Baaghi TV

Category: کاروبار

  • اوگرا نے گیس بم گرانے کی تیاری کرلی

    اوگرا نے گیس بم گرانے کی تیاری کرلی

    10:58 AM
    اوگرا نے گیس بم گرانے کی درخواست دے دی

    باغی ٹی وی : اوگراسوئی ناردرن نے آئندہ مالی سال یکم جولائی سے گیس منہگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے، نے مجموعی طورپر325 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال ظاہر کیا،سوئی سدرن نے 34 ارب 99 کروڑ روپے کا شارٹ فال بتایا ہے،سوئی سدرن نے 16ارب71 کروڑ روپے ایل این جی سروس کی مد میں مانگے ہیں،

    سوئی ناردرن نے گھریلوصارفین کوفراہم کی گئی ایل این جی مد میں27 ارب94 کروڑ روپے مانگے ہیں ،متاترہ عوام اورصارفین ان درخواستوں سے متعلق14روزمیں اپنی رائے اوگرا کو جمع کرا سکتے ہیں،

    یاد رہے کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے28 جنوری کو صنعتوں کو اضافی گیس فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا جسے صنعتوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔عدالت نے گزشتہ روز صنعتوں کے حق میں دیا جانے والا حکم امتناع بھی ختم کردیا تھا۔

  • مہنگائی اب ہو گی کنٹرول

    مہنگائی اب ہو گی کنٹرول

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر حکومت پنجاب نے گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے محض مقامی افسروں پر اکتفا کرنے کی پالیسی تبدیل کر دی ہے باخبر ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے تمام صوبائی محکموں کے سیکرٹریوں کی گراں فروشوں کےخلاف کارروائی کے لیے خدمات حاصل کر لی ہیں جو ضلع ہیڈ کوارٹروں اور ملحقہ تحصیلوں میں سرپرائز وزٹ کر کے منڈیوں کے علاوہ دوکانوں پر بھی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کی چیکنگ کریں گے اور صفائی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیں گے صوبائی سیکرٹری رمضان المبارک کے دوران لگنے والے سستے بازاروں کی بھی چیکنگ کریں گے محکمہ ایس اینڈ جی اے کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب کے 36 اضلاع میں صوبائی سیکرٹریوں کی ڈیوٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے شیخوپورہ میں بازاروں کی چیکنگ کی ذمہ داری سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ندیم محبوب کو سونپی گئی ہے ذرائع کے مطابق صوبائی سیکرٹری سرکاری گوداموں میں پڑی ہوئی گندم کے معیار اور سٹاک کی بھی چیکنگ کریں گے اور ضلع وار پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے ممبران سے بھی ملاقات کریں گے

  • گندم کے  مارکیٹ آتے ہی  مافیا  نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا ،  آگے کیا ہوگا

    گندم کے مارکیٹ آتے ہی مافیا نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا ، آگے کیا ہوگا

    گندم کے مارکیٹ آتے ہی مافیا خوروں نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا . آگے کیا ہوگا

    باغی ٹی و ی . گندم کی کٹائی کا آغاز ہوچکا ہے ، ضلع عمر کوٹ میں گندم کاٹی جارہی ہے . اس سلسلےمیں موسم شروع ہوتے ہی بحران پیدا کیا جا رہا ہے بڑے پیمانے پر نئی گندم مارکیٹ میں آنے لگی جب کہ نئی گندم 2000 سے 2100 روپے فی 40کلو گرام کے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے۔ حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت 2000 روپے فی من مقرر کر رکھی ہے۔
    زخیرہ اندوزوں نے سیزن کے شروع میں اپنی روایتی عادت کو جاری رکھتے ہوئے ایسا کچھ شروع کر دیا ہے . گندم مارکیٹ میں آنے کے ساتھ ہی ذخیرہ اندوز اور بڑے پیمانے پر گندم ضلع سے باہر منتقل کرنے والی مافیا بھی سرگرم ہو گئی ہے۔

    روزانہ درجنوں ٹرک گندم کراچی بھیجی جا رہی ہے۔ دوسری جانب گندم خریداری سے متعلق حکومت سندھ کی کوئی پالیسی سامنے نہیں آسکی نہ ہی سرکاری مراکز قائم کرنے کے کوئی آثار نظر آتے ہیں۔ حکومت کی ناقص زرعی پالیسیوں اور تاخیری حربوں سے ہر سال صوبے میں گندم اور آٹے کا بحرانپیدا ہوتا ہے۔

    دوسری طرف فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے پنجاب حکومت سے فوری طور پر گندم کی نئی فصل کی امدادی قیمت 1800 روپے من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت 1650 روپے فی من ہے، جبکہ سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے ہے، پنجاب میں بھی گندم کی امدادی قیمت 2000 روپے کی جائے، کیونکہ گندم کی امدادی قیمت کم ہونے سے اسمگلنگ ہوگی۔ جس سے فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ اور کسانوں کا معاشی استحصال ہوگا۔خیال رہے کہ موجودہ حکومت میں‌ پہلے ہی آٹے کا بحران کافی شدت اختیار کر چکا تھا . اور اس پر قابو بڑی مشکل سے پایا گیا.

  • مہنگائی کے بوجھ میں دبے عوام کو حکومت کی طرف سے عارضی ریلیف مل گیا

    مہنگائی کے بوجھ میں دبے عوام کو حکومت کی طرف سے عارضی ریلیف مل گیا

    مہنگائی کے بوجھ میں دبے عوام کو حکومت کی طرف سے عارضی ریلیف مل گیا

    باغی ٹی وی : حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھا کر عوام کو بڑا ریلیف دے دیا . پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کسی قسم کا ردوبدل نہ کرتے ہوئے انھیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے.

    .وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آئندہ 15 روز کیلئے پیٹرول کی قیمت 111 روپے 90 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 116 روپے 8 پیسے فی لیٹربرقرار رہے گی۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں فی لیٹر 3 روپے 42 پیسے کا اضافہ کیا گیا اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 83 روپے61 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2روپے19 پیسے فی لیٹر اضافہ کے بعد نئی قیمت 81 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    وزرات خزانہ کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پرکوئی لیوی عائد نہیں جبکہ نئی قیمتوں کا اطلاق 16 مارچ سے ہوگا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری بیان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو قیاس آرائیاں قرار دیا گیا تھا۔

    اوگرا نے کہا گیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق خبریں قیاس آرائیاں ہیں۔

    ترجمان اوگرا نے کہا کہ قیاس آرائیوں سے افراتفری میں پٹرولیم مصنوعات کی خریداری کا خدشہ ہے۔ اس لئے قیمتوں کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

  • بینکوں نے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس کا لین دین روک دیا

    بینکوں نے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس کا لین دین روک دیا

    یکم مارچ کو ٹیکس سال 2020 کے لئے نیا اے ٹی ایل جاری کرنے کے بعد سے کسٹمرز کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں غیر فائلرز کو اپنا ریٹرن فائل کرنے اور اے ٹی ایل میں شامل کرنے کے لئے سرچارج ادا کروانا ہوں گے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بینکوں نے دیر سے ٹیکس جمع کروانے فائلنگ سرچارج کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ان افراد کے پاس رکھے گئے کھاتوں میں غیر ملکی زرمبادلہ کا لین دین روک دیا ہے-

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ متعدد اکاؤنٹ ہولڈرز نے شکایت کی ہے کہ ان کے بینکوں نے اس حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا لین دین روک دیا ہے کہ ان کا نام اے ٹی ایل میں ظاہر نہیں ہوتا ہے۔

    یکم مارچ کو ٹیکس سال 2020 کے لئے نیا اے ٹی ایل جاری کرنے کے بعد سے کھاتہ داروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک بینک منیجر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ، "نئے اے ٹی ایل کے بعد آدھے ریٹرن فائلرز غیر فعال ہو چکے ہیں۔”غیر فائلرز کو اپنا ریٹرن فائل کرنے اور اے ٹی ایل میں شامل کرنے کے لئے سرچارج ادا کروانا ہوں گے-

    سرچارجز افراد کے لئے ایک ہزار روپے ، افراد کی انجمن کے لئے دس ہزار روپے اور کمپنی کے لئے بیس ہزار روپے ہیں۔

    اگرچہ بینک قانون کے تحت لین دین کو روک رہے ہیں ، لیکن ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ فائلر کے فیصلے پر کئی سوال اٹھتے ہیں-

    غیر ملکی کرنسی کھاتوں کے ذریعے لین دین کو دستاویز کرنے کے لئے اپریل 2018 میں ، حکومت اقتصادی اصلاحات ایکٹ ، 1992 میں ایک ترمیم لائی تھی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی وضاحت کے مطابق۔ ان تبدیلیوں کے تحت ، ان سرچارجز کی اجازت صرف ان لوگوں کے لئے تھی جو ٹیکس فائلرز تھے –

    غیر ملکی کرنسی کھاتوں کو بیرون ملک سے وصول کی جانے والی ترسیلات ، پاکستان سے باہر جاری مسافروں کے چیک (چاہے اکاؤنٹ ہولڈر کے نام پر ہوں یا کسی دوسرے شخص کے نام پر) اور حکومت پاکستان کے ذریعہ جاری سیکیورٹیز کے ذریعہ پیدا ہونے والی زرمبادلہ سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے قانون کے مطابق ،اس وقت شہریوں کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ میں نقد غیر ملکی کرنسی بھی فراہم کی جاسکتی ہے جب اکاؤنٹ رکھنے والا انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں بیان کردہ فائلر ہو۔

    جب ترمیم کو مطلع کیا گیا تھا ، تاہم ، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 2 کی شق 23-A کے تحت فائلر "ایک ٹیکس دہندہ جس کا نام بورڈ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعہ جاری کردہ ایکٹیو ٹیکس دہندگان کی فہرست میں ظاہر ہوتا ہے۔ "تاہم ، اس شق کو فنانس ایکٹ 2019 میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

    ایف بی آر کے ایک سابق عہدیدار بدر الدین قریشی نے کہا کہ فائلر اور نان فائلر کا تصور فنانس ایکٹ ، 2014 کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد ود ہولڈنگ ٹیکس کی اعلی شرطیں عائد کرکے نان فائلرز کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔

    قریشی نے کہا کہ اب ان فائلرز کو ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں کمی کا فائدہ اٹھانے کے لئے اے ٹی ایل میں حاضر ہونے کے لئے سرچارج ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ، "فائلر کی وضاحت کے لئے متعلقہ قوانین میں مناسب ترمیم کی ضرورت ہے۔

    ایف بی آر کا فری لانسرز اور آن لائن کاروبارکرنیوالوں کیخلاف کریک ڈوان کا فیصلہ،…

    روپے کی بہتری کا سفر جاری

  • حکومت کے مالی خسارہ کم ہونے کے دعوے  کی حقیقت سامنے آگئی

    حکومت کے مالی خسارہ کم ہونے کے دعوے کی حقیقت سامنے آگئی

    حکومت کے مالی خسارہ کم ہونے کے دعوے کی حقیقت سامنے آگئی

    باغی ٹی وی : حکومت کے معیشت بہتری کے حکومت کے سار ے دعوے غیر حقیقی ثابت ہورہے ہیں. عوام سے دگنی پٹرولیم لیوی وصول کرنے مالی خسارہ گذشتہ مالی سال کے مقابلے زیادہ ریکارڈ کیا گیا. چھ ماہ کے اعداد و شمار سے یہ صورت حال سامنے آگئ
    ہے .

    جولائی سے دسمبر 2020 کے دوارن مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2 اعشاریہ 5 فیصد کے برابر رہا، جبکہ گذشتہ مالی سال کے انہی چھ ماہ میں مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2 اعشاریہ 3 فیصد کے مساوی تھا.

    چھ ماہ مین حکومت نے قرض و سود کی ادائیگی پر 1475 ارب روپے خرچ کیے، دفاع کے لئے 487 ارب روپے کی رقم جاری کی گئی۔ رواں مالی سال میں اب تک حکومت نے گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں دگنی پٹرولیم لیوی وصول کی۔لیکن پھر بھی مالی خسارہ زیادہ رہا .

    وزات خزانہ کے مطابق جولائی سے دسمبر 2020 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 275 ارب روپے وصول ہوئے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 131 ارب روپے وصول ہوئے تھے

  • مہنگائی کا بے قابو جن  بد حال عوام کو کہاں  تک لے جائے گا، رپورٹ

    مہنگائی کا بے قابو جن بد حال عوام کو کہاں تک لے جائے گا، رپورٹ

    مہنگائی کا بے قابو جن بد حال عوام کو کہاں تک لے جائے گا، رپورٹ

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی حکومت نے جب سے اقتدار سمبھالا ہے ، جہاں اور مسائل حکومت کا پیچھا نہیں‌چھوڑ رہے وہاں مہنگائی بے روگاری اور روزگار کے گرتے ہوئے مواقع حکومت کے لیے ڈراونا خواب بنے بیٹھے ہیں. حکومت نے اس حوالے سے جو بھی بظاہر کوشش کی ہے وہ رائیگاں گئی ہے . ان حالات میں مہنگائی کا جن قابو میں آتا دکھائی نہیں دیتا ، مہنگائی ضروریات زندگی میں اس قدر سرائیت کر چکی ہے کہ اب غریب آدمی کی قوت خرید جو پہلے ہی بہت کم تھی مزید ابتر ہوگئی ہے . دو وقت کی روٹی کو پورا کرنے کے لیے اب وہی مزدور روتا ہوا دکھائی دیتا ہے .

    اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ مہنگائی کم ہے لیکن مصنوع طور پر مہنگائی کی جارہی ہے . مافیا یہ سب آپنے مفاد کے لیے مہنگا کررہا ہے . لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ اس مافیا پر کنٹرول کس نے کرنا ہے . کیا مافیاز پہلے نہیں تھے . اور دوسری حکومتوں میں یہ مافیا اپنی من مانیاں نہیں کرتے تھے تب یہ سب کیسے کنٹرول میں تھا. یہ سب سوالات حکومت کو کی کارکردگی کو بد تر سے ابتر کر رہا ہے اور غریب آدمی اس حکومت سے ذرا بھی خوش نہیں ہے .


    مہنگائی کے بارے جو ملکی اشاریے ہیں بہت ہی افسوس ناک ہیں اسٹیٹ بینک نے اس بارے میں جوا اعدادو شمار جای کیے ہیں. ان کو دیکھ کو مایوسی ہوتی ہے ، پاکستانی شہریوں کے لیے مالی سال 2020 بدترین ثابت ہوا جس میں انہوں نے دنیا کی سب سے بلند شرح مہنگائی کا مشاہدہ کیا جس کی وجہ سے پالیسی ساز شرح سود میں اضافے پر مجبور ہوئے۔

    اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے اپریل کے لیے جاری کردہ مہنگائی کی جائزاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’نہ صرف دنیا کی ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں پاکستان نے بلند ترین افراطِ زر کا مشاہدہ کیا‘۔

    رواں مالی سال کے دوران اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا لیکن بلند شرح سود کا الٹا اثر ہوا اور اس سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہوا بلکہ نجی شعبے نے صنعتی نمو اور خدمات میں رکاوٹ بننے والی مہنگی رقم کا قرض لینا بند کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق جنوری میں افراطِ زر کی شرح 12 سال کی بلند ترین سطح پر یعنی 14.6 فیصد تھی اور قیمتوں میں اضافے کے ردِ عمل میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود 13.25 فیصد تک بڑھا دی تھی۔

  • چکن کے گوشت کی قیمت  آسمان سے باتیں کرنے لگی ، عدالت نے  اٹھایا بڑا قدم

    چکن کے گوشت کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی ، عدالت نے اٹھایا بڑا قدم

    چکن کے گوشت کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی ، عدالت نے اٹھایا بڑا قدم

    باغی ٹی وی : چکن مرغی کے گوشت کی قیمت آسمانوں سے باتیں کرنے لگی، جس پر لاہور ہائی کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی ، لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو صوبے میں چکن کی قیمتیں کم کرنے سے متعلق ہدایات جاری کرنے کے لیے دائر درخواست پر نوٹسز جاری کر دیے۔
    ہائی کورٹ کے بینچ نے ابتدائی سماعت کے بعد صوبائی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کو آئندہ اجلاس میں دائر کردہ درخواست پر اپنا جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

    مہنگے ترین گوشت پر درخواست گزار نے عدالت کے سامنے کہا کہ حکومت چکن کی بڑھقی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ متعلقہ حکام کو چکن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا حکم دیا جائے۔

    خیال ر ہے کہ چکن کی قیمتیں بھی کراچی میں گوشت کے برابر 500 روپے فی کلو، لاہور میں 365 روپے فی کلو اور اسلام آباد میں 400 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہیں.

  • حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکج دے دیا

    حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکج دے دیا

    حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکج دے دیا

    باغی ٹی وی : رمضان المبارک کے لئے یوٹیلیٹی سٹورز پر تاریخ کے سب سے بڑے 7 ارب 60 کروڑ روپے کے رمضان پیکج کی منظوری دے دی گئی۔ یکم اپریل سے شروع ہونے والے رمضان ریلیف پیکیج میں 19 اشیاء پر سبسڈی دی جائے گی۔

    10 مارچ کو وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں رمضان پیکج کی منظوری دی گئی۔ پیکج کے تحت عوام کو یوٹیلیٹی اسٹورز پر 19 بنیادی اشیائے ضروریہ پر 50 روپے تک رعایت ملے گی۔

    رمضان پیکج میں چینی 68 روپے اور گھی 175 روپے کلو جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 800 روپے ميں دستياب ہوگا۔ عام بازار کی نسبت یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی 40روپے، گھی 43، چائے 50، آٹا ساڑھے 30 روپے کلو اور کوکنگ آئل 20 روپے لیٹر سستا ملے گا۔

    دال چنا، مونگ، ماش اور سفید چنے کی قيمت بھی 10 سے 30 روپے تک کم مقرر کی گئی۔ دودھ سميت ديگر مشروبات پر 20 روپے، بیسن، کھجور اور مصالحہ جات پر 10 روپے اور چاول پر 12 روپے رعایت ملے گی.

    اس کے علاوہ وزیر اعظم کم لاگت ہاؤسنگ سکیم کیلئے ڈیڑھ ارب روپے گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق عالمی بینک کی مدد سے کورونا سے متعلق منصوبے اوریو این مشن میں تعینات عملے کیلئے 33کروڑ کی تکنیکی گرانٹ بھی منظور کرلی گئی ہے۔ اجلاس میں طور خم سرحد کے ذریعے کپاس کی درآمد کی بھی مشروط اجازت کے علاوہ آئندہ 9ماہ تک کھاد کے 2پلانٹ چلانے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

  • فروری میں نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہونے میں کتنا اضافہ ہوا

    فروری میں نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہونے میں کتنا اضافہ ہوا

    فروری میں نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہونے میں کتنا اضافہ ہوا

    باغی ٹی وی : سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اپ دیٹس دیتے ہوئے کہا ہے کہ فروری 2021 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 39 فیصد زائد کمپنیاں ہوئیں۔

    ایس ای سی پی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فروری میں 2257 نئی کمپنیاں اور سٹارٹ اپس انکارپوریٹ کیے۔ رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں میں 99 فیصد کمپنیاں آن لائن ہی رجسٹرڈ ہوئیں.

    ایک ماہ کے دوران ایس ای سی پی کی طرف سی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 39 فیصد اضافہ ہواہے۔ فروری میں 99فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر جبکہ 30 فیصد درخواست دہندگان کو ایک ہی دن میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے اور 175 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ای سروسز کے ذریعے بیرون ملک سے کمپنیاں رجسٹرڈ کروائیں ۔

    30 فیصد کمپنیوں کو اسی روز رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے جبکہ بیرونی ممالک سے 175 نئی غیرملکی کمپنیاں بھی رجسٹرڈ ہوئیں۔ ایس ای سی پی کے ساتھ مجموعی طور پر رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کی تعداد 137054 ہو گئی ہے۔

    آن لائن ادائیگیوں کی سہولت، رجسٹریشن کے لیے ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کا اجراء اور نئے قائم کیے گئے بزنس سینٹر کی طرف سے انکارپوریشن کے لیے فراہم کی گئی معاونت شامل ہیں۔

    روری 2021ء میں 52 نئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری نوٹ کی گئی۔ ان کمپنیوں میں کینیڈا، چین، ڈینمارک، مصر، جرمنی، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، کویت، لبنان، ناروے، اومان، پرتگال، سعودی عرب، سنگاپور، سپین، شام، تنزانیہ، ترکی، یو اے ای، برطانیہ، یوکرین اور امریکہ سے سرمایہ کاری کی گئی۔

    رجسٹرڈ ہونے والی نئی کمپنیوں میں 68 فیصد بطور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں، 30 فیصد سنگل میمبر کمپنیاں اور دو فیصد پبلک اَن لسٹڈ، بغیرمنافع تنظیمیں، غیرملکی کمپنیاں اور لمیٹڈ لائبیلیٹی پارٹنرشپ شامل ہیں۔