Baaghi TV

Category: تعلیم

  • ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” دَسْتَک ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دَسْتَک کے اردو معنی، دروازہ بجانا، دروازہ اور پھاٹک کھٹکھٹانے اور تھپتھپانے کے عمل کو کہتے ہیں.

    دستک یا ڈور بیل ہماری روٹین اور معمول کا لازمی جز ہے۔

    ہمارا رویہ کسی دوست، عزیز یا پڑوسی کے گھر گئے یا بعض دفعہ اپنے گھر کی دستک یا بیل بجانی ہو تو بیل پر انگلی رکھ کر چسکے لینے لگتے ہیں جو کہ نہایت بےہودہ حرکت ہے۔ اگر مطلوبہ دروازے پر بیل کی بجائے دستک دینی پڑ جائے تو اردگرد کے لوگوں کو بھی مشقت میں ڈال دیتے ہیں۔

    عزیز بھائیو ! ذرا سوچیں کہ ممکن ہے اندر گھر میں کوئی مریض ہو یا کسی کو گھنٹوں کی مشقت سے گذر کر نیند کی گھڑی میسر آئی ہو یا پھر ممکن ہے کوئی کسی اہم امر میں مشغول ہو بعض دفع پردے والے گھر میں کسی مرد کے گھر میں نا ہونے کے سبب بھی تاخیر ہو جاتی ہے لہٰذا حوصلہ تحمل اور بردباری ایک ضروری وصف ہے جس کو ہم سب میں ہونا چاہئیے۔

    اسلامی ہدایات

    کسی کے گھر میں داخل ہونے سے
    قبل اجازت لینے کے آداب کیا ہیں؟

    کسی کے گھر جانے سے قبل اجازت لینا ایک اچھے اور مہذب انسان کی پہچان اور اس کی شرافت کى دليل ہے. ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس اس کی اجازت کے بغیر پہنچ جاتا ہے تو اس کو ایسی حالت میں دیکھے گا جس میں شاید اسے دیکھنا پسند نہ ہو. شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس بات کی بالکل گنجائش نہیں کہ کوئی آدمی کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو. اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا

    “اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ کسی اور کے گھر میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو.” سورۃ نور 27

    اسی لئے اسلام نے اجازت کے کچھ آداب بیان کئے تاکہ اس کے ماننے والے اس کى روشنى میں اپنى عملی زندگی گزار سکیں.

    1 گھر کے اندر نہ جھانکا جائے۔

    کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے گھر میں اور اوپر نیچے جھانکنے کی، ایسے لوگ اچھے مزاج کے ہرگز نہیں ہو سکتے. بخاری، مسلم كى روايت ہےحضرت ابو هريره رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کسی شخص نے تمہارے گھر میں بغیر تمہاری اجازت کے جھانکا اور تم نے اسے كنكری پھینک کر ماری اور اس کی آنکھ پھوٹ گئی تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں۔

    2 اجازت لینے والے کو چاہئیے کہ وہ دروازے کے بالکل سامنے نا کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ براہ راست گھر میں نظر نہ پڑسکے۔ ( نہایت اہم بات )

    پھر دروازے پر کھڑے ہوکر "السلام علیکم” کہتے ہوئے كہے: کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ دروازے پر دستک دیتے وقت زور زور سے دروازہ پیٹنا اچھی بات نہیں بلکہ اتنی زور سے دروازہ مارا جائے کہ آواز اندر چلی جائے. دروازے پر تین بار ٹھہر ٹھہر کر دستک دے۔

    3 اجازت لینے والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے۔

    جب آپ کسی کے دروازے پر دستک دیں گے اور وہ آپ کے لئے دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو واضح ہے کہ وہ دروازہ کھولنے سے پہلے آپ کا نام جاننا چاہے گا، اس لئے اپنا نام بتانے میں کسی قسم کے جھجھک کا تجربہ نہیں کرنا چاہئیے۔

    بخاری، مسلم كى روايت هے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
    "میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرض میں مدد مانگنے کے لئے گیا جو ہمارے باپ پر تھا. میں نے دروازہ پر دستک دی تو آپ نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں ہوں. تو آپ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا "میں” "میں” گویا آپ نے اسے ناپسند كيا۔

    4 اجازت نہ ملنے پر لوٹ جائیں۔

    اگر اجازت نہ مل سکے تو گھر والوں کے بارے میں کوئی برا خیال نہ رکھیں اور وہاں سے لوٹ جائیں کہ ظاهر ہے کہ کسی صحیح وجہ کی بنیاد پر ہی آپ کو اجازت نہیں ملی ہے: اللہ کریم نے فرمایا:-

    سورة النور 28

    ترجمہ: اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہی تمہارے لئے زیادہ اچھی بات ہے. اللہ اچھی طرح جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ سور النور آیت 28..

  • پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    پاکستانی معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی بڑھتی ہوئی تعداد — محمد سجاد عبداللہ

    ویسے تو تمام آسمانی مذاہب میں زومبیز جیسا کوئی کردار نہیں ہے، یہ صرف ہالی ووڈ موویز میں ڈیفائن کیا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی معاشرے کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں زومبیز نما مخلوق کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہالی ووڈ موویز میں زومبیز ایسے مردہ انسان ہوتے ہیں جو کسی کو کاٹ کھائیں تو وہ بھی زومبی بن جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایک نئی طرح کے زومبی نیس کا شکار ہوگیا ہے۔ایسے کردار جو غلط یا غیر موجود کیرئیر کونسلنگ کی وجہ سے معاشرے کے کسی خاص شعبے میں ، اپنی مرضی کے بغیر ، شامل ہوجاتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ معاشرے کے دوسرے افراد میں بھی اپنی طرح بیزاری اور مایوسی بھرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

    کیا کسی ایسے سٹوڈنٹ کو کوئی ایسا مضمون زبردستی پڑھایا جاسکتا ہے جس میں اس کی دل چسپی ہی نہ ہو؟؟

    مثلا اسلامی مدرسوں میں بچوں ان کی عدم دل چسپی کے باوجودان کو مار پیٹ کراگر ہم ان کو عالم دین یا حافظ قرآن بنا بھی دیں اور اس کے مقابلے میں کچھ ایسے سٹوڈنٹس ہوں جو صرف اپنی ذاتی دل چسپی اور شوق کی وجہ سے حافظ قرآن یا عالم دین بنیں تو کورس مکمل ہونے کی بعد کی زندگی میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے کو زیادہ بہتر اور دل جمعی کے ساتھ خدمات مہیا کرنے میں پہلے والے سٹوڈنٹس زیادہ کامیاب ہوں گے یا دوسرے والے؟ معاشرے میں بہتری، تازگی اور برداشت پہلے والے سٹوڈنٹس کی وجہ سے آئے گی یا دوسرے والے؟

    یہی کہانی باقی تمام دنیاوی مضامین میں اپلائی ہوتی ہے۔ جس بچے کو بائیو سمجھ ہی نہیں آتی، اس کو آپ ایک اچھا ڈاکٹر کیسے بنا سکتے ہیں۔ ہر بچے کی دل چسپیاں مختلف ہوتی ہیں۔ ہم ٹیچرز کے پاس ہر کلاس میں تقریبا 90%سٹوڈنٹس ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جو اپنی مرضی کی بجائے کسی اور مثلا ماں باپ، ماموں، چاچو یا دوستوں کے کہنے کی وجہ یہ مضمون منتخب کرتے ہیں اور پھر اگر کسی طریقے سے رٹا لگا کے، ذہنی اذیت برداشت کرکے یہ مضمون پاس کربھی جائیں تو اول نمبر اتنے اچھے نہیں آتے، یا نمبر اچھے آجائیں تو اس مضمون میں اپنی عدم دل چسپی کی بنا پر معاشرے کو اپنا سو فیصد کنٹری بیوشن نہیں دے سکتے۔

    ایک اور مثال اپنے مضمون سے دینا چاہتا ہوں کہ ایم سی ایس یا بی ایس کمپیوٹر سائنسز کرنے والے اکثر سٹوڈنٹس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ان کو پروگرامنگ کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہوتا اور وہ اپنی طرف سے ایک لائن بھی کوڈ نہیں کرسکتے۔ اب ایک ماسٹرز ڈگری والا پروگرامنگ کی ایک لائن بھی نہیں لکھ سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کو کمپیوٹر سائنس پروگرام میں جو ایڈمشن دیا تھا وہ ایڈمشن غلط تھا۔اور ایسے سٹوڈنٹس جب ڈگری مکمل کرنے کے بعد حقیقی دنیا میں واپس آئیں گے۔ تو اچھی آمدن نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں بیزاری، عدم برداشت اور تعلیم سے دوری جیسے عناصر کو فروغ دیں گے۔

    حقیقتا ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ویسے تو ایسے سٹوڈنٹس کا ڈگری میں کامیاب ہونا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہماری یونیورسٹیز میں سے اکثریت علم کی دریافت اور ایجاد کی بجائے چھاپہ خانے کی سروسز مہیا کررہی ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اچھی آمدن کیلئے ڈگری ضروری نہیں ہوتی ۔ یہ علیحدہ قابل مباحثہ موضوعات ہیں۔

    ہمیں میٹرک کے بعد سے ہی اس مسئلے پر توجہ دینی پڑی گی۔ کیرئیر کونسلنگ کے شعبے کی کالج لیول پر اشد ضرورت ہے۔ ہر بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون کے بارے میں پوچھا جائے، جو اس کو سمجھنے میں آسان لگتا ہے۔ یا بالفرض اس کو کسی ایسے پروگرام میں ایڈمشن مل بھی جاتا ہے جو وہ فالو نہیں کرسکتا تو ایک یا دو ماہ کے اندر اپنا پروگرام تبدیل کرلے اور کسی ایسے پروگرام میں داخلہ لے لے، جس میں اس کو دل چسپی ہے۔

    ہمیں مزید پروگرامز متعارف کروانے ہوں گے، جس میں ٹیکنیکل پروگرامز کی کثیر تعداد شامل ہو۔ کیوں کہ سٹوڈنٹس کی اکثریت روایتی تعلیمی پروگرامز میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ ہمیں میرٹ بیسڈ ایڈمشنز کو فروغ دینا ہوگا۔ کمپیوٹر سائنس پروگرام میں اس کو ایڈمشن دیں، جس کی ریاضی اچھی ہو۔ جو کوڈنگ کرسکتا ہےورنہ اس کے کمپیوٹر سائنس پڑھنے سے نہ اس کو کوئی فائدہ اور نہ ہی ملک کو کوئی فائدہ۔ بلکہ اس کے پروگرام کو جوائن کرنے سے الٹا ریسورسز کا ضیاع ہی ہوگا۔

    کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی قسم کے تعلیمی پروگرام میں دل چسپی نہیں لیتے ۔ ان کیلئے سپورٹس پروگرام اور انٹرن شپ بیسڈ پروگرامز متعارف کروائے جاسکتے ہیں۔ جس میں مارکیٹ میں ہونے والے بہت سارے کاروبار میں ان کی مہارت ڈیویلپ کی جاسکتی ہے۔

  • اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوم ورک ملتا۔ سلیبس کی کتاب سے پیج نمبر 3 سے پیج نمبر 222 تک جو لکھا ہے اُسے نئی کاپی پر نقل کرنا ہے۔ فلاں چیپٹر کو دوبارہ سے دوبارہ چھاپنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گرمیوں کے کام کی کاپیوں پر محنت "اُنکی جِلد” اور ظاہری خوش خطی پر موقوف تھی۔ علم سیکھنا کیا خاک تھا؟ لکھا ہوا چھاپنا اور بولا ہوا رٹنا۔

    آٹھویں جماعت میں سائنس انگریزی میں سیکھنی اور ستم ظریفی کہ انگریزی کا الگ سے مضمون ہونا جہاں پر گرامر رٹائی جاتی۔۔ایسے میں سائنس کیا خاک سیکھی جاتی جب سائنس کی زبان ہی اسی وقت سیکھی جا رہی ہوتی جب سائنس سیکھی جا رہی ہوتی۔ لہذا شارٹ کٹ محض رٹا یا گائڈز جس میں قدرے آسان انگریزی میں سائنسی موضوعات سمیٹے جاتے۔ پرچے میں یہی شارٹ کٹ لگا کر نمبر حاصل ہوتے۔ سکول سے لیکر یونیورسٹی تک سائنس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ ایسے میں جدید علوم کا حصول کیونکر ممکن ہے؟

    آپ کسی محفل میں چلے جائیں دو بزرگ حضرات آپس میں کونسے حکمت کے موتی پرو رہے ہونگے؟ مڈل کلاس طبقے کے بزرگوں کے پاس زندگی کے کیا تجربات ہونگے؟ نہ اُن بیچاروں نے دنیا دیکھی نہ کوئی جدید علوم پڑھے۔ بات کریں زندگی کے تجربات کی تو اُنکی زندگی تھی کب اور اّنکی دنیا تھی کتنی بڑی ؟ گھر سے کاروبار یا دفتر، وہاں سے واپس گھر۔۔۔ خاندانی مسائل میں گھرے مڈل کلاس اور نچلے طبقےکے بزرگ کونسے نئے زندگی کے تجربوں کا گیان دے سکتے ہیں؟

    اسی طرح پاکستان میں زیادہ تر امیر طبقہ ایک۔یا دو نسل قبل زمیندار تھا/ہے، ۔یا مقابلے کے امتحان میں رٹے والا یا فوج میں ترقی کرتے متوسط طبقے کے کسی فرد کی اولاد ہے جو گاؤں کی primitive سوچ سے نہیں نکل سکا۔۔انکی پرانی نسلوں کی غربت کے قصے ان میں لاشعوری طور پر کُھد چکے ہیں اور ایسا خوف ڈالے ہوئے ہیں کہ امیر ہو کر بھی انکی سوچ اپنے آباؤ اجداد جیسی غریب ہے۔ Financial insecurity کا منہ بولتا ثبوت اِنکی اوٹ پٹانگ حرکتیں ہیں جو انکے احساسِ کمتری کو نمایاں کرتی ہیں۔کبھی مارک زکر برگ کو دیکھا کہ گاڑی روکنے پر کہے: "تو مینوں جاندا نئیں”. کبھی ایلان مسک کا سنا کہ نشے میں دھت ہو کر کسی کو کچل دے وغیرہ وغیرہ۔

    شیر کے پاس پہلے سے طاقت ہوتی ہے کہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے مگر ڈرنا تو بکری سے چاہئے کہ اگر اسکے پاس طاقت آجائے تو وہ اسکا ذمہ دارانہ استعمال کیسے کرے گی؟ سو یہ وہ عمومی مسائل اور رویے ہیں جن سے کم سے کم ہمارے بزرگ تو اب تک نہیں نکل سکے لہذا جب یہ رٹا ہوا جملہ سننے کو ملتا ہے کہ بزرگوں سے سیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔

    لہذا فی زمانہ مملکتِ خدادا کے نہ ہی بزرگ، نہ ہی اپر کلاس اور نہ ہی تعلیمی نظام ہمیں اصل سوچ کی طرف لا سکتا ہے۔ اصل سوچ کیسے آتی ہے؟ ایک اچھوتا خیال ، ایک اچھوتا آئیڈیا کیسے بنتا ہے؟ میرے نزدیک بچپن کی بہتر تعلیم سے اور اگر وہ میسر نہ ہو تو کم سے کم سوال کرنے کی عادت سے۔ تجسس سے، چیزوں کو گہرائی میں سوچنے سے، متابدل تعلیم کےذرائع سے وغیرہ وغیرہ ۔

    بدقسمتتی سے ہمارے ہاں ان مثبت رویوں کا فقدان ہے۔ پچھلے ستر سال کی دھول ہم ابھی تک چاٹ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے ذہنوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور سوچ منجمد ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں کم سے کم آنے والی نسلوں کے لیے کچھ کرنا ہے۔۔اگر آپکے پاس جدید علم نہیں تو اپنے بچوں کی خاطر اسے سیکھیے یا کم سے کم اسے جانیں ضرور تاکہ اپنے بچوں کو بتا سکیں۔ بچوں میں سکول کی تعلیم سے ہٹ کر دیگر ذرائع جیسے کہ انٹرنیٹ سے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ اور سب سے بہتر یہ کہ بچوں کو سوال کرنے سے، نئے تجربات کرنےسے مت روکیے۔ آپکو جواب نہیں آتا، مجھ سے پوچھیں، انٹرنیٹ پر خود ڈھونڈیں یا بچوں کو کہیں کہ سوال اچھا ہے، جواب ملکر ڈھونڈتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر کسی بچے کے تجسس کوغلط جواب یا یہ کہہ کر مت ختم کیجئے کہ سوال کرنا غلط ہے۔

    اصل سوچ کا حصول معاشرے میں جدید تعلیم اور مثبت رویوں کے رجحان سے ہی ممکن ہے ورنہ رٹے زدہ، موکلد اور دولو شاہ کے چوہے ہی پیدا ہوتے رہیں گے حقیقی معنوں میں عقل کی معراج کوچھوتے انسان نہیں۔

  • ڈی آئی خان : طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج

    ڈی آئی خان : طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان( نامہ نگار) ایف اے، ایف ایس سی رزلٹ‘ طلباء کنٹرولرڈیرہ تعلیمی بورڈ ظفراللہ خان کی پالیسیوں پران کے خلاف ہو گئے،طلباء کا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے خلاف احتجاج،اس موقع پرایف اے / ایف ایس سی رزلٹ کے خلاف طلباء نے حق نواز پارک میں احتجاج کیا، طلباء نے احتجاجی نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، طلباء نے ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفر اللہ خان مروت کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق ایف اے،ایف ایس سی کے طلباء نے ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولرظفراللہ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی سلسلہ شروع کررکھاہے۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طلباء کاکہناتھا کہ ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان نااہل ہیں جس کی پالیسیوں کی وجہ سے طلباء کامستقبل داؤپر لگ گیاہے۔انہوں نے کہاکہ ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان کافوری تبادلہ کیاجائے۔ اگر ڈیرہ تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر ظفراللہ خان کاتبادلہ نہ کیاگیاتو تمام سکولوں اوریونیورسٹیز کو بندکردیاجائے گا۔ اگرحکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہ کیے تو احتجاج کا سلسلہ صوبے کے دوسرے شہروں تک وسیع کردیاجائے گا اورتمام سکولوں،کالجوں اور یونیوسٹیزکوبندکردیاجائے گا۔مظاہرے میں شریک طلباء نے کہاکہ کنٹرولرڈیرہ تعلیمی بورڈ ظفر اللہ تعلیمی بورڈ طلباء کے خلاف سازش کر رہے ہیں اوران کی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

  • ٹھٹھہ: گھارو میں  بھی اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر ہائیر سیکنڈری سکول میں تقریب منعقد کی گئی

    ٹھٹھہ: گھارو میں بھی اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر ہائیر سیکنڈری سکول میں تقریب منعقد کی گئی

    باغی ٹی وی : ٹھٹھہ ( راجہ قریشی نامہ نگار) گھارو میں بھی اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر ہائیر سیکنڈری سکول میں تقریب منعقد کی گئی
    تفصیلات کے مطابق ٹھٹہ ضلع کے شہر گھارو میں پانچ اکتوبر 2022ء کو دنیا بھر کی طرح اساتذہ کا عالمی دن کے طور پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے آرگنائزر سندھ کے تعلیمی رضا کار محمد علی خٹک سندھی تھے جبکہ ان کی رضا کار ٹیم کے ساتھی، محمد حنیف ہولانی ملاح، حماد اشرف راجپوت، سید ذوالفقار علی شاہ سمیع اللہ بابڑو، رشید جانوری ؤ دیگر نے بھی پروگرام کی آرگنآئزنگ میں اپنا کردار ادا کیا اس موقعہ پر مہمان خصوصی جناب خدا بخش بہرانی ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر چائلڈ پروٹیکشن انچارج گورنمنٹ دیگر مہمانانِ میں سندھ پیس ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے بانی جناب عبدالغفور ھیجب جاکھرو ساحل ویلفیئر ٹرسٹ کے اسد اللہ آرائیں، اسکول پرنسپل سر ہارون لوہار، نوجوان سماجی کارکنان  یاسر جاکھرو، آصف جوکھیو، بلاول بابڑو، اسکول کے اساتذہ ایاز میرانی، سر حسنین شاہ ظمیر حسین کھوسہ، بابر علی مغل اور طالب علم عبد العزیز شیخ، و دیگر نے خطاب کیا، اور اساتذہ کرام کی عظمت پر گفتگو کرتے ہوئے موجود شرکاء اور طلباء کو استاد کی قدر اور عزت کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ان آئے ہوئے تمام مہمانوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہمیں اپنی جانب سے محترم اساتذہ کو تحفے تحائف بھی پیش کئے گئے اور اپنے دیگر ساتھیوں سمیت پروگرام میں شرکت بھی کی اور ہر سال کی طرح اس سال بھی پوری دنیا کی طرح اساتذہ کا دن منایا گیا جس کی تقریب مختلف تعلیمی اداروں میں جاکر اپنے معززین و محسن قابل احترام اساتذہ کرام کو عقیدت و احترام اور محبتوں کے پھول پیش کئے گئے اس بار ادبی و سماجی دوستوں کے ہمراہ  مرکزی تقریب گورنمنٹ بوائز ہائی سیکنڈری اسکول گھارو میں  منعقد کی گئی جس میں سول سوسائٹی، صحافیوں، اور دیگر معززین شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی. 

  • ملک بھر کی طرح کندھ کوٹ میں بھی استاد کی خدمات کے اعتراف میں سلام ٹیچرز ڈے منایا گیا

    ملک بھر کی طرح کندھ کوٹ میں بھی استاد کی خدمات کے اعتراف میں سلام ٹیچرز ڈے منایا گیا

    باغی ٹی وی ،کندھ کوٹ (نامہ نگار)ملک بھر کی طرح کندھ کوٹ میں بھی استاد کی خدمات کے اعتراف میں سلام ٹیچرز ڈے منایا گیا مختلف اساتذہ تنظیموں اور سکولوں کے زیر اہتمام تقاریب کا اہتمام ،استاد ہی وہ شخص ہے جو ایک بچے کو مستقبل کا معمار بناتا ہے ،کسی بھی قوم کی ترقی اساتذہ کی مرہون منت ہے مقررین
    تفصیل کے مطابق کندھ کوٹ استاد کی خدمات کے اعتراف میں سلام ٹیچرز ڈے شاندار طریقے سے منایا گیا اس کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا اساتذہ یونین کے زیر اہتمام مقامی سکولوں میں بھی مختلف بڑی تقریباًت کا اہتمام کیا گیا مختلف سکولوں میں سلام ٹیچرز ڈے کے حوالے شاندار تقاریب ہوئیں مقررین کا اپنے خیالات میں کہنا تھا استاد قوم کے معمار ہیں کسی بھی قوم کی ترقی اپنے اساتذہ کی تعظیم و توقیر کے ساتھ ہے بغیر استاد کے معاشرہ جہالت کا مرکز بن جاتا ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کی منفی سوچ و عادات کا خاتمہ کرکے مثبت سوچ کو ارتقا دیں اس موقع پر طلبا نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی

  • پنڈی بھٹیاں:عدم ادائیگی بل سکول کی بجلی کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو پریشانی کاسامنا

    پنڈی بھٹیاں:عدم ادائیگی بل سکول کی بجلی کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو پریشانی کاسامنا

    باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں:(شاھد کھرل) بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو شدید پریشانی میں مبتلا، سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا چونا سی او ایجوکیشن جاوید اقبال بابر صاحب کو تمام تر صورتحال کے بارے علم ہونےکے باوجود آنکھیں بند کئیے ہوئے ہیں، تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حسن پورہ، بجلی کا بل گزشتہ سات ماہ سے بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے میٹر کٹ گیا، والدین کے مطابق سابقہ ہیڈ مسٹریس میڈیم رضیہ نے مبینہ طور پر فنڈز خوردبرد کئیے فنڈز کا صیح استمال نہ کیا، جسکی وجہ سے بجلی کا میٹر کٹ گیا، سابقہ ریکارڈ کے مطابق سکول ہیڈ میڈیم رضیہ کی تعیناتی 1999 کو گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حسن پورہ میں ہوئی مئی 2017 میں مبینہ 14 لاکھ کرپشن ثابت ہوئی، جوکہ چند ماہ تنخواہ میں سے باقاعدہ طور پر کٹوتی بھی ہوتی رہی، ستمبر 2017 میں سفارشات کی بنیاد پر دوبارا بطور ہیڈ سکول کا چارج سنبھالا، والدین کے مطابق گورنمنٹ کی طرف سے دیا جانا والا NSB فنڈز اور سکول سے اکھٹا کیا جانے والا FTF فنڈز بھی کرپشن کی نظر ہو گیا، گزشتہ سات ماہ سے سکول کا بل ادا نہیں کیا گیا، جسکی وجہ سے واپڈا والے بجلی کا میٹر اتار کر لے گئے، یہاں تک کہ صفائی کرنے والوں خواتین کی تین تین ماہ کی تنخواہیں بھی نہیں دی گئی، متعدد پرائیویٹ ٹیچرز کو تقریباً تین ماہ کی تنخواہیں بھی جاری نہیں کی جا سکتی، والدین کے مطابق ڈپٹی ڈی او زنانہ کی مبینہ ملی بھگت کے ساتھ سرکاری خزانے کو چونا لگایا جاتا رہا، والدین کا چیف سیکرٹری پنجاب اور کمیشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تر معمالات کی اعلی سطح پر انکوائری کروائی جائے، تاکہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے،

  • روجھان : گذشتہ 2 سال سے گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں نہ اساتذہ تعینات ہوئے اور نہ ہی کلاسز کا اجراء ،طالبات سراپاء احتجاج

    روجھان : گذشتہ 2 سال سے گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں نہ اساتذہ تعینات ہوئے اور نہ ہی کلاسز کا اجراء ،طالبات سراپاء احتجاج

    باغی ٹی وی :روجھان (ضامن حسین بکھر) پڑھے گا پنجاب بڑھے گا پنجاب حکومت کے نعرے دھرے کے دھرے روجھان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان حکومت کی عدم توجہ سے طالبات کا تعلیمی مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ روجھان میں سن رائز گرلز اکیڈمی روجھان کی طالبات نے روجھان میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں کلاسز کی تعلیمی سرگرمیاں جاری نہ ہونے اور تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی پر طالبات سراپاء احتجاج ۔
    تفصیلات کے مطابق

    روجھان میں عرصہ دو سالوں سے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں کلاسز کا اجراء نہ ہونے سٹاف کی عدم تعیناتی اور اسکول میں تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی پر آج سن رائز گرلز اکیڈمی روجھان میں پرنسپل اکیڈمی ہذا عبدالرسول مزاری کی قیادت میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں سٹاف ٹیچرس کی عدم تعیناتی کلاسز کی عدم آغاز پر طالبات نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ روجھان میں عرصہ دو سال سے صرف کاغزی طور پر اسکول کو چلایا جا رہا ہے یہاں پر بچیوں کو پڑھنے کے لئے کوئی سہولیات میسر نہیں ہے روجھان میں کوئی سرکاری تعلیمی ادارہ نہیں جو طالبات کو تعلیمی سہولت میسر کر سکے طالبات نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ روجھان کی طالبات کو گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے اور سٹاف ٹیچرس تک نہیں ہے طالبات کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہو رہا ہے کہ پڑھے لکھے پنجاب کا نعرہ لگانے والوں نے روجھان کی طالبات کو تعلیمی سہولیات سے کیوں محروم رکھا ہوا ہے اور روجھان کی طالبات کا تعلیمی مستقبل روشن ہونے کی بجائے تاریک ہو رہا ہے مگر مجال ہے کہ ایجوکیشن ذمہ داروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی طالبات کا کہنا تھا کہ ہایئر ایجوکیشن کی تعلیم روجھان میں اور امتحانی سنٹر بھی روجھان ہی میں قائم کیا جائے احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا تھا کہ روجھان ہی میں ہائیر ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جائے اور طالبات کا کہنا تھا کہ ہم کبھی عمرکوٹ کبھی مٹھن کوٹ اور کبھی راجن پور جا کر عتاب کا شکار ہوتی ہیں طالبات نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی، صوبائی وزیر تعلیم مراد راس سے روجھان میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں ٹیچرس کی تعیناتی کلاسز کا آغاز تعلیمی سرگرمیوں اور روجھان ہی میں امتحانی سنٹر قائم کیا جائے تاکہ ہم گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کے ہوتے ہوئے تعلیم کے حصول کے دربدر جانا پڑتا ہے نہیں تو پڑھے گا پنجاب بڑھے گا پنجاب کا نعرہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا اس موقع پر پرنسپل اکیڈمی ہذا نے حکومت اور روجھان سیاسی قیادت کی توجہ تعلیمی نظام کے جانب مبذول کرائی طالبات نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر روجھان میں تعلیم کی عدم سہولیات کے بارے میں نعرے درج تھے ۔

  • ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام

    ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام

    باغی ٹی وی :ڈیرہ غازیخان(شہزادخان سے) گورنمنٹ ایسو سی ایٹ کالج (بوائز ) ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس تربیتی نشست کی صدارت پرنسپل کالج ہذا پروفیسر محمد بخش بلوچ نے کی، مہمان خصوصی پاکستان تحریک انصاف کی ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ تھیں ،مہمان اعزاز ڈاکٹر کاشف فرمان چیئرمین،اور علی رضا خان پروازِ شاہین پروگرام تھے۔تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسن اختر ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ کی کالج کے لیے پیش کی جانے والی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا،ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ نے طلبہ سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ محنت کی عظمت کو اجا گر کیا جا ئے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرز کے پروگرام کو جاری رکھا جا ئے۔انہوں نے کالج کے اساتذہ اور طلبہ کو پروگرام میں بھرپور دلچسپی لینے پر دادِ تحسین پیش کی ۔ چونکہ یہ نشست طلبہ کی تربیت کے لیے رکھی گئی تھی لہٰذا دلچسپ اور معلومات سے بھرپور لیکچر دیا اور موضوعاتی گفتگو سے طلبہ کے علم میں اضافہ کیا یہ لیکچر خصوصی طور پر طلبہ کی دلچسپی کا مرکز رہا اور طلبہ نے اس سے بھرپور استفادہ کیا

  • چونیاں – پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے صرف نعرے ہی رہ گئے

    چونیاں – پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے صرف نعرے ہی رہ گئے

    باغی ٹی وی :چونیاں ( عدیل اشرف ،نامہ نگار) پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کے نعرے صرف نعروں تک محدود۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے بنیادی سہولیات کا ہونا ضروری ہے اور سہولیات فراہم کرنا ریاست کی اہم ذمہ داری ہوتی لیکن 1980 سے منظور شدہ چونیاں کے نواح مرکز الہ آباد کے گاؤں کوٹ صدردین کا گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول اہم بنیادی سہولیات سے محروم ہے، چاردیواری کے علاوہ عمارت کا سرے سے نام و نشان ہی نہیں 42 سال سے غریب بچے گرمی و سردی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں سہولیات کی عدم دستیابی پر اکثر بچے سکول چھوڑ رہے ہیں۔بنا عمارت سکول حکومتی توجہ کا منتظر۔چار دہائیوں سے سکول کی عمارت نہ بننا سابقہ حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟؟ اہل علاقہ کے لوگوں کا موجودہ حکومت سے جلد نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق آج کے جدید دور میں جہاں پنجاب کے گاؤں دیہات لیول کے عام نجی سکولوں کی بھی شاندار عمارتیں موجود ہیں بچے اچھے ماحول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اسی صوبے پنجاب کے سرکاری سکولوں کی حالت اس قدر خراب ہے کہ بچوں کو گرمیوں میں دھوپ اور شدید سردی میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہےچونیاں کے نواح الہ آباد مرکز میں موجود گورنمنٹ پرائمری سکول کوٹ صدردین عمارت جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔محکمہ تعلیم کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اسکول کے کمرے ہی موجود نہیں صرف چاردیواری ہی ہوئی اور کئی سالوں سے ننھے منھے طالب علم گرمیوں میں شدید دھوپ و گرمی اور سردیوں میں شدید سردی میں کھلے آسمان تلے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں بچوں کا کہنا ہے کہ ہمیں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے ہمیں اچھا تعلیم ماحول فراہم کیا جاہے ہمارے لیے کمرے بنائے جائیں اس اسکول میں تقریباً ایک سو کے قریب غریب طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کے پاس پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں ادا کرنے کی ہمت تک نہیں جبکہ ان مشکلوں کے باوجود اساتذہ بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ کئی بار محکمے کو آگاہ بھی کر چکے ہیں اور وہ خود بھی یہ سب جانتے ہیں مگراس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہمیں بھی بنیادی سہولیت ملنی چاہیے۔اہل علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ بڑی مشکل سےپالتے ہیں ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں ادا کر کے بچوں کو بنیادی تعلیم دلوا سکیں ہمارے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے 42سال سے اسکول کی عمارت نہ بنانے کا ذمہ دار کون؟ سابقہ حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟گاؤں کے رہائشی چوہدری فیصل ،مہر عبدالقیوم،منشاء،عبدالعزیز،فاروق بابر،بابا اسحاق و دیگر نے وزیر اعظم پاکستان، وزیراعلی پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر اس اسکول کی عمارت تعمیر کروائی جائے تاکہ بچے موسم کی شدت سے محفوظ رہ کر اچھے ماحول میں اپنی تعلیم حاصل کر سکیں۔