Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سونے کی قیمت میں واضح‌کمی

    سونے کی قیمت میں واضح‌کمی

    سونے کی قیمت میں واضح‌کمی

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمت میں 450 روپے کمی کردی گئی۔ 450 روپے کمی کے بعد آج سونا فی تولہ 91 ہزار 50 روپے میں فروخت ہوا۔اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 385 روپے کمی کے بعد 78 ہزار 50 روپے ہوگئی ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے بعد صرافہ مارکیٹوں میں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، فیصل آباد، راولپنڈی سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونا 450 روپے گھٹ کر 91050 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

  • انٹرنیشنل برینڈز ہوجائیں تیار، میڈ ان پاکستان گاڑی اب بڑے بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑنے جارہی

    انٹرنیشنل برینڈز ہوجائیں تیار، میڈ ان پاکستان گاڑی اب بڑے بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑنے جارہی

    انٹرنیشنل برینڈز ہوجائیں تیار، میڈ ان پاکستان گاڑی اب بڑے بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑنے جارہی

    باغی ٹی وی : معروف انٹرنیشنل برینڈز کی آٹو کمپنیاں ہو جائیں ہوشیار، اب میڈان پاکستان کار سب کو پیچھے چھوڑنے آرہی ہے. پاکستان میں پرنس پرل کے نام سے 800 سی سی ہیچ بیک گاڑی پرنس پرل متعارف کروادی گئی ہے جس کی قیمت دس لاکھ 49 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

    ریگل آٹو موبائلز انڈسٹریز لمیٹڈ کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تقریب کے دوران گاڑی کی رونمائی کی گئی۔

    یہ گاڑی یکم فروری سے چھ مختلف رنگوں میں پاکستان بھر میں دستیاب ہے۔ رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ ایک مقامی کمپنی کی جانب سے اس طرح کے فیچرز کے ساتھ مناسب قیمت پر گاڑی فراہم کرنا خوش آئند ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمپنی کے آپریشن ڈائریکٹر طیب نصیر نے کہا کہ ہم نے 400 سے 500 پرنس پرل تیار کرلی ہیں۔انہوں نے مارکیٹ میں دیگر کمپنیوں کی اجارہ داری کو توڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے اس پراجیکٹ پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس سے نہ صرف پاکستان کو بہتری گاڑیاں ملیں گی بلکہ نوکریاں پیدا ہوں گی اور پاکستان کی معیشت کو استحکام ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گاڑی میں پاور ونڈوز، پاور اسٹیئرنگ، ملٹی میڈیا سسٹم جیسے جدید فیچرز موجود ہیں جبکہ اس کی تین سالہ یا 60 ہزار کلو میٹر تک کی وارنٹی بھی ہے۔

    مقامی طور پر تیار کی گئی گاڑی پرل پرنس کی قیمت دس لاکھ 49 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔کہا جارہا ہے کہ آٹو موبائل میں یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے.

  • آئی ایم ایف سے اگلی قسط کا معاملہ ، وفد کی آج اسلام آباد آمد

    آئی ایم ایف سے اگلی قسط کا معاملہ ، وفد کی آج اسلام آباد آمد

    آئی ایم ایف سے اگلی قسط کا معاملہ ، وفد کی آج اسلام آباد آمد

    باغی ٹی وی :پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6 ارب ڈالر کے قرضے کی اگلی قسط کے معاملے پر بات چیت کا آغاز 3 فروری سے ہو گا، آئی ایم ایف سے 45 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط کیلئے معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

    آئی ایم ایف کا جائزہ آج پاکستان پہنچے گا، آئی ایم ایف وفد مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کرے گا۔ آئی ایم ایف وفد چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے بھی ملاقات کرے گا، آئی ایم ایف وفد حکومتی معاشی ٹیم سے بھی ملاقاتیں کرے گا، آئی ایم ایف وفد توانائی اور ٹیکس اصلاحات کا جائزہ لے گا۔

    آئی ایم ایف نے ہمارے معاشی ایجنڈے کی حمایت کی ہے، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ

    آئی ایم ایف سے حکومتی معاہدے پر مریم نواز بھی بول پڑیں

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے دو اقساط میں 1.44ارب ڈالر مل چکے ہیں، آئی ایم ایف سے 45 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط کیلئے بات چیت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق جائزہ وفد مذاکرات میں پاکستانی معیشت کے سہ ماہی جائزے لے گا، آئی ایم ایف وفد مختلف وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے حال ہی میں آئی ایم ایف سے تقریباً 6 ارب ڈالر قرض کا پیکج حاصل کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان اور کرسٹین لیگارڈ کے درمیان بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں. آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کے حصول اور معاہدوں پر اپوزیشن جماعتوں نے بھرپور احتجاج کیا ہے .

    آئم ایم ایف نے کہا تھا کہ پاکستان کو بین الاقوامی اداروں سے 38 ارب ڈالرز کا قرضہ ملے گا.پاکستان میں اداروں کو مضبوط کرکے ان میں شفافیت لائی جائے .پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کاررروائیاں کی جائیں ،گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی.پاکستان کے گردشی قرضوں کا خاتمہ کیا جائے گا .توانائی سیکٹر کے واجبات کی وصولیاں یقینی بنائی جائیں گی.

  • کرونا وائرس کی وجہ سے سبزیاں مہنگی کیوں ہوئیں

    کرونا وائرس کی وجہ سے سبزیاں مہنگی کیوں ہوئیں

    باغی ٹی وی :کرونا وائس پاکستان کی معیشت پر بھی اثر انداز ہونے لگا . کرونا وائرس خدشے کے پیش نظر چین سے سبزیاں آنا بند، چائنہ، ادرک اور لہسن کے دام مزید بڑھ گئے، اتوار بازاروں میں موسمی سبزیاں بھی پہنچ سے باہر ہونے لگیں، عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں۔

    کرونا وائرس سے سبز مصالحہ جات کی سپلائی بھی متاثر، چین سے سپلائی معطل ہونے پر چائنہ ادرک اور لہسن کی قیمتیں بڑھ گئیں، ادرک چائنہ کی قیمت 50 روپے اضافے سے 300 سے 350 روپے کلو ہو گئی۔ لہسن چائنہ 90 روپے مہنگا ہوا، قیمت 270 سے 360 روپے کلو تک جا پہنچی۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق چین سے ترسیل کم ہونے کی وجہ سے ان اشیاء کی قیمتوں میں تیزی آئی۔

    مٹر 5 روپے اضافے سے 120روپے، آلو اور گاجر 6 روپے اضافے سے 34 روپے کلو ہو گئے۔ پیاز بدستور 44 روپے کلو میں فروخت ہوا۔ ٹماٹر کا زور ٹوٹنے لگا اور اصل قیمت کی طرف واپسی ہونے لگی۔ ٹماٹر کی قیمت ایک ہفتے میں 23 روپے کم ہوکر50 روپے کلو رہ گئی

    کرونا وائرس، چین میں ہلاکتوں میں اضافہ ،کتنے پاکستانی چین میں ہیں ؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس پاکستان میں پھیلنے کا خدشہ، ملتان کے بعد لاہور میں بھی چینی باشندہ ہسپتال داخل

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

  • رواں برس کتنے امریکی وفود پاکستان کا دورہ کریں گے؟ اہم خبر

    رواں برس کتنے امریکی وفود پاکستان کا دورہ کریں گے؟ اہم خبر

    رواں برس کتنے امریکی وفود پاکستان کا دورہ کریں گے؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک امریکہ بزنس کونسل کے بانی چیئرمین افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ رواں سال اعلی سطح کے 15 امریکی تجارتی وفود پاکستان کا دورہ کریں گے، ان دوروں سے تجارتی حجم میں اضافے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

    قومی خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کونسل کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے یہ بات معروف برآمد کنندگان کے 10رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جس نے انوار الحق اور طارق انوار کی مشترکہ قیادت میں افتخار علی ملک سے ملاقات کی۔

    افتخارعلی ملک نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعہ دوطرفہ تعلقات کے پوٹینشل سے بھر پور استفادہ کا خواہاں ہے اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی ان مقاصد کے حصول کیلئے امریکی تجارتی وفود کا خیرمقدم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے امریکی سرمایہ کاروں کو بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ یہاں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں کیونکہ معروف بین الاقوامی فرمیں اور یورپی و ایشیائی سرمایہ کار یہاں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

    افتخارعلی ملک نے مزید کہا کہ زراعت ، معیشت، مالیات ، توانائی ، مارکیٹ رسائی اور سائنس و ٹیکنالوجی پر ورکنگ گروپس کی سطح پر دوطرفہ مذاکرے کی اشد ضرورت ہے۔ سی پیک سے بھی مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے اور خصوصی اقتصادی زونز میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ امریکی سرمایہ کارانتہائی مناسب وقت پر پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور پاکستانی بزنس کمیونٹی ان کے ساتھ پائیدار کاروباری شراکت داری کے فروغ کے لئے ان مواقع سے فائدہ اٹھائے۔

    افتخارعلی ملک نے مقامی تاجروں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ امریکی سرمایہ کاروں کو سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز خاص طور پر فیڈمک کے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کا دورہ کرانے کیلئے منصوبہ بندی کریں۔ امریکی توانائی کمپنیوں کیلئے پاکستان میں بہت زیادہ کاروباری مواقع موجود ہیں اور امریکی کمپنیاں ملک بھر میں توانائی کے منصوبوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہیں۔ پاکستانی دوا ساز کمپنیاں زیادہ تر خام مال کی درآمد کرتی ہیں اس لئے امریکی سرمایہ کار علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں فارماسوٹیکل خام مال کے پلانٹس میں سرمایہ کاری کریں کیونکہ اس کاروبار کی پاکستان میں بے حد گنجائش موجود ہے۔

    افتخارعلی ملک نے مزید کہا کہ ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کے اندر تمام صنعتوں کو 10 سال کی مدت کے لئے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہو گا اور پلانٹس ، مشینری ، خام مال اور دیگر سازوسامان درآمدی فری درآمد کیے جاسکیں گے۔ پاک امریکہ بزنس کونسل اس ضمن میں حکمت عملی کی تیاری اور دونوں ممالک کے اہم اداروں اور تنظیموں کے مابین تعاون کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔

    پاکستان محفوظ ملک، برطانیہ نے سفری ایڈوائزری کی تبدیل، وزیراعظم سمیت دیگر کا خیر مقدم

    انوار الحق اور طارق انوار نے کہا کہ مقامی برآمد کنندگان امریکی تجارتی وفود کو سہولیات کی فراہمی اور ان کے دوروں کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے پاک امریکہ بزنس کونسل کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیوں کے پیش نظر پاکستان کو امریکی منڈیوں تک آزادانہ رسائی دی جانی چاہیے۔

    کپتان کی پالیسیاں دنیا ماننے پر مجبور،برطانیہ کے بعد امریکہ نے بھی بدلی ٹریول ایڈوائزری

  • اوگرا نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں کیا کمی کا اعلان

    اوگرا نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں کیا کمی کا اعلان

    اوگرا نے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں کیا کمی کا اعلان

    اوگرا نے فروری کیلئے ایل پی جی سیلنڈر کی قیمت میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔اوگرا نے فروری کیلئے 11.8 کلو گرام گھریلو سیلنڈر کی نئی قیمت 1680.21 روپے مقرر کر دی۔جنوری کیلئے 11.8 کلو گرام گھریلو سیلنڈر کی قیمت 1791.48 روپے تھی۔گزشتہ روز اوگرا نے پٹرولیم ڈویژن کو سمری بھجوادی جس میں پٹرول چھ پیسے سستا جبکہ ڈیزل دو روپے 47 پیسے مہنگا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    سمری کے مطابق لائٹ ڈیزل ایک روپے 10پیسے جبکہ مٹی کا تیل 66 پسیے فی لیٹر سستا کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔سمری کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 66 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 1 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کی سفارش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پورا ہفتہ مندی کے بعد آج کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان رہا اور 100انڈیکس میں دو سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کاروباری ہفتے کے آخری روز جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس41903 پوائنٹس پر تھا اور پہلے ہی گھنٹے میں 200 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

  • سٹاک مارکیٹ میں مندی کےبعد تیزی

    سٹاک مارکیٹ میں مندی کےبعد تیزی

    سٹاک مارکیٹ میں مندی کےبعد تیزی

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پورا ہفتہ مندی کے بعد آج کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان رہا اور 100انڈیکس میں دو سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کاروباری ہفتے کے آخری روز جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس41903 پوائنٹس پر تھا اور پہلے ہی گھنٹے میں 200 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

    خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا.

  • ڈالر کی قیمت میں واضح کمی

    ڈالر کی قیمت میں واضح کمی

    کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر کی قیمت میں 20 پیسے کی واضح کمی ہوئی ہے۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈالر آج 154.60 روپے میں فروخت ہورہا ہے جو کہ گزشتہ روز 154.80 روپے میں دستیاب تھا۔

    اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 154.60 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ گزشتہ سال جون سے لیکر اب تک ڈالر کی قیمت میں نو روپے اور 40 پیسے کمی ہوچکی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

  • افریقہ کے ساتھ تجارت کو کہاں تک لے جانا چاہتے ہیں؟ مشیر تجارت نے بتا دیا

    افریقہ کے ساتھ تجارت کو کہاں تک لے جانا چاہتے ہیں؟ مشیر تجارت نے بتا دیا

    افریقہ کے ساتھ تجارت کو کہاں تک لے جانا چاہتے ہیں؟ مشیر تجارت نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدرازق داود نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ تجارتی تعلقات کے راستے کھولے جائیں۔ پاک افریقہ تجارت کانفرنس ہمیں معاشی مواقع فراہم کرے گی اور ہماری حکومت کی افریقہ کے ساتھ تجارت بڑھانے اور معاشی تعلقات کو بڑھانے میں سنگ میل ہو گی۔

    ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے نیروبی میں پاک افریقہ تجارت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ علاقائی تعلقات کا ترقی اور تجارت کوبڑھانے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ پاکستان اور افریقہ کے درمیان تجارت کے لیے وسیع پوٹینشل موجودہے مگر اس کے لیے آ پس میں رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کینیا میں تجارتی کانفرنس میں بتا دیں

    پاکستان نیوی کا بلوچستان کی عوام کے لئے شاندار کام، عوام کی دعائیں

    پاکستان نیوی کے صف اول کے جنگی جہاز کا دورہ سعودی عرب

    پاک بحریہ کا خشکی سے بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاک بحریہ کے دو جہازوں کا افریقی ممالک کا دورہ

    مشیر تجارت کا مزید کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ تجارت اور اور رابطے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ وقت اگیا ہے کہ باہمی تعلقات کو معاشی مضبوطی میں بدلا جائے۔اسی کی ایک کڑی کے طور پر وزارت تجارت نے لک افریقہ پالیسی جیسے انیشی ایٹوکی بنیاد رکھی ہے جو افریقہ کے ساتھ وسیع تجارتی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ہمارا ویژ ن ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں افریقہ کے ساتھ تجارت کو دوگنا کیا جائے۔ہمیں تیار کردہ اشیا کے تبادلے کی ضرورت ہے۔ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ نالج شئیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ افریقہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے ہم نے افریقہ میں اپنی ایمبیسز میں چھ نئے تجارتی ونگز کا قیام عمل میں لایا ہے جن الجیریا، مصر، ایتھوپیا، سینیگال، سوڈان، تیونس شامل ہیں

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

  • ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کینیا میں تجارتی کانفرنس میں بتا دیں

    ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کینیا میں تجارتی کانفرنس میں بتا دیں

    ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کینیا میں تجارتی کانفرنس میں بتا دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افریقی ممالک ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں۔ ہمیں مستقبل کی شراکت داری کے لئے مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔کینیا، افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سیاحت ہماری اولین ترجیح ہے۔ایشیاء میں گوادر کی وہی اہمیت ہے جو ممباسا کی افریقہ میں ہے ۔ممباسا گوادر ملٹی ماڈل رابطہ، ٹرانسپورٹ کی لاگت کم کرسکتا ہے۔پاکستان میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں، مسائل، مواقع میں تبدیل ہورہے ہیں۔

    قومی خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کینیا کے دارلحکومت نیروبی میں پاکستان اور افریقہ میں تجارتی ترقی کے فروغ کے حوالے پہلی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کانفرنس کے انعقاد پرکینیا کے کیبنٹ سیکریٹریز برائے خارجہ امور اور تجارت، صنعت وکوآپریٹوز کی بھر پور معاونت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے سلسلے میں اس آغاز کے لئے نیروبی کا انتخاب دانستہ کیاگیا۔کینیا، افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ گذشتہ برس ہماری دو-طرفہ باہمی تجارت تقریباً ایک ارب ڈالر کی حد کو چھو چکی ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افریقہ، پاکستان کے لئے اجنبی نہیں نہ ہی پاکستان افریقہ کے لئے اجنبی ہے۔ ہمارے احساسات ، خواب، امنگیں، خواہشات اور تخلیقات، ہمارے دکھ درد کی کہانیاں ایک جیسی ہیں ہمارے جذبے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ پاکستان نے افریقی ریاستوں کی آزادی کی تحریک کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور مادی مدد کی ہے۔ ہم نے رنگ ونسل کے امتیاز اور بیرونی جارحیت کے خلاف ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ساوتھ کوآپریشن کے فریم ورک کے اندر پاکستان نے افریقی ریاستوں اور شہریوں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے معاونت فراہم کی۔ میں بڑے فخر ومسرت سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ 52 ریاستوں کے 700 افریقی سفارتکار پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی کے تربیت شدگان کی تنظیم کا حصہ ہیں۔ یہ سفارتکار جن میں سے بہت سارے آج بہت اعلی مناصب پر فرائض ہائے منصبی بجالارہے ہیں، پاکستان اور افریقہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہماری نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے افریقہ کی شراکت داری سے کئی منصوبہ جات کامیابی سے مکمل کئے ہیں۔ صومالیہ سے لائیبیریا اور کانگو تک ہماری افریقی بھائیوں کو جب بھی امن وامان کے قیام کے لئے جس بھی طرح کی ضرورت درپیش آئی، ہم نے ہمیشہ ان کی آواز پر لبیک کہا۔ اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے پاکستانی نیلے ہیلمٹ خطے میں استحکام کے لئے سرگرم عمل دکھائی دئیے ہیں۔ ہم نے دوست ممالک کی مسلح افواج کی استعداد کار بڑھانے میں بھی معاونت فراہم کی ہے اور ہرممکنہ حد تک سکیورٹی کوآپریشن مہیا کیا۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق کہا کہ پختہ عزم کے ساتھ ہم نے دہشت گردی کی لہر کا منہ موڑ دیا ہے ۔ آج آپ پاکستان کا دورہ کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ عدم تحفظ، قصہ پارینہ بن چکا ہے۔بیس کروڑ سے زائدآبادی کے ملک پاکستان میں، نصف کی عمر 30 سے کم ہے۔ ہم دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہیں۔پاکستان میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں، مسائل، مواقع میں تبدیل ہورہے ہیں۔ قوت خرید کے لحاظ سے پاکستان کی معیشت کا تخمینہ 1.19 ٹریلین ڈالر لگایاگیا ہے جو اسے پچیس ویں بڑی معیشت بناتا ہے۔2019ءمیں پاکستان میں کاروباری آسانیوں کے لحاظ سے، کی گئی درجہ بندی میں 28 درجے کی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس درجہ بندی کی بدولت پاکستان دنیا میں اصلاحات کے لحاظ سے سرفہرست آ چکا ہے جبکہ موڈیز نے پاکستان کی آوٹ لک منفی سے مستحکم کردی ہے۔

    پاکستان نیوی کا بلوچستان کی عوام کے لئے شاندار کام، عوام کی دعائیں

    پاکستان نیوی کے صف اول کے جنگی جہاز کا دورہ سعودی عرب

    پاک بحریہ کا خشکی سے بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاک بحریہ کے دو جہازوں کا افریقی ممالک کا دورہ

    شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افریقہ کی طرح پاکستان معدنی ودیگر وسائل کے لحاظ سے مالامال ہے جن سے استفادہ نہیں کیاگیا۔ ہمارا جغرافیائی محل وقوع نہایت اہمیت کا حامل ہے جہاں ایشیاءکے چار خطے آپس میں ملتے ہیں۔ ان میں وسط ایشیا، جنوب ایشیا، مشرق_ وسطیٰ اور چین شامل ہیں۔ شاید یہ محل وقوع پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جو چین کا ’روڈ اینڈ بیلٹ‘ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، تیزی سے روبہ عمل ہے جیو اکنامک ثمرات کے حصول میں تیزی سے ڈھل رہا ہے۔ سی پیک ہماری گہرے پانیوں کی بندرگاہ گوادر سے جڑا ہے جس کے ذریعے وسیع ایشیا تک بحری رسائی کم ترین وقت میں ممکن ہے۔ افریقہ اس میں اضافی فوائد کے ساتھ شامل ہے۔ سی پیک کے اولین مرحلے کی تکمیل کے ثمرات سے ڈھانچے کی ترقی اور توانائی میں قلت کے مسائل کو دور کیاگیا۔ اس تناظر میں سی پیک کے راستے پر ہم خصوصی اقتصادی زونز بھی بنارہے ہیں تاکہ پاکستان اورچین کی مارکیٹ تک رسائی سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ پاکستان کو امریکہ اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی کی ترجیح بھی میسر ہے۔ پاکستان دنیا کے لئے کھل رہا ہے۔ ہماری نئی ویزہ پالیسی پچاس ممالک سے سیاحت کے لئے آنے والوں کو آمد پر ویزا دینے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ 175ممالک سے آن لائن ویزا کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ سیاحت ہماری اولین ترجیح ہے۔ افریقہ میں مجموعی تجارتی پورٹ فولیو ایک ٹریلین ڈالر ہے۔ پاکستان اور افریقہ کے درمیان اس وقت تجارت پانچ ارب ڈالر ہے۔ میرے خیال میں یہ فرق دور کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں۔ہمیں مستقبل کی شراکت داری کے لئے مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیاءمیں گوادر کی وہی اہمیت ہے جو ممباسا کی افریقہ میں ہے۔یہ ایشیاء اور افریقہ میں تجارت اور ترقی کے مراکز ہیں۔ ممباسا گوادر ملٹی ماڈل رابطہ، ٹرانسپورٹ کی لاگت کم کرسکتا ہے اور مختلف شعبہ جات اور صنعت میں شراکت داری کے بے پناہ نئے امکانات کھول سکتا ہے۔ اس سے افریقی برآمدات کو ایشیائی مارکیٹوں تک آسان رسائی میسرآجائے گی اور ایشیائی مصنوعات، وسائل اور اشیاءکی افریقہ تک مختصر ترین راستے سے تیز ترین فراہمی کو یقینی بنانا ممکن ہو گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری معیشت ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ایسے شعبہ جات ہیں جن میں پاکستان کے تجربے اور مہارت سے آپ استفادہ کرسکتے ہیں جبکہ ایسے بہت سارے شعبے ہیں جس میں آپ کے تجربے سے ہم فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک دوسرے کی معیشت میں ہماری سرمایہ کاری اور صنعت میں شراکت داری سے دونوں اطراف یکساں فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ زراعت، زراعت پر مبنی صعنت، ٹیکسٹائل، خدمات، کھیلوں کا سامان، چمڑے، لائٹ انجینئرنگ، ادویات اور آلات جراحی کا معیاری سامان ایسی مصنوعات اور شعبے ہیں جن سے دونوں فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ کانفرنس باہمی اعتماد، خیرسگالی اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں، دستیاب مواقعوں اور زمینی حقائق سے آگاہی میں نہایت اہم ثابت ہوگی جس کے نتیجے میں مستقبل کی شراکت داری، تعاون اور مل کر آگے بڑھنے کی مضبوط بنیاد قائم ہوگی۔