Baaghi TV

Category: تعلیم

  • سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا انٹر ایکٹیوسائنس سینٹر

    سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا انٹر ایکٹیوسائنس سینٹر

    کراچی: سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا سائنس سینٹر داؤد فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کیا گیا ہے جسے دی میگنفی سائنس سینٹر کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی "ہم نیوز” کے مطابق تین منزلوں پر مشتمل اس سینٹر کو مختلف سائنسی موضوعات کے لیے وقف کیا گیا ہے جن میں انسانی جسم، آواز، روشنی، فریب نظر، نقل و حمل اور قابل تجدید توانائی سمیت قوت و حرکت جیسے سائنسی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    اس سینٹر میں طلبا و طالبات انتہائی دلچسپ طریقے سے نہ صرف انسانی اعضا کے بارے میں جان سکتے ہیں بلکہ عملی طور پر تجربات کرکے بھی دیکھ سکتے ہیں سینٹر کا ہدف سائنسی تصورات اور اصولوں کو بہتر انداز میں سمجھا کر سائنس کو مقبول بنانا اور سینٹر آنے والوں میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

    اس میں تمر یعنی میگروز کے جنگلات کے ماحولیاتی نظام کو بھی سینٹر کا حصہ بنایا گیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ مختلف کھیلوں کی سرگرمیاں بھی سینٹر کا حصہ ہیں جن سے صرف بچے ہی محظوظ نہیں ہوں گے بلکہ بڑے بھی اپنا اچھا وقت گزار سکیں گے۔

    میگنفی سائنس سینٹر میں کراچی محلہ بھی بنایا گیا ہے اس محلے میں انتہائی دلچسپی کا پہلو پوشیدہ ہے کھیل کھیل میں کراچی کا عکس دیکھنے کو بھی مل جاتا ہے۔

    طلبہ کو ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے آگہی دینے کے لیے ایک ایمبولنس کا ماڈل بھی یہاں رکھا گیا ہے۔ انسانی دل بھی ڈسپلے کیا گیا ہے جس میں برقی آلات کی مدد سے جان ڈالی گئی ہے اس وجہ سے وہاں آنے والوں کو دل دھڑکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    ریلوے روڈ پر قائم یہ عمارت رلی برادرز کی تھی جسے 1888 میں قائم کیا گیا تھا۔ برطانوی راج میں یہاں ویئر ہاؤس موجود تھا داؤد فاؤنڈیشن نے 1969 میں یہ عمارت خریدی جسے 1974 میں ایشین کوآپریشن بینک کو منتقل کردیا گیا لیکن داؤد فاؤنڈیشن نے 1976 میں عمارت دوبارہ خرید لی۔

    داؤد فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سبرینا داؤد نے یقین ظاہر کیا ہے کہ میگنفی سائنس سینٹر ملک میں سائنس کی تعلیم کو سب تک پہنچانے، اسے بہتر بنانے اور نئی نسل میں سائنس کی جستجو بڑھانے میں معاون و مددگارثابت ہوگا۔

    سائنس سینٹر کی تقریب رونمائی سے قبل ہی اس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر سائنس سینٹر میں داخلے کی فیس 8 سو روپے مقرر کی گئی ہے۔

  • ایک قوم ایک نصاب اور طبقاتی نظام تعلیم

    ایک قوم ایک نصاب اور طبقاتی نظام تعلیم

    تحریر: رضی طاہر

    کہتے ہیں سیاست دان ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کے بارے میں انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کاموں کے نتائج انہیں اگلے انتخابات میں ملیں گے لیکن قائدین کی نظر اگلے انتخابات پر نہیں بلکہ اگلی نسل پر ہوتی ہے، وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جس کے پھل سے نسلیں سیراب ہوتی ہیں، ایک قوم ایک نصاب کے اقدام کی بھی مثال ایسی ہی ہے، ممکن ہے کہ ابھی اگلے چند سالوں میں اس کے نتائج سامنے نہیں آئیں گے لیکن اگلے دو عشروں میں ایک نئی نسل جب سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں مختلف بجٹ کے ساتھ ایک جیسا نصاب پڑھ کر کسی مقابلے کے امتحان میں جائے گی تو کوئی امیر و غریب، انگلش و اردو میڈیم کی تفریق کے بغیر قوم کے نوجوان بیٹھے ہوں گے۔ یقینا اس کے نتائج تب سامنے آئیں گے، دیہاتوں میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ غریب کا لڑکا نمبردار نہیں بن سکتا لیکن ایک قوم ایک نصاب دراصل انہی نمبرداریوں کو ختم کرنے کی جانب بارش کا پہلا قطرہ ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تیسرے سال کو مکمل کرچکی ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے عوام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سب سے بڑا قدم ہمارے مستقبل کے معماروں کو ایک نصاب پڑھانا ہے، حکومت کی جانب سے اس کے اعلان کے بعد اشرافیہ میں کھلبلی سے مچ گئی ہے اور تعلیمی اداروں کے نام پر بڑے کاروباری مراکز کے مالکان نے عدالتوں کے چکر کاٹنا شروع کردیئے ہیں، وہ اپنی دوکانداریاں اور نمبرداریاں ختم کرنے کیلئے یہ چاہتے ہیں کہ عدالت آئین کے متصادم فیصلہ دے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوگا۔ پاکستان کا آئین ملک کے ہربچے کو تعلیم کا حق دینے کے ساتھ ساتھ مساوات کا بھی درس دیتا دکھائی دیتا ہے اور مستقبل کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک پاکستان کے ایوان میں کسی نوجوان کی جگہ نہیں تھی لیکن گزشتہ انتخابات نے کئی بڑے بڑے برج الٹادیئے اور ان کی جگہ نوجوانوں نے لی، اب ایک وقت ایسا آئے گا کہ کسی دیہاڑی دار مزدور کا باصلاحیت بچہ بھی اسسٹنٹ کمشنر بن سکے گا، مقابلے کے امتحان میں بازی لے گا اور سول سروسز میں ایمانداری کو زیور بناتے ہوئے اپنی جگہ بنائے گا۔

    ایک قوم ایک نصاب کا آغاز دراصل وزیراعظم عمران خان کے انتخابی مہم میں لگائے گئے نعرے کی تکمیل کی جانب بڑا قدم ہے، مینار پاکستان کے سائے تلے دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگا تھا، اب وہ وقت دور نہیں کہ جب یقینا نمبردار کے بیٹے کے مقابلے میں کئی نمبردار مقابلے میں تیار ہوں گے۔ایک قوم ایک نصاب طبقاتی تقسیم کے بت کو پاش پاش کردے گا، پاکستان میں ہمیشہ سے ایسے نہیں تھا، لیکن جب سے ہم نے اکیسیویں صدی میں قدم رکھا، پاکستان میں تعلیم کے ساتھ تجارت نتھی ہوگئی اس وقت سے طبقاتی فرق نے جنم لیا، جب تعلیم کو سمجھنے، سمجھانے اور تربیت حاصل کرنا کا ذریعہ اور حصول علم کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا تب کوئی طبقاتی تفریق نہیں تھی۔

    پاکستان میں ویسے تو کئی نظام تعلیم رائج ہیں اور لاتعداد نصاب، لیکن اگر ہم بالخصوص تقسیم کی بات کریں تو ہمارے زوال پذیر تعلیمی نظام نے چار طبقات میں تقسیم نسل تیار کی، یا یوں کہہ لیں کہ ہمارا نظام چار حصوں میں تقسیم ہے، پہلا نظام روایتی سکولوں میں رائج ہے جس میں اردو میڈیم، نیم انگریزی میڈیم یا اگر سندھ کی بات کی جائے تو وہاں سندھی میڈیم سکول قائم ہیں، دوسرا طبقہ یا نظام مکمل انگریزی میڈیم سکولوں کی صورت میں رائج ہے جہاں کی فیس عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، تیسرا طبقہ او اور اے لیول کا ہے اس طبقے میں وہی تعلیم حاصل کرپائے گا جو ماہانہ پچاس، ساٹھ ہزار فیس بھر سکتا ہو، گویا پیسے کی بنیاد پر تقسیم کردی گئی، اب غریب کا بچہ چاہے جتنا بھی باصلاحیت کیوں نہ ہو، یہاں اس کے والدین کے پر جلتے ہیں۔ چوتھا طبقہ مدارس کا ہے جہاں پر حکومتی نصاب کے ساتھ خاص فرقے یا مذہب بھی گھول کر پلایا جاتا ہے،لاکھوں کی تعداد میں بچے مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ دیگر اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے اور مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں زمین آسمان کا فرق واضح محسوس کیا جاسکتا ہے۔

    اب یہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے، ایک دوسرے کی سننے کی بجائے ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں، ایک دوسرے کی رائے اور سوچ کو رد کرتے ہیں۔ اس طبقاتی تقسیم کے نتیجے میں ہم نے مختلف نصاب، مختلف ماحول میں پڑھا کر جو کھیپ تیار کی تھی وہ ہمارے سامنے ہیں، وہ ہم لوگ ہیں جو 20سے30کے درمیان ہیں، تقسیم در تقسیم،اختلاف برائے اختلاف، سوشل میڈیا پر قوم کی یکجہتی کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں، تاہم ا ب حکومت وقت نے ایک قوم ایک نصاب کا فیصلہ کرکے طبقاتی نظام کو سمندر برد کرنے کاآغاز کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے ملک کے تمام ادارے، سیاسی جماعتیں، مذہبی قائدین اور مشائخ ایک قوم ایک نصاب کو رائج کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں،یہ ہی واحد صورت ہے جو طبقاتی نظام کی تنسیخ کے لیے ضروری ہے۔

  • سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
    سماتی کہاں اس فقیری میں میری
    سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
    چلی کچھ نہ پیرِ کلیسا کی پیری
    ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
    ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
    سیاست کی دوڑ میں ہانپے ہوئے سیاستدان، ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے انفرادی مفاد کی خاطر ہر چیز کا سودا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہر ایک اپنی جماعت کے دفاع میں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے۔ جس کی مد میں کبھی پانامہ کیس سامنے آتا ہے تو کبھی پینڈورا لیکس، ان سب میں نظام تعلیم کے مسائل اور مشکلات حکومتی ترجیحات سے کوسوں دور ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی ملک کی بنیادیں تعلیم پہ استوار ہوتی ہیں اور ہر وہ ملک اور معاشرہ جو تعلیم سے منہ موڑ لیتا ہے وہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دینے کے بجائے ان کے سامنے نت نئے سیاسی ہتھکنڈے رکھ دیے جاتے ہیں کہیں کرپشن اور کہیں بے حیائی، کہیں مہنگائی کے مسائل تو کہیں سکرین پہ بیٹھے سیاستدانوں کے جھگڑے اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو! یہ تربیت ہے ہمارے ان معززین کی جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی بھاگ دوڑ ہے۔ جنہوں نے ملک کے ساتھ وفا کے عہد کر رکھے ہیں۔
    حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
    جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
    اس تحریر کی بساط سے میرا مقصد ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے جس کی وجہ سے طالبعلم نہایت مایوسی کا شکار ہیں۔ میٹرک اور انٹر کے نتائج تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں نجانے کتنی تواریخ دی گئیں اور انٹر کے نتیجے سے ایک دن قبل اس کو منسوخ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا اور ابھی تک نئی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث طالبعلم تذبذب کا شکار ہیں انہیں اپنا سال برباد ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کورس کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ملکی ترقی کی ضامن افرادی قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ یونیورسٹیوں کے داخلے رکے ہوئے ہیں ان کے سمسٹر سسٹمز تباہی کے دہانے پہ کھڑے ہیں لیکن ہماری حکومت کو سیاست سے فرست ہی نہیں۔ پروموشن پالیسی منظور ہونے کا بہانہ بنا کر عوام کو لالی پاپ دیا گیا لیکن تاحال اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔ جن بورڈز کا رزلٹ آیا ہے ان میں بھی مردان بورڈ میں 1100 میں سے 1100 نمبر دیے گئے جو کہ ناممکنات میں سے ایک بات تھی۔ ہماری تعلیم کا معیار کس قدر گر گیا اس کا اندازہ اس بات سے ہم بآسانی لگا سکتے ہیں۔ بچوں کا رٹالائزیش کی مشین میں گھمایا جاتا ہے اور پھر سوچی سمجھی سکیم کے مطابق پرچہ آتا ہے جس کا طلبعلم کو پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ کونسی سبق میں سے معروضی اور انشائیہ کے کتنے کتنے سوال آنے ہیں اور سوالوں کا بھی تقریبا سب کو اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے تباہی یہ برپا کی کہ ہمارے ہاں کوئی سائنسدان، فلسفی اور کوئی اہل علم نہیں پید ہوتا۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے ہی بزرگوں نے سائنس کی بنیاد رکھی تھی جابر بن حیان جسے کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے، ابوالقاسم زھراوی جس نے قانون فی الطب لکھ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا، محمد بن موسی الخوارزمی جس نے الجبرا کی شناخت کروائی، ابن الہیشم جس نے کیمرے کی ایجاد کی اور روشنی کے آنکھ میں داخل ہونے کی قیاس آرائی کی، عمر خیام نے شمسی کیلنڈر بنایا، عباس بن فرانس جس نے پہلا ہوائی جہاز بنایا ، محمد بن زکریا رازی نے تپ دق کا علاج اور چیچک کا ٹیکہ بنایا۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔
    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
    نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا
    مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
    اور دوسری طرف کویڈ کے کیسس کم سے کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور تا حال تعلیمی نظام کو اس طرح بحال نہیں کیا گیا ، جامعات بند ہیں۔ جب کے ملک میں مارکیٹس سے لے کر پارکوں تک، شادی حال اور سینما گھر سب کھلا ہے بند ہیں تو صرف جامعات۔ جہاں نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل سکرین ٹائمنگ بڑھنے سے مختلف مسائل کا بھی شکار ہو رہی ہے ۔ آنکھوں کے مسائل، اعصابی نظام کے مسائل اور ڈپریشن سر فہرست ہیں۔ یہ سب صرف اور صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم لوگوں کے لیے تفریح تعلیم سے بڑھ کے ہے، ہمارے لیے سیاست اور کاروبار سب اولین ترجیح ہیں تعلیم تو کہیں ہے ہی نہیں۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو تعلیمی نظام متاثر کرنے سے روکا جائے اور جہاں ہر اخبار سیاسی خبروں کی سرخیوں سے مزین ہوتا ہے وہاں تعلیمی مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ کیونکہ یہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنا کسی سمجھدار قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں تو ملکی سرمائے کو نہایت حفاظت کے ساتھ سنبھالنے سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور ترقی پذیر ملکوں کی فہرستوں سے نکل کہ ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں سر فہرست آ سکتے ہیں۔ خدارا ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔
    زمانے کے انداز بدلے گئے ۔
    نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔
    ہوا اس طرح فاش راز فرنگ ,
    کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ ۔
    پرانی سیاست گری خوار ہے ,
    زمیں میر و وسلطاں سے بے زار ہے ۔
    گیا دور سرمایہ داری گیا ۔
    تماشا دکھا کر مداری گیا

    :
    Twitter: @iamhumera_

  • علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اس کا پہلا لفظ "اقرائ” تھا، یعنی "پڑھ”۔ اس بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پڑھنے یعنی علم سیکھنے کے کیا فوائد ہیں، کیوں کہ جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ پڑھ لیا، تو اللہ تعالی نے پورا قرآن شریف آپ کے دل میں اتار دیا۔ اس ایک لفظ اقراءیعنی پڑھنے کے لفظ کی اہمیت افادیت کو اچھی طرح جان سکتے ہیں اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ علم کے بغیر کوئی بھی کام اور عمل بے معنی ہے، یعنی علم ایک ایسی شے ہے، جو ہم سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا اور ہم اس کو جتنا پھیلائیں گے، یہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا، مگر افسوس آج ہم علم کی اہمیت و افادیت کو بھول چکے ہیں۔ یہ علم ہی ہے جو ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے اور ہمیں یہ پہچاننے میں مدد دیتا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل ہے۔ آج پاکستان کی عوام بہت سے مسائل سے گزر رہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم علم سے بہت دور ہو چکے ہیں اور جس کی وجہ سے ہم اپنا اچھا اور برا سوچنے سے قاصر ہیں۔

    دورِ حاضر بلکہ کسی بھی دور میں کوئی بھی تعلیم کی حقیقت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا، جو معاشرہ تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے، وہ ہر میدان میں پستی اور زوال کا شکار رہتا ہے۔ علم کی افادیت اپنی جگہ ایک کثیر خزانہ سمیٹے ہوئے ہے، ہمیں علم کے بارے میں کئی احادیث اور اقوال ملتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ "علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی آغوش تک” اسی طرح حضرت علی کا فرمان ہے کہ "علم مال سے بہتر ہے، کیوں کہ تمھیں مال کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، جب کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے۔”

    مندرجہ بالا حدیث شریف اور قول سے تو آپ کو علم کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ ہو ہی گیا ہوگا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم علم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، اس خوف اس کے کہیں وہ علم کی دولت سے آشنا ہوکر ظالم لوگوں سے اعلان بغاوت نہ کر دیں۔

    جب انسان دنیا میں آتا ہے، بڑا ہوتا ہے، ہوش سنبھالتا ہے۔ گھر والے کچھ ہی بڑے ہونے کے بعد اسے سکھا دیتے ہیں کہ اسے کیا بننا ہے، فوجی، ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل وغیرہ۔ پھر وہ اس کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور وہ زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے مگر 98 فی صد متوسط طبقے کی تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے اور اس کا خواب کبھی شرمندہ ¿ تعبیر نہیں نہیں ہو پاتا اور وہ ناخواندہ ہی رہ جاتا ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی جزو ہے، دنیا بھر کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کی وجہ سے دوسری قوموں پر سبقت حاصل کرتی ہیں۔ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کا تصور ہی نہیں کر سکتی، مگر جب پاکستان کی بات ہو تو قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکومت نے تعلیم پر خاص توجہ نہ دی اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھا۔

    شاید حکمرانوں کا کردار ایسا رہا ہی نہیں کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھ سکتے کبھی اسمبلیوں میں منتخب کردہ نمائندگان کی جعلی ڈگریاں نکل آتی ہیں، تو کبھی نظام ہی میں تبدیلی لاکر تعلیم کی شرط کو کم کر دیا جاتا ہے۔

    پاکستان کی 70 فی صد آبادی آج تک ناخواندہ ہے۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوش حال وباوقار ملک بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں پورے عزم کے ساتھ اپنے تمام تر وسائل استعمال کرتے ہوئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ اس عمل کے لیے پاکستان میں دُہرے تعلیمی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور کم سے کم عرصے میں ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں ناخواندگی کے خلاف کام کیا جائے ناخواندگی ختم کرنا نا ممکن نہیں، لیکن مشکل ضرور ہے۔ ملک میں صرف ایک فی صد لوگ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور پھر یونیورسٹیوں پر نظر ڈالی جائے، تو نجی یونیورسٹیوں میں غریب بچے کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ یہ پاکستان کے نظام تعلیم سے ایک مذاق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اچھی تعلیم حکمرانوں جاگیرداروں وڈیروں کے لیے دوسرے درجے کا معیار تعلیم ہے اور اس لیے بھی انتظام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بہترین تعلیمی نظام کے لیے کوریا، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں حکومت کو چاہیے کہ دُہرے تعلیمی نظام مکمل طور پر خاتمہ کرے اور پاکستان کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا زیادہ سے زیادہ قیام عمل میں لایا جائے اور وہاں یک ساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے۔

    ٭٭٭

    ٹیوئٹر : ‎@fahadpremier

  • استاد قوم کا محسن تحریر ۔ غلام مرتضی

    استاد قوم کا محسن تحریر ۔ غلام مرتضی

    5اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ   کو خراج تحسین  پیش کرنے   کےلئے منایا  جاتا ہے

    آج بھی یاد ہے مجھے وہ سکول کا پہلا دن
    نیا بستہ نئے جوتے اور نئے کپڑے اور ایک نئی جگہ جانے کی خوشی تو تھی لیکن جب اُس جگہ پہنچ کر ابو کا ہاتھ چھوڑنا پڑا تو بہت مشکل لگا رونے لگا ہر بچہ کہ طرح ابو سے لپٹ گیا۔
    لیکن ایک نہایت شفیق انسان نے میری انگلی پکڑی ابو کہ ہاتھ سے میرا ہاتھ چھڑوایا اور مجھے گود میں اُٹھا کہ اندر لے گیا۔ سارا دن میرے آنسو صاف کئیے مجھے بھلایا اور رخصت کرتے وقت ٹافی دی اور کہا اگر روز آؤں گا تو روز ٹافی ملے گی۔
    اب جب میں یہ سب سوچتا ہوں تو خود پہ بہت ہنسی آتی ہے لیکن دوسری طرف آنکھ آبدیدہ بھی ہوتی ہے۔
    پھر جب ماضی کے خدوخال کا نقشہ دماغ میں کھینچتا ہوں تو بہت دل کرتا ہے میں لوٹ جاؤں وہیں جہاں سے میں سب سبق سیکھیں۔جہاں میں نے دنیا کے ساتھ قدم ملا کہ چلنا سیکھا۔
    جہاں میں نے پنسل پکڑنا اور پھر لکھنا سیکھا۔میں نے الف سے انار سیکھا۔
    تختی پہ لکھا۔
    بہت سی نظمیں پڑھیں۔
    سب سے بڑی بات مجھے میرے اُساتذہ کی شفقت رُلا دیتی ہے۔
    بابا کا ہاتھ جب چھوڑا تو محسوس نہ ہوا کہ میں نے بابا کا ہاتھ چھوڑا ۔محسوس ہوتا بھی کیسے ایک باپ کا ہاتھ چھوڑ کہ دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔
    وہ خوبصورت وقت بہت یاد آتا ہے کیونکہ وہ بیت گیا ہے۔کیونکہ اب اُس کے لوٹنے کا کوئی جواز نہیں ۔
    اُستاد کا رتبہ بعد میں جانا میں نے ۔
    اُستاد صاحب کہا کرتے تھے
    وکیل چاہتا ہے اسکا موکل جیت جائے
    ڈاکٹر چاہتا ہے مریض ٹھیک ہو جائے
    انجینئر چاہتا ہے اُسکی مشینری کامیاب ہو
    افواج چاہتی ہے ملک محفوظ ہو
    لیکن واحد اُستاد ہے جو یہ چاہتا کہ یہ سب کہ سب عروج کی بلندیوں کو چھو جائیں
    اُن کی یہ بات اب سمجھ میں آتی ہے کہ روحانی والدین کی خوشی صرف اور صرف اپنے بچوں کی کامیابی میں ہے
    یہ وہ خوبصورتی ہے جس کے بغیر چمن کا رنگ پھیکا ہے
    یہ پھول کی خوشبو ہیں
    اگر اقوام میں اُستاد قابل نہ ہوں تو قومیں پستی کا شکار ہوتی ہیں اور اگر قومیں استاد کی قدر نہ کریں تو بھی زوال اُن کا مقدر ٹھہرتا ہے ۔
    میں نے دیکھا ہے وقت ہو بدلتے میرے اساتذہ کی دعاؤؤں سے
    یقین جانے ایک سچا روحانی باپ یا روحانی ماں آپ کے حقیقی ماں باپ سے زیادہ آپکی قدر کرتے ہیں-آپکو زندگی کی ہر راہ میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ۔
    آج بھی جب کبھی میں اپنے روحانی ماں باپ کو دیکھو یا وہ مجھے پہچان جائیں یقین جانے اک عجب خوشی ہوتی ہے ایک عجب ہی احساس ہوتے وہ تمام تر ماضی روح پزیر ہو جاتا ہے بس پھر دل کرتا ہے لوٹ جائیں وہیں جہاں زندگی بہت خوشگوار تھی جہاں محبت کرنے والے بے وجہ بے شمار تھے

    استاد معاشرے میں مستریوں کا سا کردار ادا کرتے ہیں۔۔
    جو انسانوں میں شخصیات، اقدار اور اخلاق کے محلات کی تعمیر کرتے ہیں۔۔
    یہ لوگ علم و ہنر کی اینٹیں آپ کی شخصیت میں اس ترتیب سے لگاتے ہیں کہ ان کی آرائش و زیبائش سے معاشرہ ایک خوبصورت شہر میں اونچی نیچی شیش

    محلوں جیسی عمارات اور چمکتے دمکتے برقی قمقموں کی مانند

    میرے کردار کو سنوارنے اور معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل بنانے والے میری زندگی کی پہلی استاد میری ماں سے لے کر میرے قاعدے کے الف سے قرآن کے والناس تک درس و تدریس کے اسباق پرھانے والے، اور الف انار سے تعلیمی ڈگریوں تک زینہ بہ زینہ پہنچانے والے، مجھے لکھنے کا ہنر سکھانے والے سوشل میڈیا کے اساتذہ اور میرے وہ فالوور جنہیں خود تو شاید لکھنا لکھانا نہیں اتا مگر ان کے ٹوٹے پھوٹے کمینٹس سے مجھے پورا ایک موضوع ضرور مل جاتا ہے۔۔ زندگی کے تاریکیوں میں علم کی یہ شمع جلانے والے ان تمام اساتذہ کو آج کا دن بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ا

    اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مزید کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

    ‎@__GHulamMurtaza

  • لاک ڈاؤن اور  طلباء پر اس کے اثرات تحریر: تیمور خان

    لاک ڈاؤن اور طلباء پر اس کے اثرات تحریر: تیمور خان

    @ImTaimurKhan

    لاک ڈاؤن ، ایک بار پھر! یہ سب 2019 میں شروع ہوا جب ہمارا طرز زندگی ایک وسیع وائرس کی وجہ سے بیرون سے مکمل طور پر انڈور میں بدل گئی اور اس وائرس کو آج COVID-19 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہماری زندگیاں بورنگ اور اندرونی سرگرمیوں کا شکار ہوئیں کیونکہ حکومتوں نے لاک ڈاؤن اور ایس او پیز کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت یہ سب کچھ ضروری معلوم ہوتا تھا لیکن اب تک 2021 تک ویکسینیشن جاری ہے اور لوگوں کو وائرس کے بارے میں مکمل آگاہی ہے اب یہ مکمل طور پر بیکار لگتا ہے اور سب سے بڑی ، سب سے بڑی بے معنی بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن صرف تعلیمی اداروں تک محدود ہے کھلا ہے. لوگ سڑکوں پر آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر کوئی مناسب عمل درآمد نہیں کیا جا رہا لیکن تعلیم کا شعبہ بند ہے۔

    کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے تعلیمی ادارے حکومت کے حکم پر 4 ستمبر سے 13 ستمبر تک بند رہنے والے ہیں لیکن جب میں اپنے گھر سے باہر نکلتا ہوں تو مجھے کوئی لاک ڈاؤن اور بیماری کی شدت نظر نہیں آتی ابھی تک تعلیمی ادارے بند ہیں۔ تعلیم کیوں قابل خرچ ہے؟ طلباء آن لائن تعلیمی نظام سے تباہ ہو چکے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے کمیوں اور وقت کے ضائع ہونے سے بھرا ہوا ہے۔ بڑی تعداد میں طلباء کے لیے انٹرنیٹ کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں جو مسلسل اپنی کلاسوں سے محروم رہتے ہیں جو ان کی 4 یا 5 سال کی پیشہ ورانہ تعلیم میں بہت بڑا خلا پیدا کرتے ہیں۔ اساتذہ اور طلباء کے مابین ایک بہت بڑا تکنیکی خلا موجود ہے۔ اساتذہ ان ٹیکنالوجیز سے واقف نہیں ہیں جو ذہنوں میں مناسب علم کی فراہمی میں ناکامی کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے وقت ، وسائل اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    حال ہی میں ، امتحانات ہوئے اور طلباء سب اپنے نئے سالوں اور سمسٹروں کے لیے پرجوش ہیں لیکن آن لائن تعلیم کے اسی تباہ کن طریقے سے ان کا آغاز کرنا ہمارے تعلیمی سالوں کو شروع کرنے کا بہترین طریقہ نہیں ہے۔ طلباء اپنے مستقبل اور اپنی تعلیم کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہو رہے ہیں کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے ہی کم عملیت تھی اور آن لائن نظام نے بھی اسے دور کر دیا۔

    لہذا ، طلباء تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں گویا صورت حال اتنی ہی خراب تھی جتنا کہ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیگر تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سنجیدہ اقدامات کیے جاتے۔ اور اگر یہ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ وہ کہتے ہیں تو اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلباء کے لیے بھی ورکشاپس ہونی چاہئیں تاکہ اس تکنیکی خلا سے نمٹا جاسکے اور آن لائن تعلیم کو بہتر بنایا جاسکے اور اس کے لیے قابل وقت نظام خرچ کیا جائے۔ سکولوں اور کالجوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ عام طور پر کام کرنے کے لیے تاکہ طلباء معمول کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔

  • قلم کی عظمت    تحریر : شاہ زیب

    قلم کی عظمت   تحریر : شاہ زیب

     دنیا نے گلوبل ویلج سے گلوبل سٹی کا سفر قلم کے بازوں پر کیا دنیا میں کہیں بھی معاہدہ طے پایا جائے تو قلم کی سیاہی سے ابتدا کی جاتی ہے ترقی امن ومان سلامتی یا دہشت گردوں سے مذاکرات قلم کی طاقت سے شروع ہوتے ہیں۔

     یوں تو قلم کا ہم سے صدیوں پرانا رشتہ ھے مگر قدیم زمانے میں پیغام یا معدہ کرتے وقت پرندوں کے پروں کو استعمال کیا جاتا تھا جیسے ہی زمانہ ترقی یافتہ ہوتا گیا تو ہماری شان قلم کو بھی ترقی سوجھی اور نئے طرز کا قلم بن گیا۔

     قلم ایک ایسا انمول قیمتی سرمایہ ھے جو تلوار سے تیز اور طاقت وار بھی جانا جاتا ھے قلم کو دودھاری تلوار اس لیے کہا جاتا ھے قلم کی سیاہی کی بدولت ظالم اور مظلوم کی پہچان اور حق پر ڈٹے ہوئے مجاہدین کی تحریریں لکھی جاتی ہیں اگر غیر جانبداری سے قلم کا استعمال کیا جائے تو ہی قلم کی سیاہی کی عظمت و عزت برقرار ہے۔

    افسوس کے ساتھ بتاتا چلوں قلم کی عظمت کو سب سے زیادہ نقصان دور حاضر کے صحافیوں نے کیا صحافت جو ریاست کا چوتھا ستون جانا جاتا ہے لیکن قلم فروشوں نے چند ڈالروں کے عوض قلم کی سیاہی کی قیمت لینا شروع کر رکھی ہے کسی بھی شخص کی کردار کشی کر کے سماج کی نظروں میں گرانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

    قلم فروش سمجھتے ہیں وہ کسی کی کردار کشی کر کے انسان کو نیچا دیکھاتے ہیں تو یہ ان کی غلطی فہمی ہے اسطرح سے قلم فروش کسی انسان کی نہیں بلکہ قلم کی نوک جس کا دوسرا نام علم ھے اس قلم کی عظمت و عزت پامال کر رہے ہیں نہایت ہی ادب کے ساتھ اپنے دوست لکھاریوں کے لیے پیغام ھے میں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا ایک حقیقت ہے جو آپ کو بتائی ھے دوستوں جہاد بالقم کے ساتھ کھڑے رہنے سے حق بات دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہے اگر آپ قلم کی عظمت و سیاہی کی قیمت وصول کرنے لگ جائیں گے تو پھر آپ میں اور جسم فروش طوائف میں کوئی فرق نہیں۔

    اب ففتھ جنریشن وار  قلم سے لڑی جا رہی ہیں اور دشمن کے غلط پروپیگنڈہ کا مقابلہ اسی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا بہت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن درست اور ٹھوس حقائق کو سمجھنے والا ہی ان نا پاک عزائم رکھنے والوں کا قلم کی طاقت سے قلع قمع کرتا ہے اور قلم تو ویسے بھی تلوار سے زیادہ طاقت رکھتی ہے اور سچ ہمیشہ چاقو کی طرح تیز کاٹتا ہے ہمیشہ ایک چیز اپنے پلے باندھ لیں غلط چیزوں کو وقتی سکون فیم کے لیے مت لکھیں ہمیشہ دلیل کے ساتھ بات کریں کیونکہ اپ کا پڑھا جانے والا ایک ایک لفظ اپ کی شناخت ہوتی ہے یہ بس دھیان رکھیں کہیں اپ کی شناخت اپ کے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت نہ ہو کیونکہ ہم سب وار فئیر کے اُس حصے میں جہاں دشمن ہمیں اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا لیکن اللہ کے فضل سے چال بازوں کی چالیں قلم سے ناکام بنا دیتے اور میرا یہ ایمان ہے کہ جذبہ ایمانی سے سرشار قومیں کبھی ہار نہیں مانتی۔۔

    اللّٰہ رب العزت سے دعا ہے میری

      قلم جو میری پہچان ھے اور سچ لکھنے والوں کی حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین

    Twitter handle.

    @shahzeb___

  • نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    نظام تعلیم اور والدین کا کردار تحریر: محمد جنید

    ‏پہلے وقتوں میں اگر کیسی بچے کا باپ ڈاکٹر ہوتا تھا توبچہ بھی ڈاکٹر ہی بنتا تھا، باپ اگر درزی ہوتا تو بیٹا بھی درزی ہی بنتا تھا، باپ اگر مستری ہوتا تو اس کا بیٹا بھی باپ کی طرح مستری ہی بنا کرتا تھا 

    پھر وقت بدلا نظام تعلیم میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں لوگوں میں نئی سوچ پیدا ہونے لگی اور لوگ اپنے شعبے سے ہٹ سے اہنے بچوں کو تعلیم سیکھانے لگے 

    آج کل کے بڑھتے ہوئے تعلیمی رجحان میں ہر ماں باپ یہ چاہتا ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر، پائلٹ یا تو آرمی افسر بنیں۔ لہذا دوران تعلیم ان کو یہ بات باور کروا دی جاتی ہے کہ بیٹا تم ڈاکٹر بنو گے، تم انجینئر بنو گے یا تم پائلٹ بنو گے وغیرہ وغیرہ۔

     اس طرح بچوں بچے کے دماغ پہ دباؤ ڈال دیا جاتا ہے کے تم نے بس اس طرف جانا ہے اور یہ ہی کرنا ہے کیسی دوسرے شعبے بارے سوچنا بھی نہیں ہے، مطلب کے بچے کے دماغ کو ایک طرح سے بند کر دیا جاتا ہے کؤوں کے مینڈک کی طرح جو صرف اپنے والدین کے بتائے تعلیمی رستے پہ ہی چلتا ہے اور اپنے اصلاحات کو استعمال کرنے اور سوچے سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے

     جیسے ہی بچہ میٹرک کا امتحان پاس کرتا ہے تو اسے والدین کی مرضی سے ایف اس سی، آئی سی ایس یا ایف اے وغیرہ میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ اب اس سارے عمل کے دوران وہ بچہ جس نے اپنی زندگی گزارنی ہے یا جس نے اپنی دلچسپی کے مطابق اپنے شعبے کا انتخاب کرنا ہے اسے اس فیصلے میں شامل ہی نہیں کیا جاتا یا یوں سمجھ لیں کہ سیدھا اپنی مرضی سے داخل کروا دیا جاتا ہے۔ بچے کی رضامندی، اس کی دلچسپی اور ہم آہنگی کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورت حال انٹر پاس کرنے کے بعد ہوتی ہے 

    اور یہیں سے ہی بچوں کے روئیے میں بگاڑ شروع ہو جاتا ہے وہ چلتا تو النے والدین کے طریقے پہ ہی ہے تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوتا ہے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ بچے کا اس تعلیم کے لئے ذہن ہی تیار نہیں ہوتا اور نا ہی وہ اس میں خوش ہوتا ہے

    مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ میڈیکل یا انجینئرنگ کر چکا ہے پر اس کی دلچسپی اب میڈیکل یا سائنس کے شعبے میں نہیں تھی بلکہ وہ کیسی آرٹس سبجیکٹ میں ہے جیسے کہ انگلش کے شعبے میں دلچسپی رکھتا ہو اور اسے اپنے تعلیمی کیرئیر کے طور پر اپنانا چاہتا ہو یا کہ وہ وکیل بننے میں دلچسپی رکھتا ہو، اسے سیاست کا شوق ہو اور وہ اسے بطور مضمون پڑھنا چاہتا ہو، اسے اردو ادب سیکھنے کا شوق ہو یا اسلامی علوم کو سیکھنے کی طرف اس کا رجحان پیدا ہو گیا ہو یا بعض پچوں میں دور جدید میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور مختلف ڈیجیٹل پروگرامز میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے اور وہ اسے کاروبار کے طور پہ استعمال کرنا چاہتا ہے تو جب وہ اپنی تعلیم کے پس منظر کو دیکھے گا تو اس کا ان شعبوں سے کوئی تعلق نا ہو گا اور نا ہی معلومات اور والدین بھی بچوں کا سہارا بننے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے سختی سے بتا دیتے ہیں اگر تم پڑھو گے تو صرف اسی فیلڈ میں جس کا ہم انتخاب کر چکے ہیں ورنہ نہیں. 

    اکثریت والدین کی ایسی ہے جو چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ایسی فیلڈ کا انتخاب کرے جس کی موجودہ وقت میں بہت زیادہ اہمیت ہو چاہے بچے کی اس فیلڈ میں کوئی دلچسپی ہو یا نا ہو اگر کیسی فلیڈ کی اہمیت بنانی ہی ہے تو وہ خود ہی اس کی اہمیت بنا سکتا ہے جو اس میں شامل ہو گا

    ایک اور بھی وجہ ہے کے پڑھنے والے بچے کی جس شعبے میں دلچسپی ہے وہ اس کا اپنے والدین کو بتا ہی نہیں پاتا اور ہچکچاہٹ کا شکار رہتا ہے کیونکہ بچے اور والدین کے درمیان اس طرح ہی بات ہی نہیں ہو پاتی ہمارے معاشرے میں اسے شرم و حیا کا نام دے دیا گیا ہے پر حقیقت اس کے برعکس ہے یہ بچوں کا ڈر ہوتا ہے جو بچوں کو والدین سے دور کر دیتا ہے ساتھ ہی بچوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ جس شعبے میں بچے کو اس کے والدین نے بھیجا ہوتا ہے وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتا اور نا خود کو اس کے لیے تیار کر پاتا ہے نتیجے کے طور پر اس کی ڈگریاں زیادہ اہمیت کی حامل ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان میں اچھے نمبر ہی حال نہیں کر پاتا.

    اور جس فیلڈ میں بچے کی دلچسپی ہوتے ہے جیسے وہ پسند کرتا ہے اور اسی فیلڈ کو اپنانا چاہتا ہے اس کے لیے والدین ہی اجازت نہیں دے پاتے تو اس طرح سے بچہ کا مستقبل پوری طرح سے ختم ہو جاتا ہے وہ سمجھ ہی نہیں پاتا ہے اب آگے اسے کیا کرنا چاہیے

    اس لئے اس سارے عمل کے دوران والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے سے مشورہ کریں ان سے پوچھیں کہ وہ کس شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے، اس کا شوق کیا ہے؟ وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ کیوں کہ تعلیم حاصل کرنا، اس پر توجہ دینا والدین یا کسی اور شخص کا کام نہیں بلکہ محض اسی بچے کا کام ہے جس نے آگے بڑھ کر اس پیشے کو اپنانا ہے اور تعلیم حاصل کرنا ہے۔

    ‎@Durre_ki_jan

  • زندگی میں استاد کی اہمیت و قدر  تحریر؛ انیس الرحمن

    زندگی میں استاد کی اہمیت و قدر تحریر؛ انیس الرحمن

    آپ زندگی اور اسے جینے کی تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو زندگی میں سے استاد کو نکال دیں تو شاید آپ کی زندگی میں پیچھے کچھ بھی نہیں بچے۔
    آپ کے سب سے پہلے استاد آپ کے والدین ہوتے ہیں زندگی جینا سکھانے والے استاد والدین اور بزرگ ہی ہوتے ہیں جب آپ کچھ ایک سمجھداری کی عمر میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کی زندگی میں باقاعدہ نظم و ضبط لانے کیلئے آپ کو کسی ادارہ میں اساتذہ کی نگرانی میں بھیج دیا جاتا ہے۔

    آپ کی پہلی درسگاہ آپ کا گھر اور دوسری آپ کا تعلیمی ادارہ ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارہ میں استاد آپ کو نظم و ضبط، وقت کی تقسیم ، وقت کی قدر، ایک متنوع معاشرہ میں جینے کا سلیقہ، مجلس میں بیٹھنے، جینے اور بقاء کے آداب سکھاتے ہیں، آپ کی کمزوریوں اور خامیوں کا ادراک کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اپنے تعلیمی ادارہ میں نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں بلکہ زندگی جینے کا گر سیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    ایسے میں آپ کو قابل قدر استاد کا ملنا کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا جو آپ کی چھپی صلاحتیوں کو نکھارتا ہے آپ کی خامیوں کو خوبیوں میں بدلتا ہے اچھے برے کی تمیز حلال و حرام کا فرق سکھاتا ہے۔ یقینا وہ شخص بدنصیب ہے جو کسی قابل اور ناصح استاد سے محروم ہے۔ کیونکہ آپ بچپنے سے لیکر لڑکپن کی عمر میں شعور و آگہی کی طرف بتدریج سفر کر رہے ہوتے ہیں ایسے میں آپ کی بہتر ترویج ایک ناصح اور مخلص استاد ہی کر سکتا ہے۔

    آپ اپنی اوائل عمری سے ہی کسی ایسے استاد کو اپنا راہنما ضرور بنا لیجئے کہ جو آپ کو زندگی کے ہر موڑ پر آپ کی راہنمائی کرے۔ آپ کو زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کرے آپ کو مشکل وقت میں اچھے مشوروں سے نوازے۔ آپ کا یہ استاد آپ کیلئے ایک ایسا راہنما ہوگا جو آپ کے مزاج کو بچپن سے جانتا ہوگا اور آپ کو اچھے انداز میں راہنمائی دے گا۔

    استاد اور والدین کی وہ شخصیات ہیں جو آپ ی شاگردوں اور اپنی اولادوں کو اپنے سے کہیں اوپر دیکھنا چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے زندگی کی ابتدائی دور میں غلطیوں سے جو چیز نہیں سیکھ سکے آج ہمیں ادراک ہے ان چیزوں کا تو ہم اپنے اولاد اور اپنے شاگردوں کو بروقت ان غلطیوں سے آگاہ کر کے زندگی میں انہیں مزید کامیابیوں سے ہم کنار کرنے کی کوشش کریں۔

    آج استادوں کے عالمی دن کے موقع پر میں اپنے ان تمام اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر میری راہنمائی کی اور خاص طور پر والد محترم کہ جو بطور پیشہ ایک استاد بھی ہیں انہوں نے جس طرح میری قدم قدم پر راہنمائی کی وہ قابل قدر و قابل ستائش ہے۔ آج کے دن اپنے تمام اساتذہ کو خصوصی طور پر اپنی دعاؤں میں یاد کرونگا۔ ان شاءاللہ

  • فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    فیڈرل بورڈ کے میٹرک انٹر نتائج میں افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں نے میدان مار لیا تحریر:ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور آج فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے بعد میٹرک کے نتائج کا بھی اعلان کر ہی دیا گیا، تقریب تو پروقار رہی لیکن انٹرمیڈیٹ کی طرز پر میٹرک والے ٹاپرز کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہاتھوں سے انعامات وصول کرنے کا اعزاز حاصل نہ ہوسکا، اعزاز کیوں نہ ہوتا وفاقی وزیر شفقت محمود کورونا کے اس دور میں وزیراعظم عمران خان کے بعد انٹرنیٹ پر سب سے معروف سمجھی جانے والی شخصیت جو بن گئے تھے خیر آج کی تقریب میں وفاقی سیکرٹری ایجوکیشن فرخ خان بطور مہمان خصوصی پہنچیں اور بچوں کی جہاں ایک طرف خوب حوصلہ افزائی کی وہیں دوسری طرف کورونا کے باوجود تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر اپنی وزارت کے گن بھی گاتی رہیں، آج کے رزلٹ میں حیران کن اور افسوسناک حد تک ایک بات شدت سے محسوس ہوتی رہی جب بورڈ ٹاپ کرنے والے تمام سٹوڈنٹس کی فہرست سامنے آئی تو 80 فیصد سے زائد سٹوڈنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں سے نکلا، سائنس گروپ کے محمد صارم کو دیکھیں یا رابعہ اصغر کو، دونوں ہی بچے پہلی پوزیشن پر براجمان تھے لیکن تعلق آرمی پبلک سکول اور فضائیہ ڈگری کالج سے تھا، آگے چلیں تو سائنس گروپ میں 1096 نمبر لیکر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی کائنات سلیمان کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول جبکہ دوسری ہی پوزیشن حاصل کرنے والی دو اور طالبات زینب علی اور عاصمہ اسماعیل کا تعلق بھی گریزن اکیڈمی اور فضائیہ کالج سے ہی نکلا جبکہ تیسری پوزیشن پر براجمان عشبہ فاطمہ کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے رہا، آپ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کی روداد سننا چاہتے ہیں تو یہ لیجیے، پری انجینئرنگ گروپ میں 1090 نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے غفران احمد طالب اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی دو طالبات عیشاء ارشد ملک اور تابیر ساجد کا تعلق بھی آرمی پبلک سکول سے نکلا، افواج پاکستان کے اداروں کے نام کامیابیاں یہاں رکتی نہیں بلکہ میڈیکل گروپ اور سائنس جنرل گروپ میں بھی پہلی پوزیشن اور تیسری پوزیشن آرمی کالجز کے بچوں کے ہی نام رہی، اس کے علاوہ پوزیشنز پر نظر دوڑائیں تو وہاں پر بھی بین الاقوامی نجی تعلیمی اداروں کی برانچز کا نام لکھا ملا لیکن مجال ہے کہ کسی سرکاری ادارے کو فیڈرل بورڈ کی تقریب انعامات میں آنے کا شرف نصیب ہوا ہے، سرکاری اداروں میں سرکاری مراعات، بھاری بھر کم تنخواہوں اور جان سیکورٹی کے باوجود سٹوڈنٹس کو امتحانی میدان میں کسی مقام پر نہ پہنچا پانا ایک طرف اساتذہ کی ذاتی دلچسپی اور نوکری کے ساتھ مخلص ہونے پر سوالیہ نشان ہے وہیں دوسری جانب وزارت تعلیم کو بھی اس بارے میں سر جوڑنے کی ضرورت ہے کہ سویلین سرکاری تعلیمی اداروں میں کس بات کی کمی رہ گئی کہ وہاں پڑھنے والے بچے فوجی اداروں سے پیچھے نہیں بہت پیچھے رہ رہے ہیں، بہرحال کھلے دل کے ساتھ افواج پاکستان کے تعلیمی اداروں کو شاباشی اور مبارکباد بھی ملنی چاہیے جس طرح ان کی جانب سے کورونا کے باوجود آن لائن کلاسز سمیت ہر قسم کی جدوجہد کرکے سٹوڈنٹس کو آج اس مقام پر پہنچایا گیا