Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر ہزاروں روپے کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں بھی سونا سستا ہوگیا ہے۔

    دو روزہ اضافے کے بعد ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق24 قیراط فی تولہ سونا 5,000 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 51 ہزار روپے کا ہو گیا۔10 گرام سونا 4,287 روپے کی کمی کے بعد 3 لاکھ 925 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔فی تولہ چاندی 9 روپے کمی کے بعد 3,790 روپے اور10 گرام چاندی 8 روپے کم ہوکر 3,249 روپے جبکہ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 0.09 ڈالر کمی کے بعد 36.06 ڈالر ہوگئی۔

    عالمی مارکیٹ میں سونا بھی نمایاں طور پر سستا ہوا،فی اونس سونا 53 ڈالر کمی کے بعد 3,290 ڈالر کی سطح پر آ گیا۔ماہرین کے مطابق، عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مقامی ڈیمانڈ میں کمی کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں یہ تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    اسرائیل نےامداد کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، 549 جاں بحق

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1,22,761 پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1,22,761 پر بند

    نگ بندی کے دوسرے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کا مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہا۔

    کاروباری دن کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 515 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 22 ہزار 761 پوائنٹس پر بند ہوا۔ دن بھر کے دوران ہنڈریڈ انڈیکس 1,087 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، جبکہ آج انڈیکس کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 23 ہزار 256 ریکارڈ کی گئی۔

    مارکیٹ میں آج مجموعی طور پر 74 کروڑ 97 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مالیت 28 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 80 ارب روپے کے اضافے سے 14 ہزار 858 ارب روپے تک جا پہنچی۔

    24 گھنٹوں میں ً74 فلسطینی شہید، مجموعی تعداد 56 ہزار سے تجاوز کر گئی

    فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک متاثر کن شخصیت ہیں، ٹرمپ

    سندھ میں 10 محرم تک دفعہ 144 نافذ، ڈبل سواری اور اسلحہ پر پابندی

  • سپارکس اسمارٹ فونز کا پاکستانی مارکیٹ سے مبینہ خاتمہ، صارفین اور ڈیلرز پریشان

    سپارکس اسمارٹ فونز کا پاکستانی مارکیٹ سے مبینہ خاتمہ، صارفین اور ڈیلرز پریشان

    ایک کثیر الجہتی تحقیقات کے مطابق، جسے مارکیٹ ذرائع اور صنعت کے ڈیٹا نے تقویت دی ہے، سپارکس اسمارٹ فونز — جو ڈیپلائے گروپ کا ایک برانڈ ہے — پاکستان میں گہرے آپریشنل چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر مارکیٹ سے اپنی سرگرمیاں کم کر رہا ہے یا مکمل طور پر ختم کر رہا ہے۔ یہ صورتحال صارفین اور ڈیلرز دونوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہے۔

    سپارکس نے اپنا سب سے حالیہ فلیگ شپ ڈیوائس ایج 20 فروری 2025 میں بہت دھوم دھام اور ماہرہ خان کی جانب سے اعلیٰ سطحی توثیق کے ساتھ پیش کیا تھا۔ تاہم، جارحانہ مارکیٹنگ کے باوجود، صنعت کے تاثرات بتاتے ہیں کہ ایج 20 متوقع فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد کسی بھی نئے ماڈل کے اعلانات کی عدم موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سپارکس کو اپنی مصنوعات کی رینج کو تازہ کرنے میں R&D یا سپلائی چین کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔علاوہ ازیں، سپارکس کے آفیشل سوشل میڈیا چینلز پر مئی 2025 کے وسط سے کوئی نئی پوسٹ نہیں کی گئی ہے، اور تازہ ترین مواد صرف پرانے ماڈلز پر مرکوز ہے۔ یہ طویل غیر فعالیت، جو عام طور پر مصنوعات کی لانچنگ اور کسٹمر کی مصروفیت کے لیے استعمال ہوتی ہے، مارکیٹنگ کی کوششوں میں تعطل کا اشارہ ہے، جو ایسے وقت میں برانڈ کی نمائش کو بری طرح متاثر کر رہا ہے جب حریف باقاعدہ طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور نئے موبائلز لانچ کر رہے ہیں۔

    ڈیپلائے گروپ کا کراچی میں سپارکس کے لیے درج کردہ دفتر کا پتہ اب خالی نظر آتا ہے۔ مقام پر کی گئی آزادانہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ احاطہ ایک غیر متعلقہ اسمارٹ فون اسمبلر نے لے لیا ہے۔ اگرچہ ڈیپلائے گروپ نے عوامی طور پر جگہ کی منتقلی یا فروخت کی تصدیق نہیں کی ہے، کمپاؤنڈ کے نئے مالک نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔حاصل ہونے والے درآمدی ڈیٹا کے مطابق، سپارکس (اور اس سے متعلقہ ادارے جیسے ڈیپلائے یا برانڈ ایکس) نے مئی اور جون 2025 کے لیے ہینڈ سیٹ کے اجزاء کی نہ ہونے کے برابر درآمدات ریکارڈ کیں۔ اپریل 2025 میں بھی صرف تقریباً 4,000 یونٹس کے اجزاء کی کلیئرنس ہوئی، جو بڑے پیمانے پر پیداوار یا انوینٹری کو دوبارہ بھرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ڈیلرز کی جانب سے موجودہ اسٹاک کو بھاری رعایت پر فروخت کرنے کی اطلاعات ہیں تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے، جو کنزیومر الیکٹرانکس میں کسی برانڈ کے مارکیٹ سے نکلنے سے پہلے کی کلیئرنس کے رویے سے مطابقت رکھتی ہے۔

    پہلے کی رپورٹس میں سپارکس کے دو ڈیلرز کے کمپنی کی جانب سے یورپ کے دورے کے دوران "غائب” ہونے سے ہونے والے سنگین بدنامی کے نقصان کی تفصیلات دی گئی تھیں، جس سے تحقیقات کا آغاز ہوا اور کارپوریٹ نگرانی اور اخلاقیات کے بارے میں سوالات اٹھے۔ اس کے علاوہ، متعدد ڈیلرز نے وارنٹی کے دعووں کے حل نہ ہونے، اسپیئر پارٹس کی قلت، اور بعد از فروخت سپورٹ کی کمی کی شکایت کی ہے—یہ مسائل صارفین کے اعتماد اور ڈیلرز کے بھروسے کو ختم کر رہے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ کچھ ڈیلرز نے سپارکس سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی ہے، جس کی وجہ سروس کی فراہمی میں بار بار ناکامیاں ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے تو یہاں تک لکھا، "سپارکس موبائل نہ خریدیں۔ میرے موبائل کو فنگر پرنٹ کے مسئلے کی وجہ سے دو ماہ سے سپارکس وارنٹی سینٹر میں رکھا ہوا ہے، لیکن ابھی تک واپس نہیں کیا گیا۔ ان کے پاس اسپیئر پارٹس بھی نہیں ہیں۔ برا فون، بری سروس، غیر کارپوریٹ۔”

    اس سلسلے میں سپارکس اسمارٹ فونز/ڈیپلائے گروپ کے سی ای او ذیشان قریشی سے رابطہ کیا گیا۔ قریشی نے آپریشنز بند کرنے کے دعووں کو مسترد کیا اور یقین دلایا کہ وہ پوچھے گئے سوالات کا جواب دیں گے۔ انہوں نے پاکستان موبائل فون ایسوسی ایشن (PMPA) کا حوالہ دیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ سپارکس اب بھی فعال ہے۔تاہم، PMPA حکام نے تصدیق کی کہ ڈیپلائے گروپ یا سپارکس فونز رجسٹرڈ ممبر نہیں ہیں، اور اس طرح وہ ایسوسی ایشن سے توثیق یا مدد کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ ان تبادلوں کے بعد، اس معاملے کی جانچ پڑتال پر سپارکس کی قیادت سے ایک قانونی نوٹس موصول ہوا، لیکن جاری پیداوار، شپمنٹ کے حجم، یا صنعت کے اداروں میں رکنیت کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

    پاکستان کا موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ/اسمبلی سیکٹر کافی حد تک بڑھا ہے، جس نے 2024 میں مقامی اسمبلی کے ذریعے ہینڈ سیٹ کی گھریلو مانگ کا تخمینہ 95% پورا کیا ہے۔ تاہم، پالیسی میں تبدیلیاں، ٹیکس کے دباؤ، اور مقامی طور پر اسمبل کیے جانے والے عالمی برانڈز سے سخت مقابلہ چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔

    اگر سپارکس واقعی پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر دیتا ہے، تو موجودہ ڈیوائس مالکان کو وارنٹی کی مرمت، اسپیئر پارٹس، یا سافٹ ویئر اپ ڈیٹس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈیلرز کو بقیہ اسٹاک کے نقصانات اور چھوٹے مقامی برانڈز پر صارفین کے اعتماد میں کمی کا خطرہ ہے۔صنعت کے اسٹیک ہولڈرز نے تجویز دی ہے کہ PMPA اور متعلقہ حکام مقامی برانڈز سے رکنیت کی حیثیت، آپریشنل صحت، اور بعد از فروخت سپورٹ کی ضمانتوں کے بارے میں واضح انکشافات کا مطالبہ کرنے کے لیے میکانزم قائم کر سکتے ہیں۔ اس میں لازمی نوٹیفکیشن کی مدت یا ایسکرو پر مبنی وارنٹیاں شامل ہو سکتی ہیں تاکہ صارفین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اگر کوئی برانڈ اچانک مارکیٹ سے باہر ہو جاتا ہے۔

    مارچ 2025 کے بعد پروڈکٹ پائپ لائن میں تعطل، مئی کے وسط سے سوشل میڈیا پر خاموشی، کم از کم درآمدی سرگرمی، خالی دفتر کے احاطے، صنعت ایسوسی ایشن میں عدم رکنیت، ڈیلرز کی رعایت شدہ قیمتوں پر کلیئرنس، اور پہلے کے بدنامی کے واقعات — یہ تمام اشارے مشترکہ طور پر سپارکس اسمارٹ فونز کے پاکستان میں آپریشنز کو کم کرنے یا بند کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی کی قیادت باضابطہ طور پر ان دعووں کو مسترد کرتی ہے، لیکن قابل تصدیق ثبوت کی عدم موجودگی اور بڑھتے ہوئے مارکیٹ سگنلز اہم آپریشنل سکڑاؤ کی تصدیق کرتے ہیں۔

    رپورٹ.زبیر قصوری،اسلام آباد

  • ایران، اسرائیل جنگ بندی کے بعد سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    ایران، اسرائیل جنگ بندی کے بعد سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    باغی ٹی وی: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔

    پاکستان میں فی تولہ 24 قیراط سونے کی قیمت میں 3 ہزار 800 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 54 ہزار 365 روپے ہو گئی۔اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونا 3 ہزار 258 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 3 ہزار 810 روپے پر آ گیا، جبکہ 22 قیراط 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 987 روپے کمی کے بعد 2 لاکھ 78 ہزار 502 روپے ریکارڈ کی گئی۔

    چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی کا سلسلہ جاری ہے، فی تولہ چاندی 9 روپے سستی ہو کر 3 ہزار 790 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 8 روپے کمی کے بعد 3 ہزار 249 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت پر دباؤ دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 39 ڈالر کمی کے بعد 3327 ڈالر پر پہنچ گیا۔

    ایران کا حملہ قطر کے خلاف نہیں ، امریکی مداخلت کا جواب تھا، صدر مسعود پزشکیان

    سیالکوٹ: بیوٹی پارلر کی مالکہ پر تشدد، ملزم گرفتار ، خواتین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: ڈی پی او فیصل شہزاد

    گنڈاپور نے 11 کروڑ کے بسکٹ ، 240 ارب عیاشیوں پر خرچ کیے ، اپوزیشن لیڈر کا انکشاف

  • اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان رہا ، انڈیکس میں بڑے اضافے کے بعد 4 نفسیاتی حدیں بحال ہو گئیں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کا آغاز شاندار تیزی سے ہوا، 100 انڈیکس میں 4300 پوائنٹس سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 20 ہزار 500 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا یہ اضافہ ایک روز قبل کی شدید مندی کے برعکس دیکھنے میں آیا، جب بازار میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی تھی گزشتہ روز 100 انڈیکس 3855 پوائنٹ کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 16 ہزار 167 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا،گزشتہ روز 15 ارب 90 کروڑ 56 لاکھ 20 ہزار 424 روپے مالیت کے 19 کروڑ 61 لاکھ 90 ہزار 358 شیئرز کا لین دین ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے گزشتہ روز سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا تھا، تاہم آج کی تیزی کو ماہرین نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی قرار دیا ہے،مارکیٹ میں کاروباری حجم اور سرمایہ کاری کی مالیت میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

    جنگ بندی کا دورانیہ 12 گھنٹے،جس کے بعد جنگ کو باضابطہ ختم تصور کیا جائے گا،ٹرمپ

    جنگ بندی کا دورانیہ 12 گھنٹے،جس کے بعد جنگ کو باضابطہ ختم تصور کیا جائے گا،ٹرمپ

    جنگ بندی سے قبل ایران کے میزائل حملے،چار اسرائیلی ہلاک،عمارتیں تباہ

  • کاروباری ہفتے کے اختتام پر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    کاروباری ہفتے کے اختتام پر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    کاروباری ہفتے کے آخری روز پاکستان میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 1 ہزار 465 روپے مہنگا ہو گیا۔قیمت میں اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی نئی قیمت 3 لاکھ 58 ہزار 465 روپے ہو گئی ہے، جب کہ 10 گرام سونے کی قیمت 1 ہزار 256 روپے اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 7 ہزار 325 روپے تک پہنچ گئی۔

    عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں فی اونس سونا 13 ڈالرز کے اضافے کے بعد 3 ہزار 369 ڈالرز پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سونے کی قیمت میں 460 روپے کی کمی واقع ہوئی تھی، تاہم آج کے اضافے نے سونے کی قیمت کو ایک بار پھر بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔

    ایران کشیدگی: دو سے زائد امریکی بی ٹو بمبار طیارے میزوری سے روانہ، گوام کی جانب پرواز

    ایران کے تازہ میزائل حملے، بین گورین ایئرپورٹ، حیفا اور دیمونا سمیت اسرائیل کے کئی اہم اہداف نشانہ

    اسحاق ڈار اور آرمی چیف کی ترک صدر سے ملاقات، ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

  • ملک میں تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ

    ملک میں تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ

    ملک میں تیل و گیس کی یومیہ پیداوار میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    پی پی آئی ایس اور انڈسٹری کے اعداد و شمارکے مطابق 16جون کو ختم ہونے والے ہفتہ میں ملک میں خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 56716 بیرل ریکارڈ کی گئی جو پیوستہ ہفتے کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہے گزشتہ ہفتہ میں ملک میں خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 56176 بیرل تھی، اسی طرح 16جون کوختم ہونے والے ہفتہ میں ملک میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 2718 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی جو پیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 0.6 فیصد زیادہ ہے۔

    گزشتہ ہفتہ میں ملک میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 2702 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈکی گئی تھی، 16جون کوختم ہونے والے ہفتہ میں اوجی ڈی سی ایل کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 28929 بیرل، پی پی ایل 8479 بیرل، پی او ایل 3946 بیرل اور ماڑی گیس کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 1331 بیرل رہی۔

    16جون کوختم ہونے والے ہفتہ میں اوجی ڈی سی ایل کی گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 590 ایم ایم سی ایف ڈی، پی پی ایل 432 ایم ایم سی ایف ڈی، پی او ایل 40 اور ماڑی گیس کی گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 860 ایم ایم سی ایف ڈی رہی۔

  • ملک بھر میں مسلسل چوتھے دن سونے کی قیمت میں کمی

    ملک بھر میں مسلسل چوتھے دن سونے کی قیمت میں کمی

    ملک کے مختلف حصوں میں سونے کی قیمتوں میں چوتھے روز بھی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت میں 460 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 58 ہزار 595 روپے مقرر ہوئی۔اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونے کی قیمت 394 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 7 ہزار 437 روپے ہو گئی، جبکہ 22 قیراط 10 گرام سونا 361 روپے کمی کے ساتھ 2 لاکھ 81 ہزار 827 روپے میں دستیاب رہا۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔ فی تولہ چاندی 58 روپے کمی کے بعد 3 ہزار 820 روپے پر آ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 49 روپے کم ہو کر 3 ہزار 275 روپے ریکارڈ کی گئی۔عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی ہوئی، جہاں فی اونس سونا 6 ڈالر کمی کے ساتھ 3 ہزار 378 ڈالر پر پہنچ گیا۔

    پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش، 8 اداروں نے دلچسپی ظاہر کر دی

    ایران اسرائیل جنگ: برطانیہ کی شمولیت پر لبرل ڈیموکریٹس نے بڑا مطالبہ کر دیا

    190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    ڈبلیو ایچ او کا ایران اور اسرائیل میں صحت مراکز پر حملوں پر اظہارِ افسوس

  • ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان

    ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ اور فنانس بل کے تحت ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت اب نان فائلرز اور سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن سے گریز کرنے والوں کو زبردستی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دے دیا گیا ہے۔

    وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہونے والے فنانس بل میں شامل نئی ترامیم کے تحت اگر کوئی شخص یا ادارہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کا اہل ہونے کے باوجود رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن نہیں کراتا تو ایف بی آر کا مجاز افسر یا کمشنر ان لینڈ ریونیو اپنی تحقیقات کی روشنی میں ایسے افراد کو جبراً رجسٹر کرے گا۔ اس کا مقصد ملک میں ٹیکس کی وصولی میں شفافیت اور بہتری لانا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے اور ٹیکس چوری کو کم کیا جا سکے۔مزید برآں، فنانس بل میں دو نئی شقیں 14AC اور 14AD بھی شامل کی گئی ہیں جو نان فائلرز اور رجسٹریشن سے بچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی اجازت دیتی ہیں۔ شق 14AC کے تحت، کمشنر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ فرد کے بینک اکاؤنٹس کو تحریری حکم نامے کے ذریعے بند کرا سکتا ہے۔ اس پابندی کو صرف اس وقت تک برقرار رکھا جائے گا جب تک کہ متعلقہ فرد رجسٹریشن مکمل نہ کرلے۔ اس سے بینکنگ ٹرانزیکشنز پر سخت کنٹرول ممکن ہوگا اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔

    اسی طرح شق 14AD کے تحت بھی سخت انتظامی اور قانونی کارروائیاں متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد پر موثر گرفت رکھی جا سکے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں ٹیکس نیٹ کو مضبوط بنانے اور ریونیو میں اضافے کے لیے نہایت اہم ہیں، تاہم اس کا اطلاق شفاف اور منصفانہ طریقے سے ہونا ضروری ہے تاکہ کاروباری برادری کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔وفاقی حکومت کی طرف سے یہ نئی ترمیمات یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوں گی، جس کے بعد ایف بی آر کو زبردستی رجسٹریشن کے لیے قانونی اور انتظامی اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

  • سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

    سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

    ملک بھر میں آج بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    صرافہ بازار سے موصولہ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فی تولہ سونے کی قیمت میں 1,500 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 63 ہزار روپے ہو گئی ہے۔دس گرام سونے کی قیمت بھی 1,206 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 11 ہزار 213 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    چاندی کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے سے 3 ہزار 787 روپے میں فروخت ہوئی۔ایسوسی ایشن کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں 15 ڈالر اضافہ ہوا جس کے بعد فی اونس نرخ 3,432 ڈالر ہو گئے۔

    بیرون ملک سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے پاسپورٹس منسوخ کرنے کا فیصلہ

    کراچی میں 13 سالہ لڑکی کی شادی کی کوشش ناکام، دلہا اور چچا گرفتار

    وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر کا رابطہ، اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت