کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 21 پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، جس کے بعد ڈالر کی قدر میں اضافہ جاری ہے
انٹر بینک میں ڈالر 156.07 سے بڑھ کر 156.28 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
یاد رہے ستمبر 2018 میں ڈالر 134 اور نومبر میں 142 پر ٹریڈ کررہا تھا ۔ گزشتہ سال کے اختتام پر ڈالر 139 روپے 40 پیسے کا ہوچکا تھا
البتہ اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی جا سکتی ہے.اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس میں 344 پوائنٹس کا اضافہ
یاد رہے ستمبر 2018 میں ڈالر 134 اور نومبر میں 142 پر ٹریڈ کررہا تھا ۔ گزشتہ سال کے اختتام پر ڈالر 139 روپے 40 پیسے کا ہوچکا تھا۔
اگست کے مہینے میں روپے نے ڈالر کا خوب مقابلہ کیا اور ڈالر 157.20 روپے تک پہنچ گیا۔لیکن اب پھر یہ سلسلہ جاری ہے
Category: کاروبار

ڈالر کی قدر میں 21 پیسے اضافہ

اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا
آج اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز کے آغازپر مندی کے رجحان دیکھا گیا ہے۔
پیر کے روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 32 پزار 184 پر ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 100 انڈیکس 127 پوائنٹس کی کمی کے بعد 31 ہزار 983 کی سطح پر دیکھا گیا ہے۔
پچھلے ماہ سے مجموعی طور پر ملا رجحان آ رہا ہے اسٹاک مارکیٹ ذرائع کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا آغاز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 31 ہزار 658 پوائنٹس پر ہوا۔ کاروبار کے آغاز کے 100 انڈیکس میں 80 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 31 ہزار 578 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا تاہم کاروبار کے اختتام سے دو گھنٹے قبل تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ملا جلا رجحان موجود رہا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیسرے ہفتے تیزی
کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج مسلسل تیسرے ہفتے تیزی کے رجحان پر بند ہوئی ، بروز اتوار سٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس 630 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 32111 پوائنٹس پر بند ہوئی ،ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پچھلے تین ہفتوں میں سٹاک ایکسچینج میں کل 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،
سعودی ائل کمپنی ارمکو کی تنصیبات پر حملے کے بعد دنیا میں تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث انویسٹر تیل و گیس کے سٹاک پر سرمایہ کاری میں زیادہ دلچسپی لے رہا ہے اور سٹاک مارکیٹ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ،
مہنگائی کم ہونا شروع ہوگئی ، چینی سستی ہوگئی
اسلام آباد:حکومتی حکمت عملی رنگ دکھانے لگی ، معیشت بہترہونے کے ساتھ ہی مہنگائی بھی کم ہونے لگی ، جس کے اثرات نظر آنا شروع ہوگئے ہیں ، اطلاعات کےمطابق ملک میں چینی کی قیمتیں گرنا شروع ہوگئی ہیں،
ذرائع کےمطابق چینی کی قیمتوں میں کمی پہلے یوٹیلیٹی اسٹورز میں دیکھنے کو ملی ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی فی کلو تین روپےسستی کردی گئی۔ چینی کی نئی قیمت چہتر روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔
چینی سستی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا ہے جبکہ قیمت میں کمی کا اطلاق فوری ہوگا۔نوٹفیکیشن کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی کی نئی قیمت 76روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے

تاجر ایک بار پھر ملک گیر ہڑتال کریں گے
آل پاکستان انجمن تاجراں کے جنرل سیکرٹری نعیم میر نے کہا ہے کہ 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاج کریں گے اور پورے پاکستان میں پہیہ جام ہڑتال کریں گے ،
تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی پورے پاکستان کے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اصلاحات متعارف کروائیں جنہیں انجمن تاجراں نے مکمل طور پر رد کر دیا ، مالی سال 2019-20 کے بجٹ پیشی سے لیکر اب تک حکومت اور تاجروں کے درمیان مسائل کو حل کرنے کو لیکر مذاکرات چل رہے تھے جو بغیر کسی نتیجے کے حتم ہو گئے ، تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان جو بنیادی چیزیں اختلاف کا باعث بن رہی ہیں ان میں فکسڈ ٹیکس کا نظام ، شناختی کارڈ کی شرط اور کاروبار کے لخاط سے ٹیکس کی ادائیگی جیسے معاملات شامل ہیں،
انجمن تاجراں کے جنرل سیکرٹری نعیم میر نے میڈیا کو بتایا کہ ایف بی آر کے نمائندگان سے ہماری آخری میٹنگ 4 دن پہلے ہوئی اور وہ ہمارے مسائل کو سننے اور حل کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے ، ایسی صورتحال میں ہمارے پاس آخری راستہ صرف احتجاج کا بچتا ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف ہم شناختی کارڈ کی شرط کو لیکر مذاکرات کر رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت نے شناختی کارڈ کی شرط کاروبار کیلئے لازم قرار دے کاروائیاں بھی شروع کر دی ہیں،
تحریک انصاف کی ایک اور بڑی کامیابی
حکومت پاکستان کے ادارہ برائے اعداد شمار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں 26 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ، اور پاکستان کی برآمدات میں معمولی اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے ،
ادارہ برائے اعداد شمار کی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کی کل درامدات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں 21.4 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ہے جس سے پاکستان کی درآمدات 7.67 ارب ڈالر تک آ گئی ہیں ، اگر درآمدات کو پراڈکٹ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں کل 1.93 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے ، جس میں سب سے زیادہ کمی خام تیل کی درآمد میں ہوئی ہے ، ایل این جی کی درآمد میں 8.75 جبکہ ایل پی جی کی درآمد مین 39.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ،
ٹیلی کمیونیکیشن گروپ کی درآمدات میں 10.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ، موبائل فون کی 19.4 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ موبائل اسمگلنگ کو روکنے کیلئے حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات اور باہر سے انے والے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسز کا لگنا ہے ،
دوسری طرف پاکستان کی برامدات میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے ، ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے ، کاٹن کی برآمد میں پچھلے سال کی نسبت 150 فیصد اضافہ دیکھا گیا
افراط زر اگلے دو سال تک مزید بڑھے گا ، اسٹیٹ بینک
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے دو سال تک افراط زر کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ، دو سال بعد افراط زر اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف 7-5 فیصد تک آجائے گا ،
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اسپیشل پینل برائے فنانس کی چیئرمین عائشہ غوث پاشا کو بریفنگ دی جو کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کیلئے افراط زر کو کم کرنے پر تجاویز دینے کیلئے بننے والی کمیٹی کی چیئرمین ہیں، عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث افراط زر ڈبل فگر میں پہنچ گیا ہے ،
یادرہے افراط زر جتنا بڑھے گا عام پاکستانی کی قوت خرید اتنی کم سے کم تر ہو گی اور ملک میں غربت کا سکیل بھی اوپر جائے گا ،
ادویات میں اضافہ
ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ
تفصیلات کے مطابق چند ماہ سے ادویات غریب لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں محض 5 سے 6 ماہ میں ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے چند ماہ قبل اسی گورنمنٹ کے دور حکومت میں Septran DS فی بلسٹر 10 گولی 25 روپیہ تھا جو کہ اب 55 روپیہ اسی طرح Resochin 8 روپیہ سے 25 روپیہ Coldrex 12 روپیہ سے 24 روپیہ Basoquin 14 روپیہ سے 28 روپیہ Axidox12 روپیہ سے 32 روپیہ Basqopan plus 17 روپیہ سے 40 روپیہ Flygel 12 روپیہ سے 21 روپیہ Kestine 20 mg 207 روپیہ سے 277 روپیہ Stemetil 4 روپیہ سے 9 روپیہ فی بلسٹر پیک ہو گئے ہیں لوگ حیران ہیں کہ صرف چند ماہ میں ایسا کونسا معرکہ سر ہو گیا کہ ادویات کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں درج بالا تمام ادویات فرسٹ ایڈ استعمال ہونے والی ہیں جبکہ جان بچانے والی ادویات سینکڑوں کے بجائے ہزاروں فی فیصد مہنگی ہو گئی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرگ کنٹرول اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مینجمنٹ کیا کر رہے ہیں
لوگوں نے وزیراعظم اور وزیراعلی سے استدعا کی ہے کہ آپ کے نوٹس کے باوجود بھی کمپنیوں نے اضافی واپس نہیں لیا لہذہ ان کمپنیوں کے خلاف کاروائی کرکے قیمتوں میں استحکام لایا جائے
شیل اور ایگزون موبل پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کو تیار
وفاقی وزیر برئے پاور اینڈ پیٹرولیم عمر ایوب خان سے آئل اینڈ گیس کی انٹرنیشنل کمپنیوں کے ایک وفد نے ملاقات کی اور پاکستان میں نئے ایل این جی ٹرمینل بنانے اور ملک میں توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ایل این جی فراہم کرنے کا معاہدہ طے پا گیا،
ملک میں 5 نئے ایل این جی ٹرمینلز بنائے جائیں گے ، جن کو ایل این جی فراہم کرنے کی زمہ داری ایگزون موبل اور شیل کمپنیوں کی ہو گی ، اس سے پاکستان میں گیس کے بحران سے نمٹنے میں بڑی مدد ملے گی اور پاکستان اپنے انڈسٹریل سیکٹر کو بلا تعطل گیس فراہم کرنے میں کامیاب ہو گا ،
اس وقت پاکستان میں صرف دو ایل این جی ٹرمینلز ہیں جو کہ ہورٹ قاسم پر واقع ہیں، ان کی کل گنجائش 750 ملین کیوبک فٹ ہے جس میں سے حکومت صرف 600 ملین کیوبک فٹ یومیہ کا استعمال کر پا رہی ہے اور 150 ملین کیوبک فٹ کی گنجائش کے استعمال نہ ہونے سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ، اور نئے ایل این جی ٹرمینلز کے بن جانے سے اس بڑے نقصان سے بھی بچا جا سکے گا ،
ڈالر کی قیمت میں معمولی اضافہ
ڈالر کی قیمت میں معمولی اضافہ 10 پیسے مہنگاہو گیا ، ڈالر آج 156.40 روپے میں فروخت ہورہا ہے جو کہ گزشتہ روز 156.30 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔
اسی طرح انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 156.30 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔
یاد رہے ستمبر 2018 میں ڈالر 134 اور نومبر میں 142 پر ٹریڈ کررہا تھا ۔ گزشتہ سال کے اختتام پر ڈالر 139 روپے 40 پیسے کا ہوچکا تھا
البتہ اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی جا سکتی ہے.اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس میں 344 پوائنٹس کا اضافہ
یاد رہے ستمبر 2018 میں ڈالر 134 اور نومبر میں 142 پر ٹریڈ کررہا تھا ۔ گزشتہ سال کے اختتام پر ڈالر 139 روپے 40 پیسے کا ہوچکا تھا۔
اگست کے مہینے میں روپے نے ڈالر کا خوب مقابلہ کیا اور ڈالر 157.20 روپے تک پہنچ گیا۔لیکن اب پھر یہ سلسلہ جاری ہے









