Baaghi TV

Category: کاروبار

  • اسٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ کا مثبت رجحان

    کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز کا آغاز مثبت رہا.

    پیر کے روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 34 ہزار 475 پر ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 100 انڈیکس 79 پوائنٹس اضافے کے بعد 34 ہزار 555 کی سطح پر دیکھا گیا ہے۔

    آڑو پاکستانی معیشت میں مٹھاس بھر سکتا ہے


    گزشتہ روز بھی مارکیٹ کا رجحان مثبت تھا . اور پچھلے کافی دنوں‌سے ممجبوعی طور پر اسٹاک مارکیٹ کا رجحان مثبت ہی جارہا ہے .واضح رہے کہ پچھلےکچھ عرصے سے مجموعی طور پر ملا رجحان آ رہا ہے اسٹاک مارکیٹ ذرائع کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا آغاز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 31 ہزار 658 پوائنٹس پر ہوا۔ کاروبار کے آغاز کے 100 انڈیکس میں 80 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 31 ہزار 578 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا تاہم کاروبار کے اختتام سے دو گھنٹے قبل تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ملا جلا رجحان موجود رہا۔

    ایشائی ترقیاتی بینک کیساتھ معاہدہ طے پا گیا

    جرمنی اور پاکستان کے درمیان بڑا معاہدہ طے پاگیا

  • آڑو پاکستانی معیشت میں مٹھاس بھر سکتا ہے

    آڑو پاکستانی معیشت میں مٹھاس بھر سکتا ہے

    ماہرین اور کاشت کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان سے باہر خاص طور پر خلیجی ممالک میں پاکستانی آڑو کی بہت بڑی منڈی ہے۔

    پھلوں کا بادشاہ آم پاکستان بھر میں یقینا سب سے زیادہ پسندیدہ پھل ہو سکتا ہے لیکن کم از کم ملک کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میںآڑو بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ ان حصوں میں ایک مشہور پشتو کہاوت “اگر آپ کی دوستی کی قیمت آڑو ہے تو میں آپ کی دوستی کو ترک کر دیتا ہوں۔” سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس وقت آڑو مقامی مارکیٹ میں بہت کم حصہ حاصل کرتا ہے لیکن ماہرین اور کاشت کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان سے باہر خاص طور پر خلیجی ممالک میں اس پھل کی بہت بڑی منڈی ہے۔

    پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    اگر حکومت کچھ ٹھوس اقدامات کرتی ہے تو آڑو کا ہماری معیشت میں بہت اہم کردار ادا ہو گا۔ آڑو زیادہ تر پشاور، کوئٹہ، سوات، چترال، مالاکنڈ اور قلات کے اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے۔ عام طور پر پھل مئی میں پکنا شروع ہوتا ہے اور ستمبر کے پہلے ہفتے تک تیار ہوتاہے۔کے

    پی میں مجموعی طور پر 6330 ہیکٹر رقبہ پر پھل اگایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ، سوات میں19۔ 2018 میں 5280 ٹن آڑو پیدا ہوا ، جبکہ پشاور میں 1066 ٹن ، مردان 2825 ٹن ، مالاکنڈ میں 1190 ٹن ، لوئر دیر 1033 ٹن ، بونیر 3105 ٹن اور اپر دیر 1917 ٹنپیدا ہوا ۔ ہر سال صرف سوات ہی 6400 ٹن آڑو تیار کرتا ہے۔

    پارلیمانی سفارتکاری میں پاکستان کی تاریخی فتح، بھارت کو ہوئی رسوائی

  • پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    پاکستان اور چین کا سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر تیز کرنے کا فیصلہ

    پاکستان اورچین کے درمیان ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچرکے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیے گئے جبکہ سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

    چینی وزیر ٹرانسپورٹ کی قیادت میں سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اعلیٰ سطح کے چینی وفد نے ہفتہ کو یہاں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچرکے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے گئے جبکہ سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیزکرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    دوسرے مرحلہ میں مغربی روٹ پر 1270 کلو میٹرکی شاہراہیں اورگلگت سے چترال اور ڈی آئی خان سے ژوب تک شاہراہیں بھی تعمیر ہوںگی۔ پشاور تا ڈی آئی خان اور سوات ایکسپریس وے فیز ٹو سمیت قراقرم ہائی وے پر بھی کام ہوگا۔
    چینی وفد نے کہاکہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لئے وزارت مواصلات نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چین کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہاکہ سی پیک سے دونوں ممالک کی آئندہ نسلیں بھی مستفید ہوں گی، اس کے علاوہ دونوں ملکوںکی قیادت نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے عزم کا اظہارکیا ہے۔

    وزیر مواصلات مراد سعید نے چینی انجینئرزکی محنت،عزم اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا اورکہا کہ سی پیک کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اولین ترجیح ہے۔ سی پیک سے ملازمتوں کے مواقع،انفراسٹرکچر اور مقامی کاروبارکو فروغ ملے گا۔

    وزیر مواصلات نے سی پیک اتھارٹی کے قیام سے متعلق بھی چینی وفدکوآگاہ اورکشمیرکے معاملہ پرچینی حکومت کی حمایت پراظہار تشکر کیا۔

    مراد سعید نے چین کی تیزرفتارترقی کوسراہتے ہوئے کہاکہ معاشی و اقتصادی ترقی سمیت غربت کے خاتمہ کے لیے چین ایک رول ماڈل ہے۔ وفدکو سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں زراعت، سیاحت اورغربت کے خاتمہ میں ترجیحات سے بھی آگاہ کیاگیا۔

    مزید پڑھیں
    جدہ سے لاہور ائیرپورٹ پہنچنے والی بلی کے دنیا بھر میں تذکرے ، معاملہ کیا ہے ؟

  • پاک ایران بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں کیوں رکی ہوئی ہیں ؟

    پاک ایران بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں کیوں رکی ہوئی ہیں ؟

    پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت تفتان بارڈر کے زریعے ہوتی ہے لیکن پچھلے پانچ دن سے بلوچستان کے تاجروں نے ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز کے حکام کیخلاف ہڑتال کر رکھی ہے جس کے باعث بارڈر کے دونوں اطراف ٹرکوں اور کنٹینروں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں،

    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    یہ ہڑتال کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان کی جانب سے کی جارہی ہے ، تفتان بارڈر پر ٹیکس وصولی کے ذمہ دار ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باغی ٹی وی کو بتایا کہ "پچھلے چار دنوں کے دوران درآمد اور برآمدی سامان پر ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی وجہ سے کسٹمز اور ایف بی آر کو 200 ملین سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔” ڈیوٹی کی مد میں تفتان بارڈر پر ہر روز تقریبا 6 سے 7 کروڑ روپے ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے ،

    دوسری طرف پاک افغان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معمول کےمطابق جاری ہے ، اور تاجر سیکیورٹی چیک کے مراحل سے گزرنے کیساتھ ساتھ ٹیکسز کی ادائیگی بھی کر رہے ہیں، کوئٹہ چیمبر اف کامرس کے صدر بدرالدین کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہم ایران سے لائے گئے سارے سامان کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کرتے ہیں اس کے باوجود ہمارے ٹرک افغان بارڈر پر روک لیے جاتے ہیں، اس لیے ہم احتجاج کر رہے ہیں ،

    مزید پڑھیں
    حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

  • حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

    حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل معاشی صورتحال سے نکل آئے ہیں، مشیر خزانہ

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اسلام اباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں استحکام آ گیا ہے، کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور نئی ملازمتیں نکلیں گی۔ مشکل وقت سے حکومتی پالیسیوں کے باعث نکلنا ممکن ہوا

    اسلام آباد میں مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دو بڑے خساروں پر قابو پالیا ہے، درآمدات میں کمی لائی گئی ہے اور تجارتی خسارہ میں 35 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے، ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کیلئے کئی بلین ڈالرز ضائع کیے گئے لیکن اب ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے۔

    مشیرخزانہ نے کہا کہ 5لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا اور ریونیومیں16فیصد اضافہ کیاگیا ہے، اپنے اخراجات کو سختی سے کنٹرول کیا ہوا ہے، سویلین حکومت کے اخراجات میں 40ارب روپے کمی کی گئی، 3مہینوں میں کوئی سپلیمنٹری گرانٹ نہیں دی اور کوئی ادھارنہیں لیا گیا۔

    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 3ماہ میں بیرونی تجارت پر قابو پا لیا ہے، باہر سے سرمایہ کاری کیلیے 340 ملین ڈالر اضافہ ہوا ہے، فیکٹریز میں سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں ملازمتیں نکلیں گی، بیرون ملک ملازمتوں کیلیے جانےوالوں میں ڈیڑھ لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔

    چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ یو اے ای حکام سے اقامہ کے غلط استعمال پر بات ہوئی ہے اور انہوں نے اتفاق کیا کہ اقامہ ہولڈر کی معلومات پاکستان سے شیئر کی جائیں گی، وہ آئندہ ماہ پاکستان آئیں گے۔

    مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے مزید کہا کہ منی لانڈرنگ کو روکنا ہمارے مفاد میں ہے، حکومتی پالیسیوں سے معیشت میں استحکام آگیا ہے جس سے عوام کو فائدہ ہوگا، پیٹرول کی قیمت اس لیے نہیں بڑھی کیونکہ کرنسی میں استحکام آیا ہے، جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں عوام کے فائدے کے لیے کر رہے ہیں۔

    مزید پڑھیں
    مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

  • مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

    مصالحہ جات کی برآمدات میں 9 فیصد اضافہ

    گذشتہ سال کے اسی عرصے کی برآمدات کے مقابلہ میں رواں مالی سال 2019۔20 کے پہلے دو ماہ کے دوران ملک سے مصالحوں کی برآمدات میں 9.53 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان بیورو آف شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا اگست (2019-20) کے دوران ملک سے مصالحوں کی برآمدات 10.9796 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ، مقدار کے لحاظ سے ، مصالحوں کی برآمدات میں 2،323 میٹرک ٹن سے 2،563 میٹرک ٹن یعنی 10.33 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اور حیران کن طور پر مالی سال 2019-20 کے اگست کے مہنے میں پچھلے مالی سال کے اگست کی نسبت مصالحوں کی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی اور جولائی اور ستمبر کے مہنے اضافے کا باعث بنے،

    مزید پڑھیں
    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

  • قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونے والی رقم کہاں ہے ؟

    خیبر پختونخوا حکومت مالی سال 2019-20 کی پہلی سہ ماہی کے دوران صوبہ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا صرف 0.11 فیصد حصہ قبائلی اضلاع میں استعمال کیا ،

    خیبر پختونخوا حکومت نے جاری مالی سال 20- 2019 کے لیے 7 قبائلی اضلاع اور فرنٹیئر ریجن علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے 83 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے تھے تاہم پہلی سہ ماہی کے اختتام پر ترقیاتی بجٹ کا حجم بڑھا کر95 ارب روپے کردیا گیا ہے جس میں سے 23 ارب 56 کروڑ کے فنڈز جاری کیے گئے اور اخراجات11 کروڑ 23 لاکھ تک محدود رہے۔

    صوبائی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق زراعت کے شعبہ میں 66 لاکھ ،عمارات پر ایک کروڑ 16 لاکھ، فراہمی و نکاسی آب ایک کروڑ 76 لاکھ ، ابتدائی و ثانوی تعلیم 57 لاکھ ، صحت 2 کروڑ 76 لاکھ، داخلہ ایک لاکھ، اطلاعات 9 لاکھ، ملٹی سیکٹر ڈیویلپمنٹ ایک لاکھ، ریلیف بحالی 2 لاکھ ، سڑکوں کے شعبے میں 2 کروڑ36 لاکھ،سماجی بہبود 7 لاکھ جب کہ شعبہ آب میں ایک کروڑ 76 لاکھ روپے کے اخراجات کیے گئے۔

    پہلی سہ ماہی کے دوران 10 سالہ ترقیاتی حکمت عملی ،ٹرانسپورٹ،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وانفارمیشن ٹیکنالوجی، مذہبی واقلیتی امور، بورڈ آف ریونیو، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، فاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، خوراک، لیبر، قانون وانصاف، معدنیات، بہبود آبادی اور غریب پرور اقدامات کے شعبوں کے لیے فنڈز کا اجراء نہیں کیا جاسکا جب کہ کھیل و سیاحت، بلدیات، صنعت ،شہری ترقی، انرجی اینڈ پاور، ماحولیات، خزانہ،جنگلات اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں کے لیے فنڈز جاری ہونے کے باوجود یہ محکمے اخراجات شروع نہ کرسکے۔

    مزید پڑھیں
    ایشائی ترقیاتی بینک کیساتھ معاہدہ طے پا گیا

  • ایشائی ترقیاتی بینک کیساتھ معاہدہ طے پا گیا

    ایشائی ترقیاتی بینک کیساتھ معاہدہ طے پا گیا

    ایشائی ترقیاتی بینک سماجی فلاح و بہبود کے منصوبے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 20 کروڑ ڈالر دے گا ، حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

    ایشائی ترقیاتی بینک کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر زیونگ ینگ اور اکنامک افیرز ڈویژن کے سیکرٹری نور خان نے معاہدے پر دستحط کیے، اس موقع پر وفاقی وزیر برائے اکنامک افیرز حماد اظہربھی موجود تھے، بینطیر انکم سپورٹ پروگرام موجودہ حکومت کے شروع کردہ منصوبے احساس پروگرام کا اہم حصہ ہے، یشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے جاری کردہ امداد کی بدولت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار مزید پھیلانے اور موجودہ نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی

    یادرہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ہی 2013 میں شروع کیا گیا تھا اور تب 885000 گھرانوں کو اس پروگرام کیساتھ منسلک کیا گیا تھا جو کہ اب تک اس پروگرام کیساتھ مستفید ہو رہے ہیں
    مزید پڑھیں
    ادویہ سازی کی برآمدات کو بڑھا کر کتنے ارب ڈالر تک لایا جا سکتا ہے؟ ڈریپ حکام نے بتا دیا

  • پاکستان میں تجارتی ماحول کی بہتری کا اعتراف برطانیہ نے بھی کرلیا

    پاکستان میں تجارتی ماحول کی بہتری کا اعتراف برطانیہ نے بھی کرلیا

    کراچی میں متعین برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر مائک نیتھا وریناکس نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول بہتر ہو رہا ہے، پاکستان میں کام کرنے والی برطانوی کمپنیاں منافع میں ہیں،

    ہم دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر کیا، اس موقع پر کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان ، عبدالحسیب خان، سی ای او کائٹ زبیر چھایا، مسعود نقی، اکرام راجپوت، اور واجد حسین نے ڈپٹی کمشنر کا خیر مقدم کیا،
    مائیک نیتھا وریناکس نے کہا کے پاکستان بالخصوص کراچی کی سکیورٹی کی صورت حال میں غیر معمولی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں،برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے، اس کیلئے مشترکہ لائحہ عمل پر کام کرنے کی ضرورت ہے

    مزید پڑھیں
    وزیر ایکسائز سندھ کا ایکسائز دفتر میں پیپلز پارٹی کے جھنڈے ملنے کا نوٹس

  • جاپان، سنگاپور کے پاسپورٹ طاقتورقرار

    جاپان، سنگاپور کے پاسپورٹ طاقتورقرار

    گجرات(چوہدری فیضان ارشاد سے)جاپان، سنگاپور کے پاسپورٹ طاقتورقرار جبکہ طاقتور پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بھارت کا نمبر 82 واں، پاکستان کا پاسپورٹ 104 ویں نمبر پر ہےعالمی طاقت امریکا اور اپنے وقت کے سپر پاور برطانیہ کے پاسپورٹوں کو جاپان اور سنگاپور نے پیچھے چھوڑ دیا۔
    ہینلے پاسپورٹ انڈیکس نے انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسویسی ایشن کے ڈیٹا کی بنیاد پر دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی درجہ بندی کی ہے۔رپورٹ کے مطابق جاپان اور سنگاپور کے پاسپورٹ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پائے ہیں، ان دونوں ممالک کے شہریوں کو 190 ممالک کا ویزا حاصل کرنے کے لیے پیشگی درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔پاسپورٹ انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق فن لیڈ، جرمنی اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرا نمبر پر ہیں، یہ تینوں ملک 189 ممالک میں پیشیگی ویزے کے بغیر بھی جاسکتے ہیں۔ہینلے انڈیکس کی رپورٹ میں ڈنمارک، اٹلی اور لگسمبرگ تیسرے نمبر پر ہیں، ان ملکوں کو 186 ممالک کے پیشیگی ویزے کی ضرورت نہیں۔
    طاقتور ویزے کی فہرست میں ان دونوں ملکوں سے مجموعی طور پر 15 ملک آگے ہیں۔مسلم ممالک میں متحدہ عرب امارات سب سے آگے ہے، فہرست میں اس کا نمبر 15 ہے، جس کے شہریوں کو 172 ممالک کےلیے پیشگی ویزے کی ضرورت نہیں
    طاقتور پاسپورٹ کی درجہ بندی میں چوتھے نمبر فرانس، اسپین اور سویڈن شامل ہیں جبکہ پانچویں نمبر پر آسٹریا، نیدرلینڈز، پرتگال اور سوئٹزلینڈ ہیں، ان سات ممالک کو بالترتیب 185 اور 184 ممالک کے پیشگی ویزے کی ضرورت نہیں۔امریکا اور برطانیہ فہرست میں چھٹے نمبر پر ہیں