Baaghi TV

Category: چترال

  • وادی رمبور ،کیلاش قبیلے کی معروف شخصیت دورم شاہ انتقال کرگئے

    وادی رمبور ،کیلاش قبیلے کی معروف شخصیت دورم شاہ انتقال کرگئے

    چترال (گل حماد فاروقی)وادی رمبور کیلاش قبیلے کی معروف شخصیت دورم شاہ انتقال کرگئے،کیلاش روایات کے مطابق کی تین دن تک رسومات ادا کی جائیں گی

    مرنے والے شخص کو روائتی ٹوپی پہنائی جاتی ہے۔ جسمیں 100روپے، پانچ سو اور ہزار ہزاراور 5000کے نوٹ لگائے جاتے ہیں اور خشک میوہ جات کے ڈبے رکھےجاتے ہیں؛ جبکہ میت کے قریب اس کے قریبی عزیز و رشتہ دار بیٹھتے ہیں اور باقی قبیلے کے افراد رقص کرتے اور روائتی نغمے گاتے ہیں

    چترال کے پہاڑوں کے دامن میں رہنے والے ہزاروں سالوں سے آباد کیلاش قبیلے کے لوگ اپنی مخصوص ثقافت، نرالے دستور، رسم و رواج اور نہایت دلچسپ تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ یہ شاید دنیا کی واحد قوم ہے جو اپنی میت کو بھی خوشی خوشی رخصت کرتے ہیں۔

    وادی کیلاش رمبور میں معروف شخصیت دورم شاہ کیلاش طویل علالت کے بعد انتقال کرگیے۔ آنجہانی دورم شاہ چترال لیویز یعنی بارڈر پولیس سے حوالدار ریٹائر ہوئے تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن بھی رہے ہیں ان کی عمر اسی سال بتائی جاتی ے جو گاؤں بلانگورو رومبور کا رہائشی تھا۔ وادی کیلاش کے تینوں وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور سے کیلاش قبیلے کے خواتین و حضرات ان کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کیلئے رمبور میں جمع ہوچکے ہیں۔

    کیلاش روایات کے مطابق مرد کے فوتگی پر تین دن تک رسومات ادا کی جاتی ہیں جبکہ خاتون کی فوتگی پر ایک یا دو دن۔ اس دوران کیلاش خواتین رقص کرتی ہِیں اور میت کے سرہانے گول دائرے میں رقص کرکے گھومتے ہویے مذہبی گیت گاتی ہیں مگر ان کا یہ رقص عام تہواروں میں ہونے والے رقص سے بالکل علیحدہ ہوتا ہے۔

    مرد حضرات ڈھولک بجاتے ہین اور مرد بھی رقص کرکے اس رسم شریک رہتے ہیں۔ میت کے گھر دس سے لیکر سو تک بکریاں، گائیں اور بیل ذبح کئے جاتے مگر یہ جانور مسلمانوں سے ذبح کروایا جاتے ہیں تاکہ وادی میں رہنے والے سب لوگ اس کا گوشت کھاکر اس ضیافت میں شرکت کرسکیں

    مرنے والے کی رشتہ دار تین کنستر یعنی ٹین دیسی گھی، پنیر اور دیسی روٹیاں لاتی ہیں جومہمانوں کو پیش کی جاتی ہیں۔ میت کے سرہانے ان کے قریبی رشتہ دار، بیٹی، بیوی، بہن بیٹھ کر روتی ہے جبکہ باقی لوگ اس کے چارپائی کے سرہانے ارد گرد گیت گاتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔

    ان کی میت کو کیلاش مذہبی جگہہ جسٹکان میں رکھا جاتا ہے جہاں آگ جلاکر لوگوں کو سردی سے بچایاجاتا ہے۔ اس دوران میت کو ایک چار پائی میں ڈال کر جسٹہ کان میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ٹوپ میں پچاس، سو، پانچ سو، ہزار اور پانچ ہزار کے نوٹ بھی سجائے جاتے ہیں جسےعزت اور اکرام کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

    میت کے سرہانے تازہ اور خشک پھلوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ اور نسوار بھی رکھی جاتی ے۔ جبکہ آنے والے مہمانوں میں بھی نسوار تقسیم کی جاتی ہے۔ یہ رسم تین دن تک دن رات لگاتار بغیر کسی وقفے کے جاری رہتی ہے۔ آخری دن کیلاش قبیلے کے لوگ میت کو چارپائی میں ڈال کر قبرستان لے جاتے ہیں مگر اس دوران ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں جسےمیت کے اعزاز میں ایک سلامی سمجھی جاتی ہے۔ میت کو قبرستان میں دفنا کر اس کے ساتھ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والا سامان بھی رکھا جاتا ہے جس میں پنیر، شہد، کپڑے اور شکاری بندوق بھی شامل ہے مگر آج کل بندوق نہیں رکھی جاتی۔ مرد کے موت پر اس کی بیوی کئی ماہ تک گھر کے اندر رہتی ہے اور سوگ مناتی ہےان کو الگ کرکے کھانا دیا جاتا ہے۔

    جو لوگ اس کے دفنانے میں شریک ہوکر قبرستان تک جاتے ہیں واپسی پر وہ ایک ندی کے کنارے بیٹھ کر ہاتھ دھوتے ہیں پھر اکر ضیافت کھاتے ہیں۔

    ماضی میں کیلاش لوگ اپنے مردوں کو ایک لکڑی کی صندوق میں ڈال کر کھلا چھوڑتے تھے مگر چند دن بعد گلنے سڑنے کے بعد اس کی تعفن سے پوری بستی کو نہایت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا اسی وجہ سے آج کل کیلاش لوگ اپنے مردوں کو دفناتے ہیں تاکہ اس کی بدبو کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔

    کیلاش عقیدے کے مطابق جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی پیدایش پراس کے گھر والے خوشی مناتے ہیں مگر جب وہ مر جاتا ہے تو اسے خوشی خوشی دوسرے دنیا میں رحصت کرنا چاہیے۔ اور جس میت پر جتنا زیادہ بکرے کاٹے جاتے ہیں اتنا ہی اسے نہایت معزز سمجھا جاتا ہے جبکہ کیلاش قبیلے کے رہنما قاضی میت کے سرہانے کھڑے ہوکر ان کی تعریف کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی کو سراہتے ہیں جو عزت اور اکرام کی علامت سجھی جاتی ہے۔

    کیلاش لوگ اپنے میت پر زیادہ بکریاں کاٹنے کی وجہ سے اکثر مالی مشکلات کا بھی سامنا کرتے ہیں مگر ہزاروں سالوں سے جاری اس رسم کو انہوں نے اسی طرح اصلی حالت میں رکھا ہوا ہے ۔

    اس مخصوص اور نہایت دلچسپ رسم کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں سیاح بھی وادی کیلاش کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم راستوں کی خرابی کی وجہ سے اکثر سیاح وادی کیلاش میں جانے سے گریز کرتے ہیں تاکہ راستے میں سفری مشکلات سے دوچار نہ ہوں۔

  • چترال: مارخور کی تیسری  ہنٹنگ ٹرافی، امریکی شہری رابرٹ مائلز نے کشمیر مارخور کا شکار کر لیا

    چترال: مارخور کی تیسری ہنٹنگ ٹرافی، امریکی شہری رابرٹ مائلز نے کشمیر مارخور کا شکار کر لیا

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فارواقی کی رپورٹ) مارخور کی اس سیزن کے تیسری ہنٹنگ ٹرافی، امریکی شہری رابرٹ مائلز نے کشمیر مارخور کا کامیاب شکار کیا۔

    چترال میں امریکی شہری نے کشمیر مارخور کا کامیاب شکار کیا۔ مارخور ہنٹنگ ٹرافی کا اس سیزن کا یہ تیسرا شکار ہے۔ گہریت گول کمیونٹی ریزرو میں امریکی شہری رابرٹ مائلزہال نے مارخور کا شکار کیا،مارخور کی عمر آٹھ سال ہے جبکہ اس کی سینگوں کی لمبائی38 انچ ہے۔امریکی شہری نے ایک لاکھ پچیس ہزار امریکی ڈالر کے عوض یہ شکارکیا جس کا پاکستانی کرنسی میں تین کروڑ پچھتر لاکھ روپے بنتا ہے۔

    اس سے پہلے بھی ہنٹنگ ٹرافی کے تحت دو مرتبہ مارخور کا شکار ہوچکا ہے جبکہ اس سیزن کا یہ تیسرا شکار ہے ڈویژنل فارسٹ آفیسر وایلڈ لائف فاروق نبی کے مطابق امریکی شکاری نے شکار کا لائسنس پچھلے سال اکتوبر میں ہونے والی نیلامی میں ایم ایس ہنٹگ سفاری اسلام آباد کے ذریعے حاصل کیا تھا۔

    اس سے قبل 16 دسمبر 2023 کو رواں سیزن کا پہلا شکار ایک امریکی شکاری نے کیا تھا۔ امریکی شہری جیمز مل مین نے اس اجازت نامے کے لیے سب سے بڑی بولی دی تھی۔ اس کی مالیت دو لاکھ 32 ہزار امریکی ڈالر (ساڑھے چھ کروڑ روپے) تھی۔

    جبکہ اس سیزن کا دوسرا شکار روسی شکاری ڈینک موروزوے نے چترال میں کشمیر مارخور کا کیا تھا۔ روسی شکاری نے یہ پرمٹ ایک لاکھ 85 ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔

    ڈویژنل فارسٹ آفیسر وایلڈ لائف فاروق نبی کے مطابق ہنٹنگ ٹرافی سے ملنے والی رقم میں سے اسی فیصد مقامی لوگوں کو دی جاتی ہے جبکہ بیس فی صد سرکاری خزانے میں جمع کی جاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہنٹنگ ٹرافی سے ملنے والی رقم سے ان پسماندہ علاقوں میں اکثر ترقیاتی اور بحال کاری کے کام کیا جاتا ہے جن میں پل، راستے وغیرہ شامل ہیں۔ ہنٹنگ ٹرافی کیلیے بین الاقوامی سطح پر بولی لگتی ہے جس میں کامیاب بولی دہندہ کو شکار کا لائسنس ملتا ہے جو شاہ شاہ، گہریت وغیرہ میں مارخور کا شکار کرتا ہے جبکہ چترال گول نیشنل پارک میں ہر قسم کے قانونی شکار پر بھی پابندی ہے ۔

    وہاں چوری چپے شکار تو ہوتا ہے مگر ہنٹنگ ٹرافی کے تحت وہاں شکار پر پابندی ہے۔ وہاں تین ہزار کے لگ بھگ مارخور بستے ہیں جن میں اکثر عمر رسیدہ مارخور گاوں کا رخ بھی کرتے ہیں اور اکثر آوارہ کتوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ چترال گول نیشنل پارک کے آس پاس بفر زون میں ان عمر رسیدہ مارخوروں کی شکار کی اجازت دی جایے جو بڑھاپے کی وجہ سے خود بخود مر جاتے ہیں۔

    اگر ان کمزور، لاغر اور عمر رسیدہ مارخوروں کی شکار کی اجازت مل جایے تو اس سے چترال کو کروڑوں روپے کی آمدنی ایے گی اور اس سے کافی سارے ترقیاتی کام بھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

    پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز

    پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز 1999 سے ہوا۔ 1997 میں کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ اِن انڈینجرڈ سپیشیز سے متعلق زمبابوے میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کو مارخور کے غیرقانونی شکار کو روکنے کے لیے ہنٹنگ ٹرافی دینے کی اجازت دی گئی۔ ابتدا میں پاکستان کو سال میں چھ ٹرافیوں کی اجازت دی گئی جسے بعد میں بڑھا کر 12 کر دیا گیا۔

    فاروق نبی نے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ اور کمیونٹی مینجڈ کنزرویشن کی بدولت چترال میں کشمیر مارخور کی تعداد جو 1999 میں چند سو تھی اب ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔

  • محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی سامان کے 40 ٹرک چترال پہنچ گئے

    محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی سامان کے 40 ٹرک چترال پہنچ گئے

    چترال(گل حماد فاروقی) محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی سامان کے 40 ٹرک چترال پہنچ گئے
    جو وعدہ کیا کرکے دکھایا ،میرے وعدے صرف اعلانات کے حد تک محدود نہیں تھے بلکہ میں عملی طور پر کام کرتا ہوں ان خیالات کا اظہار سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ایک عوامی اجتماع سے کیا جو طلحہ محمود فاونڈیشن کے چیئرمین بھی ہے۔

    سینیٹر محمد طلحہ محمود حلقہ این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کی نشست کیلیے انتحابات لڑ رہے تھے جس کی وجہ سے وہ اس فاونڈیشن سے عارضی طور پر علیحدہ ہوچکے تھے اور اس کا بیٹَا مصطفے بن طلحہ قائم مقام چیرمین مقرر ہویے تھے۔ ان کی ہدایت پر چترال کے غریب اور نادار لوگوں میں مفت راشت اور امدادی سامان سے بھرے ہویے چالیس ٹرک لواری ٹنل کے اندر ائے تھے مگر دیگر سیاسی محالفین نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی کہ یہ سیاسی رشوت کے طور پر استعمال ہوتا ہے جسے انتحابات ختم ہونے تک روکا گیا۔

    سینیٹر طلحہ محمود نے اعلان کیا تھا کہ انتحابات ختم ہوتے ہی میں خود ٹرک کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس امدادی سامان سے بھرے ہویے ٹرکوں کا قافلہ چترال میں داخل کروں گا اور آج اس نے کرکے دکھایا۔

    امدادی سامان سے بھرے ہویے ٹرکوں کا یہ قافلہ سید اباد میں کھڑا تھا جسے لانے کیلیے سینیٹر طلحہ محمود ایک جلوس کی شکل میں وہاں گیے۔ اس موقع پر میڈیا سے باتیں کرتے ہویے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان ٹرکوں میں کوی گولی بارود یا غیر قانونی سامان نہیں تھا بلکہ غریبوں کیلیے امدادی سامان تھا مگر ان سیاستدانوں نے ان کی منہ سے نوالہ بھی چھیننے کی کوشش کی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں دروش پولیس نے بھِی تنگ کیا اور ضلعی انتظامیہ نے بھی بڑی مشکل سے ہمیں این او سی جاری کیا تاکہ ہم یہ راشن اور امدادی سامان غریبوں میں مفت تقسیم کرسکیں۔

    اس موقع پرانہوں نے واضح کیا کہ محمد طلحہ فاونڈیشن پچھلے 35سالوں سے انسانیت بلا ذات پات ، رنگ و نسل کے بے لوث خدمت کررہی ہے اور اس فاؤنڈیشن کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے چاہے وہ جمیعت علمائے اسلام ہو جس کی ٹکٹ پر میں نے قومی اسمبلی کی نشست پر انتحابات میں حصہ لیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سب کو دعوت دیتے ہیں کہ آیے اور ہمارے ساتھ اس کار خیر میں ہاتھ بٹایے ہمارے دروازیں سب کیلیے کھلے ہیں۔ اس امدادی سامان کو تقسیم کرنے کیلیے نہایت ایماندار اور غیر متنازعہ لوگوں کو منتحب کیا جایے گا جو اسے مستحق لوگوں میں تقسیم کریں گے۔

    چالیس ٹرکوں کا یہ قافلہ جب چترال پہنچا تو وہاں کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔ اس موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہویے طلحہ محمود نے کہا کہ انتخابات سے پہلے جو وعدہ عوام کے ساتھ کیا تھا انتحابات میں کامیاب نہ ہونے کے باوجود میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ کرکے دکھایا۔

    اب چترال بھر کے خواتین کیلیے خود روزگار سکیم کے تحت ڈھائی سو دستکاری مراکز کھولے جائیں گے جس سے لوگ خود کفیل ہوں گے اور خود ہی کمائی کرکے دوسروں کی محتاجی سے نجات پائیں گے۔

    اس موقع پر انہوں نے ان لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے اپنا قیمتی ووٹ ان کے حق میں استعمال کیا مگر اکثریت نے پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے سر سے بوجھ ہلکا ہوگیا اب جو ریاستی کام ہے وہ منتحب نمائندوں کی ذمہ داری ہیں کہ یہاں پر سڑکیں، سکول، کالج، پل، ہسپتال تعمیر کرے البتہ میں اپنی فاونڈیشن کے تحت غریب اور مستحق لوگوں کے ساتھ مالی مدد کرسکتا ہوں اور ان میں مفت راشت اور ضرورت کا سامان تقسیم کرتاہوں۔

    واضح رہے کہ سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر کثیر تعداد میں خواتین و حضرات آتے ہیں جن کے ساتھ وہ مالی مدد کرتے رہتے ہیں۔ انتخابات کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد بھی روزانہ سینکڑوں خواتین ان کے گھر آتی ہیں جن کو وہ نقد پیستے دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھر کیلیے ضرورت کا سامان خرید سکیں۔

  • چترال: بریک فیل ہونے سے گاڑی دریائے چترال کے کنارے جا گری، 9 افراد زخمی

    چترال: بریک فیل ہونے سے گاڑی دریائے چترال کے کنارے جا گری، 9 افراد زخمی

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ) لوئر چترال، دروش عشریت روڈپر ٹریفک حادثہ رونماہواہے ، میڈیا کوآرڈینیٹر ریسکیو1122 لوئر چترال کے مطابق ریسکیو1122 کو اطلاع ملنے پر ریسکیو1122 کی میڈیکل ٹیمیں عشیریت پہنچ کر حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 9 افراد کو ایمبولینسز میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے THQ ہسپتال دروش لوئر چترال منتقل کردیا،

    ابتدائی معلومات کے مطابق لوئر چترال دروش دمیل سے مقامی افراد عمرے سے آنے والے حاجیوں کا استقبال کے لئےعشریت گئے ہوئے تھے واپسی پر گاڑی کی بریک فیل ہونے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا،

    گاڑی حادثے کا شکار ہوکر دریائے چترال کے کنارے جاگری، ریسکیو1122 کی ٹیموں نے 9 زخمیوں کو THQ ہسپتال دروش منتقل کردیا ہے تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے.

  • لوئرچترال:دومون کے علاقے میں رسہ کشی اور سینگور میں فٹ بال ٹورنامنٹ اختتام پذیر

    لوئرچترال:دومون کے علاقے میں رسہ کشی اور سینگور میں فٹ بال ٹورنامنٹ اختتام پذیر

    لوئرچترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی)دومون کے علاقے میں رسہ کشی اور سینگور میں فٹ بال ٹورنامنٹ اختتام پذیر،سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور نقد انعام تقسیم کیے۔

    چترال کے علاقے دومون میں رسہ کشی کا ٹورنامنٹ اختتام پذیر ہوا۔ دومون اے اور دومون بی ٹیم کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا۔ رسہ کشی کا مقابلہ دومون کے میدان میں ہوا جہاں شدید سردی کے باوجود کھلاڑیوں کا خون گرم تھا۔ اس کھیل میں ہر ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ایک طرف جبکہ ان کے مد مقابل دوسری ٹیم کے گیارہ کھلاڑی دوسری طرف رسے کو کھینچتے ہیں۔ہر ٹیم کا اپنا اپنا کوچ ہوتا ہے جو ہاتھوں میں سرخ جھنڈے لہراتے ہوئے مخصوص آواز نکالتا ہے جس سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند ہوکر رسےکو مزید زور سے کھینچتے ہیں۔

    رسہ کشی کے فائنل میچ میں این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کے نامزد امیدوار سینیٹر محمد طلحہ محمود مہمان خصوصی تھے جبکہ ان کے ہمراہ پی کے ٹو سے نامزد امیدوار مفتی فیض محمد مقصود ، قاری جمال ناصر اور جماعت کے دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ ٹیم اے نے جارحانہ انداز میں رسےکو کھنیچتے ہوئے ٹیم بی کو شکست دیکر فائنل ٹرافی اپنے نام کرلی۔

    اختتامی تقریب کے موقع پر سینیٹر محمد طلحہ نے کھلاڑیوں میں ٹرافی، کپ اور ایک لاکھ روپے نقد انعام بھی تقسیم کیا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں تماشائی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود نے شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نےکہا کہ جن قوموں کے کھیل کے میدان خالی ہوتے ہیں ان کے ہسپتال مریضوں سے بھرے رہتے ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چترال کے کھلاڑیوں میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر ابھی تک ان کے لیے ایک بھی عوامی اسٹیڈیم موجود نہیں ہیں جہاں یہ کھلاڑی اپنے قابلیت میں مزید نکھار پیدا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھ پر عوام نے اعتماد کرکے مجھے قومی اسمبلی کیلئے حلقہ این اے ون چترال سے منتخب کیا تو میں نہ صرف سرکاری فنڈ یہاں لاوں گا بلکہ محمد طلحہ محمود فاونڈیشن سے بھی کھلاڑیوں کیلیے کٹ، کھیل کا سامان لانے کے ساتھ ساتھ یہاں ہر علاقے میں کھیل کیلیے میدان تعمیر کریں گے تاکہ یہاں کے نوجوان ان میں کھیل کر اپنے مہارت میں مزید اضافہ کرے۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقے کو منشیات، بے راہ روی اور دیگر منفی سرگرمیوں سے بچانے کیلیے واحد ذریعہ ان کو کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ہے۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ کے آرگنائزر کمیٹی کیلیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا بھِی اعلان کرکے کھلاڑیوں میں ٹرافی تقسیم کیے۔

    سینیٹر طلحہ محمود نے رسہ کشی کی کھیل کو نہایت پسند کیا جس میں ہر عمر کے لوگ حصہ لے رہے ہیں اور ان کی بہترین جسمانی ورزش ہوتی ہے۔ خاص کر ٹیم کوچ کے مخصوص آواز جو کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند کرکے کوشش کرتے ہیں کہ وہ مد مقابل ٹیم کو شکست دے۔

    نارتھ لینڈ فٹ بال اکیڈمی سینگور کے زیر اہتمام فٹ بال کا ایک ٹورنامنٹ منعقد ہوا جس میں کل چوبیس ٹیموں نے حصہ لیا۔ فائنل میچ میں جغور اکیڈمی فٹ بال کلب اور نارتھ لینڈ فٹ بال کلب میں زبردست مقابلہ ہوا۔ اس میچ کا فیصلہ پیلنٹی سے ہوا جس میں نارتھ لینڈ فٹ بال ٹیم نے فائنل ٹرافی اپنے نام کرلی۔ ۔ فٹ بال ٹورنامنٹ پچھلے ایک ہفتے سے جاری تھا جس میں سینگور سے لیکر جغور تک تمام علاقے کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

    فائنل میچ کے موقع پر سینیٹر طلحمہ محمود مہمان خصوصی تھے جنہوں نے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور کپ تقسیم کیے۔ یہاں پر بھی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سینگر اور مضافات سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں لوگ بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ چترال کی ایک بیٹی فٹ بال کی قومی ٹیم کا حصہ ہے اور اس سے پہلے بھی کئی مرد کھلاڑی بھی قومی ٹیم میں اپنے قابلیت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔

    اس موقع پر علاقے کے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان کیلیے ایک کھیل کا میدان تعمیر کیا جایے کیونکہ یہ میدان انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کرائے پر لیا ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ میرا فاونڈیشن یعنی محمد طلحہ محمود فاونڈیشن تو آپ لوگوں کے ساتھ ہر قسم تعاون کرنے کو تیار ہے مگر جن لوگوں کو آپ نے ماضی میں ووٹ دیکر اسمبلیوں میں بھیجا تھا انہوں نے میرے خلاف انتظامیہ کو شکایت کرکے درخواست دی ہے کہ طلحہ محمود فاونڈیشن کے سینکڑوں ٹرک جو امدادی سامان سے بھرے ہیں وہ چترال کی طرف رواں دواں ہیں ان کو روکا جایے کیونکہ یہ ووٹ کیلیے رشوت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان ٹرکوں میں حسب معمول غریب، نادار اور بے بس لوگوں کیلیے کھانے پینے کی چیزِیں ہیں جو اس وقت مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور میں طلحہ محمود فاونڈیشن کا حصہ بھی نہیں ہوں اس وقت قایم مقام چیرمین مصطفے بن طلحہ کے کہنے پر یہ امدادی سامان چترال کے غریب لوگوں کیلیے لایا جارہا ہے اور یہ فاونڈیشن صرف چترال میں نہیں بلکہ پورے ملک میں اور بیرون ممالک میں بھی کام کرتا ہے مگر اس پر صرف چترال میں پابندی ہے دوسرے جگہوں میں یہ امدادی سرگرمیاں زور و شور سے کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری تک مجھ پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پابندیاں لگی ہیں ا سکے بعد میں آزاد ہوں اور دل کھول کر چترال کے لوگوں کا مدد کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے عوام پر واضح کیا کہ میں قانونی تقاضے پورے کرتے ہویے انتحابات تک محمد طلحہ محمود فاونڈیشن سے علیحدہ ہوا ہوں جس کا قایم مقام چییرمین مصطفے بن طلحہ کے ہدایت پر دو سو ٹرک امدادی سامان بے بھرے ٹرک منگوایے ہیں مگر میرے مخالف امیدواروں نے انتظامیہ کو درخِواست دی ہے کہ یہ اشیایے خوردونوش رشوت کے طور پر غریب لوگوں کو دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ سامان لواری ٹنل سے اس پار سڑک پر کھڑے ہیں مگر الیکشن کے ختم ہونے کے بعد رات کو بارہ بج کر ایک منٹ پر میں خود ڈرایئونگ کرتے ہویے ان ٹرکوں کو چترال لاوں گا اور بلا امتیاز تمام غریب لوگوں میں وہ امدادی سامان تقسیم کیا جایے گا۔

    اس موقع پر علاقے کے لوگوں نے سینیٹر طلحمہ محمود کے حق میں نعرہ بازی بھی کرلی اور ان کی کامیابی کیلیے دعایں بھی کی۔

  • لوک رحمت  کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار  بطور آزاد امیدوار میدان  میں ڈٹ گئے

    لوک رحمت کالاش برادری کی تاریخ میں پہلی بار بطور آزاد امیدوار میدان میں ڈٹ گئے

    عام انتخابات میں لوئر چترال اور اپر چترال سے درجنوں افراد نے صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے آزاد حیثیت سے حصہ لینے کے کاغذات جمع کروائے مگر اب میدان سے بھاگ گئے ہیں۔ تاہم لوک رحمت ڈٹے ہوئے ہیں.

    چترال میں صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے 2 لوئر چترال ، پی کے 1 اور این اے ون چترال کے حلقے سے اس سال درجنوں سیاسی شخصیات نے عام انتخابات میں حصہ لیا ان میں سے کچھ پارٹی کی طرف سے اور زیادہ امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑانے کے خواہشمند تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ کئی پارٹی کے امیدوار ایک دوسرے کے حق میں دستبردار ہوگئے ۔ ان میں سب سے زیادہ آزاد امیدوارں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیا اور کسی اور امیدوار کو موقع دے کر خود عام انتخابات سے دستبردار ہوگئے ہیں ۔ اس تمام تر صورت حال میں سب سے دلچسپ امیدوار کالاش برادری کے آزاد امیدوار لوک رحمت ہی رہے جو کہ پاکستان اور بیرونی میڈیا پر زینت بنا اور سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر چھائے رہے ۔

    یاد رہے کہ لوک رحمت کا تعلق کالاش برادری سے اور کالاش برادری تعداد میں بہت کم ہے اس کے باجود بھی لوک رحمت میدان میں ڈاٹے ہوئے ہیں، وہ نہ جھکے اور نہ ہی ہمت ہارنے کا نام لے رہے بلکہ حوصلے بلند ہیں اور الیکشن میں کامیابی کے لیے پر عزم ہیں ۔ لوک رحمت کے مطابق وہ اپنے برادری کے نوجوانوں کو ہی نہیں بلکہ چترال کے نوجوانوں کو حوصلے دینے اور مایوسیوں سے نکلنے کے لیے میدان میں اترے ہیں ۔ معاشرے میں روایتی سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ نوجوان بغیر کسی خوف کے ملک کی باگ ڈور میں حصہ لیں کیوں کہ روایتی سیاستدانوں نے ملک پاکستان کے نوجوان نسل کو وہ مستقبل نہیں دیا ہے جس کا نوجوان نسل حق رکھتا ہے ۔

    لوک رحمت چاہتے ہیں کہ چترال کے نوجوان خوف سے باہر نکل کر ملکی سیاست میں حصہ لیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں کیونکہ کہ ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار بہت نمایاں اور معنی خیز ثابت ہو سکتے ہیں ۔

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • چترال:این اے ون امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے مقابلے میں پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتوں کی وکٹیں اُڑگئیں

    چترال:این اے ون امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے مقابلے میں پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتوں کی وکٹیں اُڑگئیں

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)این اے ون امید وار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے مقابلے میں پی ٹی آئی سمیت کئی جماعتوں کی وکٹیں اُڑگئیں
    این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کیلیے نامزد امیدوار سینیٹر محمد طلحہ محمود کے حق میں پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں کے اراکین نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    ضلع اپر چترال سے تعلق رکھنے والی پاکستان تحریک انصاف کی نہایت سرگرم خاتون رکن سارا شاہ اور سید لطیفہ شاہ نے بھی سینیٹر طلحہ محمود کے قافلے میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سیدہ لطیفہ شاہ پی کے ون کے صوبائی اسمبلی کیلیے بھی امید وار تھی جس نے الیکشن مہم بھی شروع کی تھی

    سیدہ لطیفہ شاہ نے ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز بونی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سینیٹر محمد طلحہ محمود جو طلحہ فاؤنڈیشن کے چیئرمین بھی ہیں وہ اس سے پہلے کئی بار مصیبت کے گھڑی میں چترال آکر غریب، نادار، متاثرہ اور ضرورت مند لوگوں کے ساتھ مدد کرتا رہتا ہے بلکہ وہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ دنیا کے اور بھی کئی ممالک میں فلاحی کام کرتے ہیں اور وہ خود بھی ایک مخیر ہونے کے ناطے ان سے امید ہے کہ وہ کامیاب ہوکر ہمارا حق ضائع نہیں کرے گایہی وجہ ہے کہ سیدہ لطیفہ شاہ جو پی ٹی آئی کی سرگرم کارکن تھی ۔ سیدہ لطیفہ شاہ نے طلحہ محمود کے حق میں ان کے ساتھ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوئی۔

    اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیک ن اور دیگر جماعتوں سے بھی لوگ جوق درجوق سینیٹر محمد طلحہ محمود کے قافلے میں شامل ہورہے ہیں۔اسی طرح گرم چشمہ، تریچ، تورکہو، ملکہو، عشریت ، زیارت، کیسو، ارندو، ریچ، کھوت، شاہ گرام اور دیگر علاقوں میں بھی لوگ دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتیں چھوڑ کر سینٹر طلحہ محمود کے فلاحی کاموں ، ان کی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے متاثر ہوکر جوق درجوق ان کے ساتھ الحاق کررہے ہیں۔

    گرم چشمہ میں صوبیدار ریٹایرڈ امیر اللہ ، قاری نظام الدین، پاکستان تحریک انصاف سے راحت علی شاہ اور کثیر تعداد میں کونسلرز جن کا تعلق مختلف سیاسی پارٹیوں سے تھا انہوں نے اپنے پارٹیوں کو خیر باد کہہ کر سینیٹر محمد طلحہ محمود کی حمایت کا اعلان کیاہے۔

    اس موقع پر گرم چشمہ کے چند عمائدین نے کہا کہ سلیم خان جو پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کا رکن بنا اور پانچ سال تک صوبائی وزیر بھی رہا وہ انتخابات سے پہلے نہایت غریب آدمی تھا جس کی چھوٹی سی دکان تھی مگر وزیر بننے کے بعد وہ کروڑ پتی بنا مگر ہمارے علاقے کی سڑکیں اب بھی کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں۔ اسی طرح عبدالاکبر چترالی بھی دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے مگر اس نے بھی کوئی حاطر خواہ نہیں کیا ۔
    سینیٹر طلحہ محمود لوئر چترال میں موری بالا، کجو، موری، برنس اور دیگر علاقوں میں بھی عوامی اجتماع سے اظہار خیال کیا جہاں ان کا بڑا والہانہ استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر سینیٹر محمد طلحہ محمود نے لوگوں سے کہا کہ اگر ان کے جمیعت علمائے اسلام کے بارے میں کچھ خدشات ہیں یا اس جماعت میں شامل نہیں ہونا چاہتا تو میرے ساتھ الحاق کرے۔

    سینیٹر طلحہ محمود فاؤنڈیشن کے دروازے سب کیلئے ہیں اور آپ لوگ انسانیت کی خدمت اور اپنے علاقے کی ترقی کیلئے میرے ساتھ شامل ہوجائیں تاکہ ہم مل کر چترال کی تعمیر نو کا آغاز کرسکیں۔

    طلحہ محمود نے کہا کہ میں ان روایتی سیاست دانوں کی طرح نہیں ہوں جن میں سےکسی نے آپ سے اسلام کے نام پر ووٹ لیا کسی نے کوئی اور سبز باغ دکھایا مگر یہاں تو مسائلستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے اٹھارہ سالوں سے سینیٹ کا رکن ہوں مگر میں نے سرکار سے کبھی تنخواہ یا دیگر مراعات نہیں لی۔

    انہوں نے کہا کہ میں اپنے جیب سے محمد طلحہ فاونڈیشن کے ذریعے کروڑوں روپے ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرتا ہوں تو آپ کا حق کیسے کھا سکتا ہوں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ اگرآپ لوگ چترال کے ساتھ مخلص ہیں تو تمام تر ذات پات، پارٹی، سیاست اور قومیت سے بالاتر ہوکر میرا ہاتھ بٹائیے اور میرے ساتھ شامل ہوکر مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کریں تاکہ اسلام آباد سے اپ کا حق لینے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

    طلحہ محمود نے کہا کہ میرے مخالف امیدواروں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست دی ہے کہ یہ غریبوں میں امدادی سامان اور پیسے تقسیم کرتا ہے جس کی وجہ سے مجھے نوٹس جاری ہوا ہے۔ جونہی آٹھ فروری کو انتحابات مکمل ہوجائیں امدادی سامان سے بھرے ہوئے ٹرکوں کا قافلہ چترال میں داخل ہو گا۔ ہم سب لوگوں کو تو نہیں مگر اکثریت کے ساتھ مدد کریں گے تاکہ ان کی مشکلات میں کسی قدر کمی آسکے۔

    واضح رہے کہ طلحہ محمود این اے ون چترال سے قومی اسمبلی کیلئے انتخابات لڑرہے ہیں اور ضلع اپر اور لویر چترال کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوامی اجتماعات سے خطاب کررہا ہے جس کا ہر جگہ گرم جوشی سے استقبال کیا جاتا ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر کثیر تعداد میں لوگ جوق درجوق اس کے قافلے میں شامل ہوکر شمولیت کا اعلان کررہے ہیں۔

    چترال کے عوام پر امید ہیں کہ ان کی کامیابی پر چترال کی نقسمت بدلے گی اور یہاں بھی ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہوگا اورگذشتہ کئی دہائیوں کی محرومیوں کا ازالہ بھی ہوسکے گا۔

  • چترال کے لوگ جاگ چکے،تعمیر و ترقی کے لئے ہمارا ساتھ دیں،طلحہ محمود

    چترال کے لوگ جاگ چکے،تعمیر و ترقی کے لئے ہمارا ساتھ دیں،طلحہ محمود

    چترال :جمعیت علماء اسلام کے این اے ون سے امیدوار سینیٹر طلحہ محمود کی این اے ون میں انتخابی مہم جاری ہے

    سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ارندو بارڈر پر کارنر میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سازش کے تحت نوجوانوں کو ورغلایا جارہا ہےاوراپنی افواج سے دور کیا جارہا ہے، یہی جوان ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت آج ہم سکون سے زندگی بسر کررہے ہیں ہم ان کی قدر کرنی ہوگی اور دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔نفرتوں کو ہمیں ختم کرنا ہے، ہم نے جڑ کر رہنا ہے، یہ وہ جوان ہیں جنہوں نے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر پاکستان کی حفاظت کی ہے،اپنے خون کا نذرانہ دیا ہے اور آج ہم لوگوں کو ایک ایجنڈے کے تحت علیحدہ علیحدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی، یقین سے کہتا ہوں‌کہ چترال سے اٹھنے والا طوفان تمام سازشیں نیست و نابو د کر دے گا، افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کرنے والوں کو ناکامی ہو گی.چترال میں پچھلے دنوں حملہ ہوا تو پاک فوج نے قربانیاں دیں، انکو گلے سے لگائیں، محبت کریں،آج اگر پاک فوج کے جوان نہ ہوتے تو پاکستان کے ساتھ وہی ہوتا جو اس وقت فلسطین میں غزہ کے ساتھ ہو رہا ہے،

    سینیٹر طلحہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ عوام کا سمندر مخالفین کو بہا لے جائے گا، اب بیٹھنے کی بجائے کھڑے رہو اور مقابلہ کرو، میرا نہیں عوام کا مقابلہ کرنا ہے جن کو بجلی،پانی، روٹی، روزگار کچھ نہیں دیا گیا،76 سالوں میں کچھ نہیں ملا،ہمیں چترال کے لوگوں کی خدمت کرنے سے روکا جارہا ہے لیکن میں ان کی گیدڑ بھبھکیوں سے نہیں ڈرنے والا،چترال کے لوگ جاگ چکے ہیں، انہیں ہر طرف ترقی ملے گی، ہمارے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چترال کی تعمیر و ترقی کے لئے ہمارا ساتھ دیں،

    انتخابی مہم کے سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار برائے قومی اسمبلی محمد طلحہ محمود نے لوئر چترال گرم چشمہ کے مقام پر پاؤور شو کیا ہے، محمد طلحہ محمود کا گرم چشمہ کے مقام پر پہچنے پر پرتپاک طریقے سے استقبال کیا گیا۔ طلحہ محمود نے اپنے خطاب میں کہا اگر میں آپ لوگوں کی ووٹوں کی طاقت سے منتخب ہوا تو یہ مرا آپ سے وعدہ ہے انشاء اللہ آپ کو آپ لوگوں کی بنیادی ضروریات سے محروم نہیں رکھوں گا ۔ یہاں ماضی کے منتخب نمائندے چترال کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ یہاں زندگی کے کوئی سہولیات میسر نہیں ہے۔ سڑکوں کی حالت زار دیکھ کر مجھے بہت زیادہ افسوس ہوگیا۔ اگر چترال نے مجھے منتخب کیا تو انشاء اللہ آپ کی امنگوں کی صحیح ترجمانی کروں گا۔ چترال کی حق کو اپنی ذات کو لئے استعمال نہیں کروں گا۔ اگر چترال نے مجھے منتخب کیا تو اگلے پانچ سالوں میں چترال میں مثبت تبدیلی نظر آئی گی۔محمد طلحہ محمود نے گرم چشمہ میں والہانہ استقبال کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز میں آپ لوگوں نے مجھے عزت دی ہے۔ جس انداز میں چترال کے طول و عرض مجھے استقبال کر رہے ہیں۔ میں آپ سب کی محبتوں اور چاہتوں کا مقروض ہوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ چترال کی ترقی کے لئے دن رات محنت کروں گا۔

    ماضی میں چترال کے عوام کو محتلف بہانوں سے دھوکہ دیکر ان سے ووٹ لیا گیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    سینیٹر طلحہ محمود کی امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات

    طلحہ محمود اور چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کے درمیان نوک جھونک

    این اے ون چترال میں سینیٹر طلحہ محمود کی بھر پور انتخابی مہم جاری

  • چترال، این اے ون کے امیدوار طلحہ محمود کا پی ٹی آئی امیدوار کے آبائی حلقے میں پاور شو

    چترال، این اے ون کے امیدوار طلحہ محمود کا پی ٹی آئی امیدوار کے آبائی حلقے میں پاور شو

    جمعیت علمائے اسلام کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی محمد طلحہ محمود نے پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایتی امیدوار برائے قومی اسمبلی عبداللطیف کے آبائی حلقے میں پاور شو کیا ہے،

    لوٹ اویر (فتح اللہ) انتخابی مہم کے سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی محمد طلحہ محمود ، امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حاجی شکیل احمد و دیگر عمائدین نے پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایتی امیدوار برائے قومی اسمبلی عبداللطیف کے آبائی حلقے لوٹ اویر کا کامیاب دورہ کیا ۔ جہاں عمائدین کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام کے دونوں نامزد امیدواروں کا پرتپاک طریقے سے استقبال کیا گیا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران مجھے چترال کو قریب سے دیکھنے کا ملا۔ چترال کو بالخصوص لوٹ اویر کی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آپ لوگوں کو ماضی کے تمام سیاستدانوں نے نظر انداز کیا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں سے اس علاقے کو لاوارث رکھا گیا ہے۔ جو کہ قابل افسوس ہے۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ آپ لوگ زندگی کے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ۔ سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ پینے کے لئے پانی ، علاج کے لئے ہسپتال اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا اگر میں آپ لوگوں کی ووٹوں کی طاقت سے منتخب ہوا تو یہ میرا آپ سے وعدہ ہے انشاء اللہ آپ کو آپ لوگوں کی بنیادی ضروریات سے محروم نہیں رکھوں گا ۔ یہاں سڑکوں کی حالت زار دیکھ کر مجھے بہت زیادہ افسوس ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں ہے چترال کے طول و عرض میں ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھائے جائیں گے ۔اگر چترال نے مجھے منتخب کیا تو انشاء اللہ آپ کی امنگوں کی صحیح ترجمانی کروں گا۔ چترال کی حق کو اپنی ذات کو لئے استعمال نہیں کروں گا۔ اگر چترال نے مجھے منتخب کیا تو اگلے پانچ سالوں میں چترال میں مثبت تبدیلی نظر آئی گی۔

    محمد طلحہ محمود نے لوٹ اویر میں والہانہ استقبال کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز میں آپ لوگوں نے مجھے عزت دی ہے۔ جس انداز میں چترال کے طول و عرض مجھے استقبال کر رہے ہیں۔ میں آپ سب کی محبتوں اور چاہتوں کا مقروض ہوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ چترال کی ترقی کے لئے دن رات محنت کروں گا۔

    ماضی میں چترال کے عوام کو محتلف بہانوں سے دھوکہ دیکر ان سے ووٹ لیا گیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    سینیٹر طلحہ محمود کی امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات

    طلحہ محمود اور چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کے درمیان نوک جھونک

    این اے ون چترال میں سینیٹر طلحہ محمود کی بھر پور انتخابی مہم جاری

    علاوہ ازیں سابق جنرل سیکرٹری انصاف وومن ونگ اپر چترال ، انصاف ویلفیئر ونگ مالاکنڈ سارہ شاہ پیرزادہ اور سابق صدر انصاف وومن ونگ اپر چترال فضیلہ بی بی نے الیکشن 2024 میں سینیٹر محمد طلحہ محمود کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا.

  • چترال، پیپلز پارٹی، ن لیگی ،جماعت اسلامی کے کارکنان کی سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت

    چترال، پیپلز پارٹی، ن لیگی ،جماعت اسلامی کے کارکنان کی سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت

    حلقہ این اے ون چترال میں سینیٹر طلحہ محمود کی بھر پور انتخابی مہم جاری ہے، طلحہ محمود نے خود چترال میں ڈیرے ڈال لئے اور ڈور ٹو ڈور مہم چلا رہے ہیں، اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما انکی حمایت کر رہے ہیں.

    پیپلز پارٹی کے رہنما سرور غازی نے چترال سے سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی سالوں سے پیپلز پارٹی میں تھے، ن لیگ بھی یہاں سے جیتی لیکن ہمارے لئے کسی نے کچھ نہ کیا، ہم نے ایک نہر کا مطالبہ تھا جو پورا نہیں ہوا، ہمیں طلحہ محمود سے امید ہے کہ ضرور وہ ہماری خواہش پوری کریں گے، اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ سرور غازی کا شکر گزار ہوں، انکا پیپلز پارٹی میں اثرو رسوخ رہا ہے، کاموں کے حوالہ سے اپنی پوری کوشش کریں گے، آٹھ فروری کے دن پتہ لگے گا کہ ہماری امیدیں پوری ہوئیں تو چترال میں بہت بہتری آئے گی، حکومتی وسائل کے ساتھ فاؤنڈیشن کو بھی یہاں لائیں گے تا کہ چترال کے شہریوں کی زندگی بدلے

    پی پی پی اپر چترال کے نائب صدر شمس الرحمن لال پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے اور انہوں نے سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت کا اعلان کر دیا،

    شاگرام تورکہو اپر چترال: مفتی محمد نصیر الدین نے محمد طلحہ محمود کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ الیکشن کمپیئن میں بھرپور حصہ لینے اور بھاری اکثریت سے جتوانے کیلئے پرعزم ہیں.

    شاگرام تورکہو اپر چترال : ریٹائرڈ آرڈنری کیپٹن عظمت اللہ مسلم لیگ ن سے مستعفی ہو کرجمعیت علماء اسلام میں شامل ہو گئےاور الیکشن میں NA-1 طلحہ محمود کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا اور کہا کہ میرے ن میں آنے سے پہلے بہت کم ووٹ تھے، اسی پچاسی ووٹ ملتے تھے، جب میں نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی تو 460 ووٹ نکلے، اب میں مسلم لیگ ن چھوڑ کر جے یو آئی میں شامل ہو رہا ہوں، آج کے بعد میں ایک معمولی کارکن ہوں اور ہمیشہ ساتھ دوں گا.

    پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی کے ارکان مستعفی ہو کر حلقہ این اے ون چترال میں سینیٹر طلحہ محمود کی حمایت کرنے لگے، زنگ لشٹ تورکہو اپر چترال میں وسیع الدین سابق یوتھ کونسلر پی ٹی آئی، موجودہ یوتھ صدر یوسی کھوت، نصیرالدین پی ٹی آئی ابراہیم غازی پی ٹی آئی، سمیع الدین پی ٹی آئی، جنید الرحمٰن، شکیل احمد کسان کونسلر پی ٹی آئی، گلزار غازی پی ٹی آئی، نعیم الرحمٰن پی ٹی آئی ، حاجی حسین پی ٹی آئی، رحمت جلیل جماعت اسلامی، سردار عالم پی ٹی آئی، سمیع الرحمٰن پی ٹی آئی، ضیاء الرحمٰن پی ٹی آئی، معراج پی ٹی آئی کو خیر آباد کہتے ہوئے جے یو آئی میں شامل ہو گئے.

    سینیٹر محمد طلحہ محمود نے انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے چترال کا سفر کیا تو ایسا لگتا تھا کہ یہاں کے لوگ آج بھی پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ یہاں بجلی ہے، نہ پینے کا صاف پانی اور نہ ہی اچھی سڑکیں ہیں۔ چترال ایک سیاحتی علاقہ ہے جہاں قدرت نے بہت کچھ تخلیق کیا ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی میں یہاں سے منتخب ہونے والے نمائندوں نے اسے نظر انداز کیا ہے،ہم یہاں کی عوام کو سہولیات دیں گے،چترال کے لوگوں سے مجھے محبت ملی، یہ لوگ مہمان نوازی میں مشہور ہیں،کبھی مایوس نہیں کرتے، انکی بڑی روایات ہیں، میں لوگوں کے لئے بلاتفریق انسانیت کی خدمت کرتا رہا ہوں، اگر چترال کے لوگوں نے مجھ پر اعتماد کیا تو چترال کے لوگوں کو پسماندگی سے نکالنے کے لئےبھر پور کوشش کروں گا.

    ماضی میں چترال کے عوام کو محتلف بہانوں سے دھوکہ دیکر ان سے ووٹ لیا گیا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود

    سینیٹر طلحہ محمود کی امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات

    طلحہ محمود اور چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کے درمیان نوک جھونک