Baaghi TV

Category: کاروبار

  • 2015 میں سونے کی قیمت میں 77 ہزار روپے سے زائد کا  اضافہ

    2015 میں سونے کی قیمت میں 77 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ

    سال 2025 میں پاکستان میں سونے کی قیمت میں 77ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں سال 2025 کی شروعات ہوئی تو ایک تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 72 ہزار کے آس پات تھی، تاہم صرف چار مہینوں سے بھی کم میں سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا، عالمی مارکیٹ میں اضافے کے ساتھ پاکستان میں اس دھات کی قیمت میں فی تولہ 77 ہزار روپے کا بیش بہا اضافہ ہوا۔یکم جنوری2025 سے 19اپریل تک کا حساب لگایا جائے تو فی تولہ سونے کی قیمت میں 77 ہزار 100 روپے اضافہ ہوا، 10 گرام سونے کی قیمت میں 66 ہزار 100 روپے کی بڑھوتری آئی۔

    گزشتہ روزپاکستانی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 3 لاکھ 49 ہزار 700 روپے رہی جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 2 لاکھ 99 ہزار 811 روپے پر ریکارڈ کی گئی۔عالمی مارکیٹ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی سونے کی قیمت کوئی استحکام نظر نہیں آتا، کچھ دنوں پہلے تک سونے کی فی اونس قیمت جو 3150 ڈالرز کے آس پاس تھی وہ اب 3326 ڈالرز فی اونس پر جا پہنچی ہے۔سال 2025 میں عالمی اقتصادی صورتحال اور سونے کی مانگ کے پیش نظر اس دھات کی قیمت میں 712 ڈالرز کا زبردست اضافہ ہوا جس سے یہ 3326 ڈالرز فی اونس کا ہوگیا۔

    حافظ نعیم کا پاکستان میں حماس کو دفتر کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ

    کراچی ،ٹریفک حادثات رک نہ سکے، ایک دن میں 5 افراد جاں بحق

    مسلم لیگ ن اور ،پیپلز پارٹی کا ملکر چلنے پر اتفاق ہو گیا

    اداکارہ انجلینا جولی کی مظلوم فلسطینیوں کے حق میں پوسٹ

    کراچی،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائیاں، 172 ڈرائیور گرفتار

  • سرمایہ کار ہمارے سرکا تاج ، انہیں عزت ،ہر ممکنہ سہولت دینی ہے،وزیراعظم

    سرمایہ کار ہمارے سرکا تاج ، انہیں عزت ،ہر ممکنہ سہولت دینی ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے قومی آمدن بڑھانا ہوگی ،کارکردگی کے حوالے سے مختلف اداروں میں موجود سقم دور کرنا ہوں گے،معاشرے اور اداروں کی بہتری کے لئے جزا اور سزا کے تصور کو اپنانا ہو گا ، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے طویل سفر کا آغاز ہو چکا ہے، سرمایہ کار ہمارے سر کا تاج ہیں ، انہیں ہر ممکن سہولیات دیں گے، عدالتوں میں زیر التواء کھربوں روپے کے ٹیکس کیسز کے فوری فیصلے ناگزیر ہیں ۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پر فارمنس مینجمنٹ سسٹم کےافتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے دورہ کے موقع پر ایک سال پہلے کئے گئے ایف بی آر کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پور ی ٹیم نے مل کر کاوشیں کیں اور ان بے پناہ کوششوں کی بدولت اس سفر کاآغاز ہو چکا ہے۔ یہ ایک لمباسفر ہے اور راستے میں بڑی رکاوٹیں آئیں گی جن کو اپنے غیر متزلزل عزم کے ساتھ دور کرنا ہے اور پاکستان کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لئے شبانہ روز کوششیں کرنی ہیں، پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانی ہے، ا س کا بوجھ آپ لوگوں کے کندھوں پر ہے۔ ہم آپ کے قابل ذہنوں کی بدولت یہ اہداف حاصل کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں ہمارے ٹیکس محصولات میں 27 فیصد اضافہ قابل ستائش ہے۔ اس کےلئے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتےہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک طویل سفر ہے اور محصولات میں اضافہ بظاہر خوش آئند ہے لیکن مختلف ٹربیونلز یا دیگر عدالتوں میں کھربوں روپے کے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان میں سے کئی مقدمات کئی دہائیوں سے چل رہے ہیں۔ ان مقدمات کے فوری فیصلے ناگزیر ہیں۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔وزیراعظم نے ایف بی آر کے افسران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک چبھتا سوال ہے کہ ایک طرف ہمارے کھربوں روپے کے کیسز زیر التواء ہیں اور دوسری طرف ہم دن رات قرض لے رہے ہوتے ہیں یا ان کو رول اوور کرارہے ہوتے ہیں۔دوسری طرف انٹرنل ریونیو سروس ، کسٹم ، سیلزٹیکس ، جعلی رسید وں کی دردناک کہانیاں ہم سن چکے ہیں ۔ ہم نے ان کمزوریوں کو دور کرناہے اور انہی چیلنجز کا ہماری حکومت کو سامنا ہے۔ ماضی میں جو ہوا ہمیں اس سے سبق حاصل کرکے تیزی سے ان خامیوں پر قابوپانے کی ضرورت ہے۔ اسی لئے میں آپ کے پاس حاضر ہواہوں ۔ہم نے ایک سال میں اس کے لئے بڑی تگ و دو کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چند سال قبل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بنایا گیا جس کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ صرف اس کمپنی کی خطاہے یا اس نظام کا مؤثر استعمال نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال میں جو اچھاکام کیاگیا ہے اس پر ہم آپ کو دل کھول کرداد دیتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ آپ کو مزید اچھاکام کرنے کی توفیق دے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم نے قرض سے نجات حاصل کرنی ہے تو ہمیں اپنے محصولات بڑھانا ہوں گے۔اس کے بغیر قرض بڑھتاچلاجائےگااور آئی ایم ایف سے کبھی چھٹکارا نہیں ملےگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے مختلف شعبوں میں ہمارے نوجوان شاندار کام کررہے ہیں۔ میری یہ استدعاہے کہ محنت کرکے محصولات میں اضافے سے اس قوم کی تقدیر بدلنے کی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ وزیراعظم نےکہا کہ وہ بینکوں کے ونڈ فال ٹیکس کامعاملہ عدالتوں میں لے کر گئے اور ایف بی آر کے چیئرمین اور اس کی قانونی ٹیم کی وجہ سے 23 ارب روپے قومی خزانے میں واپس آئے تاہم یہ رقم بہت کم ہے ، ہمارے کھربوں روپے کے ایسے مقدمات زیرالتواء ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ قرضوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے ، ہمیں اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بھرپور اندازمیں کرتے ہوئے قرضوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انفورسمنٹ کے لئے کسٹمز اور دیگر اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کومتعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ چیلنجز سے بھرپور طویل سفر کی شروعات ہے ، ہم نے ان چیلنجز سے نمٹنا ہے ، اس میں اپنے کام میں ماہر لوگوں کا بڑا کردار ہوگا۔ اشیاء کی مس ڈیکلیئریشن سے نجات کاخاطر خواہ انتظام نہیں ہوا، اس پر کام ہو رہا ہےتاہم اس کاحل یہ ہے کہ کنٹینر کو سکینرز سے گزاراجائے۔ سکینر مشینوں کے حصول میں تاخیر مجرمانہ غفلت ہے۔ہم جہاں کھربوں روپے کا نقصان برداشت کررہے ہیں تو کیوں چند کروڑ روپے اس کے لئے خرچ نہیں کررہے، اس کے لئے ہمارے وسائل حاضر ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم تیزی سے اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کے لئے پاکستان معرض وجود میں آیاتھااور جس کے لئے قائد اعظم کی قیادت میں تحریک چلی اور لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں۔ پاکستان کا دنیا میں ضرورت مقام بنے گا اور ابھی بھی تاخیر نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی شروعات ہو چکی ہیں، انفورسمنٹ پر کام ہو رہا ہے، ٹربیونلز کو پوری طرح ریفار م کیاجارہا ہے، میرٹ پر نئے قابل لوگوں کو بھرتی کیاجا رہا ہے، قابل وکلا ء کی خدمات لی جا رہی ہیں، پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم بہت اچھا ہے ، اس میں مزید بہتری لانی ہے اور دیگر اداروں میں بھی اس کو متعارف کرانا ہے، ایف بی آر کواب اپنی ساکھ بنانا ہو گی۔جزا و سزا کے تصور کو ایف بی آر سمیت تمام اداروں میں فروغ دے رہے ہیں۔جو لوگ اچھا کام کریں گے ان کو عوامی پذیرائی اور مراعات دیں گے، اس حوالہ سے چیئرمین ایف بی آر نے اچھا فارمیٹ بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اہم خدمات سرانجام دینے والوں کو وزیراعظم ہاؤس بلا کر انہیں شیلڈز اور مانیٹری ایوارڈ دیئے جو ملک بھر کے تمام اداروں کیلئے حوصلہ افزائی ہے۔ اسی طرح جو لوگ کام نہیں کریں گے انہیں سزا ہو گی۔معاشرے سزا اور جزا سے ہی بہتر ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس ادا کرنے والوں سے اچھا رویہ رکھیں، سرمایہ کار ہمارے سرکا تاج ہیں انہیں عزت اور ہر ممکنہ سہولت دینی ہے، اس سے ہمارے ملک میں سرمایہ آئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نوٹیفائی کرے گا تاکہ ذاتی پسند و ناپسند کی بجائے کارکردگی کی بنیاد پر ملازمین کو صلہ ملے گا

  • فی تولہ سونے کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار روپے ہو گئی

    فی تولہ سونے کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار روپے ہو گئی

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کے نرخ بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 19 ڈالر اضافے کیساتھ 3329 ڈالر ہوگئی پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2000 روپے اور دس گرام سونے کی قیمت میں 1715 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا قیمتوں میں اضافے کے باعث مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونے کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار روپے اور دس گرام سونے کی قیمت 3 لاکھ 68 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

  • مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.19 ارب ڈالر ریکارڈ

    مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.19 ارب ڈالر ریکارڈ

    کراچی:بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات میں نمایاں اضافہ کے باعث مارچ 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا-

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مارچ 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، فروری 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ کو 9 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا خسارہ درپیش تھا، تیسری سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ70 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 85 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ کو ایک ارب 65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خسارہ درپیش رہا تھا، گزشتہ مالی سال کے پہلے9 ماہ کے مقابلے میں رواں مالی سال اسی عرصے میں اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات 7 ارب ڈالر زائد رہیں گزشتہ مالی سال جولائی تا مارچ ترسیلات کی مالیت 21 ارب 3 کروڑ ڈالر رہیں، رواں مالی سال اسی عرصے کے دوران ترسیلات کی مالیت 28 ارب 3 کروڑ ڈالر رہیں۔

  • عالمی بینک  کی پاکستان کے ٹیکس نظام پر تنقید،غیر منصفانہ کہہ دیا

    عالمی بینک کی پاکستان کے ٹیکس نظام پر تنقید،غیر منصفانہ کہہ دیا

    اسلام آباد: عالمی بینک (ورلڈ بینک) نے پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کو "انتہائی غیر منصفانہ اور بے ہودہ” قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے اور حکومت کو سفارش کی ہے کہ جائیداد کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تاکہ اس کا درست اندراج اور ٹیکس لگایا جا سکے۔

    عالمی بینک کے مطابق، پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بڑھتا ہوا بوجھ صرف اسی صورت میں کم ہو سکتا ہے جب ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور تمام ذرائع سے حاصل کی جانے والی آمدنی کو اس میں شامل کیا جائے۔ ادارے نے واضح کیا کہ موجودہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اگرچہ قلیل مدتی فوائد حاصل ہو رہے ہیں، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر ملک کی آمدنی کے امکانات ضائع ہو رہے ہیں۔

    پاکستان کی ترقیاتی پالیسیوں کے حوالے سے پائڈ کے وائس چانسلر، ندیم جاوید نے بھی اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد کمیشن کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے، کیونکہ آڈیٹر جنرل پاکستان (AGPR) کے بغیر 5 سے 7 فیصد کمیشن کے بغیر کوئی بل کلیئر نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ ایک حقیقت ہے اور سب کو معلوم ہے”۔ورلڈ بینک کے لیڈ کنٹری اکنامسٹ، ٹوبیاس ہاک نے اسلام آباد میں پائڈ کے زیر اہتمام "پاکستان کا مالیاتی راستہ: شفافیت اور اعتماد کو فروغ دینا” کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ "زرعی آمدنی پر صوبائی سطح پر ٹیکس ایک مثبت قدم ہے، لیکن اب جائیداد کے شعبے کو بھی درست طریقے سے رجسٹر اور ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے”۔

    ٹوبیاس ہاک نے مزید کہا کہ "ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور تمام آمدنی کو اس میں شامل کرنا تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے”۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ کی آبادی میں صرف 50 لاکھ لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں، اور زیادہ تر ٹیکس جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی شکل میں وصول کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ "پاکستان کا ٹیکس نظام انصاف کے اصولوں کے لحاظ سے غیر منصفانہ ہے، اگر ملک صرف 50 لاکھ فائلرز کے ساتھ چلتا رہا تو اس سے کوئی دیرپا حل ممکن نہیں”۔

    پرائم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر علی سلمان نے ٹیکس نظام میں وضاحت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ "نظام میں زیادہ وضاحت کی ضرورت ہے، اور ودہولڈنگ ٹیکس کی تعداد کو کم کیا جانا چاہیے”۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 88 ودہولڈنگ ٹیکسز ہیں، جن میں سے 45 ٹیکسز کی آمدنی ایک ارب روپے سے بھی کم ہے۔

  • سونے کی قیمت ساڑھے 3 لاکھ کے قریب  پہنچ گئی

    سونے کی قیمت ساڑھے 3 لاکھ کے قریب پہنچ گئی

    کراچی: سونے کی قیمت مسلسل دوسرے روز اضافے کے بعد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 8600 روپے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد ایک تولہ سونا 3 لاکھ 48 ہزار روپے کا ہوگیا ہے جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 7373 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 98 ہزار 353 روپے ہوگئی ہےدوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے ساتھ 3310 ڈالر فی اونس ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فی تولہ سونے کی قیمت 600 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 39 ہزار 400 روپے تھی،ماہرین کے مطابق عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو سونے کی جانب مائل کر دیا ہے۔

    آئی ایم ایف پروگرام میں بھی چین کا کردار مثالی تھا۔وزیراعظم

    مرکزی مسلم لیگ کا پیٹرولیم لیوی سے متعلق صدارتی آرڈیننس پر شدید تحفظات کا اظہار

    15 پر ڈکیتی کی جھوٹی اطلاع دینے پر دو افراد کے خلاف پرچہ،گرفتار

  • ٹیکسٹائل ایشیا 2025، پاکستان کی صنعتی ترقی کا نیا عالمی باب

    ٹیکسٹائل ایشیا 2025، پاکستان کی صنعتی ترقی کا نیا عالمی باب

    پاکستان میں جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی تین روزہ ٹیکسٹائل نمائش و کانفرنس، ‘ٹیکسٹائل ایشیا 2025’ کا انعقاد ‘ای کامرس گیٹ وے پاکستان’ کے زیر اہتمام کیا گیا، جس میں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ٹیکسٹائل کے شعبے میں اہم تبدیلیوں کا آغاز ہوا۔ یہ ایونٹ صنعتی ترقی اور اقتصادی استحکام کے نئے دور کی بنیاد بننے جا رہا ہے، جہاں عالمی سطح پر 20 سے زائد ممالک کی 500 عالمی کمپنیاں شریک ہوئیں، جو جدید ٹیکنالوجیز اور اختراعی حل پیش کر رہی تھیں۔

    اس تین روزہ ایونٹ میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں آٹومیشن، پائیداری اور دیگر جدید موضوعات پر اہم سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔ 67 ہزار سے زائد تجارتی وزیٹرز کی شرکت نے اس ایونٹ کی عالمی سطح پر مقبولیت کو ثابت کیا۔ اس دوران 550 ملین ڈالر سے زائد کے تجارتی معاہدے ہوئے، اور متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جس سے پاکستان کی عالمی اقتصادی میدان میں پوزیشن مزید مستحکم ہوئی۔اس ایونٹ میں ترکی، چین، روس اور دیگر بین الاقوامی وفود کی شرکت نے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے میں عالمی اعتماد کو بڑھایا۔ ان بین الاقوامی تعلقات کی بدولت پاکستان کی معیشت کو مزید استحکام حاصل ہوا، اور عالمی سطح پر تجارتی روابط میں وسعت آئی۔

    پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے نے اس ایونٹ کے ذریعے عالمی معیار، جدت اور استحکام کی نئی مثال قائم کی ہے۔ ڈاکٹر خورشید نظام، صدر ‘ای کامرس گیٹ وے پاکستان’ نے کہا: "ٹیکسٹائل ایشیا 2025 نے پاکستان کو عالمی ٹیکسٹائل مرکز بنانے کے وژن کو حقیقت میں بدلا۔”منصوبہ ڈائریکٹر، ازیر نظام نے اس ایونٹ کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا، "اس بار کی بین الاقوامی دلچسپی اور حاصل شدہ معاہدے ہماری توقعات سے بڑھ کر ہیں۔” اس ایونٹ کے دوران عالمی اداروں کے ساتھ تکنیکی روابط اور کاروباری شراکتوں کی راہیں کھلیں، جس سے پاکستان کے صنعتی اداروں نے عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کیا۔

    پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت میں ایس آئی ایف سی (پاکستان سٹرٹیجک انڈسٹریل فنانس کارپوریشن) کی معاونت سے یہ نمائش اور کانفرنس منعقد ہوئی۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے اس نمائش کو برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری کے لحاظ سے ایک سنگ میل قرار دیا گیا۔پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کے مقام میں اضافے کے ساتھ، یہ ایونٹ ایک نیا باب رقم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس کے ذریعے پاکستان نے اپنے صنعتی شعبے میں دنیا کے سامنے نئی راہیں کھولیں، اور عالمی سطح پر پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ میں اضافہ متوقع ہے۔

  • ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی: حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے تاہم قیمتوں میں کمی کے صحیح اعداد و شمار کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی ہے، 16اپریل 2025سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 12روپے فی لیٹر کی کمی متوقع ہے،پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 254.63روپے سے کم ہو کر 242روپے فی لیٹر ہونے کی توقع ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر گراوٹ کے بعد ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے کو ملے گی، جس کی قیمت 258.64روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 250روپے فی لیٹر ہونے کی امید ہے۔

  • سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

    سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

    کراچی: سونے کی قیمت اضافے کے بعد ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    سندھ صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار 800 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ جس کے بعد سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،سونے کی فی تولہ قیمت اضافے کے بعد 3 لاکھ 40 ہزار 600 روپے ہو گئی،10 گرام سونے کی قیمت میں ایک ہزار 543 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جس کے بعد 10 گرام سونے کی قیمت 2 لاکھ 92 ہزار 9 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 18 ڈالر اضافے کے بعد 3 ہزار 236 ڈالر پر پہنچ گئی،صرافہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کے مطابق موجودہ سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال، عالمی افراط زر اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سونے کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

  • ملکی آٹو سیکٹر میں مندا ، گاڑیوں کی فروخت میں کمی ریکارڈ

    ملکی آٹو سیکٹر میں مندا ، گاڑیوں کی فروخت میں کمی ریکارڈ

    پاکستان کے آٹو سیکٹر میں مارچ 2025 کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ۔

    آٹو سیکٹرذرائع کے مطابق مارچ 2025 کی تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر جیپ، کار، وین سمیت دیگر یونٹس کی فروخت 11,098 یونٹس رہی، جو فروری 2025 میں 12,071 یونٹس تھی۔مسافر گاڑیوں کی فروخت میں کمی آئی ہے اور یہ 8,869 یونٹس سے کم ہو کر 8,136 یونٹس تک پہنچ گئی۔ مارچ میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں 8 فیصد کمی آئی ہے، اور ایک بھی الیکٹرک گاڑی فروخت نہیں ہوئی۔1300 سی سی اور اس سے زیادہ کی گاڑیوں کی فروخت میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 4,485 یونٹس تک محدود رہی۔

    1000 سی سی گاڑیوں کی فروخت میں 60 فیصد کی بڑی کمی آئی، اور یہ 489 یونٹس سے کم ہو کر 194 یونٹس تک پہنچ گئی، 1000 سی سی سے کم گاڑیوں کی فروخت 6 فیصد کم ہو کر 3,451 یونٹس رہی۔ٹرکوں کی فروخت میں 15 فیصد کی کمی آئی، تاہم، بسوں کی فروخت میں 53 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا، اور یہ 70 یونٹس سے بڑھ کر 107 یونٹس تک پہنچ گئی۔موٹر سائیکلوں کی فروخت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی اور یہ 122,357 یونٹس پر برقرار رہی۔

    امریکا نے چینی اشیاءپر ٹیرف 145 فیصد کردیا

    صدربیلا روس کا نوازشریف اور وزیراعظم کے اعزاز میں عشائیہ

    شیر افضل مروت نے پارٹی میں واپسی کی شرط بتا دی

    کراچی میں ترقیاتی کام کرانا اولین ترجیح ہے، بیرسٹرمرتضیٰ وہاب

    ٹرانسپورٹرز اور ڈمپرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال موخر