Baaghi TV

Category: کاروبار

  • آئی ایم ایف نے  عوام دشمن شرائط عائد کر دیں

    آئی ایم ایف نے عوام دشمن شرائط عائد کر دیں

    آئی ایم ایف نے حکومت کے لیے عوام دشمن شرائط عائد کر دیں

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف نے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا کہہ دیا، اسی طرح یہ شرط بھی عاید کی گئی کہ ٹیکس سے متعلق شرائط پر عملدرآمد کے بغیر6 ارب ڈالر کا پروگرام ممکن نہیں‌ ہوگا
    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)نے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکس سے متعلق شرائط پر عملدرآمد کے بغیر6 ارب ڈالر کا پروگرام ٹریک پر لانے سے انکار کردیا تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ دوسرے جائزہ کی تکمیلِ کیلیے مذاکرات جاری ہیں البتہ دسمبر تک دوسرا اقتصادی جائزہ مکمل نہیں ہوسکے گا۔ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)نے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکس سے متعلق شرائط پر عملدرآمد کے بغیر6 ارب ڈالر کا پروگرام ٹریک پر لانے سے انکار کردیا. تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ دوسرے جائزہ کی تکمیلِ کیلیے مذاکرات جاری ہیں البتہ دسمبر تک دوسرا اقتصادی جائزہ مکمل نہیں ہوسکے گا۔

    وزارت خزانہ کے ذمے دار ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کیساتھ جاری پروگرام پر واپس ٹریک پر لانے کیلیے دوسرے اقتصادی جائزہ پر مذاکرات جاری ہیں جس کیلئے وزارت خزانہ کی جانب سے آئی ایم ایف کیساتھ مسلسل ڈیٹا شیئرنگ کی جارہی ہے، کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کو جلد سے جلد ٹریک پر واپس لایا جاسکے اور دوسرا جائزہ مکمل کرکے آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط وصول کی جاسکے لیکن کورونا دوسری لہر نے مشکل میں ڈالدیا ہے۔

  • گندم کی قیمت کتنی ہونے چاہیے وزیرا علیٰ پنجاب کو خط لکھ دیا گیا

    گندم کی قیمت کتنی ہونے چاہیے وزیرا علیٰ پنجاب کو خط لکھ دیا گیا

    گندم کی ق-مت کتنی ہونے چاہیے وزیرا علیٰ پنجاب کو خط لکھ دیا گیا

    باغی ٹی وی : پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے عثمان بزدار حکومت کوخط لکھا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے من مقرر کی جائے۔

    با گندم کی امدادی قیمت کے حوالے سے وزیراعلی‌کو اسمبلی فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے پنجاب اسمبلی نے حکومت پنجاب کو خط لکھ دیا جس میں اسپیکر چوہدری پرویز الہی کی زیرصدارت اسپشل کمیٹی نے گندم کی امدادی قیمت بارے سفارشات مرتب کی تھیں۔ پیر کے روز پنجاب اسمبلی کے ایوان نے متفقہ طورپر گندم کی امدادی قیمت کی سفارشات منظور کر لی تھیں.

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی نے قراردیا کہ حکومت گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے مقررکرےاور حکومت پنجاب دو ہفتوں میں عملدرآمدکی رپورٹ دے ،پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے ایوان کی کارروائی سے حکومت پنجاب کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
    وفاقی کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت فی من 1650 روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا . بینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ ہم نے عوام اور کسان دونوں کا خیال رکھنا ہے۔ کسانوں کے لیے گندم میں 100 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ آٹے کی قیمت وہی رہے گی۔ا

    مہنگائی کے اس دور میں کسان کو لاگت ہی کی قیمت بمشکل ملتی ہے۔یا تو حکومت بجلی‘ کھاد‘ جراثیم کش ادویات‘ بیج اور دیگر ضروریا ت سستی کرے یا مناسب سبسڈی دے۔100 روپے فی من امدادی قیمت سے کسان زیادہ خوش تو نہیں ہونگے البتہ نہ ہونے سے اتنا بھی بہتر ہے ،یہ سوچ کے قدرے مطمٔن ہوسکتے ہیں۔حکومت کئی اور معاملات میں بھی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے مگرمنافع خور مافیاز عوام تک ریلیف پہنچنے نہیں دیتے۔حکومت کو اس طرف توجہ دینا ہوگی گندم کی پاکستان میں کمی نہیں جو سٹاک کرکے قلت کی فضا پیدا کردی جاتی اور من مانے ریٹ مقرر اور وصول کئے جاتے ہیں۔

  • منی لانڈرنگ پر روک لگانے کا ثمر حاصل ہونے لگا

    منی لانڈرنگ پر روک لگانے کا ثمر حاصل ہونے لگا

    منی لانڈرنگ کے قوانین متعارف کرانے اور بینکنگ چینل سے ترسیلات زر کے فروغ کا ثمر حاصل ہونے لگا

    باغی ٹی و ی :بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی مہربانیاں جاری، اکتوبر 2020 میں ترسیلات زر 14 اعشاریہ 5 فیصد اضافے سے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی، یہ مسلسل پانچواں مہینہ ہے جب ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی سے اکتوبر 2020 کے دوران ترسیلات زر 26 اعشاریہ 5 فیصد اضافے سے 9 ارب 40 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں۔
    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ کے قوانین متعارف کرانے اور بینکنگ چینل سے ترسیلات زر کے فروغ کے لئے کئی سہولیات فراہم کی گئیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

    ادھر سرکاری قرض اور واجبات 44.8 ٹریلن روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔ ایک سال کے دوران قرض اور واجبات میں 3.3 ٹریلین روپے کاا ضافہ ہوا، تاہم رپورٹ کے مطابق قرض میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر 2020کے اختتام پر ملک کے ذمے قرض اور واجبات 44.8 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ ایک سال کے دوران قرضوں اور واجبات میں 3.3 ٹریلین روپے یا 7.9فی صد اضافہ ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کے دورحکومت میں قرض کے بڑھنے کی یہ سب سے کم رفتار ہے

  • مجموعی ملکی قرض اور واجبات کا حجم ریکارڈ سطح پر ، سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار جاری

    مجموعی ملکی قرض اور واجبات کا حجم ریکارڈ سطح پر ، سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار جاری

    مجموعی ملکی قرض اور واجبات کا حجم ریکارڈ 44.8 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں ابتایا گیا ہے کہ ستمبر کے اختتام پر مجموعی سرکاری قرض اور واجبات 44.8 ٹریلن روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔ ایک سال کے دوران قرض اور واجبات میں 3.3 ٹریلین روپے کاا ضافہ ہوا، تاہم رپورٹ کے مطابق قرض میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر 2020کے اختتام پر ملک کے ذمے قرض اور واجبات 44.8 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ ایک سال کے دوران قرضوں اور واجبات میں 3.3 ٹریلین روپے یا 7.9فی صد اضافہ ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کے دورحکومت میں قرض کے بڑھنے کی یہ سب سے کم رفتار ہے۔
    واضح رہے کہ 44.8 ٹریلین روپے کے قرض اور واجبات رواں مالی سال کے متوقع جی ڈی پی حجم 45.6 ٹریلین روپے کے 98.3فیصد کے مساوی ہے۔ واجبات کو علیٰحدہ کرنے کے بعد قرض کا حجم 42.6 ٹریلین روپے ہے جس میں ایک سال کے دوران 3.4 ٹریلین روپے یا 8.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    گزشتہ ماہ کی اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں ترسیلات زر 7.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچیں۔

    اکتوبر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 2 ارب ڈالر سے زائد رقوم وطن بھیجی ہیں اور مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں ترسیلات زر 7.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

  • مہنگائی کا یہ عالم  کہ ایک سستا بازار بھی عوام کی پہنچ سےدور ہونے لگا

    مہنگائی کا یہ عالم کہ ایک سستا بازار بھی عوام کی پہنچ سےدور ہونے لگا

    مہنگائی کا یہ عالم کہ ایک سستا بازار بھی عوام کی پہنچ سےدور ہونے لگا

    باغی ٹی وی :ایک سستا بازار بھی عوام کی پہنچ سےدور ہونے لگا مہنگائی نے لنڈے بازار میں بھی مستقل ڈیرے ڈال لئے، جوتوں، جیکٹوں اور سویٹرز کے علاوہ دیگر استعمال شدہ اشیا کی قیمتوں میں 30 سے 60 فیصد تک اضافہ ہو گیا جس کے سبب خریداروں کا رش ہونے کے باوجود خریداری نہ ہونے کے برابر ہے۔

    یوں تو ہرموسم میں ہی لنڈا بازار شہریوں کی بڑی تعداد کے لیے بڑا سہارا ہوتے ہیں لیکن تن ڈھانپنے کے لیے سردیوں میں لنڈے بازاروں کا رخ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ عالم اِن دنوں بھی دکھائیدے رہا ہے لیکن اکثریت خریداری کے بغیر ہی یہاں سے واپس لوٹ رہی ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق استعمال شدہ جوتوں، جیکٹوں، کوٹ اور دیگراشیاکی قیمتوں میں 30 سے 60 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ اچھا کوٹ 4 سے 6، جوتے 200سے 500، جیکٹیں 2 سے 3 سو روپے کے درمیان فروخت ہورہے ہیں۔ اِسی تناسب سے دیگر اشیا کے نرخوں میں بھی بہت اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔یہ صورت حال اُن کے لیے بھی تشویش کا باعث ہونی چاہیے جن کے نزدیک مہنگائی ابھی بھی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے.
    ملکی اداروں میں کرپشن بدعنوانی اور سست روی نے کاروباری طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کررکھا ہے۔ان خیالات کا اظہارپاک چائنہ بزنس کمیونٹی کے چیئرمین حاجی فدا حسین نے ایک بیان میں کیا۔

    کہا ہے کہ چینی آٹا ادویات جیسی بنیادی ضروریات زندگی مافیاز کے رحم و کرم پر ہیں۔ غریب آدمی کی زندگی مہنگائی اور بے روزگاری نے اجیرن کردی ہے۔ حکومت عوام کو ریلیف دے بنیادی ضروریات زندگی کے نرخ کنڑول کئے جائیں۔ مافیاز کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو زندہ انسانوں کو نگل رہے ہیں۔ کرونا کی اس نئی لہر سے بچنے کیلئے حکومت موثر اور پائیدار حکمت عملی تشکیل دے

  • پی آئی اے  ملازمین کے لیے  بری خبر، حکومت نے تیاریاں کرلیں

    پی آئی اے ملازمین کے لیے بری خبر، حکومت نے تیاریاں کرلیں

    پی آئی اے کے ملازمین کے لیے بری خبر، حکومت نے تیاریاں کرلیں

    باغی ٹی وی : پی آئی اے کے ساڑھے تین ہزار ملازمین کو گھر بھیجنے کا پلان بنا لیا گیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے اخراجات کی منظوری دے گی۔

    دستاویز کے مطابق پی آئی اے ملازمین کو گھر بھیجنے کے لئے والنٹری سیپریشن سکیم تیار کی گئی ہے، پی آئی اے نے سکیم کی مد میں حکومت سے 12 ارب 87 کروڑ روپے مانگ لیے، وی ایس ایس سکیم کے تحت فارغ ملازمین کو ادائیگیاں اڑھائی سال میں کی جائیں گی، والنٹری سیپریشن سکیم کے تحت ادارے سے افرادی قوت کا بوجھ کم ہوگا۔

    دستاویز میں کہا گیا کہ ملازمین کو گھر بھیجنے سے ادارے کو سالانہ 4 ارب 20 کروڑ روپے کی بچت ہوگی، پی آئی اے کے 30 جہازوں کے لئے ملازمین کی تعداد7 ہزار 500 تک رکھنے کا پلان بنایا گیا، پی آئی اے کے ایک جہاز کے ساتھ صرف 250 ملازمین ہوں گے، پی آئی اے ملازمین کے ریٹائرمنٹ اخراجات کا معاملہ ای سی سی میں زیر غور آئے گا۔

    وزیراعظم کامیاب جوان پروگرام سروسز کیلئے بجٹ پر بھی غور کیا جائے گا۔ پی پی ایل فیلڈ سے گیس کی فراہمی کی سمری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

    کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں صنعتی شعبے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کیلئےبجلی کی قیمت میں کمی کی منظوری دی تھی۔اجلاس میں صنعتی شعبے کیلئے بجلی کی قیمتوں سے متعلق پیکچ پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیاگیااور اس بات پراتفاق کیا گیا کہ صنعتوں بالخصوص ایس ایم ایز شعبے کیلئے بجلی کی قیمت 12.96روپے فی یونٹ سے کم کرکے 10روپے فی یونٹ مقرر کی جائے۔

  • روپے کے ڈالر پر کاری وار مسلسل جاری

    روپے کے ڈالر پر کاری وار مسلسل جاری

    روپے کے ڈالر پر کاری وار مسلسل جاری

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے تیسرے روز انٹر بینک میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے ڈالر مزید 20 پیسے سستا ہوگیا۔

    فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق بدھ کے روز انٹر بینک میں ڈالر 20 پیسے سستا ہوکر 158.49 کی سطح پر بند ہوا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز صرافہ بازار میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔

    سندھ صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت 2500 روپے کی کمی کے بعد ایک لاکھ 12 ہزار100 روپے ہو گئی تھی۔اس کے علاوہ 10 گرام سونے کی قیمت میں 2143 روپے کی کمی کے بعد 96 ہزار108 روپے ہو گئی تھی

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی

  • پنجاب میرج ہالز ایسوسی ایشن  نے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا

    پنجاب میرج ہالز ایسوسی ایشن نے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا

    پنجاب میرج ہال ایسوی ایشن اور پنجاب کیٹرز ایسوایشن نے حکومت کے تازہ ترین 20 نومبر سے 31 جنوری تک شادی ہال بند کرنے کے عمل کو مسترد اور اسکو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر اس پر عمل نہیں کیا جائے گا

    سرپرست اعلی جناب میاں الیاس ، صدر خالد ، ہول سیکرٹری رادطارق اسلام ، چیرمین قمر جاوید بالا ، سینیر نائب صدر ملک عقل ، نائب صدر ملک جہانگیر ، چیئرمین کمیٹز شاید اسائل ، صدر کئیٹرزلک اشفاق دیگر عہدیداران نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شادی ہال جو کہ سب سے پہلے لاک ڈاون میں ایک جنبش قلم سے 13 مارچ کو بند کیے گئے اور سب سے آخر میں 15 ستمبر 2020 کو کھولے گئے ۔

    جبکہ تقریبات کا سلسلہ بھی ماه محرم و صفر ہونے کی وجہ سے شروعات نہیں ہو ئی اور ابھی کاروبار کا آغاز بھی نہیں ہوا اور اسے بند کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق شادی ہالز کے بزنس کو براہ راست نشانہ بنایا جارہا ہے اور الزام لگایا جارہا ہے کہ شادی ہالز کے کھلے سے کرونا زیادہ پھیلایا جا رہا ہے جبکہ حکومت ، اپوزیشن ، ، ریلوے ، ہوائی ، ٹرانسپورٹ وغیرہ میں کہیں بھی تعداد کرونا اختیاطی تدابیر کا خیال نہیں ہے ۔ تازہ مثال حکومت کے اپنے جلسه ( حافظ آباد ) سے وزیراعظم کا خطاب ہے ۔

    ہم وزیراعظم ، چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف آف آرمی سٹاف سے اپنے کاروبار کے تحفظ اور اپنے بچوں کے لیے حلال روزگار ، کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ہمیں پہلی ایس او پیز کے تحت کم تعداد میں فنکشن کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔

    مزید براں پنجاب میں کوئی بھی شادی ہال ایس او پیز پر عمل نہ کرنے پر بند نہ ہوں ہم بدھ کو پنجاب کے تمام اضلاع میں پریس کانفرنس کر کے ان احکامات کو مسترد کریں گے ۔ اگر گورنمنٹ نے ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو تم بشمول اپنے ملازمین کے ساتھ سڑکوں پر ہوں گے ، اور روڈ بلاک کر کے سڑکوں پر دھرنا دیں گے ۔

    ہم کسی بھی صورت 20 نومبر سے شادی ہالز بند نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لیے ہمیں اپنی تمام تر قوت کو آزمائیں گے ۔ پنجاب میرج ہال ایوی ایشن نے وفاقی وزیر اسد عمر کی اہلیت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوۓ انکے عہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

  • محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ نے ٹیکس وصولی کی رپورٹ جاری کر دی

    محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ نے ٹیکس وصولی کی رپورٹ جاری کر دی

    رواں مالی سال میں جولائی 2020 سے اکتوبر 2020 تک مجموعی طور پر 27471.533 ملین روپے ٹیکس وصول کیا گیا،گزشتہ مالی سال میں اسی مدت میں 25257.153 ملین روپے ٹیکس وصول کیا گیا تھاموٹر وہیکل ٹیکس کی مد میں 2790.714 ملین روپے اور انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 22029.795 ملین روپے وصول کئے گئے

    پروفیشنل ٹیکس کی مد میں 238.685 ملین روپے اور جائیداد ٹیکس کی مد میں 866.661 ملین روپے ٹیکس وصول کیا گیا،کاٹن فیس کی مد میں 36.007 ملین روپے اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کی مد میں 5.713 ملین روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔

    صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات مکیش کمار چاؤلہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ٹیکسز کی وصولی کی مجموعی صورتحال بہتر ہے۔ جائیداد ٹیکس کی وصولی کی صورتحال کو مذید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ افسران ٹیکسز کی وصولی کی صورتحال کو بہتر کریں۔ ٹیکس نادہندہ گان اپنے ٹیکسز بروقت ادا کریں۔

  • ڈالر کے مقابلے روپے کا مسلسل تگڑا ہونا ، پاکستانی معیشت کے لیے خوشی کی خبر لے آیا

    ڈالر کے مقابلے روپے کا مسلسل تگڑا ہونا ، پاکستانی معیشت کے لیے خوشی کی خبر لے آیا

    ڈالر کے مقابلے روپے کا مسلسل تگڑا ہونا ، پاکستانی معیشت کے لیے نئی نوید لے آیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق، روپیہ مسلسل اپنی قدر برقرار رکھے ہوئے ہے. حالیہ دنوں ڈالر کے مقابلےروپےکا مستحکم ہونا پاکستانی معیشت میں بہتری کی علامت سمجھا جارہا ہے. روپیہ مسلسل تگڑا ہو رہا ہے. تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یکم اکتوبر سے روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 3اعشاریہ 1 فیصد قدر بڑھنے کی وجہ س ایشیاء میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں کی فہرست کا حصہ بن گیا ہے اور مسلسل بہتر کارکردگی کی وجہ سے پاکستانی روپیہ 3 بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں شامل ہوگیا ہے۔
    فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرنسی کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے درآمد کنندگان سے ڈالر کا مطالبہ مارکیٹ میں دب کر رہ گیا ہے۔
    اس بہتری کی وجہ سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے. پاکستان کے بیرونی قرضوں‌میں ایک ہزار 56 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے.

    زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے ، مضبوط ترسیلات زر ، ادائیگی کی پوزیشن میں توازن میں بہتری اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی آمد میں اضافے نے روپے کی قدر کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
    فاریکس ڈیلر کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں اضافہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا، امید ہے کہ اگلے دو تجارتی سیشنز کے دوران روپیہ ڈالر کے مقابلہ میں 157 روپے کی سطح پر آجائیگا۔