Baaghi TV

Category: چترال

  • چترال پشاور روڈ دروش کے مقام پر سیلاب کی وجہ سے بند ، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

    چترال پشاور روڈ دروش کے مقام پر سیلاب کی وجہ سے بند ، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال پشاور شاہراہ دروش کے مقام پر سیلاب کی وجہ سے بند ۔ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

    چترال میں پشاور شاہراہ دروش میں کلدام گول کے مقام پرسیلاب کے باعث بند ہے،مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، سکول سے واپس آنے والے طلباء بھی سیلاب میں پھنس گیے۔ دروش میں کلدام گول نالہ میں شدید طغیانی کی وجہ سے مسافر گاڑیاں سیلاب کے اندر پھنس گئی ہیں ،جنہیں بڑی مشکل سے ٹریکٹر سے باندھ کر نکالا گیا۔

    اسی جگہ پر خواتین کا ڈگری کالج بھی ہے جہاں کی طالبات بھی سیلاب کی وجہ سے محصور ہوچکی تھیں۔ طلباءکو لانے والی ایک سکول بس بھی سیلاب میں پھنس گئی جسے بڑی مشکل سے نکالا گیا۔ بس میں پھنسے ہوئے طلباء نے بتایا کہ ہم بہت خوف زدہ ہوگئے، یہاں پل نہ ہونے کی وجہ جب بھی بارش برستی ہے تو اس نالے میں سیلاب آتا ہے ہم بار بار مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ یہاں ایک پل تعمیر کیا جایے مگر اس کی کہیں بھِی شنوانی نہیں ہوتی۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ این ایچ اے کی جانب سے صرف ایک ٹریکٹر بھیجا گیا تھا مگر وہ بھی سیلاب میں آنے والا ملبہ جو سڑک پر جمع ہواتھا اسے صاف نہ کرسکا۔

    مسافر گاڑیوں کے ڈرائیور جان کا خطرہ مول لیتے ہوئےاس سیلاب کے اندر سے گاڑیاں گذارنے پر مجبور ہیں،برساتی نالے کے دونوں جانب کثیر تعداد میں گاڑیاں پھنس گئیں ، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا مینٹینس سیکشن سڑک کی مرمت کے نام پر کروڑوں روپے کا فنڈ تو لیتا ہے مگر اسے چند افسران اور ٹھیکیداران ملی بگھت کرکے ہڑپ کرجاتے ہیں۔

    متاثرہ لوگوں نے اعلیٰ حکام سےمطالبہ کیا ہے کہ کلدام گول نالہ میں پچھلے دنوں بھی چوبیس گھنٹے سے زیادہ مسافر پھنسے رہےتھے

    یہاں ایک پل تعمیر کیا جائے تاکہ مستقل بنیادوں پر اس مسئلے کا حل نکالا جاسکے اور مسافر گاڑیاں بار بار اس سیلابی نالے مِیں پھنسنے سے بچ سکیں اورچترال پشاور روڈ گاڑیاں مسافر بلاتعطل اپناسفرجاری رکھ سکیں.

  • چترال:بارشوں اور سیلاب کے باعث اورغوچ، شاڈوک میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے بند راستے کھولنےپر کام شروع کردیا

    چترال:بارشوں اور سیلاب کے باعث اورغوچ، شاڈوک میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے بند راستے کھولنےپر کام شروع کردیا

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی)بارشوں اور سیلاب کے باعث اورغوچ، شاڈوک میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے بند راستے کھولنےپر کام شروع کردیا

    چترال میں حالیہ مسلسل بارشوں اور تباہ کن سیلاب کی وجہ سے چترال کے مختلف علاقوں کے راستے ہر قسم کے ٹریفک کیلیے بند ہوئے تھے۔ مسلسل بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی نے پہاڑوں سے بڑے بڑے پتھر اور ملبہ بھی بہاکر سڑکوں پر ڈھیر کردیا جس کی وجہ سے یہ راستے سفر کے قابل نہیں رہے۔ سیلاب کی وجہ سے اورغوچ، بکامک، شاڈوک، دنین گہتک وغیرہ کے راستے بند ہویے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ سفری مشکلات سے دوچار ہیں۔

    اور غوچ کے آس پاس کئی دیہات آباد ہیں جہاں پندرہ ہزار نفوس پر مشتمل اس وادی کی سڑک دونوں جانب سے بند ہے۔ مین چترال سڑک پر دریائے چترال پر اورغوچ کیلیے جو پل تعمیر ہوئی ہے اس کے آگے بھِی راستہ خراب ہے جبکہ فیض آباد سے جانے والے سڑک پر پہاڑ سے بھاری پتھر، درخت، ملبہ گرنے سے یہ راستہ ہر قسم کے ٹریفک کیلے بند ہے۔ مسلسل بارش کے بعد محتلف علاقوں میں پہاڑی بھِی سرک گئے اور اکثر جگہوں میں بجلی کے کھمبے بھی گر چکے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھِی معطل ہے۔

    اسی طرح شاڈوک، دنین، گہتک کی سڑک بھِی ہر قسم کے ٹریفک کیلیے بند ے جس پر پیدل جانا بھِی نہایت مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہے۔ کیونکہ اب بھی پہاڑوں سے مٹی کے تودے، بھاری پتھر اور ملبہ گررہا ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اورغوچ جانے والی سڑک برطانوی دور حکومت میں تعمیر ہوئی تھی مگر حکومت پاکستان نے اس پر کوئی زیادہ توجہ نہیں دی۔ اس سڑک کی بندش کی وجہ سے لوگ15 کلومیٹر پیدل سفرکرنے پر مجبور ہیں جبکہ اشیائے خوردونوش کو کندھوں پر اٹھانے کے ساتھ ساتھ مریضوں کو بھِی چارپائی پر ڈال کر ہسپتال لے جانا پڑتا ہے۔

    مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر چترال اور ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کمیونیکیشن اینڈ ورکس طارق مرتضے کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی ہدایت پر ٹھیکیدار نے فوری طور پر ان سڑکوں کی صفائی پر ٹریکٹر، ایکسیویٹر مشین لگاکر ملبہ صاف کررہے ہیں اور ٹریفک ک ی روانی کے قابل بنارہے ہیں۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث بند ہونے والے عبدالولی خان بائی پاس روڈ، دنین چیوڈوک، آفیسر میس روڈ، مغلاندہ، شاہ ڈوک، ہون فیض آباد، اور غوچ ڈوم شغور، کربیتولی اور ضلع اپر چترال کی سڑک بھی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے صاف کی تھی تاہم بونی سڑک پر دوبارہ پہاڑ سے بھاری پتھر اور پہاڑی تودے گرنے کی وجہ سے دوبارہ بند ہوگئی تھی۔

    ویلیج کونسل دنین کے چیئرمین منیر احمد چاریلو اور دیگر لوگوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت نے چترال کو آفت زدہ قراردیا ہے مگر جس طرح سابقہ صدر پاکستان پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے دور حکومت میں لوگوں کے قرضے معاف ہوئے تھے اسی طرح اس بار بھی زرعی اور عام لوگوں کے چھوٹے چھوٹے قرضے معاف کیے جائیں تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آسکے۔

    انہوں نے یہ بھِی مطالبہ کیا کہ جن سڑکوں پر ملبہ پڑا ہے اسے فوری ہٹایا جائےاور اورغوچ سڑک کو کشادہ کرنے کے ساتھ ساتھ دریا کی جانب سڑک کے کنارے حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے تاکہ اس سڑک پر سفر کرنے والے کسی قسم کے حادثے کا شکار نہ ہوں.

  • چترال:مسلسل بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی بڑے پیمانے پر تباہی ، راستے بند

    چترال:مسلسل بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی بڑے پیمانے پر تباہی ، راستے بند

    چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ)مسلسل بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی بڑے پیمانے پر تباہی ، راستے بند
    چترال میں جمعہ کے روز سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پہاڑوں کے چوٹیوں، بالائی علاقوں اور وادی کیلاش کڑاکار گاؤں میں برف باری بھی ہوئی ہے۔

    تیز اور مسلسل بارشوں کی وجہ سے ندی نالے بپھر گئے ہیں طغیانی کی وجہ سے مختلف وادیوں کے راستے بند ہیں، چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی راستہ لواری ٹنل کا راستہ بھی ہر قسم کے ٹریفک کیلیے بند ہے جبکہ ضلع اپر چترال، گرم چشمہ اور وادی کیلاش کا راستہ بھی بند ہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی اور پی ٹی سی ایل، انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    لوئر چترال کے چمرکن کف گاؤں میں سیلاب نے تباہی مچادی ، کف گاؤں کی رابطہ سڑک، پیدک پل، آبپاشی کی ندی اور پانی کی پائپ لائن بھی سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی ہے، اس پل پر روزانہ سکول جانے والے سینکڑوں بچے، بچیاں، مسجد جانے والے نمازی اور عام لوگ بھِی گزرتے تھے جبکہ آبپاشی کی ندی جغور گول کے نالے سے سینکڑوں گھروں اور ہزاروں ایکڑ زمین کو بھی پانی جاکر سیراب کرتا تھا اب اس ندی کی ٹوٹنے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ یہ زرعی زمین بھِی بنجر بن جائے گی.

    چمرکن کف گاؤں سے تعلق رکھنے والے محراب ولی، محمد شفیق،شیر علی،انتخاب احمد،شمس الرحمان اور ایک مقامی انجینئر نے کہا کہ چمرکن کف گاؤں کو جانے والی سڑک بار بار سیلاب کی وجہ سے تباہ ہورہی ہے۔ دو سال قبل جب یہ سڑک سیلاب کی نظرہوگئی تھی تو علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک مقامی شخص کا کھیت کرائے پر لیکر اس میں عارضی طور پر سڑک گزاری مگر بدقسمتی سے اب وہ سڑک بھی پانی کیساتھ بہہ گئی ہےاور لوگوں کے پاس اب کوئی متبادل بھِی نہیں ہے۔

    گاؤں والوں نے کہا کہ اس سڑک پر بار بار سرکاری خزانے سے بھاری رقم خرچ ہوتی ہے مگر ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے کام بھی ناقص ہوتا ہےجس کی وجہ سے سڑک بارش کے سیلابی پانی میں خس وخاشاک کی طرح بہہ جاتی ہے

    مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سڑک سائیڈوں میں حفاظتی دیواریں میں ستون اور آر سی سی کنکریٹ کا استعمال کیا جائے تاکہ مستقل طور پر یہ سڑک محفوظ رہے۔اس سڑک کے ٹوٹنے کی وجہ کافی تعداد میں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں وغیر ہ دوسری طرف پھنس گئے ہیں جو اب ان کے نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے جب تک اس سڑک کو دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے۔

    شیر علی کا کہنا ہے کہ اس نے سولہ سال سعودی عرب میں محنت مزدوری کرکے بڑی مشکل سے یہ مکان بنایا تھا جو بار بار سیلاب کی زد میں آکر اس کا ایک حصہ دریا برد ہوچکا ہے اور اب میری بوڑھی والدہ، بیوی چھوٹے بہت خطرے میں ہیں کسی بھی وقت سیلاب آکر ہمارے گھر کو بہاکر لے جاسکتا ہے۔

    اسی گاؤں میں فدا محمد نامی شحص کے گھر کو بھی نقصان پہنچا اور اس کے گھر میں پھل دار درخت وغیرہ بھِی گر گیے ہیں

    چمرکن کے ویلیج کونسل چیئرمین عبدالحق کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے یہاں جو پیدل کا پل اور پانی کی ندی بہہ گئی اس سے علاقے کے لوگوں کو بہت نقصان ہوا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ علاقہ میٹھے اور رسیلے انار کی باغات کیلئے مشہور ہے اگر آبپاشی کی نہر اور پانی کی پائپ لائن جلدی بحال نہ ہوئے تو خدشہ ہے کہ انار کے یہ باغات بھی خشک ہوکر تلف جائیں گے جو یہاں کے لوگوں کا آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔

    متاثرہ لوگوں نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے ، صوبائی وزیر اعلیٰ اور اعلیٰ حکام سے پر زور مطالبہ کیا ہے چمرکن کف گاؤں میں پیدل پل، رابطے کی سڑک، آبپاشی کی ندی اور پانی کی پائپ لائن فوری بحال کئے جائیں تاکہ یہ لوگ مزید مشکلات کے شکار نہ ہوں کیونکہ پانی کی پائپ لائن سیلاب میں بہہ جانے سے گھروں میں پانی کی سپلائی بند ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جن لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے ان کی تلافی بھی کی جائے تاکہ وہ اپنے مکانوں کی جلدی مرمت کرواسکیں۔

  • چترال:عید کے دن ٹی ایم اے کےعملہ صفائی نے شہرکی صفائی کا عمل جاری رکھا

    چترال:عید کے دن ٹی ایم اے کےعملہ صفائی نے شہرکی صفائی کا عمل جاری رکھا

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی) چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کے ہدایت پر تحصیل میونسپل انتظامیہ کے عملہ نے تحصیل میونسپل آفیسر محمد حنیف کے نگرانی میں چترال ٹاون کے مختلف بازاروں کی صفائی

    چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کے ہدایت کے مطابق تحصیل میونسپل انتظامیہ میں کام کرنےوالے خاکروبوں نے عید کے دن چھٹی نہیں کی بلکہ عید کے دن صفائی کی۔ ٹی ایم او چترال محمد حنیف نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے ہدایت کی تھی کہ عید کے دن صفائی کا عملہ چھٹی نہیں کرے گا بلکہ صفائی کرے گا تاکہ عید کے موقع پر پورے خیبر پختون خواہ کے تمام اضلاع صاف ستھرےرہیں۔

    ڈپٹی کمشنر چترال اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر نے بھی چترال بازار کا دورہ کرکے صفائی کے کام کا معائنہ کرکے اس پر تسلی کا اظہار کیا۔ ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ٹی ایم او چترال محمد حنیف نے بتایا کہ ٹی ایم اے چترال اگرچہ کافی مالی مشکلات کا شکار ہے پچھلے دنوں صفائی کے عملہ نے ہڑتال بھی کی تھی کیونکہ ان کو کئی مہینوں سےتنخواہیں نہیں ملی تھی مگر اس کے باوجود ہماری کوشش ہوں گی کہ شہر کو صاف ستھرا رکھیں تاکہ شہریوں اور یہاں آنے والے سیاحوں کو کسی قسم کی مشکلات پیش نہ ہو ں اور گندگی کی وجہ سے چترال پھولوں کی بجائے گندگی کا شہر نظر آئے۔

    اس موقع پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کا دیگر عملہ بھی موجود تھا جو اس صفائی مہم کی نگرانی کررہے تھے۔چترال کے عوام نے ٹی ایم اے کے اس عمل کو نہایت سراہا کہ انہوں نے عید کے دن بھی چھٹی نہیں کی اور چترال کی صفائی ستھرائی میں سارا دن مصروف عمل رہے۔

  • نو منتخب رکن قومی اسمبلی عبداللطیف اور ڈپٹی سپیکر کےپی اسمبلی ثریا بی بی کی چترال آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا

    نو منتخب رکن قومی اسمبلی عبداللطیف اور ڈپٹی سپیکر کےپی اسمبلی ثریا بی بی کی چترال آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ) چترال سے منتخب رکن قومی اسمبلی عبد اللطیف اور ضلع اپر چترال سے رکن صوبائی اسمبلی ثریا بی بی جو خیبر پختون خواہ اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر بھی ہے ان کی چترال آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے لواری ٹنل جاکر ان کا استقبال کیا او ران کو قافلے کی شکل میں چترال لایاگیا۔ اس دوران زیارت، عشریت، دروش، سید آباد ، بروز، چمرکن اور چترال شہر میں جگہ جگہ کارکنان ان کے انتظار میں کھڑے تھے اور ان کی آمد پر ان کے گلے میں ہار ڈالتے ہوئے ان کو خوش آمدید کہتے رہے۔ چمرکن میں دو ننھی پریوں نے جو سید مختار علی شاہ ایڈوکیٹ کی بیٹیاں ہیں انہوں نے آنے والے پارلیمنٹیرین کو پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔

    دروش میں ایک پلازے کے چھت پر ایک مختصر تقریب بھی منعقد ہوئی جس کی صدارت حاجی گل نواز خان صدر تحصیل دروش نے کی۔ انہوں نے اس موقع پر نو منتخب اراکین اسمبلی کو مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ بطور بزرگ سیاست دان ان کو نصیحت بھی کی کہ اقتدار کی یہ کرسی عارضی ہے اگر انہوں نے عوام کی بے لوث خدمت کی تووہ دوبارہ بھی کامیاب ہوسکتے ہیں ورنہ عوام پرانے نمائندوں کی طرح ان کو بری طرح مسترد کریں گے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہویے رکن قومی اسمبلی عبداللطیف نے کہا کہ انہوں نے سیاست میں اس عزم کے ساتھ قدم رکھا ہے کہ وہ قوم کی خدمت کرے انہوں نے کہا کہ چترال ایک سیاحتی ضلع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پسماندہ ضلع بھی ہے اور یہاں پر کوئی کارخانہ، انڈسٹری یا بڑا کاروبار نہیں ہے ۔ ہمارے پاس سیاحت کے کافی ذرائع موجود ہیں اور اگر ہم سیاحت کو فروغ دینے کیلیے ٹھوس اقدامات اٹھائے تو اس سے اس علاقے کو بھِی ترقی ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سیاحت کو ترقی دینے کیلیے سب سے پہلے سڑکوں کو بہتر بنانا ہے مگر بدقسمتی سے چترال کی سڑکوں کی حالت نہایت خراب ہیں ہماری کوشش ہوں گی کہ قومی اسمبلی کے فلور پرچترالی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کیلیے بھر پور انداز میں آواز اٹھائیں گے۔

    انہوں نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ مطمئن رہیں اور اپنے علاقے کے جو بھی مسائل ہوں ان کے نوٹس میں ضرور لایا کریں۔ تقریب سے حاجی سلطان، ڈپٹی سپیکر خیبر پحتون خواہ اسمبلی ثریا بی بی اور دیگر نے بھِی اظہار خیال کیا۔

    یہ قافلہ جب چترال پہنچا تو گورنر کاٹیج میں تحصیل چترال کے ناظم شہزادہ امان الرحمان نے ان کا استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں افطار پارٹی بھی دی گی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

  • کیلاش ویلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے کیلاش وادی کے طلباء میں چار ہزار پودے مفت تقسیم کئے

    کیلاش ویلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے کیلاش وادی کے طلباء میں چار ہزار پودے مفت تقسیم کئے

    چترال ,باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)کے وی ڈی اے نے کیلاش وادی کے طلباء میں چار ہزار پودے مفت تقسیم کئے

    کیلاش ویلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت گورنمنٹ ہای سکول برون بمبوریت کے طلباء و طالبات میں مفت پودے تقسیم ہویے۔ اس موقع پر ڈایریکٹر جنرل کے وی ڈی اے منہاس الدین مہمان خصوصی تھے۔ اس سلسلے میں ہائی سکول برون میں ایک مختصر تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں سکول کے پرنسپل اور دیگر ماہرین نے درختوں اور پودوں کی اہمیت اور فوائد پر روشنی ڈالی۔

    شجرکاری مہم میں محکمہ جنگلات نے ان کو مفت پودے دیے تھے اور ایک غیر سرکاری ادارے کی تعاون سے یہ پودے طلباء میں مفت تقسیم ہوئے ۔ اس موقع پر ان کو پودوں کی اہمیت اور موسمیاتی تبدیلی پر ان کی مثبت اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔ اسی سکول میں پچیس سو پودے مفت تقسیم ہوئے۔

    ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ڈایریکٹر جنرل منہاس الدین نے بتایا کہ اس کے علاوہ انہوں نے سات سو پھل دار پودے بھِی لوگوں میں مفت تقسیم کیے اور مقامی لوگوں کو ان کی اہمیت بھی بتائی تاکہ وہ ان پودوں کو نہ صرف لگائیں بلکہ اس کی آبیاری بھی کریں اور اسے کامیاب کرنے تک ان کا خیال رکھیں۔

    منہا س الدین نے مزید بتایا کہ چترال ایک خشک زون ہے یہاں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اکثر اوقات سیلاب کی صورت میں ہم بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے اس تقریب میں سکول کے بچوں اور اساتذہ کو یہ بات واضح کردی کہ اگر ہم زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں تو سیلاب کی نقصان سے اتنا ہی بچ سکتے ہیں کیونکہ یہ پودے بڑے ہوکر جب تناور درخت بنیں گے تو یہ ایک قدرتی چیک ڈیم کا کام کریں گے۔ سیلاب کا پانی جب پہاڑوں سے نیچے اتا ہے تو اس کا رفتار بہت تیز ہوتا ہے مگر یہ درخت ان کی راہ میں رکاوٹ بن کر اس کی رفتار کو کم سے کم کرتے ہیں۔

    سکول کے پرنسپل ثناء اللہ نے بتایا کہ بچے نئے کام کے بہت شوقین ہوتے ہیں ہر کام اپنی مرضی سے کرناچاہتے ہیں اسلئے ہم نے ان کیلئے آج یہ شغل رکھا کہ ان میں مفت دیار کے پودے تقسیم کرکے یہ ان سے لگوائیں گے جب یہ خود ان پودوں کو لگائیں گے تو اسے پانی بھی ڈالتے رہیں گے اوراسکی آبیاری کرتے ہوئے انہیں کامیاب بھی کرائیں گے۔ جبکہ ان کو ہم نے یہ بھی بتادیا کہ ان پودوں اور درختوں کے کتنے فوائد ہیں۔ ان سے ہم پھل، ایندھن، چارہ لیتے ہیں اور اس کے سائے تلے بھی بیٹھتے ہیں۔

    اویس احمد پراجیکٹ منیجر نے بتایا کہ ہم نے چار ہزار سے زیادہ مفت پودے وادی کیلاش میں تقسیم کئے ہیں اور آج کی تقریب میں بچوں کو ان پودوں کی فوائد اور اہمیت پر بھِی بتادی ۔ ایک پودا سال میں ہمیں ستر ہزار روپے سے زیادہ مفت آکسیجن فراہم کرتا ہے اور یہ پودے بڑے ہوکر ہمارے ماحولیات پر نہایت مثبت اثرات ڈالتے ہیں اور چترال کو اس کے ذریعے سر سبز و شاداب اور صاف رکھ سکتے ہیں۔ پروگرام کے آخر میں سکول کے بچوں میں مفت پودے بھی تقسیم ہوئے۔

  • سعودی کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے دیر بالا میں 1200سے زائد غرباء میں فوڈ پیکج تقسیم

    سعودی کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے دیر بالا میں 1200سے زائد غرباء میں فوڈ پیکج تقسیم

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)سعودی کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے دیر بالا میں 1200سے زائد غرباء میں فوڈ پیکج تقسیم

    سعودی حکومت نے ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور پاکستانیوں کی مدد کی ہے سعودی کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے ضلعی انتظامیہ اور احصار فا ونڈیشن نے دیر بالا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 1200سے زائد نادار عریب یتیم اور لاچار افراد میں فوڈ پیکج تقسیم کر کے حوالےکیا

    فوڈ پکیج میں آٹا ،گھی ،چائے ،دالیں ،کجھور ودیگر خوراک کی اشیا ء شامل تھیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے نمائندوں نے کہا کہ سعودی حکومت کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب تک ہزاروں افراد میں فوڈ پکیج کے علاوہ ونٹر پکیج بھی تقسیم کئے جاچکے ہیں

    انہوں نے کہا کہ حالیہ شدید برفباری سے متاثرہ افراد اور رمضان میں فوڈ پکیج کی تقسیم کا مقصد متاثرہ افراد کے مدد اور ریلیف فراہم کرنا تھا اور یہ سلسلہ آئندہ کے لئے بھی جاری رہیگا

    احصار فاونڈیشن نے کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے اس سےقبل بھی خیبر پختونخواہ کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ہزاروں افراد میں فوڈ اور ونٹر پکیج تقسیم کئے ہیں

  • چترال:ایس پی انویسٹی گیشن کی ملازمت سے سبکدوشی، الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا

    چترال:ایس پی انویسٹی گیشن کی ملازمت سے سبکدوشی، الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگارگل حماد فاروقی)ایس پی انویسٹی گیشن کی ملازمت سے سبکدوشی، الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا

    ایس پی انوسٹی گیشن لوئر چترال محمد ستار خان مدت ملازمت مکمل کرکے ملازمت سے سبکدوش ہویےجن کے اعزاز میں پولیس لاین چترال میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔لوئر چترال پولیس کی جانب سے محکمہ سے ریٹائرڈ ہونیوالے فرض شناس پولیس افیسر ایس۔پی محمد ستار خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس سادہ مگر پروقار تقریب میں ریٹائرڈ ہونے والے پولیس افیسر کے اعزاز میں خصوصی افطار پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    تقریب میں ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر لوئر چترال ایاز زرین، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز اقبال کریم، ڈی ایس پی سرکل چترال سجاد حسین، ڈی ایس پی سرکل بمبوریت حسن اللہ، ڈی ایس پی سرکل دروش احمد عیسیٰ، ڈی ایس پی سرکل لٹکوہ تمیز الدین، ڈی ایس پی سکیورٹی لاوی پاور پروجیکٹ مبارک احمد، ڈی ایس پی ٹوارزم پولیس شیر راجہ، تمام ایس ایچ اووز، ایڈیشنل ایس ایچ اوز، آفس سٹاف و دیگر اعلی افسران سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے ایس پی محمد ستار خان نے کہا کہ پولیس میں رہتے ہوئے شوق اور لگن اور ایمانداری سے اپنے فرائض سر انجام دیے ،انہوں نے کہا کہ لوئر چترال پولیس ایک پروفیشنل پولیس ہے ہر جگہ ہر وقت جیسے بھی حالات ہوں میں نے اس کو ہمیشہ پروفیشنل پایا۔ امید ہے کہ آئندہ بھی اسی طرح پروفیشنل طریقے سے اپنی عوام کی خدمت کرتے رہینگے۔

    تقریب سے دیگر شرکاء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایس پی محمد ستار خان کے ملازمت کے کامیاب دورانیہ کو سراہا۔

    الوداعی تقریب کے آخر میں ریٹائرڈ ہونیوالے پولیس افیسر کو تحائف پیش کئے گئے اور باوقار طریقے سے محکمہ پولیس سے رخصت کیا گیا۔

    محمد ستار خان کا تعلق ضلع اپر چترال کے تحصیل تورکہو سے ہے وہ 1983 میںپولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہوا تھا مگر اپنی قابلیت اور لگن کے بناء پر ترقی کرتے ہوئے محتلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او بھی خدمات سرانجام دیں۔ ترقی کرتے ہوئے وہ ڈی ایس پی کے عہدے پر تعینات ہویے ۔

    وہ پشاور ، اسلام آباد اور دیگر اضلاع میں بھی بطور ڈی ایس پی تعینات رہے۔ انہوں نے آپریشن میں بھی ڈیوٹی کی ہے زیادہ عرصہ چترال میں رہے۔ اس کے بعد پولیس انوسٹی گیشن یعنی تفتیشی میں بہترین خدمات انجام دیے۔

    انہوں نے چالیس سال ملازمت کی اور اس دوران محکمہ پولیس میں مختلف شعبوں میں تعینات رہے۔ ان کی خدمت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
    الوداعی تقریب میں شرکاء نے ان کی خدمات کو نہایت سراہا اور انہیں بہترین طریقے سے فرائض انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔

  • سیاحت کے فروغ کیلئے وادی کیلاش کامتبادل راستہ غوچارکوہ سڑک دوبارہ تعمیر کی جائے،میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک

    سیاحت کے فروغ کیلئے وادی کیلاش کامتبادل راستہ غوچارکوہ سڑک دوبارہ تعمیر کی جائے،میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)سیاحت کے فروغ کیلئے وادی کیلاش کامتبادل راستہ غوچارکوہ سڑک دوبارہ تعمیر کی جائے،میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک

    سیاحت کے فروغ کیلئےغوچارکوہ سڑک کی دوبارہ تعمیر وقت کا اہم تقاضا ہے، وادی کیلاش اور شیخانندہ چونکہ جنگلات پرمشتمل علاقہ ہے جہاں محکمہ جنگلات والوں نے ساٹ سال قبل دیار کی قیمتی لکڑی لانے کیلیے غوچارکوہ سڑک بنائی تھی جو پہاڑ کے دامن میں کش کان ٹیک گؤں سے گزرتی ہے ۔ اس راستے میں گھنے جنگلات،کھلے میدان اور نہایت خوبصورت سیاحتی مقامات بھی موجود ہیں۔

    جب نیچے دریا کے کنارے وادی کیلاش کیلیے راستہ بنایا گیا تو اوپر والی سڑک پر ٹریفک بند ہوگئی تھی مگر پھر بھی موٹر سائیکل سوار اور بعض سیاح پیدل اس سڑک پر سفر کرتے تھے۔ اب چونکہ وادی کی سڑک پرتوسیع اور تعمیر کا کام جاری ہے اور پہاڑ کی کٹائی کی وجہ سے اکثر اوقات کئی گھنٹوں تک سڑک بند ہوجاتی ہے، ٹریفک جام ہونے سےمسافروں اور سیاحوں کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    چترال کی معروف سماجی شحصیت اور ٹور آپریٹر میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک اور مقامی شخص عبد الاکبر کا کہنا ہے کہ غوچارکوہ جیسے راستوں کو ملکی اور خاص کر غیر ملکی سیاح بہت پسند کرتے ہیں اگر یہ راستہ بن گیا تو وہ کبھی بھی نیچے والی سڑک پر سفر نہیں کریں گے بلکہ اسی سے گزریں گے کیونکہ آگے جاکر اس راستے میں نہایت وسیع میدان اور کئی سیاحتی مقامات موجود ہیں۔

    ان کے مطابق اگر غوچار کوہ والا راستہ بن گیا تو سیاح کبھی بھی دوسرے راستے پر نہیں جائیں گے۔ اسی سڑک پر آگے جاکر کش کان تیک گاؤں میں دو سو سے زیادہ لوگ آباد ہیں جن کو آنے جانے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عبد الاکبر اور دیگر مقامی لوگ بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سڑک پر دوبارہ ٹریفک بحال کی جائے تاکہ ان کو ضرورت کا سامان لانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

    مقامی ماہرین کے مطابق غوچار کوہ کی سڑک پر معمولی خرچے سے ایک ہفتے کے اندر دوبارہ ٹریفک بحال ہوسکتی ہے جس سے نہ صرف سیاحوں کو سفر کرنے کیلئے متبادل راستہ مل جائے گا بلکہ یہاں مقیم 230 لوگوں کو بھی آنے جانے میں آسانی ہوگی۔

    واضح رہے کہ اس سڑک کی دوبارہ تعمیر سے آبپاشی کی وہ ندی بھی بحال ہوسکتی ہے جو صدر ایوب کے دور میں شیخانندہ سے غوچار کوہ گاؤں لائی گئی تھا جس سے ہزاروں ایکڑ بنجر زمین بھی سیراب ہوسکے گی۔

    غوچار کوہ کی یہ سڑک آیون سے شروع ہوتی ہے اور وادی بمبوریت کے سلطان آباد گاؤں میں نیچے اتر کر مین سڑک سے جاملتی ہے۔ غوچارکوہ سڑک کی بحال ہونے سے سیاحت بھی فروغ پائے گی اور اس پسماندہ علاقے سے بھِی غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکے گا۔

  • چترال:وادی کیلاش کی سڑک کی محفوظ جگہ از سرنوتعمیراوردریائے رمبورسے ملبہ ہٹانے کامطالبہ

    چترال:وادی کیلاش کی سڑک کی محفوظ جگہ از سرنوتعمیراوردریائے رمبورسے ملبہ ہٹانے کامطالبہ

    چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ)وادی کیلاش کی سڑک کی محفوظ جگہ از سرنوتعمیراوردریائے رمبورسے ملبہ ہٹانے کامطالبہ
    چترال کے خوبصورت اور سیاحتی علاقے وادی کیلاش کی سڑکوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہہ تھی تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ان وادیوں کیلیے تقریبا 12 ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کی کشادگی اور تعمیر کا کام پچھلے سال شروع کیا تھا۔ وادی کیلاش کیلیے سڑک کو کیلاش کی پہلی گیٹ وے وادی آیون سے لے جایا جارہا ہے مگر لنک روڈ کو چھوڑ کر اسے ایک غیر مناسب اور غیر محفوظ جگہ سے لے جایا جارہا ہے ۔

    اس سڑک کو زرعی زمین کے بیچ میں سے دو سو فٹ اونچا گزارا جاتا ہے جہاں صرف مٹی اور ملبہ ڈال کر اسے اونچا کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک طرف زرعی زمین اور اس کیلیے آبپاشی کی نالے متاثر ہوئے ہیں تو دوسری جانب آس پاس کے مکانات کے رہائشیوں بے پردگی کاسامناکرناپڑرہا ہے جبکہ اس مصنوعی پہاڑ کے کناروں پر حفاظتی دیوار بھی نہیں ہے اور کسی بھِی سیلاب یا شدید بارش کی صورت میں یہ بہہ کر ختم ہوسکتا ہے۔

    چترال میں سڑکوں کی تعمیر اور بہتری کیلیے آواز اٹھانے والی رضاکار تنظیم سی ڈی ایم : چترال ڈیویلپمنٹ مومونٹ : کے سینیر اراکین میجر ریٹایرڈ شہزادہ سراج الملک، پرنسپل ریٹایرڈ لیاقت علی ، پراجیکٹ منیجر ریٹایرڈ عنایت اللہ اسیر، وادی ایون کے منتحب چییرمین وجیہ الدین اور محمد رحمان نے میڈیا ٹیم کے ساتھ ان علاقوں کا دورہ کیا۔

    مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ این ایچ اے کے انجنیر نے شاید اسلام آباد میں بیٹھ کر اس کا نقشہ بنایا ہے کیونکہ یہاں پہلے سے بہترین سڑک موجود ہے اسی سڑک کو دونوں جانب سے کشادہ کرکے سڑک تعمیر ہوسکتی ہے جس پر خرچہ بھی کم آتا ہے اور محفوظ بھی ہے مگر انہوں نے سڑک کو ٹیڑھا کرکے زرعی زمین میں ایک مصنوعی پہاڑ بناکر اس پر سڑک بناتے ہیں جو زمین سے غالبا دو سو فٹ اونچی ہے جو سیلاب اور تیز بارش کی صورت میں تباہ ہوسکتی ہے۔

    انہوں نے وفاقی وزیر اور سیکرٹری مواصلات اور چیرمین این ایچ اے سے مطالبہ کیا کہ اس کیلیے دوبارہ ٹیم بھیجا جایے تاکہ اس سڑک کو محفوظ جگہہ سے گزارا جایے انہوں نے مقامی ماہرین اور انجنیروں کی مدد سے ایک نقشہ بھی تیار کروایا ہے جس میں یہ سڑک بالکل سیدھا گزرتا ہے۔

    سی ڈی ایم کے ٹیم نے وادی رمبور کے سڑک کا بھِی دورہ کیا جہاں سڑک کی کشادگی پر کام جاری ہے مگر اس سڑک کو توسیع کرنے کیلیے ٹھیکدار پہاڑ میں کئی فٹ لمبی سرنگ بناکر اس میں بھاری مقدار مِیں بارود ڈال کر دھماکے سے پہاڑ کو اڑاتا ہے جس کا سارا ملبہ اور ہزاروں ٹن وزنی پتھر رمبور کے دریا میں گرتے ہیں اب اس دریا میں مصنوعی جھیل سی بن چکی ہے اور اگلے آنے والے دنوں میں جب گرمی کی وجہ سے برف پگھل کر اس دریا میں آئے گی تو یہ عطاء آباد جھیل کا منظر پیش کرے گا۔

    میڈیا ٹیم سے باتیں کرتے ہویے مقامی لوگوں نے بتایا کہ ٹھیکیدار نے جو بڑے بڑے پتھر رمبور کی نہر میں ڈالا ہے اس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ بند ہوچکا ہے اور یہ عطا آباد جھیل کا منظر پیش کررہا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس نالہ میں جو جھیل بن چکیے یہ ہمارے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس سال بہت زیادہ برف باری ہوئی ہے اور پہاڑوں پر برف پگھل کر جب پانی زیادہ ہوگا تو اس سے ہمارے مکان ، باغات اور کھیت بھی تباہ ہو سکتے ہیں جبکہ سیلاب کی شکل میں پوری آیون وادی کی تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

    مقامی لوگوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ٹھیکیدار اس پہاڑ کے اندر کیئی میٹر لمبی سرنگ کرکے اس میں بہت زیادہ بارود اور یوریا کھاد ڈال کر زور دار دھماکہ کراتا ہے جس سے پورا پہاڑ دھڑام سے نیچے گرتا ہے اور یہ بارود اور کیمکل والا پانی نیچے جاکر اسے لوگ استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سےوہ محتلف بیماریوں میں بھی مبتلا ہورہے ہیں۔

    مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اس دریا نما نالہ سے فوری طور پر بڑے پتھر اور ملبہ ہٹاکر اسے صاف کیا جایے تاکہ پانی کی بہاو میں رکاوٹ نہ آیے ورنہ یہ بہت بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

    مقامی لوگوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آیون سے بمبوریت تک پچاس سال قبل محکمہ جنگلات نے ایک سڑک بنائی تھی جس پر دیار کی لکڑی لایا کرتے تھے اگر محکمہ این ایچ اے اسی سڑک کو دوبارہ بحال کرے جو معمولی مرمت سے ٹھیک ہوسکتی ہے تو اس سے ایک طرف کیلاش سڑک پر کام میں رکاوٹ نہیں آئے گی لوگ اسی اوپر والی سڑک پر سفر کریں گے جبکہ دوسری طرف ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی ایسے راستوں کو پسند کرتے ہیں جو پہاڑ کے بیچ میں سے گزرا ہو جہاں سے پوری وادی کا نظارہ کیا جاسکتا ہو۔

    ہمارے نمائندے نے چییرمین این ایچ اے ارشد مجید مہمند اور پراجیکٹ ڈایریکٹر ظہیر الدین سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی اور ان کو باقاعدہ تحریری پیغام بھیجا کہ وہ اس سلسلے میں اپنے موقف سے آگاہ کریں مگر ابھی تک انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔