Baaghi TV

Category: کاروبار

  • شہریوں کو چینی حاصل کرنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑ رہے

    شہریوں کو چینی حاصل کرنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑ رہے

    شہریوں کو چینی حاصل کرنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑ رہے

    باغی ٹی وی : شہریوں کو چینی کے حصول کے لیے کیا کچھ کرنا پڑ رہا ہے جان کر حیران ہو جائیں‌.، لاہور کے رمضان بازار میں آج بھی چینی اسٹالز پر شہریوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں، حیران کن بات یہ ہے کہ شہریوں کو انگلیوں پر نشان لگاکر چینی دی جارہی ہے۔

    سستی چینی حاصل کرنے کیلئے شہری صبح ہی چینی کے اسٹالز پر پہنچ جاتے ہیں . ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ چینی حاصل کرنے کےلئے صبح سے لائنوں میں لگے ہیں، سستی چینی حاصل کرنے کیلئے شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ شہر میں دکانوں پر سستی چینی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

    واضح‌ رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے سستی چینی کے نام پر لگنے والی لائنوں کا نوٹس لے لیا، لاہور ہائیکورٹ نے مقامی پرچون کی دکانوں پر چینی کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    عدالت نے رمضان بازاروں اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر فوری طور پر لائنیں ختم کرنے اور کل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ 15 روپے سستی چینی کے نام پر عوام کو بھکاری بنا دیا ہے، لوگ 1 کلو چینی کے لیے 5، 5 گھنٹے لمبی لمبی لائنوں میں لگے ہوئے ہیں، تھوڑی عزت نفس رہنے دیں، عوام کو بھکاری نہ بنائیں۔

    عدالت نے کہا کہ آپ کو یہ ہی نہیں پتہ کہ قیمتیں کنٹرول کرنے اور چینی فراہمی کا اختیار کس کا ہے، چینی فراہمی اور قیمتوں پر عملدر آمد کروانے کا اختیار پنجاب حکومت کا ہے۔ آپ گیند ایک دوسرے کی کورٹ میں پھینک کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اس کیس میں مسئلہ ریگولیشن کا ہے، پرچون کی سطح پر چینی 50 روپے کلو نہیں مل رہی۔ حکومت پرچون کی سطح پر چینی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ عوام کو لائنوں میں لگا کر تذلیل کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

  • موجودہ حکومت  کتنا قرضہ لے چکی

    موجودہ حکومت کتنا قرضہ لے چکی

    باغی ٹی وی : موجودہ حکومت کے حاصل کردہ بیرونی قرضے 33 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں.

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جولائی 2018 سے لے کر مارچ 2021 تک 32.9 ارب ڈالر کے مجموعی بیرونی قرضے لیے یں جن میں یوروبانڈز بھی شامل ہیں۔ 76فیصد قرضے (25 ارب ڈالر ) بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے لیے گئے۔
    آئی پی آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ جس کا پاکستانی معیشت کو سامنا ہے وہ غیرملکی قرضوں کی واپسی اور ان پر سود کی ادائیگی ہے۔ بڑی مقدار میں ادائیگی کے باوجود قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ توازن ادائیگی کی سپورٹ کے لیے استعمال کیا جائے تو بیرونی قرض بوجھ بن جاتا ہے۔

    بھاری غیرملکی قرضوں کی وجہ سے معیشت موجودہ کم شرح نمو کی سطح، محدود برآمدات کے ساتھ دیوالیہ ہوجانے کے قریب ہی رہے گی کیوں کہ حکومتی آمدن کا زیادہ حصہ قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے اور معاشی ترقی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے کم رقم بچتی ہے۔
    اقتصادی امور ڈويژن کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری 3 ارب 11 کروڑ ڈالرز کا بیرونی کمرشل قرض موصول ہوا۔

    ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے بھی 1ارب 35 کروڑ ڈالرزکا قرضہ لیا گیا۔ چین نے پاکستان کو سیف ڈپازٹس کی مد میں 1 ارب ڈالرز فراہم کئے۔ بیرونی ادائیگیوں کے بعد حکومت کو نیٹ قرض کی مد میں 3 ارب ڈالرز ملے۔ رپورٹ کےمطابق 7 ماہ کے دوران حکومت نے 4 ارب 12 کروڑ ڈالرز کا بیرونی قرضہ واپس

  • رمضان میں اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ سے دور لیکن وزرا کے دعوے  کیا کہتے ہیں

    رمضان میں اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ سے دور لیکن وزرا کے دعوے کیا کہتے ہیں

    رمضان میں اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ سے دور لیکن وزرا کے دعوے کیا کہتے ہیں

    باغی ٹی وی : رمضان کے ساتھ ہی اشیائے خورونوش کی قیمتیں جو پہلے ہی بلند تھیں اور اب اور آسمان سے باتیں کر رہی ہیں . جبکہ معاون خصوصی برئے اطلاعات پنجاب فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عوام کواشیائےضروریہ کی مقررکردہ نرخوں پربلاتعطل فراہمی کیلئےکوشاں ہیں،،وزیراعلیٰ پنجاب روزانہ کی بنیادپرقیمتوں اور دستیابی کاجائزہ لےرہےہیں،ف،وزیراعلیٰ پنجاب کی انتظامیہ کوپرائس کنٹرول میکانزم مزیدموَثربنانےکی ہدایت،

    ان کا کہنا تھا کہ ناجائزمنافع خوروں کےخلاف کارروائیاں جاری ہیں،مہنگائی پرقابوپاکراشیائےخورونوش کی سستےداموں فراہمی کویقینی بنایاجائےگا،
    ماہ رمضان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو لگام نہ ڈالی جا سکی، سبزیاں اور پھل سمیت دیگر اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئیں۔ شہری کہتے ہیں حکومت سٹورز میں سبسڈی تو دے رہی ہے، اوپن مارکیٹ میں بھی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے۔

    واضح رہے کہ رمضان المبارک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حکومتی وعدہ دھر کے دھرے رہ گئے ہیں ، اوپن مارکیٹ میں ضروری اشیاء کی قیمتیں غریب کی پہنچ سے باہر ہوگئیں۔

    پشاورمیں مہنگائی اپنےعروج پر پہنچ گئی، سبزی منڈی میں مٹر 250 روپے، کچالو 100، لیموں 200 اور لہسن 100 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے۔ ٹماٹر بھی 60 سے لیکر 80 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہے ہیں، بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شہری شدید پریشان ہیں، کہتے ہیں حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات اٹھائے۔

  • آئی ایم ایف کی کورونا امداد جاری ، پاکستان کو کتنا پیسہ ملنے جا رہا

    آئی ایم ایف کی کورونا امداد جاری ، پاکستان کو کتنا پیسہ ملنے جا رہا

    آئی ایم ایف کی کورونا امداد جاری ، پاکستان کو کتنا پیسہ ملنے جا رہا

    باغی ٹی وی :کورونا کی وبا سے متاثرہ ممالک کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف نے 650 ارب ڈالر کا فنڈ مختص کر دیا۔ پاکستان کے حصے میں دو ارب ڈالر آنے کا امکان ہے۔

    آئی ایم ایف ایڈوائزری باڈی نے ایک خطیر رقم مختص کی تھی جسے تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فنڈ سے مختلف ممالک کو بیرونی ادائیگیوں میں آسانی ہوگی۔ سپیشل ڈرائینگ رائٹس سے پاکستان جیسے ممالک کو فائدہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2 ارب ڈالر کی رقم بطور قرض وصول کرسکتا ہے۔

    فنڈ کا 34 فیصد حصہ ترقی یافتہ ممالک کے لئے رکھا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت امریکا 113 ارب ڈالر، ترقی پذیر ممالک 226 ارب ڈالر اور جی 20 ممالک 139 ارب ڈالر کی رقم حاصل کرسکتے ہیں۔

    آئی ایم ایف کی عہدیدار نے کہا کہ کووڈ سے پہلے مارچ 2020 تک معیشت میں 2.4 فیصد شرح نمو رہی تھی تاہم مئی 2020 کے بعد اس میں 1.5 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کووڈ 19 کی وجہ سے ای ایف ایف کی پیشرفت کو عارضی طور جھٹکا لگا لیکن حکام معاشی لچک کو مستحکم کرنے، پائیدار نمو کو آگے بڑھانے اور ای ایف ایف کو درمیانی مدتی مقاصد کے حصول کے لیے پالیسی اقدامات میں اصلاحات لگانے کے پابند ہیں۔

  • امریکی تعاون سے شاہراہ این 25 مکمل ،  بلوچستان میں ترقی کی نئی راہیں کھل گئیں

    امریکی تعاون سے شاہراہ این 25 مکمل ، بلوچستان میں ترقی کی نئی راہیں کھل گئیں

    باغی ٹی وی : امریکی تعاون سے شاہراہ این 25 مکمل ، بلوچستان میں ترقی کی نئی راہیں کھل گئیں

    امریکی تعاون سے تعمیر ہونے والی شاہراہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں اضافہ ہوا

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی یو ایس اے آئی ڈی نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)  کے تعاون سے شاہراہ این 25 کے 111 کلومیٹر کی تعمیر مکمل کی۔ اس منصوبے پر ایف ڈبلیو او نے اکتوبر 2014 میں تعمیر کا آغاز کیا۔ جس میں کچلاک کا بائی پاس روڈ ، 4 پل ، دو وزن والے اسٹیشن اور تین ٹول پلازے شامل ہیں۔ شاہراہ این 25 پاکستان کو افغانستان اور اس کے وسط ایشیائی ہمسایہ ممالک سے جوڑ کر تجارت اور معاشی انضمام میں اضافے کا باعث بنی۔ یہ سڑک چمن سے افغانستان کی سرحد، گوادرپورٹ اور کراچی تک پھیلی ہوئی ہے۔ قلات – کوئٹہ – چمن ہائی وے مجموعی طور پر 231 کلومیٹر پرمحیط ہے۔ یہ سڑک قلات شہر کے قریب سے شروع ہوتی ہے اور افغانستان کے قریب سرحدی شہر چمن پر ختم ہوتی ہے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ریاض احمد کا کہنا ہے کہ یو ایس اے آئی ڈی نے این ایچ اے کے ساتھ 2013 میں اس سڑک کی تعمیر سے متعلق ایم او یو سائن کیا تھا۔ جس کے بعد 2014 میں شاہراہ کے نا مکمل حصوں کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ اس شاہراہ کی تعمیر سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سمیت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے۔ پہلے کوئٹہ آنے کے لیے قلات اور چمن کے لوگ بہت پریشان ہوتے تھے لیکن اب کوئٹہ پہنچنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ یہ شاہراہ صوبہ بلوچستان کے پانچ اضلاع سے گزرتی ہے جن میں قلات، مستونگ، کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبد اللہ شامل ہیں۔
    یو ایس اے آئی ڈی کے تعاون سے تعمیر ہونے والی اس سڑک سے علاقے میں تجارت، صحت، پراپرٹی، کنسٹرکشن اور تعلیم کے شعبے میں بہتری آئی ہے۔ کوئٹہ سے قلات تک کا جو سفر پہلےچار سے پانچ گھنٹے میں طے ہوتا تھا اب اسکا دورانیہ کم ہو کر دو سے تین گھنٹے رہ گیا ہے۔ اس شاہراہ پر روزانہ پانچ ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں۔
    نائب صدر کوئٹہ چیمبر آف کامرس بدرالدین کاکڑ کا کہنا ہے کہ یو ایس ایڈ کی کوششوں سے بننے والی اس شاہراہ کی مدد سے کاروبار میں اضافہ ہوا۔ پھل اور سبزی کو سرحد تک لانے لے جانے میں  بڑی آسانی پیدا ہو گئی ہے۔ روڈ کی وجہ سے سفر آسان ہو گیا ہے جسکا فائدہ تاجروں اور مسافروں کو ہو رہا ہے۔
    معروف تاجر نصیب اللہ اچکزئی نے یو ایس ایڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اس سڑک سے کاروباری افراد کو سامان چمن پہنچانے میں بہت دشواری تھی، حادثات ہو جاتے تھے کیوں کہ سڑک نا مکمل تھی جس سے تاجروں کا بھی نقصان ہوتا تھا اور کئی گھنٹے لگتے تھے اب چند گھنٹوں میں سامان پہنچ جاتا ہے۔
    اس سڑک سے مستفید ہونے والے افراد کا کہنا ہے کہ پہلے ہمیں مریض کو کوئٹہ لے جانا بہت دشوار کن تھا مریض راستے میں ہی مر جاتا تھا لیکن اب اس سڑک کے بننے سے بہت آسانی ہو گئی ہے۔ کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ کوئی دوکان بنا رہا ہے تو کوئی مکان بنانے میں مصروف ہے۔ علاقائی کھجور اور پھل سبزی ضائع ہوئے بغیر دیگر شہروں تک پہنچ جاتی ہے۔ سڑک کی تعمیر مکمل ہونے سے یہاں کے لوگوں کے حالات میں بہتری آ رہی ہے۔

    مستقبل میں یہ سڑک نہ صرف بلوچستان بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان، فاٹا سمیت دیگرعلاقوں کو بھی ایک دوسرے سے منسلک کرے گی۔ جس سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور مستقبل میں یہاں انڈسٹریل زون بھی قائم ہوں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں امن، استحکام اور خوشحالی لانے میں مدد حاصل ہوئی جو کہ امریکہ کے عزم کا ٹھوس مظاہرہ ہے۔
    اسکے علاوہ یو ایس اے آئی ڈی نے ٹیکنوکونسلٹ (ٹی سی آئی) اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے این ایچ اے ملازمین کے لیے تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا۔ جس سے این ایچ اے کے لئے ملک گیر صلاحیت کو تقویت دینے میں مدد ملی اور اس پروگرام سے اے ڈی بی کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے مواقع بروئے کار لائے گئے۔ اس پروگرام کا مقصد پاکستان میں ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو بڑھانا اور ان میں بہتری لانا ہے۔

  • رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں سام سنگ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی

    رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں سام سنگ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی

    سمارٹ فون کمپنی سام سنگ نے رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں اپنے صارفین کو خوشخبری سنائی ہے-

    باغی ٹی وی : سمارٹ فون کمپنی سام سنگ نے رمضان المبارک کے آغاز پر پاکستان میں اپنے مختلف اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہےجبکہ کچھ کے ساتھ خصوصی انعامات بھی دیئے جائیں گے۔

    سام سنگ دنیا میں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز فروخت کرنے والی کمپنی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی ڈیوائسز کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے سام سنگ کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران جن فونز کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے وہ صرف کمپنی کے ای اسٹور سے ہی خریدیں جاسکیں گے-

    کمپنی نے ایس 21 پلس کی قیمت ایک لاکھ 94 ہزار 999 روپے سے کم کرکے ایک لاکھ 84 ہزار 999روپے (مفت بڈز پلس و اڈاپٹر)-

    جبکہ گلیکسی ایس 21 الٹرا 2 لاکھ 29 ہزار 999 روپے کی بجائے 10 ہزار روپے کمی کے ساتھ 2 لاکھ 19 ہزار 999 روپے (مفت بڈز پلس و اڈاپٹر) میں دستیاب ہوگا۔

    کمپنی نے نئے فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 کی قیمت کی 7 ہزار روپے کمی کی ہے اور یہ اب ایک لاکھ 69 ہزار 999 روپے کی بجائے ایک لاکھ 62 ہزار 999 روپے دستیاب ہوگا جس کے ساتھ مفت بڈز پلس اور اڈاپٹر بھی دیا جائے گا۔

    گلیکسی ایس 20 ایف ای، گلیکسی 52 اور اے 72 کی قیمت میں تو کمی نہیں کی گئی مگر ان کے ساتھ مفت گلیکسی فٹ 2 دیا جائے گا جبکہ گلیکسی اے 32 کے ساتھ ہینڈز فری دی جائے گی۔

    گلیکسی اے 71 کی قیمت ڈیڑھ ہزار روپے کمی سے 67 ہزار 999 روپے سے 65 ہزار 499 روپے کردی گئی ہے۔

    گلیکسی اے 51 کا 6 جی بی ریم والا ماڈل 2 ہزار روپے سستا کیا گیا جو 49 ہزار 999 روپے کی بجائے 47 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 8 جی بی ریم والے ماڈل کی قیمت ساڑھے 3 ہزار روپے کمی سے 54 ہزار 999 روپے کی جگہ 51 ہزار 499 روپے ہوگئی ہے۔

    گلیکسی اے 31 کو 36 ہزار 999 روپے کی بجائے 35 ہزار 499 روپے میں خریدا جاسکے گا جبکہ گلیکسی اے 12 (64 جی بی اسٹوریج ماڈل) 32 ہزار 999 روپے کی بجائے 30 ہزار 999 روپے اور اے 12 (128 جی بی اسٹوریج ماڈل) 32 ہزار 999 روپے کی بجائے 30 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا۔

    گلیکسی اے 02 ایس کا جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 19 ہزار 999 روپے کی بجائے 19 ہزار 299 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 23 ہزار 999 روپے کی بجائے 21 ہزار 999 روپے میں دستیاب ہوگا۔

    گلیکسی اے 02 کا 3 جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج والا ماڈل 18 سو روپے کمی کے ساتھ 17 ہزار 999 روپے کی بجائے 16 ہزار روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ 64 جی بی اسٹوریج والا ورژن 19 ہزار 799 روپے کی بجائے 17 ہزار 500 روپے میں خریدا جاسکتا ہے۔

    یہ پیشکش 14 اپریل سے 15 مئی 2021 تک برقرار رہے گی۔

  • پاک سوزوکی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاک سوزوکی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

    پاک سوزوکی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

    باغی ٹی وی : پاک سوزوکی نے سب کو پیچھے چھوڑ اعزازانے نام کیا ہے ، پاک سوزوکی نے فروخت میں ریکارڈ ایک سو ستانوے فیصد اضافہ ہوا، پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے مارچ دوہزار اکیس میں کاروں کی فروخت کے اعدادوشمار شائع کردیئے، جس کے مطابق آٹو انڈسٹری نے مارچ میں 20،813 گاڑیوں کی ریکارڈفروخت کی ہے ،

    جس سے سالانہ yoyیعنی ایئر اوور ایئر میں اضافے کی اجازت ہے،مارچ 2020 کے مقابلہ میں 1972 فیصد اور ماہانہ (ایم او ایم) میں فروری 2021 کے مقابلہ میں 26.6 فیصد کا اضافہ ہوا

    س حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ملک میں ہیوی وہیکلز کی فروخت میں معمولی کمی کے علاوہ پورے آٹو سیکٹر نے رواں مالی سال کے پہلے 9 مہینوں میں مستحکم نمو حاصل کی جبکہ کار کی فروخت میں 31.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔

    ذرائع کے مطابق مالی سال 2021 کے پہلے 9 ماہ میں جیپس کی فروخت میں 157.6 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد چھوٹی کمرشل گاڑیاں / پک اپ میں 41.4 فیصد، ٹریکٹر 57.2 فیصد اور دو یا تین پہیوں والی سواری کی فروخت میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا۔

    ہونڈا موٹر سائیکل کی کُل فروخت مالی سال 2021 کے 9 ماہ میں 9 لاکھ 61 ہزار 76 یونٹس رہی جبکہ مالی سال 2020 کے 9 ماہ میں یہ 7 لاکھ 68 ہزار 974 یونٹ تھے۔

  • پاکستانی نوجوان زہرا خان کو فوربز لسٹ میں شامل ہونے کا اعزا کیسے ملا؟

    پاکستانی نوجوان زہرا خان کو فوربز لسٹ میں شامل ہونے کا اعزا کیسے ملا؟

    مشہور امریکی اقتصادی جریدے فوربز نے مختلف شعبہ جات میں ’30 انڈر 30‘ کی عمر میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والے افراد کی مختلف خطوں کی یورپی فہرست جاری کردی جس میں 2 پاکستانی نژاد لڑکیوں سمیت متعدد مسلمان لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : فوربز کی یورپی فہرست میں کھیل، میڈیا مارکیٹنگ، شوبز، سوشل امپیکٹ اور گیمز سمیت دیگر شعبوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔فوربز کی جانب سے جاری کردہ ہر فہرست میں 30 افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 30 سال یا اس سے کم ہیں اور انہوں نے انتہائی مختصر مدت میں نمایاں نام کمایا۔

    ’فوربز 30 انڈر 30‘ کی یورپی فہرست میں پاکستانی نژاد شیف زہرا خان بھی شامل ہیں، جو لندن میں اپنا کیفے چلاتی ہیں زہرا خان دو بچوں کی ماں بھی ہیں اور انہوں نے اپنے کیفے کو چلانے کے لیے تمام خواتین ملازمین رکھی ہوئی ہیں۔

    زہرا خان کے کیفے پر 30 خواتین کل وقتی ملازمت کرتی ہیں اور ان کے کیفے پر نہ صرف روایتی کھانے دستیاب ہوتے ہیں بلکہ ان کے کیفے پر مختلف خطوں کے کھانے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

    فوربز کی فہرست میں زہرا خان کو ’ریٹیل ای کامرس‘ کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں لندن میں اپنا کیفے کامیابی سے چلانے کی وجہ سے فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس کے بعد سے انہیں 150سے زائد فرنچائزز کی جانب سے ساتھ کام کرنے کی آفرزموصول ہورہی ہیں پورے یورپ مڈل ایسٹ یہاں تک کہ پاکستان سے بھی-

    مبشر لقمان سے بات کرتے ہوئے زہر ا نے بتایا کہ تھوڑا جلدی سٹارٹ لے لیا تھا اور میرے والدین نے بھی اس حوالے سے بہت سپورٹ کیا کیونکہ میرا خواب تھا کافی شاپ اور بیکری شاپ کھولنا-

    انہوں نے کہا کہ والدہ ڈاکٹر ہیں اور وہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں اسی لئے یونیورسٹی تک ڈاکٹری پڑھی ہے اور پھر انہیں کنوینس کیا کہ مجھے یہ پڑھنے دیں اور پھر لندن میں کلنری میں تعلیم اور ٹریننگ مکمل کر کے سائٹس ڈھونڈیں اور دو ڈھائی سال پہلے جیم اسٹریٹ میں سائٹ ملی اور وہاں پر میں نے اپنا کافی شاپ ،فیا ، کھولا-

    انہوں نے بتایا کہ جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا نام صوفیہ رکھا تو بیٹی کے نام سے ہی اپناکافی شاپ کھولا کیونکہ بیٹی میرا لکی چارم ہے پھر آہستہ آہستہ ہم نے اپنے اس کام کو وسیع کیا-

    زہرہ نے بتایا چونکہ آج کل کی جنریشن کا فوکس انسٹاگرام پر ہے تو ہم نے اپنا مینیو انسٹاگرام ایبل کلر فل ڈیزائن کیا اور ہماری ڈیشز میں بہت محنت ہوتی ہے اس کو ایک چھوٹاسی آرٹ کا حصہ بنایا جاتا ہے اس وجہ سے ہمیں پاپولیرٹی ملی اور لوگ ابھی تک ،فیا ، کے برنچ مینیو اور ڈیشز کے متعلق بات کرتے ہیں-

    انہوں نے بتایا کہ ان کے کیفے میں بننے والی ڈیشنز میں وہ آرگینک کلرز اور آرگینک اجزاء استعمال کرتے ہیں –

    زہرا کے مطابق نہ صرف ان کے کیفے میں اچھی اچھی ڈیشز بنتی ہیں بلکہ وہ اپنی بیکری پراڈکٹس بھی خود بناتے ہیں اور علاوہ ازیں انہوں نے اپنے کیفے کے نام سے چیرٹی بھی کھول رکھا ہے-

    زہرا خان نے نوجوان نسل کو دیئے گئے اپنے پیغام میں کہا کہ جو آپ کا خواب ہے اور جو بھی آپ کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور کرو چاہے معاشرہ اس کے خلاف ہی ہو انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مجھے شیف بننا تو مجھے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اپنے والدین سے بھی فیملی میں بھی لوگوں سے تو آپ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں اس کو ضرور کریں اور پوری محنت سے کرو تا کہ آپ کو بعد میں پچھتاوا نہ ہو کہ آپ یہ کر سکتے تھے کیوں نہیں کیا-

     

    فوربزکی ’30 انڈر 30‘ کی جاری یورپی فہرست میں دو پاکستانی لڑکیاں شامل

  • بٹ کوائن کی قیمت 62000 ڈالر تک پہنچ گئی

    بٹ کوائن کی قیمت 62000 ڈالر تک پہنچ گئی

    بٹ کوائن کی قیمت 620000 ڈالر تک پہنچ گئی

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنس بٹ کوائن کی قیمت 620000 ڈالر تک پہنچ گئی. بٹ کوئن کرنسی تیزی کے ساتھ اپنا وجود منوا رہی ہے .

    بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کر نسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔
    بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جاسکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔
    سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے،

    جیسے مختلف ملکوں کی کرنسی ملک کے سینٹرل بینک چھاپتی ہے، بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کا انحصار ‘مائنر’ کہلانے والے افراد پر ہوتا ہے جو اپنے طاقتور کمپیوٹرز پر ایسا سافٹ ویئر چلاتے ہیں جو بِٹ کوائن حاصل کرنے کے لیے ریاضی کے پیچیدہ مسائل حل کرتا ہے۔ یہ پیچیدہ مسائل حل کرنے پر بٹ کوائن ڈیجیٹل دنیا میں آتا ہے۔ ہاونگ کے بعد پیچیدہ ریاضی کے مسائل حل کرنے پر جتنے بٹ کوئن پہلے ملتے تھے اُس کی نسبت اب یہ تعداد آدھی ہو گئی ہے۔

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے  معاشی سرگرمیوں کے لیے  اہم اقدام

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے معاشی سرگرمیوں کے لیے اہم اقدام

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے معاشی سرگرمیوں کے لیے اہم اقدام

    پی ایس ایکس کے زیر اہتمام گونگ تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک نے قرضوں اور سرمائے کی منڈیوں کو مزید گہرا کرنے کے لئے اہم اقدامات کا اعلان کیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) گونٹ تقریب ہوئی جس میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی میزبانی کی ، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ متعدد اقدامات پر ایس بی پی اور پی ایس ایکس کے مابین تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ۔ اسٹیٹ بینک اور پی ایس ایکس نے حال ہی میں سرکاری قرضوں کی سیکیوریٹیوں تک کیپٹل مارکیٹ میں شریک افراد کی رسائی کو بہتر بنانے اور وسیع کرنے کے لئے قریب سے کام کر رہے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج میں غیر رہائشیوں کی طرف سے سرمایہ کاری میں آسانی پیدا کرنا ہے ۔ کمپنیوں کو ان کی گروپ کمپنیوں کے حصص کے خلاف فائدہ اٹھانے اور بینکوں اور دارالحکومت کے بازاروں کے مابین انفارمیشن شیئرنگ کے انتظامات کو فروغ دینے سے روکنے والی رکاوٹوں کو دور کریں۔

    اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک ، ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ وہ اس گونگ تقریب کے لئے پی ایس ایکس کا دورہ کرنے پر خوشی محسوس کررہے ہیں کیونکہ اس نے پاکستان میں قرضوں اور سرمائے کی منڈیوں کو بہتر بنانے اور مالی مداخلت کو بہتر بنانے کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے اسٹیٹ بینک اور پی ایس ایکس کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے حکومت کے قرضوں کی سیکیوریٹیوں کے لئے پرائمری ڈیلروں کی تقرری کے قواعد میں ترمیم کی ہے۔ اس سے پرائمری ڈیلرز کی حیثیت سے کام کرنے کے اہل اداروں کی فہرست میں توسیع ہوگی ، جس میں سیکیورٹی ڈپازٹریز اور کلیئرنگ ادارے شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری سیکیورٹیز کے سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسیع کرنا ، لیکویڈیٹی میں بہتری ، شفافیت میں اضافہ اور مارکیٹ کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ ، اسٹیٹ بینک نے ترقیاتی مالیات کے اداروں ، سرمایہ کاری کے بینکوں اور بروکرج ہاؤسز کے انتخاب اور کارکردگی کے معیار کو نرم کیا ہے تاکہ وہ بنیادی ڈیلر سسٹم کا حصہ بننے کے لئے حوصلہ افزائی کریں ، جس پر اس وقت بینکوں کا غلبہ ہے۔ لہذا ، پرائمری ڈیلرز کو پیش کردہ دیگر مراعات میں ، اداروں کے ایک بڑے اور متنوع گروہ کو اب بنیادی نیلامی تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ جبکہ پاکستان میں حکومتی قرضوں کی مارکیٹ اچھی طرح ترقی یافتہ ہے ، دارالحکومت مارکیٹ کے مؤکلوں کی شرکت تاریخی طور پر محدود ہے اور اسٹیٹ بینک خوردہ سرمایہ کاروں میں سرکاری سیکیورٹیز کی وسیع ملکیت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے نوٹ کیا کہ نظرثانی شدہ پرائمری ڈیلر رولز سرمایہ کاروں کے متنوع گروہ کی ضروریات کو پورا کریں گے ، جن میں کیپیٹل مارکیٹ کے مؤکل ، کارپوریٹ اور افراد شامل ہیں ، اور سرکاری سیکیورٹیز مارکیٹ میں ایک نیا مؤکل راغب کریں گے۔ گورنر باقر نے بتایا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی بات چیت اور بین الاقوامی بہترین طریق کار کے جامع جائزہ کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

    گورنر باقر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے اپنی گروپ کمپنیوں کے حصص کی سیکیورٹی کے خلاف مزید مالی اعانت جمع کرنے کے لئے اسپانسرز ، شیئر ہولڈرز اور کمپنیوں کی سہولت کے لئے اپنے حکمرانی کے ضوابط میں تبدیلی کی ہے۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ یہ ترمیم اسپانسرز اور کمپنیوں کو نئے کاروباری مواقع اور منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کے لئے لیکویڈیٹی بڑھانے میں معاون ثابت کرے گی ، اور اس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں زیادہ تر سرگرمی ہوگی۔ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ، یہ معیشت کی دستاویزات ، شفافیت اور کارپوریٹ گورننس کے اچھے طریقوں کو بھی فروغ دے گا۔

    ڈاکٹر باقر نے سامعین کو آگاہ کیا کہ اسٹیٹ بینک اور پی ایس ایکس مشترکہ طور پر موجودہ بینک اکاؤنٹ کے لئے بینکوں اور سنٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان (سی ڈی سی) یا نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی ایل) کے مابین کے وائی سی معلومات کے تبادلے کے دائرہ کار کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ ۔ انہوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے خوشی محسوس کی کہ ٹھوس پیشرفت ہوئی ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ اگلے مہینے کے آخر تک یہ اہم اقدام کامیابی کے ساتھ نافذ ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے انتظامات سے دارالحکومت مارکیٹ کے کھلاڑیوں کو گھریلو وسائل کو متحرک کرنے اور ان کو مؤثر طریقے سے پیداواری استعمال میں لانے میں مدد ملے گی۔

    بورڈ کے چیئرمین ، پی ایس ایکس ، جناب سلیمان ایس مہدی نے گورنر اسٹیٹ بینک کا پرتپاک استقبال کیا۔ پی ایس ایکس کے بورڈ ممبران؛ پی ایس ایکس کے ایم ڈی اور سی ای او مسٹر فرخ خان؛ اور PSX کا سینئر مینجمنٹ۔ گونگ تقریب میں ایس بی پی کے سینئر مینجمنٹ کے علاوہ مارکیٹ کے سینئر ممبران ، بینک صدور اور ٹریژری ہیڈ بھی موجود تھے۔

    اس موقع پر ایس ای سی پی چئیرمین نے خوش اسلوبی سے اظہار خیال کیا کہ انہوں نے کہا کہ "بحیثیت ترقی پسند ریگولیٹرز ، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک ، سرمایہ بازاروں اور مجموعی طور پر معیشت کی بہتری اور ترقی میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں۔