Baaghi TV

Category: کاروبار

  • ڈالر پھر بے قابو ہونے لگا

    ڈالر پھر بے قابو ہونے لگا

    ڈالر پھر بے قابو ہونے لگا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران ڈالر کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر بڑھنے لگی، امریکی کرنسی مزید22 پیسے مہنگی ہوگئی۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں امریکی ڈالر 22 پیسے مہنگا ہو گیا اور قیمت 160 روپے 17 پیسے سے بڑھ کر160 روپے 39 پیسے ہوگئی ہے۔
    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی.ڈ

  • ٹیکسٹائل سیکٹر کو پھر سخت پریشانی کا سامنا

    ٹیکسٹائل سیکٹر کو پھر سخت پریشانی کا سامنا

    ٹیکسٹائل سیکٹر کو پھر سخت پریشانی کا سامنا

    باغی ٹی وی رپورٹ‌کے مطابق سوت کی عدم دستیابی سے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ ایکسپورٹرز کے مطابق ڈیلرز سوت کی مصنوعی قلت پیدا کرکے دھاگے کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کررہے ہیں جس کی وجہ سے ایکسپورٹ میں کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    کاٹن سوت ایکسپورٹ سیکٹر کے لئے بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان میں حکومت نے ایکسپورٹ میں اضافے کے لئے صنعتکاروں کو بجلی اور گیس پر سبسٹڈی بھی دے رکھی ہے۔ حکومتی پالیسیوں کے باعث نومبر اور دسمبر میں ملکی ایکسپورٹ میں نمایاں اضافہ بھی ہوا۔

    دوسری طرف ڈیلرز نے ملک میں کاٹن یارن کی مصنوعی قلت پیدا کررکھی ہے جس سے دھاگے کی قیمتوں میں بار بار اضافہ ہو رہا ہے۔ ایکسپورٹرز کہتے ہیں حکومت سوت مافیا کے خلاف کاروائی اور دھاگے کی ڈیوٹی فری امپورٹ کی اجازت دے تاکہ صنعتی پہیہ رواں رہے۔

    بیرون ملک سے ریکارڈ آرڈرز کی وجہ سے فیصل آباد میں ٹیکسٹائل سیکٹر میں دن رات کام جاری ہے لیکن سوت کی عدم دستیابی کے باعث صنعتکار کئی بار فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مزدور طبقہ پریشان ہے ۔

    صنعتکار کہتے ہیں حکومت نے دھاگے کی امپورٹ پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی تو ختم کی ہے لیکن 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی تاحال برقرار ہے جس کو ختم کرنے سے انہیں انٹرنیشنل مارکیٹ سے سستا اور معیاری دھاگہ مہیا ہوسکتا ہے جس سے سوت بحران پر قابو پانے میں مدد بھی ملے گی۔

  • عقیل کریم ڈھیڈھی کا سیٹھ عابد کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار

    عقیل کریم ڈھیڈھی کا سیٹھ عابد کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار

    پاکستان کے معروف تاجر اورسماجی رہنما عقیل کریم ڈھیڈھی نے معروف صنعت کار سیٹھ عابد کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی کامل مغفرت اور پسماندگان و لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے –
    عقیل کریم ڈھیڈھی نے سیٹھ عابد مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا
    عقیل کریم ڈھیڈھی نے دعا کی کہ اللہ سبحانہ وتعالی مرحوم سیٹھ عابد کی بے حساب مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے

  • ڈالر نے پھر اڑان بھر لی

    ڈالر نے پھر اڑان بھر لی

    ڈالر نے پھر اڑان بھر لی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کاروباری ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 15 پیسے بڑھ گئی۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں امریکی ڈالر 15 پیسے مہنگا ہو گیا جس کے بعد قیمت 160.02 روپے سے بڑھ کر 160 روپے 17پیسے ہو گئی ہے۔

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی.

  • ارجنٹائن کے ساتھ پاکستان نے کتنے ملین حجم کی تجارت کی؟

    ارجنٹائن کے ساتھ پاکستان نے کتنے ملین حجم کی تجارت کی؟

    ارجنٹائن میں پاکستانی سفیر ایم خالد اعجاز کے مطابق ارجنٹائن کے ساتھ پاکستان کی تجارت کا حجم 137ملین ڈالر جبکہ بھارت کی تجارت کا حجم تین ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستانی سفیر ایم خالد اعجاز نے کہا کہ دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس اوردونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور ارجنٹائن کے تجارتی اداروں کے مابین مضبوط روابط باہمی تجارتی حجم میں اضافے میں معاون ثابت ہونگے۔

    لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان، نائب صدر طاہرمنظور چودھری اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ پچاس سالوں سے ساﺅتھ امریکن مارکیٹ کو نظر انداز کیا جارہا ہے جبکہ دوسرے ممالک نے وہاں غلبہ پارکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے باسمتی چاول، کھیلوں کے سامان، ٹیکسٹائل مصنوعات اور بیڈ شیٹس وغیرہ کی ارجنٹائن میں بہت طلب ہے، اس شعبہ سے وابستہ تاجروں کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ارجنٹائن کی بزنس کمیونٹی کے مابین مضبوط روابط کا قیام ان کی اولین ترجیح ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کو چاہیے کہ وہ تجارت کے لئے نئی مصنوعات کی نشاندہی کریں تاکہ ارجنٹائن کی مارکیٹ میں ان کی رسائی موجودگی کو یقینی بنایا جاسکے۔

    لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ مشترکہ منصوبہ سازی، بہترین روابط ، مارکیٹ سروے اور تجارت کے لیے نئی اشیاءمتعارف کرواکر پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ارجنٹائن کے مابین بہترین سفارتی تعلقات قائم ہیںجس کا عکس دوطرفہ تجارت میں بھی نظر آنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن کی درآمدات کا حجم 49 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جن میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے، گذشتہ 10 سالوں میں ارجنٹائن کو پاکستان کی اوسطا برآمد ات50 ملین ڈالر سے بھی کم رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن سے پاکستان کی درآمدات میں سویا بین کا تیل، خشک سبزیاں، فارماسیوٹیکل، آئرن اور اسٹیل کی مصنوعات شامل ہیںجبکہ ارجنٹائن کو پاکستان کی برآمدات زیادہ ترٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ارجنٹائن کو آلات جراحی، کھیلوں کے سامان، پروسیسڈ فوڈ ، آٹو موٹو پارٹس و دیگر کئی شعبوں میں برآمدات بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اسکے علاوہ دونوں ممالک کے مابین زرعی ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی بھی بھرپور صلاحیت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک کا درجہ دیا تھا لیکن پاکستان اس کا حقیقی فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک دوسرے کی مارکیٹ اور کاروباری مواقع کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ سروے رپورٹس کسی بھی ملک کے پوٹینشل ایریاز کے بارے میں جاننے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

    انہوں نے تجویز پیش کی کہ ارجنٹائن میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے کمرشل سیکشن یہ رپورٹس پاکستان کے نجی شعبہ کے ساتھ شیئر کریں، کرونا کے خاتمے کے بعد تجارتی وفود کا تبادلہ، تجارتی میلوں اور نمائشوں میں شرکت باہمی تجارت بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

  • سال کے آغاز میں‌  سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    سال کے آغاز میں‌ سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    سال کے آغاز میں‌ سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    باغی ٹی وی : رواں سال کے پہلا کاروباری روز کے دوران پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔ 100 انڈیکس 679.42 پوائنٹس بڑھ گیا۔ جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 120 ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوا۔ ایک سال سے زائد عرصہ کے بعد 44 ہزار کی نفسیاتی حد بھی بحال ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں سال کا پہلا کاروباری روز زبردست رہا جہاں پر کاروبار کا آغاز زبردست انداز میں ہوا اور صبح دس بجے تک انڈیکس 205 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی تھی جس کا تسلسل دوپہر بارہ بجے تک دیکھنے کو ملا۔

    دوپہر بارہ بجے تک انڈیکس میں 821.95 پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی، ایک موقع پر کاروبار میں 1100 پوائنٹس سے زائد کی تیزی ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم کاروبار کے اختتامی لمحات میں یہ سطح برقرار نہ رہ سکی۔

    ٹریڈنگ کے دوران کاروبار کے اختتام پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 679.42 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی، ایک سال سے زائد عرصہ کے بعد 44 ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہو گئی اور انڈیکس 44434.80 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔

    پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 1.55 فیصد کی بہتری دیکھی گئی اور 38 کروڑ 48 لاکھ 60 ہزار 227 شیئرز کا لین دین ہوا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 120 ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوا۔

    سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے تعمیراتی سیکٹر کو ایمنسٹی سکیم میں توسیع، ملکی معیشت کے حوالے سے مثبت خبریں، ترسیلات زر میں اضافہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا سبب بن رہا ہے، قوی امکان ہے کہ آئندہ ہفتے بھی تیزی کا تسلسل دیکھنے کو ملا۔

  • ڈالر پھر ہوا سستا

    ڈالر پھر ہوا سستا

    ڈالر پھر ہوا سستا
    فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں انٹر بینک میں ڈالر 159.97 روپے کا ہوگیا۔

    خیال رہے کہ سال 2020 معاشی اعتبارسےمشکل ترین سال رہا۔ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن جیسےمسائل نےمعاشی سرگرمیوں کومحدود کردیا۔

    درآمدی اشیا کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا اور ڈالرنےبھی تاریخ کی بلندی کوچھولیا۔ڈالرنےملکی تاریخ میں سب سےاونچی اڑان بھری اور دوہزار بیس میں ڈالرکی قیمت میں 9 روپے75 پیسوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
    ڈالر169 روپےتک ٹریڈ ہونےکےبعد اب کمی کی طرف گامزن ہے۔

    مرکزی رہنما آل پاکستان کرنسی ڈیلرزایسوسی ایشن ظفرپراچہ کا کہنا ہے کہ 169 روپےتک قیمت گئی۔۔ لیکن اب کم ہورہی ہے لگتا ہے 155 روپےتک ڈالرہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیلنس آف پیمنٹس کی وجہ سےکچھ پریشرنظرآسکتا ہے۔

    سال2019 میں ڈالر مجموعی طور پر16روپے 10پیسے مہنگا ہوکر 155روپے کا ہوگیا تھا۔

    واضح ‌رہےکہ اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگائی تھی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔

    اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی.

  • راوی ریور فرنٹ اربن پروجیکٹ سے اتنی نوکریوں کی نوید آگئی  کہ آپ خوش ہوجائیں

    راوی ریور فرنٹ اربن پروجیکٹ سے اتنی نوکریوں کی نوید آگئی کہ آپ خوش ہوجائیں

    راوی ریور فرنٹ اربن پروجیکٹ سے اتنی نوکریوں کی نوید آگئی کہ آپ خوش ہوجائیں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : راوی اربن پراجیکٹ کو لاہور کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے . چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی راشد عزیز نے کہا ہے کہ راوی ریور فرنٹ اربن پروجیکٹ سے دو لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی اور 49 صنعتوں کو فروغ ملے گا۔
    انہوں نے کہا کہ لاہور کے نواح میں بین الاقوامی سطح کی سہولیات اور معیارات کا حامل نیا شہر آباد ہونے کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے، ناصرف پلاننگ کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے بلکہ منصوبہ اب گراﺅنڈ لیول پر پہنچ چکا ہے۔

    راشد عزیز نے بتایا کہ یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جو ناصرف لاہور یا پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں نئے رجحانات متعارف کرائے گا، راوی کنارے آباد ہونے والے اس نئے شہر کو دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کی طرح ٹیکنالوجی سمیت دیگر سہولیات سے مزین کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پورے خطے کیلئے ایک مثال ثابت ہو گا، یہ شہر حجم کے اعتبار سے قومی دارالحکومت سے بھی بڑا ہو گا، اس شہر میں مسائل کو وسائل میں تبدیل کیا جائے گا، یہاں ہائی ٹیک ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ لگایا جائے گا جو ویسٹ سے بجلی پیدا کرے گا اور شہر کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا۔چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کہا منصوبے کے آغاز سے ہی دو لاکھ نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، اور 49 صنعتی شعبوں کے فروغ میں معاونت ملے گی، جہاں کورونا نے عالمی معیشت کو متاثر کیا وہاں راوی اربن پروجیکٹ جیسے ترقیاتی منصوبے ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوتے ہیں۔

    انہوں نے بتا یا کہ اس منصوبے میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے شروع سے ہی دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور اس وقت پاکستانی، چینی اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں سے پیشکش آ چکی ہے جو اس منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے، منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے سرمایہ کاری کی کمی درپیش نہیں ہے۔

    چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ اس منصوبے میں اربن فاریسٹ، ریور ورکس اور جھیلیں بھی شامل ہیں جو ناصرف اس منصوبے کی خوبصورتی کو چار چاند لگائیں گی بلکہ اربن فاریسٹ کی وجہ سے یہ ایک ماحول دوست منصوبہ ثابت ہو گا جو وزیر اعظم کے کلین اینڈ گرین پاکستان کے ویژن کا عکاس ہو گا۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان خود بھی اس منصوبہ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کی فوری تکمیل کیلئے قومی و صوبائی قیادت کی طرف سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے

  • کتنی مالیت کی پراپرٹی خرید نے پر معلومات دینا لازمی ایف بی آر نے بتا دیا

    کتنی مالیت کی پراپرٹی خرید نے پر معلومات دینا لازمی ایف بی آر نے بتا دیا

    کتنی مالیت کی پراپرٹی خرید نے پر معلومات دینا لازمی ایف بی آر نے بتا دیا

    وفاقی بورڈ برائے ریونیو(ایف بی آر) نے پراپرٹی کی خریدوفروخت کے لیے 20 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کی ہر ٹرانزیکشن کی معلومات دینا لازمی قرار دے دیا۔
    نجی ٹی وی چینل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ (سی ٹی ایف) کے تحت رئیل اسٹیٹ ایجنسٹس کے لیے قواعد و ضوابط جاری کیے گئے ہیں، ان گائیڈ لائن کا مقصد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کو پورا کرنا ہے۔

    گائیڈ لائنز کے مطابق رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز اور ایجنٹس کو غیرمنقولہ جائیداد کی خریدوفروخت کے لیے ہر 20 لاکھ روپے یا اس سے زائد کی ٹرانزیکشنز کے لیے کرنسی ٹرانزیکش رپورٹ (سی ٹی آر) جمع کرانے کی ضرورت ہو گی۔ تاہم، اس مقصد کے لیے بینکوں کے ذریعے کسی بھی ٹرانزیکشن کو رپورٹ کرنا لازمی نہیں ہو گا۔

    ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا مقصد منی لانڈرنگ کی روک تھام اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنا ہے، کیونکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کیش ٹرانزیکشنز کے ذریعے غیرقانونی طریقے سے کمائی گئی دولت کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

  • 2020 میں پاکستانی معیشت کیسی رہی

    2020 میں پاکستانی معیشت کیسی رہی

    2020 میں پاکستانی معیشت کیسی رہی

    باغی ٹی وی ،کرونا نے جہاں‌دنیا بھر میں اپنا اثر دکھایا وہاں پاکستان پر کی معیشت پر بھی اس کے وار جاری رہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی سال 2021ء میں پاکستان کی معیشت کی مرحلہ وار بحالی متوقع ہے۔
    یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی پالیسی ٹریکر نامی رپورٹ میں کہی گئی ہے، اس رپورٹ میں پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے مریض سے لے کر اب تک کی صورت حال، وبا سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات اور مستقبل کی صورت حال کی تفصیلی عکاسی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جون 2020ء میں پاکستان میں وائرس کے پھیلائو کی یومیہ شرح چھ ہزار کیسز کی بلند ترین سطح پر تھی، حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں جولائی سے نئے کیسوں کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوئی اور اگست اور ستمبر میں یومیہ کیسز کی تعداد ایک ہزار سے کم ہو گئی۔

    رپورٹ کے مطابق نومبر کے وسط سے کورونا کے مثبت کیسوں کی تعداد میں اضافہ کا رحجان شروع ہوا جو تاحال جاری ہے، کوویڈ19 کے ان دھچکوں نے ملکی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، مالی سال 2020ء کیلئے پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری کا اندازہ منفی 0.4 فیصد لگایا گیا تھا تاہم آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ مالی سال 2021ء میں پاکستان کی معیشت کے مرحلہ وار بحالی کی راہ پر گامزن ہونے کی توقع ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل کے وسط سے وفاقی حکومت نے صوبوں کی مشاورت و تعاون سے لاک ڈائون میں نرمی کیلئے انتظامات کئے، موسم گرما کے اختتام تک پابندیوں میں مزید نرمی کی گئی، تعلیمی ادارے، تفریحی مقامات، ریستوران، مالز، ریٹیل آئوٹ لیٹس اور کاروبار کو معیاری حفاظتی طریقہ کار کے مطابق کھولا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے معمر افراد اور فرنٹ لائن طبی عملہ کو وائرس سے نمٹنے کیلئے ویکیسن کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ہے، پاکستان اضافی ویکسین کی فراہمی کیلئے تیارکنندگان اور عالمی بینک و ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے اداروں سے بھی رابطے میں ہے ، پاکستان نے اس ضمن میں 250 ملین ڈالر کی رقم بھی مختص کی ہے۔ ویکسین کی فراہمی سال 2020ء کی دوسری سہ ماہی میں متوقع ہے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ میں کورونا وائرس کی عالمگیر وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی حکومت کی جانب سے مالیاتی، زری و میکرو فنانشنل اقدامات کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حکومت نے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو وبا کے اثرات سے بچانے اور معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے 24 مارچ کو 1240 ارب روپے کا امدادی پیکج جاری کیا جس پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

    چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے کاروبار اور زراعت کے شعبوں کو معاونت فراہم کی گئی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس ضمن میں کئی سکیمیں متعارف کرائی ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی گئی جس پر 70 ارب روپے خرچ ہوئے، کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے ادویات، آلات اور سامان کی درآمد پر درآمدی ڈیوٹیاں ختم یا کم گئیں۔

    اسی طرح سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو مرحلہ وار 13 فیصد سے کم کر کے سات فیصد کر دیا، ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے قرضے فراہم کئے گئے، روزگارکے تحفظ اور کاروباری اداروں کو نئے پراجیکٹس شروع کرنے کیلئے آسان قرضہ جات فراہم کئے گئے
    بعض ماہرین معیشت کے مطابق سال 2020 عوا م اور معیشت پر بہت بھاری گزرا ہے۔عوام بدحال صنعت کمزور اور زراعت زمین بوس ہو گئی ہے اور اگر موجودہ صورتحال جاری رہی توآنے والے سال میں بھی کسی بڑی تبدیلی کاامکان نہیں ہے۔عوام کے بعد سب سے زیادہ زرعی شعبہ متاثر ہوا ہے جس کی وجوہات میں کرونا وائرس، ٹڈی دل کے حملے،موسمیاتی تبدیلیاں، غلط پالیسیاں و فیصلے اور مافیا کی تباہ کاری شامل ہے۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ 2020 میںعوام کو نوکریاں دینے کا وعدہ تو پورا نہیں ہوا بلکہ کروڑوں بے روزگار اور لاکھوں کاروبار دیوالیہ ہو گئے ، مہنگائی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور بجلی و گیس کے بلوں کی وصولی بھتہ خوری کی صورت اختیار کر گئی۔

    ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے عوام پر ٹیکس کا مزید بوجھ لادا گیا جبکہ اشرافیہ کو اربوں روپے کا ٹیکس ریلیف دینے کا سلسلہ جاری رہا۔اسی سال میں کاشتکاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جس میں کپاس گندم اور مکئی کی فصلیںقابل زکر ہیں۔ فصلوں کی تباہی میں سرکاری اداروں نے بھی نئی اور بہتر اقسام کا بیج بنانے کے بجائے دعووں کا انحصار کر کے اپنا کردار ادا کیاجبکہ سیڈ مافیا نے کاشتکاروں کو غیر معیاری بیج کی فراہمی بڑھا دی۔

    سب سے زیادہ نقصان کپاس کی فص کو ہوا جو کئی دہائیوں میں ایک ریکارڈ ہے مگر ان معاملات کو حل کرنے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہ آ سکا نہ مختلف صوبے گندم کی امدادی قیمت پر متفق ہو سکے جس کی وجہ سے اگلے سال بھی زرعی اشیاء کی درامد پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا ہو گا۔ زرعی شعبہ صنعتی و تعمیراتی صنعت سے زیادہ اہم ہے مگر اسے وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کا یہ مستحق ہے