Baaghi TV

Category: کاروبار

  • ملکی برآمدات بڑھیں یا کم ہوئیں سٹیٹ بینک نے اعدادو شمار جاری کردیے

    ملکی برآمدات بڑھیں یا کم ہوئیں سٹیٹ بینک نے اعدادو شمار جاری کردیے

    ملکی برآمدات میں‌ کہاں‌ تک کمی ہوئی سٹیٹ بینک نے اعدادو شمار جاری کردیے

    باغی ٹی و ی :کورونا وائرس کے باعث رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران خطے کے ممالک کو کی جانے والی برآمدات میں 24.4 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال میں جولائی تا ستمبر 2020 کے دوران افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ کو برآمدات کا حجم 719.183 ملین ڈالر تک کم ہو گیا۔

    گزشتہ مالی سال میں اسی عرصہ کے دوران برآمدات کا حجم 958.48 ملین ڈالر رہا تھا۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران خطے کے ممالک کو کی جانے والی قومی برآمدات میں 24 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے

  • جاری مالی سال کی ملکی برآمدات پر اچھی خبر آگئی

    جاری مالی سال کی ملکی برآمدات پر اچھی خبر آگئی

    ملکی برآمدات ، جاری مالی سال کی برآمدات پر اچھی خبر آگئی

    باغی ٹی وی : ملکی برآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 5.98 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    پاکستان بیورو برائے شماریات اور سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے لے کر اکتوبر کے مہینہ تک 12 لاکھ 54 ہزار 813 ملین روپے کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 5.98 فیصد زیادہ ہے۔

    گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملکی برآمدات کا حجم 11 لاکھ 83 ہزار 957 ملین روپے کی برآمدات ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر کے مہینہ میں برآمدات میں 8.77 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    اکتوبر 2020ء میں 3 لاکھ 42 ہزار 539 ملین روپے کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں 3 لاکھ 14 ہزار 928 ملین روپے کی برآمدات ہوئی تھیں۔اعدادوشمار کے مطابق مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں ملکی درآمدات میں اضافہ کا تناسب 4.98 فیصد رہا۔ جولائی سے لے کر اکتوبر کے مہینہ تک 25 لاکھ، 17 ہزار 363 ملین روپے مالیت کی درآمدات ریکارڈ کی گئیں۔

    گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 23 لاکھ، 97 ہزار 821 ملین روپے کی درآمدات ریکارڈ کی گئیں تھیں۔ اکتوبر کے مہینہ میں ملکی درآمدات میں اضافہ کا تناسب 0.65 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سب سے زیادہ درآمدات پیٹرولیم مصنوعات کے شعبہ میں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پلاسٹک میٹریل اور آئرن اور سٹیل کے شعبوں میں بھی درآمدات کی شرح زیادہ ہے۔

  • ساہیوال:مہنگائی کے بے قابو جن نے عوام کی کمر توڑ دی،انتظامیہ بے بس،لوگ فاقہ کشی پر مجبور

    ساہیوال:مہنگائی کے بے قابو جن نے عوام کی کمر توڑ دی،انتظامیہ بے بس،لوگ فاقہ کشی پر مجبور

    ساہیوال:ضلعی انتظامیہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام،پھل وسبزیاں بدستورمہنگی،آلو130روپے فی کلو تک جا پہنچے،پیاز و سبزمرچ کے نرخ بھی آسمان پر،دکانداروں کی من مانی،شہری پریشان۔ساہیوال بھر میں اشیاء خوردنوش کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی اور دکاندار من مانی قیمت وصول کرتے رہے،بڑھتی ہوئی مہنگائی نے شہریوں کاجینا محال کردیاہے،مارکیٹ میں سرکاری ریٹ لسٹ کے برعکس گزشتہ روزسیب(اول)150سے210روپے فی کلو،سیب(دوئم)130سے150روپے،سیب(گولڈن)110سے130روپے،امرود85سے100روپے،ناشپاتی80سے 105روپے،انارقندھاری160سے180روپے،انگور300سے350روپے کلو،کیلا(اول)80سے100روپے درجن،کیلا(دوئم)60سے80روپے درجن،آلو(اول)110سے 130 روپے کلو،آلو(دوئم)80سے 100روپے،پیاز(اول)90سے110روپے،ٹماٹر(اول)200سے 210روپے،ٹماٹر(دوئم)160سے190روپے کلو،لہسن 230سے270روپے کلو،ادرک700سے 800روپے کلو،سبزمرچ 200سے250روپے،شملہ مرچ220سے250روپے،کھیرا80سے100روپے کلو،کریلا90سے110روپے،پھول گوبھی70سے90روپے،بندگوبھی110سے 125روپے،گھیا60روپے،بیگن50روپے،بھنڈی80سے100روپے،شلجم40سے50روپے،مولی40سے45روپے،گاجر70سے80روپے،اروی140سے200روپے،ٹینڈہ 70روپے،حلوہ کدو50روپے،میتھی فی گڈی40روپے،دھنیا20سے30روپے اورپالک فی(گڈی)40روپے سے50روپے فروخت ہوئی،جبکہ چکن مٹن اور بیف کے ساتھ ساتھ انڈوں کی قیمتیں بھی اسی طرح رہیں،ضلعی انتظامیہ ذرائع کے مطابق سرکاری قیمتوں پرعملدرآمدکیلئے 40سے زائد پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فیلڈ میں ہیں جبکہ زمینی حقائق کے مطابق پھل وسبزیاں سرکاری نرخوں کی بجائے دکاندارمن مانی قیمت پر فروخت کررہے ہیں-عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب،کمشنروڈپٹی کمشنرساہیوال سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے-

  • ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر ، بڑا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر ، بڑا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 34 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 17.87 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

    اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملکی زر مبادلہ ذخائر بڑھ کر 20.08 ارب ڈالر ہو گئے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 19 کروڑ ڈالر اضافے سے 12.93 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

    کمرشل بینکوں کے ذخائر ایک کروڑ ڈالر کم ہو کر 7.15 ارب ڈالر ہو گئے۔ اکتوبر میں جاری کھاتے کا توازن مزید بہتر ہو گیا اور اکتوبر میں جاری کھاتا 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سر پلس رہا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت کو ایکسپورٹس اور غیر ملکی سرمایاکاری کے فروغ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق 13 نومبر 2020ء کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 20.085 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

    گزشتہ ہفتہ کے اختتام پر زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 19.906 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق 13 نومبر 2020ء کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 12.931 ارب ڈالر تھا جو دو فروری 2018ء کے بعد زرمبادلہ کی بلند ترین شرح ہے۔ بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 7.154 ارب ڈالر تھا

  • ایس ای سی پی نے ملک کے پہلےقرضوں کے پلیٹ فارم کی منظوری دے دی

    ایس ای سی پی نے ملک کے پہلےقرضوں کے پلیٹ فارم کی منظوری دے دی

    ایس ای سی پی نے ملک کے پہلےقرضوں کے پلیٹ فارم کی منظوری دے دی

    باغی ٹی وی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اپنی ٹکنالوجی سے چلنے والے پہلے ‘ریگولیٹری سینڈ باکس’ کے پہلے گروپ کے تحت پیر ٹو پیر قرض دینے کے پلیٹ فارم کے آغاز کے لیے منظوری دے دی ہے۔

    ایس ای سی پی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں فنانشل ٹیکنالوجی کی حمایت اور فروغ دینا ہے۔

    ‘پیر ٹو پیر’ قرضے یعنی افراد کی جانب سے کسی کاروبار کو قرض کی فراہمی ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جہاں قرض اور سرمایہ حاصل کرنے والے کاروباری اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان کا ایک دوسرے سے رابطہ ہوتا ہے۔
    اس پلیٹ فارم سے سرمایہ کار قلیل مدتی قرض دیتے ہیں جبکہ کاروباری افراد سہل طریقے سے سرمائے کی ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں۔

    اس طریقے سے چھوٹے اور درمیانے انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کو فروغ دیا جاسکتا ہے جبکہ روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ریگولیٹری سینڈ باکس میں ٹیسٹنگ/تجربہ کے مرحلے کے دوران، پیر ٹو پیر قرضوں کا یہ پلیٹ فارم متعین شدہ پیرامیٹرز کے اندر کام کرے گا اور شرائط و ضوابط س مشروط ہوگا۔

    اس پلیٹ فارم پر قرض دہندہ/ادھار لینے والے کے لیے اہلیت کے مخصوص معیارات کا اطلاق ہوگا۔

  • سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان

    باغی ٹی وی : سٹاک مارکیٹ میں بھی کاروبار کے دوران ملا جلا رجحان دیکھنے میں آ رہاہے ، سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز ہو اتو 100 انڈیکس 40 ہزار 514 پوائنٹس پر تھا تاہم ٹریڈنگ کے دوران کوئی واضح اضافہ دیکھنے میں نہیں آ سکا ہے ، 100 انڈیکس اس وقت 46 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 40 ہزار 561اپوائنٹس پر ہے

    ادھر انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں آج صبح کمی ہوئی تھی لیکن یہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور ڈالر نے پھر اونچی اڑان شروع کر دی ، انٹر بینک میں ڈالر ایک روپیہ مہنگا ہونے کے بعد 160 روپے 90 پیسے پر ٹریڈ کر رہاہے ۔ گزشتہ دو روز میں ڈالر کی قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں سوا تین روپے بڑھ چکی ہے ۔

  • ڈالر پھر اڑان بھرنے لگا

    ڈالر پھر اڑان بھرنے لگا

    باغی ٹی وی :انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیاہے اور ڈالر کی قدر 160 روپے سے تجاوز کر گئی ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں آج صبح کمی ہوئی تھی لیکن یہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور ڈالر نے پھر اونچی اڑان شروع کر دی ، انٹر بینک میں ڈالر ایک روپیہ مہنگا ہونے کے بعد 160 روپے 90 پیسے پر ٹریڈ کر رہاہے ۔ گزشتہ دو روز میں ڈالر کی قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں سوا تین روپے بڑھ چکی ہے ۔

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • گیس کمپنیوں اور ریفائنریز کے ذمے  اربوں روپے  کے واجبات کا انکشاف

    گیس کمپنیوں اور ریفائنریز کے ذمے اربوں روپے کے واجبات کا انکشاف

    گیس کمپنیوں اور ریفائنریز کے ذمے اربوں روپے کے واجبات کا انکشاف

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گیس کمپنیوں اور ریفائنریز کے ذمے 321 ارب سے زائد کے واجبات ہیں۔سابق وفاقی وزیر اور چیئرمین پی اے سی رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کی آڈٹ رپورٹ 2019-20 کا جائزہ لیا گیا۔

    آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ گیس کمپنیوں اور ریفائنریز کے ذمے 321 ارب سے زیادہ کے واجبات ہیں۔آڈٹ حکام کے مطابق قرضہ جون 30 جون 2019 تک کا زیر التواء ہے، اب تک 185 ارب روپے سے زیادہ کی ریکوری ہوچکی۔

    پی اے سی نے اس موقع پر ماہانہ بنیاد پر محکمانہ آڈ ٹ کمیٹی کا اجلاس بلانے اور باقی رقوم کی جلد ریکوری کی ہدایات کیں۔دوران اجلاس سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ گیس دستیاب نہیں، پاور سیکٹر کی بہت بری حالت ہے، سوئی سدرن، سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کا ایک جیسا حال ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں بھی گیس دستیاب نہیں ہے، نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے پرانے منصوبوں پر توجہ دی جائے۔چیئرمین پی اے سی رانا تنویر حسین نے کہا کہ لوگ لکڑیاں چھوڑ کر گیس پر منتقل ہوتے ہیں جبکہ کھانا پکانےکے لیے گیس دستیاب نہیں ہے

  • ڈالر یک دم مہنگا ہوگیا

    ڈالر یک دم مہنگا ہوگیا

    ڈالر یک دم مہنگا ہوگیا

    باغی ٹی وی :انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران آج یک دم ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ 24 پیسے اضافہ ہو گیاہے جس کے بعد ڈالر 159 روپے 55 پیسے پر ٹریڈ کر رہاہے ، اتنا زیادہ اضافہ کئی مہینوں کے بعد یک دم دیکھنے میں آ یاہے جس نے ہر کسی کر پریشانی میں مبتلا کر دیاہے ۔

    دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے دوران مندی دیکھنے میں آ رہی ہے ، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس 40 ہزار 652 پوائنٹس پر تھا تاہم دیکھتے ہی دیکھتے اس میں مندی کا رجحان پیدا ہو گیا اور اس وقت انڈیکس 246 پوائنٹس کمی کے ساتھ 40 ہزار 405 پوائنٹس پر آ گیاہے ۔

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

    سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا

    باغی ٹی ٹی : انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ڈالر 158 روپے 38 پیسے پر فروخت ہو رہاہے ۔ دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس 40 ہزار 652 پوائنٹس پر تھا لیکن کاروبار شروع ہونے پر اس میں بہتری کی بجائے مندی شروع ہو گئی اور ا ب تک 61 پوائنٹس کی کمی آ چکی ہے جس کے بعد 100 انڈیکس 40 ہزار 591 پوائنٹس پر آ گیاہے ۔