Baaghi TV

Category: کاروبار

  • ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    چلی میں ڈالر 680 پیسو کا
    کولمبیا میں 3198 پیسو کا
    ہنگری میں 284 فارنٹ کا
    آئس لینڈ میں 124 کرونا کا
    انڈیا میں 69 روپے کا
    انڈونیشیا میں 14139 روپیہ کا
    ایران میں 42086 ریال کا
    جاپان میں 107 ین کا
    قازقستان میں 379 ٹینگے کا
    نیپال میں 110 روپے کا
    روس میں 63 ربل کا
    جنوبی کوریا میں 1158 وان کا
    سری لنکا میں 176 روپے کا
    وغیرہ وغیرہ
    اب ذرا ان میں سے چلی، ہنگری، جاپان، روس، آئس لینڈ اور جنوبی کوریا پہ نظر ڈالیں
    یہ سب کے سب ہم سے کوئی 40, 50 سال آگے ہیں
    یہی نہیں بلکہ ہم سے تو انڈونیشیا، انڈیا اور قازقستان بهی آگے ہیں
    ہائیں؟ کیسے؟
    ڈالر اتنا مہنگا ان کے ہاں اور یہ ترقی بهی کر گئے؟چلیں چلی پہلے سامنے آگیا تو پہلے اسی کی ہی مثال لے لیں ۔ چلی میں ایک امریکی ڈالر 680 پیسو کا ہے یعنی ہم سے تقریبا 400% کم ویلیو کا لیکن اسکے باوجود بھی چلی لاطینی امریکہ کا سب سے مستحکم معیشت رکھنے والا خوشحال ملک ہے ۔ چلی کو 2006 میں OECD (آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ) کا رکن بھی بنا لیا گیا ۔ چلی میں گو کہ inequality ہے لیکن پھر بھی غربت کی لکیر سے نیچے گذر بسر کرنے والے لوگوں کا تناسب صرف پونے تین فیصد ہے ۔

    بات یہ ہے کہ کرنسی کا گرنا یا ایک ایک ڈالر کے بدلے میں جھولیاں بھر بھر کر مقامی کرنسی کا مل جانا ہی معیشت کی کمزوری یا ترقی کا واحد پیمانہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی ایکسچینچ ریٹ تو کبھی بھی معاشی کارکردگی یا معاشی ترقی کا ثبوت نہیں ہوتے ۔ دنیا ہنسے گی اگر آپ نے ایسی کوئی مثال بھی دی ۔ مثلا اس وقت ایک امریکی ڈالر 163 پاکستانی روپے کا ہے اور ایک کویتی دینار 537 روپے کا ہے تو کیا پھر کویتی دینار امریکی ڈالر سے بھی مضبوط کرنسی بن گیا یا کویت کی معیشت امریکہ سے تین سو فیصد بڑی گئی کیونکہ اس لحاظ سے تو ایک کویتی دینار ایک امریکی ڈالر کے تین گنا سے بھی زیادہ ہے ۔ لیکن کویتی دینار کے امریکی ڈالر سے مہنگا ہونے کا بھی یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کویت کی اکانومی ایک مضبوط اکانومی ہے ۔ ملکوں کی معیشت ڈالر کے ایکسچینج ریٹس سے نہیں بلکہ برآمدات ، فارن ریزرو ، قومی پیدوار اور بچتوں میں اضافے سے ہوتی ہے ورنہ تو GDP تو چلی کا بھی 300 اب ڈالرز ہے جبکہ پاکستان کا 330-340 ارب ڈالرز ۔ اب پاکستان کی پتلی حالت بھی سامنے ہے اور چلی کی خوشحالی بھی ۔

    چلی میں چلی کے لوگوں کو ایک ڈالر 680 peso میں مل رہا ہے یعنی ہمارے ملک کے دانشوڑوں کے لحاظ سے تو اندھیر ہی مچ گئ لیکن چلی میں کرنسی کی قدر کو کم رکھنے کا ٹرینڈ تو پچھلے کئی سالوں سے ہے اور ہر ایکسپورٹ اورینٹڈ اکانومی والے ملک کا یہی طریقہ ہونا بھی چاہئیے ۔ دس سال پہلے 2009 میں چلی کا پیسو 550 کے قریب تھا اب 2019 میں 680 کے قریب ہے اور مزے کی بات یہ کہ اتنی ڈی ویلیو کرنسی کے باوجود چلی کی معیشت "مضبوط معیشت” ہے کیونکہ چلی کی” آمدنی "اسکے "اخراجات” سے زیادہ ہے ۔ یا یوں کہئیے کہ اس نے اپنے اخراجات اپنی کمائی سے کم رکھے ہیں ۔ یعنی ایکسپورٹ زیادہ اور امپورٹ کم لہذا بیلنس آف ٹریڈ بھی پوزیٹو ہے ۔ 2017 میں چلی کی ایکسپورٹ 23۔69 ارب ڈالرز رہیں تھیں (جس میں سے تیس ارب ڈالرز کی تو صرف کاپر کی ایکسپورٹ ہے چین اور امریکہ کو) اور امپورٹس 31۔61 ارب ڈالرز ۔ یعنی آمدنی ذیادہ خرچہ کم باقی کی رقم منافع اور سیونگ ۔ چلی میں ملکی ڈپازٹس کا 20 فیصد قومی بچت سے آتا ہے ۔ یعنی کل ملا ایک ڈالر میں 635 پیسو دینے والے چلی کے فارن ریزرو میں تو اس 39-40 ارب ڈالرز پڑے ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں سے اسحاق ڈالر کے ڈالر کو 100 کے آس پاس رکھنے والے پاکستان کے پاس 10 ارب ڈالرز کے فارن ریزرو بھی بمشکل جمع ہو پاتے ہیں۔ ایک ڈالر کے 680 پیسو دینے والے چلی کی تو ورلڈ بینک کے ڈوئنگ بزنس انڈیکس میں رینکنگ 48 ہے اور 100 پر ڈالر کو "پھڑیئے "رکھنے والا پاکستان 158 نمبر پے ۔ 2017 میں چلی میں بیرونی سرمایہ کاری یعنی فارن ڈائریکٹ انویسٹمینٹ FDI , 206 ارب ڈالرز کی ہوئی اور ادھر پاکستان میں بمشکل سوا 3 ارب ڈالرز ۔

    پاکستان اور چلی میں فرق صرف یہ ہے چلی میں وہ دانشوڑ طبقہ نہیں ہے جن کے 45 گروتھ والے دماغوں کو انکے پے ماسٹرز نے صرف ڈالر کا ریٹ اور اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس پڑھنا ہی سکھایا یے ۔ جسکی وجہ سے قوم کے سامنے صحیح معاشی صورتحال آ ہی نہیں پاتی ۔ حالانکہ ذرا سی بھی معاشی سمجھ بوجھ رکھنے والا معیشت دان پانچ سال سے 24 ارب ڈالرز کے آس پاس کھڑی ایکسپورٹ اور پہاڑ کی طرح بڑھتے ہوئے امپورٹ بل کو دیکھ کر سہمے جا رہا تھا اور روپیہ ڈی ویلیو کرنے کے لئیے پچھلے تین چار سالوں سے ہر بڑا معیشت دان چیخ چیخ کر ہلکان ہوئے جارہا تھا کہ آنے والوں دنوں میں بیلنس آف پیمنٹ کا گیپ اتنا بڑھ جائگا کہ بھیک تک مانگنا پڑ جائیگی لیکن اسحاق ڈار نے اکنامک ہٹ مین کا کردار ادا کرتے ہوئے وہی کیا جو ایک دشمن کر سکتا تھا ۔ پانچ سالہ دور اقدار میں لئیے گئے 41 ارب ڈالرز کے قرضے میں سے 7 ارب ڈالرز کی بڑی رقم ڈالر کی قمیت کو 100 پر "پھڑیے” رکھنے میں جھونک دی ۔ جسکا زیادہ فائدہ امپورٹرز کو ہوا اور اس فائدے سے کئی گنا زیادہ نقصان ایکسپورٹرز کو ہوتا رہا ۔ جس ڈالر کے روکے رکھنے کو ن لیگ کی اقتصادی شہہ دماغوں کی قابلیت باور کرایا جاتا رہا ہے وہ تو پورا پلان تھا پاکستان کی معیشت کو بیلنس آف پیمنٹ اور قرضوں کے پہاڑ کے نیچے دبا کر جانے کا تاکہ آنے والی حکومت قرضوں کی قسطیں بھر بھر کے اور معیشت کے جسم کو لگے گھاو کو بھرتے بھرتے خود ہی گھائل ہو کر منہ کے بل گر جائے ۔ اور یہ صرف معیشت کا ہی گرنا نہ ہوتا ملکی سلامتی اور سیکیورٹی بھی منہ کے بل گر چکی ہوتی ۔

    اسحاق ڈالر کا ڈالر کو 100 روپے پر روکے رکھنا پاکستان کو 35 ارب ڈالرز کے تجارتی خسارے کا مریض بنا گیا گیا ۔ ایکسپورٹ تو پانچ سال تک 24 ارب ڈالرز پر ہی رہی رہیں لیکن ڈالر سستا رکھنے سے امپورٹس کا جو بل ن لیگ کی حکومت کے آغاز میں تقریبا 35 ارب ڈالرز سالانہ تھا وہ 56 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ ایکسپورٹ 24 ارب ڈالرز پر ہی کھڑی رہیں ۔ اب ظاہر ہے آپ کے گھر والے کما تو وہی 24-25 روپے رہے ہوں لیکن اللے تللوں اور خریداریوں میں 55-56 روپے لگا رہے ہوں تو باقی کا پیسہ یا تو بھیک سے آئیگا یا قرضوں اور گھر کا سامان گروی رکھنے سے ۔ اور یہی ہوا ۔ پچھلے پانچ سالوں ملکی ادارے سستے قرضوں کے بدلے گروی رکھے جاتے رہے، مارکیٹ اور آئی ایم ایف سے قرضے لیکر امپورٹ بل بھرے جاتے رہے اور ڈالر کو” پھڑیے” رکھنے میں جھونکے جاتے رہے ۔ اسکا نتیجہ یہ ہے عمران خان کی حکومت کو آنے سے پہلے ہی اسحاق ڈار کی ڈارنامکس کا بوجھ ڈھونا پڑ گیا ۔ قرضہ لیا پچھلوں نے ، لیکن حکومت میں آتے ہی اس سال میں اس حکومت کو 7۔9 ارب ڈالرز کا پچھلوں کا یعنی ن لیگ کا لیا ہوا قرضہ اتارنا پڑا ۔ جی ہاں 7۔9 ارب ڈالرز کا ۔ اور کان کھول کر یہ بھی سن لیں کہ اگلے دو سالوں میں 27 ارب ڈالرز کا قرضہ مذید میچیور ہو جائگا ۔ یعنی پاکستان کو اگلے دو سالوں میں صرف اور صرف afloat رہنے یعنی اپنی معاشی بقا کے لئیے 50-55 ارب ڈالرز کی ضرورت ہوگی تاکہ 27 ارب ڈالرز کے قرضے دے سکے وہ جو ن لیگ اور زرداری دور میں لئیے گئے ۔ اب ننگا نہائے گا اور نچوڑے گا کیا ؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنی اکنامک لٹریسی بڑھانی ہوگی ۔ 45 فیصد والے دانشوڑوں کو چھوڑیں انہیں سمجھ نہیں آنی لیکن پاکستانی قوم کو سمجھنا ہوگا کہ کسی ملک کی ترقی یا بدحالی کا دارومدار ڈالر یا کسی بهی بیرونی کرنسی پہ نہیں ہوتا یہ وہاں کی معیشت اور ملک کے اندر موجود حالات کے ساتھ ساتھ درآمدات اور برآمدات پہ ہوتا ہے ۔ آپ کی برآمدات اگر درآمدات سے زیادہ ہوں آپ کے ملک پہ بے تحاشا قرضے نہ ہوں اور ہیومن ریسورسز پوری طرح سے جدید بنیادوں پہ استوار کی گئی ہوں تعلیم کی ریشو کم سے کم 80 فیصد ہو تو پهر ڈالر چاہے ایک ہزار روپے کا ہو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان میں نا تعلیم ہے معیشت کا کباڑا ہو چکا ہے قرضوں کی بهرمار ہے اس لیے مہنگائی ہے تنخواہیں کم ہیں تو تهوڑا زیادہ محسوس ہو رہا ہے اور رہی سہی کسر واویلے نے پوری کر دی ہے اس لیے زیادہ ہی ہائے ہائے ہو رہی ہے ۔ اور دوسری بات یہ کہ نظام انصاف اور کرپشن کی جڑ کاٹے بغیر inclusive growth کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔

    جنوبی کوریا پاکستان کے ایک صوبے جتنا ہے وہی جنوبی کوریا جہاں کی سامسنگ کمپنی کا موبائل لے کر خوشی سے پهٹنے والے ہو جاتے ہو اسی ملک کی کرنسی ہم سے بهی پیچهے ہے مگر ان کے ہاں قانون اور انصاف کا راج ہے وہاں کوئی بهی جا کر کرپشن میں پهنسے بندے کی حمایت نہیں کرتا بلکہ وہاں کرپٹ افراد سے ان کے اپنے خاندان والے بهی تعلقات ختم کر لیتے ہیں دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آج تک گرفتار کیے جانے والے تمام کرپٹ افراد میں سے 90 فیصد نے خودکشی کر لی کیوں کہ عوام ان پہ تهوکتی پهرتی تهی رہائی کے بعد بهی ۔

    دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کو قتل سے بھی بڑ جرم سمجھا جاتا ہے اور قتل کی سزاوں سے بھی سخت سزائیں منی لانڈرنگ اور کرپشن کی ہیں ۔ کیونکہ ایک شخص کو قتل کرکے تو ایک شخص یا زیادہ سے زیادہ اسکے خاندان کو نقصان پہنچتا ہے لیکن منی لانڈرنگ تو ملک کی معیشت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا بہیمانہ اور شرمناک جرم تصور کیا جاتاہے کیونکہ منی لانڈرنگ سے خاندانوں کے خاندان متاثر ہوتے ہیں غربت کی لکیر سے نیچے جا گرپڑتے ہیں ۔ اور یہی ہمارے ملک کے ساتھ ہوا ۔ سندھ اور پنجاب پر حکمران خاندانوں کی سربراہی میں باقاعدہ بینک بنا کر منی لانڈرنگ کے دھندے کئیے گئے ۔ اب جب منی لانڈرنگ کی جڑ کاٹی جارہی ہے تو پاکستان کے دانشوڑوں کو معیشت کی بحالی کے حقیقی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ۔ FBR کا 5 کروڑ 30 لاکھ افراد کا ڈیٹا منظر عام پر لانا ، FBR کا Chinese ٹیکس سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹ کیئے جانا ، NAB کا چائنا کا ساتھ کرپشن مکاو MOU سائن کرنا اور 40 ہزار کے پرائز بانڈ کا سلسلہ روکنا ، یہ اور اس جیسے کئی اقدامات ایسے ہیں جو صرف اور صرف اسی دور میں اٹھائے جارہے ہیں ۔ صرف 40 ہزار والے پرائز بانڈ کو دیکھیں تو اس کھیل کی ڈائنامکس سمجھ کر ہوش اڑ جائیں ۔ اس وقت ملک میں تقریبا نو سو ارب یعنی 6 بلین ڈالرز کے پرائز بانڈ سرکولیشن میں ھیں۔۔6 ارب ڈالر ، یہ اتنا ہی جتنا ہم نے IMF سے قرضہ لیا ہے ۔کہا جاتا ھے، یہ پرائز بانڈز ملک میں سب سے زیادہ کرپشن کو فروغ دیتے تھے، کیونکہ ایک تو ان کا سائز یعنی چالیس ھزار کے بونڈ کی سو کی گڈی چالیس لاکھ بنتی ھے ۔۔اور یہ آسانی سے ایک ھاتھ سے دوسرے ھاتھ میں منتقل ھوجاتے ھیں۔۔۔اور کسی کو پتہ نہی چلتا ۔۔ یہ پرائز بانڈز کئ دھائیوں سے ملک میں کالا دھن کا بہترین اور آسان زریعہ بنا ھوا تھا جس کو کسی حکومت نے روکنے کو کوشش نہی کی۔اب جب ان بانڈز کے اجراع کو بند کیا جارھا ھے تو جن جن حضرات کے پاس یہ سارے ہرائز بانڈز موجود ھیں ان کو بینک جاکر روپے میں تبدیل کروانا پڑے گا، جہاں ان کو اس انکم کا حساب دینا پڑے گا کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا اور اس کا ٹیکس دیا تھا یا نہی۔۔۔

    دانشوڑوں سے درخواست ہے کہیہ ڈالر کی اونچی اڑان والا واویلا بند کریں ۔ ہم 22 کروڑ میں سے تقریباً 98 فیصد نے تو ڈالر کو ہاتھ میں پکڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔ جب کہ دانشوڑوں کا گریہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جیسے روزانہ ڈالر ہی کهاتے ہیں اور مہنگے ہونے کی وجہ سے یہ سارے دانشوڑ بهوکے مر جائیں گے۔ قسمے اگر جہالت پہ اگر کوئی انعام ہوتا یا سینگ لگتے تو ہمارے پاکستانی دانشوڑ بارہ سنگھے ضرور ہوتے ۔

  • سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں تبدیلی، سیمنٹ و شوگر ڈیلر نے کام کیا بند

    سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں تبدیلی، سیمنٹ و شوگر ڈیلر نے کام کیا بند

    وفاقی حکومت کے فیصلوں کے خلاف فیصل آباد میں تاجروں نے ہڑتال کر دی، فیصل آباد میں تمام فیکٹریوں نے کام روک دیا، جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے.

    یکم جولائی سے ہو گی ملک بھر میں سیمنٹ کی قلت،اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں تبدیلی پر تاجروں نے فیصل آباد میں مکمل ہڑتال کر دی ہے . ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملوں کی تالہ بندی کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں.

    سیمنٹ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے یکم جولائی سے ہڑتال کا اعلان کیا تھا، اور کہا تھا کہ فیکتریوں سے سیمنٹ نہیں اٹھائیں گے. شوگر ڈیلرز نے سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں تبدیلی پر آج سے ملوں سے چینی نہ لینے کا اعلان کر دیا، ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسیی ایشن نے بھی یکم جولائی سے کام روک دیا ہے.

    شوگر و سیمنٹ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہول سیل ڈیلرز کو شناختی کارڈ پر فروخت کا فیصلہ واپس لیا جائے .

    اگر حکومت نے تاجروں کی بات نہ مانی تو آئندہ چند دنوں میں ملک میں چینی اور سیمنٹ کے بحران کا خدشہ ہے، پروسیسنگ یونٹس بند ہونے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کا کام رک جائے گا۔

    سیکرٹری اپٹپما محمد اشرف کا کہنا ہے کہ نئے سیلز ٹیکس کی وجہ سے پارٹیوں نے پروسیسنگ کے آرڈرز روک دئیے ہیں، نان رجسٹرڈ کو 20 فیصد ٹیکس اور شناختی کارڈ نمبر مہیا کرنا ہوگا، ہزاروں لوکل خریدار رجسٹرڈ نہیں اور نہ ہی ہونا چاہتے ہیں، پروسیسنگ کے آرڈر رکنے سے نوبت فیکڑیوں کی بندش تک آ گئی ہے۔پروسیسنگ ملز کی بندش سے ہزاروں مزدور بے روز گار ہوجائیں گے، وزیراعظم عمران خان سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

     

    واضح رہے کہ بجٹ میں سیمنٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کے اثرات سامنے آنے لگے، ملک بھر میں سیمنٹ کی فی بوری 80 روپے تک مہنگی ہو گئی ہے، کراچی میں سیمنٹ کی بوری 10 روپے اضافے سے 635 روپے، حیدر آباد میں 30 روپے اضافے سے 660 روپے، پشاور میں 15 روپے اضافے سے 535 روپے، اسلام آباد میں 30 روپے 550 روپے، ملتان میں 60 روپے اضافے سے 540 روپے، سیالکوٹ میں 40 روپے اضافے سے 550 روپے اور بہاولپور میں 80 روپے اضافے سے 580 روپے میں سیمنٹ کی بوری فروخت ہو رہی ہے۔

    سیمنٹ مہنگی ہونے سے گھروں ودیگر تعمیرات کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے.

  • ساہیوال:کڑا احتساب شروع ہوگیا

    ساہیوال:کڑا احتساب شروع ہوگیا

    ساہیوال(نمائندہ باغی ٹی وی)سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کا الزام،میونسپل کارپوریشن کے ملازمین سمیت معروف شادی ہال کے مالک اور پروپرائٹر کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج،
    تفصیلات کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن نے ساہیوال کی مشہور کاروباری شخصیت رانا اکرام اور محمد اشرف سمیت میونسپل کارپوریشن کے تین ملازمین چیف آفیسر آغا ہمایوں،محمد رفیق سپرنٹنڈنٹ بلڈنگ(سابقہ) اور آصف جاوید بلڈنگ انسپکٹر کے خلاف سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے اور اختیارات کےناجائز استعمال کے الزمات کے تحت مقدمہ درج کرلیا،ملزمان مذکورہ پر الزام ہے کہ انہوں نے دس کنال پر محیط معروف شادی ہال آر اے کے مارکی کا نقشہ مالک محمد اشرف اور پروپرائٹر رانا اکرام سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت لیکر بغیر کمرشلائزیشن فیس وصول کیے منظور کیا،جبکہ مذکورہ جگہہ کی کمرشلائزیشن فیس چار کروڑ 35 لاکھ روپے بنتی ہے،یوں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا اور ملازمین نے اپنی جیبیں گرم کیں،علاوہ ازیں پروپرائٹر پر الزام ہے کہ اس نے سیل شدہ مارکی کو بغیراجازت کے کھولا اور وہاں غیرقانونی تعمیر شروع کی،ان تمام معاملات کی انکوائری کے لیے شہری نے اینٹی کرپشن میں درخواست دی تھی،انکوائری میں تمام الزامات درست پائے گئے اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا،جبکہ واقعہ میں ملوث چار دیگر بلدیہ ملازمین جہانگیرانجم سپرنٹنڈنٹ میونسپل کارپوریشن،بلڈنگ انسپکٹرز قسور ریاض،حسنین حیدر اور ریکارڈ کیپر اصغر اقبال
    کے خلاف مزید تفتیش کرتے ہوئے انکے کردار اور قصور کا تعین کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے،واضح رہے کہ میونسپل کارپوریشن ملازمین کے خلاف مبینہ طور پر کرپشن،غبن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کئی الزامات اس سے پہلے بھی سامنے آچکے ہیں۔

  • یکم جولائی سے ہو گی ملک بھر میں سیمنٹ کی قلت،اہم خبر

    یکم جولائی سے ہو گی ملک بھر میں سیمنٹ کی قلت،اہم خبر

    حکومت کی جانب سے سیمنٹ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے لئے کڑی شرائط کے بعد ڈسٹری بیوٹرز نے کاروبار بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یکم جولائی سے ہم کاروبار بند کردیں گے.

    روپے کی قدر میں استحکام کیسے آئے گا، چیئرمین ایف بی آر نے بتا دیا

    آل پاکستان سیمنٹ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس لاہو رمیں‌ ہوا جس میں متفقہ طور پر ڈسٹری بیوٹرز نے اس چیز کا اعادہ کیا کہ یکم جولائی 2019 سے سیمنٹ فیکٹریوں سے سیمنٹ نہیں اٹھایا جائے گا ،ایسوسی ایشن کے ترجمان آصف سعید نے بتایا کہ حکومت اور ایف بی آر ہمارے کسی مطالبے کو ماننے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے سیمنٹ کے کاروبار کو چلانا مشکل ہو گیا ہے ،ترجمان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی تمام سیمنٹ کے ڈسٹری بیوٹرز انکم ٹیکس ،سیل ٹیکس بشمول صوبائی ٹیکس ادا کر رہے ہیں ،اب ایف بی آر نے شناختی کارڈ کی شرط اور ٹرن اوور ٹیکس اور فائل ٹیکس ریٹرن سے ڈسٹری بیوٹرز کو نکال دیا ہے ،اسلئے سیمنٹ کا کاروبار کرنا ممکن نہیں رہا. ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام ڈسٹری بیوٹرز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی فیکٹریوں سے سیمنٹ نہیں اٹھائے گا، جو سیمنٹ اٹھائے گا وہ خود ذمہ دار ہو گا.

    چیئرمین ایف بی آر نے ایسا حکم دیا کہ کاروباری برادری خوش ہو جائے

    سیمنٹ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سیمنٹ نہ اٹھائے جانے کے بعد ملک بھر میں سیمنٹ کی قلت ہو جائے گی.

    واضح رہے کہ بجٹ میں سیمنٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کے اثرات سامنے آنے لگے، ملک بھر میں سیمنٹ کی فی بوری 80 روپے تک مہنگی ہو گئی ہے، کراچی میں سیمنٹ کی بوری 10 روپے اضافے سے 635 روپے، حیدر آباد میں 30 روپے اضافے سے 660 روپے، پشاور میں 15 روپے اضافے سے 535 روپے، اسلام آباد میں 30 روپے 550 روپے، ملتان میں 60 روپے اضافے سے 540 روپے، سیالکوٹ میں 40 روپے اضافے سے 550 روپے اور بہاولپور میں 80 روپے اضافے سے 580 روپے میں سیمنٹ کی بوری فروخت ہو رہی ہے۔

    سیمنٹ مہنگی ہونے سے گھروں ودیگر تعمیرات کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے.

  • دو روزہ اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی

    دو روزہ اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی

    ڈالر کی مسلسل اونچی اڑان کے بعد آج ڈالر کی قدر میں کمی ہو گئی جس کی وجہ سے تاجر برادری نے سکھ کا سانس لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد آج جمعہ کی صبح ڈالر کی قدر میں انتر بینک میں 3 روپے پانچ پیسے کی کمی ہوئی جس سے ڈالر 131 روپے کا ہو گیا، اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر ایک روپے پچاس پیسے سستا ہو کر ا63 روپے کا ہو گیا،.

    واضح رہے کہ ڈالر گزشتہ روز 164 روپے 5 پیسے پر بند ہوا تھا۔ گزشتہ 2 روز کے دوران ڈالر 7 روپے سے زائد مہنگا ہوا ہے جس سے روزمرہ استعمال کی اشیا سمیت دیگر مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا خدشہ رہا تاہم آج ڈالر 55 پیسے گرا ہے جو پاکستانی معیشیت کیلئے مثبت اشاریہ ہے۔

    لاہور چیمبر آف کامرس کے‌ صدر الماس حیدر نے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر کہا تھا کہ حکومت ڈالر کی بے لگام دوڑ پر واضح پالیسی بیان دے ،ڈالرکی بڑھتی قیمت سے کاروباری برادری میں اضطراب ہے، وروز کے دوران ڈالر کی قیمت 7 روپے بڑھی ہے.

    لاہور چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر نے کہا تھا کہ ڈالر کی بڑھتی قیمت معیشت کیلیے برا شگون ہے،رواں ماہ سے اب تک ڈالر کی قیمت میں16روپے کااضافہ ہوچکا ،بیرونی قرضوں کے حجم میں 1400ارب روپے کا ازخود اضافہ ہواہے ،ڈالر کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کی نئی لہر لارہا ہےآج عام آدمی کی قوت خرید متاثر ہورہی ہے

    واضح رہے کہ جمعرات کو مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ڈالر نے پھر اونچی اڑان بھری، ڈالرانٹربینک میں ایک روپیہ 84 پیسے مہنگا ہونے سے تاریخ کی بلند ترین سطح 164 روپے پر ٹریڈ کرتا رہا۔ انٹربینک میں ڈالر 164 روپے 50 پیسے کا ہو گیا

  • یوٹیلٹی سٹورپر بھی چینی کی قیمت میں ہوا اضافہ

    یوٹیلٹی سٹورپر بھی چینی کی قیمت میں ہوا اضافہ

    پاکستان کے غریب عوام کے لئے بنائے گئے یوٹیلٹی سٹور پر بھی چینی سمیت 50 سے زائد اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے بجٹ پیش کیا جس پر اسمبلی میں بحث جاری ہے، بجٹ میں حکومت نے عوام پر ٹیکسز لگائے، چینی کی قیمت بڑھائی تو یوٹیلٹی سٹورز میں بھی چینی سمیت دیگر 50 سے زائد اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا

    اسد عمرنے کی بجٹ کی مخالفت، غریب عوام کے دل جیت لئے

    ملک بھر میں بنائے گئے یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی کی قیمت میں 3روپے فی کلو تک اضافہ کردیا گیا ہے،چینی کی فی کلو قیمت 69 روپے سے بڑھا کر 72 روپے فی کلو کردی گئی ہے،یوٹیلٹی سٹور پر 50سے زائد مختلف برانڈ کے شیمپو،صابن،کریم کی قیمت میں بھی 20 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے. 400 ایم ایل شیمپو کی قیمت میں 20 روپے تک اضافہ کردیا گیا، چہرے پر لگانےوالی کریم کے 70 ایم ایل جار کی قیمت میں 10 روپے تک اضافہ کر دیا گیا، مختلف برانڈز کے صابن کی قیمت میں بھی ایک سے 2 روپے تک اضافہ کردیا گیا

  • اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ،گیس قیمتوں کے اضافے کا امکان

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ،گیس قیمتوں کے اضافے کا امکان

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔ذرائع نے بتایا اجلاس میں سعودی عرب سے ادھار پر تیل کی سہولت پر غور کیاجائے گا۔ سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت یکم جولائی سے شروع ہوجائے گی۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل سعودی عرب سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کرے گا ۔سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ پاکستان کو ماہانہ 27 کروڑ 50 لاکھ روپے کا تیل ادھار پر فراہم کرے گا۔ ای سی سی اجلاس میں پاکستان جیمز جیولری کمپنی کو ضمنی گرانٹس فراہم کرنے کی سمری پر بھی غور ہوگا

  • 40 ہزار کے بانڈ کی فروخت آج سے بند

    40 ہزار کے بانڈ کی فروخت آج سے بند

    اسٹیٹ بینک نے 40 ہزار کے بانڈ کی فروخت آج سے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

    تفصیلات کےمطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق 40 ہزارکا بانڈ 31 مارچ 2020ء کے بعد قابل قبول نہیں ہو گا۔
    اعلامیے کے مطابق 40 ہزار کےبیئرر بانڈ کی قرعہ اندازی نہیں ہو گی، 40 ہزار کے بانڈ کے عوض نقد ادائیگی بھی نہیں ہوگی۔

    اسٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چالیس ہزار کا بیئرر بانڈ، پریمیم پرائز بانڈ میں تبدیل کرایا جاسکے گا، 40 ہزار کے بانڈ کے عوض اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ خریدے جاسکتے ہیں۔

    40 ہزار کے بانڈ کے عوض ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ بھی خریدے جا سکتے ہیں جبکہ 40 ہزار بانڈ کی نقد ادائیگی بیئرر کے بینک اکاؤنٹ میں کی جاسکے گی۔

  • دبئی بنا کاروں کا قبرستان

    دبئی بنا کاروں کا قبرستان

    بینٹلے، فیراری، رینج روور، رولس رائس اور دیگر قیمتی ترین سپر اور اسپورٹس کاروں کا قبرستان دبئی کے قریب شارجہ کا ایک میدان ہے جہاں قیمتی کاریں کباڑ خانے میں تبدیل ہو رہی ہیں ۔
    دبئی میں جب 2012 میں شدید معاشی بحران آیا تھا تو ان کاروں کے مالکان اپنی پر تعیش زندگی کو مزید جاری نہ رکھ سکے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے گے ۔ ان مقروض باشندوں میں زیادہ تر امریکی اور برطانوی لوگ تھے جو قرض کی واپسی اور گرفتاریوں کے ڈر سے یہاں سے بھاگ نکلے ۔ بعض افراد کی گاڑیاں ائیرپوٹ پر ہی موجود ہیں جن کے اندر چابیاں لگی ہوئی ہیں ۔
    یہ مہنگی ترین لگثری گاڑیاں وہی پڑی پڑی خراب ہو کر مٹی میں مل رہی ہیں ۔

  • سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر

    سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر

    روپے کی قدر کم ہونے اور ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے ۔ مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہر پاکستانی انتہائی پریشانی کا شکار ہے ۔ دیگر اشیا کی طرح منگائی نے سونے کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچا دی ہیں ۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بعد عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی سونے کی قیمت کو پر لگ گے اور سونے کی قیمت پاکستان کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت 78600 روپے جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 67387 روپے ہوگٸی ہے ۔