Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان اور ازبکستان  کے درمیان  ٹیکنالوجی اور اقتصادی شراکت داری بڑی پیش رفت

    پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ٹیکنالوجی اور اقتصادی شراکت داری بڑی پیش رفت

    پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ٹیکنالوجی اور اقتصادی شراکت داری بڑی پیش رفت

    باغی ٹی وی : پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ٹیکنالوجی اور اقتصادی شراکت داری کے ذریعےمعاشی بحالی کیلئے شراکت داری پر اتفاق ہوا ہے ، دونوں ممالک تین ماہ میں دوطرفہ ترجیحی تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے.

    ازبک۔پاکستان بین الحکومتی کمیشن برائے ٹریڈ، اکنامکس اینڈ سائنٹیفک ٹیکنیکل کوآپریشن (آئی جی سی ) کا چھٹا اجلاس بدھ کو تاشقند میں منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کی جانب سے مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد اور ازبکستان کے نائب وزیراعظم عمرزکوف نے کی۔

    اجلاس کے دوران فریقین نے ٹیکنالوجی، ایجادات اور اقتصادی شراکت داری کے ذریعے کووڈ۔19 کے بعد پائیدارمعاشی بحالی کیلئے شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا جس کا مقصد متنوع اقتصادی شراکت داری، پائیدار معاشی شرح نمو، سپلائی چین کے نظام میں بہتری اور ماحولیات کے شعبوں کی ترقی ہے۔

    عبدالرزاق داؤد نے کہا تھا کہ ملک کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور صنعت مثالی ترقی کررہی ہے۔عبد الرزاق داؤد نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ تین سال میں شرح نمو کے اہداف حاصل کیے اور اب چیلنج پائیدار معاشی نمو ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کی برآمدات میں31 ارب ڈالرز تک اضافہ ہوا اور اس میں بڑا حصہ ٹیکسٹائل کے شعبے کا ہے۔

  • (PayPal) پےپال پاکستان کیوں نہیں آرہا ہے؟

    (PayPal) پےپال پاکستان کیوں نہیں آرہا ہے؟

    ایک پارلیمانی پینل نے سکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کریں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ پےپال (PayPal) پاکستان میں کیوں کام نہیں کررہا ہے۔

    PayPal پے پال

    پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی ممبران نے نشاندہی کی کہ لوگ ایمیزون سے بھر پور فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں کیونکہ پے پال (PayPal) پاکستان میں کام نہیں کرتا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا ، "ہم پاکستان میں پے پال (PayPal) چاہتے ہیں کیونکہ بہت سارے لوگ فری لانسسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور ہمیں پے پال فری (PayPal) لانسنگ ویب سائٹوں سے رقم کی منتقلی کے لیِے جاہیے۔”

    کمیٹی اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک کے نمائندے کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پے پال (PayPal) پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ کمیٹی کو پیش کی گئی فنانس ڈویژن کی دستاویز کے مطابق ، پے پال (PayPal) ایک نجی کمپنی ہے جس کی موجودگی مختلف ممالک میں ہے۔

    تاہم ، پے پال (PayPal) نے اس کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ کسی خاص مارکیٹ میں داخل ہونا ایک کاروباری فیصلہ ہے اور اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ وے کے داخلے / عمل پر کوئی پابندی نہیں ہے جو متعلقہ زرمبادلہ کے ضوابط کی تعمیل کرسکتی ہے۔

    News Source: Startup Pakistan

  • ایف بی آر نے نئی ایکسپورٹ سہولت ا سکیم 2021 متعارف کرادی

    ایف بی آر نے نئی ایکسپورٹ سہولت ا سکیم 2021 متعارف کرادی

    ایف بی آر نے نئی ایکسپورٹ سہولت ا سکیم 2021 متعارف کرادی

    باغی ٹی وی :ایف بی آر نے نئی ایکسپورٹ سہولت ا سکیم 2021 کے قوانین جاری کر دیئے.نئی ایکسپورٹ سہولت اسکیم کو وفاقی حکومت نے منظورکیا.فنانس ایکٹ 2021 کے تحت پارلیمنٹ نے بھی منظوری دے دی ہے،نئی اسکیم 14 اگست 2021 سے نافذالعمل ہو گی،موجودہ اسکیموں کو مرحلہ وار2 سالوں کے اندر ختم کر دیا جائے گا،

    نئی اسکیم سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے انٹر پرائزز کی حوصلہ افزائی ہو گی،ان پٹ کی درآمد پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس لاگو نہیں ہو گا،نئی ا سکیم کے باعث کاروباری لاگت میں کمی آئے گی،نئی اسکیم سے ٹیکس تعمیل آسان اور تجارتی آسانی فراہم ہو گی،

    نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم 2021ء کے ڈرافٹ قوانین کو ایف بی آر ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔نئی ایکسپورٹ سہولتی سکیم کے تحت کم از کم ڈاکیومینٹیشن کی ضرورت ہو گی جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کےاینٹرپرائزز کی حوصلہ افزائی ہو گی،یہ سکیم وی بوک اورپاکستان سنگل ونڈوکےتحت مکمل طورپرخودکارہو گی، اس سکیم کی نمایاں خصوصیت میں پوسٹ کلیرنس آڈٹ اور کنٹرول شامل ہے۔ اس سکیم کو استعمال کرنے والوں میں مینوفیکچررز و ایکسپورٹرز ، کمرشل ایکسپورٹرز، ان ڈائیریکٹ ایکسپورٹرز ، کامن ایکسپورٹ ہاؤسز ، وینڈرز اور انٹرنیشنل ٹول مینوفیکچررز شامل ہیں

  • ہالزمالکان کیلیے خوشخبری سنا دی گئی

    ہالزمالکان کیلیے خوشخبری سنا دی گئی

    این سی اوسی کے اجلاس میں یکم جولائی سے ملک بھرمیں سینما ہالزکھولنےکا فیصلہ کرلیا گیا ہے، سینما ہالزرات 1 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، صرف ویکسین لگوانے والےافرادہی سینما میں فلم دیکھ سکیں گے، اجلاس میں کاروباری مراکزکی ٹائمنگ رات 10بجے تک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پیٹرول پمپ، میڈیکل اسٹورسمیت ضروریات کےاہم کاروباروں کو24/7 کھلنےکی اجازت دے دی گئی ہے، آوٹ ڈورڈائننگ کی اجازت دے دی گئی ہے، ان ڈور پر50 فیصد کی پابندی عائد کی گئ ہے، صرف ویکسین لگوانےوالےافراد ہی ان ڈور ڈائن اِن کی سہولت حاصل کر سکیں گے، ہوٹلزاورریسٹورنٹس انتظامیہ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ چیک کرنےکالائحہ عمل بنائے کے پاپند ہونگے، آوٹ ڈورشادی کی تقریب میں 400 افراد کی گنجائش کرنےکی اجازت دی گئی ہے، ایس اوپیزکےاطلاق کےساتھ مزارات کودوبارہ کھلنےکی اجازت دے دی گئی ہے، ثقافتی، مذہبی اوردیگر اجتماعات پرپابندی برقراررکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سےاچھی خبر آگئی

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سےاچھی خبر آگئی

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سےاچھی خبر آگئی
    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سےاچھی خبر آگئی . روشن ڈیجیٹل اکاوَنٹ اہم سنگ میل عبور کرگیا، روشن یجیٹل اکاوَنت جمعہ کوایک اعشاریہ 5 بلین کوکراس کرگیا،روشن ڈیجیٹل اکاوَنت جمعہ کوایک اعشاریہ 5 بلین کوکراس کرگیا،

    نیا پاکستان سرٹیفکیٹ میں ایک بلین کی سرمایہ کاری کی گئی،2ماہ کےعرصہ میں اکاوَنٹس اور ڈیپازٹ کی مد میں ایک بلین ڈالرکانیا ریکارڈ قائم کیا گیا،جمعہ کو روشن ڈیجیٹل اکاوَنٹ کی آمدن ایک اعشاریہ 5بلین سے زائدہوگئی،

    سٹیٹ بینک کے مطابق حسابات جاریہ کے کھاتے جاری مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 153 ملین ڈالرفاضل رہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لےکرمئی 2021 تک کی مدت میں ملکی حسابات جاریہ کے کھاتے 153 ملین ڈالرفاضل رہے،

    گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ 4.3 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔سٹیٹ بینک کے مطابق مئی 2021 میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 632 ملین ڈالررہا جو اپریل میں 188 ملین ڈالر تھا، اس کی بنیادی وجہ عید کے موقع پرطویل لاک ڈاون وچھٹیوں کی وجہ سے برآمدات میں کمی ہے۔

  • قومی اسمبلی نے 27 وزارتوں کے 2171 ارب سے زائد کے مطالبات زر منظور کر لیے

    قومی اسمبلی نے 27 وزارتوں کے 2171 ارب سے زائد کے مطالبات زر منظور کر لیے

    قومی اسمبلی نے 27 وزارتوں کے 2171 ارب سے زائد کے مطالبات زر منظور کر لیے

    باغی ٹی وی :قومی اسمبلی نے 27 وزارتوں کے 2171 ارب 71 کروڑ کے 67 مطالبات زر منظور کر لیے . وزارت دفاع کے 1384ارب 14 کروڑ روپے کے 5 مطالبات ، وزارت داخلہ کے 184 ارب روپے کے 5مطالبات زر منظور کر لیے گئے . وزارت آبی وسائل کے 92 ارب 90 کروڑ روپے کے 2 مطالبات زر منظور کیے گئے . وزارت تعلیم، فنی تربیت اور ثقافت کے 139ارب روپے کے 8مطالبات زر منظور ہوئے .

    وزارت صنعت و پیداوار کے 16 ارب 54 کروڑ روپے کے 2 مطالبات زر منظور کیے گئے . وزارت موسمیاتی تبدیلی کے 14 ارب 79 کروڑ روپے کے2 مطالبات زر منظور ہوئے . وزارت دفاعی پیداوار کے دو ارب 69 کروڑ روپے کے2مطالبات زر منظور کیے گئے .وزارت اقتصادی امور کے 13 ارب 88 کروڑ روپے کے 2مطالبات زر منظور ہوئے .

    وزارت قانون و انصاف کے 17 ارب 87 کروڑ روپے کے7 مطالبات ، وزارت بین الصوبائی روابط کے 5ارب 39 کروڑ روپے کے 2 مطالبات ،وزارت انسانی حقوق کے ایک ارب46 کروڑ روپے کے2 مطالبات ،قومی اسمبلی کا 3 ارب 19 کروڑ روپے کا ایک مطالبہ،سینیٹ کا ایک ارب 54 کروڑ روپے کا ایک مطالبہ منظور ہوا.

    وزارت امور کشمیر کے 38 ارب 81 کروڑ روپے کے2 مطالبات، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 15 ارب 23 کروڑ روپے کے2 مطالبات، وزارت مذہبی امور کا ایک ارب 23 کروڑ روپے کا ایک مطالبہ منظور کیا گیا .

  • آن لائن فنڈز ٹرانسفر پر بھی  رقم کٹے گی ،کتنی فیس ہوگی  سٹیٹ بینک نے بتادیا

    آن لائن فنڈز ٹرانسفر پر بھی رقم کٹے گی ،کتنی فیس ہوگی سٹیٹ بینک نے بتادیا

    آن لائن فنڈز ٹرانسفر پر بھی رقم کٹے گی ،کتنی فیس ہوگی سٹیٹ بینک نے بتادیا

    باغی ٹی وی : کورونا کے بعد دی جانے والی رخصت بھی ختم کر دی گئی سٹیٹ بینک نے آن لائن فنڈز ٹرانسفر پر فیس کٹوتی کی وضاحت کردی اور بتایا کہ، اب رقم کی منتقلی پر فیس مقرر کی گئی ہے۔

    کورونا سے پہلے کوئی بینک رقم منتقلی پر 100 روپے اورکوئی 400 روپے تک لیتا تھا جو کہ کورونا کے دنوں ختم کردیے تھے ۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ماہ میں 25 ہزار روپے تک کی آن لائن ٹرانزیکشن مفت ہوگی اور 25 ہزار کے علاوہ مزید 10 ہزار کی ٹرانزیکشن کرنے پر 10 روپے چارج ہوں گے، اسی طرح ایک ماہ میں 50 ہزار کی ٹرانزیکشن پر 25 ہزار سے زائد اضافی 25 ہزار پر 25 روپے ادا کرنا ہوں گے جب کہ ایک ماہ میں بڑی ٹرانزیکشن پر زیادہ سے زیادہ 200 روپے چارج ہوں گے،

    ڈپٹی گورنر کا کہنا تھا کہ ایک ماہ میں 25 ہزار سے زائد کی آن لائن خریداری پر بھی ٹرانزیکشن چارجز فنڈز ٹرانسفر کے طریقہ کار کے تحت لگیں گے جبکہ یوٹیلیٹی بل کی آن لائن پے منٹ پر رقم منتقلی کے چارجز نہیں لگیں گے۔ایک سوال کے جواب میں سیما کامل نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں کہ بینک بالغ لڑکی کی گارنٹی نہیں لے، بالغ لڑکی کی بینک کا گارنٹی نہ لینا یہ نا قابل قبول ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ گھریلو خاتون کا صرف شناختی کارڈ پر اکاؤنٹ کھل سکتا ہے اور گھریلو خاتون کے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ سے زیادہ ٹرانزیکشن نہیں ہوسکتی.

    ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ آئن لائن 10 ہزار روپے تک کی خریداری کی ٹرانزیکشن پر کوئی چارجز نہیں ہوں گے، ایک ماہ میں 25 ہزار سے زائد کی آئن لائن خریداری پر ٹرانزیکشن چارجز لگیں گے۔

  • حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کم  کردی

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کم کردی

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کم کردی

    حکومت نےپیٹرولیم مصنوعات پرلیوی میں کمی کردی،ہائی اسپیڈڈیزل پرسیلزٹیکس 16روپے 9پیسےسے 16روپے 35 پیسےہوگیا.پیٹرول پرلیوی میں ایک روپے 83 پیسےفی لیٹرکمی کی گی . پیٹرول پرلیوی 4روپے 80 پیسےسےکم کرکے 2روپے 97 پیسےمقرر کردی گئی.

    ہائی اسپیڈڈیزل پرلیوی میں ایک روپے 53 پیسےفی لیٹرکمی کی گئی ،ہائی اسپیڈڈیزل پرلیوی 5روپے 14 پیسےسےکم کرکے 3روپے 61پیسےمقرر کیے. پیٹرول اورہائی اسپیڈڈیزل پرسیلزٹیکس میں اضافہ کیا گیا . پیٹرول پرسیلزٹیکس میں 31 پیسےفی لیٹراضافہ ہوا.

    پیٹرول پرسیلزٹیکس 15روپے 77پیسےسےبڑھاکر 16روپے 8پیسےمقرر کیا گیا .ہائی اسپیڈڈیزل پرسیلزٹیکس میں 26 پیسےفی لیٹراضافہ کیا گیا. ذرائع کا کہنا ہے کہ

  • ٹرانسپورٹرز کی من مانیاں، کرائے بڑھا دئے

    ٹرانسپورٹرز کی من مانیاں، کرائے بڑھا دئے

    شیخوپورہ(محمد فہیم شاکر) ٹرانسپورٹرز کی طرف سے کرایوں میں از خود اضافہ مسافروں کیلئے درد سر بن گیا، ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ سے فوری نوٹس لینے اور از خود کرایوں میں اضافہ کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کاروائی کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق اندرون شہر چلنے والی چھوٹی پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سمیت شیخوپورہ سے دیگر اضلاع کو جانے والی مسافر بسوں کے کرایہ جات میں ٹرانسپورٹرز کی طرف سے من مرضی کا اضافہ کردیا گیا ہے جس پر شہریوں کا شدید رد عمل سامنے آیا ہے
    جن کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی طرف سے کرایہ جات میں من مرضی کا اضافہ کرکے مسافروں کو استحصال کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس پر ٹرانسپورٹ اتھارٹی سمیت دیگر متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جس کے باعث ٹرانسپورٹرز کو کھلی چھٹی حاصل ہے جبکہ پرائیویٹ مسافر گاڑیوں کا عملہ اعتراض اٹھانے والے مسافروں سے ناروا سلوک روا سمیت انہیں تضحیک کا نشانہ بناتا ہے جس سے گاڑیوں کے عملہ اور مسافرو ں کے مابین لڑائی جھگڑوں کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور شہری دوہری اذیت کا شکار ہیں خصوصاً غریب مسافروں کی مشکلات شدید بڑھ گئی ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ مسافر گاڑیوں کی فٹنس بھی چیک نہ کی جارہی ہے جس سے آئے روز حادثات بھی رونما ہورہے ہیں، مسافروں اورشہری و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ سمیت دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کرایہ جات میں از ود اضافہ کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مسافرو ں کو لاحق تشویش اور جاری مالی استحصال کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔

  • تجار کا موٹروے ٹول پلازوں پر ایم ٹیگ نصب کرنے کا مطالبہ

    تجار کا موٹروے ٹول پلازوں پر ایم ٹیگ نصب کرنے کا مطالبہ

    شیخوپورہ(محمد فہیم شاکر سے) شیخوپورہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موٹر وے ٹول پلازوں پر ایم ٹیگ سسٹم کو بحال کرے کیونکہ ان ٹول پلازوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاروں سے نہ صرف مسافروں بلکہ ملکی صنعت و معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے صنعتکاروں اور ٹریڈرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ٹول پلازوں پر بوتھ کا اضافہ سے مسائل کا حل نہ ہے

    ایم ٹیگ کے سسٹم سے نہ صرف حکومت کو ایڈوانس آمدن حاصل ہوگی بلکہ اس سے ٹول پلازوں پر گاڑیوں کے بہاؤ میں بہتری آئے گی، شیخوپورہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں منظور الحق ملک، امجد نذیر بٹ، حاجی میاں محمد شفیق اشرفی، الحاج لالہ عبدالوحید شیخ، حاجی غلام نبی ورک، ملک اعظم بابر، طارق اقبال مغل، عادل محمود اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جس طرح جی ٹی روڈ پر ٹول پلازوں میں ای ٹیگ سسٹم کی وجہ سے دو علیحدہ بوتھ قائم کئے گئے ہیں جہاں گاڑیاں رکے بغیر وہاں سے آسانی کے ساتھ گزر جاتی ہیں اسی طرح موٹرویز کے ٹول پلازوں پر بھی ایم ٹیگ کا سسٹم بحال کرکے مسافروں اور بالخصوص ضلع شیخوپورہ کی صنعت سے تعلق رکھنے والے صنعتکار وں کو بھی اس سسٹم سے ریلیف حاصل ہوگا اور وہاں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاروں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا

    اس سسٹم سے حکومت کو سالانہ اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوگا، موٹرویز کی تکمیل کے وقت یہ سسٹم شروع کیا گیا تھا جو نامعلوم وجوہات کی بناء پر بند کردیا گیا جس سے لاہور، اسلام آباد اورسیالکوٹ سمیت دیگر علاقوں سے آنے والے صنعتکاروں اور ٹریڈرز کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے، ایم ٹیگ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے اب مسافروں اور صنعتکاروں کو لمبی لمبی قطاروں میں لگ کر ٹول پلازوں سے گزرنا پڑ رہا ہے جو ایک طرف وقت کا ضیاع بھی ہے تو دوسری طرف اس سے موٹروے ایڈوانس ریونیو سے محروم ہوگیا ہے لہذاٰہمارا وزیر اعظم سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ اس سسٹم کو فی الفور بحال کرنے کا اقدام اٹھائیں۔