حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے بورڈ میں نئی اصلاحات کردی ہیں۔ضمنی کی بجائے اب سیکنڈ سالانہ امتحان ہوگا جس میں فریش طلباء وطالبات بھی شرکت کرسکیں گے
باغی ٹی وی :کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن و چیئرمین لیاقت علی چٹھہ کی زیر صدارت تعلیمی بورڈ کے بی او جی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔سیکرٹری بورڈ حبیب الرحمن گاڈی نے بریفنگ دی. اجلاس میں 18ایجنڈا پوائنٹس پر فیصلے دیئے گئے . چیئرمین و کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے بورڈ میں نئی اصلاحات کردی ہیں۔ضمنی کی بجائے اب سیکنڈ سالانہ امتحان ہوگا جس میں فریش طلباء وطالبات بھی شرکت کرسکیں گے۔نئے تعلیمی سال سے پرائیویٹ طلبہ بھی ریگولر کے ساتھ سال کے شروعات میں داخلہ رجسٹریشن کراسکیں گے۔پہلے پرائیویٹ طلبہ کو صرف امتحانات کے نزدیک رجسٹریشن کی سہولت حاصل تھی۔کمشنرنے پینشنرز کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنے کے فیصلہ کی بھی توثیق کردی ۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن دستاویزات میں غلط مضمون کے اندراج پر متعلقہ تعلیمی اداروں کو شوکاز نوٹسز جاری کئے جائیں گے۔ مضمون کے اندراج ، کلیریکل سٹاف کی غلطی کا نقصان کسی طالب علم کو نہیں ہونے دینگے۔کمشنر نے کہا کہ طلباء وطالبات کو رجسٹریشن سے قبل مضامین سے متعلق مکمل آگاہی دی جائے۔کمشنر و چیئرمین نے کہا کہ بورڈ میں کسی بھی افسر کو اختیارات کا ناجائز استعمال ہرگز نہیں کرنے دینگے۔مالی بدعنوانی اور فرائض میں غفلت پر سخت کارروائی ہوگی۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن خالد منظور،اے سی جی حیات اختر،ڈائریکٹر کالجز،تعلیمی بورڈ کے دیگر افسران اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین موجود تھے۔

Category: تعلیم
-

اب سپلیمنٹری کی بجائے دو سالانہ امتحان ہوں گے، نئی اصلاحات جاری
-

چونیاں . پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے مافیاء کا روپ دھار لیا،بھاری فیسوں نے والدین کی کمر توڑ دی
چونیاں تحصیل بھر کےنامور بڑے پرائیویٹ سکولوں نے بچوں کی فیسوں میں بڑا اضافہ تو کر دیا لیکن اس کے باوجود بچوں کو بہتر تعلیم اور کمپیوٹر لیب،سائنس لیب،پینے کاصاف پانی،لوڈشیڈنگ کی صورت میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام والدین پریشان،محکمہ ایجوکیشن آفیسرز خاموش تماشائی،شہریوں کا اعلیٰ حکام سے جلد نوٹس لے کر پرائیویٹ سکولوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ۔
باغی ٹی وی – (چونیاں سے عدیل اشرف کی رپورٹ) تفصیلات کیمطابق چونیاں تحصیل بھر میں موجود بڑے نامور پرائیویٹ سکول مالکان جنہوں نے والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا بچوں کی فیسوں میں کئی گناہ اضافہ کر دیا لیکن بدلے میں بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات دینے سے بھی قاصر ہیں،موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہےجب کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے لیے کمپیوٹر لیب، سائنس لیب کی سہولت سرے سے ہی موجود نہیں جبکہ کمیوٹر اور سائنس کا مضمون پہلی کلاس سے شروع ہوجاتا،معصوم بچوں کےپینے کے لیے صاف پانی کے سہولت نہیں، بجلی نہ ہونے کی صورت میں یو پی ایس یا جنریٹر کی سہولت نہیں بچوں کو شدید گرمی میں بیٹھنا پڑتا جبکہ فیسیں اتنی بھاری کہ ہر مہینےفیسیں ادا کرتے وقت والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ،آنکھوں میں بے پناہ سپنے سجائےوالدین سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیویٹ سکولوں میں اسلیے بچوں کو بھیجتے تاکہ اچھے ماحول میں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم میسر آسکے لیکن سکول مافیا آئے روز فیسیں تو بڑھا رہے لیکن سہولیات کم کر کرتے جارہے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن کےآفیسرز مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کو بغیر چیک کیے این او سی جاری کر دیتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف سرکاری سکولوں میں اساتذہ تو بہتر تعلیم یافتہ ہیں لیکن سکولوں کا ماحول بہتر نہ ہونے کہ باعث والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر نوٹس لیا جائے مکمل سہولیات فراہم نہ کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کو فوری بند کروایا جائے اور محکمہ ایجوکیشن کو وارننگ دے کر ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کے طرز پر اچھا تعلیمی ماحول فراہم کروائیں اور سرکاری اساتذہ کو بھی پابند کریں کے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں تو والدین پرائیویٹ سکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کروانے کو ترجیح دیں گے جس سےنہ صرف اچھی تعلیم میسر آنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکول مافیا بھی کنٹرول ہو گا بلکہ اس مہنگائی کے دور میں ماہانہ اخراجات میں بھی واضح کمی آئے گی۔ -

بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم
گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔
آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔
آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ
عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوریبہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’
اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)
اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہےلہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)
زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔
مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔
صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ"اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷] -

مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف
زندگی ایک رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، وہ بچے جو ابھی چھوٹے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بالکل نئی ہے ان کی آنکھوں میں تجسس ہوتا ہے اور جو لوگ جوانی کے جوبن پر ہیں ان کے لیے کچھ نیا ہے تو کچھ پرانا. اور وہ لوگ جو اپنی زندگی گزار چکے ہیں ان کے لیے یہ سب کچھ پرانا ہے.
لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان نے اس دنیا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے کچھ لوگ بغیر مقصد کے زندگی گزارتے ہیں.
زندگی بہت خوبصورت ہے اگر اس کے اندر کچھ ترتیب لائ جائے کوئی مقصد طے کیا جائے. ہر انسان کی زندگی اس کے ساتھ ہی شروع ہو کر اس کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے. لوگ ہمارے کاموں میں، خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان کے درمیان موجود ہیں.
جیسے ہی زندگی ختم ہوگی سارے کام ختم ہو جائیں گے اور لوگ کچھ دیر سوگ منا کر اپنے کام پر لگ جائیں گے. زندگی کی ڈور کٹنے کے ساتھ ہی ہمارا نام بھی ختم ہو جاتا ہے.
اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں. سو بار بھلانے پر بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یاد آجاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں.
اور مقصد ہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو مکمل زندگی کا لائحہ عمل دیتا ہے. ایسے لوگ زندگی ایک ترتیب سے گزراتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مرحلے کو کامیابی سے طے کرتے ہیں اور کامیابی بھی ان کے قدم چومتی ہے.
آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں ان کی مکمل زندگی انتھک محنت سے عبارت ہے. انہوں نے مکمل زندگی میں کام کیا اور لوگوں کو کام کام اور بس کام کا سبق دیا.
وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا ایک مقصد چنا اور اسے لیکر وہ آگے بڑھے. جب انہوں نے یہ مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کو اپنا مقصد بنایا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ بنے اور قوم نے انہیں بابائے قوم کا درجہ دیا.
دیکھیں اگر آپ کے پاس کوئی مقصد ہوگا تو ہی آپ کی زندگی میں کوئی کارآمد کام ہوگا. اسی وقت آپ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر سکتے ہیں. اس لیے آپ اپنی زندگی میں مقصد اور ترتیب کو لازم سمجھیں.
یاد رکھیں ہمیشہ کام کرنے والے لوگوں کو ہی یاد رکھا جاتا ہے اور وہ کام زیادہ بہتر ہوتا ہے جو ایک مقصد کے ساتھ ہو اسی لیے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں پھر دیکھیں کامیابیاں کیسے آپ کے قدم چومتی ہیں.
-

جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔گورنر پنجاب
ڈیرہ غازی خان۔گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ کسی معاشرے کی ترقی میں اعلی تعلیم کا کردار مسلمہ ہے، جامعات کو انڈسٹریز، کامرس، آئی ٹی اور ای مارکیٹنگ کی ذمہ داریوں کے احساس کو سمجھتے ہوئے عملی فیلڈ میں آنا ہوگا، تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا بہت ضروری ہے.وفاق اورپنجاب حکومت اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے بھرپور وسائل فراہم کررہی ہے .فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو کامیابیاں سمیٹنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،طلبہ کے چمکتے چہرے اس بات کے عکاس ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک و قوم کا نام روشن کرینگے۔
باغی ٹی وی۔ گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازیخان کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری زندگیوں میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے جن کا احسان اتارا نہیں جا سکتا،اعلی تعلیم میں بہترین صلاحیتیوں کو غازی یونیورسٹی بروئے کار لا رہی ہے، اساتذہ طلبہ کو مل جل کر کام کرنا سکھائیں کیونکہ دنیا میں اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے،طلبائوطالبات سافٹ ڈیجیٹل فیلڈز میں نام پیدا کریں، انہوں نے کہاکہ ہم سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں،مل جل کر کام کرنے والی قومیں ہی دنیا میں عروج حاصل کرتی ہیں ، خوشی ہے کہ غازی یونیورسٹی اکیڈمک کیلنڈر بنانے والی پنجاب کی پہلی یونیورسٹی ہے، انہوں نے کہاکہ جدید علوم کے احیاء کے ساتھ جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے بھی کام کرنا ہوگا،طلبائوطالبات جو کام کریں اچھے طریقے سے کریں، ہمارا آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہونا چاہئے .وائس چانسلر غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازیخان پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ غازی یونیورسٹی کے کانووکیشن کا مقصد پاس آوٹ طلبائو طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، یونیورسٹی میںطلبہ کو تعلیم حصول کے بعد درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ای روزگار کی ٹریننگ بھی دی گئی ہے،جدید ٹیکنالوجی سے متعلقہ ڈپارٹمنٹس کا قیام میری اولین ترجیح رہی ہے،طلبہ وطالبات تعلیم حصول کے بعد ملک و قوم کی ترقی کیلئے صلاحیتیں بروئے کار لائیں.غازی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن میں تین ہزار سے زائد طلبائو طالبات کو میڈلز اور ڈگریاں دی گئیں. قبل ازیںگورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے باقاعدہ کانووکیشن کے انعقاد کی اجازت دی اور یونیورسٹی کے پوزیشن ہولڈرطلبائو طالبات اور اساتذہ میں میڈلز تقسیم کیے۔

-

کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟
ہائرایجوکیشن کمیشن نے تمام جامعات سے وابستہ کالجز میں ایم ایس اور ایم فل کے داخلوں پر پابندی لگادی جسکے سبب اب ان کالجز سے ایم فل اور ایم ایس پرواگرام نہیں ہوسکیں گے لہذا اب طلبہ کو جامعات میں سے ہی ایم ایس، ایم فل کی ڈگری کرنی گی۔
اسلام آباد کے رہائشی طالب علم محمد رضوان نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ ایچ ای سی میں پروفیشنل لوگ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق ہوکر رہ گیا ہے اور اب انہوں نے جامعات سے وابستہ کالجز سے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کرنے پر پابندی تو لگا دی لیکن ان طلبہ کا نہیں سوچا جو دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں اور انکے قریب صرف کالج کی سہولت موجود ہے جبکہ جامعات ان سے کافی دور ہیں۔ لہذا میرا ایچ ای سی سے سوال ہے کہ اب ان طلبہ کا کیا بنے گا؟ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خالد سلطان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ہائرایجوکیشن کمیشن نے کالجز کی سطح پر ایم ایس اور ایم فل پروگرامز پر پابندی لگا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس ڈگری میں ریسرچ اور کورس ورک کیلئے جس قسم کے معیار کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی کالج میں برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ جو معیار ایک جامع فراہم کرسکتی ہے وہ کالج میں مشکل ہے۔
پروفیسر خالد سلطان نے مزید بتایا کہ: ایچ ای سی کے اس فیصلہ سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ خوش نہیں ہونگے کیونکہ ہر ایک کے قریب جامع نہیں ہوتی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایچ ای سی ایم ایس اور ایم فل کے داخلہ پر پابندی کے اس فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں کیونکہ بعض اوقات ایسے فیصلوں سے کالجز، طلبہ اور سول سوسائٹی کے جانب سے دباو آتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ لیکن جس قسم کے معیار کی ان ڈگریوں کیلئے ضرورت ہوتی ہے اسے برقرار رکھنا بھی ایچ ای سی کی ذمہ داری ہے۔
اس سلسلے میں باغی ٹی وی نے ایچ ای سی کا موقف لینے کیلئے کوشش کی مگر ایچ ای سی ہیڈ آفس اسلام آباد میں کسی سے رابطہ نہ ہوسکا۔
-

کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل کو انگریزی بولنے پر ٹوک دیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی-
باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی۔
درخواست گزار کے وکیل کوکب اقبال نے موقف اپنایا کہ اردو زبان کے نفاذ کا حکم 2015 میں دیا گیا لیکن آج تک عمل نہیں ہوا جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت سی ایس ایس امتحانات میں بھی اردو شامل کرنے کا کہا گیا تھا۔
وکیل کوکب اقبال نے عدالت سے کہا کہ میں نے 2003 میں درخواست دائر کی تھی اور چاہتا ہوں میری زندگی میں کیس کا فیصلہ ہو جائے، سپریم کورٹ وزیر اعظم کو ہدایات دیں کہ اردوزبان کو سرکاری زبان کےطور پر رائج کرے بیوروکریسی سپریم کورٹ کےبجائےوزیراعظم کے حکم کو مانتی ہے۔
سپریم کورٹ کے از خود دائرہ اختیار کو ریگولیٹ کرنے والی آئینی ترمیم منظور
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ اچھی بات نہیں کہ حکومت اردو زبان کے نفاذ میں تاخیر کر رہی ہے وکیل کوکب اقبال نے کہا کہ امیر کا بچہ سی ایس ایس کر لیتا ہے اور غریب بس کلرک ہی بنتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا، ہمارے بزرگ انگریزی کے بجائے عربی اور فارسی جانتے تھے۔
سپریم کورٹ نے وفاق اور پنجاب حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پرنافذ کرنے کا حکم دیا تھا اور تحریری فیصلہ بھی اردو میں جاری کیا تھا سائلین بھی متعدد بار یہ شکایت کرچکے ہیں کہ کیس کی کارروائی انگریزی میں ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھ ہی نہیں آتی، جو بعد میں انہیں وکیل سے پوچھنی پڑتی ہے۔
گذشتہ برس اردو زبان رائج نہ کرنے پر وکیل کوکب اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی گذشتہ برس ستمبر اور رواں ماہ جنوری میں بھی اس کیس کی ایک سماعت ہوئی تھی جس میں حکومت سے جواب طلب کیا گیا تھا۔
یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
ستمبر 2015 میں جاری کیے گئے اردو زبان کیس کا تفصیلی فیصلہ
آئین کا آرٹیکل 251 اس معاملے پر واضح ہے، جس کی شق نمبر ایک کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور سرکاری سطح پر اس کے فروغ کے انتظامات ہونے چاہییں شق نمبر دو کے مطابق دفتری زبان انگریزی رہے گی، جب تک اردو کو اُس کا مکمل متبادل نہیں بنا دیا جاتا اسی طرح شق نمبر تین کے مطابق صوبائی اسمبلی قومی زبان کے ساتھ ساتھ صوبائی زبانوں کی ترویج کے لیے بھی اقدامات کرے۔
اسی بنیاد پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا تھا کہ ‘آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے۔’
کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں
بارہ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں مزید لکھا گیا تھا:
قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں، تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا ترجمہ کر لیا جائے بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے والے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی ادارے مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کریں۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ان عدالتی فیصلوں کا، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں، جو آرٹیکل189 کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازماَ اردو میں ترجمہ کروایا جائے اور عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔‘
مزید کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کے اجرا کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔
پاکستان کو 60 کی دہائی کی معیشت بنانا چاہتے ہیں،وزیر خزانہ
-

اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب
چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب
اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی اجتماع ارکان برائے انتخاب ناظم مقام گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں اراکین کے علاوہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ کلیم اللہ نے حصوصی شرکت کی
اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ نے اراکینِ چارسدہ جمعیت سے استصواب رائے کے بعد سیشن 2022-23 کے لیے چارسدہ کالج کے طالب علم نسیم الرحمٰن کو ناظم منتخب کیا اور ان سے اپنے ذمہ داری کا حلف لیا
اسی طرح ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اراکین سے مشاورت کے بعد فیصل خان کو انچارج شعبہ تنظیم و ترتیب و اہتمام دفتر، محمد اشفاق کو ناظم علاقہ کالجز، ذاکر اللہ کو ناظم علاقہ وسطی، مصباح اللہ کو ناظم علاقہ شمالی، ملک عبید کو ناظم تنگی سرکل جبکہ وحید اللہ کو صدر بزم شاہین مقرر کرکے ان سے ان کی زمہ داریوں کا حلف لیا
اس موقع پر محمد اشفاق، ذاکر اللہ اور مصباح اللہ پر مشتمل 3 رکنی پلاننگ کمیٹی بنائی گئی جو چارسدہ میں جمیعت کے کام کے وسعت کے حوالے سے احباب اور ماہرین سے ملاقات کریگی
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چارسدہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کو حقیقی معنوں میں طلباء کا ہراول دستہ بنائیں گے -

سب کی جستجو آگے بڑھنا ؟ تحریر:عبد الوحید
ہر کوئی زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے چاہے وہ کھیل کا میدان ہو ، کاروبار کا میدان ہو ، تعلیم کا میدان ہو یا چاہے کوئی بھی میدان ہو ہر ایک آگے بڑھنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ۔ سب اپنی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں ۔ تاہم ایک طالب علم کے کامیاب ہونے کا مطلب بہتر گریڈ اور مجموعی ترقی حاصل کرنا ہے۔ کامیاب مطالعاتی حکمت عملی پر موثر طریقے سے عمل کرتے ہیں اپنی آخری تاریخ کا بہتر انتظام کرتے ہیں اور اپنی عادات کو اس طرح بہتر بناتے ہیں جس سے انہیں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔ اگرچہ تمام طلبا کا سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے لیکن کچھ ثابت شدہ طریقے زیادہ کامیاب ہونے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔
کامیابی زندگی میں ٹھوکر کھانے کے مناسب حصے کے بعد آتی ہے۔ کلید یہ ہے کہ مایوس نہ ہوں اور صیح وقت پر ضروری تبدیلیاں کریں۔ اس وقت تک ایک طالب علم تعلیمی فضیلت کے حصول کے لیے پرعزم ہے؛ وہ کامیاب ہونے کا پابند ہے۔اگر آپ زندگی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تواچھی طرح سے خود ڈھالنا چاہیے۔ آپ کو جو کچھ کرنا ہے اور کب کرنا ہے اس کا منصوبہ بنائیں۔ اس سے آپ تمام حالات سے صیح معنوں میں آگاہ رہ سکیں گے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کاغذ پر منصوبہ بناتے ہیں یا اپنے کمپیوٹر پر۔ زیادہ اہم بات اس پر عمل کرنا ہے۔ آخری تاریخ، امتحانات، ذاتی اور کام سے متعلق واقعات کے ساتھ اس منصوبہ ساز میں تمام اہم معلومات شامل کریں۔آپ اپنی زندگی کو جتنا ہموار کریں گے، اتنا ہی آپ چیزوں کو موثر طریقے سے سنبھالنے کے بارے میں وضاحت حاصل کر سکیں گے۔ طلباء کے لئے سخت تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اوسط گریڈ حاصل کرنا عام بات ہے۔ جبکہ کچھ دوسرے لوگ جو کم وقت کی سرمایہ کاری کرتے ہیں انہیں بہت بہتر نتائج ملتے ہیں۔ ایک کامیاب طالب علم بننے کی کلید ہوشیار تعلیم حاصل کرنا ہے نہ کہ مشکل۔اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ ایک مکمل اکائی ہے، صرف ایک باب ہے یا صرف ایک موضوع ہے، اسے بار بار گھسیٹنے کے بجائے اسے سمجھنے پر توجہ مرکوز کریں۔ اس سے چیزوں کو بہتر طریقے سے واضح کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ، باقاعدگی سے مطالعہ کرنے کا نقطہ بنائیں اور کبھی کبھار نہیں۔ آپ کو مطالعاتی مواد کا جائزہ لینے اور اسے صیح طور پر نافذ کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اگر آپ کسی تکنیکی موضوع سے نمٹ رہے ہیں تو کچھ سوالات کی مشق کریں اور ہوشیار کا مطالعہ کریں۔کسی نہ کسی طریقے سے کسی بھی قسم کی خلل ہمیشہ آپ کی زندگی میں ظاہر ہوگا۔ آپ کو اپنی تعلیم پر گہری توجہ مرکوز کرنے کا ایک نقطہ بنانا چاہئے تاکہ سیکھنا بہت زیادہ موثر ہو۔کسی بھی ایسی چیز سے چھٹکارا حاصل کریں جو آپ کی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ایک مقصد کے ساتھ اتنا مضبوط کام کریں کہ آپ کا عزم متاثر نہ ہو جو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
آپ کی ذہنیت آپ کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں لائے گی اور آپ کو دوسرے طلباء کے مقابلے میں نمایاں کرے گی۔ ایک اور انتہائی اہم بات پر یقین کرنا ہے۔آپ کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہونا چاہئے اور اپنے آپ کا بہترین ورژن بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اس ذہنیت میں آجائیں گے تو آپ کو بہت جلد تیز رفتار ترقی کا تجربہ ہوگا ہم سب میں الگ الگ صلاحیتیں ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ ہم سب مختلف انداز میں تخلیق کیے گئے ہیں۔کامیاب طلباء اپنی صلاحیتوں کا موثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ دوسروں کو نقل نہ کرنے کا نقطہ بنائیں۔ اپنا راستہ بنائیں اور اس پر چلنے کے لئے کافی پراعتماد رہیں۔
-

طالب علم شاہ فہد نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا
چارسدہ ( ) گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ کے شعبہ انگریزی کے طالب علم شاہ فہد نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔
انہوں نے اپنے بی ایس تھیسز جس کا عنوان "A comparative study of pantheism in William Wordsworth and Mirza Khan Ansari’s poetry”تھا کو انٹرنیشنل جرنل آف پختونخواہ نے شائع کردیا۔
انہوں نے اس کامیابی کو اپنے اساتذہ کی مرہون منت کا نتیجہ قرار دیا اور اپنے اساتذہ کرام، سپروائزر کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اس کامیابی کو اپنے والدہ کا نام کیا۔
یاد رہے کہ یہ واحد طالب علم ہے جس کا بی ایس لیول کے ریسرچ تھیسز ایک انٹرنیشنل جرنل نے شائع کیں۔