Baaghi TV

Category: کاروبار

  • برطانوی کمپنیوں نے باہر کتنا پیسہ پہنچایا سٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے

    برطانوی کمپنیوں نے باہر کتنا پیسہ پہنچایا سٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے

    برطانوی کمپنیوں نے باہر کتنا پیسہ پہنچایا سٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے

    باغی ٹی وی : جاری مالی سال کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی برطانوی کمپنیوں کی طرف سے منافع جات کی بیرون ملک منتقلی میں 123.1 ملین ڈالر اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح امریکی کمپنیوں کی جانب سے بھی 49.7 ملین ڈالر کے زیادہ منافع جات بیرون ملک بھجوائے گئے ہیں۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق جاری مالی سال کے کام کرنے والی برطانوی کمپنیوں نے 362.3 ملین ڈالر کے منافع جات بیرون ملک بھجوائے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا فروری 20-20219 کے دوران اس مد میں 239.2 ملین ڈالر بیرون ملک منتقل کئے گئے تھے۔

    اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی برطانوی کمپنیوں کی جانب سے منافع جات کی بیرون ملک منتقلی میں 123.1 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ادھر ماد اظہر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی ارب ڈالر کا بانڈ جاری کیا تھا، اس میں کامیابی ہوئی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کریں گے،بھارت سے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کریں گے، ڈیزل کی قیمت میں تین روپے فی لیٹر کمی کی جائے گی،پٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے اسٹیٹ بینک کو خود مختار کیا ہے، ہماری کرنسی اپنے زور پر کھڑی ہے، اس میں ڈالر نہیں جھونک رہے،

    چینی کی قیمت پاکستان سےکم ہونے پر انڈیا سے چینی درآمد کا فیصلہ کیا ہے، چھوٹی صنعتوں کیلئے بھارت سے کاٹن کی درآمد جون کے آخر تک کیلئے کھولیں گے، بھارت سے کاٹن کی تجارت بھی کھولیں گے ہمارے فیصلوں کی بنیاد پاکستان اورعوام کی فلاح ہوگی،کبھی کبھی حکومت کو سخت فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں،نجی شعبےکوبھارت سے5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمدکرنے کی اجازت دی

  • روپے نے ڈالر کو تاریخی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا

    روپے نے ڈالر کو تاریخی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا

    روپے نے ڈالر کو تاریخی سطح پر پیچھے چھوڑ دیا

    باغی ٹی وی : ڈالر ایک بار پھر نیچے آنے لگا ہے .ڈالر کی کمی اور تنزلی کا سلسلہ جاری ہے جب کہ روپیہ اس کے مقابلے میں تکڑا ہوا رہا ہے . انٹربینک میں ڈالر 22 ماہ کی کم ترین سطح پر بند ہوا۔ ڈالر سستا ہونے سے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اب تک 1700 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

    تفصیلات کے مطابق ڈالر کمزور اور روپیہ جان پکڑنے لگا، انٹربینک میں ڈالر مزید 95 پیسے کمی کے بعد 22 ماہ کی کم ترین سطح 152 روپے 9 پیسے پر بند ہوا، اس قبل ڈالر 13 جون 2019 کو اس سطح پر ٹریڈ ہوا تھا ۔۔

    موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو اس وقت ڈالر 124 روپے 50 پیسے پر تھا جبکہ 23 اگست 2020 کو انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح 168 روپے 43 پیسے پر پہنچ گیا تھا۔ اگست سے اب تک ڈالر کی قیمت میں 9 فیصد کم ہوچکی ہے ۔۔ جبکہ صرف مارچ میں ہی ڈالر 3 اعشاریہ 2 فیصد سستا ہوا۔

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • گندم خریداری پالیسی طے ، گندم خریدنے پر وزیراعلیٰ پنجاب خود کیا کریں گے

    گندم خریداری پالیسی طے ، گندم خریدنے پر وزیراعلیٰ پنجاب خود کیا کریں گے

    گندم خریداری پالیسی طے ، گندم خریدنے پر وزیراعلیٰ پنجاب خود کیا کریں گے

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا 42واں اجلاس ہوا، جس میں گندم خریداری پالیسی 2020-21 ء کی منظوری دی گئی،پنجاب حکومت کاشتکاروں سے 1800 رو پے فی من کے حساب سے گندم خریدے گی،گندم خریداری کا ٹارگٹ 35 لاکھ میٹرک ٹن سے 50 لاکھ میٹرک ٹن تک رکھا گیا ہے ،ضرورت پڑنے پر پنجاب حکومت مزید گندم بھی خرید سکتی ہے ،گندم پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر خریدی جائے گی ،وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا اور گندم خریداری مہم کی خود نگرانی کروں گا،

    عثمان بزدار نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اورکہاکہ کابینہ سٹینڈنگ کمیٹی فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر جلد اپنی حتمی سفارشات پیش کرے ۔کابینہ نے پنجاب شوگر سپلائی چین مینجمنٹ آرڈر2021 کی اصولی منظوری دی،جس کے تحت چینی کی خرید و فروخت کے پورے نظام کو ریگولیٹ کیا جا سکے گا،شوگر ملزاور ڈیلرز کے گودام کی رجسٹریشن ہو گی اور صرف رجسٹرڈ ڈیلرہی چینی کی خریدو فروخت کر سکے گا ، کابینہ اجلاس میں آرڈیننس کی اصولی منظوری دی گئی، جس کے تحت اشیاضروریہ کے نرخوں کو سٹے بازی کے ذریعے بڑھانے کی روک تھام کی جا سکے گی، پنجاب کابینہ نے قیمتوں میں استحکام کیلئے مزید 2 لاکھ میٹرک ٹن تک چینی امپورٹ کرنے کافیصلہ کیا ، کابینہ نے میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور خوشاب میں مزید 4 نئے سیمنٹ پلانٹس لگانے کی منظوری دی،

    سیمنٹ پلانٹس کے منصوبوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو گی اور روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے ، اجلاس میں قحط سالی سے متاثرہ ضلع خوشاب کی تحصیل نورپور تھل میں کاشتکاروں کو آبیانہ، زرعی ٹیکس اور دیگر واجبات معاف کرنے کی منظوری دی گئی اورنور پور تھل کے 75 مواضعات کو آفت زدہ قرار دیا گیا ، 2020ء کے مون سون فلڈ کے متاثرہ افراد کے نقصانات کے ازالے کیلئے 44 کروڑ روپے کے مالی امداد کے پیکیج ،ریسورس موبلائزیشن کمیٹی کی سال2019-20ء کیلئے سفارشات کی منظوری دی گئی اوران سفارشات کے تحت روٹ پرمٹ فیس میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا،اجلاس میں پنجاب سول اینڈ ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2017میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا، ایلیمنٹری وپرائمری اساتذہ کو ایڈوانس انکریمنٹ دینے کا فیصلہ موخر کردیا گیا،کابینہ نے پنجاب سیلز ٹیکس سپیشل پروسیجر(ٹرانسپورٹیشن، آئل ٹینکرز کے ذریعے کیرج آف پٹرولیم آئلز)رولز 2020ء کی منظوری دے دی، پراجیکٹس،پروگرامز، پالیسی یونٹس،پولیو سیلز،کمپنیز،اتھارٹیز،فاؤنڈیشنز، فنڈز اورکمیشنز میں تعینات افسروں کے لئے خصوصی الاؤنس دینے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا،

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں گندم ایکسپورٹ 2016ء کے حوالے سے اہم امور پرکمیٹی تشکیل دی گئی،کمیٹی تمام امور کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور ایکسپورٹ دستاویزات کی تصدیق کے بعد فیصلہ کرے گی، اجلاس میں خصوصی افراد کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ بحالی مرکز،ہسپتال کے قیام کے لئے سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اراضی سپیشلائزڈہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی،ٹاؤن شپ لاہور میں 26 کنا ل 10 مرلے اراضی پر سپیشل افراد کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنایا جائے گا،چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے ٹرمز اینڈ کنڈیشنز پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا،چیئرمین کو اب تنخواہ نہیں ملے گی بلکہ صرف گاڑی اور پی او ایل ملے گا،کابینہ نے چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی راشد عزیز کا استعفیٰ منظور کر لیا،سابق بیوروکریٹ عرفان الٰہی اتھارٹی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ سرکاری ممبران میں سینئر ممبربورڈ آف ریونیو، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری ہاؤسنگ شامل ہوں گے ۔لاہور رنگ روڈ اتھارٹی ایکٹ 2011ء میں ترمیم کی منظوری دی گئی،لاہوررنگ روڈ اتھارٹی کا دائرہ کار پنجاب بھر تک بڑھایا جائے گا۔اجلاس میں پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وویمن کی سالانہ رپورٹ برائے 2018ء منظوری کے لئے پیش کی گئی۔

    شہزاد اکبر کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان بزدار نے کہا ہے کہ مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہوتی ہے ،ماضی میں اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا گیا ، الزام مارکیٹ فورسز پر لگا کر شعبہ کو کبھی قواعدوضوابط کا پابند نہ کیا گیا جس کا خمیازہ عام آدمی نے مہنگائی کی صورت میں بھگتا۔عثمان بزدار نے کہاکہ کابینہ کے 42 ویں اجلاس میں حکومت نے دو آرڈیننس جاری کئے ہیں جن کا فائدہ صوبے کے عوام کو پہنچے گااور انہیں مہنگائی سے حقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا۔کوئی بھی فیکٹری، ڈیلر، ہول سیل ڈیلر2.5 میٹرک ٹن سے زیادہ چینی سٹور نہیں کر سکے گا اوراس سے زائد چینی ذخیرہ کرنے کی اجازت متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے حاصل کرنا ہو گی ۔وزیراعلیٰ نے میڈیا کے سوالوں کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ بلدیاتی اداروں سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ ابھی موصول نہیں ہوا تاہم اس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے ۔صفائی کی صورتحال میں بہتری آپ سب دیکھیں گے ۔بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہاکہ اشیا ضروریہ سے متعلق آرڈیننس کے نفاذ سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے -انہوں نے کہاکہ اداروں پر حملہ کرنا شریف خاندان کا وتیرہ رہاہے ۔

    ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے پنجاب حکومت کیلئے 8ایمبولینس گاڑیوں اور15موٹر سائیکلوں کا عطیہ دیا گیا،وزیراعلیٰ آفس میں ایمبولینس گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پنجاب حکومت کے سپرد کرنے کی تقریب ہوئی، عثمان بزدار کوڈبلیو ایچ او کے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر الپتھاماہی پالانے ایمبولینس گاڑیوں کی چابیاں پیش کیں ۔ایمبولینس گاڑیاں کورونا کے مریضوں کو منتقل کرنے کیلئے استعمال کی جائیں گی۔عثمان بزدار نے دنیا نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں سرپرائز وزٹ کرونگا ،تمام اضلاع میں موقع پر جاکر عوام کے مسائل سنوں گا، سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ جس آفیسر کی شکایات ہوں گی وہ فوری معطل ہوگا،کرپٹ اور کام نہ کرنے والے افسروں کو فوری عہدے سے ہٹایا جائے گا،سرپرائز وزٹ کے دوران عوام سے ڈائریکٹ ملاقات کرونگا، سردار عثمان بزدار کا ایک سوال پر کہنا تھا کہ میرے آفس کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں، میرے پاس حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے ممبران اسمبلی جب چاہتے ہیں ملتے ہیں، انکا کہنا تھا کہ سرپرائز وزٹ کے دوران ترقیاتی سکیموں اور کوالٹی کا بھی جائزہ لیا جائے گا،

    عثمان بزدار نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور آئندہ بھی تحریک انصاف کی حکومت ہوگی، گزشتہ حکومتیں تماشا زیادہ لگاتی رہیں،مہنگائی کے خاتمے کے لئے خود ،وزرا، افسر سب فیلڈ میں ڈیوٹی دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مخالفین آئے روز افواہیں پھیلاتے ہیں تاکہ ترقی کا عمل رک سکے لیکن عوام اپوزیشن اور مخالفین کو سمجھ چکی کہ وہ کرپشن کو چھپانے اور ترقیاتی عمل کو روکنے کے لئے افواہیں پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اعلان نہیں عملی طورپر کام پر یقین رکھتے ہیں، اگر چاہیں تو سابق حکومت کی طرح کئی سو ارب روپے کے اعلان کردیں اور کام نہ ہو لیکن ہم وہ کہتے ہیں جو کرتے ہیں

  • آئی ایم ایف کے بعد پاکستان کے لیے  ورلڈ بینک سے بھی اچھی خبر آ گئی

    آئی ایم ایف کے بعد پاکستان کے لیے ورلڈ بینک سے بھی اچھی خبر آ گئی

    آئی ایم ایف کے بعد پاکستان کے لیے ورلڈ بینک سے بھی اچھی خبر آ گئی

    باغی ٹی وی : حکومت کے لے اچھی خبر کہ آئی ایم ایف سے 50کروڑ ڈالر منظوری کے بعد عالمی بینک نے بھی پاکستان کیلیے گرانٹ منظور کرلی ،رقم غربت مٹاؤ پروگرام کیلئے استعمال کی جائے گی۔

    عالمی بینک نے پاکستان کیلئے60کروڑ ڈالرامداد کی منظوری دے دی ، رقم کی فراہمی سے غربت کے خاتمے اور معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔

    رقم پاکستان سے غربت کے خاتمے کے احسا س پروگرام کو بڑھانے میں استعمال کی جائے گی۔عالمی بینک نے پاکستان میں غربت کے خاتمے کے پروگرام” احساس” کو مزید بہتر بنانے کی خاطر 60 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دی، رقم غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی مالی امداد اور کورونا جیسے حالات سے نمٹنے کے لئے استعمال ہوگی۔

    واضح رہے 1950 سے اب تک ورلڈ بینک نے پاکستان کو 40 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی ہے اور اس وقت پاکستان میں عالمی بینک کے 13 ارب ڈالر کے 57 منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    ورلڈ بینک نے صوبہ پنجاب کے لئے قرض دینے کی منظوری دے دی

  • پنجاب حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کردی ، کسان خوش عام آدمی متاثر

    پنجاب حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کردی ، کسان خوش عام آدمی متاثر

    پنجاب حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کردی ، کسان خوش عام آدمی متاثر
    باغی ٹی وی : کسانوں کے اچھی خبر جبکہ عام عادمی کے لیے پریشانی کا باعث بننے والی خبر کہ پنجاب حکومت نے گندم کی فی من قیمت 1800 روپے مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

    صوبائی کابینہ کے اجلاس میں گندم کی فی من قیمت 1800 روپے مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری سطح پر گندم کی فی من قیمت اب 1800 روپے ہوگی۔ کاشتکاروں کی سہولت کیلئے گندم کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔ کاشتکاروں نے حکومت سے 2000 روپے فی من قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    صوبائی وزیر علیم خان کا کہنا تھا کہ ایک سال میں کبھی بھی 400 روپے گندم کی قیمت نہیں بڑھی، کسان ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کی خوشحالی کے لیے یہ وزیر اعظم کا بڑا قدم ہے، 1800 گندم کی قیمت کے باوجود ہم آٹے کی قیمت نہیں بڑھنے دیں گے، عام آدمی کیلئے آٹے پر جتنی سبسڈی دینی پڑی دیں گے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ پروکیورمنٹ کے وقت ریلیف کو بند کرنا پڑتا ہے اس ایک مہینے کے علاوہ ریلیف بند نہیں کریں گے، ہم آٹے کی ملوں کو سبسڈائز گندم فراہم کرتے رہیں گے تاکہ عام آدمی کو فائدہ ہو، کوشش ہے زیادہ سے زیادہ رمضان بازاروں میں آٹا سستے داموں پہنچا سکیں، پوری قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں وزیر اعظم کوایک ایک شخص کی مشکل کا اندازہ ہے،اور وہ پریشان بھی ہیں۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے بڑا اعلان کردیا

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے بڑا اعلان کردیا

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے بڑا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی :آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی۔

    آئی ایم ایف کاکہناہے کہ پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی قسط بجٹ سپورٹ کے طور پر جاری کی جائیگی، آئی ایم ایف کے اعلامیہ کے مطابق معیشت کی بہتری کیلئے پاکستان کی پالیسیاں بہتر رہیں،کارپوریٹ سیکٹر میں ٹیکس اصلاحات کی گئیں ۔

    آئی ایم ایف کاکہناہے کہ سرکاری اداروں کی مینجمنٹ ، پاور سیکٹر میں ریکوری بہتر رہی ،مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں مالیاتی کارکردگی بہتر رہی ۔

    آئی ایم کی جانب سے سے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی گئی جس کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے، اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ قرض کی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے جائزہ مکمل کرنے کے بعد دی۔

    پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر کی قسط بجٹ سپورٹ کے طور پر جاری کی جائے گی۔آئی ایم ایف نے کہا کہ جولائی 2019 میں پروگرام کی پہلی بار منظوری دی گئی تھی، ادائیگی سے توسیعی فنڈ کی سہولت کے تحت مجموعی دو ارب ڈالر کی فراہمی ہوئی۔

    اعلامیے کے مطابق جانوں کو بچانے، معیشت کی مدد کےلیے پاکستان کی پالیسیاں مبصرانہ رہیں جب کہ پاکستان نے شرح نمو میں اضافے اور ادارہ جاتی ترقی میں کام کیا ہے.

  • شوگر ملز ایسوسی ایشن نے  ایف بی آر کو خط لکھ  دیا، ہدایت پر کیا اعتراض اٹھایا

    شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کو خط لکھ دیا، ہدایت پر کیا اعتراض اٹھایا

    شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کو خط لکھ دیا، ہدایت پر کیا اعتراض اٹھایا

    باغی ٹی وی : چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کو خط لکھ دیا. خط میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر امپورٹد ٹیکس اسٹیمپ کی مخالفت کردی ۔

    ایف بی آر کی جانب سے لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر کیو آر کوڈ کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے، خط میں مزید کہا گیا کہ ہر سال ٹیکس اسٹیمپ درآمد کر کے چینی کے ہر بیگ پر چسپاں کرنا پڑیں گے، منہگے ٹیکس اسٹیمپ کی درآمد سے شوگر ملز مالکان پر اضافی بوجھ پڑے گا اور چینی کے ہر بیگ پر کیو آر کوڈ پرنٹ کرنا آسان ترین حل ہوگا .

    پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایف بی آر کو لکھے گئے خط کے مطابق پورے ملک کی چینی کی پیکنگ کے لیے پولی پروپلین بیگ استعمال ہوتے ہیں، شوگر ملز صرف کیو آر کوڈ کے تحت پولی پروپلین بیگ استمال کریں گے، سیلز ٹیکس کی ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کیو آر کوڈ کے تحت پولی پروپلین بیگ ہوں گے، غیر استعمال شدہ بیگ کے متعلق ایف بی آر کو رپورٹ کیا جائے گا۔

    ادھر پنجاب حکومت کی جانب سے اکتوبر2020ء میں نافذ کیا جانے ولا پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ دوسری مقرر ہ مدت کے دوران بھی پنجاب اسمبلی سے پاس نہ ہونے کے باعث تحلیل ہونے سے اس ایکٹ کے تحت مختلف شوگر ملزکے خلاف کی گئی کارروائیاںغیر مؤثر ہونے کے خدشات، کاشتکاروں میں تشویش کی لہر پھیل گئی .

    گنے کے کاشتکاروں کو سالہا سال سے درپیش مشکلات کے حل کے لئے پنجاب حکومت نے گزشتہ سال اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ1950ء میں کئی ترامیم کر کے اسے فوری طور پر نافذالعمل قرار دیا تھا جس کے تحت پنجاب بھر کی شوگر ملز کو کرشنگ سیزن15نومبر تک شروع کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں .

    مقررہ تاریخ تک نیا کرشنگ سیزن شروع نہ کرنے والی شوگر ملز کو پچاس لاکھ یومیہ جرمانے کے ساتھ مالکان کو تین سال قید کی سزا بھی تجویز کی گئی تھی

  • پاک سوزوکی موٹر کمپنی کا خسارہ  کم ہوگیا

    پاک سوزوکی موٹر کمپنی کا خسارہ کم ہوگیا

    پاک سوزوکی موٹر کمپنی کا خسارہ کم ہوگیا

    باغی ٹی وی : ٹیکس میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ دیگر آمدنی میں اضافے کی وجہ سے 31 دسمبر 2020 کو ختم ہوئے سال میں پاک سوزوکی موٹر کمپنی کا خسارہ 45.6 فیصد سے کم ہوکر 1.6 بلین روپے ہوگیا۔

    پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس کے مطابق ، کمپنی کو 2019 میں 2 ارب 9 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔اس کے مطابق ، فی شیئر خسارہ 2019 میں 35.49 روپے سے گر کر 2020 میں 19.31 روپے ہو گیا۔

    کار بنانے والی کمپنی کی خالص فروخت 2019 میں 116.5 ارب روپے سے کم ہو کر 2020 میں 76.7 ارب روپے ہوگئی ،ایک رپورٹ میں ، عارف حبیب لمیٹڈ کے تجزیہ کار ارسلان حنیف نے بتایا کہ فروخت شدہ یونٹوں میں 47 فیصد کی حجم میں کمی کی وجہ سے خالص فروخت سی وائی 20 میں گر گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کار ساز نے 2020 میں 59،052 یونٹ روانہ کیے تھے جبکہ اس کے مقابلہ 2019 میں 111،543 یونٹ تھے۔

    فروخت میں زبردست گراوٹ کے باوجود ، گذشتہ سال فرم کا مجموعی منافع 3.3 ارب روپے رہا ، جو 2019 میں ریکارڈ شدہ 1.98 بلین روپے سے 66 فیصد زیادہ تھا۔

    ا
    آٹوموبائل کمپنی کے تقسیم اور مارکیٹنگ کے اخراجات سن 2020 میں 35.4 فیصد کم ہوکر 1.6 بلین روپے ہوگئے۔اسی طرح انتظامی اخراجات 2019 میں 29.5 فیصد کم ہوکر 220 ارب روپے سے 2020 میں 1.8 ارب روپے رہ گئے.۔

    دوسری طرف سالانہ بنیادوں پر دیگر آمدنی 216.57 فیصد بڑھ گئی۔ 2019 کے 222.5 ملین روپے کے مقابلے میں 2020 میں سربراہی کے تحت وصولیاں 704.4 ملین روپے ریکارڈ کی گئیں۔

    دن کے دوران پاک سوزوکی موٹر کمپنی کے حصص کی قیمت 10.32 روپے اضافے سے 274.12 روپے پر کھڑی رہی ، جس کے ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 961،600 حصص کا تبادلہ ہوا

  • شیخوپورہ میں کاروبار کس دن رہیں گے بند،نوٹیفیکیشن جاری

    شیخوپورہ میں کاروبار کس دن رہیں گے بند،نوٹیفیکیشن جاری

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) صوبائی سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ کی درخواست پر کورونا کے باعث شیخوپورہ میں شاپنگ سینٹرز اور کاروباری مروکز ہفتہ،اتوار کی بجائے جمعہ،ہفتہ کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلہ میں شیخوپورہ کے تاجروں نے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی تھی کہ شیخوپورہ میں ہفتہ، اتوار کی بجائے جمعہ اور ہفتہ کے روز مارکیٹ اور تجارتی مراکز بند رکھے جائیں، کیونکہ شیخوپورہ میں جمعہ کے روز تجارتی مراکز میں ہفتہ وار تعطیل ہو تی ہے اور ہفتہ ، اتوار کو کرونا کے باعث کاروبار بند کرنے سے ہفتہ میں تین روز کے لیے کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے اور تاجر برادری کے ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ڈپٹی کمشنر کے ترجمان کے مطابق شیخوپورہ میں ان احکامات پر آئندہ جمعہ 26مارچ سے عملدرآمد ہو گا۔ تاجروں اور شہریوں نے حکومتی فیصلے کو خوب سراہا ہے۔  

  • وزارت خزانہ نےرواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے قرض کے اعداد وشمار جاری کر دیے

    وزارت خزانہ نےرواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے قرض کے اعداد وشمار جاری کر دیے

    12:26 PM
    وزارت خزانہ نےرواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے قرض کے اعداد وشمار جاری کر دیے.

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ نےرواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے قرض کے اعداد وشمار جاری کر دیے.حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے7 ماہ میں 6 ارب 51 کروڑ ڈالر قرض لیا،

    دستاویز میں بتایا گیا کہ حکومت نےمالی سال کے پہلے7 ماہ میں 3 ارب47 کروڑ 40 لاکھ ڈالر قرض واپس کیا،رواں مالی سال کے پہلے7 ماہ میں 3 ارب 3 کروڑ 70 لاکھ قرض کا اضافہ ہوا، دستاویز.جولائی سے جنوری تک 2 ارب 73 کروڑ ڈالرکمرشل قرض لیا گیا،جولائی سےجنوری تک1ارب93کروڑ 40 لاکھ ڈالرکمرشل قرض واپس کیا گیا.

    پی ٹی آئی حکومت نے ڈھائی سالہ دور اقتدار میں 20 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے جو بیرونی قرضوں کی ریکارڈ واپسی ہے یہ درست ہے کہ حکومت میں 20 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے تو واپس کیے ہیں تاہم تحریک انصاف کے دوراقتدار میں ملک کا مجموعی بیرونی قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت نے قرض تو واپس کیا ہے لیکن اس بیرونی قرض کو اتارنے کے لیے نیا قرض لے کر ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

    موجودہ دور حکومت میں پاکستان کے غیرملکی کمرشل قرضوں پر انحصار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں 7اعشاریہ2 ارب ڈالرز میں سے غیرملکی کمرشل قرضہ 3اعشاریہ110 ارب ڈالرز رہا۔

    اس کے علاوہ چین کے جمع کروائے گئے 1 ارب ڈالرز کی مدد سے حکومت نے رواں مالی سال میں ڈالرز کے بہائو کا نیٹ ٹرانسفر ممکن بنایا ہے۔ غیرملکی کمرشل قرضوں اور محفوظ ڈپوزٹ کی مدد سے پاکستان کو مجموعی طور پر 4اعشاریہ1 ارب ڈالرز موصول ہوئے ہیں جو کہ مجموعی بیرونی قرضوں کا 50 فیصد سے بھی زائد ہے۔

    اقتصادی امور ڈویژن کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 21-2020میں جولائی تا فروری حکومت کو 7اعشاریہ 208 ارب ڈالرز مختلف ذرائع سے بیرونی قرض موصول ہوا جو کہ پورے مالی سال کے سالانہ بجٹ تخمینہ 12اعشاریہ233 ارب ڈالرز کا 59 فیصد بنتا ہے،گزشتہ مالی سال 2019-20 میں غیرملکی قرض 6اعشاریہ282 ارب ڈالرز تھا جو کہ مجموعی سالانہ بجٹ 12اعشاریہ958 ارب ڈالرز کا تقریباً 51 فیصد تھا