Baaghi TV

Category: کاروبار

  • گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان کا دورہ سیالکوٹ

    گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان کا دورہ سیالکوٹ

    سیالکوٹ7نومبر2020ء(باغی نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کا دورہ کیا۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سیما کامل، منیجنگ ڈائریکٹر محمد اشرف خان اور ڈائریکٹر ایکسچینج پالیسی ڈیپارٹمنٹ ارشد محمود بھٹی َان کے ہمراہ تھے۔

    صدر سیالکوٹ چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری قیصر اقبال بریار نے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے COVID-19کی وجہ سے ملکی برآمدی انڈسٹری کو ریلیف فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ صدر چیمبر نے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ملکی برآمدات کے فروغ اور سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی کی خدمات کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔

    اس مو قع پر سابق صدر چیمبر ڈاکٹر نعمان ادیس بٹ،سابق صدر چیمبر خواجہ خاور انور،چیئر مین ایئر سیال فضل جیلا نی،چیئر مین کمیٹی کار پو یشن محمد اعجاز غوری، ملک محمد اشرف اعوان، نائب صدر چیمبر خرم اسلم بٹ،عنصر عز یز پوری بھی موجود تھے۔صدر چیمبر نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیالکوٹ کی برآمدی انڈسٹری کو درپیش جن مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی اس میں ایس ایم ایز کیلئے سرمایہ کی

    فراہمی،Eximبینک آف پاکستان کا قیام، ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے بیک ٹو بیک لیٹر آف کریڈٹ کی سہولت، ڈی ایل ٹی ایل ٹائم بارڈ کیسزکیلئے ون ٹائم ریلیف،سیالکوٹ ٹینری زون کیلئے خصوصی مالی سکیم، ڈی ایل ٹی ایل کیسز کی ادائیگی کے طریقہ میں سہولت،سیالکوٹ میں کمرشل بینکس کے ٹریڈ آفسز نہ ہونے کی وجہ سے برآمدکنندگان کو درپیش مسائل شامل تھے۔

    صدر چیمبر نے کہا کہ سیالکوٹ کی انڈسٹری میں اپنی برآمدات کو دوگناہ کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے لیکن اس کیلئے حکومتی تعاون درکار ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر نے بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے قومی معیشت میں سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی کے فعال کردار کو سراہا۔ انہوں نے برآمدکنندگان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم ملکی برآمدی انڈسٹری کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے بھر پور کام کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کیلئے فنانسنگ اوربرآمدات کا فروغ ان کی سب سے اہم ترجیحات میں شامل ہیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ہمیشہ ملکی انڈسٹری کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے ملکی انڈسٹری اور کاروباری اداروں کو فروغ دینے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ بھی دی۔ سیما کامل ڈپٹی گورنر، محمد اشرف خان، منیجنگ ڈائریکٹر ارشد محمود بھٹی ڈائریکٹر ایکسچینج پالیسی ڈیپارٹمنٹ نے صدر سیالکوٹ چیمبر قیصر اقبال بریار کی طرف سے پیش کردہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

  • سٹاک مارکیٹ‌میں تیزی

    سٹاک مارکیٹ‌میں تیزی

    سٹاک مارکیٹ‌میں تیزی

    باغی ٹی وی : پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس کی41ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری میں دلچسپی کے سبب73 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا جس کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت ایک کھرب 19ارب 55کروڑ29لاکھ روپے بڑھ گئی ۔پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی سرمایہ کاروں نے کھل کر حصص کی خریداری کی جس کے باعث تیزی رہی ، یہ رجحان آخر تک برقرار رہا اور کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس 789.34پوائنٹس اضافے سے 41071.30پوائنٹس ، کے ایس ای30انڈیکس 377.27پوائنٹس کے اضافے سے 17243.24پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 428.63پوائنٹس کے اضافے سے 28848.63پوائنٹس کی سطح پرپہنچ گیا۔دریں اثناگزشتہ روز عالمی مارکیٹ سونے کی فی اونس قیمت27 ڈالرکے اضافے سے 1918ڈالر ہوگئی جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ایک ہزار کے اضافے سے 114600روپے تولہ ہوگئی جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 857روپے کے اضافے سے 98251روپے ہوگئی

  • رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسارے کی رپورٹ جاری

    رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسارے کی رپورٹ جاری

    رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسارے کی رپورٹ جاری

    باغی ٹی وی :مالی اور اقتصادی صورت حال پر جہاں ایک طرف جمود ہے وہاں عوام میں بھی شدید احساس ہے کہ مہنگائی بڑھ چکی ہے.لوگوں کی قوت خرید بہت کم ہو چکی ہے. .رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے ایک اعشاریہ ایک فیصد کے برابر رہا، قرض و سود کی ادائیگی پر 742 ارب روپے جبکہ دفاع پر 224 ارب روپے خرچ ہوئے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران 484 ارب روپے کا مالیاتی خسارہ رہا جس کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے 322 ارب روپے کا مقامی جبکہ 161 ارب روپے کا بیرونی قرض لیا۔

    مالی سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں قرض و سود کی ادائیگی پر 742 ارب روپے جبکہ دفاع پر 224 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ گذشتہ مالی سال انہی تین ماہ کے دوران قرض سود کی ادائیگی پر 571 ارب روپے اور دفاع پر 242 ارب روپے خرچ ہوئے تھے۔

  • وفاقی ادارہ شماریات نے منہگائی میں اضافے کے اعداوشمار جاری کردیے‏

    وفاقی ادارہ شماریات نے منہگائی میں اضافے کے اعداوشمار جاری کردیے‏

    وفاقی ادارہ شماریات نے منہگائی میں اضافے کے اعداوشمار جاری کردیے‏

    باغی ٹی وی : ‏وفاقی ادارہ شماریات نے منہگائی میں اضافے کے ہفتہ وار اعداوشمار جاری کردیے‏. ادارہ شماریات‏ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران منہگائی میں 1.38 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا،

    گزشتہ ہفتے 17 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ رکارڈ کیا گیا، آلو،پیاز،ٹماٹر،لہسن،چینی،انڈے،گوشت اورایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا.ٹماٹرکی فی کلوقیمت 134 روپے80 پیسے سے بڑھ کر197 روپے 59 پیسے ہوگئی،

    ٹماٹر کی اوسط فی کلو قیمت میں 62 روپے 79 پیسے اضافہ ہوا،پیاز4 روپے فی کلواورآلو1 روپے 81 پیسے فی کلو منہگا ہوا،ایک ہفتے کے دوران انڈے کی قیمت میں 1.04 روپے فی درجن اضافہ ہوا،چینی 4روپے15 پیسے اورایل پی جی گھریلو سلنڈرپر13روپے فی کلو اضافہ ہوا،

    ایک ہفتے کے دوران 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی،ایک ہفتے کے دوران چکن 1 روپے 92 پیسے فی کلو سستا ہوا، خشک دودھ، مٹن، بیف، دال ماش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا،ایک ہفتے کے دوران آٹا 33 پیسے فی کلو سستا ہوا، دال مونگ، مسور، چنا اور گُڑ کی قیمتوں میں کمی رکارڈ کی گئی،

    تازہ دودھ، دہی، گھی، نمک اورمرچ سمیت 27 اشیاکی قیمتوں میں استحکام رہا،

  • ایف بی آر نے رواں مالی سال کتنا ریوینیو وصول کیا ، اعدادو وشمار جاری

    ایف بی آر نے رواں مالی سال کتنا ریوینیو وصول کیا ، اعدادو وشمار جاری

    ایف بی آر نے رواں مالی سال کتنا ریوینیو وصول کیا ، اعدادو وشمار جاری

    باغی ٹی وی : ایف بی آر نے رواں مالی سال جولائی تاا اکتوبر 1337ارب روپے کانیٹ ریوینیو حاصل کیا ہےجبکہ پچھلے سال ان چار ماہ میں 1288 ارب رو پےنیٹ ریونیو حاصل کیا گیاتھا۔ انکم ٹیکس کی مد میں 470ارب روپے حاصل ہوئے۔ سیلز ٹیکس سے حاصل کردہ ریونیو643 ارب، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 81 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی 206 ارب رہا۔

    ایف بی آر نےمالی سال کے پہلے چار ماہ میں گراس ریونیو 1400ارب روپےاکھٹا کیا ہے جو کہ پچھلے مالی سال کے پہلے چار ماہ میں1323ارب روپے تھا ۔ ماہ اکتوبر میں محاصل کی مد میں 333ارب روپے حاصل ہوئے جو کہ پچھلے سال 325 ارب روپے تھے۔

    رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر128ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں جبکہ پچھلے سال جاری کردہ ریفنڈز 52 ارب روپے کے تھے۔ماہ اکتوبر میں 15 ارب کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں جو کہ پچھلے سال اکتوبر میں 4.5 ارب تھے۔

    ریفنڈز میں اضافہ کے باوجود ایف بی آر نےاس سال اکتوبر میں پچھلے سال اکتوبر کے محاصل کے مقابلہ میں زائد ریونیو حاصل کیا ہے.مقامی وصولیوں میں 13 فیصد اضافہ حاصل ہوا ہے جو کہ ٹیکس گزاروں کا حکومت کے ریوینیو اقدامات پر اعتماد کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
    رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں سمگل شدہ اشیاء جن کی مالیت 21.48 ارب روپے ہے ضبط کی گئی ہیں جبکہ پچھلے سال پہلے چار ماہ میں 13.40 ارب روپے مالیت کی اشیاء ضبط ہوئی تھی۔رواں ٹیکس سال تاجروں کی آسانی کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے نہایت آسان اور ایک صفحہ پر مشتمل متعارف کرائے گئے ہیں۔
    مزید براں تاجروں اور تنخواہ دار طبقہ کے لئےاردو اور علاقائی زبانوں میں بھی ٹیکس گوشوارے اپلوڈ کر دیئے گئے ہیں۔ ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے 8 دسمبر 2020 تک جمع کرالیں۔

  • پاکستانی تاجروں کے لیے  کرغزستانی مارکیٹ کے دروازے کھل گئے

    پاکستانی تاجروں کے لیے کرغزستانی مارکیٹ کے دروازے کھل گئے

    پاکستانی تاجروں کے لیے کرغزستانی مارکیٹ کے دروازے کھل گئے

    باغی ٹی وی : پاکستانی صنعتکار اپنا سامان کرغزستان کی منڈیوں سے یورپ اور دیگر مغربی ممالک برآمد کرسکتے ہیں، ایرک بیشم بیف
    آواری ہوٹل لاہور میں لاہور سنٹر فار پیس ریسرچ کے زیر اہتمام ‘پاک کرغیز تعلقات کا مستقبل: شراکت برائے تجارت ، تجارت اور سیاحت’ کے عنوان سے بلائی جانے والی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایریک بیشیم بیف نے کہا کہ انکا ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریہ کرغزستان میں سرمایہ کاری کے آسان اور منافع بخش مواقع موجود ہیں۔ کرغزستان اپنی اعلی معیار کی ماحول دوست زرعی مصنوعات ، نامیاتی سبزیاں اور پھل، گوشت، دودھ کی مصنوعات اور شہد پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے ، کرغزستان کامیابی کے ساتھ یورپ اور عرب ممالک میں کرغیز شہد برآمد کررہا ہے۔
    کرغیز سفیر نے کہا کہ کرغزستان دونوں ممالک کے مابین زیادہ سے زیادہ معاشی تعلقات اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون پر مبنی ویزا سروس تشکیل دینے کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے پاکستان سے تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے اور وسطی ایشیا ، جنوبی ایشیاء کے عظیم توانائی منصوبے CASA-1000 پر عمل درآمد کا خواہاں ہے۔ ایرک بیشمبیوف نے سی پیک کے ایک حصے کے طور پر پاکستان ، چین ، کرغزستان اور قازقستان کے مابین نقل و حمل سے متعلق کثیر جہتی معاہدے کے لئے پاکستان اور کرغیزستان کے اندر ٹرانسپورٹ معادہوں کی تجدید پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ معاہدوں سے دونوں ممالک مزید قریب آئیں گے۔
    کرغزستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے مابین دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کم ہے، دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم 4 ارب ڈالر ہے اور پاکستان کی کارغیستان میں سرمایہ کاری تقریبا ساڑھے تین ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون کے لئے ترجیحی شعبوں میں دواسازی، بجلی کی پیداوار اور فراہمی ، کان کنی ، خوراک ، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کی صنعت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کے رابطوں کو تیز کرنے اور دونوں ثقافتوں کے بارے میں مزید معلومات پھیلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے مابین براہ راست ہوائی اور سڑک کے ذریعے نقل و حمل کا فقدان بھی دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
    پاکستان کے سابق سفیر، خارجہ سیکرٹری اور چئیرمین لاہور سنٹر فار پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شمشاد احمد خان نے کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان نہ صرف تاریخی اورخوشگوار تعلقات ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان انیس سو اکانوے سے بارہا اعلی سطح کے وفود کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تجارت کا حجم دونوں ممالک اور وسط ایشیاء کے پورے خطے کی زبردست تجارتی صلاحیت کے برابر نہیں ہے۔ ابھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم صرف چار ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کے سابق سکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاک کرغزستان تعلقات کے آغاز سے ہی دونوں ممالک نے 35 سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں ، لیکن عملی طور پر دونوں فریقین ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتے ہیں۔ شمشاد خان نے کہا کہ تجارتی اور معاشی تعلقات ایک ایسا شعبہ ہے جس پر دونوں ممالک کو توجہ دی جانی چاہئے اور مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔
    لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ کے چیئرمین نے کہا کہ کئی دیگر بین الاقوامی تعاون کی تنظیموں کے علاوہ کرغزستان اور پاکستان اقتصادی تعاون کی تنظیم اور شنگھائی تعاون تنظیم میں شراکت دار ہیں۔ دونوں ممالک میں مل کر کام کرنے اور ترقی اور خوشحالی کا مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی زبردست صلاحیت ہے۔
    گول میز کانفرنس کے کنوینر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایل سی پی آر نذیر حسین نے شرکا کو آگاہ کیا کہ لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ اس ماہ کے آخر میں ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک منصوبے کے اجراء کے سلسلے میں بشکیک میں ایک کانفرنس منعقد کر رہا ہے۔ کانفرنس کا مقصد علاقائی روابط کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔ شمشاد احمد خان نے کہا کہ یہ اقدام ہمیں پورے وسطی ایشیاء تک پہنچنے کے مواقع فراہم کرے گا۔
    بعد ازاں کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیوٹا کے چئیرمین علی سلمان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہت ہی قابل ہنر مند افرادی قوت ہے جو دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار حکومت پاکستان کے مشیر ڈاکٹر حسنین جاوید نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین سیاحت سے باہمی فائدہ ہوگا۔ جنرل منیجر آپریشنز ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب عاصم رضا نے گول میز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان دونوں میں سیاحت کی بہت بڑی صلاحیت ہے اور باہمی معاشی تعلقات کو بڑھانے کی کوشش کے طور پر دونوں ممالک کے مابین سیاحت کے مواقع کو کھولنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ لاہور کے آرچ بشپ فرانسس شا نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستانی حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دے رہی ہے ، پاکستان اور کرغزستان دونوں کو اس شعبے میں توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین طلبہ کے تبادلہ پروگراموں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ کانفرنس میں سرکاری و نجی تنظیموں کے نمائندوں ، خواتین چیمبرز، پاکستان یوتھ کونسل اور میڈیا سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

  • فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی رواں سال ریکارڈ وصولی

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی رواں سال ریکارڈ وصولی

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی رواں سال ریکارڈ وصولی

    باغی ٹی وی : فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی کے پہلے چار ماہ (یکم جولائی تا 31 اکتوبر 2021) کے دوران 1400 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 21-2020 (جولائی تا اکتوبر) کے دوران مجموعی طور پر1400 ارب روپے خام ریونیو جب کہ 1337ارب روپے کا خالص ریونیو حاصل کیا ہے جب کہ پچھلے سال ان ہی چار ماہ میں 1288 ارب روپے نیٹ ریونیو حاصل کیا گیا تھا۔ اس طرح رواں سال جولائی تا اکتوبر 77 ارب روپے گراس ریونیومیں اضافہ حاصل ہوا ہے۔

    رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ایف بی آر نے انکم ٹیکس کی مد میں 470ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 643 ارب، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 81 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 206 ارب کا ریونیو حاصل کیا۔
    ایف بی آر کو اکتوبر 2020 میں محاصل کی مد میں 333ارب روپے حاصل ہوئے جو کہ پچھلے سال 325 ارب روپے تھے، رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر 128ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں جبکہ پچھلے سال جاری کردہ ریفنڈز 52 ارب روپے کے تھے۔ ماہ اکتوبر میں 15 ارب کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں جو کہ پچھلے سال اکتوبر میں 4.5 ارب تھے، ریفنڈز میں اضافے کے باوجود ایف بی آر نے اس سال اکتوبر میں پچھلے سال اکتوبر کے محاصل کے مقابلے میں زائد ریونیو حاصل کیا ہے۔ ریفنڈز میں اضافے کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔

    کورونا وبا کے باعث معیشت کی سست روی اور فنانس ایکٹ 2020 میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں خاطر خواہ ٹیکس ریلیف دینے کے باعث درآمدی سطح پر 2 فیصد ریونیو میں کمی کے باوجود ایف بی آر نے قابل تحسین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور مقامی وصولیوں میں 13 فیصد اضافہ حاصل کیا ہے جو کہ ٹیکس گزاروں کا حکومت کے ریونیو اقدامات پر اعتماد کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

    رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران 21 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئی ہیں جبکہ پچھلے سال اسی دورانیے میں 13 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کی اشیاء ضبط ہوئی تھیں۔

    دوسری جانب ایف بی آر تجارتی آسانی کی فراہمی کے لئے آٹومیشن، ای آڈٹ اور طریقہ کار سہل بنانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ ادارے نے کرپشن، ہراسانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے تدارک کے لئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ رواں ٹیکس سال تاجروں کی آسانی کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے نہایت آسان اور ایک صفحہ پر مشتمل متعارف کرائے گئے ہیں۔

    مزید براں تاجروں اور تنخواہ دار طبقہ کے لئے اردو اور علاقائی زبانوں میں بھی ٹیکس گوشوارے اپ لوڈ کر دیئے گئے ہیں۔ ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے 8 دسمبر 2020 تک جمع کرالیں

  • روپے کی قدر میں ہوا مزید اضافہ

    روپے کی قدر میں ہوا مزید اضافہ

    ملک بھر میں رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران ایک مرتبہ پھر امریکی ڈالر 36 پیسے سستا ہو گیا۔

    باغ ٹی وی : سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران امریکی ڈالر مزید 36 پیسے سستا ہو کر 160 روپے 26 پیسے کی سطح پر آ گیا ہے۔

    واضح‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • ابوظہبی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں‌ کے لیے کمال کا  قانون بنا دیا

    ابوظہبی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں‌ کے لیے کمال کا قانون بنا دیا

    ابوظہبی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں‌ کے لیے کمال کا قانون بنا دیا

    باغی ٹی وی :ابوظہبی نے غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کے متعلق ایک قانون پاس کیا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنے کاروبار کے100 فیصد ملکیتی حقوق فراہم کرتا ہے۔

    اس قانون سے وہ کاروباری فائدہ اٹھا سکیں گے جنہوں نے کم سے کم 20 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری کی ہوگی۔ اس کا اطلا ق زراعت اور صنعت سمیت 122 شعبوں پر ہوگا۔اس سے قبلغیر ملکی سرمایہ کاروں کو کاروباری اداروں کی 49 فیصد تک ملکیت کی اجازت تھی۔ اس پابندی کے خاتمہ کے بعدغیر ملکی افراد کو کاروباری اداروں کا مکمل انتظام اپنے پاس رکھنے کی اجازت حاصل ہوجائے گی۔

    اس قانون کو بنانے کے متعلق2018 سے کام ہو رہا تھا لیکن اس پر باضابطہ عمل درآمد اپریل2020 سے شروع ہوا۔اس قانون کے مطابق فی الحال13 شعبوں کو منفی فہرست میں ڈالا گیا ہے۔ منفی فہرست میں بینکنگ اور انشورنس کا کاروبار بھی شامل ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون سے دبئی میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور رقوم کی ترسیل میں اضافہ ہوگا جب کہ دبئی کی برآمدات بھی بڑھیں گی۔اس اجازت کا اطلاق زراعت، مینوفیکچرنگ، متبادل توانائی، ای کامرس ٹرانسپورٹ، آرٹس، تعمیرات اور انٹرٹینمنٹ کے شعبوں میں ہوگا۔

    یو اے ای کا دارالحکومت ابو ظہبی تیل کے وسیع ترین وسائل سے مالامال ہے جس کی یومیہ پیداوار 30 لاکھ بیرل ہے۔ اس کے علاوہ عرب دنیا میں متحدہ عرب امارات براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری وصول کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جس کو گزشتہ برس اس مد میں 11 ارب ڈالر حاصل ہوئے

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں  مندی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی رہی ،کے ایس ای100انڈیکس194پوائنٹس کی کمی سے 41186پوائنٹس پر بند ہوا، 59فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کو36ارب روپے سے زائد کا نقصان ہواجبکہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم منگل کی نسبت23.41فیصدکم رہا۔تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو ٹریڈنگ کا آغازمثبت زون میں ہوا

    سرمایہ کاروں کی جانب سے مخصوص منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری میں دلچسپی کے باعث تیزی رہی جس کے باعث ٹریڈنگ کے دوران 100انڈیکس41695 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا،بعد ازاں حصص کی فروخت کا رجحان بڑھ گیا جس کے سبب مندی چھاگئی جو آخر تک برقرار رہی۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای30انڈیکس 80پوائنٹس کی کمی سے 17297پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئر انڈیکس 137پوائنٹس کی کمی سے 28976پوائنٹس پربند ہوا،مجموعی طور پر415کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 151کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 246میں کمی اور18 میں استحکام رہا