Baaghi TV

Category: تعلیم

  • میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ شروع

    میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ شروع

    اسلام آباد : میڈیکل سٹوڈنٹس کے لیے خوشخبری، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ آج جاری ہیں، یہ دونوں انٹری ٹیسٹ آج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیراہتمام ہو رہے ہیں

    ذرائع کے مطابق بلوچستان میں میڈیکل انٹری ٹیسٹ BUITMS کوئٹہ میں ہو رہا ہے ، اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں کل 6001 امیدوار میڈیکل انٹری ٹیسٹ دے رہے ہیں،ان میں 3434 طلبہ اور 2567 طالبات شامل ہیں ،گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی نے امتحانی مراکز کا دورہ کیا، انتظامات کی تعریف کی

    بلوچستان کی طرح آزاد جموں و کشمیر میں آج میڈیکل انٹری ٹیسٹ شروع ہوچکے ہیں‌ جن میں‌ کل 4322 امیدوار میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں شرکت کررہے ہیں ، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق آزاد کشمیر میں 1264 طلبہ اور 3058 طالبات شامل ہیں

    ذرائع کےمطابق میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے مراکز مظفرآباد، راولاکوٹ، میرپور اور راولپنڈی میں قائم کیے گئے ہیں راولپنڈی کے امتحانی مراکز پر وی سی یو ایچ ایس پروفیسر جاوید اکرم نے انتظامات کا جائزہ لیا انٹری ٹیسٹ 10 بجے شروع ہوا، پہلے آنے والے بچوں اور والدین کو یو ایچ ایس کی جانب سے گل دستے پیش کیے گئے

  • کہاں ہےحکومت، نجی سکولوں کوزائد فیسیں‌ لینے سے کون روکے گا،عمل درآمد چاہیے ، جوڈیشل ایکٹوازم کامراسلہ

    کہاں ہےحکومت، نجی سکولوں کوزائد فیسیں‌ لینے سے کون روکے گا،عمل درآمد چاہیے ، جوڈیشل ایکٹوازم کامراسلہ

    لاہور :کہاں ہے حکومت اور حکومتی رٹ ، نجی پرائیویٹ سکولوں نے اپنی حکومت ، اپنا نظام بنا رکھا ہے ، اپنی مرضی سے فیسیں لیتے ہیں ، کون پوچھے گا، اگر حکومت یہ بھی نہیں کرسکتی تو پھر اتنے بڑے دعوے کیوں کرتی ہے ، ان خیالات کا اظہار جوڈیشل ایکٹوازم فورم نے ایک مراسلے میں حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کیا ہے

    :سربراہ جوڈیشل ایکٹوازم پینل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے گورنر پنجاب ،وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری سکولز کو انتباہی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس جبر کو روکیں ، پرائیویٹ سکولوں سے پائی پائی کا حساب لیں،پرائیویٹ سکولز کو زائد فیسیں وصول کرنے سے روکا جائے

    سربراہ جوڈیشل ایکٹوازم پینل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے مراسلہ ارسال کر دیا،سپریم کورٹ آف پاکستان نے 12جون 2019 کو پرائیویٹ سکولز کو فیسیں بڑھانے سے روکنے کا حکم دیا،نجی سکولز نے غیر قانونی طور پر فیسوں میں اضافہ کیا جو توہین عدالت کے مترادف ہے،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ سکولز ناجائز منافع خوری کرکے والدین کا استحصال کررہے ہیں

    پرائیویٹ سکولز کے مالکان نے مجبور والدین کا خون چوس کر اربوں کے اثاثے بنائے ہیں، آڈٹ کا حکم دیا جائےپنجاب حکومت پرائیویٹ سکولز کو زائد فیسیں وصول کرنے سے روکے،اگر نجی سکولز کو زائد فیسیں وصول کرنے سے روکنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ ہوا تو توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی

    :سربراہ جوڈیشل ایکٹوازم پینل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نےکہا کہ اس درخواست میں عدالت سے پرائیویٹ سکولز سمیت ذمہ دار حکومتی محکموں کے سربراہان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی جائے گی

  • نجی تعلیمی ادارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فیسیں‌ لیں ، وفاقی وزیرتعلیم کی ہدایت

    نجی تعلیمی ادارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فیسیں‌ لیں ، وفاقی وزیرتعلیم کی ہدایت

    اسلام آباد : ملک میں‌ نجی تعلیمی اداروں نے اپنی مرضی کا نظام کیا ہوا ہے ، اب ایسے نہیں چلے گا جو تعلیمی اداراہ چلانا چاہتا ہے وہ شرائط کا بھی پابند ہوگا ، ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے اپنے پیغام میں کیا ،شفقت محمود نے کہا کہا نجی تعلیمی ادارے سپریم کورٹے کے احکامات کے مطابق فیس میں اضافہ کریں
    ·
    وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں سے متعلق زیادہ فیسیں لینے کی بہت زیادہ شکایات آرہی ہیں،میری ان سے درخواست ہے کہ براہ کرم سپریم کورٹ کے حکم کےمطابق فیسیں لیں ، شفقت محمود نے خبردار کیا کہ جو ایسا نہیں‌کرے گا وہ آگے نہیں چلے گا ، بے لگام نہیں ہونے دیں‌گے ، ایک سسٹم موجود ہے اس کے مطابق کام کریں

    یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی نجی سکولوں کی طرف سے بہت زیادہ فیسیں لینے کے حوالے سے ایک درخواست کی سماعت ہورہی ہے ، ہائی کورٹ سیکرٹری ایجوکیشن سے جواب مانگ رہی ہے اور سیکرٹری ایجوکیشن بہانے اور ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں،

  • پاکستان میں تعلیمی معیار اساتزہ کی ناکامی یا حکومت کی : علی چاند

    پاکستان میں تعلیمی معیار اساتزہ کی ناکامی یا حکومت کی : علی چاند

    تکنیکی معنوں میں تعلیم سے مراد وہ رسمی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنی اخلاق و عادات اپنی آنے والی نسل کو منتقل کرتا ۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی ” پڑھ ” تھا ۔ حدیث شریف میں علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے ۔ غزوہ بدر میں جب کفار قیدی بناٸے گے تو انہیں اس شرط پر رہاٸی دی گٸی کہ وہ دس دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سیکھا دیں ۔

    ترقی یافتہ ممالک میں شرح خواندگی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے تقریبا سو فیصد لوگ ہی تعلیم یافتہ ہیں ۔ اور جب محکوم قوموں ،قرضوں کے بوجھ تلے دبی قوموں کے حالات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہیں کہ ان اقوام میں شرح خواندگی انتہاٸی کم ہے اور ایسی قومیں تعلیم پر بالکل بھی توجہ نہیں دیتیں ۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کی اہمیت پر کسی بھی حکومت نے زور نہیں دیا اور نہ ہی تعلیمی بجٹ میں کوٸی خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ۔ مختلف حکومتوں نے ابتداٸی تعلیم مفت تو کر دی لیکن معیار تعلیم بلند نہ کیا جاسکا ۔ پاکستان میں دو طرح کے تعلیمی نظام موجود ہوں ایک امیر کے لیے دوسرا غریب کے لیے ۔ امیر کا بچہ تو پراٸیویٹ سکولوں کی مہنگی ترین فیس ادا کر بہتر تعلیم حاصل کر لیتا ہے جبکہ غریب کا اتنے پیسوں میں پورا مہینہ چولہا جلتا ہے ۔ پاکستان میں سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد بھی سکول چھوڑنے والے بچوں سے کافی کم ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ ایک تو والدین کی عدم دلچسپی ہے دوسرا اساتذہ کا سخت ترین رویہ اور مار پیٹ ہے جو غریب کے بچوں کو جانور سمجھ کر جیسا مرضی سلوک روا رکھتے ہیں اور بچہ تنگ آکر خود ہی سکول سے بھاگ جاتا ہے ۔ تعلیمی معیار میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں اساتذہ کو صرف تنخواہ سے غرض ہے ، اس بات سے کوٸی غرض نہیں اس ملک کا مستقبل سنور رہا ہے یا بگڑ رہا ہے ۔ پاکستان میں آج بھی وہی نظام تعلیم راٸج ہے جو آج سے 30 40 سال پہلے تھا ۔ وہی طریقہ ہاٸے تدریس وہی نصاب ، اگر نصاب میں کوٸی تبدیلی آتی بھی ہے تو صرف وہی جس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوں ، جس سے مسلمانوں کے بنیادی عقاٸد کو چھیڑا جا سکے ۔ اساتذہ سمجھتا ہے اس کو تنخواہ مل رہی ہے اس لیے اسے جدید طریقہ تدریس کی طرف دھیان دینے کی کوٸی ضرورت نہیں ۔

    پاکستان میں ابھی تک بہت سے گھوسٹ سکول ہیں جو حکومتی کھاتے میں تو ہیں ، اساتذہ کو تنخواہیں اور سکول کو فنڈ مل رہا ہے لین اس سکول کا دنیا میں کوٸی وجود نہیں ۔ مختلف حکومتوں نے فیس معاف کر کے کتابیں مفت تقسیم کر دیں ، اساتذہ کے لیے بھی لازمی قرار دیا گیا کہ ہر سکول میں بچوں کی اتنی تعداد ہو ،لیکن نتیجہ پھر بھی صفر ہےکیونکہ گورنمنٹ کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ حکومت تو سرکاری سکول ، ان میں راٸج طریقہ تدریس ، دیگر سہولیات اور معیار تعلیم کو تو تب توجہ دے جب ان عوامی نماٸندوں کے بچے ان سکول میں داخل ہوں ۔ عوامی نماٸندوں ، حکومتی وزیروں ، مشیروں کے بچے تو ملک سے باہر رہتے ہیں ، وہی کے رسم ورواج اپناتے ہیں ، وہی سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اس لیے ان لوگوں نے کبھی پاکستانی بچوں کو اپنا بچہ سمجھنا گوارا نہیں کیا تو تعلیم اپنے بچوں جیسی کیسے دلواٸیں ۔ ویسے بھی اگر حکومتی وزیر ، مشیر پاکستانی بچوں کا معیار تعلیم اپنے بچوں جیسا کر لیں تو پھر یہ سیاستدان اور ان کے بچے حکمرانی کس پر کریں ۔اس لیے ایک سازش کے تحت ان سیاستدانوں اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں نے کبھی تعلیم پر توجہ ہی نہیں دی ۔

    ترقی یافتہ ممالک میں بچے کو نصابی سرگرمیوں کے علاوہ ہنر بھی سکھایا جاتا ہے تاکہ بچہ عقل و شعور حاصل کر کے اپنا مستقبل سنوار سکے ۔ جبکہ پاکستان میں رٹہ سسٹم کے ذریعے کلرک وغیرہ ہی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہمارے ملک میں انجنیرنگ ، طب ، وکالت ، اور صنتی و ساٸنسی تعلیم دی جاتی ہے اس کا معیار بھی ترقی یافتہ ممالک سے انتہاٸی کم ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ہر طرح کی تعلیم پاکستان کی قومی زبان میں ہی دی جاٸے تاکہ لوگ جو پیسہ انگریزی سیکھنے میں لگاتے ہیں اس کی بچت بھی کر سکیں اور اپنی قومی زبان میں تعلیم ہونے کی وجہ سے بہت سے پیچیدہ تعلیمی مساٸل بھی خود حل کر سکیں گے ۔ انگریزی کو رٹہ لگانے کی بجاٸے تعلیم کو سمجھ کر حاصل کر سکیں ۔ جب تک مسلمان تعلیم حاصل کر کے اپنی عقل و دماغ سے کام لیتے ہوٸے کاٸنات میں غوروفکر کرتے رہے تب تک دنیا کے حکمران رہے اور جب سے مسلمان انگریزوں کی تعلیم کو انگریزی میں رٹہ لگاتے رہے آزاد ہو کر بھی انگریزوں کے محکوم ہیں ۔

    پاکستان حقیقی معنوں میں تبھی ترقی کرے گا جب یہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق معیار تعلیم کو بلند کر کے ، معیاری طریقہ تدریس کے ذریعے ، شفیق اساتذہ کی زیر نگرانی جدید تعلیم دی جاٸے گی ۔ تاکہ بچے کی عقل و شعور کی گرہیں کھلیں اور وہ کاٸنات میں غور وفکر کر کے تجربات کے ذریعے کلرک بننے کی بجاٸے دنیا کی حکمرانی کی سوچ رکھیں ۔

  • قائداعظم یونیورسٹی ایک مرتبہ پھر دنیا کی بہترین جامعات میں شامل

    قائداعظم یونیورسٹی ایک مرتبہ پھر دنیا کی بہترین جامعات میں شامل

    اسلام آباد :پاکستانی یونیورسٹیز بھی دنیا میں اپنا مقام آپ پیدا کرنے لگیں، دنیا بھر کی یونیورسٹیز کی رینکنگ کرنے والی برطانوی فرم نے اس سال پھر نئ فہرست شائع بھی کی ہیں‌اور جاری بھی کی ہیں ، تفصیلات کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی دنیا کی 500 بہترین جامعات کی فہرست میں ایک مرتبہ پھر جگہ بنانے والی واحد پاکستانی یونیورسٹی بن گئی۔

    ذرائع کے مطابق برطانوی میگزین ’ٹائمز ہائیر ایجوکیشن‘ (ٹی ایچ ای) نے دنیا کی 500 بہترین جامعات کی فہرست جاری کردی، جس میں 92 ممالک کی 1400 جامعات کا جائزہ لیا گیا، اس فہرست میں 14 پاکستانی جامعات بھی شامل ہیں۔

    برطانوی میگزین ’ٹائمز ہائیر ایجوکیشن‘ (ٹی ایچ ای) کی طرف سے جاری اس فہرست کے مطابق پاکستان کی مزید باقی 13 یونیورسٹیز میں کومسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، یونیورسٹی آف پنجاب، بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، گورنمنٹ کالک یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف پشاور، راولپنڈی زرعی یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سرگودھا اور یونیورسٹی آف ویٹئرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ ہر سال عالمی سطح پر جامعات کی درجہ بندی ہوتی ہے ، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان 14 یونیورسٹیز کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے اور وہ عالمی درجہ بندی میں شامل ہوگئی ہیں

  • یہ کیا تماشا ہے ، لوگ نجی سکولوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں‌اور سیکرٹری ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں ، عدالت

    یہ کیا تماشا ہے ، لوگ نجی سکولوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں‌اور سیکرٹری ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں ، عدالت

    لاہور :یہ کیا تماشا ہےکہ لوگ پرائیویٹ سکولوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں‌اور سیکرٹری ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں‌، عدالت بلاتی ہے تو آتے نہیں‌، کیوں نہ عدالت سیکرٹری ایجوکیشن کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنے کے احکامات صادر کردے ، لاہورہائی کورٹ سخت برہم

    ذرائع کے مطابق آج پھر لاہورہائی کورٹ میں نجی سکولوں میں اضافی فیسوں کی وصولی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی لیکن اس روز بھی سیکرٹری ایجوکیشن عدالت کے حکم کے باوجود حاضر نہیں ہوئے جس پر عدالت بہت زیادہ برہم ہوئی اور کہا کہ کل اگر سیکرٹری ایجوکیشن عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے تو پھر ان کو گرفتار کرکے پیشن کرنے کا حکم دیا جاسکتا ہے،

    بس ایک وقت مقرر ہے ! یمنیٰ زیدی نے تو یہ کہہ کر حد ہی کردی

    باغی ٹی وی کے مطابق آج سماعت کے دوران بڑے دلچسپ جملے سننے کو ملے ، ایک موقع پر عدالت نے کہا کہ کیوں آج سیکرٹری دفتر نہیں آئے، عدالت تونوبجے لگتی ہے آپ اب کیاکرنےآئے ہیں ،کیا عدالتیں آپ کے دفاتر ہیں جہاں آپ چکردیتے رہیں، عدالت

    عدالت کو بتایا گیا کہ سیکشن سات پرعمل درآمد کے لئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ اگر اتنے زیادہ کامے ہیں‌تو پھر آج یہاں لوگوں کو نہ آنا پڑتا، ایک موقع پر جب عدالت نے پوچھا کہ سیکرٹری ایجوکیشن کہاں ہے تو ڈپٹی سیکرٹری نے ٹالتے ہوئے جواب دیا کہ کنفرم نہیں پتہ کہ سیکرٹری سکولزکہاں ہیں ، عدالت کو بتایا گیا کہ پچھلے دنوں سیکرٹری سکولز وزیر اعلی کے ساتھ مسلسل میٹنگز میں مصروف رہے

    مریض سے فیس لیتے ہوئے ترس نہیں آتا اور ٹیکس دینے کی بات ہی نہیں‌کرتے ، چیئرمین سخت برہم

    ذرائع کے مطابق آخر میں عدالت نے پھر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خدارا خوف کریں لوگ رسو ہوگئے ان پرائیویٹ سکولوں کے ہاتھوں اور سیکرٹری ایجوکیشن ٹس سے مس نہیں ہوئے ، لگتا ہے کہ یہاں جو مرضی کوئی کرے اس کو کوئی پوچھنے والانہیں ،درخواست گزار نے آخر میں پھر درخواست کی کہ جناب پرائیویٹ سکولوں نے مختلف انداز سے لوٹنا شروع کیا ہوا ہے ، یہ سکول اضافی فیسوں کے نام بدل کروالدین سے ہرماہ ہزاروں روپے بٹورے جارہے ہیں، مہربانی فرما کر ہماری جان بخشی کرائی جائے

  • یونیورسٹی سیکورٹی گارڈ قتل ، کس نے کیا خوف وہراس پھیل گیا

    یونیورسٹی سیکورٹی گارڈ قتل ، کس نے کیا خوف وہراس پھیل گیا

    اسلام آباد :غریب ملازم قتل کس نےکیا ابھی تک معاملہ حل نہیں ہوسکا ، اطلاعات کے مطابق کامسیٹس یونیورسٹی میں سیکورٹی گارڈ کی لاش ملنے پر خوف وہراس پھیل گیا ۔اس واقعہ کےبعد یونیورسٹی میں بڑا خوف پایا جارہا ہے، اور حکام قاتل تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں،

    بس ایک وقت مقرر ہے ! یمنیٰ زیدی نے تو یہ کہہ کر حد ہی کردی

    پولیس حکام کے مطابق یونیورسٹی میں قتل ہونے والا 18سالہ سیکورٹی گارڈ محمدراسب نجی سیکورٹی کمپنی کا گارڈ یونیورسٹی کی 6نمبر پوسٹ پر تعینات تھا،مرحوم کے جسم پر گولی کا نشان ہے، سیکورٹی گارڈ کی رائفل اس کے قریب سے ہی ملی ہے۔پولیس نے لاش قبضہ میں لے کر قانونی کارروائی شروع کردی، دوسری طرف یونیورسٹی حکام اور پولیس کا کہنا ہے کہ کہیں یہ دشمنی کا شاخصانہ نہ ہو

  • سعودی طالب علموں کی موجیں ہوگئیں ، کینٹینزپر چیزیں سستیں ملیں گی

    سعودی طالب علموں کی موجیں ہوگئیں ، کینٹینزپر چیزیں سستیں ملیں گی

    ریاض : طلباء کے لیے فراہم کی جانے والی اشیاء خورونوش کے نرخ مساوی رکھے جائیں۔ کوئی بھی چیز 4 ریال سے زیادہ میں فروخت نہ کی جائے ۔ سعودی اخبار کے مطابق وزارت تعلیم کی جانب سے ملک بھرکے تمام سکولوں کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کینٹینز میں وہ اشیاء ہی رکھی جائیں جن کی اجازت ہے۔

    سعودی وزارت تعلیم کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ کینٹین میں فروخت کیا جانے والی تمام مصنوعات 2 سے 4 ریال مقرر کئے گئے ہیں پر فروخت کی جائیں۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب نجی سکولز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ سرکلر پر عمل کو یقینی بنانے کے لئے کینٹین کنٹریکٹرز کو ہدایت کر دی گئی ہے ۔

    پاکستانی ٹیم سری لنکا پہنچ گئی

    سعودی وزارت تعلیم نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری چیزوں اور مضر صحت اشیا کینٹین میں نہ رکھی جائیں، ممنوعہ اشیائے خورونوش جن میں سربند تھیلوں کے سنیکس اور سافٹ ڈرنکس شامل ہیں سکولوں میں قطعی طور پر نہ رکھی جائیں۔

  • قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    انتہاٸی پروقار ، دلفریب ، بلند حوصلہ ،جرأت مند ہستی ، جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکے ، نا کبھی ہمت ہاری ، نہ کبھی حوصلہ کم ہوا ، جس بات پر ڈٹ گٸے اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پروقار انسان ایسا بہادر ، قوی ، جرأت مند نکلا کہ مسلمانوں نے ان کی قیادت میں صرف چند ماہ میں ہی پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا ۔
    کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو پونجا جناح کے گھر پیدا ہونے والا بچہ ایک دن اپنا نام اتنا روشن کرے گا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثال بن جاٸے گا ۔ لوگ غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس عظیم انسان کی مثالیں دیں گے ۔ کون جانتا تھا کہ مظلوموں کو آزادی دلوانے والے اس عظیم لیڈر کو اپنا راہنما اور مشعل راہ سمجھیں گے ۔

    قاٸد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو ایک تاجر پونجا جناح کے گھر پیدا ہوٸے ۔ والدین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کے اثرات پھر پوری دنیا نے دیکھے ۔ والدین نے چھ سال کی عمر میں آپ کو مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ پراٸمری تعلیم کے لیے آپ کو گوگل داس پراٸمری سکول میں داخل کروایا گیا ۔ میٹرک کا امتحان آپ نے اعلی نمبروں کے ساتھ سندھ مدرسة السلام ہاٸی سکول سے پاس کیا ۔ 1892 میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گے اور بیرسٹر بن کر واپس آٸے ۔ پہلے آپ نے کراچی اور پھر ممبٸی میں وکالت کر کے بہت نام کمایا ۔ آپ کو سیاست سے بہت دلچسپی تھی ۔ شروع میں قاٸد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اس لیے آپ نے 1906 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ۔ کچھ مسلمان راہنماٶں نے آپ کومسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور آپ کو اس پر راضی بھی کر لیا بالآخر آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ پہلے صرف بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی لیکن آپ کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد لوگ اسے عام مسلمانوں یعنی اپنی جماعت سمجھنا شروع ہوگے ۔

    1929میں قاٸداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کٸیے جو درج ذیل ہیں :

    ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔

    تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔

    ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔

    مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔

    ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔

    صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔

    ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔

    مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔

    سندھ کو بمبئی سے علاحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔

    صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔

    سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔

    آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

    کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔

    ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

    یہ چودہ نکات تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں ۔ 1940 میں لاہور منٹو پارک ( موجودہ نام اقبال پارک ) میں ایک قرار داد پیش کی گٸی جسے قرارد داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے اس قرار داد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہندوٶں اور انگریزوں کی طرف سے اس قرارداد کا بہت مذاق اڑایا گیا لیک مسلمان ارادے کے پکے اور ایمان کے سچے تھے انہوں نے قاٸد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی راہنماٸی میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ قاٸد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی آباد کاری ، پاکستانی معیشیت اور اداروں کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے آپ بہت زیادہ علیل ہوگے ۔

    آپ کو ڈاکٹرز کے مشورے سے زیارت کے مقام پر بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی صحت کچھ سنبھل سکے ۔ لیکن آپ کی صحت جواب دیتی جارہی تھی ۔ 10 ستمبر کو کرنل الہی بخش نے قاٸد اعظم کی صحت کے حوالے سے فاطمہ جناح کو جواب دے دیا ۔ اگلی صبح قاٸد اعظم کو کوٸٹہ سے کراچی اٸیرپورٹ لایا گیا ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس میں آپ کا سٹریچر رکھا گیا ۔ ایمبولیس میں آپ کی بہن فاطمہ جناح بھی بیٹھ گٸی ۔ جب ایمبولینس مہاجروں کی ایک گنجان آباد بستی سے زرا آگے پہنچی تو ایمبولینس چلنا رک گٸی ۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ پیٹرول ختم ہوگیا ہے ۔ ایک گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آٸی اور پھر قاٸد اعظم کو دوسری ایمبولینس کے ذریعے قاٸد اعظم گورنر ہاٶس پہنچایا گیا جہاں انہوں نے کلمہ پڑھتے ہوٸے اپنی جان خالق حقیقی کے حوالے کر دی ۔

    کیا ایمبولینس کا واقعی پیٹرول ختم ہوا تھا یا پھر یہ بھی ایک سازش تھی ۔ اگر پیٹرول واقعی ختم ہوا تھا تو کیا ایمبولینس روانہ کرتے وقت چیک نہ کیا گیا تھا ۔ کیا کوٸی اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے محسن کی حالت کو جانتا ہو پھر بھی ایسا کرے ۔ اور اگر یہ ایک سازش تھی تو قاٸد اعظم اور پاکستان کے ساتھ غداری تھی ۔ دونوں صورتوں میں کیا کبھی کسی نے اس سازش کے پیچھے چھپے چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کیا کسی نے ان چہروں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی ۔ اگر نہیں تو کیا ہم ایک بے حس قوم نہیں ہیں جنہوں نے اپنے عظیم لیڈر کے احسانات کو بھلا دیا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر کون لوگ تھے جو پاکستان سے دشمنی میں اس قدر آگے نکل گے کہ انہوں نے قاٸد اعظم کی جان کی پرواہ بھی نہ کی ؟

    کیا ہم میں سے کوٸی اس بہن کا درد محسوس کر سکتا ہے جس کے بھاٸی کو ڈاکٹرز جواب دے چکے ہوں اور اس ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا ہو جس میں ایک بہن کے سامنے اس کا بھاٸی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو ۔ جو کہتے ہیں پیٹرول ختم ہو گیا تھا ،ان کی عقل کو داد دیں یا پھر اپنی قوم کی بے حسی کو ۔ اگر پٹرول ختم ہوگیا تھا تو گنجان آبادی قریب تھی وہاں سے کسی گاڑی کا انتظام کیوں نہ ہوا ۔ اس آبادی سے کسی کی گاڑی سے کہیں سے بھی پٹرول مل سکتا تھا پھر ایک گھنٹے تک کیوں اس بہن کو اذیت میں رکھا گیا جس کے بھاٸی نے اپنی بہن کے ساتھ اپنی تمام تر زندگی اس وطن کے نام کر دی ۔ آخر کیوں کون سے وجوہات تھی کہ ہم نے باباٸے قوم اور مادر ملت کو اذیت دینے والوں کے گریبان نہیں پکڑے ۔ آخر کیوں ہم اتنے بے حس ہوگے کہ محسن پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بہن کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ وہ بہن جو مادر ملت تھی کہتی ہیں زندگی میں جتنی بھی مشکلات آٸیں یہ ایک گھنٹہ ان سب مشکلات سے بھاری تھا ، تکلیف دہ تھا ۔ آخر کیوں اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گٸی کہ آخر کون تھا جس پر قاٸد اعظم کی سانسیں باعث تکلیف تھی ، آخر ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکنے میں کسی کا کیا فاٸدہ تھا ؟ ہمیں بحثیت قوم ان حقاٸق کو جاننا ہوگا ۔ ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا جو تب سے لے کر آج تک وطن پاکستان اور اس سے جڑے ہر مخلص انسان کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔

  • سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کیوں عدالت میں پیشن نہیں ہو رہے ، اضافی فیسوں کے متعلق جواب دیں ، عدالت برہم

    سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کیوں عدالت میں پیشن نہیں ہو رہے ، اضافی فیسوں کے متعلق جواب دیں ، عدالت برہم

    لاہور : لوگ بیچارے مصیبت میں پڑے ہیں اور سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں ، نجی سکول بچوں سے زیادہ فیسیں لے رہے ہیں ، اس زیادتی کو کس نے ختم کرنا ہے ، عدالت کو بتایا جاءے کہ ابھی تک سیکرٹری سکولز نے کیا اقدامات کیے ، لوگ نجی سکولوں کی زیادتیوں کا شکار ہورہے ہیں اور سیکرٹری سکولز کو احساس تک نہیں ،

    اطلاعات کے مطابق نجی سکولز میں اضافی فیسوں کی وصولی کیخلاف درخواست پر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کی عدم پیشی پر عدالت نے اظہار برہمی ہوتے ہوئے سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عدالتیں آپ کے دفاتر ہیں جہاں آپ چکر دیتے ہیں،اگر کام ہو رہے ہوتے تو یہاں لوگوں کونہ آنا پڑتا۔عدالت نے کل پھر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو طلب کیا ہے