Baaghi TV

Category: چترال

  • پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشتگرد ہلاک

    پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشتگرد ہلاک

    چترال: پاک افغان سرحد کے قریب چترال کے علاقے ارسون میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر)کے مطابق آپریشن چترال کے علاقے ارسون میں7 اور 8 نومبر کی درمیانی رات کیا گیا، آپریشن میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 2 دہشت گرد ہلاک جبکہ 4 دہشت گرد شدید زخمی ہوئے،علاقے میں کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن کیا گیا، علاقے کے لوگوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کو سراہا۔

  • چترال، پہاڑی کے کٹائی کے دوران ایک شخص زخمی جبکہ 8 گھر تباہ

    چترال، پہاڑی کے کٹائی کے دوران ایک شخص زخمی جبکہ 8 گھر تباہ

    چترال بونی کے سامنے پہاڑی پر کھدائی کے دوران دھماکے میں ایک شخص زخمی جبکہ آٹھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے، ضلع چترال بونی کے سامنے پہاڑی پر دھماکے آٹھ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق بونی چترال سڑک کی کشادگی کیلیے پہاڑی کی کٹنگ کی جارہی ہے جس میں بارودی مواد کی مدد سے دھماکہ کر کے پہاڑ کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاہم دھماکے سے ایک شخص زخمی جبکہ قریبی گھروں کو نقصان پہنچا ہے،
    مقامی افراد کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بونی میں زلزلہ کی سی صورت حال پیدا ہوئی اور لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہوئے۔ تقریباً تین کلو میٹر تک دور جاکر پتھر لگنے سے آٹھ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ ممتاز حسین نامی شخص زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا۔
    مقامی لوگوں کی جانب سے متعلقہ تھانہ بونی کو رپورٹ کرکے این ایچ اے کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی،۔ یاد رہے علاقے کے مکینوں نے بیس روز قبل ڈپٹی کمشنر اپر کو خطرات کی نشاندہی کی تھی لیکن ان کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی تھی،
     

  • اپر چترال میں چکن پاکس پھیلنے لگا،درجنوں افراد متاثر

    اپر چترال میں چکن پاکس پھیلنے لگا،درجنوں افراد متاثر

    اپر چترال میں چکن پاکس کی وباء سے سکول کے 30 سے زائد طالبات متاثر ہوئے ہے، اپر چترال کے علاقے لاسپور میں چکن پاکس بیماری سے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول ہرچین کے ہیڈ مسٹریس سمیت 32 طالبات متاثر ہوئی ہیں۔مقامی افراد کے مطابق سکول سمیت ہرچین گاؤں میں اب تک درجنوں افراد چن پاکس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر 9 سے لیکر 31 سال تک کے افراد شامل ہیں۔
    ڈی ایچ او اپر چترال کے مطابق چکن پاکس بیماری میں متاثره شخص يا خاتون کے چہرے پر دانے نمودار ہوتے ہیں اور وہ شدید بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
    ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ سکول اور علاقے کے لوگوں کی علاج کے لیے بی ایچ یو بروک سے میڈیکل ٹیمیں پہنچ گئی ہے اور انہوں نے متاثرہ لوگوں کو سحت کی سہولیات دے رہے ہے۔ڈی ایچ او کے مطابق چکن پاکس ایک وبائی مرض ہے تاہم اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں ہے جبکہ میڈیکل ٹیموں نے متاثرہ بچوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے تاکہ یہ اس بیماری پر قابو پا لیا جائے۔
    ان کا مزید کہنا ہے کہ سکول انتظامیہ کو بھی آگاہ کردیا ہے کہ چکن پاکس سے متاثرہ بچوں کو گھروں میں ہی رکھا جائے،

  • بابو سر ٹاپ پر پیش آنے والے حادثے میں ایک  ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق ہوگئے

    بابو سر ٹاپ پر پیش آنے والے حادثے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق ہوگئے

    ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ 10 افراد شدید زخمی ہوئے ،حادثہ اس وقت پیش آیا جب وین سڑک سے اتر کر ایک تیز رفتار کار سے ٹکرا کر بابوسر ٹاپ کے قریب کھائی میں گر گئی۔یہ المناک حادثہ ضلع دیامیر کے خوبصورت گیتی داس سیاحتی مقام پر پیش آیا ،.حادثے کا شکار وین راولپنڈی کی طرف جارہی تھی کہ آنے والی گاڑی سے ٹکرا گئی۔تصادم کے باعث وین کا ڈرائیور کنٹرول کھو بیٹھا، جس کے نتیجے میں گاڑی سڑک سے اُلٹ کر گہری کھائی میں جاگری۔جاں بحق ہونے والے تمام افراد ایک ہی خاندان کے افراد تھے جن کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔باقی 10 زخمی مسافروں کو فوری طبی امداد کے لیے چلاس منتقل کر دیا گیا۔
    مقتولین کی لاشوں ناران اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

  • چترال : سول سوسائٹی اور آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، گندم کی قیمت دگنا کرنے پراحتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال

    چترال : سول سوسائٹی اور آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، گندم کی قیمت دگنا کرنے پراحتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال

    چترال،باغی ٹی وی(گل حماد فاروقی)سول سوسائٹی اور آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، گندم کی قیمت دگنا کرنے پراحتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال
    تفصیلات کے مطابق چترال میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ آل پارٹیز کی کال پر اتالیق چوک میں ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی مولوی جمشیدنے کی۔اس موقع پر مظاہرین نے اتالیق بازار میں واک کرکے مظاہرہ کیا بعد میں اس نے ایک بہت بڑے جلسے کی شکل اختیار کی۔ جلسہ میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندگان،تاجر یونین، ڈرائیور یونین، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور کثیر تعداد میں لوگو ں نے بھی شرکت کی۔

    اس موقع پر چترال بازار میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی رہی جبکہ مین پشاور چترا ل شاہراہ کو بھی بلاک کیا گیا۔احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ چترال کے لوگ بھی پاکستانی ہیں اور پر امن شہری ہیں مگر ان کے ساتھ حکومت سوتیلی ماں جیسا سلوک کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ صوبائی حکومت نے ایک نوٹیفیکشن جاری کرتے ہوئے ضلع بھر میں تمام پن چکیوں کو بند کرکے غیر مقامی لوگوں کو فلور مل کھولنے کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ ان ملوں میں نہایت ناقص آٹا عوام کو فراہم کیا جاتا ہے جو انسانوں کے کھانے کی قابل نہیں ہوتا جبکہ لوگوں کو رعایتی نرح پر گندم کی فراہمی بند کرائی گئی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے یہ بھی برداشت کیا مگر ابھی حال ہی میں عبوری حکومت کے دور میں گندم کی قیمت یک دم سو فی صد بڑھائی گئی اور سو کلوگرام گندم کی بوری چھ ہزار کی بجائے اب بارہ ہزار روپے پر ملتی ہے جبکہ یہی گندم گلگت بلتستان میں صرف چار ہزار روپے میں ملتی ہے۔

    انہوں نے اس موقع پر فلور ملز مافیا مردہ باد وغیرہ کے بینرز بھی لگائے تھے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ چترال میں تمام فلور ملوں کو بند کرکے پرانے نظام کے تحت لوگوں کو گندم سیل پوائنٹ سے فراہم کی جائے تاکہ یہ لوگ اپنے مرضی سے اسے پن چکیوں میں پیس کر استعمال کریں کیونکہ مل میں جو گندم پیسا جاتا ہے اس میں سے خالص میدہ الگ، سفید آٹا الگ، چوکر الگ اور نہایت ناقص معیار کا آٹا الگ کیا جاتا ہے جسے عوام کو فروخت کیا جاتا ہے۔ حکومتی پالیسی کے مطابق چترال میں چلنے والے مل ستر فی صد آٹا سستے نرح پر عوام کو فروخت کرے گا جبکہ تیس فی صد آٹا وہ اپنی مرضی سے فروخت کرنے کا مجاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو رعایتی آٹا عوام کو فروخت کیا جاتا ہے وہ کھانے کی قابل بھی نہیں ہے اور اکثر مل مالکان یہاں سے آٹا دوسرے اضلاع کو بھی اسمگل کرتے ہیں۔ جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوئی۔ قراراداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ گندم کی نرخ میں فی بوری اچانک چھ ہزار روپے اضافہ کرنا ایک ظالمانہ فیصلہ ہے اس کے نتیجے میں شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ دو وقت کی سوکھی روٹی کیلئے بھی ترس رہے ہیں۔ آل پارٹیز اور سول سوسائٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت اس فیصلے کو فوراً واپس لے۔

    قرارداد کے ذریعے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے عوام کو بھی گلگت بلتستان کے نرح پر گندم فراہم کی جائے کیونکہ چترال اور گلگت کے عوام کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔چترال میں لوگ آٹا ملز کے مالکان کی من مانیوں سے تنگ آچکے ہیں جو چترال کے کوٹے کا گندم خرید کر اور اس سے بننے والا آٹا دگنی نرح پر عوام کو فروخت کررہے ہیں جو معیاری بھی نہیں ہوتا اور چترال سے آٹا ضلع سے باہر بھی بھیج رہے ہیں۔ قرارداد کے ذریعے محکمہ حوراک سے مطالبہ کیاگیا کہ چترال میں آٹا ملوں پرپابندی لگا کر عوام کو گودام سے گندم فراہم کی جائے نیز گوداموں میں لوگوں کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کی ضرورت کے مطابق گندم کی فراہمی کا انتظام کیا جائے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوئے تو عوام شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے اور حالات کی کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوں گی۔
    انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جس دن غلہ گوداموں میں گندم کی فراہمی بند کرتے ہوئے مل مالکان کو آٹا دینے کی نوٹیفیکیشن آیا اس وقت ان گوداموں میں ایک مہینے کا سٹاک موجود تھا مگر وہ اچانک غائب ہوا اس سلسلے میں بھی تحقیقات ہونا چاہئے۔

    ہمارے نمائندے نے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر رحمت ولی خان کے دفتر جاکر ان سے بھی موقف لیا ان کا کہنا ہے کہ گندم کی نرح بڑھانے میں ان کا کوئی عمل دحل نہیں ہے وہ حکومت کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مطالبے پر نو دن آٹا ملوں کو گندم کی فراہمی بند ہوئی تھی بعد میں صوبائی حکومت کی مداحلت پر یہ سلسلہ دوبارہ جاری ہوا۔ تاہم چترال کے سرکاری گودام سے روزانہ دو سو من گندم عوام کو دی جاتی ہے اسی طرح دروش کے گودام سے 180 من گندم روزانہ عوام کو فراہم کی جاتی ہے یہ گندم آٹاملوں کو فراہم کرنے کے علاوہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹا ملوں کیلئے کوٹے کا سرکاری نرح مقرر ہے اور اسی نرح پر عوام کو آٹا فراہم کیا جاتا ہے۔ ہمارے نمائندے نے مل مالکان سے بھی رابطہ کرکے ان کی موقف لینے کی کوشش کی مگر انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ جلسہ میں چترال سے منتحب صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین پر بھی کڑی تنقید کی گئی جو ووٹ کے وقت عوام کا ہاتھ چھومنے سے دریغ نہیں کرتے مگر مصیبت کے اس گھڑی میں اب وہ غائب ہیں۔
    اس احتجاجی جلسہ میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں، تاجر یونین، ڈرائیور یونین، سول سوسایٹی کے نمائندگان نے بھی اظہارخیال کیا جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ بعد میں مولوی جمشید کی دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

  • چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔

    چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔

    چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔ چترال کی سڑکوں پر فوری کام شروع کروانے کا پرزور مطالبہ
    چترال(گل حماد فاروقی)چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے زیر اہتمام سول سوسایٹی کے اراکین اور محتلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مشترکہ جلسہ ہوا۔ جلسے کی صدارت مولوی اسرار الدین الہلال نے کی۔اس جلسہ میں پہلی بار شہزادہ سراج الملک نے شرکت کرکے اظہار حیال کیا۔جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوا۔قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ لواری ٹنل سے شندور اور درہ پاس تک تمام سڑکوں پر دوبارہ فوری کام شروع کیا جائے۔گرم چشمہ سڑک کیلئے فنڈ دوبارہ منظور کیا جائے۔قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ آیون اور وادی کیلاش کی سڑکوں پر کام بند نہ کیا جائے اور اس سڑک میں آنے والے زمینوں کے مالکان کو فوری ادایگی بھی کی جائے۔مقررین نے کہا کہ چترال میں قیمتی معدنیات کے پہاڑ اور ذحائیر موجود ہیں مگر اس کی لیز غیر مقامی بااثر افراد کو دی گئی ہے جس سے مقامی لوگ استفادہ نہیں کرسکتے قرارداد ک ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان معدنیات کے ذحائیر سے مقامی لوگوں کو فائدہ دیا جائے۔

    قرارداد کے ذریعے دروش سے مڈگلشٹ کی سڑک کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ارندو جو کہ ماضی میں ایک بڑا تجارتی مرکز بھی تھااس سڑک پر بھی فوری کام شروع کرکے زمین کے مالکان کو ادایگی کی جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بیوٹیفیکشن آف چترال کے نام پر جو 28 کروڑ روپے کا فنڈ آیا ہوا ہے اس فنڈ سے بھی معیاری کام کرکے چترال کی خوبصورتی کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ماضی کی طرح چترال کے سرکاری غلہ گوداموں سے مقامی لوگوں کو رعایتی نرح پر گندم فراہم کیا جائے۔ مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری غلہ گوداموں سے جو گندم فلور مل مالکان کو دی جاتی ہے وہ آئے روز آٹے کی قیمت بڑھاتے رہتے ہیں اس سلسلے کو بند کیا جائے لوگوں کو ان گوداموں سے گندم بھی دی جائے تاکہ وہ اپنے مرضی سے پن چکی میں اس سے آٹا پیس کر اسے استعمال کرے۔چترال میں چار سو سے زیادہ پن چکیوں کو بند کیا گیا ہے جس سے چار سو گھرانے متاثر ہوئے ہیں قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ان پن چکیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے اور یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے جس میں صرف مل مالکان کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چترال میں 107 میگا واٹ پن بجلی گھر گولین میں تعمیر ہوچکا ہے مگر علاقے کے لوگ اس بجلی سے محروم ہیں اور چترال میں اب بھی آٹھ سے دس گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ یہاں نہ کارخانہ ہے نہ کوئی بجلی چوری کرتا ہے قرارداد کے ذریعے واپڈا حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ظالمانہ اور ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کو سستی نرح پر بجلی فراہم کیا جائے تاکہ وہ اسے کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے بھی استعمال کرسکے۔
    یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی حکومت اپنا وعدہ پوراکرتے ہوئے گولین بجلی گھر سے چترال کو تیس میگا واٹ بجلی دیکر بقایا بجلی کو نیچے اضلاع کو دی جائے۔چترال کے دونوں اضلاع میں سڑکوں میں آنے والے زمین کے مالکان کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت ادا کی جائے۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ چترال میں بھی گورنمنٹ میڈیکل کالج کی قیام پر غور کیا جائے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال جو پندرہ سال قبل اسے کیٹیگری بی کا درجہ دیا گیا تھا مگر اس پر ابھی تک عملی کام نہیں ہوا ہے اس ہسپتال میں بھی کیٹیگری B کے مطابق تمام سہولیات فراہم کیا جائے۔ چترال یونیورسٹی کی تعمیر کا کام جلدی شروع کیا جائے اور اپر چترال کے قاقلشٹ کے میدان میں تریچ میر یونیورسٹی پر بھی کام شروع کیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے دونوں اضلاع کیلئے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری بورڈ کے قیام کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔

    چترال کی جنگلات کو حتم ہونے اور ماحول کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے ضلع اپر اور لوئیر چترال کے لئے منظور شدہ ایل پی جی گیس پلانٹ کی چترال میں تنصیب کا کام جلد شروع کیا جائے اس مقصد کیلئے خریدے گئے زمینات کو نیلام نہ کیا جائے۔جلسہ سے الحاج عید الحسین، شریف حسین، وقاص احمد ایڈوکیٹ،لیاقت علی، عنایت اللہ اسیر، شہزادہ سراج الملک، نور احمد خان چارویلو،سلطان نگاہ،شبیر احمد، رحمت علی جعفر دوست، چوہدری امان اللہ اور دیگر نے بھی اظہار حیال کیا۔ جلسہ میں اس بات پر نہایت افسوس کااظہار کیا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ٹھیکدار نے چترال سے بونی سڑک جو چین کے ایک تعمیراتی کمپنی نے چالیس سال پہلے بنایا تھا مگرا س کی تارکول ابھی تک نہایت مضبوط تھی مگر این ایچ اے حکام نے اس سڑک کی کشادگی کے دوان پورے سڑک سے تارکول اکاڑ کراسے کھنڈرات کی شکل میں تبدیل کیا اور دوبارہ اس پر تارکول بھی نہیں کیا جس سے ایک طرف نہایت مٹی اور گرد و غبار اٹھتی ہے تو دوسری طرف سڑک کے بیچ میں کھڈوں کی وجہ سے مریض اس سڑک پر سفر کے دوران نہایت مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ مقررین نے حکومت پر واضح کیا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور نہایت مہذب طریقے سے اپنا جائز حق مانگتے ہیں ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح سڑکوں پر آکر جلاؤ گھیراو پر مجبور ہوجائے۔

    بعد میں جلسہ کے شرکاء نے ایک ریلی بھی نکالی جس میں تمام سول سوسائٹی اراکین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ یہ جلسہ دعائیہ کلمات کے ساتھ احتتام پذیر ہوا۔

  • چترال کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور کشادگی ، کام کا آغاز کردیاگیا ہے

    چترال کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور کشادگی ، کام کا آغاز کردیاگیا ہے

    چترال (باغی ٹی وی ) پشاور چترال شاہراہ پر کشادگی اور مرمت کا کام شروع ہوچکا ہے۔ ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے اگر ایک طرف مقامی لوگوں اور سیاحوں کو سفر میں آسانی ہوگی تو دوسری جانب اس سے حادثات کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔ ان سڑکوں کی تعمیر پر علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،چترال سے گل حماد فاروقی کی رپورٹ

  • کیلاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوار چھومس میں کئی جوڑے شادی کے بندھن میں بند گئے۔

    کیلاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوار چھومس میں کئی جوڑے شادی کے بندھن میں بند گئے۔

    کیلاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوار چھومس میں کئی جوڑے شادی کے بندھن میں بند گئے۔
    چترال (باغی ٹی وی) کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چھومس اختتام پذیر ہوا۔ اس تہوار میں کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء نئے سال کی پیشین گوئی کے ساتھ ساتھ اسے خوشگوار گزرنے کیلئے دعائیں بھی کرتے ہیں۔ اس رنگارنگ تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی کیلاش کا رح کرتے ہیں تفصیلات چترال سے گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • سیاحتی مقام وادی گرم چشمہ کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر کام کاآغازکردیاگیا ہے

    سیاحتی مقام وادی گرم چشمہ کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر کام کاآغازکردیاگیا ہے

    چترال (باغی ٹی وی)سیاحتی مقام وادی گرم چشمہ کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر کام شروع ہوا ہے جس کی تکمیل سے اگر ایک طرف اس سڑک پر حادثات کی شرح میں کمی آئے گی تو دوسری جانب اس خوبصورت وادی میں سیاحت بھی فروغ پائے گی۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • بجلی کی بندش پرچترال کے علاقے مروئی والا میں آل پارٹیز کانفرنس

    بجلی کی بندش پرچترال کے علاقے مروئی والا میں آل پارٹیز کانفرنس

    مقامی عمائدین نے متنبہ کیا کہ اگر یہ مسئلہ جلد سے جلد حل نہیں ہوا تو یہاں 24 گھنٹوں میں سے محض 3 ہی گھنٹے آنے والی بجلی کا بھی بائیکاٹ کر کے ہم سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
    چترال باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال کے علاقے مروئی بالا میں بجلی کے حصول کے لئے آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اہل علاقہ کی جانب سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے فوری طور پر بجلی فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔


    اس موقع پر سابقہ ایم این اے شہزادہ افتحار الدین مہمان خصوصی تھے جبکہ کانفرنس کی صدارت سابق ایم پی اے مولوی عبدالرحمان نے کی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں علاقے کے عمائدین نے کہا کہ صرف لوئیر چترال میں گولین بجلی گھر کے آس پاس کے علاقے 25000 آبادی پر مشتمل ہے مگر یہ لوگ پچھلے گیارہ مہینوں سے بجلی سے محروم ہیں۔ اس علاقے کو پہلے صوبائی محکمہ پی ای ڈی او کے ریشن پن بجلی گھر سے بجلی فراہم ہوتی تھی مگر 2015 ریشن بجلی گھر سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو ا اور چھ سال بعد 2021 میں دوبارہ بحال کیا گیا۔ اس دوران اس علاقے کو واپڈا کی بجلی گھر سے پیسکو بجلی فراہم کرتی تھی تاہم پچھلے سال صوبائی اور وفاقی محکمہ بجلی یعنی پی ای ڈی او اور پیسکو کے درمیان لائن لاس اور ٹیرف یعنی بجلی کی نرح پر جھگڑا پیدا ہوا۔ چونکہ واپڈا کی بجلی نہایت مہنگی ہے اور پیڈو کی بجلی اس سے سستی ہے جو صوبائی محکمہ ہے۔ اس جھگڑے کے نتیجے میں یہ علاقہ پچھلے گیارہ مہینوں سے بجلی سے محروم ہیں یہاں چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے بجلی آتی ہے۔