نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ ہول سیل اور ری ٹیل قیمتوں میں فرق کم کرکے قیمتوں میں استحکام لایا جائے، بجٹ اہداف پورے کرنے کے لیے مالی ڈسپلن پرعمل درآمد کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد میں نگراں وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اخترکی زیر صدارت ہوا، جس میں صوبائی وزرائے خزانہ، دیگر متعلقہ وزراء اور افسران کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
جبکہ اجلاس میں ترقیاتی بجٹ کے استعمال پر نظرثانی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا جائزہ لیا گیا، اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں سہولیات بہتر بنانے اور سماجی تحفظ کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے پر بھی غور کیا گیا۔
واضح رہے کہ اجلاس میں نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر کا صوبائی حکومتوں پر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کردار ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہول سیل اور ری ٹیل قیمتوں میں فرق کم کرکے قیمتوں میں استحکام لایا جائے، صوبے فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے اور سوشل سروسز بہتر بنائیں، معاشی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لیے وفاق اور صوبوں میں بہتر روابط ضروری ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان سرکاری اخراجات کو معقول بنانے کی گنجائش موجود ہے، صوبے سماجی تحفظ سمیت ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائیں، تصحیح شدہ اقدامات سے مالی وسائل کی بچت کے ساتھ صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری آئے گی۔
نگراں وزیر خزانہ نے صوبوں کو وفاقی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کی ترجیحی فہرست تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے پرائمری بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے ریونیو اہداف حاصل کریں، اجلاس میں صوبوں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوششوں کی یقین دہانی کرا دی اور یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے بجٹ اہداف پورے کرنے کے لیے مالی ڈسپلن پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
Category: کاروبار
-

مالی ڈسپلن پرعمل درآمد کیا جائے گا، وزیر خزانہ
-

دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا
انسانی امداد اور ایشیائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارت کی وجہ سے اربوں ڈالر کی امداد نے افغانستان کی کرنسی کو اس سہ ماہی میں عالمی درجہ بندی میں سب سے اوپر پہنچا دیا ہے بلوم برگ نے لکھا ہے کہ بدترین انسانی حقوق کے ریکارڈ کے مطابق غربت کا شکار ملک کے لیے یہ ایک غیر معمولی مقام ہے۔ حکمران طالبان، جنہوں نے دو سال قبل اقتدار پر قبضہ کیا تھا، نے بھی افغانیوں کو مضبوط گڑھ میں رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں مقامی لین دین میں ڈالر اور پاکستانی روپے کے استعمال پر پابندی عائد کرنا اور گرین بیک کو ملک سے باہر لانے پر پابندیاں سخت کرنا شامل ہیں۔ اس نے آن لائن ٹریڈنگ کو غیر قانونی بنا دیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کی دھمکی دی ہے۔
بلومبرگ کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی کنٹرول، نقد رقم کی آمد اور دیگر ترسیلات زر نے اس سہ ماہی میں افغانیوں کو تقریبا 9 فیصد اضافے میں مدد دی ہے، جو کولمبیا کے پیسو کے 3 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سال کے دوران افغانی کرنسی میں تقریبا 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ کولمبیا اور سری لنکا کی کرنسیوں کے بعد عالمی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی تبدیلی کے بعد کرنسی کے نقصانات میں جو کمی دیکھی گئی ہے وہ اس ڈرامائی ہلچل کو بھی ظاہر کرتی ہے جو افغانستان پابندیوں کی وجہ سے عالمی مالیاتی نظام سے کافی حد تک کٹ گیا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بے روزگاری بہت زیادہ ہے، دو تہائی گھرانے بنیادی اشیاء خریدنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور افراط زر افراط زر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے 2021 کے اختتام کے بعد سے کم از کم 18 ماہ تک غریبوں کی مدد کے لیے تقریبا ہفتہ وار امریکی ڈالر کی آمد ہوتی ہے۔
جبکہ واشنگٹن میں قائم نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ پالیسی میں مشرق وسطیٰ، وسطی اور جنوبی ایشیائی امور کے ماہر کامران بخاری نے کہا، "کرنسی پر سخت کنٹرول کام کر رہا ہے، لیکن معاشی، سماجی اور سیاسی عدم استحکام کرنسی میں اس اضافے کو قلیل مدتی رجحان کے طور پر پیش کرے گا۔ افغانستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کی تجارت اب زیادہ تر منی چینجرز کے ذریعے کی جاتی ہے جنہیں مقامی طور پر صرافہ کہا جاتا ہے جو بازاروں میں اسٹال لگاتے ہیں یا شہروں اور دیہاتوں میں دکانوں سے کام کرتے ہیں۔ کابل میں مصروف، کھلی فضا میں چلنے والی مارکیٹ سرائے شہزادہ ملک کا حقیقی مالیاتی مرکز ہے، جہاں ہر روز لاکھوں ڈالر کے مساوی رقم گزرتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ٹریڈنگ کی کوئی حد نہیں ہے۔ مالی پابندیوں کی وجہ سے اب تقریبا تمام ترسیلات زر مشرق وسطیٰ سمیت خطوں میں رائج صدیوں پرانے حوالہ منی ٹرانسفر سسٹم کے ذریعے افغانستان منتقل کی جاتی ہیں۔ حوالہ سرافوں کے کاروبار کا ایک اہم حصہ ہے۔
اقوام متحدہ، جس کا تخمینہ ہے کہ افغانستان کو اس سال تقریبا 3.2 بلین ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے، نے اس میں سے تقریبا 1.1 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں، عالمی ادارے کی مالیاتی ٹریکنگ سروس کے مطابق. گزشتہ سال اس تنظیم نے تقریبا 4 ارب ڈالر خرچ کیے تھے کیونکہ افغانستان کے 41 ملین افراد میں سے نصف کو جان لیوا بھوک کا سامنا تھا۔ عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال معیشت سکڑنا بند ہو جائے گی اور 2025 تک 2 سے 3 فیصد کی شرح نمو حاصل کرے گی، حالانکہ اس نے عالمی امداد میں کمی جیسے خطرات سے خبردار کیا ہے کیونکہ طالبان نے خواتین پر جبر کو تیز کر دیا ہے۔ لندن میں بی ایم آئی میں یورپ کنٹری رسک کی سربراہ انویتا باسو نے کہا، "غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین پر سخت پابندیاں اور تجارت میں بتدریج بہتری افغانی کی طلب میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانی سال کے آخر تک موجودہ سطح پر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ ایک مضبوط کرنسی افغانستان کے لئے تیل جیسی اہم درآمدات کے لئے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، خاص طور پر جب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں۔
اب بھی، نقد رقم کے بہاؤ کے باوجود، انسانی صورتحال اور مالی نقطہ نظر سنگین ہے. اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کی جولائی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے منجمد زرمبادلہ کے 9.5 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے 3.5 ارب ڈالر جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اس منصوبے کو اس وقت روک دیا گیا جب اسے معلوم ہوا کہ مرکزی بینک کو طالبان سے آزادی حاصل نہیں ہے اور انسداد منی لانڈرنگ کنٹرول اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام میں کوتاہیاں ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سال غیر ملکی امداد میں 30 فیصد کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے فی کس آمدنی کم ہو کر 306 ڈالر رہ جائے گی جو 2020 کی سطح سے 40 فیصد کم ہے۔ خواتین کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیوں نے طالبان انتظامیہ کے اندر بھی تقسیم کو ہوا دی ہے ، کچھ نے کھلے عام اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخوندزادہ نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے، عوامی پارکوں میں جانے، جم استعمال کرنے اور مردوں کی حفاظت کے بغیر طویل فاصلے تک سفر کرنے سے منع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
رواں ماہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان نے جنوری 2022 سے رواں سال جولائی کے آخر تک لوگوں کی گرفتاری اور حراست کے دوران تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 1600 سے زائد واقعات کا ارتکاب کیا۔ دریں اثنا، 2023 میں پینٹاگون کے ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ دولت اسلامیہ ایک بار پھر دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دہشت گرد گروپ نے افغانستان میں حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جیسے ایک ڈپٹی گورنر کی ہلاکت اور ایک مسجد پر بم حملے میں داعش کے عسکریت پسندوں نے افغانستان میں چینی، بھارتی اور ایرانی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بی ایم آئی کے باسو نے کہا، "بالآخر، سیاسی استحکام کرنسی کو بنائے گا یا توڑ دے گا – اگر طالبان گھر پر کنٹرول کھو دیتے ہیں، تو کرنسی کو بھی نقصان پہنچے گا۔
-

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر مزید سستا
پاکستانی روپے کے مقابلے میں انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی واقع ہو ئی ہے اور
کاروباری دن امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ دیکھی گئی اور انٹر بینک میں امریکی ڈالر مزید ایک روپے پیسے سستا ہو گیا۔
انٹر بینک میں ڈالر کا بھاؤ 288 روپے 75 پیسے ہے جو گزشتہ روز 289 روپے 80 پیسے پر بند ہوا تھا۔اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں دو روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے بعد ایک ڈالر 292 روپے کا ہوگیا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر بلند ترین سطح سے 43 روپے سستا ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے ڈالر کی اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات کے بعد سے اب تک ڈالرکی انٹربینک قیمت بلند ترین سطح سے 18
روپے 30 پیسے کم ہو چکی ہے۔اس خبر کو مزید اپڈیٹ کیا جاوے گا
-

ڈالر 290 سے نیچے آگیا
ملکی تبادلہ منڈیوں میں روپے کے مقابلے ڈالر مسلسل 15ویں کاروباری روز سستا ہوگیا ہے اور کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کی ابتداء پر ایک روپے 26 پیسے کمی کے بعد ڈالر کی خرید و فروخت 289 روپے 60 پیسے میں جاری ہوئی جبکہ کرنسی ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں منگل کے روز ڈالر ایک روپے سستا ہوا ہے جس کے بعد امریکی کرنسی کی قیمت خرید 289 اور قیمت فروخت 292 روپے میں جاری ہے۔
تاہم واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 90 پیسے کمی سے 290 روپے 86 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی اور اوپن مارکیٹ میں بھی روپے کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی تھی، ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت خرید اور فروخت 50 پیسے اضافے کے بعد بالترتیب 290 اور 293 پر بند ہوئی تھی۔
جبکہ دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بھی آج کاروبار میں تیزی رجحان جاری ہے، پی ایس ایکس 100 انڈیکس ٹریڈنگ کے پہلے سیشن میں 78 پوائنٹس اضافے کے بعد 46 ہزار 472 پر پہنچ گیا ہے، 100 انڈیکس گزشتہ روز 46 ہزار 393 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔دوسری جانب انٹربینک اوراوپن مارکیٹ میں ڈالرکی مسلسل گراوٹ سےاشیاخوردونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آنا شروع ہو گئی اور جن اشیا کی قیمت میں نمایاں کمی ہوئی ان میں مختلف برانڈ کے گھی شامل ہیں، صوفی برانڈ کے مشہور گھی کی قیمت میں 35 روپے فی کلو گرام تک کی دیکھی گئی ہے۔ جس کی فی کلو قیمت 510 روپے ہوا کرتی تھی جو اب 475 روپے تک آگئی ہے،جبکہ دوسرے کئی برانڈ کے گھی کی قیمت میں بھی 20 روپے تک کمی ہوئی ہے۔
اسی طرح چینی جو 200 روپے فی کلوگرام فروخت ہوتی رہی ہے مگر گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے کے دوران چینی 155 روپے سے 180 روپے فی کلو گرام تک مارکیٹ میں مل رہی ہے۔ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 2800 روپے اور کہیں 2850 روپے تک بکتا رہا اب 2700 روپے سے 2750 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
-

اسٹیٹ بینک نے دو منی ایکسچینج کمپنیوں کے لائسنس معطل کردیئے
اسٹیٹ بینک نے حوالہ ہنڈی اور کرنسی اسمگلنگ سے متعلق ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر 2 منی ایکسچینج کمپنیوں کا لائسنس معطل کردیا ہے اور ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے 2 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے لیے ڈائریکٹر ایکسچینج پالیسی ڈیپارٹمنٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مراسلہ ارسال کیا تھا۔
جبکہ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ دونوں کمپنیوں کے خلاف حوالہ ہنڈی اورکرنسی اسمگلنگ کے مقدمات درج ہیں، ان کے خلاف قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے، اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق ایک مقامی ایکسچینج کمپنی کا اجازت نامہ 3 ماہ کے لیے معطل کیا گیا ہے،اجازت نامہ ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر معطل کیا گیا ہے۔
جبکہ اعلامیےکے مطابق مقامی ایکسچینج کمپنی کے صدر دفتر، برانچوں اور فرنچائزز کو سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک اور مقامی ایکسچینج کمپنی کا اجازت نامہ قواعد کی خلاف ورزی پر تاحکم ثانی معطل کیا گیا ہے، ایکسچینج کمپنی، اس کے صدر دفتر اور برانچوں کو کاروباری سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔ -

امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
پاکستانی روپےکے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور روپیہ تگڑا ہوا ہے جبکہ آج انٹربینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر ایک روپے 10 پیسے سستا ہوکر 292 روپے 78 پیسے پر بند ہوا ہے۔
اس کے علاوہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 296 روپے پر برقرار ہے، انٹربینک میں گزشتہ روز ڈالر 293 روپے 88 پیسے پر بند ہوا تھا، واضح رہے کہ انٹربینک میں رواں ہفتے ڈالر 4.07 روپے سستا ہوا ہے۔
دوسری جانب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 250 روپے سے بھی نیچے آنے کی پیشگوئی کر دی ہے اور کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کراچی میں مختلف مافیاز کا قبضہ ہے لیکن ہم سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
جبکہ ان کا گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ معیشت کا پہیہ چلنے سے کوئی نہیں روک سکتا، ڈالر 250 سے بھی نیچے جانے والا ہے، ایسی پالیسی آنے والی ہے کہ ڈالر سب کو دستیاب ہو گا۔
-

ترکیہ؛ شرح سود میں مسلسل چوتھی بار اضافہ
ترکیہ کے مرکزی بینک نے شرح سود میں 5 فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ترکیہ میں شرح سود 25 سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ واضح رہے کہ مئی 2023 میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد سے صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کی جانب سے معیشت کو بہتر بنانے کے لیے روایتی معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
جبکہ ترکیہ کی جانب سے جون سے ستمبر کے دوران شرح سود میں مجموعی طور پر 21.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور وہ 8.5 سے چھلانگ لگا کر 30 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بڑھتی مہنگائی اور قیمتوں کے عدم استحکام کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رہے گا۔
ترکیہ نے مہنگائی کی روک تھام کے لیے شرح سود میں ڈرامائی اضافہ کر دیاتاہم بیان میں بتایا گیا کہ اگست میں مہنگائی کی شرح 58.94 فیصد تک پہنچ گئی تھی جو توقعات سے زیادہ ہے۔ خیال رہے کہ ترکیہ میں مارچ 2021 میں شرح سود 19 فیصد تھی جس میں بتدریج کمی کی گئی اور یہ مارچ 2023 میں 8.5 فیصد تک پہنچ گئی تھی، مگر اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔ مئی میں ترکیہ میں مہنگائی کی شرح 40 فیصد کے قریب تھی جبکہ رواں سال کے دوران ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جون سے شرح سود میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور اب تک مسلسل 4 بار ایسا کیا گیا۔
ترکیہ نے شرح سود میں مزید اضافہ کرکے اسے ساڑھے17 فیصد کردیا شرح سود میں جون میں 6.5 فیصد، جولائی میں 2.5 فیصد جبکہ اگست میں 7.5 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔ جبکہ خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بھی مہنگائی کی روک تھام کے لیے شرح سود میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔ -

امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
پاکستانی روپےکے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، آج بھی انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور روپیہ تگڑا ہوا ہے اور آج انٹربینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر ایک روپے 10 پیسے سستا ہوکر 292 روپے 78 پیسے پر بند ہوا ہے۔
جبکہ اس کے علاوہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 296 روپے پر برقرار ہے اور انٹربینک میں گزشتہ روز ڈالر 293 روپے 88 پیسے پر بند ہوا تھا تاہم واضح رہے کہ انٹربینک میں رواں ہفتے ڈالر 4.07 روپے سستا ہوا ہے۔ جبکہ دوسری جانب برطانیہ میں ایک سال سے زائد عرصے بعد آخرکار شرح سود میں اضافے کا سلسلہ تھم گیا ہے۔
جبکہ بینک آف انگلینڈ کی نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں تبدیلی نہ کرتے ہوئے اسے 5.25 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے تاہم اس سے قبل بینک آف انگلینڈ کی جانب سے مسلسل 14 بار شرح سود میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس بار بھی توقع تھی کہ شرح سود میں اضافہ ہوگا مگر بینک آف انگلینڈ کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی رائے شماری میں 5 اراکین نے شرح سود کو برقرار رکھنے کے لیے ووٹ دیا جبکہ 4 نے شرح سود کو 5.50 تک بڑھانے کے لیے ووٹ دیا۔
یورپی سینٹرل بینک کی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 4 فیصد ہوگئیخیال رہے کہ بینک آف انگلینڈ نے نومبر 2021 میں شرح سود میں پہلا اضافہ کیا تھا اور اس کے بعد اگست 2023 تک مجموعی طور پر 14 بار شرح سود کو بڑھایا گیا۔ برطانیہ میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کے باعث شرح سود کو مسلسل بڑھایا جا رہا تھا مگر اب مہنگائی کی شرح گھٹ کر 6.7 فیصد پر پہنچ گئی ہے، جو فروری 2022 کے بعد سب سے کم ہے۔
بینک آف انگلینڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور ہمارے خیال میں یہ سلسلہ برقرار رہے گا، مگر ہم ابھی مطمئن نہیں ہوسکتے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہمیں مہنگائی کو معمول پر لانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔ بینک آف انگلینڈ کی جانب سے پیشگوئی کی گئی کہ رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران برطانوی معیشت کی شرح نمو 0.1 فیصد رہے گی۔
بینک کو توقع ہے کہ مہنگائی کی شرح کو 2 فیصد تک لانے کا ہدف 2025 کی دوسری سہ ماہی تک حاصل کرلیا جائے گا۔ جبکہ خیال رہے کہ برطانیہ کے ساتھ ساتھ حالیہ مہینوں میں امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بھی مہنگائی کی روک تھام کے لیے شرح سود میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔
-

امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
پاکستانی روپےکے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، آج بھی انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور روپیہ تگڑا ہوا ہے اور آج انٹربینک میں ڈالر ایک روپے 2 پیسے سستا ہوکر 293 روپے 88 پیسے پر بند ہوا ہے۔
جبکہ انٹربینک میں ڈالر گزشتہ روز 294 روپے 90 پیسے پر بند ہوا تھا تاہم دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ایک روپے اضافے سے ڈالر 297 روپےکا ہے، یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں انٹر بینک میں ایک ڈالر 308 جب کہ اوپن مارکیٹ میں 330 روپے کا ہوگیا تھا لیکن اب ریکوری ہو رہی ہے اور ڈالر کا ریٹ نیچے آرہاہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ترقیاتی فریم ورک کو 15 زمروں میں 5 بڑی کمزوریوں کی بنیاد پر کم ترین قرا دیا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے جن 5 بڑی کسروں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ جاری کھاتے اور ترقیاتی بجٹ الگ الگ وزارتیں تیار کرتی ہیں۔ قانون ’خود مختار اداروں‘ سے اپنے پروجیکٹس کے لیے رقوم کے ذرائع بتانے کا تقاضا ہی نہیں کرتا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022 کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیا جائے. درخواست گزار
امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
ہیروئن، احرام میں جذب کرکے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
تاہم پروجیکٹس کی مؤثر مانیٹرنگ کی کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف کا کہنا تا کہ اثاثوں کے رجسٹر برقرار رکھنا لازم نہیں اور غیر منقولہ اثاثوں پر رقم کا اندراج تو ہوتا ہے لیکن مالیاتی اسٹیٹمنٹ میں فرسودگی نہیں بتائی جاتی۔ پانچ سالہ پلاننگ 2018 میں بند ہوگئی تھی اور موجودہ منصوبوں کی لاگت نہیں لگائی گئی اور ان کے قابل پیمائش نتائج بھی کم ہیں۔ -

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور انٹربینک میں آج ڈالر ایک روپے 11 پیسے سستا ہو کر 296.85 روپے ہے۔ انٹربینک میں گزشتہ روز ڈالر 297.96 روپے پر بند ہوا تھا جبکہ انٹربینک میں رواں ہفتے ڈالر 6 روپے ایک پیسہ سستا ہوا ہے، دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ 298 روپے برقرار ہے۔
دوسری اسٹیٹ بینک نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی شرح منافع میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ تین ماہ کے ڈالر بلز کا منافع 125 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8.25 فیصد کردیا گیا ہے اور تین ماہ کے برطانوی پاؤنڈ بلز کا منافع 175 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7.25 فیصد جب کہ تین ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 225 پوائنٹس بڑھا کر 6.25 فیصد کردیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق 6 ماہ کے ڈالر این پی سیز کا منافع 130 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8.5 فیصد، 12 ماہ کے این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 9 فیصد، 6 ماہ کے پاؤنڈ اسٹرلنگ این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7.50 فیصد جب کہ 12 ماہ کے پاؤنڈ اسٹرلنگ این پی سیز کا منافع 100 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 8 فیصد کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق6 ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 200 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 6.5 فیصد، 12 ماہ کے یورو این پی سیز کا منافع 200 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 7 فیصد، 3 اور 5 سال کے اسٹرلنگ اور یورو این پی سیز کا منافع 7.5 اور 6.5 فیصد برقرار ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستانی روپے کے 3 ماہ کے این پی سیز کا منافع 6 فیصد بڑھا کر 21 فیصد، 6 ماہ کے روپے این پی سیز کا منافع 600 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 21.25 فیصد اور 12 ماہ کے روپے این پی سیز کا منافع 600 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 21.50 فیصد کیا گیا ہے علاوہ ازیں اس کے علاوہ 3 سالہ روپے این پی سیز کا منافع 350 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 17.5 فیصد اور 5 سالہ روپے این پی سیز کا منافع 150 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 15 فیصد کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اوورسیز پاکستانی ڈالر این پی سیز میں کم از کم ایک ہزار ڈالر کی سرمایہ کرسکتے ہیں جب کہ 3 اور 5 سال کے این پی سیز کا منافع 8،8 فیصد برقرار ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن میں 100 انڈیکس 392 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا تاہم کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 103 پوائنٹس اضافے سے 45753 پر بند ہوا، 100 انڈیکس کی آج بلند ترین سطح 46093 رہی، حصص بازار میں سوا 22 کروڑ شیئرز کا کاروبار 11 ارب روپے میں ہوا جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 11 ارب روپے بڑھ کر 6772 ارب روپے ہے۔