Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کی لہر جاری

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کی لہر جاری

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج بھی کاروبار کا منفی آغاز ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی:کاروباری ہفتے کے آخری روز کاروبار کے آغاز پر ہی 100 انڈیکس میں 2500 پوائنٹس سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 8 ہزار 400 پر آگیا،کاروبار کے اختتام تک 100 انڈیکسں 4795 پوائنٹس سے زائد کمی کے ساتھ 1 لاکھ 6 ہزار 274 پر بند ہوا۔

    گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 3790 پوائنٹس گر کر 1 لاکھ 11 ہزار 70 پوائنٹس پر بند ہوا تھا،ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں کریکشن آرہی ہے، جلدی ریکوری بھی ہوجائے گی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 26 ڈالر کی کمی سے 2621ڈالر کی سطح پر آگئی کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعرات کو 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 2100روپے کی کمی سے 273300روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 2229روپے کی کمی سے 234311روپے کی سطح پر آگئی، اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 50روہے کے اضافے سے 3350روپے اور 10گرام چاندی کی قیمت بھی 42.87 روپے کے اضافے سے 2872.08روپے ہوگئی۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں  شدید مندی،کاروبار وقت سے قبل ہی بند

    اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی،کاروبار وقت سے قبل ہی بند

    کراچی: اسٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے دوران ہنڈرڈ 3790 پوائنٹس کی شدید مندی دیکھنے میں آئی جس کے باعث کاروبار کو وقت سے قبل ہی بند کر دیا گیا ۔

    باغی ٹی وی: کاروباری ہفتے کے تیسرے روز مثبت آغاز ہوا اور 100 انڈیکس میں ایک لاکھ 16 ہزار پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی،دوران کاروبار بینچ مارک 100 انڈیکس میں 1300 سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 16 ہزار 165 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرنے لگا۔

    لیکن کچھ دیر بعد منفی رجحان زور پکڑ گیا اور انڈیکس میں 2400 کی کمی ریکارڈ کی گئی کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 3790 پوائنٹس کمی کے ساتھ ایک لاکھ 11 ہزار 70 پر بند ہوا، جس کے بعد مارکیٹ کو وقت سے قبل ہی بند کر دیا گیا ، علاوہ ازیں اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی جانب سے پرافٹ ٹیکنگ کے باعث 100 انڈیکس میں 3 ہزار 790 پوائنٹس کمی ہوگئی،اسٹاک مارکیٹ میں آج 472 کمپنیز کے 60 ارب 24 کروڑ روپے مالیت کے ایک ارب 11 کروڑ شیئرز کے سودے کئے گئے۔

    واضح رہے کہ کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100انڈیکس 1308 پوائنٹس کی کمی کیساتھ 1 لاکھ 14 ہزار 860 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔

  • پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر  میں  72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا

    پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر میں 72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا

    کراچی: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مالی سال کے 5 مہینوں میں 94 کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق نومبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 72 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، نومبر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس فروری 2015 کے بعد بلند ترین ہے، نومبر 2024 میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 2.35 ارب ڈالر رہا۔

    اسٹیٹ بینک کیمطابق مالی سال کے 5 مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 94 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس رہا جولائی سے نومبر تک تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 14.55 ارب ڈالر رہا، جولائی سے نومبر تک ملکی برآمدات 13.28 ارب ڈالر رہیں جولائی سے نومبر تک ملکی برآمدات 13.28 ارب ڈالر رہیں جولائی سے نومبر تک ملکی درآمدات 22.97 ارب ڈالر رہیں۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ 9.68 کروڑ ڈالر رہا پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ گذشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں سے 10 فیصد زائد ہے جولائی سے نومبر تک ملکی درآمدات 22.97 ارب ڈالر رہیں، مالی سال کے پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ 9.68 ارب ڈالر رہا، پانچ مہینوں کا تجارتی خسارہ گذشتہ مالی سال کے ابتدائی پانچ مہینوں سے 10 فیصد زائد ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق خسارے کی ادائیگی کے لیے رواں سال 33 فیصد اضافی رقوم رہیں پانچ مہینوں میں ورکرز ترسیلات 14.76 ارب ڈالر موصول ہوئیں، پانچ مہینوں کی بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے بعد 94 کروڑ ڈالر اضافی رہے، نومبر میں آئی ٹی برآمدات 32.4 کروڑ ڈالر رہیں، اکتوبر کے مقابلے میں نومبر کی آئی ٹی برآمدات 2 فیصد کم رہیں۔

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید کمی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید کمی

    کراچی: ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں مزید کمی ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت 800 روپے کم ہوئی ہے اس کمی کے بعد آج سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 77 ہزار روپے ہے10 گرام سونے کی قیمت 687 روپے کم ہوکر 2 لاکھ 37 ہزار 482 روپے ہے،جبکہ عالمی بازار میں بھی سونے کی فی اونس قیمت 8 ڈالر کم ہوکر 2 ہزار 658 ڈالر ہے اس سے قبل ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5 ہزار روپے کی کم ہوئی تھی۔

    دوسری جانب ملک میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3400روپے اور فی 10گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2914.95روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

  • اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں 2 فیصد کمی ،وزیراعظم کا خیر مقدم

    اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں 2 فیصد کمی ،وزیراعظم کا خیر مقدم

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے شرح سود میں 2 فیصد کمی کردی، جس کے بعد ملک کی شرح سود 15 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آگئی۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا، جس میں شرح سود میں مزید 2 فیصد کمی کردی گئی، کمی کے بعد شرح سود 15 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آگئی،اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مسلسل پانچویں مرتبہ شرح سود کم کی ہے، اس ماہ مہنگائی کی شرح میں 4.9 فیصد کمی ہوئی۔

    دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 2 فیصد کمی کا خیر مقدم کیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا 13 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے ، پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا،پالیسی ریٹ میں کمی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا ، کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے ، امید کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی ،معیشت کی بحالی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں-

  • غیر قانونی ڈالر کی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن،ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ

    غیر قانونی ڈالر کی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن،ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ

    پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکی زر مبادلہ کی تجارت کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ہیں جس کے باعث ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    ملک میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقم میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ نومبر تک پانچ ماہ میں 14.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔یہ اضافہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے ڈالر کی غیر رسمی خرید و فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہوا ہے۔ اس کریک ڈاؤن کا مقصد ملک میں ڈالر کے غیر قانونی تجارت کو روکنا اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس سال ترسیلات زر 35 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال 30 ارب ڈالر تھیں۔

    پاکستان میں غیر قانونی ڈالر کی تجارت گزشتہ برسوں میں ایک سنگین مسئلہ بن چکی تھی، جس کے باعث ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا تھا اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ تاہم، حکومت کی حالیہ پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے بلکہ روپے کی قدر میں بھی استحکام آیا ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق، پاکستان میں ترسیلات زر کا اضافہ اس بات کا غماز ہے کہ حکومت کے اقدامات موثر ثابت ہو رہے ہیں اور یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔پاکستان کی معیشت میں ترسیلات زر کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ یہ ملک کی درآمدات کی ادائیگی، اقتصادی ترقی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    پاکستان نے حالیہ برسوں میں ڈالر کی غیر قانونی تجارت اور کالے دھن کے حوالے سے ایک سخت کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات غیر رسمی اور کالا مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتوں کے استحکام کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں جہاں ایک طرف غیر قانونی ڈالر کی تجارت میں کمی آئی ہے، وہیں دوسری طرف ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بینکوں اور مالی اداروں کے ذریعے ڈالر کی خرید و فروخت میں محدودیت اور قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ کے باعث غیر رسمی مارکیٹس میں ڈالر کا کاروبار عروج پر تھا۔ ان مارکیٹس میں ڈالر کی قیمت بینکوں کی قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ غیر قانونی ذرائع سے ڈالر خریدنے لگے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچا۔غیر قانونی ڈالر کی تجارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود کالے دھن کے انخلاء کا مسئلہ بھی سنگین تھا۔ یہ کالے دھن کے سرمایہ کار اپنی دولت کو غیر قانونی ذرائع سے غیر ملکی کرنسی کے طور پر منتقل کرتے تھے، جس سے نہ صرف ملکی کرنسی پر دباؤ آتا تھا، بلکہ ڈالر کی قلت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔پاکستان کی حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں سب سے اہم وہ قانونی اقدامات شامل ہیں جو کہ غیر قانونی ڈالر کی خرید و فروخت پر قابو پانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ اس کریک ڈاؤن کے دوران پاکستان کے مرکزی بینک "اسٹیٹ بینک آف پاکستان” نے ڈالر کی خرید و فروخت کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو سخت کیا، اور غیر قانونی چینلز سے ڈالر کی خریداری پر پابندی لگائی۔اس کے علاوہ حکومت نے ملک بھر میں چھاپے مار کر غیر قانونی منی چینجرز اور کرنسی ڈیلرز کو گرفتار کیا اور ان کے کاروبار کو بند کر دیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں غیر قانونی ڈالر کی مارکیٹ پر قابو پایا گیا، جس نے غیر رسمی مارکیٹوں میں ڈالر کی قیمت کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کی۔

    پاکستانی حکومت کے اس کریک ڈاؤن کے اثرات نے ترسیلات زر کے حوالے سے بھی مثبت نتائج دکھائے ہیں۔ جب ڈالر کی قیمت غیر رسمی مارکیٹ میں مستحکم ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ بینکوں کے ذریعے ڈالر کی خرید و فروخت آسان اور محفوظ بن گئی، تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی رفتار میں اضافہ ہوا۔ پاکستان کی حکومت نے اس کریک ڈاؤن کو معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔ غیر قانونی ڈالر کی تجارت کو ختم کرنے سے جہاں ملکی کرنسی کی قدر میں استحکام آیا ہے، وہاں ترسیلات زر کی بڑھتی ہوئی مقدار نے ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو بھی مستحکم کیا ہے۔پاکستان کے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس کریک ڈاؤن کو جاری رکھا اور دیگر اصلاحات کی تو ملک کی معیشت میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ملک کے مالیاتی اداروں کے ذریعے کاروبار کرنے والے شہریوں کو اعتماد ملے گا، اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اپنی ترسیلات زر کو محفوظ طریقے سے ملک میں بھیج سکیں گے۔

    پاکستانی حکومت کے اس کریک ڈاؤن کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہوا کہ غیر قانونی کرنسی مارکیٹس کا خاتمہ ہوا۔ ان مارکیٹس میں ڈالر کی قیمتیں اکثر مختلف ہوتی تھیں، اور ان مارکیٹس سے کرنسی خریدنے والے افراد نہ صرف مالی نقصان اٹھاتے تھے بلکہ اس سے ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہنچتا تھا۔ اب ان غیر قانونی مارکیٹس پر کنٹرول پانے کے بعد، پاکستانی شہریوں اور کاروباری افراد کو قانونی طریقے سے کرنسی کی خریداری میں سہولت ملے گی۔پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ایک واضح تبدیلی آئی ہے۔ حکومت کے اقدامات اور ترسیلات زر میں اضافے کے باعث پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جس سے معیشت میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اگر حکومت نے اس طریقہ کار کو جاری رکھا اور دیگر اصلاحات پر عمل کیا تو پاکستان کی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کل،شرح سود میں دو فیصد تک کمی کا امکان

    نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کل،شرح سود میں دو فیصد تک کمی کا امکان

    کراچی:اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کل بروز پیر 16 دسمبر کو کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی : افراط زر میں نمایاں کمی کے پیش نظر شرح سود میں دو فیصد تک کمی کا امکان ہے16 دسمبر کو مانیٹری پالیسی کے اعلان سےقبل مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت ہوگامعاشی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد پالیسی ریٹ کا اعلان کیا جائے گا۔

    دوسری جانب صنعت کار پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیادی شرح سود میں دو فیصد تک کمی کا امکان ہے۔

    ایک سروے کے مطابق 71فیصد افراد پالیسی ریٹ میں کم از کم 2فیصد کمی کی توقع کر رہے ہیں، تاہم 29 فیصد کا خیال ہے کہ شرح سود میں50 سے150 بیسز پوائنٹس کمی ہوگی،71 سے 63فیصد کو شرح سود میں 2 فیصد،30 فیصد کی رائے میں ڈھائی فیصد جبکہ 7 فیصد کو ڈھائی فیصد سے زائد کمی کی امید ہے،جون 2024 ے بعد سے مسلسل 4اجلاس میں شرح سود میں 7 فیصد کمی کی جا چکی ہے-

  • 2024 میں آؤٹ سورسنگ سروسز کے لیے 10 بہترین ممالک

    2024 میں آؤٹ سورسنگ سروسز کے لیے 10 بہترین ممالک

    آؤٹ سورسنگ کاروباروں کو دوسرے ممالک کی مہارت اور لاگت کے فوائد سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتی ہے، جس سے کارکردگی اور مسابقت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی: کیا آپ 2024 میں اپنی خدمات کو آؤٹ سورس کرنے پر غور کر رہے ہیں؟ تو مندرجہ ذیل ممالک اس کیلئے بہترین رہیں گے-آؤٹ سورسنگ دنیا بھر کے کاروباروں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوئی ہے یہاں تین زبردست وجوہات ہیں کہ آپ کو 2024 میں آؤٹ سورسنگ پر کیوں غور کرنا چاہئے:

    بہتر لاگت کی کارکردگی

    آؤٹ سورسنگ آپ کو کم مزدوری کی لاگت والے ممالک کی طرف سے پیش کردہ لاگت کے فوائد کو استعمال کرنے دیتا ہے،یہ آپ کو اپنے وسائل کو بہتر بنانے اور اپنے بجٹ کو زیادہ مؤثر طریقے سے مختص کرنے کی اجازت دیتا ہے، بالآخر اعلی منافع اور ترقی کو آگے بڑھاتا ہے۔

    خصوصی مہارتوں اور ہنر تک رسائی
    آؤٹ سورسنگ عالمی سطح پر خصوصی مہارتوں اور ہنر کے وسیع دروازے کھولتی ہے۔ آپ مختلف شعبوں میں ایسے ماہرین تلاش کر سکتے ہیں جو مقامی طور پر خدمات حاصل کرنے کے مقابلے میں اکثر قیمت کے ایک حصے پر اعلیٰ معیار کا کام فراہم کر سکتے ہیں۔

    عالمی ہنر کو ملازمت دینے سے آپ کو مسابقتی برتری اور اعلیٰ درجے کے پیشہ ور افراد کے ساتھ تعاون کرنے کا موقع ملتا ہے جو آپ کے کاروبار میں قدر بڑھا سکتے ہیں۔

    بنیادی کاروباری کارروائیوں پر توجہ دیں:غیر بنیادی کاروباری افعال کو فارم کرنا آپ کو اپنی توجہ اور وسائل کو اپنی بنیادی صلاحیتوں کی طرف ری ڈائریکٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بیرونی ماہرین کو بار بار یا وقت طلب کام سونپ کر، آپ اپنے کاموں کو ہموار کر سکتے ہیں اور ایسے تزویراتی اقدامات پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں جو آپ کے کاروبار کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کے انتخاب کے معیارات

    آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کا انتخاب کرتے وقت، کامیاب شراکت کو یقینی بنانے کے لیے کچھ معیارات پر غور کرنا ضروری ہے۔

    معیاری انفراسٹرکچر

    مضبوط انفراسٹرکچر والے ممالک کی تلاش کریں آؤٹ سورسنگ کے لیے بہترین ممالک کے پاس قابل بھروسہ ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک اور جدید سہولتیں ہیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے مواصلات اور آپریشنز کو سپورٹ کرتی ہیں۔

    سیاسی اور معاشی استحکام

    طویل مدتی کامیاب آؤٹ سورسنگ تعلقات کے لیے سیاسی اور اقتصادی ماحول میں استحکام بہت ضروری ہے،سازگار کاروباری ماحول اور مستحکم حکمرانی والے ممالک کا انتخاب کریں۔

    ثقافتی مطابقت

    ثقافتی اختلافات کو سمجھنا اور ان کی تعریف کرنا موثر تعاون میں حصہ ڈال سکتا ہے ثقافتی مطابقت رکھنے والے ممالک کا انتخاب کریں جو آپ کی کاروباری اقدار اور طرز عمل سے اچھی طرح ہم آہنگ ہوں۔

    زبان کی مہارت

    آؤٹ سورسنگ کی کامیابی کے لیے موثر مواصلت ضروری ہے ہموار تعامل کو یقینی بنانے کے لیے انگریزی بولنے والے افرادی قوت یا کثیر لسانی ہنر کی دستیابی کے حامل ممالک پر غور کریں۔

    قانونی اور دانشورانہ املاک کا تحفظ

    اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جس ملک کا انتخاب کرتے ہیں اس میں املاک دانش کے حقوق کے تحفظ اور معاہدوں کو نافذ کرنے کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک موجود ہے یہ آپ کی حساس معلومات اور ملکیتی ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔

    آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے 10 بہترین ممالک

    2024 میں آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے بہترین ممالک ، یہ ممالک لاگت کے فوائد، ہنر مند افرادی قوت، سازگار کاروباری ماحول، اور قابل اعتماد انفراسٹرکچر کا مجموعہ پیش کرتے ہیں:

    1. فلپائن

    فلپائن آؤٹ سورسنگ سروسز، خاص طور پر کسٹمر سپورٹ اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (BPO) کے لیے ایک بہترین انتخاب کے طور پر ابھرا ہے انگریزی بولنے والی بڑی آبادی اور کام کی مضبوط اخلاقیات کے ساتھ، فلپائنی پیشہ ور ثقافتی مطابقت کو برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کا کام فراہم کرتے ہیں۔

    2. ہندوستان

    ہندوستان طویل عرصے سے آؤٹ سورسنگ کا ایک مقبول مقام رہا ہے، جو مختلف ڈومینز جیسے کہ IT، کسٹمر سپورٹ، اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں ہنر مند پیشہ ور افراد کے وسیع پول کے لیے جانا جاتا ہے۔یہ ملک لاگت کے فوائد اور بین الاقوامی کاروباری طریقوں کی گہری تفہیم پیش کرتا ہے۔

    3. پولینڈ

    پولینڈ یورپ میں آؤٹ سورسنگ کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر پہچان حاصل کر رہا ہے یہ ملک اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت، سستی مزدوری کے اخراجات اور سازگار کاروباری ماحول کا حامل ہے، پولینڈ آئی ٹی آؤٹ سورسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور تحقیق و ترقی کے لیے ایک پرکشش انتخاب بن گیا ہے۔

    4. یوکرین

    یوکرین تیزی سے آؤٹ سورسنگ خدمات کے لیے ٹیک ہب بن رہا ہے یہ اپنے انتہائی ہنر مند آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے مشہور ہے، جو مختلف شعبوں میں کام کرنے میں بھی ماہر ہیں، یوکرین کا اسٹریٹجک مقام اور مغربی کلائنٹس کے ساتھ ثقافتی مطابقت آؤٹ سورس کرنے کے خواہاں کاروباروں کے لیے بے مثال فوائد فراہم کرتی ہے۔

    5. چین

    چین آؤٹ سورسنگ لینڈ سکیپ میں خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور پروڈکشن میں ایک نمایاں کھلاڑی ہے،اپنی وسیع مینوفیکچرنگ صلا حیتوں، سازگار مزدوری لاگت، اور قائم کردہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ، چین ایک اور قابل اعتماد آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر کام کرتا ہے۔

    6. ملائیشیا

    آئی ٹی اور کاروباری عمل کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے ملائیشیا بھی بہترین ممالک میں شامل ہےتعلیم اور ٹیکنالوجی پر زور دینے کے ساتھ، ملائیشیا ایک ٹیلنٹ پول پیش کرتا ہے جو آئی ٹی سے لے کر کسٹمر سروس تک مختلف صنعتوں میں علم رکھتا ہے، کاروبار ملائیشیا کے سازگار کاروباری ماحول، جدید سہولیات اور معاون حکومتی پالیسیوں سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    7. میکسیکو

    میکسیکو اپنی جغرافیائی قربت اور مشترکہ ٹائم زونز کی بدولت شمالی امریکہ کی کمپنیوں کے لیے ایک ترجیحی آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر ابھرا ہےملک ہنر مند دو لسانی پیشہ ور افراد اور لاگت کے فوائد پیش کرتا ہے، جو اسے کسٹمر سپورٹ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔

    8. برازیل
    برازیل کا تیزی سے بڑھتا ہوا آئی ٹی سیکٹر اسے آؤٹ سورسنگ کی ایک اور پناہ گاہ بناتا ہے۔ اس خودمختار ریاست کے پاس سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ایپلی کیشن مینٹیننس، اور آئی ٹی سپورٹ پر توجہ کے ساتھ آئی ٹی کے ماہر ماہر ہیں۔

    9. ویتنام
    ویتنام نے آؤٹ سورسنگ انڈسٹری میں خاص طور پر آئی ٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ میں نمایاں ترقی دیکھی ہے۔یہ ملک ایک نوجوان اور ٹیک سیوی افرادی قوت، مسابقتی اخراجات اور معاون حکومت پیش کرتا ہے۔

    10. بلغاریہ
    مشرقی یورپ میں واقع بلغاریہ آئی ٹی اور سافٹ ویئر کی ترقی کے لیے ایک مثالی آؤٹ سورسنگ منزل کے طور پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ملک ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت اور سازگار کاروباری ماحول پیش کرتا ہے بڑی یورپی منڈیوں سے بلغاریہ کی قربت ان کاروباروں کے لیے ایک مثالی انتخاب پیش کرتی ہے جو لاگت سے موثر اور موثر آؤٹ سورسنگ حل تلاش کرتے ہیں۔

    اپنی ضروریات کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے بہترین ممالک میں سے انتخاب کریں۔
    آؤٹ سورسنگ آپ کے کاروبار کے لیے ایک تبدیلی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، جو آپ کو عالمی مہارت اور وسائل سے فائدہ اٹھانے، کارکردگی بڑھانے، اور ترقی کو آگے بڑھانے کے قابل بناتا ہے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،انڈیکس 1 لاکھ 14 ہزار کی ریکارڈ سطح پر بند

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،انڈیکس 1 لاکھ 14 ہزار کی ریکارڈ سطح پر بند

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل مثبت کاروبار کے باعث 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر برقرار رہی۔

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار میں تیزی دیکھی گئی، جہاں کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 2671 پوائنٹس کا اضافہ ہوا،جس کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں بینچ مارک 100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 13 ہزار 400 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

    کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 3377 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 14 ہزار 180 کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا، مارکیٹ میں 463 کمپنز کے 64 ارب 39 کروڑ روپے مالیت کے ایک ارب 45 کروڑ شیئرز کے سودے کئے گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1913 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 11 ہزار 810 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان میں آج پھر سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہےآل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 2300 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد سونے کی قیمت 2 لاکھ 82 ہزار 800 ہوگئی ہے،ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 1971 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 42 ہزار 455 روپے ہےدوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کا بھاؤ 23 ڈالر اضافے سے 2716 ڈالر فی اونس ہے۔

  • اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب نے اسلامک کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کے حوالے سے زوم پر خطاب کرتے ہوئے اظہار خیال کیا اور مختلف مالیاتی اداروں کی کاوشوں کی تعریف کی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے اور اس کے انعقاد پر پاکستان کے مالیاتی اداروں جیسے ایس ای سی پی (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان)، ایوفی (اسلامی فنانس انسٹی ٹیوٹ) اور اسلامی ترقیاتی بینک کو مبارکباد پیش کی۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ خود اس کانفرنس میں کراچی آ کر شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن اپنی مصروفیات کے باعث وہاں نہیں پہنچ سکے۔ تاہم، انہوں نے بیرونی مندوبین کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور اس بات کا یقین دلایا کہ پاکستان اسلامی مالیاتی مارکیٹس کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کا انعقاد اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان کا مالی نظام شریعہ اصولوں پر منتقلی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کی راہ میں پیش رفت انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی کا نشان ہے جو نہ صرف مالیاتی شعبے کو مستحکم کرے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی تقویت دے گی۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے اس سفر میں تمام اداروں اور افراد کو یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔ شریعہ اصولوں پر مبنی مالیاتی مصنوعات تیار کرنا اور ان مصنوعات سے صارف کا اعتماد حاصل کرنا اس تبدیلی کی بنیاد ہے۔ یہ صرف ایک مالیاتی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی تبدیلی کی طرف بھی ایک قدم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی خدمات کی مانگ بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو اس بڑھتی ہوئی عالمی طلب کا فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی مالیاتی مارکیٹوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر اسلامی فنانشل خدمات کے لیے ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے اور پاکستان کو اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔وزیر خزانہ نے ایس ای سی پی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یہ ادارہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ماحول فراہم کر رہا ہے تاکہ مالیاتی ادارے شفافیت اور اخلاقی اصولوں کے تحت کام کر سکیں۔ ایس ای سی پی کا یہ عمل مالیاتی شعبے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی اہم ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے اور ملکی معیشت میں استحکام آئے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے آخر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے عمل میں حکومت اور مالیاتی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر کو حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت

    ریڈ بال کوچ ٹم نیلسن کا پاکستانی ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر