Baaghi TV

Category: تعلیم

  • ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند

    دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔

    ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔

    دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

  • یونیورسٹی تعلیم—– از ایس ایم چوہدری

    یونیورسٹی تعلیم—– از ایس ایم چوہدری

    جیساکہ نام سےہی ظاہرہےکہ ہمارےملک پاکستان میں یونیورسٹی کی تعلیم عموماًمخلوط تعلیم کی شکل میں موجودہے۔مخلوط تعلیم جسےانگریزی میںco.education کہتےہیں اس کامطلب ہےلڑکےاورلڑکیوں کی تعلیم کاایک ہی ادارےمیں پڑھنا۔

    یہ نظامِ تعلیم کیوں وجود میں آیا۔۔۔؟؟

    اس کےبارے میں تھوڑی سی میں وضاحت کرتی چلی جاؤں ۔ سب سےپہلےدیکھاجائےتوپاکستان ایک غریب ملک ہےجسکےپاس وسائل نہ ہونےکےبرابرہیں ۔تعلیم کےلیئےکوئی خاص بجٹ بھی نہیں رکھاجاتااگررکھابھی جائےتواس کومکمل طورپرعملی میدان میں لانےسےہمیشہ گریزاں ہی رکھاگیاہے۔

    اس عنصرکیوجہ سےہماراملک لڑکےاورلڑکیوں کی تعلیم کےلیئےالگ الگ تعلیمی ادارے یعنی یونیورسٹیز کھولنے سےقاصرہے۔دورحاضرکی ضرورتوں کےپیش نظرعورت کی تعلیم سےانکار بھی نہیں کیاجاسکتاکہاجاتاہےکہ
    Man and woman are the two wheels of the carriage of life. Education plays an important role in running this carriage smoothly.

    مزیدبرآں تعلیم نسواں کی اہمیت کوواضح کرتےہوئےمختلف مفکرین اپنی اپنی آراں پیش کرتےرہے۔

    نیپولین کاقول

    "تم مجھےپڑھی لکھی ماں دو میں تمھیں پڑھی لکھی قوم دوں گا”
    یہ تھی تعلیم نسواں کی ضرورت واہمیت۔اب اس تعلیم سےآگےجورجحان وجود میں آیاوہ یہ کہ جسطرح مرد کام کرتاہےاسی طرح عورت بھی مختلف شعبہ ہائےزندگی میں کام کرسکتی ہےیعنی وہ مردکےشانہ بشانہ کام کرنےکی اہلیت رکھتی ہے ۔یہ ایک مغربی رجحان ہےجس کی اسلام میں اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے مرداورعورت کےلیئےالگ الگ دائرہ کارمتعین کردیئے

    31 – اکتوبر کو انتخابات کا اعلان کردیا گیا ، کتنے امیدوار اس دفعہ حصہ لے رہے ہیں رپورٹ آگئی

    مسلم مفکرین کاکہناہےکہ اگرعورت علم وہنرکےمیدان میں کوئی کارنامہ نہ بھی سرانجام دےتواس کی عزت ووقارمیں کمی نہیں آتی ۔اس کےلیئےیہ بھی بڑااعزاز ہےکہ عظیم ہستیاں اس کی گودمیں پرورش پاتی ہیں۔
    یہ تھی عورتوں کےلیئےتعلیم کی ضرورت واہمیت اوراس کادائرہ کار۔۔۔۔۔
    اب سوال یہ ہےکہ یونیورسٹی ایک اعلٰی تعلیمی ادارہ ہے،تونام کی مناسبت سےکیاعمل بھی اعلٰی۔۔۔۔۔۔؟

    سب سےپہلےتومیں اس ادارےکےقیام کامقصد بتاناچاہوں گی۔تعلیمی ادارہ خواہ کوئی بھی ہواس کامقصد صرف تعلم ہی نہیں بلکہ اس کےساتھ ساتھ اس کی اعلٰی اخلاقی تربیت بھی ہے۔علم کےمعنی جاننا،واقف ہونا،آگاہی حاصل کرناکےہیں پھرکسی بھی چیزسےواقف ہونےکےبعد اس علم کواپنی زندگی میں عملی طورپراستعمال میں لاناوہ اس علم کی تربیت کانتیجہ ہے۔

    المیہ یہ ہےکہ آج ڈگریوں کےانبارلگےہوئےہیں لیکن عمل نہیں ۔عمل کےبغیرعلم کوئی بھی ہووہ بےکارہے۔پھراس سےکےعلاوہ جو ہمارےتعلیمی نظام کی بگاڑ کی وجہ بناوہ یہ کہ ہم نےمغرب کی طرزتعلیم کواپنی کلچرکاحصہ بنالیاجس میں اخلاقیات کاجنازہ نکل رہاہے۔ہم نےیونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کوترویج دی اوراسےاپنےلیئےباعث فخرقراردیا۔

    مولانامودودی

    مخلوط تعلیم کی نفی کرتےہوئےکہتےہیں کی کسی بھی تعلیمی سطح پرمخلوط تعلیم کی اسلام اجازت ہی نہیں دیتا۔اس مخلوط تعلیم نےعورت کواس کےاصل مقام سےبےبہرہ کردیا۔آزادی کانعرہ لگاکرسروں سےدوپٹےاتاردیئےگئےاورسرعام زیب وزینت کرکےآناعورت نےاپناحق سمجھ لیا۔پردےکاتصورختم کردیاگیااوراس طرز کوہم نےترقی کاراز قرار دیااسلامی روایات جوہمارےتعلیمی نظام کی روح ہواکرتی تھی وہ مٹادی گئیں۔
    *
    بقول علامہ اقبال:*

    ہم سمجھتےتھےکہ لائےگی فراغت تعلیم
    کیاخبرتھی کہ چلاآئےگاالحادبھی ساتھ

    پھرجونقصان دیکھنےمیں آیاوہ یہ کہ
    تعلیم کا معیارگرانےمیں سمیسٹرسسٹم کاکردار:
    چونکہ یونیورسٹی ایک اعلٰی تعلیمی ادارہ ہےاس لیئے اس کاطریقہ تدریس دوسرےثانوی تعلیمی اداروں سےقدرےمختلف ہے۔یونیورسٹیوں میں سمیسٹر سسٹم رائج کردیاگیا۔جسکانقصان یہ ہواکہ ہمارےتعلیمی نظام کامعیارگرگیا۔طالبعلموں کی ساری توجہ اس مقصدسےہٹ گئی جوتعلیمی نظام کی روح ہوتی ہےوہ علم سیکھنےکی بجائےرٹے کوترجیح دینےلگےاور انھوں نےتعلیم کامقصدصرف اورصرف اچھےنمبر لینا اچھاگریڈ حاصل کرنابنالیااور اصل مقصد کو فراموش کردیاگیا۔جو کہ ہمارےتعلیمی نظام کےلئیے بہت بڑانقصان دہ ثابت ہورہاہے۔

     

    تحریر از ایس ایم چوہدری

     

  • یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی ادارہ کیا عمل بھی اعلیٰ—— از ساجدہ بٹ

    یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی ادارہ کیا عمل بھی اعلیٰ—— از ساجدہ بٹ

    یونیورسٹی وہ ادارہ ہے جہاں ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں ۔
    یعنی وہ تعلیم بھی اسے کہہ سکتے ہیں کہ جس سے افراد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں ۔جہاں ہماری نوجوان نسل اپنے اعلیٰ کردار کی تعمیر کر رہی ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کا ادارہ ہے کیا عمل بھی اعلیٰ ؟ میں سب سے پہلے اپنے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی بات کرنا چاہوں گی ۔۔جو کہ ایک مسلم ملک ہے یہاں کس قدر اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔

    ہم لوگوں نے مغربی تعلیم کے ساتھ ساتھ مغربی کلچر کو اپنایا اور پھر ترقی کے نام پر مخلوط نظام تعلیم کو فروغ دیا۔جس کا مطلب کے لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے تعلیم حاصل کریں ۔یعنی اب اس طرح ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔

    اس ترقی نے ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل کے کردار کو بگاڑ کر رکھ دیا۔وہاں تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ دوستیاں ترقی کرنے لگیں۔۔ان دوستیوں نے ہماری بیٹیوں کے سر سے چادر چھین لی۔پھر رہی سہی کسر نت نئے فیشن نے نکال دی۔شرم تو آنکھوں میں ہونی چاہیئے۔اس تعلیم نے پھر ہمیں بے پردہ کر دیا۔یہ بات تو چلو ترقی کی ہوئی طالب علموں کی ہوئی ۔

    مخلوط تعلیم سے ہوتے ہوئے پھر فیشن کی طرف سفر ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب امتحانات کی کیا صورت حال ہے ؟؟؟یونیورسٹی میں سمسٹر سسٹم نے تعلیم کے معیار کو بلکل پسے پشت ڈال دیا ہے۔آج کل ڈگری حاصل کرنا مشکل کام کہاں۔۔؟؟؟؟آج کل تو پیسے سے تعلیم حاصل ہوتی ہے ۔اور اُس سے بھی مزے کی بات محنت بھی نہیں کرنی پڑتی پیسہ دو اور ڈگری آپ کے ہاتھ میں ہے۔

    ارے واہ سچ میں ترقی کا دور ہے۔یونیورسٹی میں داخلہ لو کلاس بیشک اٹینڈ نا کرو چونکہ بڑے اونچے خاندان پیسے والے بڑے عہدے دار کے بیٹے ہو / بیٹی ہو ۔کوئی مسلہ نہیں نمبر لگ جائیں گے استاد سے سلام دعا اچھی ہے فکر نا کرو نمبر لگ جائیں گے ۔نمبر تو استاد کے ہاتھ میں ہے تھوڑی بہت چاہ پلوسی کرو نمبر لگ جائیں گے۔

    ارے ٹھہریئے ….
    روکیے ۔۔۔
    ذرا سوچیے ۔۔۔
    وہ غریب کا بچہ جس نے دِن رات محنت کی ہاں لیکن نا تو پیسہ اُس کے پاس نا سفارش نا بڑا عہدہ رکھنے والا اُس کے خاندان میں سے کوئی ۔۔۔

    شاید وہ حالات بھی بیان نا کر سکتا ہو۔اُسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کی جگہ کسی مالدار بیٹے کو دے دی جاتی ہے وہ داخلہ بھی نہیں لے سکتا۔
    میرا سوال ہے
    یونیورسٹی میں یہ صورت حال ہے تو اعلیٰ تعلیم کہاں ؟؟؟
    ملک ترقی کیسے کرے گا؟؟؟
    جس کی بنیاد ہی غلط رکھی گئی ہے وہ کیسے عمارت کو قائم رکھ سکتا ہے ؟؟؟؟

    سفارشی نظام ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ۔۔

    میرے خیال میں سفارشی نظام نے ہمارے معاشرے کو کمزور کر دیا ہم آگے جانے کی بجائے پیچھے سفر کر رہے ہیں۔
    جب حکومت نا اہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے تو پھر ترقی کی خواہش ہمیں دل سے نکال دینی چاہیے ۔

    اور ہمارے معاشرے میں تو یہ سب بہت عروج پر ہے یعنی ہم اعلیٰ تعلیم کے نام پر خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
    یاد رکھیے ۔۔۔
    یہ سسٹم ہمیں خود بدلنا ہو گا ورنہ آنے والا دور جیسا بھی ہوا اس کے ذمےدار ہم خود ہوں گے۔

    اب اگر یونیورسٹی کے سٹاف کی بات کی جائے تو سونے پے سہاگا۔۔۔
    کسی عام بندے کی طرف تو توجہ دینا محال ہے ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے سفارش کی ضرورت ہے۔
    حتٰی کہ کسی فورم پر مہر لگانی ہے تب بھی سفارش کی ضرورت ہے۔
    آخر کیوں ؟؟؟

    کسی غریب کا کب احترام کرتی ہے ، یہ دنیا لباس دیکھ کر سلام کرتی ہے

    کیا جس کام کے لیے آپ کو ملازمت دی ہے کیا اُس میں کوئی شق ایسی بھی تھی جس میں لکھا ہو کہ ہر کام کے لیے آپ کو سفارش لانا لازمی قرار دیا گیا ہے

    اگر ایسا نہیں ہے تو ایسا کرتے کیوں ہیں ۔۔
    یاد رکھیے کسی غریب کا حق کھانے سے ڈرو ۔۔
    رشوت سے ڈرو ۔
    خدا کا خوف کرو۔
    قبر کے عذاب سے ڈرو۔

    یاد رکھنا ۔۔۔
    یہ بڑے بڑے عہدے قیامت کے دن کام نہیں آئیں گے۔وہاں تو صرف اور صرف ہمارے عمل کا حساب ہو گا۔

    پھر جو اب کر رہیں ہیں کیا اللہ کے حضور حاضر ہونے کے قابل ہے ؟؟
    خدارا صرف وہ کریں جس کے آپ اہل ہیں دوسروں کا حق چھین لینے والوں سے جلد حساب لیا جائیں گا
    اگر ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے کردار کو ترقی دیں۔۔

    تحریر از ساجدہ بٹ

  • سکول اوقات کار تبدیل ، کب سکول کھلیں گے اور کب ہوں گے بند ، تفصیلات آگئیں‌

    سکول اوقات کار تبدیل ، کب سکول کھلیں گے اور کب ہوں گے بند ، تفصیلات آگئیں‌

    لاہور : ضلع لاہور کے سرکاری سکولوں کے اوقات کار کا شیڈول آگیا ، اطلاعات کےمطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے ڈبل شفٹ سکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے، اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ۔

    جاری کردہ نئے ٹائم ٹیبل کے مطابق جمعہ کے روز سکینڈ شفٹ میں سکول سوا 2 بجے لگے گا جبکہ چھٹی پونے 6 بجے ہوا کرے گی، اوقات کار میں تبدیلی اساتذہ اور طلبا کے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے کی گئی ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے مطابق مارننگ شفٹ میں سکول روزانہ کی بنیاد پر 7 بجے لگے گا چھٹی 12 بجے ہوگی، سکینڈ شفٹ میں سکول جمعہ کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے بارہ بجے لگے گا اور چھٹی ساڑھے پانچ بجے ہوا کرے گی۔

    سرکاری سکولوں میں پرانے اوقات کار میں تبدیلی پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی کی جانب سے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے اتھارٹی کو جمع کرائی جانیوالی درخواست پر کی گئی ہے۔یہ اوقات فی الفور قابل عمل ہوں گے

  • 1500 روپے ماہانہ الاونس کا اعلان ، آئی ٹی اساتذہ کی موجیں ہوگئیں

    1500 روپے ماہانہ الاونس کا اعلان ، آئی ٹی اساتذہ کی موجیں ہوگئیں

    لاہور : پنجاب کے آئی ٹی اساتذہ کا دیرینہ مطالبہ مان لیا گیا ، قائم مقام سیکرٹری سکول شان الحق نے آئی ٹی اساتذہ کو 1500 روپے ماہانہ خصوصی الاؤنس دینے پر اصولی اتفاق کر لیا گیا۔

    جس سے میں محبت کرتی ہوں‌ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے ،جیسے محبوب خوش ویسے محبوبہ خوش ، صبا قمر کی محبت بھری کہانی صبا کی زبانی

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پنجاب آئی ٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد عقیل آزاد نے کمیٹی روم میں وفد کے ہمراہ قائم مقام سیکرٹری سکول شان الحق سے مذاکرات کیے، مذاکرات میں آئی ٹی اساتذہ کو 1500 روپے ماہانہ آئی ٹی الاؤنس دینے پر اصولی اتفاق کرلیا گیا۔

    چیئرمین محمد عقیل آزاد نے اس موقع پر بتایاکہ ہائر سیکنڈری سکولز میں آئی ٹی ماہر مضمون کی آسامیاں تخلیق کی جائیگی، ان کا کہنا تھاکہ آئی ٹی اساتذہ کی غیر تدریسی ڈیوٹیاں ختم اور ایلیمنٹری آئی ٹی ٹیچرز کو آئی ٹی ایس ایس ٹی پروموٹ کرنے کیلئے ان سروس کوٹہ مختص کیا جائے گا۔

  • پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں یکساں نظام حکومت نافذ کرنے والی ہے ، جو سیاست سے پاک ہوگا ، وفاقی وزیرتعلیم

    پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں یکساں نظام حکومت نافذ کرنے والی ہے ، جو سیاست سے پاک ہوگا ، وفاقی وزیرتعلیم

    کراچی:پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں یکساں نظام تعلیم کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا جو پورا ہونے کو ہے ، بہت جلد ملک میں‌ ہر طبقے کے لیے ایک ہی نظام تعلیم ہوگا ، ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کراچی میں ایک تقریب میں‌کیا ،

    جامعہ کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرشفقت محمود نے کہا کہ ملک میں یکساں تعلیمی نصاب کے نفاذ سے طبقاتی امتیازات میں کمی واقع ہوگی، حکومت نے59ارب روپے اعلیٰ تعلیم کی مد میں مختص کیے ہیں،

    وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نےکہا کہ اس وقت ملک بھر میں‌ متعدد پروجیکٹس پر کام ہورہا ہے جس سے تعلیم اور تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کئی وائرل امراض کا سامنا ہے، انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کا قیام بہتری کی نوید ہے۔

  • پیسے مک گئے: جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار ، تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں‌

    پیسے مک گئے: جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار ، تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں‌

    کراچی: سندھ حکومت کی عدم دلچسپی ، جامعہ کراچی کو مشکلات سے دوچار کردیا ، اطلاعات کے مطابق جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکارہوگئی ہے۔اساتذہ اور عملے کی تنخواہوں اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی بھی مشکل ہوگئی۔یونیورسٹی انتطامیہ نے سندھ حکومت سے مالی مدد مانگ لی۔

    دوسری طرف اس مالی بحران سے متعلق بات کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ مالی خسارے کے باعث ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں رہے۔ بلز کی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت جامعہ میں پچاس سے زائد شعبے ہیں۔ ریسرچ کرنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں، ختم ہوچکے ہیں۔

    جامعہ کراچی کے مالی مسائل حال کرنے کےحوالے سے بات کرتے ہوئے سیکریٹری جامعات اینڈ بورڈ نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو سمری بجھوادی ہےجس میں‌جامعہ کے لیے جلد از جلد فنڈزجاری کرنے کی درخواست کی ہے ۔ جامعہ کراچی کو مالی خسارے سےنکالنے کے لئے چھ سو پندرہ ملین روپے فوری جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔جامعہ کراچی کے اساتذہ نے بھی 17 ستمبر کو کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے

  • محنت اور کوشش سے اسپیشل بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جاسکتا ہے ، رہنما پاکستان تحریک انصاف

    محنت اور کوشش سے اسپیشل بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جاسکتا ہے ، رہنما پاکستان تحریک انصاف

    لاہور : محنت اور خلوص نیت سے اسپیشل بچوں کو بھی معاشرے کا مفید اور کارآمد رکن بنایا جاسکتا ہے، اسپیشل بچوں کو کیسے کارآمد بنایا جاسکتا ہے اس حوالے سے وارث روڈ پر واقع دارالمسرت میں اسپیشل بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں تحریک انصاف کی سنئیر راہنما اور چیرمین چمن سنٹر ڈاکٹر زرقا تیمور سہروردی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی،

    وارث روڈ پر واقع دارالمسرت میں اسپیشل بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تقریب کے موقعہ پر بچوں نے مہمانان گرامی اور شرکا کے سامنے ”تیری زمین تیرا آسمان“ کے نام سے ڈرامہ پیش کیا اسپیشل بچوں کی پرفارمنس دیکھ کی شرکا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔اس موقعہ پرپروفیسر شکیل جہانگیر ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ بچے ذہنی معذور نہیں بلکہ ہم سے کچھ مختلف ہیں اور انکی صلاحتیں ہم سے زیادہ ہیں ہم سب کو یہ کوشش کرنی چایئے کہ ان بچوں کو ایک دھارے کے اندر لایا جایا۔

    عروہ حسین ”ٹچ بٹن “ کے ساتھ اور بھی خوبیوں کی مالک نکلیں

    تحریک انصاف کی سنئیر راہنما اور چیرمین چمن سنٹر ڈاکٹر زرقا تیمور سہروردی نے مزید کہا سندھ اور بلوچستان میں اس پر قانون سازی ہو چکی ہے اور اب ہماری کوشش ہے پنجاب اسمبلی سے ان لوگوں کے حقوق کے لیے بل پاس کر وا لیا جائے۔انھوں نے کہاان سب کوہماری توجہ کی ضرورت ہے اور آپ لوگوں کی ذراسی توجہ ان بچو ں کا بہتر مستقبل کی امید ہے ۔یہی وجہ ہے وزیر اعظم عمران خان دو دفعہ اسپیشل بچوں کے سنٹر کا دورہ کر چکے ہیں اس کے علاوہ خاتون اول بشری عمران بھی دوفعہ اسپیشل بچوں کے سنٹر کا دورہ کر چکی ہیں۔

  • 20 ستمبر کو فیصل آباد بورڈ کے طالب علموں کا حساب کتاب پیش کردیا جائے گا ، طالبعلم ہوشیار ہوجائیں‌،

    20 ستمبر کو فیصل آباد بورڈ کے طالب علموں کا حساب کتاب پیش کردیا جائے گا ، طالبعلم ہوشیار ہوجائیں‌،

    فیصل آباد :دنیا ہے جہاں پر ایک طالب علم نہیں‌چاہتا کہ وہ فیل ہویا اس کے نمبر کم آئیں‌، ایسے ہی دنیا کے طالب علموں ، انسانوں‌ کا بھی نتیجہ بولنے والا ہے ، اطلاعات کے مطابق اعلیٰ و ثانوی تعلیمی بورڈ فیصل آباد سالا نہ امتحانات 2019 ء کے نتائج کا اعلان کل20 ستمبر بروز جمعہ کوصبح 10 بجے کرے گاجس میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو رزلٹ کارڈ ان کے گھروں کے پتہ پر ارسال کردیئے جائیں گے

    اگرحکمران کشمیریوں کو آزادی دلوانے کے لیے میری مدد نہیں کرسکتے تو رکاوٹ تو نہ ڈالیں ، رابی پیرزادہ
    https://login.baaghitv.com/so-do-not-harkes-for-fmegovt-of-pakistan-if-donot-help/

    بورڈ ۱ٓف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل ۱ٓباد کی کنٹرولر امتحانات پروفیسر مسز شہناز علوی نے بتایا کہ رزلٹ انتہائی شفاف انداز میں اغلاط سے پاک تیار کئے گئے ہیں لیکن اگر پھر بھی کسی طالبعلم کو کوئی شک و شبہ ہو تو وہ 5 اکتوبر تک پیپرز کی ری چیکنگ کیلئے درخواست دے سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بورڈ حکام کی طرف سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے جن امیدواروں کو 25 ستمبر بروز جمعرات تک رزلٹ کارڈ نہ ملیں وہ بورڈ کی انٹر برانچ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

  • حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے، راجہ یاسر ہمایوں‌سرفراز

    حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے، راجہ یاسر ہمایوں‌سرفراز

    لاہور:حکومتی اقدامات رنگ جمانے لگے ، سرکاری جامعات کو عالمی سطح پر پزیرائی ملنے لگی ہے ، ان خیالات کااظہار وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے آج ایک تقریری مقابلوں کی تقریب میں‌کیا ، صوبائی وزیر نے کہا کہ جب وزارت کا قلمدان سنبھالا تو ایک بھی سرکاری یونیورسٹی عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام نہیں رکھتی تھی، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے جامعات کو رینکنگ پر توجہ دینے کا کہا اور آج پنجاب کی دو جامعات دنیا کی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیز میں شامل ہو گئی ہیں،

    جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا تنقید جاری

    راجہ یاسر ہمایوں‌ نے اس موقع پر ملک میں فنی تعلیم کی بہتری کے حوالے سےکہا کہ فنی تعلیم کی کمی ہے اسی لئے کمیونیٹی کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جہاں جاب مارکیٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے طلبا ء تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری مکمل کر نے کے بعد طلباء چار سالہ بی ایس پروگرام میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے۔ یہ ابھی آغاز ہے انشا اللہ ہماری جامعات دنیا میں اپنا مقام پیدا کریں گی۔صوبائی وزیرکے ساتھ اس تقریب میں‌اور بھی شخصیات کو دعوت دی گئی تھی،

    یاد رہے کہ پچھلے دنوں‌ دنیا کی جامعات کی درجہ بندی کرنےوالےادارے نے پاکستان کی چند جامعات کو بھی بہترین جامعات میں شامل کرتے ہوئے ان کی صلاحیت اور اہلیت کا اعتراف کیا تھا،