Baaghi TV

Category: تعلیم

  • یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    یکساں تعلیمی نصاب اور روشن پاکستان تحریر؛حنا

    آپ جانتے ہوں گے ۔کچھ دن پہلے پورے پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب کا قانون بنا دیا گیا ہے ۔۔اور پرائمری لیول تک پورے ملک میں یکساں نصاب پڑھایا جاے گا ۔اس پر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے ۔ہمارا مسئلہ يہ ہے کہ ہم ہر چيز کو مخصوص عينک لگا کر ديکهتے ہيں اور اپنے مطلب کے معنی اخذ کرتے ہيں۔يہی وجہ ہے کہ ہميں صرف قابلِ اعتراض چيزيں ہی نظر آتی ہيں جو بعض اوقات قابلِ اعتراض ہوتی بهی نہيں ہيں۔۔‏جیسے دین بیزار feminists،liberals پاگلوں کی طرح نئے یکساں تعلیمی نصاب کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ تڑپ رہے ہیں۔ لڑکی کو نماز پڑھتی کیوں لکھا، عورتوں کو دوپٹے میں کیوں دکھایا، لڑکے فٹبال کھیلتے کیوں لکھا لڑکی کیوں نہیں، لڑکی گھر کی صفائی کرتی کیوں دکھائی، عورتوں کو ٹیچر اور نرس ہی کیوں دکھایا۔ لڑکی زمین پر بیٹھی لڑکا کرسی پر کیوں ۔لڑکا زمین پر بیٹھا تو لڑکی کرسی پر کیوں ۔ان کے اعتراضات یا تنقید سے لگتا ہے کیا کہ کہیں سے بھی یہ پڑھے لکھے شعور والے لوگ ہے انھوں نے دنیا گھوم لی جہازوں میں سفر کر لیے ۔ہر ملک جا کر گوروں ساتھ سیلفیاں بھی بنوا لی لیکن ان کی سوچ سے آج بھی جھونپڑی میں رہنے والے اس محنت کش مزدور کی سوچ اچھی ہے جو ٹوٹی سائیکل پر بھی پرچم لگاتا ہے اور وطن سے محبت کا اظہار کرتا ہے. یہ کیسے لوگ ہے جو دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ پر گھومتے ہیں اور پھر گوروں کے سامنے اپنے ملک کو بدنام کرنے واسطے کچھ بھی بولتے رہتے ہیں ۔
    ہم ایک پاکستانی ہے ایک قوم ہے مانتے ہیں نہ تو ہم ایک نصاب کیوں نہیں بنا سکتے ہیںایک نصاب کیوں نہیں پڑھ سکتے ۔ ۔۔‏یکساں تعلیمی نصاب کی تجدید صرف کپتان نے اکیلے نے نہیں کی ۔ ۔اعلی تعلیم یافتہ افراد اور اسکالرز نے کی ہے. موجودہ معاشرے کے تمام اہم پہلو اور اخلاقیات کو بہتر کرنے کے حوالے سے مضامین شامل کئے گئے ہیں. تمام بڑے پبلشرز، سرکاری تعلیمی بورڈ اور پرائیوٹ اسکولوں منیجمنٹ ٹاسک فورس بھی اس میں شامل تھی.تنقید کرنے والے اس سے لاعلم ہیں۔۔۔تنقید کرنے والے کیا نہیں چاہتے کہ اس ملک کا غریب بھی پڑھ لکھ سکے ۔۔کیا نہیں چاہتے کہ جو کتابیں ان کے بچے پڑھ رہے ہیں ۔وہی کتابیں غریب کا بچہ بھی پڑھ سلے اپنا اچھا مستقبل بنا سکے ۔۔۔اگر ایسا نہیں تو تنقید اور حکومت کے اس فیصلے کو برا بھلا کیوں بول رہے ہیں
    یکساں نصاب کے اس فیصلے کو ہر باشعور پاکستانی کیطرف سے قابل تحسین قرار دیا گیا۔
    لیکن بیکن ھاؤس کے پرنسپل مائیکل تھامس نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔اس انکار کی وجہ شاید آپ جانتے ہی ہوں دو تین سال باقاعدہ سوشل میڈیا پر بیکن ہاوس کے خلاف کمپین چلائ گئ تھی ۔اس کمپین میں پڑھائے جانے والی نصابی کتب کے سکرین شاٹس شئیر ہوئے جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو ” انڈین سٹیٹس” لکھا ہوا تھا ۔
    بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔۔مطلب اتنا پیسہ کماتا ہے پاکستان سے ۔وہ بھی کس لیے؟ پاکستانی بچوں کے دماغوں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے واسطے ۔
    اس کے علاوہ لبرل ازم کا علمبرادار ” بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنس مین اور وڈیرے شامل ہیں۔
    مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں جس کا کہنا تھا
    ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے
    صرف بیکن ہاوس ہی نہیں بہت سے ایسے پرائیویٹ اسکولز کالجز ہوں گے جن کا اکثر نصاب سرکاری سکولوں میں پڑھائ جانے والی کتابوں سے بہت حد تک مختلف ہوتا ہے
    پرائیویٹ سکول میں پڑھنے والے اکثریت بچوں کی اسلام بارے الف ب نہیں جانتی ہوتی ان کو یہ تک نہیں پتہ ہوتا کہ آل رسول کون ہے ان کے نام کیا ہے اصحابیات کون تھے ۔۔
    ایسی بہت ساری چیزیں جو اہم ہے جاننا ہمارے دین کا حصہ ہے وہ پرائیویٹ سکولوں میں نہیں پڑھائ جاتی ۔۔۔ان سکولوں کا مقصد صرف انگلش پہ فوکس ہوتا ہے پھر انگلش میں چاہے یہ پاکستان کے خلاف پڑھاتے رہیں ۔یا دین اسلام کے ۔۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سکول پوری ریاست کی مخالفت کررہا ہے ۔ایک ملک کی مخالفت کررہا ہے ۔۔میرا رائے ہے ۔۔فقط تعلیم.میں نہیں تمام ڈیپارٹمنٹ یکساں ہونے چاہیے تاکہ غریب اور امیر کا امتیاز مٹ جائے۔۔۔اور کسی کے دماغ میں بھرا امیر بھرتر والا خناس بھی مٹ جاے ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب سے نوجوانوں کا مستقبل روشن ہوگا ۔۔میرٹ بھی عام ہوگا ۔۔یہ فرق بھی مٹ جاے گا کہ جی میں تو فلاں کالج سکول سے مہنگی فیسوں پر پڑھا ۔پڑھی ہوں ۔تو میری اہمیت سرکاری سکول میں پڑھنے والے بچے سے زیادہ ہو ۔۔۔یکساں تعلیمی نصاب حکومت پاکستان کا بہترین فیصلہ ہے ۔خدارا حکومت کے بغض میں غریب سے حسد تو نہ کریں ۔۔۔حکومت کے اس فیصلے کو سراہیں تاکہ جلد از جلد تمام سکول کالجز میں یکساں تعلیمی نصاب کا سلسلہ جاری ہو سکے ۔۔سڑک میں پڑھا پتھر ثابت نہ ہوں۔۔۔بلکہ دوسروں کے لیے امید کی کرن بنیں
    ۔

  • تعلیم نظام  تحریر:افشین

    تعلیم نظام تحریر:افشین

    دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی  کے استعمال کے باعث  تعلیمی نظام میں بہت تبدیلی آئی ہے جیسا کہ اب نیٹ ورک تقریباً ہر جگہ میسر ہے۔ جدید آلات مثال کے طور پہ کمپیوٹر اور موبائل ، لیپ ٹاپ کی بدولت تعلیمی نظام میں جہاں آسانی آئی ہے وہاں کچھ منفی آثرات بھی منعقد ہوئے ہیں۔ نیٹ ورک کی سہولت سے ہم ہر طرح کی معلومات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ پہلے پہل کتابیں پڑھی جاتی کچھ معلوماتی کتابیں بہت مشکل سے دستیاب ہوتی تھیں ۔اب جیسا کہ ہر طرف کرونا کی وباء عام  ہے اس سے بچاو کے باعث  بچے اور بڑے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ ایک طرح کی سہولت ہے پر جس طرح کی تعلیم سکول اور کالج جا کے حاصل کی جاسکتی ہے ویسی گھر بیٹھے ہر شاگرد حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ بچوں کی مختلف ذہنیت ہوتی ہے ۔ کچھ دماغی طور پہ تیز اور کچھ کمزور ہوتے ہیں ۔ اساتذہ کرام کی بات کی جائے تو پہلے اساتذہ کرام بچوں پہ انتہائی محنت کرتے اب کچھ اساتذہ کرام نے بس اس کو پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے انکو بس اپنی تنخواہ سے غرض ہوتی ہے بچے پڑھے نہ پڑھے ۔ سرکاری سکولوں کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہاں اتنی پڑھائی نہیں کروائی جاتی کچھ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جو حاضری لگا کے گھر واپس آجاتے ہیں اور بچوں کی پڑھائی پہ کوئی توجہ نہیں دی جاتی سال کے اختتام پہ خود ہی پیپر کروا کے پاس کر دیا جاتا ہے ۔ 

    پرائیوٹ سکولوں کے بچوں کی  فیس زیادہ اور اساتذہ کی کم ہے وہاں پڑھائی تو اچھی کروائی جاتی ہے مگر والدین کو صیحح لوٹنے کا کام بھی کیا جاتا ہے ۔اگر چھٹیاں دی جائیں مہینہ یا دو مہینہ اسکی فیس بھی بطور اڈوانس لی جاتی ہے ۔جیسا کہ کرونا کی وجہ سے سکول بند رہے مگر بہت سے سکولوں میں فیس لیتے رہے کم از کم فیس کم کردی جاتی کیونکہ اگر بچے گھر بیٹھے آن لائن کلاسز لگا رہے ہیں تو انٹرنیٹ کا خرچہ بھی تو اٹھا رہے ہیں ۔ تعلیم حاصل کرنا آسان بنایا جائے نہ کہ دشوار ۔گھر بیٹھے اساتذہ کو کمانا آسان لگ رہا ہوگا مگر کچھ سفید پوش لوگوں کا بھی خیال کیا جائے ۔ اتنے خرچے کیسے برداشت کریں ۔ 

    گاوں میں ہر جگہ سکول بن چکے ہیں تعلیم دی جارہی ہے پر بچوں کی کاپیاں خالی ہوتی ہے یا پھر سوال اور  اسکا جواب اور لکھا ہوتا ہے ۔ کچھ اساتذہ مشق کی دہرائی کروا دیتے ہیں اور کہتے ہیں مشق گھر سے خود کر آنا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ لوگوں کے پاس بچوں کو کیوں بھیجا جاتا ہے کیونکہ آپ پڑھائیں سب کام لکھوائیں ۔اگر ماں باپ بچوں کو ٹیوشن بھی بھیجتے ہیں تو بھی آپ اپنا کام پورا کروائیں ٹیوشن والوں کا کام جو سمجھ نہ آیا ہو وہ کروانا اور ٹیسٹ یاد کروانا ہے ۔یہ ایک عزت دار پیشہ ہے محنت سے کمائے رزق کو حلال کریں مفت خوری اچھی بات نہیں ۔بہت سے اساتذہ وہ سوالات چھوڑ دیتے ہیں جو انکو بھی نہ آتے ہو۔ بچوں کو کہہ دیا جاتا ہے خود کرلو نہیں آتا تو چھوڑ دو. پہلے کی تعلیم اور اب کی تعلیم میں بہت فرق ہے مگر پہلے اساتذہ اور اب کے کچھ اساتذہ میں بھی بہت فرق ہے ۔گاوں میں تعلیمی نظام پہ توجہ دی جائے ۔سرکاری سکولوں میں بس اساتذہ کی تنخواہیں ہی زیادہ نہ کی جائیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے وہ کروا کیا رہے ۔ یہ تلخ حقیقت ہے پر سچ یہی ہے ۔ پرائیوٹ سکولوں پہ دھیان دیں۔  ماں باپ کو کم لوٹا جائے ۔ سرکاری سکولوں میں پچاس ساٹھ ہزار تنخواہیں ہیں اور بچوں کو لکھنا بھی نہیں آتا ارود بھی اتنی کمزور ہوتی ہے انگلش پڑھنا تو دور کی بات ہے ۔ سمجھ نہیں آتی تنخواہیں اتنی زیادہ کیوں ہیں انکی ؟؟ اتنی تنخواہیں مزدور کی نہیں ہوتی جو سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے ۔ بیشک اساتذہ کرام پڑھانے میں دماغ  لگاتے ہیں پر کچھ یہ کام بھی نہیں کرتے مفت میں بس کھانے پینے کا کاروبار بنا ہوا ہے. جنکی تعلیم بھی کم ہوتی ہے وہ بھی اساتذہ بنے ہوئے ہیں کیا استاد بننا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ ہر کوئی استاد بن رہا ہے ۔ استاد بننا آسان نہیں ہے بہت محنت کی جاتی ہے تب روزی حلال ہوتی ہے پر افسوس معاشرہ سچائی کم سنتا ہے سچائی کی مخالفت زیادہ کرتا ہے ۔

    #افشین 

    @Hu__rt7

  • 1100 میں سے 1100 نمبر، طالبہ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ریکارڈ بھی توڑ دیا

    1100 میں سے 1100 نمبر، طالبہ نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ریکارڈ بھی توڑ دیا

    خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی تحصیل اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنی والی طالبہ قندیل نے میٹرک کے رزلٹ میں علامہ اقبال کا ریکارڈ توڑ دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنی والی طالبہ قندیل نے میٹرک کے رزلٹ میں ملکی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ قائم کر دیا آج ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ مردان نے میٹرک کے رزلٹ کا اعلان کیا جس میں سائنس گروپ کی طالبہ قندیل نے 1100 میں 1100 نمبرز حاصل کئے ہیں۔

    حیران کن طور پر میٹرک کے رزلٹ میں دوسری پوزیشن تین طلبہ نے حاصل کی ہے تینوں نے 1098 نمبرز حاصل کئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مردان میں بارھویں جماعت کی طالبہ قندیل نے 1100 میں سے 1100 نمبر حاصل کرکے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے-


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین طلبا کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں اور ساتھ میں ان کے نمبرز کو لے کر دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔


    جرنلسٹ فردوس نے اپنی ٹوئٹ میں پوزیشن حاصل کرنے والوں کے نمبرز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیوٹن، آئن سٹائن سے بھی تیز ہیں۔
    https://twitter.com/AbuRaihanPak/status/1440286569160605697?s=20

  • لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے امکانات کو کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @Rohshan_Din

    جب ہم لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے  ذہن میں سب سے پہلے کیا آتا ہے؟ ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے کہ ہم  کسی خاص لڑکی کو یاد کریں جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلتی ہوگی  جو پرائمری سکول نہیں جا سکی۔ یا شاید ہم کسی خاص دباو اور مداخلت کی بدولت   پرائمری سکول میں پڑھنے والی مسکراتی اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی ان عظیم تصاویر میں سے ایک کو دیکھیں گے۔

     دونوں تصاویر درست ہیں ، لیکن وہ کہانی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے تک ، بہت سی لڑکیوں نے پرائمری سکول بھی مکمل نہیں کیا تھا۔  ترقیاتی پروگرام کے وجہ سے   بنیادی تعلیم میں اچانک مساوات کی طرف ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، لڑکیوں کی تعلیم ، مہارت اور ملازمت کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے آج کے چیلنجز بدل گئے ہیں۔

     

    پرائمری سکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے لیے اپنی ضرورت کی مہارت حاصل کرنے کے لیے ، ہمیں کچھ اصول و ضوابط طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہر قدم پر ، ہمارے پاس ایک اچھا خیال ہے کہ کون سی مداخلت لڑکیوں کو اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    سب سے پہلے ،  ابتدائی بچپن کی ترقی (ECD) کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد دیں۔ ابتدائی زندگی میں پیدا ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا مشکل ہے ، لیکن مؤثر ECD پروگرام اس طرح کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور اس طرح زیادہ ادائیگی حاصل کرسکتے ہیں۔ ای سی ڈی پروگرام تکنیکی ، علمی ، اور طرز عمل کی مہارتیں بناتے ہیں جو بعد کی زندگی میں اعلی پیداوری کے لیے سازگار ہوتی ہے۔اصولی اور  کامیاب مداخلت دیگر شعبوں میں ، غذائیت ، محرک اور بنیادی علمی مہارت پر زور دیتی ہے۔

    ایک نئی تحقیق سے پتہ چلاہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں تعلیم  پہ توجہ سے ایک خاطر خاہ تبدیلی آئی ہے۔   ، ایک ECD مداخلت کے 20 سال بعد ، فائدہ اٹھانے والوں کی اوسط کمائی  لڑکے اور لڑکیوں  کو پابند رکھنے والے علاقوں  کی نسبت 42 فیصد زیادہ ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے بڑے فوائد حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں اگر تمام بچے اس طرح کی مداخلتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں ، جو کہ حتمی مقصد ہے ، اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ابتدائی نفسیاتی محرک مستقبل کی کمائی کو کافی حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔

     اور اس کے بعد   بنیادی تعلیم پر مرکوز ہے۔جو  خلاء باقی ہے ، اس بات کا یقین کرنے کے لیے۔آئندہ کاغذ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 24 فیصد سےکم آمدنی والے ممالک میں ، 20 فیصد غریب ترین گھرانوں میں صرف 34 فیصد لڑکیاں پرائمری سکول مکمل کرتی ہیں ، جبکہ امیر ترین 20 فیصد گھرانوں میں 72 فیصد لڑکیاں . آمدنی سے متعلق یہ خلا لڑکیوں کے سکول جانے کے مواقع کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مداخلت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ، 

     

    یمن میں ، ایسا ہی ایک نیا پروگرام جو پسماندہ طبقات میں 4-9 گریڈ میں لڑکیوں کو فوکس کر کے بناتا ہے وہ کافی کامیاب پروگرام رہا۔  داخلہ اور حاضری بڑھانے کے علاوہ ، ہمیں یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ سکول جانے والی تمام لڑکیاں سیکھ سکیں – سیکھنے کے مضبوط معیارات ، اچھے اساتذہ ، مناسب وسائل ، اور ایک مناسب ریگولیٹری ماحول جو کہ احتساب پر زور دیتا ہے۔

     لیکن سیکھنا کس کے لیے؟ اپنی خاطر تعلیم یقینی طور پر ایک اندرونی قدر رکھتی ہے ، لیکن تعلیم اور تربیت جو کام کی جگہ پر مفید ثابت ہوتی ہے وہ بھی ضروری ہے۔ لڑکیوں کو بڑھنے میں مدد دینے کا اگلہ مرحلہ یہ ہے کہ انہیں ملازمت سے متعلقہ مہارتیں فراہم کی جائیں جن کا آجر درحقیقت مطالبہ کرتے ہیں ، یا وہ اپنا کاروبار شروع کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔اور وہ معاشرے کے کارامد رہے

     

    بہت سے ممالک نے بنیادی تعلیم میں خواتین برابری حاصل کی ہے (یا تیزی سے ترقی کر رہے ہیں)۔ اس کے برعکس ، زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں لیبر فورس کی شرکت نوجوان خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہتی ہے۔ پاکستان  ، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ میں ، 15-24 سال کی تمام لڑکیوں میں سے تین چوتھائی سے زیادہ تنخواہ دار کام میں مصروف نہیں ہیں اور کام کی تلاش میں نہیں ہیں۔ اور انٹرنیشنل انکم ڈسٹری بیوشن ڈیٹا بیس کے مطابق ، عالمی سطح پر تقریبا 40 40 فیصد نوجوان خواتین یا تو بے روزگار ہیں یا ‘بیکار’ ہیں (نہ تعلیم میں ، نہ کام میں)۔ اس کے علاوہ لاکھوں نوجوان خواتین ہیں جو بغیر تنخواہ یا غیر پیداواری کام میں مصروف ہیں۔

     اگلے مرحلہ ایک ایسے ماحول کی تخلیق سے متعلق ہے جو علم اور تخلیقی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے لیے اختراعات سے متعلق مہارت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگوں کو آئیڈیاز سے جوڑنے میں مدد ملے ، نیز رسک مینجمنٹ ٹولز جو جدت کو آسان بناتے ہیں۔ ایک بار پھر ، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں  کو نقصان ہوتا ہے ، کم مواقع ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ، بہت سے ممالک میں انٹرپرینیورشپ کی شرح کم ہوتی ہے۔اور اکثر اجکل تو خواتین کو وہ تعلیم ہی نہیں دی جاتی جس میں وہ معاشرے  کی تربیت کے لئے  ایک اچھا کردار ادا کر سکے۔ 

     آخر میں  یہ ضروری ہے کہ معاشرے لچکدار ، موثر اور محفوظ لیبر مارکیٹ کو فروغ دیں۔ آمدنی کے تحفظ کے نظام کو مستحکم کرتے ہوئے سخت نوکری کے تحفظ کے ضوابط سے بچنے کے علاوہ ، کارکنوں اور فرموں کے لیے ثالثی کی خدمات مہیا کرنا مہارت کو حقیقی روزگار اور پیداوری میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔خواتین ورکر کو پرامن اور اچھا ماحول  دیا جاے جہاں وہ سکون سے کام کر سکے ایک اچھی تنخوا اور ان کا مقرر کردہ وقت پہ سختی سے پابند کیا جاے کہ ان سے زیادہ کام تو نہی لے رہا کوئی۔ 

    لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتے وقت ، پرائمری سکولوں کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن لڑکیوں کی زندگی میں کامیابی کے لیے یہ کافی نہیں ہے: ہمیں پرائمری اسکول سے پہلے اور بعد میں کیا ہوتا ہے اس پر یکساں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 21 ویں صدی کی نوکری کے بازار میں داخل ہونے والی لڑکیاں اور نوجوان خواتین کو ایسی مہارتوں اور علم کی ضرورت ہوگی جو صرف ان کی زندگی بھر میں تیار کی جاسکیں۔ انہیں راستے میں ہر قدم پر ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

     

    یہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لیے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ لڑکیاں اکثر زیادہ تنگ ہوتی ہیں اور انہیں مواقع تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے ، جس کے نتیجے میں توقعات کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ، کم از کم جزوی طور پر ، یہ بتاتے ہوئے کہ مارکیٹیں کس طرح کام کرتی ہیں۔ 

    ہمارے ملک میں خواتین کے کام نہ کرنے کے وجہ میں سے سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ وہ  آفس میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی  ہیں ۔اکثر خواتین شادی کے بعد نوکری کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔ہماری تحقیق سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بہت سارے  خاوند خواتین کو اس  لئے بھی کام کرنے سے روکتے ہیں کے کہیں  وہ کسی کے ساتھ افئر نہ چلاے۔ دوسرے طرف خواتین کو سستہ لیبر سمجھا جاتا ۔ان کی اجرت بہت کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھی وہ کام کرنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ 

    ملک میں خواتین کو تعلیم کے ساتھ ایک پرامن ماحول کی ضرورت ہے جہاں ان کے گھر والے ان پہ یقین رکھے افسز میں ان کے زندگی مکمل طور پہ محفوظ ہو۔ان کے دفتر کے اوقات کار کو کم سے کم رکھا جاے ان کے لئے تنخواہوں میں خصوصی پیکجزدیئے جائے تاکہ وہ معاشرے کے ترقی میں اپنا کردار (رول) ادا کر سکے

  • علم و تعلیم تحریر:رضوان۔

    علم و تعلیم تحریر:رضوان۔

    جان نثار اختر صاحب کے مصرے تعلیم کو وسعت دینے ہیں فرماتے ہیں 
    یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں 

    اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
    تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت بہت واضح ہے مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے  ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گےا ہے Education تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گےا ہے آج کے اس پر آشوب اور تےز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگرSchool  اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت Advocate  ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی  Friendship کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک Society معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے تعلیم کی اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی ،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے تعلیم حصول کےلئے قابل اساتذہ بھے بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو   higher educationاعلٰی تعلیم کے حصوص میں مدد فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کوتا ہے اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگرہ کو مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے methed سے پورا کیا ،ان کی شاگرد آخری سائنس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گےا ہے محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قائع ہوگےا کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھاآج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے آج کی تعلیم صرف اسلیئے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کی تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کا رٹنہ ہے بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاقہ شاید ہی کچھ عنایت کیاہومگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسطرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے آج پاکستان میں تعلیم ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہے دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپہ ہیں ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہے جو اپنی سرداری ،چوہداہٹ،جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل سیاہ رہ جاتا ہے اوراسی وجہ سے ہمارے نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ جاتی ہے مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے اورایسی تعلیم کے بل پر انہوں نے فتح کیا ہے مغرب کی کامیابی اور مشرقی کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں پربھروسہ کرتے ہیں ان کا دفاع بجٹ تو اربوں روپے کا ہپے مگر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے ،اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ جیسا کہ روس اور چین چاہتے ہیں کہ ان کے عوام تعلم حاصل کرکے ایک خودمختار اور جمہوریت کا پرستار بن سکیں ، اسلام میں تعلم حاصل کرنے والا اللّہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کر ے اور فکر آخرت اور دنیا کے فانی ہونے کا یقین پیدا کرے  
    Twitter  @RizwanANA97

  • استاد کی عظمت ,وہ واقع ہی استاد تھے تحریر:  فیصل رفیع

    استاد کی عظمت ,وہ واقع ہی استاد تھے تحریر: فیصل رفیع

    ‘معمارقوم’

    ایک وقت تھا جب لوگ بنا غرض لالچ کے دوسروں کو کچھ دینا چاہتے تھے .استاد ہونا بڑے اعزاز کی بات تھی. استاد اپنے تمام طلباء کو بنا مطلب کے سب کچھ دینا چاہتے تھے اور سب کو برابری کی سطح پر رکھتے تھے. طالب علم اپنے استاد کی بڑی قدر کیا کرتے تھے جب استاد کوئی کام کہتا تو وہ فورا کرتے چاہے اس کے گھر کا ہو یا کوئی باہر کا کام. استاد اور شاگرد کے درمیان محبت و احترام کا رشتہ تھا. استاد دلی طور پر دعائیں دیا کرتا تھا اپنے شاگردوں کو. اپنے شاگردوں کی خطاؤں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے معاف کر کے انہیں اصل حقیقت سے آشنا کیا کرتا تھا. ایسے اساتذہ صرف وہی لوگ تھے جو صرف اور صرف دنیا کو نیک اور خوبصورت بنانے اور اچھائی کا پیغام دینا چاہتے تھے. ان کا طرز عمل ایسا ہوتا تھا کہ ان کی قدر کرنے کو جی چاہتا تھا. ایک بات ان میں تھی ایسا لگتا تھا وہ صرف اور صرف دنیا کو اچھا سبق سکھانے اور خوبصورت درس دینے کے لیے آئے ہیں. یعنی ان کے ہر عمل سے لگتا تھا کہ وہ واقع ہی استاد ہیں وہ جس منصب پر فائز ہیں واقع ہی وہ اس کے حقدار ہیں. 

    مگر جیسے جیسے ہم مہذب(Civilized) ہوتے گئے ویسے ویسے Passion —《Profession نا رہا. اصول پسندی اور اچھائی غائب ہوگئی .حادثاتی طور پر وہ لوگ اس نیک پیشے میں آئے جن کا مقصد کوئی اور تھا. وہ بننا کچھ چاہتے تھے اور بن کچھ گئے . ہوا یوں پھر, نہ وہ جگہ جاکر اپنی ذمہ داری پوری کر سکے جس سے وہ جانا چاہتے تھے اور نہ ہی یہاں پر اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کر پائے. آئیے ذرا سوچیں ایک آدمی جو ڈاکٹر بننا چاہتا تھا یا انجینئر بننا چاہتا تھا جس نے کبھی پڑھایا ہو ہی نہ اس کو پڑھانے کا موقع مل جائے سرکاری سطح پر تو اس کا اثر کس پر پڑے گا. کیا وہ اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کر پائے گا اس جگہ پر جس جگہ کو وہ جانتا ہی نہیں اس نے کیا کرنا ہے وہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے آشنا ہی نہیں ہو پائے گا .کیوں نہ کے جس نے پولیس افسر بننا تھا اسے پڑھانے کا کام دے دیا جائے تو کیا وہ اس ذمہ داری کو سمجھ سکے گا جو ایک باقاعدہ پیشہ ور استاد سمجھتا ہے.

    ” مشہور شاعر انور مسعود اپنے ایک استاد سید وزیر الحسن عابدی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ایسے استاد صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں. وہ ایسے پروفیسر تھے کہ کسی سٹوڈنٹ کو کلاس میں آنے نہیں دیتے تھے جس کے پاس کوئی سوال نہیں ہوتا تھا. وہ کہتے تھے علم سوال سے پیدا ہوتا ہے.” 

    ہم دیکھتے ہیں یونیورسٹیوں میں کالجوں میں سکولوں میں طالبعلموں کے جائز احساسات کو دبایا جاتا ہے. ان سے جائز سوال پوچھنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے. دیکھنے میں آیا ہے پروفیسر کلاس میں کہہ رہا تھا کہ سمجھ آئے یا نہ آئے چپ کر کے بیٹھنا ہے کوئی سوال نہیں پوچھنا. بعض دفعہ تو جائز سوال پوچھنے پر اساتذہ برہم ہو جاتے ہیں. اس طرح کے اور بھی بہت سے کام دیکھنے میں آئے جو مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں.

    کیا ایسی شخصیت کے مالک استاد واقع ہی پڑھانا چاہتے ہیں یا جان چھڑانا چاہتے ہیں. کیا وہ واقع ہی آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا چاہتے ہیں. میں یہ بھی ذکر یہاں پر کرنا چاہوں گا کہ ایک یونیورسٹی کے استاد کے ہاتھ میں سب کچھ ہوتا ہے وہ چاہے تو طالبعلم کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے اس لیے طالبعلم خوف میں رہتا ہے کہ استاد ناراض نہ ہوجائے اور وہ جائز سوال پوچھنے سے بھی کتراتے ہیں ایک اور مسئلہ یہاں پر ہے سیشنل مارکس کا جس کے پیچھے طالبعلم نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ایک ان پر سمسٹر سسٹم کا بوجھ ہوتا ہے. ہم مانتے ہیں ہمارا تعلیمی نظام درست سمت میں نہیں ہے مگر کیا اس بات سے انجان بن جائیں گے اور اساتذہ انہیں جیسا طرز عمل اختیار رکھیں گے.

    طالب علم تو نہ سمجھ اور نادان ہوتے ہیں ان کے پاس استاد جتنا علم نہیں ہوتا وہ تو اپنے استادوں سے سیکھتے ہیں اور استادوں کو ایسا ہونا چاہیے کہ ان کے ہر عمل سے سیکھا جائے.

    کچھ ماہر اساتذہ کے انٹرویوز لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ ہوا وہ استاد جو پڑھاتے وقت سوال پوچھنے پر برہم ہوجاتے ہیں یا ان کے رویے میں تلخی ہوتی ہے وہ مجبوراً وہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور وہ تجربہ کار نہیں ہوتے. وہ اس جگہ بالکل نئے ہوتے ہیں . انہیں سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ وہ کیا کریں یہاں میں اپنے استاد کا جملہ بولنا چاہوں گا کچھ لوگ تھانے دار بننا چاہتے تھے. مگر جب وہ نہ بن پائے تو انہیں پڑھانے پر لگا دیا جاتا ہے اور پھر وہ اپنی تھانے داری دوسروں کے مستقبل سے خوب جم کر کرتے ہیں

    تو خدارا یہ نوجوان نسل یہ طالبعلم ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں. اگر آپ ان کے سوالوں کی گردنیں دبائیں گے تو یاد رکھیں آنے والی نسلیں جاہل پیدا ہوگیں. ایک پودا جس کو کھلی فضا میں بڑھنا ہے چمن کی زینت بننا ہے ہم کیوں زبردستی اسے ڈھکن دے کر بند کرنا چاہتے ہیں. اللہ تعالی نے ہر ایک کو آزاد پیدا کیا ہے اور ہمیں آزاد ہی رہنے دینا چاہیے .

    [{کالم; }]

    Twitter @FaisalRafiSays 

    FaisalRafiSays@gmail.com

  • ہمارا تعليمی نظام تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ہمارا تعليمی نظام تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ہمارا تعليمی نظام

    تعلیم کی حیثیت کیسی بھی ملک و معاشرے کے لیے ایک مینارہ نور کی سی ہے جو قوم کی رہنمائی کرتی اور اسے اس کے نصب العین کے حصول کی جانب گامزن رکھتی ہے ۔ تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے

    تعیلمی نظام کو کسی بھی ملک کی ترقیاتی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا حق ہے اور یہ حق  کوئی کیسی انسان سے چھین نہیں سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں

      تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے  اس بات میں کوٸی شک نہیں کہ جن قوموں نے تعیلم کی طرف توجہ دی انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی معراج پالی امریکہ چین جاپان برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے اسی لاٸحہ عمل کو اپنا کر اپنے نصب العین کو پایا جو قومیں تعلیم کو ثانوی حیثیت دیتی ہیں وہ کبھی اپنے مقصد کو نہیں پاسکتیں کیونکہ جب پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی جاٸے تو دیوار ثریا آسمان تک پہنچ کر بھی ٹیڑھی ہی رہتے ہے

    خشتِ اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج

    آج تعلیم کی صورت ِحال یہ ہے کہ سب کو تعلیم دستیاب نہیں ہے۔اور پاکستان میں معیارِتعلیم بھی بہت کم ہے۔تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو معاشرے کے سبھی طبقات  چاہے وہ امیر ہو یا غریب کے لئے یکساں دستیاب ہو۔ قیام پاکستان کے ابتدائی چند سالوں سے لے کرآج تک کی حالت کا موازنہ کیا جاٸے تو فرق صاف ظاہر ہے ۔ہمارے ملک میں تعلیم کی کشتی گزشتہ پانچ دہاٸیوں سے اب تک منزل سے بےگانہ تلاطم خیز موجوں کے ستم سہہ رہی ہے

    افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک نظام تعلیم کا رخ پھیلاٶ کی طرف زیادہ ہے لیکن معیار پر توجہ نہ  ہونے کے باعث یہ پستی کی جانب گامزن ہے نتيجاً آج ہمارا نظام تعلیم نہ صرف ہمارے مقاصد کا درست طور پر ترجمان نہیں رہا بلکہ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ملکی ترقی کی ضمانت دینے سے بھی قاصر دکھاٸی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے فروغ کے باوجود آج بھی ہم اپنی حالت میں کوٸی  خاطر خواہ تبدیلی نہیں لاسکے

    اگرچہ تحریک انصاف حکومت نے اپنے طور سے تعليم کو اولی ترجيحات میں قرار دیا اور اصلاح تعیلم کے لیے مفید پالیسیاں مرتب کیں جس کے نتيجہ میں تمام تعیلمی ادارے کے نصاب کو یکساں کردیا گیا اور امید ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتری آٸے گی اور تعلیم کے فروغ کے حوالے سے البتہ یہ کوشش کامیاب رہی گی  اور اگر ۔ نظامِ تعلیم پر مزید توجہ دی جاٸیں تو اس مسلہ کا حل نکل سکتا ہے کیونکہ جس ملک میں تعلیم نہ ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔

    اگر ہمارا نظام تعلیم  بھی دنیا کے ترقی یافتہ اور جدید ترین نظام کے متوازی کھڑا ہوجاتا ہے تو ملک پاکستان تعلیمی میدان میں کامیابی کا معرکہ سر کر لیا گا۔

    آخر اتنا کہنا چاہوں گا کہ

    تجھے کتابوں نے کیا کور ذوق اتنا
    صبا سے بھی نہ ملا تجھے بوٸے  گل کا سراغ

    تحریر : ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی
    @HamxaSiddiqi

  • اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

    اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟ تحریر: رانا محمد جنید

    ‏اردو کی ڈگر پر منزل کہاں، ایک سوال ؟

     اردو ہماری تہذیبی شناخت ہے۔ اس میں شاید ہی اختلاف ہو۔ اور مزید اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ سرکاری زبان کے ساتھ ساتھ مادری زبان بھی ہے، اختلافات تو یہ ہیں کہ یہ صرف ماضی میں ہی ضروری تھی یا مستقبل میں بھی اس کے کچھ تقاضے ہیں ؟نئی صدی میں ہونی والی ترقی نے سب کچھ بدل ڈالا ہے انسانی زندگی، رہن سہن اور وسائل سب ہی میں بڑا تغیر برپا ہے اس کے ساتھ ہی اردو کا وہ ادب بھی کمزور ہوتا جا رہا جو آج سے ساٹھ ستر سال پہلے تھا نسلِ نو اردو زبان سے بہت دور ہوتی جا رہی ہے اور اردو روایات کو سمجھنے سے قاصر ہے یہ نسل نا تو غالب و میر کو سمجھتی ہے اور نا ہی فیض اور اقبال کے استعاروں کو. اقبال و غالب کے بنا بھی بھلا اردو کی کوئی تہذیب یا روایت ہے کسی بھی قوم کی روایات اس وقت تک ہی زندہ رہتی ہیں جب تک وہ انہیں اپنی روز مرہ زندگی میں بروۓ کار لاتا رہتا ہے جس دن سے وہ بے نیاز ہوتا ہے تو وہ نا پائید ہو جاتی ہیں قومیں کیسے تباہ ہوتی ہیں بڑے بڑے دانشوروں نے اس پہ بہت کچھ لکھا اور سب کا خلاصہ یہی نکلا جو قومیں اپنی روایات سے منہ موڑ لیتی ہیں وہ ختم ہو جاتی ہیں سکندرِ اعظم ہو یا چنگیز خان جنہوں نے آدھی دنیا فتح کی مگر ان کے ماننے والے جلد ہی ختم ہو گئے کیوں.؟ کیونکہ ان کے پاس اپنی روایات تھیں اور نا ہی کوئی تہزیب. آج کے دور میں زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ علم ہے. علم کے بنا زندگی کچھ بھی نہیں ہے. اور علم اسی زبان سے کی حاصل کیا جا سکتا ہے جو وقت کی ضرورت ہو اور اسی زبان سے حاصل کر دہ علم زندگی کو سہل کرتا ہے، اس وقت اردو زبان علم کی زبان بننےسے قاصر ہے یہ کام اس وقت انگریزی نے لے لیا ہے اور اب زندگی اسی کے ساتھ ہی چل پڑی ہے کوئی بھی زبان دو وجہ سے ترقی پاتی ہے ایک تو یہ کے تخلیق کردہ علم اس زبان میں ہو یا وہ زبان دنیا بھر کے علم کو اپنے اندر سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اور یہ صلاحیت اب انگریزی زبان میں ہی موجود ہے. جب دنیا بھر میں عربوں کی حکومت تھی اور انہی کا راج چلتا تھا تو عربی زبان اپنے عروج پر تھی، پھر دور آیا سلطنتِ عثمانیہ کا جس کی بدولت فارسی زبان کو عروج ملا اور اس وقت دنیا بھر انگریزوں کا راج ہے چاہے وہ بلاواسطہ ہو یا بالواسطہ اور اسی ہی کی بدولت اب انگریزی زبان کو باقی سب زبانوں پہ سبقت مل چکی ہے آج اکیسویں صدی ہے اور ہر ایک کی تہزیب کی بھاگ دوڑ سائنس کی نت نئی ایجادات پر ہے اور اردو اس قابل نہیں کے جس کے ذریعے علم حاصل کر کے سائنس کے پیچھے بھاگتی دنیا کے ساتھ چلا جائے اب یہ مقام صرف انگریزی زبان کو ہی حاصل ہے اردو زبان اب ایک محدود زبان بن چکی ہے، انیسویں صدی کو اردو زبان کے عروج کا زمانہ بھی بولا جا سکتا ہے جس میں اقبال، غالب، مودودی اور شبلی نعمانی جیسے شاعر و مفکر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی شاعری اور تفسیر و تاریخ کے ذریعے اردو زبان کو عالم اسلام تک پہنچا کے اردو زبان کا لوہا منوا دیا تھا اور پھر اس کے بعد ہم آزاد ہو گئے جس وجہ سے اپنی روایات اور تہذیب کا دام بھی ہاتھ سے چھوڑنے لگے اقبال و غالب کے بعد ان کی روحانی مسندیں خالی ہو گئی اور کوئی اس قابل نا رہا کے ان کے پیغام کو آگے پہنچائے اگر کوئی آیا بھی تو ہم نے اسے قبول نا کیا، اسی طرح سے پھر اردو زبان کو فروغ کم ہوتا چلا گیا اور اردو علوم زوال پزیر ہونے لگا پھر افسوس کا مقام یہ ہوا کے انگریزوں کے چلے جانے کی بعد بھی ہمارا نظام تعلیم نا بدل سکا ہم آزاد ہو کے بھی غلام ہی رہے، اگر کیسی نے کوئی سائنسی علم حاصل کرنا ہے یا کوئی بڑی نوکری کرنی ہے تو اسے انگریزی ہی سیکھنی پڑے گی اس بنا پر ہماری نوجوان نسل کے پاس اور کوئی رستہ نہیں تھا سوائے اپنی تہذیب سے دور ہونے کے، اب اگر کوئی نوجوان اردو زبان بولتے وقت انگریزی استعمال کرتا ہے تو وہ بہت پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور وہی نوجوان اگر انگریزی کے دوران اردو کے الفاظ کے چناؤ کر لے تو اس کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہی وجہ احساس کمتری کی وجہ بنتی ہے امرا اپنے بچوں کو بڑے سکولوں میں انگریزی پڑھنے کے لیے بھیج دیتے ہیں جو کے پھر بعد میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ جو چھوٹے اسکول میں پڑتا ہے اسے اردوتو ڈھنگ سے نہیں سیکھائی جاتی انگریزی کے دروازے تو پہلے سے ہی اس کے لیے بند کر دئیے جاتے ہیں، یہ رویہ ایک بہت بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے حکومت وقت اور بڑے حلقوں کو لازمی اس پہ سوچنا چاہیے اور ایک عالمی مسئلے کی طرح اس کا حل تلاش کرنا چاہیے

    ‎@Durre_ki_jan

  • وزارت تعلیم کا دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا سے متعلق بڑا فیصلہ

    وزارت تعلیم کا دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا سے متعلق بڑا فیصلہ

    وزارت تعلیم نے پاکستان بھر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے تمام طلبا کو پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں وزائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ رواں سال دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحان دینے والے تمام طلبا کو پاس کیا جائے گاکیونکہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے باعث فوری طور پر امتحانات لینا ممکن نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جو طلبا امتحانات میں فیل ہوئے ہوں گے ان کو ​33 فیصد رعایتی نمبر دے کر پاس کیا جائے گا۔رواں سال میٹرک کے طلبا کے چار مضامین جبکہ بارہویں جماعت کے طلبا کے تین مضامین کے امتحانات لیے گئے تھے اہم اعلان سندھ حکومت کے فیصلہ کو دیکھتے ہوئے کیا گیا۔

    کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن نے ثابت کیاکہ وزیر اعظم عمران خان ہی واحد قومی لیڈر ہیں…

    ذرائع کے مطابق میٹرک اورانٹرمیڈیٹ کےامتحانات سال میں 2 بار ہوں گے، امتحانات کو سپلیمنٹری امتحانات کا نام نہیں دیا جائے گا، آئندہ سال میٹرک امتحانات مئی، جون میں ہوں گے، آئندہ سال نیا سیشن اگست سے شروع ہو گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 67 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 26 ہزار 787 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 12 لاکھ 7 ہزار 508 ہوگئی۔

    ملک میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 67 اموات

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 988 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 4 لاکھ 14 ہزار 390، سندھ میں 4 لاکھ 45 ہزار 369، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 68 ہزار 748، بلوچستان میں 32 ہزار 591، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 168، اسلام آباد میں ایک لاکھ 2 ہزار 863 جبکہ آزاد کشمیر میں 33 ہزار 379 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 85 لاکھ 21 ہزار 728 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 53 ہزار 158 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 10 لاکھ 90 ہزار 176 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 5 ہزار 66 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    بے روزگاروں کے لیے خوشخبری: 46 ہزار اساتذہ کی بھرتی شروع

  • تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    آجکل تعلیمی اداروں میں چھوٹے بچوں کو پڑھانے کیلئےاساتذہ کا انتخاب کرتے ہوئے قابلیت سے زیادہ خوبصورتی کو ترجیح دی جا رہی ہے نئی نئی تعلیم سے فارغ ہوئی لڑکیوں کو بناء کسی تدریسی تجربے یا کسی تدریسی تربیت کے کم تنخواہوں پر اسکولوں میں بطور استاد رکھ لیا جاتا ہے جن کی تعلیمی قابلیت میٹرک ، انٹر اور بہت زیادہ ہو تو گریجویشن ہوتی ہے لیکن کوئی پروفیشنل سرٹیفیکٹ یا ڈگری نہیں ہوتی۔
    انہیں اسکول مالکان پیسہ بچانے کیلئے ہائر کرتے ہیں اور ایک ،دو گھنٹوں کی ورک شاپ کروا کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت پڑھانے کے لیئے اچھی طرح ٹیچر کی تربیت کر دی ہے جبکہ ہوتا سب کچھ اسکے برعکس ہی ہے ۔

    ان لڑکیوں کے پڑھانے کے طریقوں میں تو جو غلطیاں ہوں سو ہوں مگر جو ایک چیز سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے وہ ہے پسندیدگی یا جانبداری ۔ ان ٹیچرز کو تمام بچوں میں جو بچہ یا بچی زیادہ پیارے لگتے ہیں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے چاہے وہ گود میں بیٹھا کے کلر کروانا ہو یا اپنے ہاتھ سے لنچ بریک میں کھانا کھلانا ہو ۔ اب اگر یہی رویہ باقی تمام بچوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا تو قابلِ تعریف امر ہوتا مگر المیہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیتی عملہ دراصل معصوم ذہنوں میں تعصب ، جلن اور حسد جیسے جذبات( جن کے نام سے بھی یہ معصوم ذہن ناواقف ہیں ) بھر رہا ہے جب ایک ٹیچر جو کے تمام بچوں کو یکساں تعلیم اور شفقت دینے پرمعمور کی گئی ہے بچوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھے گی تو دوسرے کمسن ذہنوں پہ کتنا منفی اثر پڑے گا باقی بچے اس مخصوص بچے سے گھلنے ملنے سے کترائیں گے ایک طرح سے اس بچے کا کلاس میں سوشل بائیکاٹ ہو جائے گا جس معاملے میں اس بچے کا قصور بھی نہیں ہوگا اسکی سزا باقی بچوں کی طرف سے اسکو دی جائے گی

    دوسرے بچے اپنا احساس محرومی مٹانے کیلئے اسکو احساس کمتری میں مبتلا کر دیں گے اور یہ سب کوئی بھی بچہ جانتے بوجھتے نہیں کرتا لیکن یہ ان سے ہوتا چلا جاتا ہے اور وجہ ہوتی ہیں کم تعلیم یافتہ ، کم تنخواہوں پہ نوکریاں کرتی غیر تربیت یافتہ اساتذہ

    یہ مسئلہ صرف چھوٹی کلاسز تک محدود نہیں رہتا بلکہ جیسے جیسے بچوں کی کلاس بڑھتی جاتی ہے بچوں میں مختلف طرح کے رویے جنم لیتے ہیں کچھ بچے اسی امتیازی سلوک کے بناء پہ خود کو دوسروں سے برتر تصور کرنے لگتے ہیں ، کچھ اساتذہ کی خوشامد کرکے آگے بڑھنے کو ذریعہ بنا لیتے ہیں

    ایک چیز اور جو تعلیمی اداروں میں دیکھی جارہی ہے وہ والدہ یا کسی قریبی رشتہ دار کا اسی ادارے میں ٹیچر ہونا ہے جہاں انکے گھر کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوں پھر وہاں جانبداری کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ہے اساتذہ آپس میں دوستاں کر لیتی ہیں اور پھر اس دوستی کا شکار لائق اور قابل بچے ہوتے ہیں

    ان طور طریقوں سے ہم اچھے ذہنوں کا زیاں کردیتے ہیں وہ بچے جو روشن مستقبل کے ضامن تھے انکی آئندہ کی زندگی اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہے وہ پڑھائی اور اسکول سے بھاگنے لگتے ہیں لعن طعن کی وجہ سے انکا دل تعلیمی اداروں سے اچاٹ ہوجاتا ہے اور اگر غلط لوگوں کے ہاتھ چڑھ جائیں تو پوری طرح برباد ہوجاتے ہیں

    اس کے علاوہ کم عمر اور غیرپیشہ ورانہ ٹیچرز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آگے داخلے کیلئے سال کے بیچ میں اسکول چھوڑ کے چلی جاتی ہیں جن کی وجہ سے معصوم بچے جو ان اساتذہ کے عادی ہوجاتے ہیں ذہنی طور پہ پریشان ہوجاتے ہیں اور انکی تعلیمی کارکردگی پہ یہ تبدیلی بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔

    چھوٹے علاقوں میں یا نچلی سطح پہ کھولے گئے اسکول صرف اپنی طلبہ کی گنتی بڑھانے کی خاطر بگڑے ہوئے ، فیلیئرز اور بڑی عمر کے بچوں کو بھی کبھی سفازش ، کبھی اثر رسوخ اور کبھی لالچ کی بناء پہ باآسانی داخلہ دے دیتے ہیں جنکی وجہ سے کم عمر طلبہ کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ وقت سے پہلے ان معلومات کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں جس سے انکے کمسن ذہن سخت اثرانداز ہوتے ہیں انکا دھیان پڑھائی سے ہٹ کر دوسری سرگرمیوں کی جانب مبذول ہوجاتا ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ عملہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بے تحاشہ کوتاہیاں کرتا نظر آتا ہے ان کا خود کا مشاہدہ کم ہوتا ہے تو بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کے بجائے یہ ٹیچرز ان کو کبھی ڈانٹ کر کبھی غلط جواب دیکر گمراہ کر دیتے ہیں ۔ ان ٹیچرز کو امتحانی پرچہ (کوئسچن پیپر) بھی سیٹ کرنا نہیں آتا اکثر ہی غلط مارکنگ کرتی دیکھائی دیتی ہیں مثلاً دو لائن کے سوال کے نمبر ۴، ۶ نمبر ہونگے اور بڑے سوال یا مضمون کے کم نمبر سیٹ کیئے ہوتے ہیں

    پڑھے لکھے والدین سے یہ اساتذہ ایسے خوف کھاتے ہیں جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو ان سے اگر میٹنگ رکھی جائے تو عموماً آپ کو والدین اساتذہ کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور یہ اساتذہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے بچے کو ہی نالائق ، نااہل،نکما ثابت کرنے کے درپہ نظر آتے ہیں

    ان سب سے ہٹ کر ایک اور مسئلہ جو آجکل درپیش ہے وہ ہے پرائیوٹ ٹیوشن کا۔ پہلے اگر کوئی بچہ پڑھائی میں کمزور ہوتا تھا تو اس کے لیئے ٹیوشن کی سہولت سے استفادہ حاصل کیا جاتا تھا لیکن آج کل ٹیوشن کے معانی ہی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں اساتذہ اپنے ہی اسکول کے ہی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور امتحان سے پہلے ہی امتحانی سوالات بچوں کو رٹّا دیئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی بچے اعلٰی نمبر حاصل کرکے اگلی جماعت میں چلے جاتے ہیں اور جن طالبعلموں نے محنت کرکے تمام سلیبس سے تیاری کی ہوتی ہے انکے نمبر کم آجاتے ہیں ۔

    یہ جانبداری اور اجارہ داری کا سلسلہ دراصل ایک پوری نسل کی ذہنی تباہی کا موجب بنتا جا رہا ہے لیکن اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے انکی جانبداری اور اس ٹیوشن گردی کے نظام کے خاتمے پہ بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
    ہم ملک میں یکساں نظام تعلیم کی بات تو بہت زور و شور سے کرتے ہیں کہ ملک کے تمام طبقوں میں تعلیمی نصاب اور نظام یکساں ہونا چاہئیے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھرتیوں ، انکی اہلیت ، قابلیت اور تربیت کی بھی پوری جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی انہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپنی چاہئے ۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار ہیں اگر وہی بہترین نہیں ہونگے تو وہ ایک شاندار قوم کی تیاری میں کیسے معاون کردار ادا کر سکتے ہیں ؟ سوچیئے گا ضرور!
    Twitter handle : @HaayaSays