Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان،ورلڈ بینک

    پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان،ورلڈ بینک

    عالمی بینک نے پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ 2025 جاری کردی

    عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ اگلے سال معاشی ترقی بڑھ کر 3.4 فیصد تک جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اس سال غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ غربت میں کمی اور معیار زندگی میں بہتری کے لیے معاشی ترقی میں بہتری پر زور دیا گیا ہے،عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے اور اگلے مالی سال مہنگائی کم ہوکر 6.8 فیصد تک محدود رہنےکا تخمینہ ہے،رپورٹ میں مزید بتایاگیا ہےکہ پاکستان میں ہرسال 16لاکھ نوجوان روزگارکے حصول کیلئے مارکیٹ میں آرہے ہیں،رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات پر بھی زور دیا اور رپورٹ میں ریونیو میں اضافہ، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    عالمی بینک کی رپورٹ میں ایکسچینج ریٹ، سرکاری شعبے میں اصلاحات، برآمدات بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے جب کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ضروری قرار دیا گیا ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان کے برآمدی شعبے کو کئی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

  • اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرحِ سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسلسل چوتھا اجلاس ہے جس میں مرکزی بینک نے شرحِ سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اجلاس کراچی میں ہوا، جس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی مالی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے شرحِ سود 11 فیصد ہی برقرار رکھی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق، مہنگائی کی شرح میں معمولی اضافہ سیلاب کے اثرات اور سپلائی چین میں مشکلات کے باعث ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم اس اضافے کی نوعیت وقتی ہے اور آئندہ مہینوں میں قیمتوں کے استحکام کی توقع ہے۔

    یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے رواں سال 5 مئی کو شرحِ سود میں ایک فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 12 فیصد سے گھٹا کر 11 فیصد کیا تھا۔ اس کے بعد سے مرکزی بینک محتاط مالی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے تاکہ معاشی نمو کو سہارا دیا جا سکے اور مہنگائی کے دباؤ کو متوازن رکھا جائے۔ماہرینِ معیشت کے مطابق، مارکیٹ میں عمومی تاثر یہی تھا کہ اسٹیٹ بینک موجودہ معاشی غیر یقینی صورتِ حال کے پیشِ نظر شرحِ سود میں کسی بڑی تبدیلی سے گریز کرے گا۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں اگر مہنگائی کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی تو اسٹیٹ بینک اگلے اجلاس میں شرحِ سود میں کمی پر غور کر سکتا ہے۔ فی الحال مرکزی بینک کی ترجیح قیمتوں کا استحکام اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے۔

  • 25 اکتوبر سے غیر تصدیق شدہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس معطل ہونے کا امکان

    25 اکتوبر سے غیر تصدیق شدہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس معطل ہونے کا امکان

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے نئے ضوابط کے تحت وہ شہری جنہوں نے اب تک اپنے ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس یا موبائل والٹس کی بایومیٹرک تصدیق مکمل نہیں کی، 25 اکتوبر سے سروس معطلی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    یہ ضوابط جولائی میں بی پی آر ڈی سرکلر نمبر 1 آف 2025 کے ذریعے جاری کیے گئے تھے، جن کا مقصد اکاؤنٹ کھولنے اور صارفین کے اندراج کے عمل کو منظم بنانا ہے۔ ان ضوابط کا اطلاق ایس بی پی کے زیرِ انتظام تمام مالیاتی اداروں پر ہوگا، جن میں بینکس، ڈیولپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز، مائیکروفنانس بینکس، ڈیجیٹل بینکس اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز شامل ہیں۔25 جولائی کو جاری ہونے والے سرکلر کے مطابق اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صارفین کے اکاؤنٹس کے اندراج کا عمل بہتر اور مؤثر بنائیں۔ نئے قواعد کے تحت اکاؤنٹ یا والٹ ہولڈر کی بایومیٹرک تصدیق کو بنیادی تصدیقی طریقہ قرار دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل صارفین کو بایومیٹرک مکمل کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی جاتی تھی، جس کے بعد ان کے اکاؤنٹس پر ڈیبٹ بلاک لگایا جاتا تھا۔ذرائع کے مطابق، نئے ضوابط کے نفاذ کے بعد لاکھوں صارفین جنہوں نے اب تک بایومیٹرک تصدیق نہیں کرائی، اپنے اکاؤنٹس یا والٹس تک رسائی سے محروم ہو سکتے ہیں.

    خواتین ورلڈ کپ: پاکستان اور سری لنکا کا میچ بارش کی نذر

    امریکا کی تجارتی پالیسی کو کنٹرول نہیں کر سکتے، کینیڈین وزیرِ اعظم

    بھارت کا پاکستان کی سرحد کے قریب بڑی فوجی مشقوں کا اعلان

  • سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی گراوٹ ریکارڈ

    سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی گراوٹ ریکارڈ

    سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، فی تولہ سونا 7538 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 37 ہزار 362 روپے پر آگیا۔

    امریکی شرح سود میں کمی کی خبروں نے عالمی منڈی میں سونے کی قدر گرادی، انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس سونا مزید 85 ڈالر سستا ہوکر 4 ہزار 150 ڈالر ہوگیا۔صراف ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونا 7538 روپے سستا،4لاکھ 37 ہزار 362 روپے تولہ پر آگیا، دس گرام سونا بھی 6463 روپے کمی سے 3 لاکھ 74 ہزار 967 روپے کا ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 151 روپے کم ہوکر 5110 روپے پر آگئی۔

  • پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک نافذ کر دیا، جس کے تحت تجارت کے لیے شرائط کو مزید آسان اور کاروبار دوست بنا دیا گیا ہے۔

    وزارتِ تجارت نے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکنزم میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نئی ترامیم کے مطابق برآمد سے قبل لازمی درآمد کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جبکہ بیک وقت درآمد و برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق نجی اداروں کو کنسورشیم بنانے کی اجازت مل گئی ہے، بارٹر ٹریڈ کے لین دین کا دورانیہ 90 سے بڑھا کر 120 روز کر دیا گیا ہے، اور مخصوص اشیاء کی فہرست بھی ختم کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نیا فریم ورک ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈرز کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے، تاکہ بارٹر ٹریڈ کو مزید عملی اور کاروبار دوست بنایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے جون 2023ء میں ان ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ میکنزم نافذ کیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد میں کئی انتظامی و پالیسی مسائل سامنے آئے تھے۔بزنس گروپس اور اسٹیک ہولڈرز نے محدود اشیاء کی فہرست، تصدیقی شرائط اور 90 روزہ تصفیہ پابندیوں جیسے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔

    ان مسائل کے حل کے لیے وزارتِ تجارت نے اسٹیٹ بینک، وزارتِ خارجہ، ایف بی آر اور پاکستان سنگل ونڈو سمیت سرکاری و نجی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نیا فریم ورک تیارکیا.

    اسرائیل کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام حماس نے مسترد کر دیا

    سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

    سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کے انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

  • وزیر خزانہ کی دورہ امریکا کے دوران فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات

    وزیر خزانہ کی دورہ امریکا کے دوران فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو B- کے ساتھ مستحکم آؤٹ لک دینے پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دورہ امریکا کے دوران فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا،وزیر خزانہ نے تینوں بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی درجہ بندی میں ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کیا، انہوں نے فچ ٹیم کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدےسے آگاہ کیا،وزیر خزانہ نے حکومت کے نجکاری کے عمل کو تیز کرنے، مالی استحکام اور کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا جب کہ انہوں نے ٹیکس نظام، توانائی، نجکاری اور سرکاری اداروں میں کی جانے والی اصلاحات پر روشنی بھی ڈالی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و ٹیرف مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و ٹیرف مذاکرات کے بارے میں بھی بتایا،وزیر خزانہ نے فچ ٹیم کے سوالات کے جوابات دیے جس میں انہوں نے پاکستان کی معیشت میں استحکام اور اصلاحاتی عمل کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • استعمال شدہ کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس، تاجر  سراپا احتجاج، سفید پوش مشکلات کا شکار

    استعمال شدہ کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس، تاجر سراپا احتجاج، سفید پوش مشکلات کا شکار

    حکومت کی جانب سے رواں برس استعمال شدہ پرانے کپڑوں (لنڈا) کی درآمد پر 200 روپے فی کلوگرام ٹیکس عائد کیے جانے کے فیصلے نے تاجروں اور عام صارفین دونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ تاجر برادری نے اس فیصلے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سفید پوش اور غریب طبقہ بھی شدید مشکلات سے دوچار ہو گیا ہے۔

    تاجروں کے مطابق حکومت کی جانب سے عائد کردہ 200 روپے فی کلوگرام ٹیکس کے بعد استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فی عدد قیمت میں 500 سے 1500 روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس اضافے سے وہ طبقہ جو ہر سال سردیوں میں لنڈا بازاروں سے کم قیمت میں گرم کپڑے خریدتا تھا، اب ان اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کے سبب مجبور اور پریشان دکھائی دے رہا ہے۔تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد پر بھاری ڈیوٹیز کے باعث ان کا سرمایہ پھنسا ہوا ہے۔ اگرچہ اس سال لنڈے کے کپڑوں کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ ہیں، پھر بھی وہ کوشش کر رہے ہیں کہ قیمتوں کو ممکنہ حد تک کم رکھا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

    دوسری جانب، شہریوں کا کہنا ہے کہ لنڈا بازار غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے سردیوں میں کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے، لیکن موجودہ ٹیکس پالیسی سے ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

  • پاکستان اور یو اے ای، معیشت اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے پرعزم

    پاکستان اور یو اے ای، معیشت اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے پرعزم

    پاکستان اور یو اے ای، معیشت اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے پرعزم ہیں

    ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داریوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے،وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل خان کی یو اے ای کے وزیرِ تجارت سےاہم ملاقات ہوئی ہے،رانا احسان افضل خان نے یو اے ای کی کاروباری برادری کو پاکستان میں منعقد ہونے والےتیسرے فوڈ اینڈ ایگریکلچر ایگزیبیشن (فوڈ ایگ 2025) میں خصوصی شرکت کی دعوت دی،فوڈ ایگ 2025 جیسے پروگرام پاکستان کی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں کے دروازے کھولیں گے، فوڈ ایگ 2025 وزارتِ تجارت کا فلیگ شپ ایونٹ، 25 تا 27 نومبر کو منعقد ہوگا،بہتر تجارتی تعلقات سے خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا اقتصادی اعتماد مضبوط ہوگا ،ایس آئی ایف سی کے موثر اقدامات پاکستان اور خلیجی ممالک میں تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں

  • وزیر خزانہ کی واشنگٹن میں چینی نائب وزیر خزانہ سے ملاقات

    وزیر خزانہ کی واشنگٹن میں چینی نائب وزیر خزانہ سے ملاقات

    وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں چین کے نائب وزیرِ خزانہ لیاؤ مِن سے ملاقات کی۔ملاقات میں اقتصادی اصلاحات اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیرِ خزانہ نے چینی ہم منصب کو حال ہی میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے سٹاف لیول معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا۔انہوں نے سٹاف لیول ایگریمنٹ کو حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے پر عالمی اعتماد اور بیرونی توثیق قرار دیا۔وزیر خزانہ نے چینی منڈی میں پانڈا بانڈ کے اجرا ءسے متعلق تازہ پیش رفت بھی شیئر کی۔

    محمد اورنگزیب نے پاکستان کی نیو ڈیولپمنٹ بینک میں رکنیت کے لیے چین کی حمایت کی درخواست کی۔وزیر خزانہ نے آئی سی ٹی، زراعت، صنعت اور معدنیات کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے بورڈ میٹنگز کے دوران مکمل تعاون فراہم کرنے پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے دفتر کا شکریہ ادا کیا،وزیر خزانہ نے چینی نائب وزیرِ خزانہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔

    علاوہ ازیں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جے پی مورگن انویسٹمنٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی اقتصادی اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔اپنے خطاب میں وزیر خزانہ نے مالیاتی، مانیٹری اور بیرونی شعبوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے کا ذکر کیا جو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے دوسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے پہلے جائزے سے متعلق ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے ملکی معیشت میں بہتر معاشی نظم و نسق، مالیاتی و بیرونی استحکام اور مؤثر اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں مثبت رجحانات کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں سے معیشت میں استحکام آیا ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے مواقع بہتر ہوئے ہیں۔وزیر خزانہ نے سیمینار میں شریک سرمایہ کاروں کے سوالات کے جوابات بھی دیے اور ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا۔

  • یورپ میں معاشی سست روی، کمپنیوں کی بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی

    یورپ میں معاشی سست روی، کمپنیوں کی بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی

    یورپ میں سست معیشت اور امریکی محصولات کے اثرات کے باعث متعدد یورپی کمپنیوں نے رواں برس بھرتیاں منجمد کرتے ہوئے ہزاروں ملازمین فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جرمن ہوم اپلائنس کمپنی وش نے 13 ہزار، ڈائملر نے 7 ہزار، جبکہ فرانسیسی کمپنی رینالٹ نے 3 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ووکس ویگن، اسٹیلانٹس اور والو کارز بھی بڑی کٹوتیوں کی تیاری کر رہی ہیں۔جرمن بینک کومرز 3,900 نوکریاں، برطانوی لائیڈز بینک نصف عملہ، اور آسٹریا کی او ایم وی دو ہزار عہدے ختم کرے گی۔

    فرانسیسی کمپنی ایس ٹی مائیکرو الیکٹرانکس اگلے تین برسوں میں 5 ہزار ملازمین فارغ کرے گی۔بر بری نے 1,700 اور نیسلے نے 16 ہزار ملازمتوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔کمپنیاں اخراجات کم کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے یہ اقدامات کر رہی ہیں.