.حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیاوی تعلیم سے تو آراستہ نہ تھے مگر وہ اِس کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے.

    غزوۂ بدر کے موقع پر قیدیوں کیلئے رکھی گئی شرائط میں سی ایک شرط یہ تھی کہ ایک قیدی جو پڑھنا لکھنا جانتا ہو, وہ دس مسلمانوں کو پڑھنالکھنا سکھائے گا یا فدیہ ادا کرے گا جس سے اسلام میں تعلیم کی اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے.آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے مطابق” تعلیم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جاناپڑے”.مسلم معاشرے کی ابتدائی ادوار میں تعلیم کی بدولت ہی جابر بن حیان,الخوارزمی, ابن الہیثم جیسےنامور سائنسدان پیدا ہوئے.عباسی خلیفہ بھی تعلیم کاقدردان تھا,اس نے یونانی ادب کا عربی زبان میں ترجمہ کروایا جو بعدازاں بغداد پر تاتاری حملے میں ضائع ہو گیا.

    اس درخشاں دور کے بعد جیسے جیسے مسلم معاشرہ علم و فنون سے دور ہوتا گیا, جہالت نے ڈیرے ڈالنا شروع کر دیے.دوسری طرف مغرب نے تعلیم کو اہمیت دینا شروع کی اور ترقی کی منازل طے کیں.اٹھارویں و انیسویں صدی میں اہم ایجادات مغربی سائنسدانوں نے کیں.

    مسلم معاشرہ اس قدر ابتری کا شکار ہوا کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی مغرب کا ہی مرہون منت ہے.اس مغربی نظام تعلیم کے باعث ہم اپنی تہذیب کوبھلا چکے ہیں.نہ صرف دنیاوی تعلیم بلکہ دینی تعلیم میں بھی ہم پیچھے رہ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہم پر حکمرانی کیلئے مسلط کیے جاتے ہیں.رٹا سسٹم, نقل کا عام ہونا, ہمارے موجودہ نظام تعلیم کی ابتری کا باعث ہیں.بچوں کی بنیادی تعلیم و تربیت میں اہم کردار والدین ادا کرتے ہیں اور دوسرا
    اہم کردار اسکول و اساتذہ کا ہے.

    آج کل تعلیم کے نام پر بچوں کو کتابوں سے بھرےوزنی بیگ تھما دیے جاتے ہیں جس سے ایک طرف وہ جسمانی تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو دوسری طرف ذہنی تھکاوٹ کا بھی.سارا دن مسلسل پڑھائی سے وہ احساس کمتری کا
    شکار ہو جاتے ہیں اور کھیل کود نہ ہونے کی وجہ سے اعتماد کی کمی کا شکار بھی ہوتے ہیں.بچوں کے اس استحصال میں اسکول و والدین برابر کے ذمہ دار ہیں.

    بچوں کی تربیت پر غور کرنے کی بجائے صرف رٹے رٹائے جملوں کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے جس سے بعد میں معاشرے میں ایسا طالبعلم آ موجود ہوتا ہے جو اخلاقیات سے عاری ہوتا ہے, گالم گلوچ اس کے نزدیک برائی نہیں ہوتی, کسی کی حق تلفی کرنا وہ اپنا حق سمجھتا ہے, کسی پر آواز کسنا بھی اسے برا نہیں لگتا, کسی کے بیگ سے چیزیں چرانا اسے معیوب نہیں لگتا.یہ سب افسانوی باتیں نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ روزانہ کیا جا سکتا ہے.اس کی بنیادی وجہ تربیت کی کمی ہے ورنہ تعلیم کیلئےہزاروں اسکول موجود ہیں.

    اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمیں رٹا سسٹم سے نجات حاصل کرنی ہے اور ایسا تعلیمی نظام رائج کرنے کی کوشش کرنی ہے جو نہ صرف طلباء کو حقیقی تعلیم و تربیت سے روشناس کرے بلکہ انہیں موجودہ دور
    سے بھی ہم آہنگ کرنے میں مددگار ہو.موجودہ حکومت کا تمام نصاب کو یکساں کرنے کا قدم قابلِ تحسین ہے اور اگر بنیادی تعلیم کا ذریعہ بچوں کی مادری زبان کااپنایا جائے تو اس سے بھی تعلیم کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں

    تعلیم کی اہمیت
    تحریر : وسیم احمد

  • جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از   محمد وسیم

    جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از محمد وسیم

    بھارتی جنتا پارٹی جس کے یہاں مسلمانوں، دلتوں اور غریبوں سے تعصّب اور نفرت ہے اُس کے ذریعے بنایا گیا کالا قانون CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے جامعہ کے طلباء دنوں رات احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، طلباء کا ساتھ دینے کے لئے جامعہ کے آس پاس کے علاقے کی عوام ہر روز بڑی تعداد میں شریک ہوتی ہے، CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے پُرامن احتجاج جاری ہے،

    کالا قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کو حکومتی مظالم کے ذریعے ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن حکومت ناکام رہی، بِہار کی حکومت نے وِدھان سبھا میں بیان جاری کیا ہے کہ NPR پُرانے طریقے سے ہوگا اور NRC کا نفاذ ممکن نہیں ہے، تلنگانہ میں بھی NPR پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے، اگر عام آدمی پارٹی عوام کی خیرخواہ ہے تو دہلی حکومت بھی اعلان کرے کہ دہلی میں NPR اور NRC نہیں ہوگا

    دہلی میں CAA کے خلاف احتجاجی مظاہرے پُرامن طریقے سے جاری تھے اُس سے حکومت بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار تھی، دہلی کے جعفرآباد، موج پور میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، دہلی میں بی جے پی کے کپل مشرا نے میڈیا میں بیان دیا کہ اگر جعفرآباد اور موج پور میں احتجاجی مظاہرے ختم نہیں کئے گئے تو تین دنوں کے اندر ہمیں جو کرنا ہوگا وہ ہم کریں گے،

    اُس کے دوسرے دن ہی دہشت گردی شروع ہوگئی، موج پور، کراول نگر، گوکُل پوری میں ہندو دہشت گرد گزشتہ دو دنوں سے گھروں اور دوکانوں کو جلا رہے ہیں، لوگوں سے اُن کی شناخت معلوم کر کے مارا جا رہا ہے، لیکن افسوس ہے کہ دہلی حکومت اور بی جے پی کی حکومت کوئی بھی ٹھوس قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے، دہلی کو جلایا جا رہا ہے اور نشانہ صرف مسلمان ہیں،

    اِس وقت دہلی میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اُس سے دِل بہت بے چین ہے، لیکن ہمّت اور جذبہ میں کمی نہیں آئی، ضرورت ہے کہ ہم کالا قانون کے خلاف احتجاج مظاہرے جاری رکھیں لیکن ہم متّحد اور منظّم ہو کر اپنی حفاظت کے لئے لائحۂ عمل بھی تیار کریں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام–از–فاطمہ قمر

    ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام–از–فاطمہ قمر

    معزز وزیراعظم!
    آپ کی تعلیمی پالیسی وہی ہے جو سابق حکومت کی تھی. سابق حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں میں پرائمری کی سطح پر اردو ذریعہ تعلیم رکھ کر انگریزی کو لازمی حیثیت دی. پرائمری سطح پر انگریزی کو لازمی مضمون کی حیثیت دینا سابق حکومت کا وہ تعلیمی جرم ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی. انگریزی کے لازمی جبر کی وجہ سے لاکھوں نو نہال ابتدائی سطح پر ہی تعلیم کو خیرباد کہہ گئے. اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بارہ سال سے پہلے بچے کوغیر ملکی زبان میں تعلیم دینا بچے کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ افسوس پاکستان میں بنیادی حقوق کی یہ توہین سرکاری سرپرستی میں وقوع پذیر ہوئی/ہو رہی ہے.

    آپ نے بھی اپنی نئی تعلیمی پالیسی میں اسی اصول کو قائم رکھا پھر اپ نے نئی پالیسی میں کیا تبدیلی دی؟ اپ نے تو یکساں نصاب تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم کا نعرہ لگایا. آپ کے حزب اختلاف کے دن اپ کے اس موقف کے گواہ ہیں.آپ کو چاہئے کہ آپ فوری طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تعلیم کے ہر شعبے میں ہر سطح پر اردو ذریعہ تعلیم میں دینے کا اعلان کریں. مقابلے کے امتحانات ائین پاکستان کی روشنی میں اردو میں لینے کا حکم صادر فرمائیں. تعلیم کی جو بھی پالیسی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم میں دینے کی اپنائی جائے اس کا اطلاق فی الفور اور بعینہ نجی تعلیمی اداروں پر بھی کیا جائے. تاکہ پوری قوم یکساں نصاب ‘ یکساں زریعہ تعلیم قومی زبان کی وجہ سے قومی دھارے میں آ سکے.

    انگریزی میڈیم نجی تعلیمی اداروں نے جس طرح اساس پاکستان پر حملہ کیا ہے
    پاکستان کی تہذیبی ثقافت کو ملیامیٹ کیا ہے
    اس کے جو ہولناک نتائج سامنے آ رہے ہیں اس کے لئے اب ضروری ہوبگیا ہے کہ نئے اور تبدیل شدہ پاکستان میں ان کو ایک اعلی تعلیمی ضابطہ اخلاق کا پابند کیا جائے
    جس کی اساس قران اور نظریہ پاکستان پر استوار ہو.

    معزز وزیراعظم!
    یاد رہے آپ کو لوگوں نے ووٹ تبدیلی کے نام پر دئیے ہیں یہاں تبدیلی اس وقت ہی آئے گی جب دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرح پاکستانیوں کو ہر طرح کی تعلیم ان کی قومی زبان میں دی جائے آپ بحیثیت ایک عام پاکستانی کے انگریزی غلامی سے بیزاری کا اظہار اپنی خود نوشت میں کر چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ پاکستان میں انگریزی ترقی یا تعلیم کے لئے نہیں بلکہ ایک خاص طبقے کی ایک عام طبقے کو غلام بنانے کے لئے مسلط کی گئی ہے. اب اللہ نے اپ کو اختیار دیا ہے کہ اپ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا دیجئے.

    آپ اور آپ کی کابینہ کے اراکین کی اکثریت بیرون ملک تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہے۔ ذرا دنیا بھر کے نظام ہائے تعلیم کا جائزہ لے کر بتائیے کہ کتنے ممالک کا کاروبار مملکت اور نظام تعلیم غلامی کی زبان میں چل رہا ھے؟ تخلیق پاکستان کی بہت سی وجوہات میں سے سب سے بنیادی وجہ اردو کا بحثیت قومی زبان نفاذ تھا. قومی زبان کے نفاذ کےبغیر تحریک پاکستان نامکمل ھے.آپ نئے پاکستان کی تعمیر میں تحریک پاکستان کے اس بنیادی لازمی عنصر کی تکمیل کردیجئے..یہ بانئ پاکستان کا فرمان بھی ھے:
    ” اردو کا دشمن پاکستان کا دشمن ھے”

    سب سے بڑی بات جس کا آپ کی جماعت نعرہ لگا کر برسراقتدار آٰئی ہے کہ تعلیم سب کے لئے یکساں۔ نفاذ قومی زبان کے لئے جو جو بھی آپ حکمت عملی اپنائیں اس کا اظلاق نجی تعلیمی اداروں پر بھی کریں تو تبھی اپ کی تعلیمی حکمت عملی کامیاب ھوگی اور ملک سے تعلیمی نظام میں یہ رنگا رنگی ختم ھو کر ہم آہنگی آئے گی.

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2019 سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق مقابلے کے امتحانات اردو میں لینے کے احکمات صادر فرمائیں..یہ آپ کا وہ تاریخی کارنامہ ہوگا جو آپ کو محسن پاکستان چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی طرح تاریخ میں دوام بخشے گا.
    کرسی رہے نا رہے مگر آپ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے!

    آپ کی یاد دہانی کے لئے کہ دوسری عالمی جنگ سے تباہ اور خستہ حال جاپان کے بادشاہ نے جب کہ اس کے دوشہر ایٹمی حملے میں جل کر خاکستر ہو چکے تھے اس بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں بھی امریکہ سے دست بستہ عرض کی کہ ” آپ ہم پر جتنی چاہے پابندیاں لگا دیں مگر ہماری زبان اور تعلیمی نظام کونہ چھیڑنا”

    یہی وجہ ھے کہ وہ بم زدہ قوم اپنی قومی زبان کے ذریعہ تعلیم ہونے کی وجہ سے چندسالوں میں ہی دنیا کی مضبوط معاشی طاقت بن گئی. ہم اپنی قومی زبان میں تعلیم سے دوری کے باعث ایک جوہری قوت ہونے کےباوجود ایک ہجوم زدہ گونگی’ بہری رٹےباز’ بدعنوان’ بوٹی مافیا’ تخلیقیت سے عاری’ نقال ‘ جعلساز دھوکے باز قوم کے طور پر اقوام عالم میں شہرت پا چکے ہیں. ہماری آپ سے وہی توقعات ہیں جو برصغیر میں انگریز کا راج ختم کرنے والے سے اس اس کی قوم نے وابستہ کی تھیں.

    انگریزی کے تسلط کی وجہ سے اس ملک و قوم پر چھائی جہالت، بد عنوانی اور ذلت کی تاریکی کو دور کرنے کاواحد ذریعہ صرف اور صرف قومی زبان کے احیاء اور اس کے اس ملک پر نفاذ سے وابستہ ھے. ہم اس بارے میں آپ سے بہت زیادہ توقعات ہیں

    ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک

  • ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    لاہور: ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ، اطلاعات کےمطابق ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی‘وزارت امور نوجوانان و کھیل اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ طے پا گیا۔

    تقریب میں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی راجہ یاسر ہمایوں سرفراز‘وزیر امور نوجوانان و کھیل محمد تیمور خان‘چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ اظفر منظور‘سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘سیکرٹری یوتھ افیئرزاحسان اللہ بھٹہ‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ‘ڈی جی ای گورننس ساجد لطیف و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے کہا کہ پنجاب میں 33ای روزگار سنٹرز فعال ہیں جبکہ 40مزید ای روزگار سنٹرز کالجوں میں کھلنے سے ای روزگار سنٹرز کی تعداد 73ہو جائے گی۔

    انہوں نے کہا اس اقدام سے چھوٹے اضلاع میں نوجوانوں کو مواقع ملیں گے اور وہ ہنر سیکھ کر گھر بیٹھے آمدن کما سکیں گے۔ صوبائی وزیر محمدتیمور خان نے کہا کہ ایسے اضلاع جہاں یونیورسٹیاں موجود نہیں‘ کالج کی سطح پر ای روزگار سنٹر کھلنے سے وہاں کے مقامی نوجوان بھی مستفید ہو سکیں گے۔

    چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور نے کہا ای روزگار مراکز کالج کی سطح پر کھلنے سے سالانہ پچیس سے تیس ہزار نوجوان تربیت لے سکیں گے۔ معاہدے پر چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ اورسیکرٹری یوتھ افیئرز احسان اللہ بھٹہ نے دستخط کئے۔