Baaghi TV

Category: تعلیم

  • اساتذہ  سائنس کے مضمون کو کیسے پڑھائیں  ؟تحریر:ابوبکر ہشام

    اساتذہ سائنس کے مضمون کو کیسے پڑھائیں ؟تحریر:ابوبکر ہشام

    دور جدید میں سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے اور انسان کو یہ دنیا اور اس کی چیزوں کو سمجھنے میں بہت مدد دی ہے-سائنس کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سائنس کی ہی مدد سے ہم کائنات کے بے شمار راز جاننے کے قابل ہوئے ہیں جو کہ اس سے پہلے ناممکن تھے – اس کے علم کی مدد سے ہی ہم زمین سے دوسرے سیاروں تک پہنچ پائیں ہیں -سائنس ایک بہت ہی دلچسپ مضمون ہے جو کہ طلباء کے اندر تجسس کو ابھارتا ہے اور نت نئے خیالات کو جنم دیتا ہے- لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سائنس کو ایک خشک مضمون تصور کیا جاتا ہے اور طلباء کی عدم دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اسے ایک بوریت سے بھر پور مضمون سمجھتے ہیں – اس سلسلے میں استاد کا کرادر بہت اہم ہے – ایک قابل استاد کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کون سے ایسے طریقے ہیں کہ جن سے طلباء میں سائنس کو پڑھنے، سیکھنے ، اور سمجھنے میں دلچسپی پیدا ہو- وہ اسے شوق ، ذوق اور توجہ سے پڑھیں تاکہ یہی طلباء کل کو مستقبل کے معمار بن سکیں -وہ سائنس کے تصورات اور قوانین کو سمجھ کر مستقبل قریب میں نت نئی ایجادات کر سکیں –

    طلباء کے اندر سائنس کے مضمون میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اساتذہ کے لئے چند تجاویز درج ذیل ہیں :
    سائنس کے مضمون پر عبور حاصل کریں
    سب سے پہلے سائنس کے مضمون کو پڑھانے کے حوالے سے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سائنس کے استاد کو اپنے مضمون پر عبور ہو – اور وہ ایک قابل اور تجربے کار استاد ہو جو کہ طلباء کو اچھے طریقے سے سائنس پڑھا نے اور سمجھانے کا فن جانتا ہو- وہ کوئی بھی سائنسی موضوع کو پڑھانے سے پہلے اس کی تیاری کرے، اس کے اوپر سوچ و بچار کرے اور بچوں کو پڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل بنائے – اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک اس مضمون کو پڑھانے والا ہی ماہر مضمون نہیں ہو گا تو وہ طلباء کو سائنس کے مختلف تصورات کیسے سمجھا پائے گا؟ اور ان میں مختلف سائنسی موضوعات بارے دلچسپی کیسے پیدا کر سکے گا؟

    کلاس کے ماحول کو دلچسپ بنائیں
    کسی بھی استاد کی سب بڑی خاصیت اس کا کلاس کے ماحول کو دلچسپ بنا نا ہے – اس حوالے سے ایک استاد یہ کر سکتا ہے کہ جب بھی وہ کلاس میں داخل ہو تو بجائے اس کے کہ وہ آتے ہی اپنا لیکچر شروع کر دے اسے چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے طلباء کو سلام کرے ، مسکراتے ہوئے ان سے ہلکی پھلکی گپ شپ کرے جیسا کہ ان سے پوچھا جائے کہ کل آپ کا دن کیسا رہا ؟ آپ نے کل کیا کیا ؟ اس سے بچے آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے ، ان پر استاد کا ایک قسم کا خوف ختم ہو جائے گا اور انکی بوریت ختم ہو جائے گی – وہ آپ کو اپنا دوست سمجھیں گے اور جہاں مشکل پریشانی آئے گی وہ آپ سے بات کرنا پسند کریں گے –

    سبق پڑھانے سے پہلے بچوں سے مباحثہ کریں
    استاد کو چاہیئے کہ وہ کوئی بھی سبق پڑھانے سے پہلے اس کے بارے میں بچوں سے پوچھے اور انکی رائے لے کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ، ان کا اس موضوع کے حوالے سے خیال ہے؟ جیسا کہ استاد سائنس کے ایک موضوع ” جاندار اور بے جان چیزوں میں فرق” کو کلاس میں پڑھانے سے پہلے اس کے بارے طلباء سے پوچھیں کہ کیا آپ کھانا کھاتے ہیں ، سوتے ہیں ، بھاگتے ہیں ، چلتے پھرتے ہیں ، سانس لیتے ہیں ؟ یقینا سب طلباء کا جواب ہاں میں ہو گا – انہیں بتائیں کہ اگر آپ یہ کر سکتے ہیں تو آپ جاندار ہیں -اسی طرح ایک کرسی کے بارے میں پوچھا جائے جو کہ کلاس میں پڑی ہو کہ کیا یہ کھانا کھاتی ہے، بھاگتی ہے، سوتی ہے ، چلتی پھرتی ہے سانس لیتی ہے ؟ یقینا سب بچوں کا جواب ناں میں ہو گا – پھر انہیں بتایا جائے کہ یہ بے جان ہے – اس دوران کوشش کی جائے کہ دورانِ ڈسکشن بچوں کی طرف اشارہ کر کے ان کا نام لے کر ان سے اس بارے میں پوچھا جائے – اس سے تمام طلباء ہوشیار اور چست ہو جائیں گے اور آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے – پھر آپ انہیں بتائیں گے کہ کونسی چیز جاندار ہے اور کونسی بے جان ہے ؟ اس کے بعد سبق پڑھانا شروع کریں – آپ دیکھیں گے کہ بچے نہ صرف اس سے سبق میں دلچسپی لیں گے بلکہ ان کے اندر سائنس کے تصورات کو سمجھنے کے لئے ایک لگن اور تجسس پیدا ہو گا –

    اپنے اردگرد موجود چیزوں سے بچوں کو سائنس سیکھائیں
    بچوں کو کتابوں کی دنیا سے نکال کر اپنے آس پاس میں موجود چیزوں کی مدد سے بھی سائنس سیکھائیں -اس مقصد کے لئے انہیں کسی باغ ، ندی، پہاڑ یا جنگل کی سیر کروائی جائے – تاکہ وہ اپنے ارد گرد قدرتی ماحول میں موجود نباتات ، حیوانات، چرند، پرند، اور فطرت کے اصولوں کا بغور مشاہدہ کر سکیں اور ان کو سمجھ سکیں – یہ سب وہ چیزیں ہیں جو بچوں کے تصورات اور خیالات کو ایک نئی جہت دیں گی جس سے انہیں سائنس کے مختلف پہلوؤں پر سوچ و بچار کا موقعہ ملے گا –
    ” بچہ سماجی ماحول میں پنپتا ہے اس پر سماجی ماحول کا اثر لازمی ہے ”

    بچوں کو سائنسی تجربات کی مدد سے عملی طور پر سمجھائیں
    سائنسی علوم اور تجربات کا چولی دامن کا ساتھ ہے – سائنس ایک ایسا مضمون ہے کہ جس کی بنیاد ہی پریکٹیکل پر ہے – استاد کو چاہیئے کہ وہ جو بھی سائنس کا موضوع پڑھائے اسے عملی طور پر تجر بات کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کرے – تجربات کی مدد سے سائنسی علوم کو پڑھانے سے بچوں کے اندر سائنس کو سیکھنے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے – ان کے اندر سائنسی موضوعات کو سمجھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے – وہ سائنس اور اس کے تصورات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں – ضروری نہیں کہ اس مقصد کے لئے معلم کو بہت مہنگے اور وسیع تر آلات چاہیئے بلکہ آسان اور کم قیمت آلات کی مدد سے بھی وہ بچوں کو سائنسی تصورات اور ان کے حقائق سمجھا سکتا ہے – اس کے لئے استاد کو پتہ ہونا چاہیئے کہ وہ کونسے ایسے تجربات ہیں جن کو آسانی سے کم وسائل میں سر انجام دیا جا سکتا ہے تاکہ اسے وسائل کی دستیابی میں کوئی مسئلہ نا ہو – اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کم لاگت اور محدود ذرائع سے ہی بچوں کو مختلف سائنسی موضوعات سمجھائے جا سکتے ہیں –
    امریکی ماہر معاشیات رچرڈ گریگسن لکھتے ہیں کہ :
    ” سائنس کی عظیم شخصیات نے اپنا کام انتہائی آسان آلات کے ساتھ کیا ہے لہذٰا ان کے نقش قدم پر چلنا اور بغیر کسی مہنگے اور وسیع تر آلات کے سائنسی سمجھ بنانا عین ممکن ہے آخر کار طالب علم کا ذہن مطلوبہ آلات میں سب سے مہنگا اوزار ہے”
    مثال کے طور پر ایک سائنسی موضوع ” آکسڈیشن کا عمل ” کو بچوں کو عملی طور پر سمجھنے کے لئے استاد کلاس میں ایک چھوٹی سی سرگرمی کر سکتا ہے – جس کے لئے وہ ایک عدد لیموں اور ایک عدد آلو لے -اب لیموں اور آلو دونوں کو دو حصوں میں کاٹ دے اور لیموں کے ایک حصے کو آلو کے ایک حصے پر لگائیں جبکہ آلو کا دوسرا حصہ ایسے ہی رہنے دے – اب آلو کے دونوں حصوں کو باہر ہوا میں کھلا رکھ دے-ایسا کرنے سے آلو کا وہ حصہ جس پر لیموں لگایا گیا تھا وہ بلکل ویسا ہی رہے گا جبکہ دوسرا حصہ بھورے رنگ کا ہو جائے گا – پھر طلباء کو بتائے کہ آلو کے ایک حصے کے بھورے ہونے کی وجہ اس کا ہوا کے ساتھ کیمیائی تعامل ہونا ہے جو کہ آکسیڈیشن کے عمل کو ظاہر کرتا ہے- جبکہ دوسرے حصے پر لیموں لگ جانے کی وجہ سے اس کا رنگ بھورا نہیں ہو گا کیوں کہ لیموں میں سٹرک ایسڈ ہوتا ہے جو کہ ہوا اور آلو کے درمیان رکاوٹ بن جانے کی وجہ سے آکسیڈیشن کے عمل کو سست کر دیتا ہے – اس تجربے کی مدد سے بچے عملی طور پر اس عمل کو سیکھ سکیں گے –

    بچوں کو خود سے سائنسی تجربات کرنے کا کہیں
    کسی بھی سائنسی موضوع کے حوالے سے تجربہ کرواتے ہوئے استاد اس بات کا خیال رکھیں کہ اس میں طلبہ دلچسپی بھی لیں – اس کے لئے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو خود عملی طور پر ان تجربات کو کرنے کا کہا جائے – مثلا ً اگر کلاس میں تیس بچے ہیں تو استاد پانچ سے چھ بچوں پر مشتمل کچھ گروپس بنا دے اور پھر انہیں خود سے تجربہ کرنے کو کہے – اس کے علاؤہ بچوں کو مختلف سائنسی ماڈلز بنانے کا کہا جائے اور اس سلسلے میں ان کی راہنمائی بھی کی جائے تاکہ وہ ان سائنسی ماڈلز کے ذریعے سے مختلف سائنسی موضوعات کو سمجھ سکیں اور ان کو رٹہ بازی سے نجات ملے گی – اسی طرح طلباء کو خوردبین (مائیکروسکوپ) کے ذریعے سے عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جانداروں کو دیکھنے کا موقع دیا جائے تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ یہ جاندار کیسے ہیں ؟ انکی ساخت کیسی ہے ؟ انکی کیا خصوصیات ہیں ؟ جب بچے اپنے ہاتھوں سے تجربے کریں گے تو اس سے ان میں سائنسی تصورات کو سمجھنے کے لئے ایک شوق اور لگن پیدا ہو گی – اور اس سے بھی بڑھ کر جب بچے اپنے ہاتھوں سے کئے گئے تجربات کو کامیاب ہوتا دیکھیں گے تو اس ان کے اعتماد میں مزید اِضافہ ہو گا اور وہ ہر روز کچھ نیا سیکھیں گے – روزمرہ پڑھائے جانے والے سائنسی اسباق کو جب بچے تجربات کیساتھ سمجھیں گے تو یہی بچے نہ صرف ہمہ وقت نت نئے سائنسی تصورات کو سمجھنے میں پیش پیش ہوں گے بلکہ یہ بچے کل کو سائنسدان بنیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کر یں گے –

    طلباء کی رائے معلوم کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں
    جب استاد سبق پڑھانے کے بعد اس کے متعلق کوئی تجربہ کروائے تو اس کے بعد بچوں سے انکی رائے دریافت کرے کہ انہیں یہ سبق پڑھنے کے بعد اس کے متعلقہ تجربہ کو عملی طور پر کرنے سے کیسا لگا ؟ انہوں نے اس سے کیا سیکھا ؟ کوئی ایسی بات جو آپ کو پہلے پتہ نہ تھی ؟ کوئی نئی اور دلچسپ بات جو آپ اس کے متعلق بتا نا چاہیں ؟ اس کے بعد طلبہ کے جوابات پر ان کی حوصلہ افزائی کرے -یقیناً اس سے بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اِضافہ ہو گا اور وہ سائنس کے مظمون کو دلچسپی اور شوق سے پڑھیں گے-

    بچوں کو اچھی سائنسی ویب سائٹس بارے آگاہی دیں
    جہاں سکول و کالجز میں تجربات کی مدد سے بچوں کو سائنس سکھائی جائے وہی جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک استاد طلباء کو مختلف سائنسی موضوعات و تجربات بارے اچھی سائنسی ویب سائٹس کا لنکس مہیا کرے تاکہ بچے انٹرنیٹ کی دنیا کا استعمال کر کے اپنے علم و سوچ میں اِضافہ کر کے ان سے استفادہ حاصل کر سکیں –
    ان تمام تجاویز پر عمل کر کے استاتذہ بچوں میں سائنس جیسے مضمون میں دلچسپی پیدا کر سکیں گے- طلباء سائنس اور اس کے تصورات کو شوق ، ذوق، لگن اور جذبہ کیساتھ پڑھیں گے – اور یہی طلباء مسقبل کے عظیم سائنسدان ثابت ہوں گے –

  • میرپورخاص:آؤٹ آف پروسیجر تعینات ہونے والی ہیڈمسٹریس کے خلاف تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج

    میرپورخاص:آؤٹ آف پروسیجر تعینات ہونے والی ہیڈمسٹریس کے خلاف تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج

    میرپورخاص،باغی ٹی وی (نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ ) گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کا اسٹاف بشمول تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج ، اساتذہ اور طالبات کا کہنا ہے کہ اس اسکول کی سابقہ "رضیہ قیصر” نامی ہیڈمسٹریس نے اسکول کا ڈسپلن انتہائی خراب کردیا تھا ان کے دور میں مسلسل چوریاں ہو رہی تھیں ،وہ نہ تواسکول ٹائم پہ آتی تھی اور نہ ہی انھیں اسکول کا کچھ خیال تھا ، خدا خدا کرکے انکی پروموشن ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ انکا ٹرانسفر بھی کردیا گیا اور پھر یہاں گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کے لئے نئی ہیڈمسٹریس محترمہ تسلیم منظور کو اسکول کا چارج دیا گیا ۔

    نئی ہیڈ مسٹریس نے آتے ہی اسکول میں اساتذہ پر اور تمام طالبات اور دیگر اسٹاف پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ڈھائی سے تین ماہ میں اسکول کی حالت بدل ڈالی اور تمام اسٹاف بشمول طالبات ان سے خوش نظر آنے لگیں، مگر اچانک سابقہ ہیڈ مسٹریس رضیہ قمر نے آؤٹ آف پروسیجر بالا افسران سے ساز باز کرکے دوبارہ اپنا تبادلہ گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول دوبارہ کرالیا ، اس تبادلے کے بارے میں میرپورخاص محکمہ تعلیم کے اعلی افسران بھی لاعلم تھے ۔

    اس موقع پر طالبات سراپا احتجاج تھیں اور "میڈم رضیہ قمر نامنظور” "ہماری میڈم کیسی ہو ” تسلیم منظور جیسی ہو” جیسے فلک شگاف نعرے لگا کر احتجاج کر رہی تھیں ، اسٹاف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا اس دوران ایک بار میڈم رضیہ قمر آئیں اور رجسٹر میں سائن کرکے چلی گئیں اسٹاف نے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں ایک حادثے میں میڈم تسلیم منظور کے جواں سال بیٹے کا نتقال ہوگیا مگر طالبات کے مستقبل اور اسکول ڈسپلن کی خاطر مسلسل اسکول میں حاضر رہیں ۔

    اس موقع پہ کئی خواتین اساتذہ اور طالبات نے اپنے ویڈیو پیغام میں صوبائی وزیر تعلیم سیکریٹری محکمہ تعلیم اور تمام محکمہ تعلیم کے اعلی افسران و ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کیا کہ برائے مہربانی اسکول کی طالبات کے مستقبل کو داؤ پہ نہ لگایا جائے اور گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کی ہیڈمسٹریس کو اپنی جگہ پہ فعال اور مثبت کردار ادا کرنے دیاجائے

    اس موقع پر سینئر ٹیچر سلمی خاصخیلی ، رضوانہ ، حمیدہ ، شیباناز ، شبانہ کوثر ، رخسانہ ، نغمہ اور تمام ٹیچرز مکمل اسکول اسٹاف سینئر صحافی ڈیلی ڈان(انگریزی) صدر نیشنل پریس کلب قمرالدین شیخ،ممتاز صحافی حیات قریشی ،سید شاہزیب شاہ نامہ نگارباغی ٹی وی کے علاوہ دیگر لوگ بھی موجود تھے

  • ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    میرے لیئے ضیاء الدین یوسفزئی کا تعارف ذرا مختلف ہے ان لوگوں سے جنہوں نے افسانوی، پراسرار، متنازع یا غیر فطری قصے سن رکھے ہیں کیونکہ جہانزیب کالج میں ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی مجھ سے سینئر تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تمام ہمدردیوں کے باوجود ایک غیر تحریری نسل پرستانہ قوم پرستی کے غالب جزبات پر میرے شدید تحفظات تھے. کیونکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ رہا ہے کہ بہترین جزباتی تقریر اور بہترین شاعری کا بہاؤ ہر رہنما میں مشترک رہا مگر ساتھ ہی مجالس و مکالمے میں دلیل کی جگہ زور اور "پرتشدد” الفاظ کی ادائیگی تقریر و شاعری کو محض طاقت کا اظہار بنا دیتی تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی نے طلبہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تو ایک فرق نے مجھے فورا متوجہ کیا کیونکہ میری نظر میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں فٹ نہیں تھے اس لیئے کہ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور عدم تشدد کے قائل تھے جبکہ یہ اے این پی کے آئین کے عین مطابق اور عمل کے برعکس تھا. دوسرا ضیاء الدین کی ادائیگی میں لکنت تھی ہکاہٹ تھی مگر جب شعر ادا کرتے تھے تو اس روانی سے کہ پن ڈراپ خاموشی ہوتی اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ غیر سیاسی اساتذہ کرام دروازوں ، برآمدوں میں کھڑے ہوکے مدلل مقرر اور برجستہ شاعری سنانے والے کو سنتے تھے اور میری عقیدت ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ ان کی شخصیت کی عجیب پراسراریت کی وجہ سے تھی جس کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ انتہائی انکساری اور تہذیب سے رہتے جس کو میں ان کی عظمت یا احساس کمتری میں کوئی ایک سمجھنے سے قاصر رہا.

    وہ اساتذہ میں غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی رکھتے تھے جو کسی طالب علم رہنما کے لیے میں نے نہیں دیکھی تھی
    وہ بہت ترقی پسند اور لبرل تھے جبکہ تھیوکریسی کے مخالف تھے مگر روحانیت پسند ضرور سے تھے۔ وہ مذہب پر بات نہیں کرتے تھے مذہب پر تنقید نہیں کرتے تھے مگر تنقید کے بارے میں ہمیشہ غیر جانبدار رہتے چونکہ بائیں بازو کی سیاست زندہ اور سر گرم تھی اور ریاست کی طرف سے مذہبی استعمال اور اس استعمال میں استحصال غالب تھا اس لیے بائیں بازو کے نظریات کے عامل افراد کا استعمار کے ساتھ مذہبی تنقید فیشن کے اندر تھا. ضیاء الدین یوسفزئی ایک روایت پسند مذہبی شخص اور ایک حق تنقید کے حامی دوہری شخصیت کی طرح نظر آتے اور وہ مذہبی انتہا پسندی اور لا دینی انتہا پسندی کے دور میں اعتدال پر تھے جو اس کی جیسی شخصیت سے امید نہیں کی جا رہی تھی اور وہ خود شاعر اور لطیف احساسات کے مالک تھے .

    انگریزی ادب اور پشتو ادب پر ایک قابل ذکر عبور رکھتے تھے علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے سامع تھے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور پھر وہ ہمارے محلے میں بھی آکر رہنے لگے تھے جہاں کسی عام محلے دار کی طرح اسی لہجے میں گفتگو کرتے وہ نوجوانوں اور عام محلے داروں میں بہت مقبول تھے لہذا میں نے ایک چھٹی والے دن ضیاء الدین کو دیکھا جن کے ہاتھ میں چھوٹی سی سیڑھی ایک بورڈ تھا میں دور سے دیکھ رہا تھا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ضیاء الدین ہی ہے میرے ساتھ جو لڑکے تھے وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جو جانتے تھے شانگلے والا نیا کرایے دار اچھا لڑکا سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے تھے لہذا ہم خوڑ پار کرکے ان کے پاس پہنچے وہ کچھ شرمائے کچھ خوش ہوئے میں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں ؟

    بورڈ دیکھاتے ہوئے کہنے لگے ساجد ایک کوشش سی ہے "خوشحال پبلک سکول لنڈیکس” میں نے پوچھا کیا آپ واقعی انگلش میڈیم سکول کھولنے میں سنجیدہ ہو جس کا کوئی اچھا سٹینڈرڈ بھی ہوگا ؟ انہوں نے اعتماد سے جواب دیا یقیناً
    میں نے کہا نام کا انتخاب قطعی غلط ہے بورڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں ؟ میں کہا اگر انگلش میڈیم سکول کھولنے کا اردہ ہے تو خوشحال خان ، رحمان بابا قسم کا نام رکھنے کی جگہ شیکسپیئر ، سینٹ، لارنس ، کوین یا جان ، مارٹن ٹائپ نام رکھیں اور میں واقعی سنجیدہ تھا . وہ کھل کر ہنسے اور گلے لگے جس کا مطلب تھا وہ قطعی طور پر متفق نہیں ہے. وہ بورڈ ہم نے ملکر نصب کیا یہ تشہیری مہم تھی سکول کی جس کو ایک لمبے عرصے تک وہاں سے گزرتے ہوئے ہمدردی سے دیکھتا .

    انعام ہمارا دوست تھا اور اس نے نشاط چوک میں ایک کتابوں کی دوکان کھول لی۔ جس میں روایتی کتابوں کے علاوہ ترقی پسند ادب پر کتابیں اور رسائل بھی موجود ہوتے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی لوگوں کے لیے ایک جائے اطمینان اور پاک ٹی ہاؤس جیسی اہمیت حاصل کر گیا ۔ ضیاء الدین یوسفزئی بھی گاہے بگاہے وہاں آتے جہاں میں ، عثمان اولس یار اور دیگر نظام سے مایوس موجود ہوتے جزباتیت تو تھی ان دنوں میں چودہ اگست کی کاروباری سطح پر منانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ میری یاد میں پنجاب بیکری والے اپنی بیکری سجا کر کچھ اظہار کرتے ورنہ سکولوں میں ہی چودہ اگست کے نغمے سن کر چھٹی اور نہ چھٹی کا سا ماحول ہوتا ایک چودہ اگست کو بغیر کسی پیشگی مشورے کے ہم نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی۔ ضیاء الدین آیا تو ان کے بازو پر باندھ دیا اور ہم خود غیر اہم تھے ہمارے احتجاج کی اہمیت ہمارے علاؤہ کسی نے محسوس نہیں کی اور ہم خود نہیں جانتے تھے ہمارا کیا مقصد ہے ہاں نظام پر عدم اعتماد ایک وجہ ضرور تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی کے خلاف پچھلے سالوں میں چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا الزام لگا پڑھا تو بے اختیار ہنس دیا، ضیاء الدین یوسفزئی کی نظریات سے زیادہ ان کی شرافت اور دوستی کا احترام سیاہ پٹی کو ان کے بازو پر لے آیا تھا جو دہائی سے اوپر گزرنے کے بعد ان کے لیے طعنہ بن گیا جبکہ انعام اور ہم کئی پشتوں سے پڑوسی تھے عثمان اولس یار رشتہ دار ، کلاس فیلو ، دوست اور ہم نظریہ اور باقی دو تین دوست بھی ایسے ہی تھے عبداللہ یوسف زئی ، واجد علی خان کا بھی گزر ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتے. ضیاء الدین یوسفزئی نے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا تھا اور روخان صاحب و فضل ربی راہی صاحب کی قربت مل گئی تھی جس کی مجھے توقع بھی تھی اور ان کے اندر اہلیت تو تھی ہی کہ اس محفل تک پہنچتے۔

    ضیاء الدین یوسفزئی ایک با اعتماد ماہر تعلیم کی صورت میں ابھرنا شروع ہوئے ساتھ ہی ادبی سرگرمیوں کے سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے جبکہ انکی خواہش تھی کہ تعلیم سائنسی بنیادوں پر آسان ،سستی اور پر کشش ہو دوئم کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مالی مدد کا مستقل کوئی سلسلہ بھی بنائے اسی میں ہی سرگرم رہے اور میں بھی عملی زندگی میں آ کر سوات چھوڑ چکا تھا مگر ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطہ تھا جسکی وجہ ایک پچھلا تعلق دوسرا میرے بہنوئی احمد شاہ کے ساتھ ان کی دوستی ، میرے والد صاحب کے ساتھ ان کا تعارف اور اچھے الفاظ میں ذکر سمیت متعدد ۔۔

    دو ہزار آٹھ یا نو میں ضیاء الدین یوسفزئی کا ایک میسج آیا کہ وہ بیرونی ملک کسی ادبی سلسلے میں جا رہا ہے اور کچھ
    میں نے اس کا میسج ویسے ہی فیس بک پر لگا دیا میرے ایک فیس بک دوست اور سوات کے ایک رہائشی نے تبصرہ لکھا کہ وہ بہت خوش ہوگا اگر ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کروں اور اگر میں ان کا نمبر فراہم کر سکوں میں نے یوسفزئی سے پوچھا انہوں نے ہنس کر کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر ضیاء الدین نے واپسی پر میرا بڑا شکریہ ادا کیا کہ میری وساطت سے جو میزبانی ملی اس نے کافی مدد کی اور بہت کچھ دیکھنے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا چونکہ ضیاء الدین کو میں ایک خوددار ، شکر گزار اور قناعت پسند شخص کے طور پر بھی جانتا تھا مجھے بہت اچھا لگا۔ مذید باہر سے دوست کی جانب سے ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کا موقع فراہم کرنے اور تنگی وقت ملاقات کے ذکر نے اور بھی خوشی فراہم کی جو دراصل میزبان کی مہمان کے لیے خراج تحسین تھا.

    مجھے فخر ہوا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے ان کو گرویدہ کر لیا تھا 2009 میں جب حالات بہت خراب ہونے لگے تو مجھے ضیاء الدین کی بڑی فکر ہوتی تھی اور رابطہ بھی بہت رکھتا تھا ان کا احتجاج اور رد عمل میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ تھا شعوری آگاہی کی ان کی تمام کاوشیں بہت ہی خطرناک ہو سکتیں تھیں جس سے وہ متفق نہیں تھا یا آنے والے واقعات کا سب لوگوں کی طرح ان کو بھی صحیح ادراک نہیں تھا جبکہ ایک وقت آیا جب مجھے لگا کہ شاید میں ان کو زندہ پھر کھبی نہیں دیکھ پاونگا اور سوات سے ابادی کے انخلاء سے کچھ پہلے وقت پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوات چھوڑ رہے ہیں مگر دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میں نے فون پر رابطہ کیا تو سفر میں تھے دل برداشتہ تھے دو ہزار نو میں ہی نشاط چوک میں سیدوشریف کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے وہ سٹرک کنارے چلتے ہوئے نظر آیا ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا گاڑی پارک کرکے میں ان کو گلے ملا اور کہا کہ مجھے یقین تھا ہم کھبی دوبارہ زندہ نہیں مل پائیں گے سوات کا تاریخی ہجرت کا دور ختم ہو چکا تھا۔
    وہ مگر پر عزم تھا اور سوات کے حالات کو خراب کرنے کو منظم کوشش اور مجرمانہ فعل برملا کہہ رہا تھا اور ان کے عزم میں اور پختگی تھی شاید ہی کچھ لوگ اس طرح اظہار کرتے ہونگے جیسے وہ کر رہا تھا انخلا سے پہلے اور اب بعد میں وہ سوات قومی جدوجہد اور قومی بیداری پر زور دے رہا تھا جبکہ بعد میں سوات قومی جرگے کا اہم رکن بھی بن گیا.

    دہشت گردی ، کرفیو کی طوالت اور ریاستی ردعمل کی مایوس اظہار کا بہت بڑا ناقد تھا
    2009 کے واقعات اور ناخوشگوار تجربات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اعتدال پسند اور استقامت پسند ضیاء الدین کے اندر یہ دونوں صفات کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ دہشت گردوں کے خلاف شدید مزاحمت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے دوسری طرف ریاستی اداروں اور ریاست کی لاپرواہی اور غیر ضروری تاخیر کو بھی حدف تنقید بنا رہے تھے ساتھ ہی ان کے امدادی کاموں میں بھی باقاعدگی اور تیزی آ رہی تھی ایک طوفان تھا جو ان کے اندر ابل رہا تھا
    2010 کے سیلاب میں انہوں نے رابطہ کیا اور مجھے ایک بڑی رقم عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا. میں چونکہ ہمیشہ مالی غیر ہمواری اور معاشی بے ترتیبی کا شکار رہا ہوں مالی امداد سے معزرت کی۔ جس پر انہوں نے متاثرین کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں مدد کی درخواست کی اور پھر انکے امداد دینے کا طریقہ بہت ہی عجیب تھا ۔ میڈیا اور شہرت سے پردہ کرکے گھر گھر جاکر امداد پہنچائی وہ گراؤنڈ پر موجود رہا 2011 میں موثر طور پر وہ سوات کا کیس پیش کر رہا تھا ۔ مذاکرے ، سیمینار اور پریس کالموں کے ذریعے سوات میں استحصال کے خلاف ایک موثر آواز بنے رہے مسلسل دھمکیوں اور سیکورٹی رسک کے باوجود وہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھے اور واقعی ان کی فکر بہت بڑھ گئی تھی۔

    اکتوبر 2012:میں کم سن ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت سب نے ملالہ کے احتجاج اور ڈائری کو وجہ قرار دیا مگر نجانے کیوں مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ ضیاء الدین کو چھپ کرانے کے لیے سافٹ ٹارگٹ چنا گیا. بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں نے یہ موقف دیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘ اس وقت سوات قومی جرگہ پوری طرح سرگرم تھا اور تمام سربراہ ٹارگٹ کیے جا رہے تھے۔ اور اس ٹارگیٹنگ پر کھل کر جرگے کا موقف آ رہا تھا

    اس دن میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں میٹنگ میں تھا چائے کے وقفے میں ٹی وی آن کیا تھا تو ملالہ یوسفزئی پر حملے کی خبریں چل رہی تھیں میں نے انتہائی پریشانی میں اپنے بہنوئی احمد شاہ کو فون کیا انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا میں ساتھ ہوں وہ ہسپتال میں ہے اور ضیاء الدین پہنچ رہا ہے بعد میں ملالہ یوسفزئی کو شفٹ کرنا پڑا خیبرپختونخواہ کے ماہر نیورو سرجنوں کی ٹیم کی مدد کے لیے ملٹری ہسپتال کے نیورو سرجن پہنچے مگر زندگی اور موت کی جنگ جاری رہی اور ملالہ یوسفزئی کے لیے جدید علاج فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا. پہلے سے سوات بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے شکار کے طور پر نمایاں تھا سکول کے بچیوں پر حملے نے مغربی سول سوسائٹی کو کھل کر طالبان کی مذمت اور ملالہ کو فوری طور پر صحت کے بہترین مواقع دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ ہوگیا۔

    اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کو دہشت گردی کا بزدلانہ فعل قرار دیا اور ملالہ کو بہترین طبعی امداد دینے کا وعدہ اور اپیل کی اور ایک آئر ایمبولینس میں ملالہ کو انگلستان منتقل کیا گیا اور دنیا بھر سے لاکھوں بچوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ضیاء الدین یوسفزئی پاکستان میں رہ گیا وہ ، اس کے جزبات اور حثیت ثانوی ہوگیے
    مالی طور پر وہ اتنا مستحکم نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کا سفر اور وہاں رہائش کا بندوست کر سکے ساتھ ہی دیگر قانونی لوازمات کی تیاری میں موت سے لڑنے والی ایک بچی کے بے بس باپ کا درد روح پرور تھا ملالہ کے ایک سے اوپر ایک آپریشن کیے جا رہے تھے متفرق خبریں مل رہی تھی زندگی کے مطالق شہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں مستقل معزوری کی نوید دی جا رہی تھی.

    اور پھر وہ دن آیا کہ ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ ایک مہذب ملک پہنچ گیا جہاں اظہار تحریر و تقریر کی آذادی کے ساتھ بہترین طبی سہولیات حاصل تھے ملالہ رو بہ صحت ہوتی گئی مگر وہ چہرے کے ایک سائڈ کے اعصابی نظام کی مفلوجی کا شکار بحرحال ہوگئی۔ سپیچ تھراپسٹ اور فزیوتھراپسٹ نے ملکر نیورولوجی کے شعبے کے ساتھ ملکر طبی کرشمہ انجام دیا. ملالہ بولنے کی لائق ہوئی تکلیف سے ہی سہی مگر اس کی آواز نے ضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس نے اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور دہشت گردی کی مخالفت اور سختی سے کرنے کا اعلان کیا۔
    آصف علی زرداری صاحب نے دورہ انگلستان کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی ملکیتی ایک مکان بھی رہنے کو دیا.

    ضیاء الدین نے حکومت پاکستان کو درخواست دی کہ یہ مکان ان کی ضرورت سے کہیں بڑا ہے اور ویسے ہی دہشت گردی زدہ ملک پر بوجھ ہے اس لیے ان کو انکی چھوٹی فیملی کے حساب سے مکان دیا جائے 2014 تک ملالہ کی آواز دنیا کے ساتھ ارب سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال ان کو امن کے لیے عالمی ایوارڈ اور اگلے سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے تعلیم کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا واحد موثر ہتھیار قرار دیا کروڑوں لوگوں نے براہ راست انکی تقریر سنی اقوام متحدہ نے اپنے ایک فنڈ جو دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم اور بہتر صحت کے لیے سرگرم تھا کا نام تبدیل کرکے ملالہ فنڈ رکھ دیا برطانیہ میں ہی ضیاء الدین یوسفزئی کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے میں ملازمت مل گئی مگر وہ ایک طویل عرصے مالی دشواری کا شکار رہے.

    ملالہ ملنے والی انعامی رقم ملالہ نے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ سوات اور شانگلہ میں کئی پبلک و پرائیویٹ سکولوں کو فنڈز کی فراہمی شروع کر دی بے شمار طلباء تعلیمی وظائف حاصل کرنے لگے تور پکئ ایک گھریلو ناخواندہ خاتون نے پڑھنا شروع کیا اور ان کی شاعری وطن سے محبت ، یاد اور امن کے پیغام پر مبنی میڈیا پر سامنے آنے لگی عملی طور پر ایک وطن پرست اور محب وطن ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ وطن بدر ہوگیا ہے
    پچھلے سال ان کے لنڈیکس والے گھر پر کام کرنی والی خاتون کے لیے انہوں نے میرے نام پر کچھ امدادی رقم بجھوائی جو بینک کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے نکالے گیے اور پھر مجھے ایف آئی اے سے انکوائری کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

    مجھے کہا گیا کہ میرا نام کا اضافہ پہلے سے موجود مالی امداد لینے والوں کی فہرست میں ہوگیا ہے اور کہ میرا ضیاء الدین کے ساتھ کیا رشتہ ہے میں نے بتایا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ امداد میرے توسط سے ایک پرانی جاننے والی بزرگ خاتون کو بھجوائی ہے جو میں نے اسی دن ادا کر دی تھی اور بینک سے کئی مہینے بعد وصول کی ۔ بڑی مشکل سے ثبوتوں اور گواہیوں کے بعد یقین دلایا ہم نے ضیاء الدین یوسفزئی کو تسلیم نہیں کیا ان معنوں میں ہرگز نہیں جس کا وہ حق رکھتا تھا ۔

    ہم نے باچا خان کو تسلیم نہیں کیا، ہم نے بھگت سنگھ کی آذادی کی تحریک کا مذہب جائزہ لیکر مسترد کیا۔ ہم زمینی حقائق کے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ نیا کچھ نہیں کیا ۔۔
    دنیا بھر کے آذاد و مہذب ممالک نے ان کے سامنے سر نگوں کیے ۔ ضیاء الدین یوسفزئی آج بھی طالبان حاکمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی کے دن گن رہا ہے وہ شاید واحد موثر آواز ہے جو بلند ہے
    بے انصافی ، دہشت گردی ، لاقانونیت اور ریاستی عدم تعاون کے خلاف ، ریاستی نظر اندازی اور سرد مہری کے خلاف، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مجھے یقین ہے ضیاء الدین یوسفزئی تاریخ میں صحیح سمت کھڑا ہے وہ مختلف قسم کی جدوجہد میں ہے جس میں باچا خان، بھگت سنگھ ، رابندرناتھ ٹیگور ، مولانا عبیداللہ سندھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی مشترکہ جھلک نظر آتی ہے ۔

  • وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے!!! — محمود فیاض

    وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے!!! — محمود فیاض

    میری بیٹی کتابی ہے، یعنی bookish knowledge پر انحصار کرتی ہے، ریڈنگ سے رغبت ہے، دو تین روز میں کتاب ختم کر دیتی ہے۔ جبکہ بیٹا visual اور auditory ہے، یعنی سمعی اور بصری آلات پر انحصار کرتا ہے، مشاہدہ بہت تیز ہے۔ کتاب سے اُسے چڑ ہے۔ وہ یوٹیوب چینل Zem TV کی ویڈیوز دیکھتا رہتا ہے، نیز فیصل وڑائچ کے تینوں یوٹیوب چینلز اور جانے کیا سے کیا۔

    اگر زیادہ آگاہی اور زیادہ علم کی بات کروں تو بیٹا سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم، بیٹی کی اپنی سی دنیا ہے جہاں معتبر اور زیادہ لطف آگیں ذریعہِ علم بہرحال ریڈنگ ہے۔

    اگر آپ ایک کمرہِ جماعت میں موجود 30 عدد بچوں کو بہ نظرِ غائر دیکھیں، اُن کا مزاج جاننا چاہیں تو بمشکل چھ سات بچے کتابی مزاج کے حامل ہوں گے۔دیگر بچے auditory learners اور visual learners ہوں گے، بعض kinesthetic learners ہوں گے جو متحرّک رہ کر عملاً کچھ پرفارم کرتے ہوئے سیکھتے ہیں۔

    بعض بچے ان تینوں اقسام کا مرکّب ہوں گے تو بعض سمعی و بصری یعنی دو قسموں کا مرکّب۔

    یہ تجزیہ کیا جانا بہت ضروری ہے کہ کس بچے کا لرننگ سٹائل کیا ہے۔

    لیکن مروّجہ نظامِ تعلیم اس بات کا اسکوپ نہیں رکھتا کہ ایک استاد ایسی تحقیق میں عملاً دلچسپی لے، اور بچوں کو اُن کے مزاج کے باوصف متعلقہ ذرائع علم تک رسائی کا موقع اور ایکسپوژر دے۔ اس موضوع پر تربیتی ورکشاپس میں بات تو کی جاتی ہے، مگر عملاً اس کا اسکوپ تقریباً ناپید ہے۔

    دیکھا جائے تو وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے۔ نئی نسل کا مزاج مختلف ہے، یہ پردہِ سکرین اور کِی بورڈ سے جڑا ہے۔ سکرین اور کِی بورڈ کا استعمال آکسیجن یا ہوا کی طرح ہر سُو محیط ہو چکا۔

    اِس تناظر میں نہ صرف یہ کہ علم کی ڈیجی ٹائیزیشن کا عمل بہت ضروری ہے، بلکہ تحریری امتحان والے ٹرینڈ کو کم کر دینا بھی ضروری ہے۔

    یعنی ایک طرف بیشتر نصابی مواد کوکتاب کے دامن سے کھینچ کر اُسے ویڈیوز شکل میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ کمرہِ جماعت میں ویڈیوز چلا کر وقفے وقفے سے بات چیت کرنے اور سوالات پوچھنے والا فارمیٹ اپنا جائے۔ دوسری طرف، بچے کے ہاں مقدارِ علم و ہنر کی جانچ کے پیمانے بھی اب بدل دئیے جائیں۔

    ایک اور اہم مسئلہ سائنسز اور میتھ سے متعلق غیرضروری مواد کی کانٹ چھانٹ کا ہے۔ سیکنڈری سکول سطح پر فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، اور میتھ کی کتابوں میں غیرضروری مواد بھرا ہے۔ بہت بورنگ ہے یہ!

    اس سطح پر ایک تو یہ مواد کم کیا جائے۔ دوسرے، بیشتر مواد کو ویڈیوز اور کوئزز کی شکل میں پیش کرتے ہوئے سیکھنے کے عمل کو دلچسپ اور آسان بنایا جائے۔

    تیسرے، اس میں سے نصف مواد کو تجربہ کے عمل سے جوڑ دیا جائے۔ بچے نویں اور دسویں جماعت میں ہر سال ایک سو چھوٹے بڑے تجربات کریں۔ اور آٹھ دس عدد پراجیکٹس بھی۔ پراجیکٹس میں بچوں کا تحرّک دیدنی ہوتا ہے۔ اُن کی ذہانت و صلاحیت کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اُن کی کارکردگی حیران کن ہوا کرتی ہے۔

    مگر بات یہ ہے کہ بات کس سے کی جائے؟

    کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

  • کب تک؟ — خطیب احمد

    کب تک؟ — خطیب احمد

    ایک اندازے کے مطابق صرف پنجاب کے دیہاتوں شہروں، گلی محلوں میں موجود چھوٹے بڑے پرائیویٹ سکولز کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔

    کسی بھی نوعیت کی معمولی معذوری کے حامل صرف 2 بچوں کو اگر ایک پرائیویٹ سکول داخلہ دے تو اس نئے سال میں 1 لاکھ آوٹ آف سکول سپیشل بچے تعلیمی دھارے میں آسکتے ہیں۔ ایسا ہی اگر پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں ہو تو لاکھوں بچے سکول جا سکتے ہیں۔

    محکمہ سپیشل ایجوکیشن پنجاب کے زیر انتظام چلنے والے 300 اداروں میں اس وقت لگ بھگ 35 ہزار سپیشل بچے زیر تعلیم ہیں۔ ہمارے سکول پنجاب کے ہر ضلع، تحصیل، ٹاؤن اور چند بڑے قصبات میں موجود ہیں۔ آپ کسی بچے کے داخلے کے لیے اپنے قریبی سپیشل ایجوکیشن سنٹر کے متعلق مجھ سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔

    آپ کا کوئی پرائیویٹ سکول ہے تو آپ نیکی کا ارادہ کیجئے۔ سکول کے بچوں سے ہی پوچھیے کہ انکا کوئی بہن بھائی یا گلی محلے میں کوئی سپیشل بچہ ہے تو آپ کو بتائیں۔ میں اس پر آج کل ہی میں ان شاءاللہ تفصیلی مضمون لکھتا ہوں کہ کن بچوں کو آپ آسانی سے انرول کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بس دل میں خود سے یہ بات آنے کی دیر ہے۔

    آپ سپیشل بچوں کے والدین ہیں تو آپ سے میری گزارش ہے۔ بچے کے علاج کے ساتھ اسکا تعلیمی سفر بھی شروع کیجیے۔ اسے ایک وہیل چیئر لے کر دیجئے اور قریبی کسی سکول اسے پڑھنے بھیجئے۔ سکول انتظامیہ کے خدشات ہم انکو گائیڈ کرکے دور کردیں گے ان شاءاللہ۔ وہ یہی اعتراض کرتے کہ وہ بچہ دوسرے بچوں کو تنگ کرے گا اور دیگر بچوں کے والدین کمپلین کریں گے۔

    پاکستان میں ہوئی بے شمار تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نارمل بچوں کے والدین اپنے بچوں کو سپیشل بچوں کے ساتھ ایک کلاس یا سکول میں نہیں پڑھانا چاہتے۔ تو پی ٹی ایم پر والدین کو اچھے طریقے سے گائیڈ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کا محض ایک وہم ہے۔ نہ تو کسی کی معذوری ساتھ پڑھنے سے کسی کو لگ سکتی ہے۔ نہ ہی آپکے بچے کی تعلیم کا ان شاءاللہ کوئی حرج ہوگا۔

    کب تک اپنے سپیشل بچے کو چارپائی پر پڑا یا وہیل چیئر پر بیٹھا دیکھ کر روتے رہیں گے؟ کب تک اسے شہر شہر ایک سے دوسرے تیسرے چوتھے ہسپتالوں میں لیجاتے رہیں گے؟ اسے پلیز اب سکول کا رستہ دکھائیے۔ اسے اسکی زندگی اسکے مخصوص مدار میں ہم سے مختلف رہ کر جینے دیجئے۔

    چند ایسی معذوریاں ہوتی ہیں جن میں ایک استاد کے ساتھ ایک ہی بچہ پڑھنے پڑھانے یا سیکھنے سکھانے کے کام میں موجود ہوتے ہیں۔ جیسے آٹزم ، ADHD شدید دانشورانہ پسماندگی، یا سماعت و بصارت سے ایک ساتھ محروم ہونا جیسے ہیلن کیلر تھی۔

    اس کے علاوہ Rare سنڈروم یا معذوریاں ہوتی ہیں جو لاکھوں کی آبادی میں ایک دو ہی کیس ہوتے۔ یا ایک ساتھ دو یا دو سے زائد معذوریاں ہونا۔ جیسے سی پی کے ساتھ ہی اس بچے میں سماعت کا کم ہونا یا نہ ہونا۔ سی پی کے ساتھ انٹلیکچوئل ڈس ابیلٹی ہونا وغیرہ۔

    ان کے علاوہ تقریباً تقریباً تمام ہی اقسام کے سپیشل بچوں کو کسی بھی گلی محلے کے سکول میں بھیجا جا سکتا ہے۔ ہاں اس سکول کے ساتھ قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول یا کوئی سپیشل ایجوکیشن کی تعلیمی بیک گراؤنڈ رکھنے والا ٹیچر مسلسل رابطے میں ہو یا معذوری کی نوعیت دیکھتے ہوئے وہاں مستقل ڈپیوٹ کیا جائے۔

    اشاروں کی زبان یا بریل سیکھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ چند ماہ میں ہی ایک ٹیچر یہ چیزیں سیکھ جاتا ہے۔ اور سکول میں آکر کتابیں پڑھنا ہی پڑھائی نہیں ہوتی۔ ٹائم مینجمنٹ ، سیلف کئیر ، اخلاقیات، سوشلائزیشن، فرینڈ شپس، گیمز میں حصہ، اسمبلی میں جانا، صفائی ستھرائی سیکھنا، تنہائی کی قید سے باہر نکلنا کیا تعلیم کا حصہ نہیں ہے؟

    کیوں کاپی کتاب اور کلاسز پاس کرنے کو ہی تعلیم سمجھ لیا گیا ہوا ہے؟ ایک سپیشل بچہ اپنی ذہنی اور جسمانی استعداد کے مطابق لکھنا پڑھنا سیکھ کر پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہے۔ اور کئی سالوں کی محنت کے بعد صرف لکھنا پڑھنا ہی سیکھ پاتے۔ بنیادی حساب اور خدا رسول یا مذہب کو جان پاتے، یا دیگر کچھ معلومات عامہ انکی یاداشت کا حصہ بن جاتیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ سپیشل بچوں کے والدین کا ایک گروپ تو بچوں کو کسی قابل ہی نہیں سمجھتا کہ یہ کیا کر سکتے ہیں۔۔اور دوسرے ان کو انکی قابلیت سے بہت آگے سمجھ لیتے اور سکول پر سکول بدل رہے ہوتے کہ ہمارے بچے کے ساتھ ٹھیک سے کام ہی نہیں ہورہا۔ تیسرا گروپ ان والدین کا ہوتا جو تھوڑا نہیں ٹھیک ٹھاک پڑھے ہوتے ہیں انکا مطالعہ بڑا وسیع ہوتا اور اپنے بچے کی ڈس ابیلٹی کو ٹھیک سے جان کر قبول کر چکے ہوتے۔ اور بچے کو اپنی کپیسٹی اور مخصوص سپیڈ میں آگے بڑھنے کا موقع دیتے۔

    بات کو آسان کرکے کہوں تو تمام سپیشل بچوں کو کسی نہ کسی طرح سکول بھیجنے کا انتظام کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ بچے میں کتنی مثبت تبدیلیاں چند ماہ میں ہی نظر آنا شروع ہونگی۔ اچھا ایک اور غلط فہمی کہ ہمارا سپیشل بچہ سپیشل بچوں کے یا دوسرے بچوں کے سکول جائے گا تو اسے دوسرے بچے ماریں گے یا اسکا برا نام رکھیں گے تو ہم بھیجتے ہی نہیں ہیں۔ یہ بلکل غلط سوچ ہے۔ اس سوچ کو بھی بدلیے اور باقاعدہ فالو اپ رکھئیے۔

  • دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں!

    اچھی زندگی گزارنے والے
    اچھی زندگی گزارنے والوں سے جلنے والے

    حماد صافی نامی پبلک فگر پر اس لئے تنقید ہو رہی ہے کہ وہ مغرب کیخلاف بات کرکے وہیں جوانی کو انجوائے کرنے چلا گیا ہے۔ مگر وہ بچہ بالکل درست کر رہا ہے۔ اس کے پیرنٹس کو پتا ہے کہ یہاں ہمارے ملک میں مغرب دشمنی کا چورن بیچ کر وہ پیسہ تو کما سکتے ہیں مگر لائف انجوائے نہیں کر سکتے، اس لئے انہوں نے اپنے بچے کو باہر بھیجنا مناسب سمجھا۔ اب میرے یا آپکے جلنے سے نا اسکی زندگی کا مزہ کم ہوگا نا ہی سکون، ہاں مگر کچھ دن تک حماد صافی پہ ہر جگہ ہوتی تنقید سے یہی نظر آ رہا ہے کہ بہت سے لوگ بس اس کنویں سے فرار چاہتے ہیں اور ان کو مسئلہ کسی کے فرار سے نہیں اپنے پیچھے رہ جانے سے ہے کہ وہ آگے کیوں نہیں بڑھ پا رہے۔

    وہ بچہ سچ بول کر گیا ہو یا جھوٹ بول کر، ایٹ لیسٹ وہ اپنی ٹین ایج سے لیکر تھرٹیز تک ایک بہترین زندگی جئیے گا۔ یہی ہر خود غرض انسان کا مقصد ہوتا ہے دوسرے کو کنویں میں دھکا دیکر اس کے کندھوں پہ پاؤں رکھ کر خود کو اس کنویں سے نکالو اور پھر کنارے پر کھڑے ہو کر کنویں کے کیچڑ میں جینے کی فضیلت بیان کرو۔

    اگر نہیں یقین تو ٹاپ لیڈرشپ کو دیکھ لیں 99% بیسویں سکیل کے افسر سے لیکر تمام سابق آرمی چیفس، وزرائے اعظم اور صدور تک سب کی اولاد پاکستان سے باہر ہے۔ خود یہ بھی چھ سات مہینے باہر گزارتے ہیں۔

    وہیں

    عام شخص کو بس بتایا جاتا ہے کہ کنویں میں جینا بہترین ہے اور اس کو بدلنا ناممکن ہے۔

    وہ دو بکریوں والی کہانی سنی ہوگی، جس میں سے ایک بکری دوسری کو کنویں میں بلاتی ہے کہ بہت مزے کی زندگی ہے اور وہ پھر اسی بھولی بکری کے کندھوں پہ چڑھ کر باہر نکلتی ہے۔

    بس وہی کہانی یہاں چل رہی ہے۔

    ضیغم قدیر

  • استاد شاگرد کا رشتہ!!! — سیدرا صدف

    استاد شاگرد کا رشتہ!!! — سیدرا صدف

    کل والدہ کے لیے خشک میوہ جات لینے بازار گئے۔۔۔ہول سیل ایک دو دکانوں سے معیار اور قمیتیں چیک کرتے تیسری دکان پر جا پہنچے۔۔۔معیار اور قمیت دونوں مناسب لگے اور واضح طور پر پہلی دو دکانوں سے بہتر تھے۔۔۔لہذا درکار میوہ جات کا آرڈر دے دیا۔۔۔

    اچانک کاؤنٹر پر موجود صاحب نے مخاطب ہوئے۔۔آپ میڈم (والدہ کا نام) کی بیٹی ہیں نا۔۔۔میں نے جواب دیا جی بالکل۔۔۔کہتے میں پہچان رہا تھا۔۔ میڈم سے شکل ملتی ہے۔۔آپکو ایک بار میڈم کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔۔میں انکا شاگرد رہا ہوں۔۔۔۔میڈم کیسی ہیں۔۔۔بہت پہلے ملاقات ہوئی تھی۔۔ میں نے بتایا ہارٹ پیشنٹ ہے۔۔۔کافی کمزور ہو گئی ہیں۔۔

    میں نے کہا آپ اپنا نام بتا دیجیے میں والدہ کو بتاؤں گی۔۔ نام بتایا پھر کہا آپ تشریف رکھیں۔۔۔میڈم سے ہم پانچوں بہن بھائیوں نے گورنمنٹ اسکول سے پڑھا ہے۔۔۔ہم بہن بھائی جو کچھ بھی ہیں انکی وجہ سے ہیں۔۔۔ میں نے چھوٹے بھائی کے ساتھ پڑھنے کے بعد آبائی کاروبار سنبھالا۔۔باقی بھی سیٹل ہیں۔۔۔میڈم ہمیں اسکول کی پڑھائی کے ساتھ درس بھی دیتی تھیں۔۔میں زیادہ کمزور تھا پڑھائی میں شام کو آپکے گھر بھی آتا تھا میڈم مفت ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔۔

    خیر سامان پیک ہونے کے بعد لڑکے نے بل اور سامان پکڑا دیا۔۔میں نے پیسے نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آواز آئی۔۔رک جائیں پلیز۔۔۔یہ میری طرف سے میڈم کے "قدموں میں رکھ دیجیے گا” اور کہیے گا میرے اور میرے بچوں کے لیے دعا کر دیں بس۔۔۔یہ پیسے میں نہیں لے سکتا ہوں۔۔اور آئیندہ سے میڈم نے کچھ لینا ہو مجھے بس فون کر دیں۔۔

    اگر استاد نے محنت اور کسی غرض کے بنا شاگرد کو پڑھایا ہو اور شاگرد بھی اس محنت اور خلوص کو یاد رکھے تو استاد شاگرد ایک مضبوط ترین رشتہ ہے۔۔۔رشتہ ہمیشہ عزت کے دم پر قائم ہوتا ہے اور مجھے فخر ہے میری والدہ نے یہ عزت کمائی ہے کیونکہ ہمیں والدہ کے حوالے سے پہچان کر احترام پہلی بار نہیں ملا ہے۔۔۔

  • نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    اردو ہماری تہذیبی زبان ہے جو بہت شیرین اور خوبصورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اچھی اور رواں اردو بولتا ہے، اس کی بات سنتے ہوئے لطف آتا ہے۔ اردو کو ہندوستان کی Native زبان قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی پیدائش ہندوستان میں ہی ہوئی۔ باقی زبانیں تو باہر سے آئی ہوئی ہیں۔ فارسی مغلوں کے ساتھ آئی جبکہ عربی زبان عربوں نے درآمد کی۔ اسی طرح انگریزی انگریزوں کے ساتھ یہاں آئی۔ لیکن اردو زبان نے یہیں جنم لیا اور یہیں نشوونما پایا۔

    متحدہ ہندوستان میں اردو زبان فطری، خلقی اور رواداری کی زبان ہے جسے بلا تمیز رنگ و نسل و مذہب بڑے شوق اور اعتماد سے بولتے ہیں۔ یہ گنگا جمنی ثقافت کی روادار زبان ہے۔ اردو بر صغیر کی جدید زبانوں میں ایک زبان ہے لیکن جس تیزی سے اس نے لسانی اور زبان دانی کے اعتبار سے جلد ہی ارتقائی منازل طے کیں وہ رفتار حیرت انگیز ہے۔

    انہوں نے اردو زبان سے عربی کے الفاظ نکال کر سنسکرت زبان کے چند الفاظ شامل کرکے اسے ہندی زبان کا نام دے دیا، جس کی وجہ سے ہندی اردو تنازعات نے جنم لیا۔ جبکہ اس سے قبل سب اردو زبان ہی بولتے تھے اور ہندوؤں کی اصل زبان سنسکرت تقریباً معدوم ہوچکی تھی۔

    ہم نے جو حال اپنی ثقافت کے ساتھ کیا اس سے کہیں برا حال ریاستی سرکاری زبان اردو کے ساتھ کیا۔ ہم نے ریاست میں اردو کے بجائے انگریزی زبان نافذ کردی اور گزشتہ تہتر سال سے یہی زبان نافذ ہے۔ سرکاری و پرائیویٹ دفاتر، تعلیمی ادارے اور عوامی مقامات انگریزی زبان سے ہی بھرے پڑے ہیں۔ اردو زبان کی یہ اہمیت ہے کہ ہر بچہ معاشرے سے یہ زبان سیکھ لیتا ہے، اس کے بعد اسے انگریزی سیکھنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس کے سیکھنے میں کچھ کمی رہ جائے یا نہ سیکھ پائے تو اس کےلیے جینا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں تو ہر جگہ انگریزی کا راج ہے اردو زبان کو پوچھتا ہی کون ہے؟ وہ جیسی کیسی بھی بول یا سمجھ لی تو کام چل جاتا ہے لیکن انگریزی میں کسی قسم کی کمی پائی گئی تو کتنا ہی محب وطن کیوں نہ ہو جاہل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ دفاتر میں جائے تو وہاں انگریزی میں حکمنامے پکڑا دیے جاتے ہیں جنہیں پڑھنے اور سمجھانے کےلیے انگریزی دان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عوامی مقامات پر انگریزی اشارات پر مشتمل بورڈ لگے ہوتے ہیں جنہیں ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ شخص کےلیے پڑھنا نہایت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

    اسکول و کالج میں انگریزی کی کتب کی بھرمار ہے۔ انگریزی کا مضمون تو لازمی ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی جس کتاب پر نظر دوڑائی جائے سبھی انگریزی میڈیا کی ہی دکھائی دیتی ہیں اور طلبا بھی انہیں انگریزی مضمون ہی تصور کرتے ہیں اور رٹے لگا کر امتحانات میں کامیابی بلکہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اصل میں یہ کتا ب کہہ کیا رہی ہے؟ یعنی اصل علم و فن پر توجہ دینے کے بجائے پوری توجہ انگریزی زبان پر صرف کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حاملین اسناد (ڈگری ہولڈرز) تو بہت ہیں لیکن ماہرین فن نہیں ہیں۔

    ترقی اصل میں کسی خاص زبان کے سیکھنے سے نہیں ہوتی بلکہ ترقی کے لیے علوم و فنون میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اردو بھی تو ایک زبان ہے لیکن اس کے ماہرین کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ اردو کے بجائے انگریزی پر زیادہ جان کھپاتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی میں ماسڑز کی ڈگری کی بہت اہمیت ہے۔ ہمارے تمام امتحانات انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ کوئی طالب علم کسی علم و فن میں مہارت حاصل کرلے یا کسی دوسری زبان بالخصوص اردو میں ماسٹرز کرلے بلکہ حقیقی معنوں میں ’’ماسٹر‘‘ ہوجائے، لیکن اسے ہر قیمت پر انگریزی زبان میں ماہر ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ انگریزی میں ماہر نہیں تو کوئی امتحان بالخصوص آئی اے ایس وغیرہ جیسے اہم ترین امتحانات پاس کرنا ناممکن ہے۔

    پھر انگریزی زبان کا ایسا رعب ہمارے اذہان پر چھایا ہوا ہے کہ ہمیں اردو میں دو چار الفاظ انگریزی کے ملائے بغیر سکون ہی نہیں ملتا۔ بلکہ دوران گفتگو اردو میں انگریزی کے دو چار الفاظ نہ بولنے والے کو پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یعنی تمام علوم و فنون میں ماہرین کو خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کےلیے اردو زبان کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔

    اگر صرف انگریزی ہی اعلیٰ تعلیم کا معیار ہوتی تو یورپ و امریکا میں ریڑھی بان بھی روانی کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں لیکن انہیں تو تعلیم یافتہ خیال نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے معاشرے میں علم کا معیار ہی کچھ اور ہے۔ ہمارے کچھ مفکرین کا خیال ہے کہ اردو زبان میں لچک ہے اور وہ دوسری زبانوں کے الفاظ قبول کرتی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم خود ہی زبردستی انگریزی کو اس میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ خیال کہ اردو زبان میں لچک ہے، یہ بھی انگریزی کو اردو میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔ اگر اسی طرح اردو میں لچک باقی رہی تو پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اردو کی شکل یہ ہوگی کہ تمام الفاظ انگریزی زبان کے ہوں گے اور چند ایک الفاظ اردو کے رہ جائیں گے اور اس اردو ملی انگریزی کو اردو زبان کہا جائے گا۔

    انہی غلط خیالات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ترقی میں پیچھے ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہم یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہوں نے اپنی قومی زبان کو ہی اپنایا، اسی میں تعلیم دی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاں ماہرین فن پیدا ہوئے، جنہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر ہم بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دیگر اہم اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت بڑا قدم ہے کہ ہم انگریزی زبان کو اپنا مخصوص مقام دیں لیکن اس کو دوسری زبانوں کی قیمت پر حاوی نہ ہونے دیں، خاص طور پر اردو زبان پر اس کو سوار نہ ہونے دیں اور زیادہ سے زیادہ اردو زبان کو اشاعت و ترویج دیں۔

    انگریزی زبان ایک بین الاقوامی زبان ہونے کی حیثیت سے بہت اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے اس حد تک استعمال کرنے لگیں کہ اپنی زبان کی تباہی کی پرواہ نہ رہے۔ اس لیے انگریزی کی اہمیت کے پیش نظر اسے صرف ایک مضمون کے طور پر چند ابتدائی درجات میں پڑھایا جائے۔ باقی اگر کسی کو انگریزی سیکھنے کا شوق یا ضرورت ہو تو اس کےلیے الگ سے کورسز کا اہتمام کیا جائے، پوری قوم پر اس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ تمام نصابی کتب کا سلیس اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے اور اسی کو لازمی قرار دیا جائے۔ دفاتر سے بھی انگریزی کو نکال کر اردو کا نفاذ کیا جائے اور تمام سرکاری کارروائیاں اردو میں ہی انجام پذیر ہونی چاہئیں۔ اسی طرح انگریزی زبان کے الفاظ کو من و عن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ کیا جائے اور حقیقت پسندی سے ترقی یافتہ ممالک کے ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے جو انہوں نے اپنی قومی و ثقافتی زبان کی ترقی و ترویج کےلیے اٹھائے۔ تہذیبی اور قومی زبان ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔

  • ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شکر ہے کہ ہمارے وقت میں سوشل میڈیا کا وجود نہ تھا وگرنہ جس طرح کل سے 29 میڈل لینے والے ڈاکٹر ولید کی مسلسل تحقیر کی جارہی ہے ، میں تو خودکشی کر لیتا۔

    چونکہ میرا تعلیمی کیرئیر ڈاکٹر ولید سے مماثل ہے اور انجنئیرنگ یونیورسٹی میں اسی طرح ہم نے بھی گردن بھر میڈل لئے تھے تو میں کسی قدر جان سکتا ہوں کہ بے چارے ولید اور اس کے والدین اگر سوشل میڈیا ئی طوفانی پوسٹیں دیکھ رہے ہیں تو وہ بہت دُکھی ہوں گے۔ کیوں کہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے پردے کے پیچھے کی عزم وۂمت کی داستان وہی جانتے ہیں۔

    فرسٹریشن کے مارے کسی ڈاکٹر توصیف آفریدی نے بظاہراً نظام کے نوحے کے نام پر ایک پوسٹ لکھ ماری جس میں اس کا تقابل ایک ڈانسر لڑکی سے کیا گیا کہ جسے ندا یاسر تو اپنے شو میں بلاتی ہے یاسر شامی پیچھا کرتا ہے مگر اس لڑکے کو کوئی گھاس نہیں ڈالے گا۔ ڈاکٹر ولید کو ایک بے کار انشان کہا گیا کہ اس کی شکل دیکھ لو یہ آپ کو دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔

    زنگر برگروں نے ذہنی چسکے کے لئے اس پوسٹ کو خوب اٹھایا۔ کہا گیا کہ اس نے پریکٹیکل لائف میں آکر دھکے کھانے ہیں، نوکری نہیں ملنی، رشوت سفارش سے کوئی نوکری مل بھی گئی تو اسے کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔ اور اگر وہ ملک چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے تو اس کا اپنی اگلی نسلوں پر احسان ہوگا۔اسے میڈل بیچ دینے تک کا کہا گیا۔

    قسم لے لیں جو کسی ایک زنگر برگر نے بھی اس کی محنت اور جذبے کو سراہا ہو، اس کو کامیابی پر مبارک باد دی ہو یا ا س کے بہتر مستقبل کی دعا کی ہو ۔ ہماری ذہنی حالت اس سے زیادہ اور بانجھ اور اپاہج کیا ہوسکتی ہے۔

    ٹیلنٹ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ ڈاکٹر ولید کو جھوٹی سچی ہمدردی کے نام پر اپنی تحقیر کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انشااللہ وہ ہمارا ایک بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوگا۔

    میرے گلے میں جب وزیراعلی پنجاب جناب شہباز شریف صاحب بار بار لگاتار میڈل ڈال رہے تھے تو میں اس وقت چھ ماہ سے جاری مسلسل بے کاری کی حالت میں تھا۔ اور الحمدللّٰہ ٹھیک بیس سال بعد میں ایک فرم اونر کے طور پر انکے شروع کردہ فارم ٹو مارکیٹ روڈ پراجیکٹ کی کنسل ٹینسی کا کانٹریکٹ لینے کے بعد ان سے کِک سٹارٹ میٹنگ کر رہا تھا۔

    ہمارے نظام کی خرابیوں کو ہم لوگوں نے ہی ٹھیک کرنا ہے نہ کہ اپنے بہترین دماغوں کا ٹھٹہ اڑا کر انہیں بے عزت کرنا ہے، اپنے پڑھنے والے بچوں کا دماغ خراب کرنا ہے اور ان کے والدین کا مایوس کرنا ہے۔

    ڈاکٹر ہو یا انجنئیر، ہمیشہ اسےاپنی پروفیشنل لائف سکریچ سے شروع کر نا پڑتی ہے اور اپنے فن سے اپنے فیلڈ میں نام بنانا پڑتا ہے۔

    مانا کہ زندگی کے زمینی حقائق بہت تلخ ہیں، بہت دشواریاں، رکاوٹیں اور پریشانیاں ہیں لیکن ایک دن کے لئے ۔۔ صرف ایک دن کے لئے۔۔۔کیا ان سب مسائل کو اپنے ذہن سے جھٹک کر ہم کسی کی محنت اور کامیابی کو سیلی بریٹ نہیں کرسکتے؟

    کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گو معاشرے میں بہت دشواریاں ہیں لیکن آپ کی بے مثل کامیابی کی وجہ سے آپ یقیناً لاکھوں میں ایک ہیں۔ آپ انشااللہ بہت ترقی کریں گے۔

  • طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    وہ پرائمری جماعت کا طالب علم بچہ ہے، اس کی عمر اور جسمانی قوت کے لحاظ سے اس کا بستہ بہت بھاری ہے جو اس کے نازک کندھوں پر نشان ڈال دیتا ہے اور کمر توڑنے والا ہوتا ہے۔ وہ اسے ہانپتے کانپتے اٹھاکر اسکول پہنچتا ہے اور اسی حالت میں اسکول سے گھر لوٹتا ہے۔ یہ بھاری بستہ اس کے لیے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تکلیف دہ ہے۔ اس کی عمر کا اگر کوئی بچہ مزدوری کرتا ہوا نظر آئے تو سب کو بڑا ترس آتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی جاگ اٹھتی ہیں۔ اخباروں میں خبریں بھی لگ جاتی ہیں، عالمی سطح پر اس کے حقوق کی بابت کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی ہیں، بچوں کے عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے پوری دنیا اس کے مسائل حل کرنے کے لیے متحرک ہوگئی ہے مگر کسی کو اس کا بستہ چھوٹا اور آسان کرنے کی فکر نہیں ہے۔

    یہ بھی آخر گوشت پوست کا انسان ہے اس کے سینے میں بھی بڑوں کی طرح ایک دھڑکتا دل ہے۔ آخر کب تک اس کے اس مسئلے پر صرف نظر کیا جاتا رہے گا؟ جب کہ طبی ماہرین نے بھی اس کے بھاری بستے کو اس کی عمر سے بڑا وزنی اور اس کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ہسپانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزنی اسکول بیگ بچوں میں کمر درد کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسلسل وزنی بیگ اٹھانے کا عمل ان کی کمر کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اس سے بچنے کے لیے اپنے وزن کے 10 فیصد سے کم وزنی بیگ اٹھانے سے کئی مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔

    اسپین کے طبی ماہرین نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کو اپنے وزن سے 10 فیصد کم اسکول بیگ اٹھانے چاہئیں۔ وہ بچے جو اپنے ذاتی وزن سے 10 فیصد زائد کا اسکول بیگ اٹھاتے ہیں انھیں کمر درد کی تکلیف ہوسکتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے ماہرین نے 1403 طلباء پر تحقیق کی جن میں سے 12 سال سے 17 سال کی عمر کے 11 اسکولوں کے بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کے اسکول بیگ کا وزن ان کے اپنے وزن کے 10 فیصد سے زائد تھا ان میںسے 66 فیصد بچے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا پائے گئے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کمر درد کی زیادہ شکایت تھی۔ پھر بھی کوئی نہیں سنتا۔ تعلیمی میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے اگر اس کے بستے کو چھوٹا اور آسان نہیں بناسکتے تو پھر اس کے پاس کیا دلیل ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرے گا؟

    یہ جلی کٹی باتیں نہیں ہیں، پرائمری اسکول کا یہ معصوم بچہ تعلیمی پالیسی کا ستایا ہوا ہے۔ روزانہ ذہنی اذیت کا شکار یہ چھوٹا طالب علم روزانہ ان دانشوروں کی جان کو روتا ہے جو اس کی مشکل کو مانتے ہیں مگر حل نہیں کرتے۔ اپنے بستے کے بوجھ تلے دبے ہوئے بچے کی چیخیں واقعی کان دھرنے کے لائق نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس معصوم طالب علم کا بستہ بڑا ہونے میں اس کے لیے نصاب سازی کرنے والوں کی سطحی سوچ اور ذہنی مرعوبیت کا بڑا دخل ہے۔

    دنیا میں بڑے بڑے مسائل کی بابت لوگ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہیں اور ان کے حل نکال لیتے ہیں مگر معصوم طالب علم کا بستہ چھوٹا کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی حل نہیں نظر آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی کاروں، کوٹھیوں اور بنگلوں کو بڑی سرعت کے ساتھ بڑا کرنے والے بستے کو بھی اسی رو میں بہتے ہوئے بڑا کرنے میں مگن ہیں۔ معصوم طالب علم کا بستہ اب تک کتابوں کی غذا کھاکھا کر موٹا ہوتا جارہا ہے غالباً یہ موٹے دماغوں والے کی کارستانی ہے۔

    کسی زمانے میں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی اور چھٹی جماعت کا بچہ قدرے بڑا ہوتا ہے اور بستے کا جسمانی اور ذہنی بوجھ کس قدر آسانی سے اٹھاسکتا ہے۔ پہلے کم ازکم ایک انگریزی کی کتاب اور اس کے ساتھ چار کاپیوں کا بوجھ تھا۔ اب اس معصوم بچے کے بستے میں ایک انگریزی کی کتاب،ایک الفاظ معانی کی کاپی، ایک سبق کے آخر میں موجود مشقوں کے لیے اور ایک انگریزی خوشخطی کے لیے ہے جو کتابوں کے وزن اٹھانے کی بات ہے۔ ایک دفعہ اسکول جاتے ہوئے اور ایک دفعہ واپس آتے ہوئے انھیں اٹھانا پڑتا ہے۔

    اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا کہ پرائمری کے اس معصوم طالب علم کو جتنی محنت اور جتنی توانائی دوسرے تمام مضامین پر خرچ کرنی پڑتی ہے اتنی ہی توانائی انگریزی کے مضمون پر خرچ ہوتی ہے۔ پھر بھی اسے انگریزی نہیں آتی ہے۔ رٹے کی چکی میں پس پس کر اس کا دماغ تھک جاتا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ اس کی سائنس کو بھی اتنا پیچیدہ اور غیر فطری بنادیا گیا ہے کہ معصوم طالب علم اسکول سے بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بستہ ساز اسے پڑھنے نہیں دینا چاہتے۔ اخبارات میں کروڑوں روپے خرچ کرکے مہم چلائی جاتی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کروائیں، مگر اسکول میں ایک غیر ملکی زبان اور غیر فطری سائنسی نصاب کا بوجھ ڈال کر معصوم طالب علم کی تمام دلچسپیوں کو ختم کررہے ہیں ان حالات میں ایک معصوم طالب علم کا اسکول میں کیسے دل لگ سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ بستہ سازوں اور نصاب سازوں نے معصوم طالب علموں سے خاموش جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ملک کے کروڑوں بچوں کو بطور بیگار اس جنگ میں سپاہی کے فرائض انجام دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

    خدارا! معصوم طالب علموں کے ماتھے پر پریشانیوں کی شکنوں میں چھپے ان کے دل کے درد کو محسوس کیا جائے، کیا یہ جبری مشقت نہیں جو ہر روز ان سے لی جاتی ہے؟ کیا یہ ان کا حق نہیں کہ ان کا بستہ ان کی عمر، جسمانی صحت اور ذہنی سطح کے مطابق ہو؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کرنا چاہیے؟ یہ وہ جواب طلب معصوم طالب علموں کےسوالات ہیں جن کے جواب تعلیم سازوں کو دینے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کا کیاخیال ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ معصوم طالب علم بچوں کی صدا ارباب اختیارات تک بھرپور انداز میں پہنچ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کار نیک کی جزا دینے والا ہے۔