Baaghi TV

Category: تعلیم

  • علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اس کا پہلا لفظ "اقرائ” تھا، یعنی "پڑھ”۔ اس بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پڑھنے یعنی علم سیکھنے کے کیا فوائد ہیں، کیوں کہ جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ پڑھ لیا، تو اللہ تعالی نے پورا قرآن شریف آپ کے دل میں اتار دیا۔ اس ایک لفظ اقراءیعنی پڑھنے کے لفظ کی اہمیت افادیت کو اچھی طرح جان سکتے ہیں اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ علم کے بغیر کوئی بھی کام اور عمل بے معنی ہے، یعنی علم ایک ایسی شے ہے، جو ہم سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا اور ہم اس کو جتنا پھیلائیں گے، یہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا، مگر افسوس آج ہم علم کی اہمیت و افادیت کو بھول چکے ہیں۔ یہ علم ہی ہے جو ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے اور ہمیں یہ پہچاننے میں مدد دیتا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل ہے۔ آج پاکستان کی عوام بہت سے مسائل سے گزر رہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم علم سے بہت دور ہو چکے ہیں اور جس کی وجہ سے ہم اپنا اچھا اور برا سوچنے سے قاصر ہیں۔

    دورِ حاضر بلکہ کسی بھی دور میں کوئی بھی تعلیم کی حقیقت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا، جو معاشرہ تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے، وہ ہر میدان میں پستی اور زوال کا شکار رہتا ہے۔ علم کی افادیت اپنی جگہ ایک کثیر خزانہ سمیٹے ہوئے ہے، ہمیں علم کے بارے میں کئی احادیث اور اقوال ملتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ "علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی آغوش تک” اسی طرح حضرت علی کا فرمان ہے کہ "علم مال سے بہتر ہے، کیوں کہ تمھیں مال کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، جب کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے۔”

    مندرجہ بالا حدیث شریف اور قول سے تو آپ کو علم کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ ہو ہی گیا ہوگا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم علم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، اس خوف اس کے کہیں وہ علم کی دولت سے آشنا ہوکر ظالم لوگوں سے اعلان بغاوت نہ کر دیں۔

    جب انسان دنیا میں آتا ہے، بڑا ہوتا ہے، ہوش سنبھالتا ہے۔ گھر والے کچھ ہی بڑے ہونے کے بعد اسے سکھا دیتے ہیں کہ اسے کیا بننا ہے، فوجی، ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل وغیرہ۔ پھر وہ اس کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور وہ زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے مگر 98 فی صد متوسط طبقے کی تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے اور اس کا خواب کبھی شرمندہ ¿ تعبیر نہیں نہیں ہو پاتا اور وہ ناخواندہ ہی رہ جاتا ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی جزو ہے، دنیا بھر کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کی وجہ سے دوسری قوموں پر سبقت حاصل کرتی ہیں۔ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کا تصور ہی نہیں کر سکتی، مگر جب پاکستان کی بات ہو تو قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکومت نے تعلیم پر خاص توجہ نہ دی اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھا۔

    شاید حکمرانوں کا کردار ایسا رہا ہی نہیں کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھ سکتے کبھی اسمبلیوں میں منتخب کردہ نمائندگان کی جعلی ڈگریاں نکل آتی ہیں، تو کبھی نظام ہی میں تبدیلی لاکر تعلیم کی شرط کو کم کر دیا جاتا ہے۔

    پاکستان کی 70 فی صد آبادی آج تک ناخواندہ ہے۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوش حال وباوقار ملک بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں پورے عزم کے ساتھ اپنے تمام تر وسائل استعمال کرتے ہوئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ اس عمل کے لیے پاکستان میں دُہرے تعلیمی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور کم سے کم عرصے میں ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں ناخواندگی کے خلاف کام کیا جائے ناخواندگی ختم کرنا نا ممکن نہیں، لیکن مشکل ضرور ہے۔ ملک میں صرف ایک فی صد لوگ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور پھر یونیورسٹیوں پر نظر ڈالی جائے، تو نجی یونیورسٹیوں میں غریب بچے کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ یہ پاکستان کے نظام تعلیم سے ایک مذاق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اچھی تعلیم حکمرانوں جاگیرداروں وڈیروں کے لیے دوسرے درجے کا معیار تعلیم ہے اور اس لیے بھی انتظام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بہترین تعلیمی نظام کے لیے کوریا، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں حکومت کو چاہیے کہ دُہرے تعلیمی نظام مکمل طور پر خاتمہ کرے اور پاکستان کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا زیادہ سے زیادہ قیام عمل میں لایا جائے اور وہاں یک ساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے۔

    ٭٭٭

    ٹیوئٹر : ‎@fahadpremier

  • استاد قوم کا محسن تحریر ۔ غلام مرتضی

    استاد قوم کا محسن تحریر ۔ غلام مرتضی

    5اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ   کو خراج تحسین  پیش کرنے   کےلئے منایا  جاتا ہے

    آج بھی یاد ہے مجھے وہ سکول کا پہلا دن
    نیا بستہ نئے جوتے اور نئے کپڑے اور ایک نئی جگہ جانے کی خوشی تو تھی لیکن جب اُس جگہ پہنچ کر ابو کا ہاتھ چھوڑنا پڑا تو بہت مشکل لگا رونے لگا ہر بچہ کہ طرح ابو سے لپٹ گیا۔
    لیکن ایک نہایت شفیق انسان نے میری انگلی پکڑی ابو کہ ہاتھ سے میرا ہاتھ چھڑوایا اور مجھے گود میں اُٹھا کہ اندر لے گیا۔ سارا دن میرے آنسو صاف کئیے مجھے بھلایا اور رخصت کرتے وقت ٹافی دی اور کہا اگر روز آؤں گا تو روز ٹافی ملے گی۔
    اب جب میں یہ سب سوچتا ہوں تو خود پہ بہت ہنسی آتی ہے لیکن دوسری طرف آنکھ آبدیدہ بھی ہوتی ہے۔
    پھر جب ماضی کے خدوخال کا نقشہ دماغ میں کھینچتا ہوں تو بہت دل کرتا ہے میں لوٹ جاؤں وہیں جہاں سے میں سب سبق سیکھیں۔جہاں میں نے دنیا کے ساتھ قدم ملا کہ چلنا سیکھا۔
    جہاں میں نے پنسل پکڑنا اور پھر لکھنا سیکھا۔میں نے الف سے انار سیکھا۔
    تختی پہ لکھا۔
    بہت سی نظمیں پڑھیں۔
    سب سے بڑی بات مجھے میرے اُساتذہ کی شفقت رُلا دیتی ہے۔
    بابا کا ہاتھ جب چھوڑا تو محسوس نہ ہوا کہ میں نے بابا کا ہاتھ چھوڑا ۔محسوس ہوتا بھی کیسے ایک باپ کا ہاتھ چھوڑ کہ دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔
    وہ خوبصورت وقت بہت یاد آتا ہے کیونکہ وہ بیت گیا ہے۔کیونکہ اب اُس کے لوٹنے کا کوئی جواز نہیں ۔
    اُستاد کا رتبہ بعد میں جانا میں نے ۔
    اُستاد صاحب کہا کرتے تھے
    وکیل چاہتا ہے اسکا موکل جیت جائے
    ڈاکٹر چاہتا ہے مریض ٹھیک ہو جائے
    انجینئر چاہتا ہے اُسکی مشینری کامیاب ہو
    افواج چاہتی ہے ملک محفوظ ہو
    لیکن واحد اُستاد ہے جو یہ چاہتا کہ یہ سب کہ سب عروج کی بلندیوں کو چھو جائیں
    اُن کی یہ بات اب سمجھ میں آتی ہے کہ روحانی والدین کی خوشی صرف اور صرف اپنے بچوں کی کامیابی میں ہے
    یہ وہ خوبصورتی ہے جس کے بغیر چمن کا رنگ پھیکا ہے
    یہ پھول کی خوشبو ہیں
    اگر اقوام میں اُستاد قابل نہ ہوں تو قومیں پستی کا شکار ہوتی ہیں اور اگر قومیں استاد کی قدر نہ کریں تو بھی زوال اُن کا مقدر ٹھہرتا ہے ۔
    میں نے دیکھا ہے وقت ہو بدلتے میرے اساتذہ کی دعاؤؤں سے
    یقین جانے ایک سچا روحانی باپ یا روحانی ماں آپ کے حقیقی ماں باپ سے زیادہ آپکی قدر کرتے ہیں-آپکو زندگی کی ہر راہ میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ۔
    آج بھی جب کبھی میں اپنے روحانی ماں باپ کو دیکھو یا وہ مجھے پہچان جائیں یقین جانے اک عجب خوشی ہوتی ہے ایک عجب ہی احساس ہوتے وہ تمام تر ماضی روح پزیر ہو جاتا ہے بس پھر دل کرتا ہے لوٹ جائیں وہیں جہاں زندگی بہت خوشگوار تھی جہاں محبت کرنے والے بے وجہ بے شمار تھے

    استاد معاشرے میں مستریوں کا سا کردار ادا کرتے ہیں۔۔
    جو انسانوں میں شخصیات، اقدار اور اخلاق کے محلات کی تعمیر کرتے ہیں۔۔
    یہ لوگ علم و ہنر کی اینٹیں آپ کی شخصیت میں اس ترتیب سے لگاتے ہیں کہ ان کی آرائش و زیبائش سے معاشرہ ایک خوبصورت شہر میں اونچی نیچی شیش

    محلوں جیسی عمارات اور چمکتے دمکتے برقی قمقموں کی مانند

    میرے کردار کو سنوارنے اور معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل بنانے والے میری زندگی کی پہلی استاد میری ماں سے لے کر میرے قاعدے کے الف سے قرآن کے والناس تک درس و تدریس کے اسباق پرھانے والے، اور الف انار سے تعلیمی ڈگریوں تک زینہ بہ زینہ پہنچانے والے، مجھے لکھنے کا ہنر سکھانے والے سوشل میڈیا کے اساتذہ اور میرے وہ فالوور جنہیں خود تو شاید لکھنا لکھانا نہیں اتا مگر ان کے ٹوٹے پھوٹے کمینٹس سے مجھے پورا ایک موضوع ضرور مل جاتا ہے۔۔ زندگی کے تاریکیوں میں علم کی یہ شمع جلانے والے ان تمام اساتذہ کو آج کا دن بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ا

    اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مزید کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

    ‎@__GHulamMurtaza

  • لاک ڈاؤن اور  طلباء پر اس کے اثرات تحریر: تیمور خان

    لاک ڈاؤن اور طلباء پر اس کے اثرات تحریر: تیمور خان

    @ImTaimurKhan

    لاک ڈاؤن ، ایک بار پھر! یہ سب 2019 میں شروع ہوا جب ہمارا طرز زندگی ایک وسیع وائرس کی وجہ سے بیرون سے مکمل طور پر انڈور میں بدل گئی اور اس وائرس کو آج COVID-19 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہماری زندگیاں بورنگ اور اندرونی سرگرمیوں کا شکار ہوئیں کیونکہ حکومتوں نے لاک ڈاؤن اور ایس او پیز کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت یہ سب کچھ ضروری معلوم ہوتا تھا لیکن اب تک 2021 تک ویکسینیشن جاری ہے اور لوگوں کو وائرس کے بارے میں مکمل آگاہی ہے اب یہ مکمل طور پر بیکار لگتا ہے اور سب سے بڑی ، سب سے بڑی بے معنی بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن صرف تعلیمی اداروں تک محدود ہے کھلا ہے. لوگ سڑکوں پر آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر کوئی مناسب عمل درآمد نہیں کیا جا رہا لیکن تعلیم کا شعبہ بند ہے۔

    کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے تعلیمی ادارے حکومت کے حکم پر 4 ستمبر سے 13 ستمبر تک بند رہنے والے ہیں لیکن جب میں اپنے گھر سے باہر نکلتا ہوں تو مجھے کوئی لاک ڈاؤن اور بیماری کی شدت نظر نہیں آتی ابھی تک تعلیمی ادارے بند ہیں۔ تعلیم کیوں قابل خرچ ہے؟ طلباء آن لائن تعلیمی نظام سے تباہ ہو چکے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے کمیوں اور وقت کے ضائع ہونے سے بھرا ہوا ہے۔ بڑی تعداد میں طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں جو مسلسل اپنی کلاسوں سے محروم رہتے ہیں جو ان کی 4 یا 5 سال کی پیشہ ورانہ تعلیم میں بہت بڑا خلا پیدا کرتے ہیں۔ اساتذہ اور طلباء کے مابین ایک بہت بڑا تکنیکی خلا موجود ہے۔ اساتذہ ان ٹیکنالوجیز سے واقف نہیں ہیں جو ذہنوں میں مناسب علم کی فراہمی میں ناکامی کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے وقت ، وسائل اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    حال ہی میں ، امتحانات ہوئے اور طلباء سب اپنے نئے سالوں اور سمسٹروں کے لیے پرجوش ہیں لیکن آن لائن تعلیم کے اسی تباہ کن طریقے سے ان کا آغاز کرنا ہمارے تعلیمی سالوں کو شروع کرنے کا بہترین طریقہ نہیں ہے۔ طلباء اپنے مستقبل اور اپنی تعلیم کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہو رہے ہیں کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے ہی کم عملیت تھی اور آن لائن نظام نے بھی اسے دور کر دیا۔

    لہذا ، طلباء تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں گویا صورت حال اتنی ہی خراب تھی جتنا کہ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیگر تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سنجیدہ اقدامات کیے جاتے۔ اور اگر یہ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ وہ کہتے ہیں تو اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلباء کے لیے بھی ورکشاپس ہونی چاہئیں تاکہ اس تکنیکی خلا سے نمٹا جاسکے اور آن لائن تعلیم کو بہتر بنایا جاسکے اور اس کے لیے قابل وقت نظام خرچ کیا جائے۔ سکولوں اور کالجوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ عام طور پر کام کرنے کے لیے تاکہ طلباء معمول کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔

  • قلم کی عظمت    تحریر : شاہ زیب

    قلم کی عظمت   تحریر : شاہ زیب

     دنیا نے گلوبل ویلج سے گلوبل سٹی کا سفر قلم کے بازوں پر کیا دنیا میں کہیں بھی معاہدہ طے پایا جائے تو قلم کی سیاہی سے ابتدا کی جاتی ہے ترقی امن ومان سلامتی یا دہشت گردوں سے مذاکرات قلم کی طاقت سے شروع ہوتے ہیں۔

     یوں تو قلم کا ہم سے صدیوں پرانا رشتہ ھے مگر قدیم زمانے میں پیغام یا معدہ کرتے وقت پرندوں کے پروں کو استعمال کیا جاتا تھا جیسے ہی زمانہ ترقی یافتہ ہوتا گیا تو ہماری شان قلم کو بھی ترقی سوجھی اور نئے طرز کا قلم بن گیا۔

     قلم ایک ایسا انمول قیمتی سرمایہ ھے جو تلوار سے تیز اور طاقت وار بھی جانا جاتا ھے قلم کو دودھاری تلوار اس لیے کہا جاتا ھے قلم کی سیاہی کی بدولت ظالم اور مظلوم کی پہچان اور حق پر ڈٹے ہوئے مجاہدین کی تحریریں لکھی جاتی ہیں اگر غیر جانبداری سے قلم کا استعمال کیا جائے تو ہی قلم کی سیاہی کی عظمت و عزت برقرار ہے۔

    افسوس کے ساتھ بتاتا چلوں قلم کی عظمت کو سب سے زیادہ نقصان دور حاضر کے صحافیوں نے کیا صحافت جو ریاست کا چوتھا ستون جانا جاتا ہے لیکن قلم فروشوں نے چند ڈالروں کے عوض قلم کی سیاہی کی قیمت لینا شروع کر رکھی ہے کسی بھی شخص کی کردار کشی کر کے سماج کی نظروں میں گرانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

    قلم فروش سمجھتے ہیں وہ کسی کی کردار کشی کر کے انسان کو نیچا دیکھاتے ہیں تو یہ ان کی غلطی فہمی ہے اسطرح سے قلم فروش کسی انسان کی نہیں بلکہ قلم کی نوک جس کا دوسرا نام علم ھے اس قلم کی عظمت و عزت پامال کر رہے ہیں نہایت ہی ادب کے ساتھ اپنے دوست لکھاریوں کے لیے پیغام ھے میں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا ایک حقیقت ہے جو آپ کو بتائی ھے دوستوں جہاد بالقم کے ساتھ کھڑے رہنے سے حق بات دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہے اگر آپ قلم کی عظمت و سیاہی کی قیمت وصول کرنے لگ جائیں گے تو پھر آپ میں اور جسم فروش طوائف میں کوئی فرق نہیں۔

    اب ففتھ جنریشن وار  قلم سے لڑی جا رہی ہیں اور دشمن کے غلط پروپیگنڈہ کا مقابلہ اسی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا بہت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن درست اور ٹھوس حقائق کو سمجھنے والا ہی ان نا پاک عزائم رکھنے والوں کا قلم کی طاقت سے قلع قمع کرتا ہے اور قلم تو ویسے بھی تلوار سے زیادہ طاقت رکھتی ہے اور سچ ہمیشہ چاقو کی طرح تیز کاٹتا ہے ہمیشہ ایک چیز اپنے پلے باندھ لیں غلط چیزوں کو وقتی سکون فیم کے لیے مت لکھیں ہمیشہ دلیل کے ساتھ بات کریں کیونکہ اپ کا پڑھا جانے والا ایک ایک لفظ اپ کی شناخت ہوتی ہے یہ بس دھیان رکھیں کہیں اپ کی شناخت اپ کے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت نہ ہو کیونکہ ہم سب وار فئیر کے اُس حصے میں جہاں دشمن ہمیں اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا لیکن اللہ کے فضل سے چال بازوں کی چالیں قلم سے ناکام بنا دیتے اور میرا یہ ایمان ہے کہ جذبہ ایمانی سے سرشار قومیں کبھی ہار نہیں مانتی۔۔

    اللّٰہ رب العزت سے دعا ہے میری

      قلم جو میری پہچان ھے اور سچ لکھنے والوں کی حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین

    Twitter handle.

    @shahzeb___

  • نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    ‏پہلے وقتوں میں اگر کیسی بچے کا باپ ڈاکٹر ہوتا تھا توبچہ بھی ڈاکٹر ہی بنتا تھا، باپ اگر درزی ہوتا تو بیٹا بھی درزی ہی بنتا تھا، باپ اگر مستری ہوتا تو اس کا بیٹا بھی باپ کی طرح مستری ہی بنا کرتا تھا 

    پھر وقت بدلا نظام تعلیم میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں لوگوں میں نئی سوچ پیدا ہونے لگی اور لوگ اپنے شعبے سے ہٹ سے اہنے بچوں کو تعلیم سیکھانے لگے 

    آج کل کے بڑھتے ہوئے تعلیمی رجحان میں ہر ماں باپ یہ چاہتا ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر، پائلٹ یا تو آرمی افسر بنیں۔ لہذا دوران تعلیم ان کو یہ بات باور کروا دی جاتی ہے کہ بیٹا تم ڈاکٹر بنو گے، تم انجینئر بنو گے یا تم پائلٹ بنو گے وغیرہ وغیرہ۔

     اس طرح بچوں بچے کے دماغ پہ دباؤ ڈال دیا جاتا ہے کے تم نے بس اس طرف جانا ہے اور یہ ہی کرنا ہے کیسی دوسرے شعبے بارے سوچنا بھی نہیں ہے، مطلب کے بچے کے دماغ کو ایک طرح سے بند کر دیا جاتا ہے کؤوں کے مینڈک کی طرح جو صرف اپنے والدین کے بتائے تعلیمی رستے پہ ہی چلتا ہے اور اپنے اصلاحات کو استعمال کرنے اور سوچے سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے

     جیسے ہی بچہ میٹرک کا امتحان پاس کرتا ہے تو اسے والدین کی مرضی سے ایف اس سی، آئی سی ایس یا ایف اے وغیرہ میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ اب اس سارے عمل کے دوران وہ بچہ جس نے اپنی زندگی گزارنی ہے یا جس نے اپنی دلچسپی کے مطابق اپنے شعبے کا انتخاب کرنا ہے اسے اس فیصلے میں شامل ہی نہیں کیا جاتا یا یوں سمجھ لیں کہ سیدھا اپنی مرضی سے داخل کروا دیا جاتا ہے۔ بچے کی رضامندی، اس کی دلچسپی اور ہم آہنگی کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورت حال انٹر پاس کرنے کے بعد ہوتی ہے 

    اور یہیں سے ہی بچوں کے روئیے میں بگاڑ شروع ہو جاتا ہے وہ چلتا تو النے والدین کے طریقے پہ ہی ہے تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوتا ہے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ بچے کا اس تعلیم کے لئے ذہن ہی تیار نہیں ہوتا اور نا ہی وہ اس میں خوش ہوتا ہے

    مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ میڈیکل یا انجینئرنگ کر چکا ہے پر اس کی دلچسپی اب میڈیکل یا سائنس کے شعبے میں نہیں تھی بلکہ وہ کیسی آرٹس سبجیکٹ میں ہے جیسے کہ انگلش کے شعبے میں دلچسپی رکھتا ہو اور اسے اپنے تعلیمی کیرئیر کے طور پر اپنانا چاہتا ہو یا کہ وہ وکیل بننے میں دلچسپی رکھتا ہو، اسے سیاست کا شوق ہو اور وہ اسے بطور مضمون پڑھنا چاہتا ہو، اسے اردو ادب سیکھنے کا شوق ہو یا اسلامی علوم کو سیکھنے کی طرف اس کا رجحان پیدا ہو گیا ہو یا بعض پچوں میں دور جدید میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور مختلف ڈیجیٹل پروگرامز میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے اور وہ اسے کاروبار کے طور پہ استعمال کرنا چاہتا ہے تو جب وہ اپنی تعلیم کے پس منظر کو دیکھے گا تو اس کا ان شعبوں سے کوئی تعلق نا ہو گا اور نا ہی معلومات اور والدین بھی بچوں کا سہارا بننے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے سختی سے بتا دیتے ہیں اگر تم پڑھو گے تو صرف اسی فیلڈ میں جس کا ہم انتخاب کر چکے ہیں ورنہ نہیں. 

    اکثریت والدین کی ایسی ہے جو چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ایسی فیلڈ کا انتخاب کرے جس کی موجودہ وقت میں بہت زیادہ اہمیت ہو چاہے بچے کی اس فیلڈ میں کوئی دلچسپی ہو یا نا ہو اگر کیسی فلیڈ کی اہمیت بنانی ہی ہے تو وہ خود ہی اس کی اہمیت بنا سکتا ہے جو اس میں شامل ہو گا

    ایک اور بھی وجہ ہے کے پڑھنے والے بچے کی جس شعبے میں دلچسپی ہے وہ اس کا اپنے والدین کو بتا ہی نہیں پاتا اور ہچکچاہٹ کا شکار رہتا ہے کیونکہ بچے اور والدین کے درمیان اس طرح ہی بات ہی نہیں ہو پاتی ہمارے معاشرے میں اسے شرم و حیا کا نام دے دیا گیا ہے پر حقیقت اس کے برعکس ہے یہ بچوں کا ڈر ہوتا ہے جو بچوں کو والدین سے دور کر دیتا ہے ساتھ ہی بچوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ جس شعبے میں بچے کو اس کے والدین نے بھیجا ہوتا ہے وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتا اور نا خود کو اس کے لیے تیار کر پاتا ہے نتیجے کے طور پر اس کی ڈگریاں زیادہ اہمیت کی حامل ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان میں اچھے نمبر ہی حال نہیں کر پاتا.

    اور جس فیلڈ میں بچے کی دلچسپی ہوتے ہے جیسے وہ پسند کرتا ہے اور اسی فیلڈ کو اپنانا چاہتا ہے اس کے لیے والدین ہی اجازت نہیں دے پاتے تو اس طرح سے بچہ کا مستقبل پوری طرح سے ختم ہو جاتا ہے وہ سمجھ ہی نہیں پاتا ہے اب آگے اسے کیا کرنا چاہیے

    اس لئے اس سارے عمل کے دوران والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے سے مشورہ کریں ان سے پوچھیں کہ وہ کس شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے، اس کا شوق کیا ہے؟ وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ کیوں کہ تعلیم حاصل کرنا، اس پر توجہ دینا والدین یا کسی اور شخص کا کام نہیں بلکہ محض اسی بچے کا کام ہے جس نے آگے بڑھ کر اس پیشے کو اپنانا ہے اور تعلیم حاصل کرنا ہے۔

    ‎@Durre_ki_jan

  • زندگی میں استاد کی اہمیت و قدر  تحریر؛ انیس الرحمن

    زندگی میں استاد کی اہمیت و قدر تحریر؛ انیس الرحمن

    آپ زندگی اور اسے جینے کی تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو زندگی میں سے استاد کو نکال دیں تو شاید آپ کی زندگی میں پیچھے کچھ بھی نہیں بچے۔
    آپ کے سب سے پہلے استاد آپ کے والدین ہوتے ہیں زندگی جینا سکھانے والے استاد والدین اور بزرگ ہی ہوتے ہیں جب آپ کچھ ایک سمجھداری کی عمر میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کی زندگی میں باقاعدہ نظم و ضبط لانے کیلئے آپ کو کسی ادارہ میں اساتذہ کی نگرانی میں بھیج دیا جاتا ہے۔

    آپ کی پہلی درسگاہ آپ کا گھر اور دوسری آپ کا تعلیمی ادارہ ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارہ میں استاد آپ کو نظم و ضبط، وقت کی تقسیم ، وقت کی قدر، ایک متنوع معاشرہ میں جینے کا سلیقہ، مجلس میں بیٹھنے، جینے اور بقاء کے آداب سکھاتے ہیں، آپ کی کمزوریوں اور خامیوں کا ادراک کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اپنے تعلیمی ادارہ میں نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں بلکہ زندگی جینے کا گر سیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    ایسے میں آپ کو قابل قدر استاد کا ملنا کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا جو آپ کی چھپی صلاحتیوں کو نکھارتا ہے آپ کی خامیوں کو خوبیوں میں بدلتا ہے اچھے برے کی تمیز حلال و حرام کا فرق سکھاتا ہے۔ یقینا وہ شخص بدنصیب ہے جو کسی قابل اور ناصح استاد سے محروم ہے۔ کیونکہ آپ بچپنے سے لیکر لڑکپن کی عمر میں شعور و آگہی کی طرف بتدریج سفر کر رہے ہوتے ہیں ایسے میں آپ کی بہتر ترویج ایک ناصح اور مخلص استاد ہی کر سکتا ہے۔

    آپ اپنی اوائل عمری سے ہی کسی ایسے استاد کو اپنا راہنما ضرور بنا لیجئے کہ جو آپ کو زندگی کے ہر موڑ پر آپ کی راہنمائی کرے۔ آپ کو زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کرے آپ کو مشکل وقت میں اچھے مشوروں سے نوازے۔ آپ کا یہ استاد آپ کیلئے ایک ایسا راہنما ہوگا جو آپ کے مزاج کو بچپن سے جانتا ہوگا اور آپ کو اچھے انداز میں راہنمائی دے گا۔

    استاد اور والدین کی وہ شخصیات ہیں جو آپ ی شاگردوں اور اپنی اولادوں کو اپنے سے کہیں اوپر دیکھنا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے زندگی کی ابتدائی دور میں غلطیوں سے جو چیز نہیں سیکھ سکے آج ہمیں ادراک ہے ان چیزوں کا تو ہم اپنے اولاد اور اپنے شاگردوں کو بروقت ان غلطیوں سے آگاہ کر کے زندگی میں انہیں مزید کامیابیوں سے ہم کنار کرنے کی کوشش کریں۔

    آج استادوں کے عالمی دن کے موقع پر میں اپنے ان تمام اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر میری راہنمائی کی اور خاص طور پر والد محترم کہ جو بطور پیشہ ایک استاد بھی ہیں انہوں نے جس طرح میری قدم قدم پر راہنمائی کی وہ قابل قدر و قابل ستائش ہے۔ آج کے دن اپنے تمام اساتذہ کو خصوصی طور پر اپنی دعاؤں میں یاد کرونگا۔ ان شاءاللہ

  • فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور آج فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے بعد میٹرک کے نتائج کا بھی اعلان کر ہی دیا گیا، تقریب تو پروقار رہی لیکن انٹرمیڈیٹ کی طرز پر میٹرک والے ٹاپرز کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہاتھوں سے انعامات وصول کرنے کا اعزاز حاصل نہ ہوسکا، اعزاز کیوں نہ ہوتا وفاقی وزیر شفقت محمود کورونا کے اس دور میں وزیراعظم عمران خان کے بعد انٹرنیٹ پر سب سے معروف سمجھی جانے والی شخصیت جو بن گئے تھے خیر آج کی تقریب میں وفاقی سیکرٹری ایجوکیشن فرخ خان بطور مہمان خصوصی پہنچیں اور بچوں کی جہاں ایک طرف خوب حوصلہ افزائی کی وہیں دوسری طرف کورونا کے باوجود تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر اپنی وزارت کے گن بھی گاتی رہیں، آج کے رزلٹ میں حیران کن اور افسوسناک حد تک ایک بات شدت سے محسوس ہوتی رہی جب بورڈ ٹاپ کرنے والے تمام سٹوڈنٹس کی فہرست سامنے آئی تو 80 فیصد سے زائد سٹوڈنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں سے نکلا، سائنس گروپ کے محمد صارم کو دیکھیں یا رابعہ اصغر کو، دونوں ہی بچے پہلی پوزیشن پر براجمان تھے لیکن تعلق آرمی پبلک سکول اور فضائیہ ڈگری کالج سے تھا، آگے چلیں تو سائنس گروپ میں 1096 نمبر لیکر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی کائنات سلیمان کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول جبکہ دوسری ہی پوزیشن حاصل کرنے والی دو اور طالبات زینب علی اور عاصمہ اسماعیل کا تعلق بھی گریزن اکیڈمی اور فضائیہ کالج سے ہی نکلا جبکہ تیسری پوزیشن پر براجمان عشبہ فاطمہ کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے رہا، آپ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کی روداد سننا چاہتے ہیں تو یہ لیجیے، پری انجینئرنگ گروپ میں 1090 نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے غفران احمد طالب اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی دو طالبات عیشاء ارشد ملک اور تابیر ساجد کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے نکلا، افواج پاکستان کے اداروں کے نام کامیابیاں یہاں رکتی نہیں بلکہ میڈیکل گروپ اور سائنس جنرل گروپ میں بھی پہلی پوزیشن اور تیسری پوزیشن آرمی کالجز کے بچوں کے ہی نام رہی، اس کے علاوہ پوزیشنز پر نظر دوڑائیں تو وہاں پر بھی بین الاقوامی نجی تعلیمی اداروں کی برانچز کا نام لکھا ملا لیکن مجال ہے کہ کسی سرکاری ادارے کو فیڈرل بورڈ کی تقریب انعامات میں آنے کا شرف نصیب ہوا ہے، سرکاری اداروں میں سرکاری مراعات، بھاری بھر کم تنخواہوں اور جان سیکورٹی کے باوجود سٹوڈنٹس کو امتحانی میدان میں کسی مقام پر نہ پہنچا پانا ایک طرف اساتذہ کی ذاتی دلچسپی اور نوکری کے ساتھ مخلص ہونے پر سوالیہ نشان ہے وہیں دوسری جانب وزارت تعلیم کو بھی اس بارے میں سر جوڑنے کی ضرورت ہے کہ سویلین سرکاری تعلیمی اداروں میں کس بات کی کمی رہ گئی کہ وہاں پڑھنے والے بچے فوجی اداروں سے پیچھے نہیں بہت پیچھے رہ رہے ہیں، بہرحال کھلے دل کے ساتھ افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں کو شاباشی اور مبارکباد بھی ملنی چاہیے جس طرح ان کی جانب سے کورونا کے باوجود آن لائن کلاسز سمیت ہر قسم کی جدوجہد کرکے سٹوڈنٹس کو آج اس مقام پر پہنچایا گیا

  • میڈیکل طلباء کا دھرنا تحریر: محمد عمران خان

    میڈیکل طلباء کا دھرنا تحریر: محمد عمران خان

    پوری دنیا میں میڈیکل کی فیلڈ جن میں ایم بی بی ایس اور ڈینٹسٹ کی فیلڈ میں داخلہ لینے کے لیے ایم کیٹ یا عام زبان میں انٹری ٹیسٹ کو پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد میرٹ کی بنیاد پر طلباء اہل ہوتے ہیں ان کو متعلقہ فیلڈز میں پرائیویٹ یا سرکاری اداروں میں داخلہ ملتا ہے۔ داخلہ ملنے کے بعد وہ وہاں سے میڈیکل ڈاکٹر کی پانچ سالہ ڈگری مکمل کرتے ہیں۔

    پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی میڈیکل فیلڈ میں داخل لینے کے لیے میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر سال لاکھوں طلباء ٹیسٹ پاس کرکے میڈیکل کی فیلڈ میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں سے وہ اپنی ڈگری مکمل کرکے پروفیشنل ڈاکٹر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ہر سال کی طرح امسال بھی میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے لیے کم و بیش دو لاکھ طلباء و طالبات نے میڈیکل کالج کا ایڈمیشن ٹیسٹ دیا۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے اس دفعہ نیا تجربہ کرتے ہوئے ٹیپس نامی کمپنی کو ٹیسٹ لینے کا ٹھیکہ دیا جس نے آن لائن ٹیسٹ لیا۔ یادرہے ٹیپس وہ کمپنی ہے جس کو میڈیکل کے طلباء و طالبات کے داخلے فارمز موصول ہونے کے بعد ٹھیکہ دیا گیا۔ جب ٹیسٹ شروع ہوا تو ٹیپس کی ویب سائٹ ہی ڈاؤن ہوگئی اور طلباء کو شدید ذہنی ٹینشن میں الجھا دیا گیا۔ اکثر جگہوں پر ویب سائٹ نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا۔ جب امتحانات کے بعد نتائج کا اعلان کیا گیا تو دو لاکھ طلباء و طالبات میں سے صرف 5-7 فیصد طلبہ کامیاب قرار پائے۔ فیل ہونے والوں میں بورڈز کے ٹاپرز بھی شامل تھے۔ سرکاری آفیسران اور دو ممبران قومی اسمبلی کے بچے بھی ٹیسٹ میں فیل ہوگئے جس کی ناکامی کا ذمہ دار ٹیپس کے سسٹم کو قرار دیا گیا۔ پورے ملک کے طلبہ اس ناانصافی پر سراپا احتجاج ہوگئے اور شہر شہر مظاہرے شروع کردیے۔ سینکڑوں طلباء و طالبات نے اسلام آباد میں پاکستان میڈیکل کمیشن کے مرکزی دفتر کا رخ کیا اور حکام سے ٹیسٹ دوبارہ لینے کی درخواست کی۔ کوئٹہ میں احتجاجی طلبہ اور پولیس میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ایک طالبہ شہید اور درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے۔ پولیس نے متعدد طلبہ کو گرفتار بھی کیا جن کو بعد ازاں حکومت کی ہدایت پر رہا کردیا گیا۔ مگر تب تک پورے ملک میں مظاہرے زور پکڑ چکے تھے۔ بچوں کے ساتھ ان کے والدین بھی احتجاج میں شامل ہوگئے جو صرف ایک ہی مطالبہ کررہے تھے کہ ٹیسٹ دوبارہ لیا جائے۔ سوشل میڈیا پر مسلسل ٹاپ ٹرینڈ رہنے کے بعد میڈیا نے بھی اس معاملے کو کوریج دینا شروع کردی۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے شنوائی نہ ہوئی اور طلباء و طالبات نے ان کے دفتر کے سامنے دھرنا دے دیا۔ ایک طلبہ یونین کے رہنما چوہدری عرفان یوسف احتجاجی طلبہ کے لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور تمام مطالبات اور دھرنے کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔

    جب چار روز کے دھرنے سے کوئی بات نہ بنی تو دھرنے کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر شفٹ کردیا گیا۔ یادرہے یہ وہی ڈی چوک ہے جہاں موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 2014 میں اکٹھے دھرنا دیا تھا۔ ڈی چوک پر تین دن گزرنے کے بعد بھی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ تب عرفان یوسف نے اگلے لائحہ عمل کے طور پر وزیر اعظم ہاؤس کی طرف پرامن مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ جیسے ہی طلباء و طالبات نے مارچ شروع کیا پولیس نے شدید لاٹھی چارج کرکے درجنوں طالب علموں کو زخمی کردیا۔ تب میڈیا نے معاملے کو کوریج دی تو سینیٹ اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا۔ سابق ڈپٹی سپیکر سینیٹ سلیم مانڈوی والا، خرم نواز گنڈا پور سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک سمیت دیگر پارلیمنٹیرینز نے دھرنے میں شرکت کی اور احتجاجی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اتنی بڑی کوریج ملنے کے باوجود بھی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا پالیسی بیان سامنے نہیں آیا۔ نائب صدر پاکستان میڈیکل کمیشن علی رضا نے معاملے پر سٹوڈنٹس کو جھوٹا قرار دے کر جان چھڑا لی۔ مگر احتجاجی طلبہ کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ کئی طلبہ تنظیمات، ڈاکٹروں کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے دھرنے میں شرکت کرکے کے احتجاجی طلبہ سے اظہار یکجہتی کیا۔ اگلے لائحہ عمل کا اعلان 4 اکتوبر کو دینے کا اعلان سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ کی ہیلتھ کمیٹی نے نوٹس لیا اور معاملے پر انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ 4 اکتوبر کو ہی معلوم ہوگا کہ احتجاجی طلبہ کیا لائحہ عمل پیش کرتے ہیں۔

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • موجودہ تعلیمی نظام اور مستقبل تحریر: عثمان

    موجودہ تعلیمی نظام اور مستقبل تحریر: عثمان

    میرے چھوٹے بھائی عرفان اور رضوان اللّه کے فضل و کرم سے آٹھویں جماعت پاس کر چکے تھے اور 

    نویں جماعت میں داخلہ کروانے میں گھر والے تاخیر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ابّا جان کی طرف سے دونوں بھائیوں کو کسی اعلیٰ سکول میں تعلیم دلانے کی زمیداری مجھے دی گئی تھی۔ تو میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ شہر کے سکولوں کا دورہ کرنے نکل پڑا

    شہر بھر کے سکول پھرنے کے باد چند ہی ایسے سکول تھے جن کا ماحول مناسب تھا ورنہ تو سکولوں میں نا تو صفائی تھی نا ہی پینے کا صاف پانی اور نا ہی تربیت یافتہ اساتذہ ۔بہت سے سکولوں کے اساتذہ اور طلبہ سے بات کرنے کا بھی اتفاق ہوا لیکن میرا دل و دماغ مطمئن نہیں ہوئے-

    پھر جب شام کے وقت ابّا  کو تمام دن کا احوال بتایا جس پر ابّا کہنے لگے بیٹا کل آپ میرے دوست اور آپ کے استاد محترم محمّد اکبر کے پاس چلے جانا ان سے مشورہ کر لینا وہ بہتر مشورہ دیں گے ۔

    محمّد اکبر استاد ہیں (اسلامک سائنس کالج شہدادپور ) کے 

    اتوار کے دن ابّا ہی کے ساتھ استاد محترم  کے پاس پہنچے  چائے پی ابّا نے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی مشورہ دیں ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کیاجائے۔

    استاد محترم نے کہا آپ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں یا صرف نام کی سند دلوانی ہے۔

    ابّا نے کہا بھئی پڑھانا چاہتے ہیں, استاد نے کہا کے شہر کے نامی گرامی اسکولوں کے بجائے اسلامک سائنس کالج  میں داخلے کا مشورہ دیا ۔اگلے ہی دن بھائیوں  کو لے کر اسلامک سائنس کالج پہنچا تو وہاں بچوں کا سکول یونیفارم دیکھ کر حیران ہوگیا وہ پینٹ شرٹ نہیں بلکے قومی لباس شلوار قمیض میں تھے۔ ہم جیسے ہی کلاس میں داخل ہوئے بچوں نے اسلام و علیکم کہاں 

    ہم نے جواب میں وعلیکم اسلام کہا ۔کچھ ہی دیر تک اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں صرف دنیاوی تعلیم ہی نہیں بلکہ دین ِاسلام کی تربیت بھی دی جاتی ہے تہذیب یافتہ طلباء و استاد تھے اور ساتھ ہی مسجد تھی پینے کے صاف پانی کی سہولت تھی پارک، کھیل کا میدان تھا ۔

    دونوں بھائیوں کا ٹیسٹ ہوا  تو وہاں موجو استاد نے کہا کے آپکے بھائی کو ہم نویں جماعت سے ارو دوسرے کو آٹھویں جماعت سے داخلہ دیں گے کیونکہ اس کی بنیادی تعلیم کمزور ہے ۔

    ہم نے وہاں کے استاد کا شکریہ ادا کیا اور چل دیے۔

    ابّا جان کو سارا احوال بتایا اور استاد محمّد اکبر کو بھی تمام صورت حال سےآگاہ کیا ۔پھر 

    میں نے استاد محترم سے پوچھا کہ میرے بھائیوں کی بنیادی تعلیم کمزور کیسے ہو سکتی ہے جبکہ ایک  جماعت سے آٹھ  جماعت تک اچھی گریڈنگ لیتے آئے ہیں ۔

    استاد نے کہا کہ صرف آپکے بھائی کو نہیں بلکہ ہمارے تمام تعلیمی اداروں میں سب کی بنیادی تعلیم کمزور ہے ۔وجہ اچھے اور قابل اساتذہ کا نہ ہونا ہے ۔ ہمارے ضلع سانگھڑ  تحصیل شہداپور میں 250 ایسے اسکول ہیں جن میں دس جماعت پاس طلبہ و طلبات کو ایک استاد کا درجہ دے دیا جاتا ہے جو میری نظر میں غلط ہے ۔

    ایک دس پاس جماعت کی طلبہ جس کی بنیادی تعلیم کمزور ہو وہ کیسے بچوں کو ادب پڑھائے گی جو ایک  قابل استاد میں ہوتی ہے ؟

    اور کمزوری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل ایک بچے کو پانچ سبجیکٹ پڑھاتے ہے جوکہ بچہ ایک بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ پاتا 

    ہمارے دور میں بچے کو پہلے ایک سبجیکٹ پر محنت کروائی جاتی تھی اور بچہ لگن کے ساتھ پڑھتا تھا۔مگر آج ٹیوشن الگ اسکول الگ بچہ ٹھیک سے نہیں پڑھ پاتا ۔

    ہونا یہ چاہے تھا کہ بچے کو اسلامیات اردو اور آسان انگلش اچھے سے پڑھائی جائے جو کہ یہ سب ماحول آج بھی اسلامک اسکول میں ہے وہاں کے بچوں میں ادب اخلاص صاف لباس پانچ وقت نماز کی پابندی بہترین مستقبل کی شروعات ملتی ہے یہاں کے بچے امتحانات میں نقل نہیں کرتے بچے اس قابل ہیں کے خود سے پڑھ لیتے ہیں ۔

    میرے ذہن میں ایک بات آئی استاد محترم یہ دس ، بارہ پاس والے لڑکے لڑکیوں کو آخر کیا ضرورت پڑتی ہے جو وہ لوگ آگے پڑھنے کے بجائے یہاں کے اسکول میں بچوں کو پڑھانے لگ جاتے ہیں ؟

    استاد نے بتایا کہ  ہمارے سندھ کا  تعلیمی نظام و دیگر وسائل کی وجہ سے

     12 جماعت پاس طلبہ و طالبات آگے پڑھ نہیں پاتے آپ کے سروے کے مطابق 20 ایسے کالج جس میں طلبہ کو بورڈ کے امتحانات میں نکل کی تمام تر سہولیات دی جاتی ہے اور طلبہ آسانی سے پاس ہو جاتے ہے ۔

    کالج میں طلبہ کا مائنڈ سیٹ پہلے سے ہی بنا دیا جاتا ہے کہ آپ کو نقل مل جائے گی آپ  پاس ہیں 

    اسی طرح طلبہ و طالبات کو پتا ہے کہ ہم پاس ہیں 

    تعلیمی ادارے اب پہلے جیسے نہیں رہے تمام اسکول و کالجوں کو اب صرف بزنس کے طور پر چلایا جاتا ہے 

    بچوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے  ۔

    پاکستان کا 85 فیصد طبقہ پڑھ رہا ہے مگر کیا پڑھ رہا ہے ؟

    ‏‎ارباب اختیار اس بارے  میں بھی سوچئے اور  بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والے ان مافیاز کے خلاف ایکشن لے؛

    علم بہت بڑی دولت ہے!

    یقین نہ آئے تو تعلیمی اداروں کے مالکان کو ہی دیکھ لو ۔

    @UsmanKbol

  • طلباء کا احتجاج  تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    طلباء کا احتجاج تحریر:- محمد عبداللہ گِل 

    تعلیم و تربیت ہر معاشرے کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ھے۔تعلیم کے لیے ایک نظام بنایا گیا ھے جس کا مقصد اس شعبے کو اچھے طریقے سے چلانا اور جو کمی کوتاہی ہو اس کو۔دور کرنا ھے۔تعلیمی میدان میں جو سب سے مشکل اور محنت طلب شعبہ ھے وہ میڈیکل کا ھے۔معاشرے کے وہ طلباء جو محنتی اور ذہانت کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں وہی اس کو اپناتے ہیں اور اپنے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔میڈیکل یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے ایک ٹیسٹ کا انعقاد کیا جاتا ھے جس کو MDCat کہا جاتا ھے۔اس ٹیسٹ کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ معاشرے کی کریم کو نکال کر اس شعبے میں لایا جائے تاکہ وہ آگے جا کر اچھی کارکردگی دکھائے۔اس امتحان کو پہلے یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز کے زیر انتظام پنجاب سے لیا جاتا تھا اسی طرح سندھ میں داود یونیورسٹی یہ ٹیسٹ لیتی تھی۔اس سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ہر صوبے کا چونکہ سلیبس مختلف ھے تو ٹیسٹ بھی مختلف ہوتا تھا اور طلباء کو شکایت نہیں ہوتی تھی اور سب سے بڑی بات یہ تھی بطور ثبوت کاربن پیپر سے لی گی عکاسی دی جاتی تھی کہ یہ یہ نشانات امیدوار نے لگائے ہیں اور جو غلط ہو جاتے تھے طالب علم بھی خاموشی سے مان لیتا تھا۔لیکن اس سال یہ امتحان پاکستان میڈیکل کمیشن کے زير اہتمام لینے کا فیصلہ کیا گیا۔اور پاکستان میڈیکل کمیشن نے جو پالیسی بنائی اس میں یہ تھا کہ۔طلباء کو آوٹ لائن دے دی گئی کہ اس سے آپکا امتحان آنا ھے۔اب جو سلیبس دیا گیا ہر صوبے میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے چونکہ وہ ایک نہیں ھے اس لیے کچھ فرق ہونے کی وجہ سے طلباء کو پریشانی ہوئی۔جیسے کہ مثال کے طور پر ایک سوال دیکھ لے 

    انسانی جسم میں پٹھوں کی تعداد کتنی ھے؟

    پنجاب بوڑد لی کتاب میں تعداد 650 لکھی ہوئی ھے جبکہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اور سندھ کی کتاب میں تعداد 600 لکھی گئی۔

    اور اتفاق سے یہ سوال امتحان میں آیا بھی اور دونوں ہی آپشن تھے اب طالب علم کیا لگائے اس کی عقل سے باہر تھا۔

    طلباء کو پہلا جو مسلہ درپیش ہوا وہ یہ تھا کہ سوالات ان کی دسترس یعنی کے ان کے صوبے کے نصاب سے باہر تھے۔

    دوسرا بنیادی مسئلہ جو طلباء کو درپیش آیا وہ یہ تھا کہ امتحان چونکہ آن لائن TAB پر لیا گیا تو طلباء کو امتحان کے بعد بطور ثبوت کوئی پیپر یا دستاویز نہیں دی گئی کہ یہ یہ نشانات و جوابات آپ نے لگائے ہیں۔اس سے ہوا یہ بہت سے ذہین طلباء وہ طلباء جن کے میٹرک میں 95 فیصد سے زائد نمبر ہیں وہ فیل ہو گے وجہ کیا بنی کہ سافٹ وئیر میں غلطیاں ہیں۔اس کا منہ بولتا ثبوت یہ ھے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے جس کمپنی کے زیر انتظام یہ ٹیسٹ لیا وہ TEPs ھے اور اس کی طرف سے جو پریکٹس ٹیسٹ اپلوڈ کیا گیا اس کے سوالات میں بھی غلطیاں تھی اور جوابات میں غلطیاں تھی۔اس سے طلباء کی طرف سے یہ موقف اپنایا گیا کہ 210 سوالات آپ صحیح بنا نہیں سکے تو ہر بچے کا ٹیسٹ علیحدہ ھے آپ کیسے سوالات اور جوابات درست کر سکتے ہیں؟

    یہ اب تک پاکستان میڈیکل کمیشن پر سوالیہ نشان ھے جس کا وہ جواب نہیں دے سکا۔

    پاکستان میڈیکل کمیشن کے اس سسٹم میں غلطی کا امکان اس لیے بھی ھے کہ طلباء کو حق ہی نہیں کہ وہ ٹیسٹ کی ری چیکنگ یا ری کاؤنٹگ کروا سکے۔جبکہ دنیا بھر میں جتنے بھی ٹیسٹ لیے جاتے ہیں اگر آپ اپنے نتیجے سے مطمئن نہیں تو آپ اس کو چیلنج کر سکتے ہیں۔لیکن پاکستان میڈیکل کمیشن نے طلباء سے یہ حق بھی چھین لیا۔اسی طرح جب میں اس پر تحقیق کر رہا تھا تو میری نظر سے ایک بات گزری کہ ایک جاننے والے نے ٹیسٹ ہی ابھی نہیں دیا اور اس کا نتیجہ اپلوڈ کر دیا گیا یہ بات بھی پی ایم سی کے سسٹم میں خرابی پر دلالت کر رہی ھے۔یہ بات کوئی ایک دو طالب علم نہیں کہہ رہا بلکہ ہر طالب علم کی زبان پر عام ھے۔طالب علم امتحان دے کر نکلتا ھے وہ کہتا ھے 190 پکے ہیں لیکن جب نتیجہ آتا ھے تو فیل ہوتا ھے۔کوئی ایک دو طالب علم کہے تو چلو مان لیا جائے کہ طلباء غلط ہیں ادھر تو ہر بندہ ہی یہ ہی کہہ رہا ھے۔اس کے پاکستان میڈیکل کمیشن کے ایکٹ کے مطابق کمیشن اس بات کا پابند ھے کہ تمام طلباء کا ٹیسٹ ایک ہی دن لیا جائے لیکن ادھر یہ بھی زیادتی کی گئی کہ پورا مہینہ ٹیسٹ چلا کسی بچے کا پہلے امتحان تھا کسی کا بعد میں۔جو کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے اپنے قانون کی خلاف ورزی تھی۔ان تمام مطالبات کو لے کر جب نہتے طلباء میدان میں نکلے پہلے انھوں نے پاکستان میڈیکل کمیشن کے باہر پرامن احتجاج کیا جب ان کی شنوائی نہ ہوئی تو ڈی چوک میں سات دن انھوں نے دھرنہ دیا حکومت پاکستان نے پاکستان کے مستقبل کے مطالبات کو سننے کی بجائے ان پر لاٹھی چارج اور چاقووں سے حملہ کیا جو کہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ھے اور ریاست کو یہ ذیب بھی نہیں دیتا۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ طلباء کے مطالبات سن کر تحقیقات کروائے اور ان کا ٹیسٹ دوبارہ لینے کا جو مطالبہ ھے اس کو مانے کیونکہ طلباء ہمارا مستقبل ھے اور ان کو ر

    درپیش مسائل بھی حقیقت پر مبنی ھے۔

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے 

    وہ فضل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔