Baaghi TV

Category: چترال

  • چترال:ہرت کریم آباد کی سڑک دس دنوں  کے بعد ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ہے

    چترال:ہرت کریم آباد کی سڑک دس دنوں کے بعد ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ہے

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)حالیہ شدید برف باری کے باعث وادی ہرت، کریم آباد، سوسوم وغیرہ کی سڑک دو مارچ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہو گئی تھی، جس کے باعث وہاں رہنے واہے ہزاروں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

    ویلیج کونسل کے چیئرمین شیر فراز خان نے راستے کی بندش سے پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بتایا کہ یہاں دکانداروں کے پاس زیادہ سے زیادہ تین دنوں کا سٹاک جمع ہوتا ہے مگر راستہ دس دن بند رہا جس پر کئی مقامات پر برفانی تودے، مٹی کے تودے اور بڑے پتھر گرے تھے۔

    اس علاقے میں کوئی ہسپتال نہیں ہے تو ہم اپنے مریضوں کو چارپائی پر ڈال کر کندھوں پر اٹھانے پر مجبور تھے۔ چیئرمین شیر فراز خان نے کہا کہ جب لوگوں کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھنے لگی تو میں یہاں سے پیدل چترال پہنچا اور ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے نوٹس میں لایا وہ میرے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئےاور انہوں نے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس یعنی سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجنیر طارق مرتضے کو ہدایت کی کہ وہاں کا راستہ فوری طور پر کھولاجائے۔

    ایکسین کے کہنے پر ایس ڈی او عدنان نے فوری طور پر ٹھیکیدار تاج رسول کو ہدایت کی اور اس کی مشینری فوری حرکت میں آگئی، اس وادی میں ایک بلڈوزر اور ٹریکٹر لگاکر مختلف مقامات پر پہاڑ سے گرے ہوئے برفانی تودے اور ملبہ ہٹایا اور اس سڑک کو ہر قسم کے ٹریفک کیلیے کھول دیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ اب بھی اس سڑک پر سفر کرتے وقت ڈر لگتا ہے اور لوگوں کو بہت مشکلات ہے کیونکہ ایک تو سڑک نہایت تنگ ہے اور دوسرا اس کے کنارے دریا کی جانب حفاظتی دیواریں نہیں ہے اس سڑے سے ہزاروں فٹ نیچے دریا بہتا ہے اگر خدا نحواستہ گاڑی کی بریک فیل ہوکر نیچے گری تو ہزاروں فٹ نیچے کھائی میں گرنے سے بچ نکلنا بہت مشکل ہے۔

    اس علاقے کے منتخب خاتون کونسلر وسیمہ بی بی نے بتایا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے عملہ نے بہت مشکل سے اس سڑک کو ٹریفک کیلئے کھول دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس پوری وادی میں ہسپتال نہیں ہے اور خواتین کو زچگی کے دوران ہسپتال پہنچاتے وقت اکثر زچہ بچہ راستے میں ہی دم توڑجاتے ہیں۔

    فتح الرحمان بھی اس علاقے کا باشندہ ہے انہوں نے بھی راستے کی بندش کی وجہ سے مشکلات پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ ہرت کلسٹر میں چھ سو اسی گھرانے محصور ہوچکے تھے اور کھانے پینے کی چیزوں کی بھی شدید قلت پیش آئی تھی اگر یہ راستہ بروقت نہ کھلتا تو شاید ہم لوگ فاقہ کشی کا شکار ہوسکتے تھے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحصیل کا باشندہ سلیم خان پانچ سال صوبائی وزیر رہا اور پانچ سال صوبائی اسمبلی کا رکن رہا مگر اس نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا بس اپنا کام نکالا۔

    مرزا ولی اور یہاں کے لوگوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسین اور ایس ڈی او کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئےاس سڑک سے برف صاف کرکے اسے ٹریفک کیلئے کھول دیا۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہاں ایک خاتون گردوں کی مریضہ تھی جسے ہر وقت ڈائلیسز کیلئے ہسپتال لے جانا پڑتا تھا مگر حالیہ برف باری کے باعث جب راستہ بند تھا تو اسے بھی بروقت ہسپتال نہیں لے جا سکے اور وہ گھر ہی پر تکلیف برداشت کرتی رہی۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ برف باری کے دوران انہوں نے برینس گول، پرییت وادی، پھستی، موری لشٹ، گولین،کجو بالا، کجو پائین، چترال میں عبدالولی خان بائی پاس روڈ، ہسپتال روڈ، ڈی سی آفس، مغلاندہ، ہون فیض آباد، ڈوم شغور، بکرآباد،دولوموس،لنگلینڈ سکول روڈ،سینگور، دنین اور گہتک کی سڑکیں برف سے صاف کی گئیں۔ جن پر اب معمول کے مطابق ٹریفک رواں دواں ہے۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ان کے پاس فنڈ کی شدید قلت ہے اور پچھلے سال کی مرمت اور بحال کاری کی فنڈ ابھی تک نہیں ملے۔ اگر حکومت ان کو ان کی ضرورت کے مطابق بجٹ فراہم کرے تو چترال کے لوگوں کو مواصلات کے مد میں کسی بھِی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا۔

  • چترال :وادی آرکاری میں سڑک سے برف  ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق

    چترال :وادی آرکاری میں سڑک سے برف ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)وادی آرکاری میں سڑک سے برف ہٹاتے ایکسکیویٹرالٹ گیا، آپریٹر جاں بحق، جاں بحق ہونے والا اپریٹر بوڑھے والدین سمیت پورے خاندان کا واحد کفیل تھا، متاثرہ خاندان نے حکومت سے امداد کی اپیل کی ہے۔

    امیر ولد غلام شاہ جو ایک نجی ایکسکیویٹر کا آپریٹر تھا آرکاری کی سڑک سے برف ہٹانے کی غرض سے سڑک پر جارہا تھا ،دوران کام ایکسکیویٹرکے اچانک پھسل جانے سے بمقام شور آرکاری وہ مشین الٹ گئی،جس کے نیچے آکرآپریٹر امیر موقع پر جاں بحق ہو گیا۔جاں بحق ہونے والا اپریٹر بوڑھے والدین سمیت پورے خاندان کا واحد کفیل تھا، اسکے فوت ہونے کی وجہ سے خاندان شدید متاثر ہو چکا ہے۔

    سابق ناظم یونین کونسل شغور عبدالمجید نے ہمارے نمائندے کو فون پر بتایا کہ اس کی درخواست پر ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے کہا تھا کہ وادی آرکاری کی سڑک سے برف ہٹائی جائے تاکہ لوگوں کو آنے جانے میں آسانی ہو۔ اس دوران ایکسکیویٹر مشین اچانک الٹ گئی اور نوجوان آپریٹرامیر اس کے نیچے آکر جاں بحق ہوگیا۔

    عبدالمجید کا کہنا ہے کہ امیر کا والد غلام شاہ جو ایک بیمار آدمی ہے اب اس کیلئے دوائی لانے والا بھی کوئی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور شدید برف باری کے باعث وادی آرکاری بری طرح متاثر ہوئی تھی ،وہاں جانے والے تمام راستے بند تھے۔ خواتین، بچوں، بوڑھوں اور طلباء و طالبات کو سکول، کالج جانے یا لوگوں کو ہسپتال جانے میں نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وادی میں راستے بند ہونے کی وجہ سے اشیائے خوردنوش کی بھی شدید قلت پیدا ہوئی ہے اور وہاں کے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں جو حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    عبدالمجید نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مرحوم امیر کے خاندان کے ساتھ مالی مددکریں اور وادی آرکاری کا راستہ جلد سے جلد کھولنے کے ساتھ ساتھ وہاں امدادی سامان بھی پہنچایا جائے تاکہ لوگ فاقہ کشی بچ سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ وادی میں ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مریض چترال ہسپتال آنے کی کوشش کرتے ہیں مگر راستے بند ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ان برفانی تودوں کے اوپر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں جوبہت ہی خطرناک ہے.

  • شدید برف باری سے وادی کیلاش بری طرح متاثر ،مواصلاتی نظام درہم برہم

    شدید برف باری سے وادی کیلاش بری طرح متاثر ،مواصلاتی نظام درہم برہم

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)شدید برف باری سے وادی کیلاش بری طرح متاثر ،مواصلاتی نظام درہم برہم،عوام اور سیاحوں کو مشکلات کا سامنا۔

    حالیہ شدید برف باری نے پچھلے کیی دہائیوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ وادی کیلاش کے بمبوریت اور شیخانندہ میں پانچ سے چھ فٹ تک برف باری ہوئی ، جس کے باعث وہاں کا مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ،سڑکیں بند ، بجلی غائب، موبائل فون بھی خاموش اور دکانوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہوئی

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مدد اپ کے تحت سڑک سے برف ہٹائی تاکہ لوگ کم ازکم اپنے لیے کھانے پینے کی چیزیں تو آسانی سے لاسکیں۔

    وادی کیلاش کے عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ہم مجبور ہوکر خود اپنےگھروں سے بیلچےاور کودال اٹھاکر سڑک سے برف کوصاف کیا۔ یہاں دکانوں میں ضرورت کی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی نار کی سروس جب معطل ہوئی تو ہم نے چندہ اکھٹا کرکے اس کیلئے تیل اوپر پہاڑی میں بھیجا تاکہ کم از کم ہمارا آپس کا رابطہ بحال ہو اور ہم ایک دوسرے کی خیر خیریت سے آگاہ رہیں۔

    زور محمد کیلاش قبیلے کا قاضی کا کہنا ہے کہ جب برف باری ہوئی نہ صرف ہماری سڑکیں بند ہوئیں بلکہ ٹیلی نار سروس بھی معطل ہوگئی تھی۔ بجلی بند تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک کو کیلاش اور مسلمان دونوں نے رضاکارانہ طور پر بلا معاوضہ صاف کرکے کھول دیا تھا تاہم بعد میں کیلاش ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی ٹریکٹر نےآکر تھوڑی بہت صفائی کرلی۔

    مقامی لوگوں نے معروف معالج اور سماجی کارکن ڈاکٹر محمد عدنان بھٹہ کا شکریہ ادا کیا جو مصیبت کے ہر گھڑی میں ان کی مدد کیلیے تیار رہتا ہے۔ اس دفعہ بھی ان کی کوششوں سے میڈیا ٹیم وادی کیلاش پہنچی اور اس سے پہلے بھی اس نے پیدل جاکر کئی مرتبہ فری میڈیکل کیمپ بھی لگائے جب یہاں پر کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔

    عبدالجبار بھی اس علاقے کا ٹور گائیڈ اور سماجی کارکن ہے انہوں نے کہا کہ 29 فروری کو جو برف باری ہوئی تھی اس سے ہم بری طرح متاثر ہوئے۔ راستہ ہم خود کھول رہے ہیں بیماروں کو خود اٹھاکر ہسپتال پہنچارہے ہیں مگر ابھی تک سرکار کی طرف سے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ برف باری کے دوران اکثر سیاح مری، سوات اور کالام جاکر برف باری سے لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ وہاں کی سڑکیں کھلی ہیں مگر یہاں کوئی نہیں آتا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سڑکیں بند تھی اور ادارےخاموش تھے اگر یہاں بھی مواصلاتی نظام کو بہتر بنایا جائے تو یہاں بھی سیاح آئیں گے اور ہمارے ہوٹلوں میں قیام کریں گے جس سے ہمِیں بھی روزگار ملے گا۔

    کیلاش وادی ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر عبدالخالق کیلاش کا کہنا ہے کہ ہمارا صرف چھ ماہ سیزن ہوتا ہے اور چھ ماہ ہماری ہوٹلیں بند رہتی ہیں کیونکہ برف باری کی وجہ سے اکثر راستے بند ہوتے ہیں مواصلاتی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے تویہاں کوئی آنے کو تیار نہیں ہوتا۔

    وادی کیلاش کے چییرمین خلیل احمد نے کہا کہ بمبوریت کی سڑک نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حوالے ہوئی ہے اور سڑک کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سڑک سے برف اور ملبہ ہٹانا بھی ان کے ٹھیکے میں شامل ہے مگراس دفعہ این ایچ اے نے ہمِیں بہت مایوس کیا نہ صرف انہوں نے سڑ ک پر تعمیر کا کام بند کیا ہوا ہے بلکہ سڑک سے برف بھی نہیں ہٹائی اور خدشہ ہے کہ ٹھیکیدار ادارے کے افسران سے ملی بھگت کرکے اس کا بل بھی پاس کرالے گا۔

    یہاں کے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ وادی کیلاش بمبوریت کی مواصلاتی نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ برف باری کے دوران دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی سیاح آیا کریں اور سردی کی موسم میں بھی ونٹر ٹورزم کو ترقی دینے سے یہ پسماندہ علاقہ بھی ترقی کرسکے۔

  • چترال:وادی کیلاش میں آئس ہاکی کھیلتے ہوئے نوجوان کھلاڑی جاں بحق

    چترال:وادی کیلاش میں آئس ہاکی کھیلتے ہوئے نوجوان کھلاڑی جاں بحق

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)وادی کیلاش میں آئس ہاکی کھیلتے ہوئے نوجوان کھلاڑی جاں بحق

    وادی کیلاش میں آئس ہاکی کھیلتے ہوئے ایک نوجوان کھلاڑی چھت سے گر کر جاں بحق ہوگیا ہے،حالیہ شدید برف باری کے بعد وادی کیلاش کے لوگ اپنا قدیمی ثقافتی کھیل آئس ہاکی کھیل رہے تھے۔وادی کیلاش کے برون ٹار گاؤں جو پہلوانندہ کے سامنے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے اس کا ایک نوجوان کھلاڑی شیر انجم ولد سلطان روم جس کی عمر پچیس سال بتائی گئی ہے

    وہ دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ آئس ہاکی جسے مقامی زبان میں ہیم غال کہتے ہیں کھیل رہا تھا،اس کھیل میں لکڑی سے بنی ہوئی ایک گیند ہوتی ہے جس پر کالا رنگ لگایا جاتا ہے تاکہ برف میں گم نہ ہوجائے کیونکہ برف کا رنگ بھی سفید ہوتا ہے اسلئے اس گیند پر کالا رنگ لگایا جاتا ہے۔

    کھیل کے دوران یہ گیند زیر تعمیر تھانہ بمبوریت کے چھت پر جا گری۔ شیر انجم نے تھانےکے چھت پر چڑھ کر بال نیچے پھینکی مگر برف زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے اندازہ نہیں ہوا اور چھت سے نیچے فرش پر گر گیا جس کی وجہ سے وہ جاں بحق ہوگیا۔ اس کا والد سلطان روم بھی فوت ہوچکا ہے ایک بھائی ڈرائیور جبکہ دوسرا بھائی دبئی میں ہے۔

    جب نوجوان کھلاڑی نیچے گر گیا تو اس وقت وادی کیلاش کا راستہ شدید برف باری کے باعث ہر قسم کے ٹریفک کیلیے بند تھا جس کی وجہ سے اسے بروقت نہ تو ہسپتال پہنچایا گیا نہ اسے طبعی امداد دی گئی اس طرح وہ نوجوان راستے ہی میں دم توڑ گیا۔

    کیلاش سے تعلق رکھنے والے چند عمائدین نے ہمارے نمائندے سے فون پر باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیلاش ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پر ڈھائی سال پہلے کروڑوں روپے مالیت کی مشنیری آچکی ہے جس میں ایکسکیویٹر، لوڈر، ڈس بین، ٹرالی ٹریکٹر اور دیگر مشینری شامل ہیں مگر یہ ساری مشینری تحصیل میونسپل انتظامیہ کے دفتر میں بے کار کھڑی ہے جسے زنگ لگنے کا خطرہ بھی ہے۔

    وادی کیلاش کے لوگو ں نے مطالبہ کیا ہے کہ کیلاش ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پر جو مشینری اور سامان آیا ہوا ہے اسے بروئے کار لاتے ہوئے وادی کیلاش کے تینیوں دیہات، بمبوریت، رمبور اور بریرکے راستوں کو کھول دیا جائے تاکہ یہاں کے لوگ کم از کم اپنے زحمیوں اور بیماروں کو تو بروقت ہسپتال پہنچا سکیں اور یوں ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیارے موت کا لقمہ نہ بنیں۔

    معروف معالج اور سماجی کارکن ڈاکٹر محمد عدنان نے وزیر اعلیٰ خیبر پحتون خواہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بمبوریت میں واحد بنیادی مرکز صحت بی ایچ یو میں فوری طور پر ڈاکٹر تعینات کیا جائے تاکہ یہاں کے ہزاروں باشندوں کو بروقت طبعی امداد تو مل سکے۔

    انہوں نے یہ بھِی مطالبہ کیا کہ کیلاش کے تینوں وادیوں رمبور، بمبوریت اور بریر کے راستے ہر قسم کے ٹریفک کیلیے کھول دئے جائیں تاکہ عوام کو سفر کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

  • چترال:شدید برف باری سے بند سڑکیں محکمہ مواصلات نے ٹریفک کیلئے کھول دیں

    چترال:شدید برف باری سے بند سڑکیں محکمہ مواصلات نے ٹریفک کیلئے کھول دیں

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)شدید برف باری سے بند سڑکیں محکمہ مواصلات نے ٹریفک کیلئے کھول دیں

    حالیہ شدید برف باری کے باعث چترال میں وادی بمبوریت، رمبور، ارسون، شیشی کوہ، جنجیریت کوہ، بیوڑی اور دیگر علاقوں کے راستے ہر قسم کے ٹریفک کیلیے بند ہوگئے تھے۔

    پشاور چترال مین شاہراہ اور بازار کے اندر سڑکوں سے این ایچ اے کے مشینری نے برف صاف کردی ہے جب کہ دیگر وادیوں سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو یعنی کمیونیکیشن اینڈ ورکس برف صاف کررہی ہے۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجنیر طارق مرتضےِ اور ایس ڈی او دروش وقار خان کے ہدایت پر دروش کنسٹرکشن کمپنی کے ٹھیکدار حیدر علی نے وادی بمبوریت کا راستہ انیش تک، رمبور کا سڑک پوندک تک جبکہ شیشی کوہ کا راستہ پتی گال تک کھول دیا۔ تاہم شیشی کوہ سڑک پر مسلسل برفانی اور مٹی کے تودے گرنے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے پتھر گرنے سے صفائی کے کام میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔

    متعلقہ کمپنی کے اہلکاروں نے دن رات محنت کرکے وادی ارسون، جنجیریت کوہ اور بیوڑی کا راستہ ہر قسم ٹریفک کیلئے کھول دیاہے، مقامی لوگوں کے مطابق وادی کیلاش کی سڑکیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پاس ہیں مگر ان سڑکوں سے برف محکمہ سی اینڈ ڈبلیو صاف کروارہی ہے۔

    اس وقت گرم چشمہ، وادی کریم آباد، سوسوم ، مڈگلشٹ وغیرہ کی سڑکیں تاحال بند ہیں۔تاہم محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی مشینری مسلسل کام کررہی ہے امید ہے کہ بہت جلد وادی شیشی کوہ کا راستہ مکمل طور پر ہر قسم کے ٹریفک کیلئے کھول دیا جاے گا جس سے عوام کی مشکلات میں کمی آئےگی۔

    محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انکشاف کیا کہ ان کو پچھلے سال صفائی کی رقم بھی نہیں ملی ہے اور وہ ٹھیکیداروں سے اپنے ذاتی اثر رسوح کے بنیاد پر کام کروارہے ہیں۔

  • چترال:پاک افغان سرحدی علاقہ وادی آرکروی کے عمائدین کااے سی دروش کے دفتر کے سامنے احتجاج

    چترال:پاک افغان سرحدی علاقہ وادی آرکروی کے عمائدین کااے سی دروش کے دفتر کے سامنے احتجاج

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگارگل حمادفاروقی)پاک افغان سرحدی علاقہ وادی آرکروی کے عمائدین کااے سی دروش کے دفتر کے سامنے احتجاج
    پاک افغان سرحدی علاقہ وادی آرکروی کے عمائدین نے اے سی دروش کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا کہ شہزادہ خالد پرویز نے انہیں جنگلات کی رائیلٹی کے بیس کروڑ روپے سے محروم کیا ہے۔ انہوں منتبہ کیا کہ اگر دو دن کے اندر ان کو جائز حق نہیں ملا تو وہ خواتین اور بچوں سمیت بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

    https://x.com/DrMustafa983/status/1765654462792671349?s=20

  • چترال:حالیہ برفباری کے باعث وادی کالاش کے تینوں ودیوں میں ٹریفک اور مواصلاتی نظام درہم برہم

    چترال:حالیہ برفباری کے باعث وادی کالاش کے تینوں ودیوں میں ٹریفک اور مواصلاتی نظام درہم برہم

    چترال ( فتح اللہ) چترال میں چار روز تک شدید برفباری ہوتی رہی جس کے باعث چترال میں مواصلات اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ، لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہے گئے ہیں ۔

    لوئر چترال وادی کالاش کے تینوں ودیوں میں تین فٹ تک برف پڑی ہے جس کی وجہ سے عوام شدید پریشانی سے دو چار ہیں ۔ خوارک کی کمی ، ہپستال تک رسائی ، بجلی کی فراہمی معطل ، سڑکوں کی بندش ، موبائل سروس کی بندش اور درجنوں مسائل کا شکار وادی کے عوام برفباری تھمنے کے بعد بھی بحالی کے کام شروع نہ کرنے پر پریشانی سے دو چار ہوگئے ہیں ۔ لوگ کئی گھنٹوں پیدل سفر کر کے آیون پہنچ رہے ہیں ۔

    پیدل سفر کرنے والے چترال پہنچ کر اپنی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں اور یہاں سے خوراک کا بندوست کرتے ہوئے آیون سے وادی تک اشیاء خوردونوش اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھروں میں پہنچ جاتے ہیں ۔

    وادی کالاش کے درجنوں افراد ڈسٹرکٹ ہسپتال میں داخل ہیں جو کہ ڈسچارج کرنے کے باجود گھروں کے لیے نہیں جا سکتے ہیں جس کے باعث غریب عوام ادھار لے کر اخراجات پورا کرنے پر مجبور ہیں ۔

    چترال سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں مقیم وادی کےافراد اپنے گھر والوں سے رابطے نہیں کر پاتے ہیں اور وادی کیلاش میں موجود لوگ اپنے پیاروں سے رابطے نہیں کر پا رہے ہیں جس کی وجہ شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

    چترال لوئر اور وادی میں محصور عوام نے ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ بروقت روڈ پر سے برف ہٹانے کا کام شروع کرکے عوام کی مشکلات میں کمی لائے تاکہ عوام خوارک کی کمی کو پورا کر پائے اور مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں ان کے لیے آسانی ہو

    جو مریض ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر ہوٹلوں میں مقیم ہیں وہ بھی آسانی سے گھروں تک پہنچ جائیں اور اضافی اخراجات کی پریشانی سے نجات حاصل ہو ۔

  • بالائی علاقوں میں بارش و برفباری، 9 جاں بحق، سڑکیں بند،شہری گھروں محصور

    بالائی علاقوں میں بارش و برفباری، 9 جاں بحق، سڑکیں بند،شہری گھروں محصور

    چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی )بالائی علاقوں میں بارش و برفباری، 9 جاں بحق، سڑکیں بند، تعلیمی و دفتری سرگرمیاں معطل ،چترال، دیر اور غذر متاثر،سیاحوں کو مشکلات کا سامنا

    ڈی جی ریسکیو 1122 کے مطابق مختلف اضلاع میں چھتیں گرنے کے باعث 9 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہو گئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ ڈی جی رسیکیو 1122 کا مزید کہنا تھا کہ چھتیں گرنے سے متعدد مویشی بھی ہلاک ہو گئے ہیں، چھتیں گرنے کے واقعات پشاور، لوئر دیر اور باجوڑ میں پیش آئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں بارش اور برف باری سے راستے بند ہوگئے۔ آج چترال میں تعلیمی ادارے بند ہیں جب کہ دیر بالا میں دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    لوئردیر میں بارش سے رات گئے لینڈسلائیڈنگ ہوئی،پہاڑی تودہ مکان پر گرنے سے 3 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا، لاشوں اور زخمی کو ملبے سے نکال لیا گیا۔

    پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں مکان کی چھت گرنے سے آٹھ ماہ کی بچی جاں بحق، خاتون سمیت تین بچے زخمی ہوگئے۔

    غذر میں بارش اور برف باری سے بالائی علاقوں کا زمینی رابط منقطع ہوگیا ہے جبکہ گلگت چترال بین الصوبائی شاہراہِ بھی ایک ہفتے سے بند ہے.
    گرم چشمہ روڈ بھی برف باری کی وجہ سے بند ہے،

    دیہی رابطہ سڑکیں بند ہونے کے باعث نظام زندگی معطل ہوگیا، کئی علاقوں چترال سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، برفباری سےمتاثرہ علاقوں میں سخت سردی کا راج ہے۔

    چترال میں بارش اور برفباری کی وجہ سےآج ہفتہ کوتعلیمی ادارے بند ہیں گ، اس کے علاوہ شدید بارش اور برفباری کے باعث ہفتے کو دیربالا کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    چترال شہر میں جمعہ کی شب سے اب تک بارش اور وادی کیلاش میں دو فٹ سے زائد برف پڑچکی ہے ۔گرم چشمہ اور دیگر علاقوں میں بھی برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔لوگ گھروں میں محصور ہوچکے ہیں

    دیر بالا کے میدانی علاقوں میں تیز بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔شدید برفباری کے باعث لواری ٹنل اپروچ سڑک ٹریفک کے لیے بند ہے۔

    شدید بارش اور برفباری کے باعث آج ہفتے کو دیربالا کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا نوٹیفیکشن جاری کیا گیاہے۔

    دیربالا کے وادی کمراٹ، ڈوگدرہ ،جاز بانڈہ ،وادی عشیری کیردرہ اور براول کے پہاڑوں پر برفباری سے ہر سو سفیدی ہی سفیدی ہے۔ دیربالا کے بالائی علاقوں میں دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔

    برفباری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ بارش اور برفباری سے مختلف علاقوں کی بجلی معطل ہوگئی اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔انٹرنیٹ سروس معطل ہوچکی ہے

    ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے راستے بند ہونے سے سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔انتظامیہ نے آج رات مسافروں کو سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

  • چترال :برف باری,گرم چشمہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند،آبادی کاچترال سے زمینی رابطہ منقطع

    چترال :برف باری,گرم چشمہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند،آبادی کاچترال سے زمینی رابطہ منقطع

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)برف باری,گرم چشمہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند،آبادی کاچترال سے زمینی رابطہ منقطع

    چترال اور مضافات میں گذشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ چترال شہر میں دو سے تین انچ تک برف باری ہوئی ہے جبکہ لواری ٹنل روڈ پر دو فٹ تک برف ریکارڈ ہوچکی ہے۔ گرم چشمہ سڑک شدید برف باری کے باعث ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند ہے جس کی وجہ سے چالیس ہزار لوگوں کا چترال سے رابطہ منقطع ہے۔

    دو دن مسلسل بارش کے بعد ضلع اپر اور لویر چترال میں گذشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ برف باری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ بازارسنسان ہوچکے ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہایت کم ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بغیر کسی خاص ضرورت کے سفر کرنے سے گریز کریں تاکہ برفانی یا مٹی کا تودہ گرنے کی وجہ سے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

    وادی کیلاش کی تینوں علاقوں بمبوریت، بیریر، رمبور اور شیخانندہ میں بھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے جہاں دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔

    مڈگلشٹ میں دو فٹ سے زیادہ برف باری ہوئی ہے اور وہاں کا راستہ بھی جگہہ جگہہ برفانی تودے گرنے کی وجہ سے خراب ہوچکا ہے۔ چترال کے لوگ برف باری کے دوران خود کو سردی سے بچانے کیلیے لکڑی جلاکر آگ جلاتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

    چترال میں طویل خشک سالی کے بعد اس سیزن میں دوسری بار برف باری ہوئی ہے تاہم مقامی بزرگوں کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں پندرہ سال بعد برف باری ہوئی ہے۔ مقامی ماہرین کے مطابق جب نومبر، دسمبر یا جنوری میں برف باری ہوتی ہے تو وہ دیرپا ہوتی ہے اور کافی حد تک وہ جمی رہتی ہے جو موسم گرما میں پانی کا بڑا ذحیرہ ہوتا ہے مگر اس موسم میں برف جلدی پگھل جاتی ہے۔

    حالیہ برف باری سے ایک طرف اگر عوام خوش ہیں تو دوسری طرف زمیندار طبقہ بھی نہایت پرامید ہے کہ اس سے ان علاقوں میں کھیتوں کو سیراب کیا جائے گا جہاں نہری پانی دستیاب نہیں ہے اور لوگ بارش یا برف کے پانی سے اپنی فصلوں کو سیراب کرتے ہیں۔

    گرم چشمہ کے عمایدین کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ابھی تک سڑک سے برف ہٹانے کا کام شروع نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے پوری وادی کے لوگ محصور ہوچکے ہیں اور ان کو روزمرہ استعمال کی چیزیں، تازہ سبزی اور مرغی، گوشت وغیرہ بھی فراہم نہیں کئے جاسکتے۔

    برف باری کے دوران بچے لوگ بہت خوش ہوتے ہیں اور وہ برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے پر پھینک کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت چترال کے طول و عرض میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور درجہ حرارت بھی نقطہ انجماد سے نیچے گرا ہوا ہے۔

    مسافروں اور سیاحوں سے گذارش ہے کہ وہ لواری ٹنل سڑک پر سفر کرنے سے پہلے سڑک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سنو چین ضرور استعمال کریں تاکہ برفیلی سڑک پر سفر کے دوران پھسلنے سے بچ جائیں اور محفوظ طریقے سے سفر جاری رکھ س سکیں۔

    واضح رہے کہ برف باری کے دوران کثیر تعداد میں سیاح ان علاقوں میں آتے ہیں اور برف باری سے لطف اندوز ہوکر اس میں سیلفیاں اور تصاویر بناتے ہیں۔

  • دو روز سےمسلسل بارش کے بعد چترال کے طول و عرض میں رات سے برف باری کا سلسلہ جاری

    دو روز سےمسلسل بارش کے بعد چترال کے طول و عرض میں رات سے برف باری کا سلسلہ جاری

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگار اخونزادہ گل حماد فاروقی) دو روزمسلسل بارش کے بعد چترال کے طول و عرض میں رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے ،لواری ٹنل روڈ پر دو فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے

    وادی کیلاش کے رمبور، بمبوریت بریر میں بھی ڈیڑھ فٹ سے زیادہ برف باری ہوئی ہے۔ برف باری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوچکاہے، سڑکوں پر ٹریفک کم اور بازار میں رش نہ ہونے کے برابر ہے،برف باری کی وجہ سے کاروبار زندگی ٹھپ ہوکر رہ گیا۔

    برف باری کی وجہ سے لوگوں گھروں میں محصور ہوچکے ہیں، شدید برف باری کے باعث لواری سرنگ کا راستہ بند ہونے کا خدشہ ہے تاہم این ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی مشینری برف کو مسلسل صاف کررہی ہے، برف باری کے دوران لوگ لکڑی جلاکر خود کو گرم کرتے ہیں جس کی وجہ سے بازار میں چالیس کلوگرام لکڑی کی قیمت850 روپے ہوگئی ہے جو غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے

    عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال کے لوگوں کو سستے نرح پر بجلی یا گیس فراہم کی جائے تاکہ جنگلات پر بوجھ کم پڑے اور موسمیاتی تبدیلی کی منفی اثرات سے چترال بچ سکے
    اس سال طویل خشک سالی کے بعد دوسری بار برف باری ہورہی ہے ،عام طورپرمارچ کے مہینے میں بہت کم برف پڑتی ہے۔