Baaghi TV

Category: کاروبار

  • آئی ایم ایف کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ

    پاکستان کی حکومت کو فروری 2025 کے آخر تک آئی ایم ایف کے ساختیاتی معیارات (اسٹرکچرل بینچ مارک کے تقاضے) کی تعمیل کے لیے سول سرونٹس ایکٹ میں ضروری ترامیم کرنی ہوں گی تاکہ اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے شفاف طریقے سے ظاہر کیے جا سکیں۔ اس کے تحت، گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری عہدیداروں کے اثاثے ڈیجیٹل طور پر فائل کیے جائیں گے اور عوامی سطح پر ان تک رسائی فراہم کی جائے گی، جس کے لیے پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانونی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

    آئی ایم ایف نے اپنے گورننس اور کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں کرپشن، سرخ فیتہ (بیوروکریٹک رکاوٹیں) اور کمزور کاروباری ماحول بنیادی مسائل ہیں۔ یہ رپورٹ ایک تکنیکی مشن کی شکل میں آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں تیار کی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن اور گورننس کی بہتری کے لیے مزید اصلاحات کی تجویز پیش کی۔حکومت نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ سول سرونٹس ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کی فائلنگ اور عوامی رسائی کی بہتر سسٹم بنایا جا سکے۔ ایف بی آر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ان اثاثوں کی معلومات رازداری کے تحفظات کے ساتھ ڈیجیٹل فارم میں رکھی جائیں۔ یہ معلومات سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں پر محیط ہوں گی۔مزید برآں، حکومت نے اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ کرپشن (UNCAC) کے تحت اپنی تعمیل کی رپورٹ ستمبر 2024 کے آخر تک جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر نیب کے اختیارات میں مزید بہتری کے لیے ضروری ترامیم پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کی آزادانہ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اسی طرح، صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے اختیارات دیے جائیں گے، تاکہ منی لانڈرنگ اور مالیاتی کرائمز کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

    ایف بی آر کے ذریعے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل ستمبر 2024 کے آخر تک لانچ کیا جائے گا جس کے ذریعے بینکوں کی درخواستوں پر بروقت کارروائی کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ، بینکوں کو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے قوانین پر عمل کر سکیں۔

    پاکستانی حکام نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ ملک میں شفافیت، احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔ ان اقدامات کے ذریعے حکومت کی کوشش ہے کہ کاروباری و سرمایہ کاری کے لیے ایک بہتر اور شفاف ماحول فراہم کیا جا سکے، تاکہ اقتصادی ترقی کو مزید تقویت مل سکے۔

    غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا،ٹرمپ کی دھمکی

    2025 کیلئے دنیا کے طاقتورترین ممالک کی فہرست جاری

  • موبائلز فونز کی درآمدات میں کمی، چینی کمپنی پاکستان آ گئی

    موبائلز فونز کی درآمدات میں کمی، چینی کمپنی پاکستان آ گئی

    دسمبر 2024 کے دوران موبائلز فونز کی درآمدات میں 9.10 فیصد کمی ہوئی ہے ۔

    ادارہ برائےشماریات پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق اس دوران درآمدات کا حجم 45.4 ارب روپے تک کم ہوگیا جبکہ دسمبر 2023 میں 49.9ارب روپے مالیت کےموبائلز فونزدرآمد کئے گئے تھے ۔اس طرح دسمبر 2023 کے مقابلہ میں دسمبر 2024 کے دوران موبائلز فونز کی قومی درآمدات میں 4.5 ارب روپے یعنی 9 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔

    دوسری جانب صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کے دورہ چین کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں،اب موبائل فون پنجاب میں تیار ہوںگے۔صوبائی وزیرنے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں نجی موبائل کمپنی کے مینوفیکچرنگ پلانٹ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا، دو سال تک موبائل کی مینوفیکچرنگ شروع ہو جائیگی۔صوبائی وزیر شافع حسین نے کہا کہ چین کی کمپنی کا پنجاب میں موبائل فون کی اسمبلنگ کے بعد مینوفیکچرنگ میں آنا خوش آئند ہے، موبائل قیمتوں میں کمی آئے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے سرمایہ کاری کا بہترین وقت ہے، چین سمیت دیگر غیر ملکی کمپنیاں پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں.پنجاب میں جلد اربوں روپے کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری آئیگی، سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات اور مراعات دی جا رہی ہیں، صوبائی وزیر نے موبائل مینوفیکچرنگ پلانٹ کے تعمیراتی عمل کا مشاہدہ کیا۔

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار، ملکی و غیرملکی کرنسی برآمد

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 3 ہزار

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ججز کی سینیارٹی تبدیلی پر 5 ججز کی درخواستیں مسترد

    پاکستان میں پہلے روزے کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی

  • سونے کی قیمت میں بڑا  اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 3 ہزار

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 3 ہزار

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، عالمی منڈی میں سونے کے نرخ بڑھنے پر پاکستان میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ فی تولہ سونے کی نئی قیمت 3لاکھ روپے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ملک میں آج فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ فی تولہ سونے کی قیمت بڑھنے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں نئی قیمت 3 لاکھ 3 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی پھر بڑھ گئی ہے۔ 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 429 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔نئی قیمت 2 لاکھ 59 ہزار 773 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 17 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 279 روپے 21 پیسے ہو گئی ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں سعودی ریال کی قدر 74 روپے 45 پیسے جبکہ بحرینی دینار کی قدر 740 روپے 70 پیسے رہی۔اسی طرح عمانی ریال کی انٹربینک مارکیٹ میں قدر 725 روپے 21 پیسے رہی، کویتی دینار کی قدر 904 روپے اور قطری ریال کی قدر 76 روپے 58 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 279 روپے 75 پیسے اور قیمت فروخت 281 روپے 25 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
    مزید برآں وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 28 فیصد اضافہ سے 1.86 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، ڈیجیٹل نیشن ایکٹ 2025 پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں تبدیلی کا ایک عہد ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز کی سنیارٹی کیخلاف 5 ججز کی ریپریزنٹیشن مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ججز کی سینیارٹی تبدیلی پر 5 ججز کی درخواستیں مسترد

    پاکستان میں پہلے روزے کی ممکنہ تاریخ سامنے آگئی

    بلوچستان محتاج نہیں لیکن مسائل کی اصل وجہ پربھی توجہ دینی ہو گی ،فرح عظیم شاہ

  • مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ

    مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ

    حکومت نے رواں مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی جولائی تا دسمبر میں تمام شعبوں کی برآمدات میں قابل ذکر اضافہ حاصل کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس دوران مختلف شعبوں کی برآمدات میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھا گیا، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔

    جولائی تا دسمبر 2024 میں ٹیکسائل اور لیدر کی برآمدات میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ سالانہ بنیاد پر دیکھا گیا، جو ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹیکسائل کی صنعت پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے اور اس میں اضافے کا مطلب ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔اسی مدت میں ایگرو اور فوڈ سیکٹر میں بھی برآمدات میں 6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک مثبت رجحان ہے جو زرعی شعبے کی بہتری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان کا زرعی شعبہ دنیا کے کئی حصوں میں اپنی مصنوعات کی برآمدات میں کامیاب رہا ہے۔

    مالی سال کی پہلی ششماہی میں دیگر مینوفیکچرنگ مصنوعات کی برآمدات میں 11 فیصد، میٹلز اور جیمز کی برآمدات میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، منرلز اور پیٹرولیم کی برآمدات میں 48 فیصد، جبکہ کیمیکلز، فرٹیلائزرز اور فارما کی برآمدات میں 25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافے ملک کی صنعتی ترقی اور پیداوار کے معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔پہلی ششماہی میں ٹیکسائل اور لیدر کی برآمدات کا حجم 9 ارب 62 کروڑ 46 لاکھ ڈالرز تک پہنچا، جب کہ ایگرو اور فوڈ سیکٹر کی برآمدات 4 ارب 13 کروڑ ڈالرز رہیں۔ اس کے علاوہ، دیگر مینوفیکچرنگ مصنوعات کی برآمدات کا حجم ایک ارب 28 کروڑ ڈالر تھا، اور میٹلز اینڈ جیمز کی برآمدات کا حجم 61 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا۔ منرلز اور پیٹرولیم کی برآمدات 61 کروڑ 25 لاکھ ڈالر تک پہنچیں، جب کہ کیمیکلز، فرٹیلائزرز اور فارما سیکٹر کی برآمدات کا حجم 24 کروڑ 22 لاکھ ڈالر رہا۔

    پاکستان کی برآمدات میں یہ اضافہ ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ حکومت کے اقدامات سے نہ صرف ملکی صنعتوں کی بہتری ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو پاکستان کی معیشت میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے

    بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال

    سپیشل افراد کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی اقدامات

  • سونا ملکی تاریخ میں پہلی بار 3 لاکھ کی حد عبور کرگیا

    سونا ملکی تاریخ میں پہلی بار 3 لاکھ کی حد عبور کرگیا

    کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 1346 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 3 لاکھ 346 روپے تک پہنچ گئی ہے۔سونے کی قیمت میں اس اضافے کے بعد 10 گرام سونا بھی 1154 روپے مہنگا ہو گیا ہے اور اس کی قیمت 2 لاکھ 57 ہزار 241 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جہاں سونے کی قیمت 10 ڈالر اضافے کے بعد 2869 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے ہوا ہے، جس سے ملک میں سونے کی خرید و فروخت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ، عوام میں سونے کی خریداری میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، اور سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اس وقت سونے کی قیمت نے ملکی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل عبور کیا ہے، جس کے بعد عوام اور تجارتی حلقوں میں سونے کی قیمتوں کے مزید اضافے کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔

  • آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر ہوئی تو  پاکستان کی منفی ریٹنگ ہو سکتی،فچ

    آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر ہوئی تو پاکستان کی منفی ریٹنگ ہو سکتی،فچ

    معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے پاکستان کے بارے میں اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کی معاشی سرگرمیاں مستحکم ہو رہی ہیں اور شرح سود میں کمی سے اس کی اقتصادی حالت میں بہتری آئی ہے۔

    فچ نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی استحکام کی بحالی میں ہونے والی پیشرفت کو سراہا ہے اور اس کے قرض پروفائل کے لیے ساختی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے اپنے معاشی استحکام کی بحالی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، اور اس کے ساختی اصلاحات کے نتائج قرض کے انتظام کے لیے سودمند ثابت ہو رہے ہیں۔ فچ کے مطابق، یہ اصلاحات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزوں، دوطرفہ اور کثیر الجہتی فنانسنگ کی توقعات پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔اسٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود میں کمی، جو اب 12 فیصد پر آ گئی ہے، صارف مہنگائی میں کمی کی ایک اہم علامت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جون تک اوسط مہنگائی 24 فیصد تھی، جبکہ جنوری میں یہ 2 فیصد سے کچھ زائد رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی میں کمی کا رجحان نظر آ رہا ہے، جو معیشت کے استحکام کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔

    فچ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشی سرگرمیاں مستحکم ہیں اور شرح سود میں کمی سے بہتر ہو رہی ہیں۔ معاشی نمو کے حوالے سے اندازے ہیں کہ یہ 3 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کھاتے کا خسارہ کم ہو گیا ہے اور ترسیلات زر، زرعی برآمدات، اور سخت مانیٹری پالیسی کے اثرات کے باعث 1.2 ارب ڈالر کا سرپلس برقرار رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں، تاہم یہ مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔فچ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مالی سال 2025-2026 میں پاکستان کو 22 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہوں گی۔ ان مجموعی ادائیگیوں میں سے 13 ارب ڈالر دوطرفہ ڈپازٹس ہوں گے، جو امکاناً رول اوور ہو جائیں گے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اقتصادی سطح پر کچھ بہتر پیشرفت ہوئی ہے، خاص طور پر مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹیکس آمدنی آئی ایم ایف کے ہدف سے کم رہی، لیکن پرائمری سرپلس آئی ایم ایف کے ہدف سے زیادہ رہا۔ صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس کے حوالے سے قانون سازی بھی مکمل کر لی ہے۔آخر میں، فچ نے کہا کہ زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور بیرونی فنانسنگ کی ضرورت میں کمی جولائی میں پاکستان کی مثبت ریٹنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم، اگر آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر ہوئی تو یہ پاکستان کی منفی ریٹنگ کا سبب بن سکتا ہے۔

  • سونا مہنگا، فی تولہ قیمت 3 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گئی

    سونا مہنگا، فی تولہ قیمت 3 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گئی

    ملک میں سونے کی قیمت میں آج 5 ہزار 300 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت تقریبا تین لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی قیمت میں اس بڑے اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 99 ہزار 600 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 158 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 56 ہزار 859 روپے ہوگئی۔دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی وجہ چین اور امریکہ کے درمیان ایک نئی تجارتی جنگ کے خدشات ہیں کیونکہ بیجنگ نے چینی مصنوعات پر نئے امریکی محصولات کے جواب میں امریکی درآمدات پر محصولات عائد کیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو، کینیڈا اور چین سے آنے والی اشیاء پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکہ میں فینٹینائل کی آمد کو روکیں۔جبکہ کینیڈا اور میکسیکو سے غیرقانونی تارکین وطن کی آمد بھی روکنے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں ایک تجارتی جنگ کا آغاز ہوا جو عالمی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے اور مہنگائی میں پھر سے اضافہ کرسکتی ہے۔

    خیبرپختونخوا میں میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات ملتوی

    آئی سی سی کا چیمپیئنز ٹرافی کیلئے میچ آفیشلز کا اعلان

    موٹروے سے اسلحہ اسمگلنگ کی کوشش ، چار ملزمان گرفتار

    جناح ہسپتال میں زیرعلاج امریکی خاتون ذہنی مریضہ قرار

  • اسٹاک ایکسچینج مندی، سرمایہ کاروں کے 31 ارب ڈوب گئے

    اسٹاک ایکسچینج مندی، سرمایہ کاروں کے 31 ارب ڈوب گئے

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج مسلسل تیسرے دن مندی کا رجحان رہا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے مزید 31 ارب روپے ڈوب گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لسٹڈ کمپنیوں کی توقعات کے برعکس مالیاتی نتائج، رول اوور ویک کی وجہ سے بھاری مالیت کی لیوریج پوزیشنز اور فرٹیلائزر سیکٹر میں وسیع پیمانے پر فروخت کے رحجان سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی مندی رہی جس سے انڈیکس کی 1لاکھ 11ہزار پوائنٹس کی سطح بھی گرگئی۔مسلسل تیسرے دن مندی کے سبب 55.13فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جب کہ سرمایہ کاروں کے مزید 31ارب 96کروڑ 47لاکھ 80ہزار 278روپے ڈوب گئے۔ بدھ کے روز کاروباری دورانیے میں پیٹرولیم سیکٹر کی کچھ کمپنیوں میں خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے ایک موقع پر 540پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی لیکن تیزی رونما ہوتے ہی فرٹیلائزر آئی ٹی آٹوموٹیو سیکٹر میں حصص کی دھڑا دھڑ فروخت سے مارکیٹ میں تیزی برقرار نہ رہ سکی اور ایک موقع پر 873 پوائنٹس کی مندی بھی ہوئی۔

    بعد ازاں اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر دوبارہ خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی اور نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 543.00 پوائنٹس کی کمی سے 111487.36پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 201.46پوائنٹس کی کمی سے 34934.40پوائنٹس، کے ایس ای آل شئیر انڈیکس 160.57 پوائنٹس کی کمی سے 69018.85 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 338.44پوائنٹس کی کمی سے 167466.62پوائنٹس پر بند ہوا۔

    بدھ کو مارکیٹ میں کاروباری حجم منگل کی نسبت 13.24فیصد کم رہا جب کہ مجموعی طور پر 44کروڑ 92لاکھ 44ہزار 755 حصص کے سودے ہوئے اور کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 448 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا، جن میں 138 کے بھا میں اضافہ، 247 کے داموں میں کمی اور 63 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، ان میں رفحان میظ کے بھا 100.01روپے بڑھ کر 9400 روپے اور یونی لیور پاکستان فوڈز کے بھا 48.08روپے بڑھ کر 2951.92روپے ہوگئے جب کہ ہوئسٹ پاکستان کے بھا 47.96 روپے گھٹ کر 1850روپے اور اسماعیل انڈسٹریز کے بھا گھٹ گئے۔

    کراچی آنے والی امریکی خاتون نفسیاتی ، پولیس نے تحویل میں لے لیا

    پاک بحریہ کے جہازپی این ایس یمامہ کا دورہ جدہ،دوطرفہ مشق میں شرکت

    مختلف شہروں میں بارش سےسردی کی شدت بڑھ گئی

    ٹرمپ انتظامیہ حماس کے ہمدردوں کے پیچے پڑ گئی،ویزے منسوخ

    ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

  • ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

    ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

    پورٹ قاسم پر ایڈیبل آئل کی شپمنٹس کی کلئیرنس کا عمل تعطل کا شکار ہونے سے ملک میں گھی اور خوردنی تیل کی قلت پیدا ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے.

    پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چئیرمین شیخ عمر ریحان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ایڈیبل آئل کے درآمدی کنسائنمنٹس رکی ہوئی ہیں۔ ٹرمینل پر شپمنٹس اتارنے کی جگہ نہیں ہے جبکہ ایڈیبل آئل کے درآمدی کنسائنمنٹس کو ڈسچارج کرانے کے لئے 8 سے 10 بحری جہاز قطاروں میں کھڑے انتظار کررہے ہیں جس میں 70ہزار سے زائد میٹرک ٹن پام آئل لدا ہوا ہے، اس صورتحال کی وجہ سے ملک میں گھی اور خوردنی تیل کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق بندرگاہ پر پھنسے ہوئے کنسائنمنٹس پر بھاری ڈیمریجز اور دیگر جرمانے لگ رہے ہیں، کسٹم کا سافٹ ویئر پی ایس ڈبلیو کی بندش سے معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، کلیئرنس نہ ہونے سے امپورٹرز کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے، پورٹ سے کلیئرنس رکنے کی وجہ سے خوردنی تیل کی قلت کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔شیخ عمر ریحان نے کہا کہ کسٹم کے سافٹ ویئر پی ایس ڈبلیو کی بندش سے معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، کلیئرنگ نہ ہونے سے امپورٹرز کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

    دبئی دنیا کا سب سے صاف ترین شہر قرار

    صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    دنیا بدل رہی پاکستان میں مذاکرات کا کھیل ختم نہیں ہورہا۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سندھ ہائیکورٹ کے12 نئے ایڈیشنل ججز نےعہدے کا حلف اٹھا لیا

  • ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    ٖ چینی کمپنی کی پاکستان میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

    پاکستانی معیشت کے لئے اچھی خبر ،چینی گروپ نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ پلانٹس میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ کے توانائی کے وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت چینی کمپنی کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی،اگر چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بناتی ہے تو سندھ حکومت کراچی میں لگنے والے پلانٹ سے 20 فیصد سے زائد گاڑیاں سندھ حکومت اپنی خریداری کے لے گی۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں تقریب کے چیئرمین ملک گروپ اورچائنا کی کمپنی اے ڈی این گروپ کے مشترکہ چارجنگ اسٹیشنزکے منصوبے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں میڈیا سے گفتگو میں کہی۔اس موقع پر ملک گروپ کے چیئرمین ملک خدا بخش اور اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ تقریب میں معروف سرمایہ کار عارف حبیب،ممتاز صنعتکار زبیرطفیل،خالدتواب،حنیف گوہر،عبدالسمیع خان،مظہر علی ناصر،مرزا اشتیاق بیگ،عبدالحسیب خان اوردیگر بھی موجود تھے۔
    ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چارجنگ پلانٹس کے لئے بھی سندھ حکومت جگہ اور ہر قسم کی سہولت دینے کو تیار ہے۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت غیر ملکی کمپنی کو ملک میں سرمایہ کاری کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں رواں سال کے اخر تک چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں ،منی ٹرکس ،ایس یو ویز بنانے شروع کردیں گے، چینی کمپنی اگر مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کو رعایتی طور پر سندھ حکومت کو دے تو وہ سندھ حکومت کی لئے گاڑیوں کی خریداری کا بیس فیصد ان سے لے گی۔

    پاکستان میں چینی گروپ کے پارٹنر ملک خدا بخش نے کہا کہ چین سے 30 چارجنگ پلانٹس مزید دس روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے جو پورے ملک میں لگنا شروع ہوجائیں گے ،،امید ہے کہ رواں سال کے اخر تک ہم ملک بھر میں الیکڑک چارجنگ پلانٹس مطلوبہ تعداد میں لگا لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلا چارجنگ اسٹیشن کراچی میں لگا لیا ہے اوردوسرا چارجنگ اسٹیشنز جمعرات کو لاہور میں لگے گا۔

    اے ڈی این گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی نے کہا کہ دوسرا لاہور میں لگنے جارہا ہے ،ان کی کمپنی پاکستان میں 90 ملین یو ایس ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک بھر میں 3 ہزار چارجنگ اسٹیشن لگائے گی ،جبکہ 240 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے گاڑیوں کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کے اخر تک ملک بھر میں ایک ہزار چارجنگ اسٹیشنز لگ جائیں گے جس کے بعد دسمبر تک پاکستان میں الیکڑک گاڑیاں بننا شروع ہوجائیں گی۔چینی کمپنی نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں سالانہ 72 ہزار الیکڑک گاڑیاں مینوفیکچر کریں گے ،،ساتھ ہی وہ پاکستان سے ان گاڑیوں کو مڈل ایسٹ ،سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی ایکسپورٹ کریںگے۔

    جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے روسی صدر کے قتل کی سازش کا انکشاف