Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان نے 500 ملین ڈالر   یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی

    پاکستان نے 500 ملین ڈالر یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی

    پاکستان نے 500 ملین ڈالر یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی۔

    مشیرخزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ 2015 میں جاری کردہ 10 سالہ یوروبانڈ 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا جس کے بعد پاکستان نے 500 ملین ڈالر یوروبانڈ کی بروقت ادائیگی کردی، قرضوں کی بروقت ادائیگی پاکستان کے مالی نظم و ضبط کا ثبوت ہے، لیکویڈیٹی میں بہتری آئی ہے، عالمی اداروں نے پاکستان کی خودمختار ریٹنگ میں بہتری کی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، بانڈز پریمیئم پر ٹریڈ ہو رہے ہیں، قرض کا جی ڈی پی تناسب 77 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد پر آگیا، کُل سرکاری قرض میں بیرونی قرض کا حصہ 38 سے کم ہو کر 32 فیصد رہ گیا ہے مالی سال 2025 میں قرض کے بڑھنے کی رفتار نمایاں طور پر کم رہی، عالمی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں کمی سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

  • ایل پی جی کی قیمت میں کمی، گھریلو سلنڈر  سستا

    ایل پی جی کی قیمت میں کمی، گھریلو سلنڈر سستا

    لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی فی کلو قیمت میں 6 روپے 71 پیسے کمی کا اعلان کر دیا گیا۔

    فیصلے کے مطابق یکم اکتوبر سے 11.8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 79 روپے 14 پیسے سستا ہوگیا ہے۔اوگرا نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم اکتوبر سے ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2 ہزار 448 روپے 33 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

    یوں فی کلو نئی قیمت 207 روپے 48 پیسے ہوگی، جبکہ ستمبر میں گھریلو سلنڈر کی قیمت 2 ہزار 527 روپے 47 پیسے تھی

    کراچی میں بارش،علاقے زیرآب، فلائٹ آپریشن متاثر

    لندن میں کرپٹو کرنسی اسکینڈل، 5 ارب پاؤنڈ مالیت کے بٹ کوائن ضبط

    خواجہ سعد رفیق کا ٹرمپ منصوبے پر سخت ردِعمل،یکطرفہ اور ناقابلِ عمل قرار

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی صدر نے اہم شخصیت قرار دے دیا

  • 2026 میں پاکستان میں مہنگائی 6 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    2026 میں پاکستان میں مہنگائی 6 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایشیائی ترقیاتی آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی معیشت درمیانی مدت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، مالی سال 2026 میں جی ڈی پی گروتھ 3 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ پالیسی ریفارمز اور استحکام سے معیشت میں بہتری جاری رہے گی، 2026 میں مہنگائی 6 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے، گیس ٹیرف میں اضافے سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوگا جب کہ مرکزی بینک مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے محتاط مانیٹری پالیسی اپنائے گا،آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان میں معاشی اصلاحات میں پیشرفت ہوئی، پاکستان کی ترقی کے امکانات مثبت لیکن ڈھانچہ جاتی چیلنجز برقرار ہیں جب کہ تعمیراتی شعبے کے لیے بجٹ میں دی گئی مراعات جزوی طور پر نقصانات کم کریں گی،بار بار آنے والی قدرتی آفات اور حالیہ سیلاب ترقی کیلئے خطرہ ہیں، سیلاب سے انفرا اسٹرکچر اور زرعی اراضی کو نقصان، شرح نمو پر دباؤ ڈالے گا جب کہ سیلاب سے سپلائی چین متاثر اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصلاحات اور پالیسی عملدرآمد سے معیشتی رفتار اور اعتماد برقرار رکھا جا سکتا ہے، مالی سال 2026 میں امریکا پاکستان تجارتی معاہدے سے کاروباری اعتماد بحال ہونے کا امکان ہے جب کہ بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔

  • میٹا کی برطانیہ میں  اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف

    میٹا کی برطانیہ میں اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف

    ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں برطانیہ میں فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف کرا رہی ہے۔

    کمپنی کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت صارفین کے پاس دو آپشن ہوں گے: یا تو وہ ماہانہ فیس ادا کرکے بغیر اشتہارات کے سروس استعمال کریں یا پھر مفت پلیٹ فارمز استعمال کرتے رہیں جن میں ٹارگٹڈ اشتہارات دکھائے جائیں گے۔میٹا نے بتایا کہ سبسکرپشن فیس ویب ورژن کے لیے تقریباً 3 پاؤنڈ اور آئی او ایس و اینڈرائیڈ پر 3.99 پاؤنڈ ماہانہ ہوگی۔ یہ ماڈل یورپی یونین میں متعارف کرائے گئے سبسکرپشن جیسا ہے، جو ڈیٹا پرائیویسی قوانین کی تعمیل کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اشتہارات سے پاک سروسز صارفین کو اپنے آن لائن تجربے پر زیادہ کنٹرول فراہم کریں گی، جبکہ مفت سروسز کو اشتہارات کے ذریعے چلانے کا نظام بھی برقرار رہے گا۔ ادائیگی کرنے والے صارفین کو اشتہارات نہیں دکھائے جائیں گے اور ان کا ذاتی ڈیٹا اشتہارات کے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی ریگولیٹرز کی بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے بعد یہ ماڈل مستقبل میں دیگر ممالک میں بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس: اراکین بانی سے شکایات پر آمنے سامنے آگئے

    ٹرمپ کا غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    بانی پی ٹی آئی کی بدتمیزی،رپورٹرز کا قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کا اعلان

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا ایران پر پابندیوں کے بعد سفارتی رابطے رکھنے کا اعلان

  • انکم ٹیکس ریٹرن کی تاریخ میں توسیع سے ایف بی آر کا انکار

    انکم ٹیکس ریٹرن کی تاریخ میں توسیع سے ایف بی آر کا انکار

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سال 2025 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کسی بھی قسم کی توسیع کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ٹیکس دہندگان کو 30 ستمبر 2025 تک ہر صورت میں ریٹرن فائل کرنا ہوں گے، ورنہ انہیں قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایف بی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تاریخ میں توسیع کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ ٹیکس دہندگان کے پاس ریٹرن جمع کرانے کے لیے پہلے ہی کافی وقت موجود رہا ہے، اس لیے مزید مہلت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔بعض حلقے ریٹرن فائلنگ کی تاریخ کو حالیہ سیلاب سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو درست نہیں کیونکہ زیادہ تر ٹیکس دہندگان ان آفات سے متاثر نہیں ہوئے۔ ایف بی آر نے اس تاثر کو بھی رد کر دیا کہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا آن لائن نظام (آئی آر آئی ایس) سست روی کا شکار ہے۔ ادارے کے مطابق یہ پلیٹ فارم مکمل طور پر فعال ہے اور ریٹرن فائل کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے۔

    ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو سختی سے متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے مقررہ تاریخ تک ریٹرن جمع نہ کرایا تو انہیں جرمانے اور دیگر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • ایک لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے لیے ایک اور ٹینڈر جاری

    ایک لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے لیے ایک اور ٹینڈر جاری

    ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے ایک لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے لیے ایک اور ٹینڈر جاری کردیا۔

    حکومت نے چینی سرکاری سطح پر ٹی سی پی کے ذریعےدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وفاقی حکومت نےچینی کی درآمد پر ٹیکسز سے استثنیٰ دے رکھا ہے،ٹی سی پی کی جانب سے ایک لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے لیے 6 اکتوبر تک بولیاں طلب کی گئی ہیں،دستاویز کے مطابق بولیاں 6 اکتوبر کو ہی کھولی جائیں گی اور چینی کی درآمد کے لیے25ہزارٹن سے کم کی بولی منظور نہیں کی جائے گی۔

    دوسری جانب پاکستان شوگر ملزایسوسی ایشن چینی درآمد کرنےکی مخالفت کرچکی ہے اور ایسوسی ایشن کا کہنا ہےکہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے لہٰذا درآمد کی ضرورت نہیں،خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے اس سال جولائی میں 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی تھی جس کے تحت ٹی سی پی نے ایک لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا ٹینڈر 23 ستمبر کو کھولا تھا اور سابقہ ٹینڈر کے تحت 4بولیاں موصول ہوئی تھیں۔

  • آئی ایم ایف وفد کا وزارتِ خزانہ میں اجلاس، مذاکرات پانچویں روز میں داخل

    آئی ایم ایف وفد کا وزارتِ خزانہ میں اجلاس، مذاکرات پانچویں روز میں داخل

    اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا اعلیٰ سطحی وفد آج وزارتِ خزانہ پہنچ گیا، جہاں پاکستان کے ساتھ دوسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں۔ یہ مذاکرات اپنے پانچویں روز میں داخل ہوچکے ہیں۔

    ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد وزیر خزانہ اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کرے گا۔ اس دوران وزیر خزانہ وفد کو پاکستان کے میکرو اکنامک اہداف، مجموعی معاشی کارکردگی اور مالیاتی حکمتِ عملی سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس میں ٹیکس محاصل اور مالیاتی شعبے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری کے بارے میں آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کرے گا۔ اسی سلسلے میں صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان ملاقات بھی شیڈول ہے۔ ان ملاقاتوں میں صوبائی حکومتوں کی معاشی کارکردگی، بجٹ سرپلس، زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی اور دیگر مالیاتی امور پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

    مزید برآں، صوبائی نمائندے آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات میں متعلقہ مالیاتی و اقتصادی ڈیٹا بھی شیئر کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام ٹیکس ریونیو کی موجودہ صورتِ حال اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکس ریونیو میں ممکنہ کمی اور اس کے حل کے لیے تیار کردہ تجاویز پر بھی گفتگو ہوگی تاکہ آئی ایم ایف کو پاکستان کی پالیسی اقدامات پر اعتماد میں لیا جاسکے۔

  • ایشیائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

    ایشیائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

    ایشیائی مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ فیوچرز 26 سینٹ (0.4 فیصد) کم ہوکر 69.05 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ فیوچرز 27 سینٹ (0.4 فیصد) کمی کے ساتھ 64.72 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز دونوں بینچ مارکس میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا تھا، جو یکم اگست کے بعد سب سے بلند سطح تھی۔ یہ اضافہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع کمی اور یوکرین کی جانب سے روسی توانائی ڈھانچے پر حملوں کے خدشات کے باعث سامنے آیا تھا، جس سے سپلائی میں خلل کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

    فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ اینالسٹ پرینکا ساچدیوا کے مطابق رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں موسمی طلب میں کمی اور اوپیک پلس کی بڑھتی ہوئی سپلائی دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ بنیادی عوامل کی وجہ سے نہیں بلکہ خدشات کی بنیاد پر ہوا، برینٹ کی قیمتیں معمولی کمی کے ساتھ مستحکم رہ سکتی ہیں۔

    ایشیا کپ 2025: بھارتی کپتان کو سیاسی بیان بازی سے روک دیا گیا

    ایف آئی اے میں تنظیمِ نو، آپریشنل ڈھانچہ 3 ریجن میں تقسیم، 2 نئے زون قائم

    اسرائیل کے صنعا پر فضائی حملے، 70 اسکوائر اور باب الیمن میں 13 مقامات نشانہ

    ٹرمپ کی نوبیل امن انعام کی خواہش پھر ادھوری، ماہرین نے امکان مسترد کر دیا

  • پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی منظوری

    پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی منظوری

    پاکستان کی اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز کمیٹی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے ایک اہم اور متنازعہ فیصلے میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی منظوری دے دی ہے، جس پر ملک کی آٹو انڈسٹری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے "تباہ کن” قرار دیا ہے۔

    یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک آن لائن اجلاس میں کیا گیا، جو اس وقت نیویارک میں موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر صرف پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، تاہم 30 جون 2026 کے بعد اس عمر کی حد کو ختم کر دیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے دوسرے جائزے کے لیے ملک کا دورہ کرنے والا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان سے تجارتی پابندیاں نرم کرنے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ای سی سی نے "کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد” کے لیے 2022 کے امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔یہ اجازت ماحولیاتی تحفظ اور حفاظتی معیار کی سخت پابندیوں سے مشروط ہوگی۔پانچ سال سے کم عمر گاڑیوں کی درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔یہ ریگولیٹری ڈیوٹی جون 2026 تک برقرار رہے گی اور اس کے بعد ہر سال 10 فیصد کی کمی کی جائے گی، یہاں تک کہ مالی سال 2029-30 میں یہ صفر ہو جائے گی۔

    پاکستان کی مقامی آٹو صنعت جن میں ٹويوٹا، ہونڈا، سوزوکی، ہنڈائی، کیا موٹرز، اور چانگان شامل ہیں نے اس فیصلے کو صنعت دشمن قرار دیا ہے۔پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا “یہ درآمدی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ 40 فیصد اضافی ٹیرف کے باوجود، یہ فیصلہ مارکیٹ کو استعمال شدہ گاڑیوں سے بھر دے گا اور مقامی مینوفیکچرنگ کو تباہ کر دے گا۔” ملک میں ڈالر کی قلت اور انوینٹری کے مسائل کے باعث گزشتہ چند سال مقامی کار ساز اداروں کے لیے انتہائی مشکل رہے۔ 2022 میں 226,433 یونٹس کی پیداوار کے مقابلے میں 2025 میں پیداوار 51 فیصد کم ہو کر 111,402 یونٹس پر آ گئی ہے۔

    پاکستان آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAAPAM) نے بھی اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے “یہ فیصلہ ایک ایسی انڈسٹری پر تباہ کن اثر ڈالے گا جو 3 لاکھ افراد کو براہ راست اور 18 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو بلا واسطہ روزگار فراہم کر رہی ہے،” ، ملک میں 1,200 سے زائد کمپنیاں اسٹیل، پلاسٹک، ربڑ، تانبا، ایلومینیم اور دیگر پرزے بناتی ہیں جو 13 مقامی کار اسمبلرز کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ فیصلہ الیکٹرک گاڑیوں کی لوکل اسمبلی اور سرمایہ کاری کے عمل کو بھی نقصان پہنچائے گا۔”

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شنکر تلریجا کا کہنا ہے “فی الوقت کم قیمت یا ہیچ بیک گاڑیاں زیادہ درآمد ہو رہی ہیں، لیکن اب یہ تعداد بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر جب ریگولیٹری ڈیوٹی ہر سال کم ہوتی جائے گی۔”انہوں نے خبردار کیا کہ “پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جو کہ گزشتہ ہفتے 14 ارب ڈالر تھے، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔”تاہم، وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ “چونکہ حکومت نے کچھ غیر ٹیرف رکاوٹیں اور معیار قائم کیے ہیں، اس سے کچھ حد تک مقامی انڈسٹری کو ریلیف مل سکتا ہے۔”لیکن عبدالوحید خان کا کہنا ہے کہ “ایک گاڑی کی درآمد کا مطلب ہے ایک گاڑی کی مقامی سطح پر پیداوار کا نقصان۔ یہ براہ راست مقابلہ ہے۔”

    استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کا یہ فیصلہ بظاہر آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مقامی کار سازی اور پارٹس انڈسٹری کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔صارفین کو قلیل مدتی فائدہ، لیکن طویل المدتی نقصان ہو سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں کیا حفاظتی اقدامات کرتی ہے تاکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہوں اور دوسری طرف ملک کی صنعت، روزگار، اور معیشت کو بچایا جا سکے۔

  • انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ سے قبل فارم میں تبدیلی

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ سے قبل فارم میں تبدیلی

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ ختم ہونے سے چند روز قبل ٹیکس فارم میں تبدیلی کر دی گئی۔

    ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر بتائی گئی ہے تاہم ڈیڈ لائن سے چند روز قبل انکم ٹیکس فارم میں ایک کالم کا اضافہ کر دیا گیا ہے،ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے آئرس فارم میں تبدیلی کی گئی ہے اور ایف بی آر نے گوشواروں میں اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ سے چند روز قبل ٹیکس فارم میں تبدیلی سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے صارفین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن سے چند روز قبل اس طرح کی اہم تبدیلی ناقابل فہم اور باعث تشویش ہے۔