Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • حنا خان بھی کورونا وائرس کا شکار

    حنا خان بھی کورونا وائرس کا شکار

    بھارتی اداکارہ حنا خان بھی کورونا وائرس کی شکار ہوگئیں، انہوں نے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چند روز قبل حنا خان کے والد کا انتقال ہوا تھا اور اب اداکارہ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد قرنطینہ میں ہیں۔

    انہوں نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ مجھ سمیت میرے اہلخانہ کے لیے انتہائی مشکل اور چیلنجنگ وقت کے دوران میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔

    حنا خان نے مزید لکھا کہ ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے اور وہ تمام ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل کررہی ہیں۔

    انھوں نے پچھلے کچھ دنوں میں خود سے ملنے والوں سے درخواست کی کہ وہ لوگ بھی اپنا کورونا وائرس ٹیسٹ کروالیں۔

    حنا خان نے اپنے مداحوں سے دعا کی بھی درخواست کی۔

  • بھارت میں کورونا کی بگڑتی صورتحال: پریانکا چوپڑا نے امریکی صدر سے مدد مانگ لی

    بھارت میں کورونا کی بگڑتی صورتحال: پریانکا چوپڑا نے امریکی صدر سے مدد مانگ لی

    بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا نے کورونا کی بگڑتی صورتحال پر امریکی صدر سے مدد کی درخواست کی ہے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اداکارہ پریانکا چوپڑا نے امریکی صدر جو بائیڈن سے بھارت میں کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال پر مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میرا دل ٹوٹا ہوا ہے، بھارت کورونا سے متاثر ہے اور امریکا نے ضرورت سے زیادہ 550 ملین ویکسین کا آرڈر دیا ہے-


    انہوں نے امریکی صدر جوبائیڈن اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین ایسٹرازینیکا کو دنیا بھر میں دینے پر شکر گزار ہوں لیکن اس وقت بھارت میں صورتحال تشویش ناک ہے لہذا کیا امریکا جلد سے جلد بھارت کو ویکسین دے گا۔

    پریانکا کی جانب سے امریکی صدر سے درخواست کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اداکارہ نے بہت دیر کردی، انہیں بہت پہلے بھارت میں کورونا کی صورتحال پر ردعمل دینا چاہیے تھا۔

    واضح رہے کہ بھارت میں کورونا سے صورتحال مزید ابتر ہوچکی ہے اور مسلسل کئی روز سے روزانہ کی بنیاد پر 3 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔کورونا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد بھارت میں آکسیجن اور دیگر علاج کے سامان کی بھی شدید کمی ہوگئی ہے۔

  • پرنس ہیری اور میگھن کورونا آگاہی اور اقدامات سے متعلق کانسرٹ میں شرکت کریں گے

    پرنس ہیری اور میگھن کورونا آگاہی اور اقدامات سے متعلق کانسرٹ میں شرکت کریں گے

    برطانوی شہزادہ ہیری اور انکی اہلیہ میگھن مارکل کورونا سے متعلق آگاہی اور اقدامات کے حوالے سے منعقد کئے گئے کنسرٹ میں شریک ہوں گے۔

    باغی ٹی وی :کورونا سے متعلق آگاہی اور اقدامات کے حوالے سے دنیا بھر میں شوبز اور دیگر مشہور شخصیات کافی سرگرم ہیں اب اسی طرح کے ایک کانسرٹ میں برطانوی شہزادہ ہیری اور انکی اہلیہ میگھن مارکل بھی شریک ہوں گی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق 8 مئی سےشروع ہونے والے کانسرٹ میں مشہور امریکی گلوکارہ سلینا گومز،جینیفر لوپیز اور اداکار بین ایفلک سمیت دیگر شوبز شخصیات شرکت کریں گے۔

    ہیری اور میگھن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران دنیا نے درد، نقصان اور جدوجہد کا سامنا کیا ہے۔ اب ہمیں ایک ساتھ اس سےصحت یاب ہونے کی ضرورت ہے۔ہم کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑ سکتے۔

    ہیری اور میگھن نے مزید کہا کہ جب ہر جگہ ہر شخص کو ویکسین دستیاب ہوگی تو ہم سب مستفید اور محفوظ ہوں گے۔ ہمیں برابری کی بنیاد پر ویکسین فراہم کرنی چاہیے۔

  • متھن چکرورتی کی کورونا میں مبتلا ہونے کی افواہیں، اہلخانہ نے تردید کر دی

    متھن چکرورتی کی کورونا میں مبتلا ہونے کی افواہیں، اہلخانہ نے تردید کر دی

    اطلاعات تھیں کہ بالی ووڈ کے معروف سپر اسٹار متھن چکرورتی کا کورونا وائرس ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق لیجنڈ اداکار متھن چکرورتی کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی تاہم اہل خانہ نے اس خبر کو افواہ قرار دے دیا۔

    گزشتہ دنوں ریاست مغربی بنگال میں اپنی سیاسی مہم میں مصروف متھن چکرورتی نے اپنے مداحوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ بالکل تندرست ہیں اور ان دنوں اپنے بریک کو انجوائے کررہے ہیں۔

    دوسری جانب اداکار کے بیٹے مموح چکرورتی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خدا کے فضل اور مداحوں کے پیار اور نیک تمناؤں کی بدولت متھن چکرورتی کورونا سے محفوظ ہیں اور مغربی بنگال میں اپنے شو پر کام کررہے ہیں، ہم کورونا سے متعلق حفاظتی انتظامات پر سنجیدگی سے عمل کررہے ہیں کیوں کہ وبا کے خلاف یہ جنگ ہمیں ہر صورت جیتنی ہے۔

  • پاکستان میں کورونا کی تشویشناک صورتحال مزید اموات اور مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا کی تشویشناک صورتحال مزید اموات اور مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے-

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ملک بھر میں کورونا سے اموات کا اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 201 اموات ہوئی ہیں-


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 49 ہزار101 ٹیسٹ کئے گئے5 ہزار 292 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 10.77 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 17 ہزار 412 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 4 ہزار620 ہو چکی ہے۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور تیسرے مرحلے میں50تا60 سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔


    این سی او سی کے مطابق 40 سے 49 سال تک کی عمر کے لوگوں کی ویکسین کے لئے رجسٹریشن شروع ہو چکی ہے ویکسین لگوانے کی لئے قومی شناختی کارڈ نمبر 1166 پر پیغام بھیجنا ہو گا- جبکہ ملک بھر میں 50 سے 59 سال کے لوگوں کو ویکسین لگانے کا عمل آج سے شروع کیا جائے گا-

  • ویکسین لگوانے والے افراد بغیر ماسک رہ سکتے ہیں یا نہیں:ماہرین طب نے بتادیا

    ویکسین لگوانے والے افراد بغیر ماسک رہ سکتے ہیں یا نہیں:ماہرین طب نے بتادیا

    نیویارک :ویکسین لگوانے والے افراد بغیر ماسک رہ سکتے ہیں یا نہیں:ماہرین طب نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن نے کورونا وائرس میں احتیاط اور ویکسینیشن مکمل کرنے والے افراد کیلئے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔

    سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جنہوں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوالی ہے وہ ماسک کے بغیر بیرونی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

    سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ ایسے افراد اکیلے یا اپنے اہل خانہ کے ساتھ چہل قدمی، دوڑ، ہائیکنگ اور بائیکنگ وغیرہ کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

    سی ڈی سی کے مطابق ویکسینیشن کا کورس مکمل کرنے والے افراد چھوٹے موٹے آؤٹ ڈور ایونٹس میں شرکت کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس میں شریک تمام افراد ویکسین لگواچکے ہوں۔

    سی ڈی سی کے مطابق اگر کسی تقریب میں ویکسین نہ لگوانے والے افراد بھی موجود ہوں تو حرج نہیں، ویکسین لگوانے والے افراد دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ آؤٹ ڈور ڈائننگ بھی کرسکتے ہیں

  • آئی پی ایل میں شریک کھلاڑی وطن واپسی کےانتظامات خود کریں:وزیراعظم گھبرا گئے

    آئی پی ایل میں شریک کھلاڑی وطن واپسی کےانتظامات خود کریں:وزیراعظم گھبرا گئے

    سڈنی:آئی پی ایل میں شریک کھلاڑی وطن واپسی کےانتظامات خود کریں:وزیراعظم گھبرا گئے،اطلاعات کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کی تشویش ناک صورت حال کے پیش نظر آسٹریلیا نے بھارت سے فلائٹ آپریشن 15 مئی تک بند کردیا۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم نے انڈین پریمیئر لیگ میں حصہ لینے والے آسٹریلوی کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ آئی پی ایل میں کھلاڑی انفرادی حیثیت میں شریک ہیں ، اس لیے وہ وطن واپسی کے انتظامات خود کریں۔

    ممبئی انڈینز سے کھیلنے والے کرس لین نے کرکٹ آسٹریلیا سے آئی پی ایل کے اختتام پر کھلاڑیوں کی وطن واپسی کے انتظامات کرنے کی درخواست کی تھی۔

  • 40سال سےزائدعمرافرادکی کوروناویکسینیشن رجسٹریشن     جاری:اپناشناختی کارڈ نمبرایس ایم ایس کریں

    40سال سےزائدعمرافرادکی کوروناویکسینیشن رجسٹریشن جاری:اپناشناختی کارڈ نمبرایس ایم ایس کریں

    اسلام آباد:40سال سےزائد عمرافرادکی کوروناویکسینیشن رجسٹریشن کاآغازہوگیا ہے،اطلاعات کے مطابق انسداد کورونا کے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرنےاعلان کیا ہے کہ 40 سال سے زائد عمر افراد کی کورونا ویکسینیشن کیلئے رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق 40 سال سے49 سال تک کے افراد کی ویکسینیشن کیلئے رجسٹریشن کھول دی گئی۔

    این سی او سی کا کہنا ہے کہ 40 سال سے 49 سال کے افراد 1166 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس کریں۔این سی او سی کے مطابق 50سال سے 59 سال کے افراد کی واک ان ویکسینیشن کل سے شروع ہوگی۔

  • قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کامن ویلتھ گیمز 2022 میں رسائی پر پی سی بی کا اظہار مسرت

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کامن ویلتھ گیمز 2022 میں رسائی پر پی سی بی کا اظہار مسرت

    لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ نے کامن ویلتھ گیمز 2022 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے پر قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ 28 جولائی سے 8 اگست تک برمنگھم میں شیڈول ایونٹ میں 8 ممالک کی ٹیمیں ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں مدمقابل آئیں گی۔

     

    یہ پہلا موقع ہے کہ جب خواتین کرکٹ بھی کامن ویلتھ گیمز کا حصہ بن رہی ہے ۔ ایونٹ میں سات ممالک کی خواتین کرکٹ ٹیموں نے براہ راست رسائی حاصل کی ہے، جس میں سے ایک پاکستان کی ٹیم بھی ہے۔دیگر چھ ٹیموں میں میزبان انگلینڈ کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بھارت، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیزشامل ہیں۔

     

    چونکہ کیرئیبن سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹس کامن ویلتھ گیمز میں ویسٹ انڈیز کی بجائے اپنے اپنے ممالک سے شرکت کرتے ہیں، لہٰذا ان کے مخصوص کوالیفائنگ راؤنڈ کی فاتح ٹیم کو ایونٹ میں شرکت کا موقع ملے گا۔

     

    ایونٹ میں شریک آٹھویں ٹیم کافیصلہ کامن ویلتھ گیمز کوالیفائرسے ہوگا۔ قومی خواتین کرکٹ ٹیم اس سے قبل 2 مرتبہ ایشین گیمز کی فاتح رہ چکی ہے۔

     

    وسیم خان، چیف ایگزیکٹو پی سی بی:

     

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں شرکت سے قومی خواتین کرکٹرز کو دنیا بھر کے سامنے بہترین ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملے گا، اس سے نہ صرف دنیا بھر میں ہماری ٹیم کی شناخت بنے گی بلکہ اس سے پاکستان میں بسنے والی مزید خواتین بھی کرکٹ کی طرف راغب ہوں گی۔

     

     

     

    وسیم خان کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز کے دوران اسپورٹس ویلج میں قیام سے قومی خواتین کرکٹرز کو دیگر کھیلوں کے نامور ایتھلیٹس سے ملنے اور سیکھنے کا موقع ملے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پی سی بی اب اپنی ویمنز کرکٹ کی منیجمنٹ کےساتھ مل کر اس ایونٹ کی تیاری کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرے گا۔

     

    وسیم خان نے کہا کہ وہ اس موقع پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور آئی سی سی ویمنز کمیٹی کوبھی مبارکباد پیش کرنا چاہتے ہیں کہ جن کی انتھک محنت کی بدولت ویمنز کرکٹ کو کامن ویلتھ گیمز میں شامل کیا گیا ہے، ہم اس موقع پر کامن ویلتھ گیمز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بھی شکرگزار ہیں۔

     

    ندا ڈار، آلراؤنڈر قومی خواتین کرکٹ ٹیم:

    آلراؤنڈر قومی خواتین کرکٹ ٹیم ندا ڈار کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں اپنے ملک کی نمائندگی کاموقع ملنا اعزاز ہوگا،لہٰذا وہ اس موقع پر بہت خوش ہیں، وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا بھر کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی کوشش کریں گی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ برمنگھم میں شیڈول اس ایونٹ میں شرکت کی شدت سے منتظر ہیں، وہ وہاں عمدہ کھیل پیش کرنے کے ساتھ مایہ ناز کرکٹرز اور دیگر کھیلوں سے تعلق رکھنے والے نامور ایتھلیٹس سے ملنے کی بھی خواہشمند ہیں۔

  • ماہرین نے کورونا ویکیسن لگوانے سے پہلے اورلگوانے کے بعد کی  مریض کی صورت حال پیش کردی

    ماہرین نے کورونا ویکیسن لگوانے سے پہلے اورلگوانے کے بعد کی مریض کی صورت حال پیش کردی

    لاہور:ماہرین نے کورونا ویکیسن لگوانے سے پہلے اورلگوانے کے بعد کی مریض کی صورت حال پیش کردی،اطلاعات کے مطابق ماہرین طب نے کورونا وائرس کے پھیلاو کے بعد اس کے انسانی جسم پراثرات اورنقصانات کا خاکہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ویکسینیشن کے بعد کے اثرات کا بھی خاکہ اورجائزہ پیش کردیا ہے

    ماہرین نے اس رپورٹ میں کورنا مریضون کی کورونا وائرس سے متاثرہونے کا سارا خاکہ اورنتائج پیش کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگرپرہیز نہیں کریں‌ گے توپھرمذکورہ کیفیت کا سامنا کرنا پڑے گا اورپھرآکسیجن اوروینٹیلیٹرکی بھی ضرورت پڑے گی

    ساتھ ہی ماہرین طب نے یہ بھی رپورٹ پیش کی ہے کہ کورونا ویکسین کے بعد یہ انفیکشن کس طرح ٹھیک ہوتا ہے اورایک مریض کی جان بچنے کی چانسز کس قدر بڑھ جاتے ہیں اس رپورٹ میں بیان کیئے گئے ہیں

    ویکسین کتنی مؤثر ہے؟
    19-COVID ویکسین کا بڑے پیمانے پر بے ترتیب ٹرائلز کے دوران مطالعہ کیا گیا ہے، جہاں ایک گروپ کے افراد کو
    ویکسین دی گئی تھیں اور دوسرے گروپ کے افراد کو نمکین انجکشن یا کوئی دوسرا ویکسین )نام نہاد پلیسبو( دیا گیا
    تھا۔ ویکسین کی مؤثر ہونے کا اندازہ دونوں گروہوں میں سے 19-COVID کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد کا موازنہ کر کے
    لگایا جاتا ہے۔

    عمومی طور پر ویکسین لگوانے والوں میں سے بہت کم افراد بعد میں 19-COVID کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پلیسبو گروپ
    کے مقابلے میں ویکسین لگوانے والے افراد میں بیمار ہونے کا خطرہ کم ہونے کا تعین کرکے ویکسین کی تاثیر کا اندازہ لگایا
    جاتا ہے۔ بطور مثال، اگر ایک گروپ کے 100 افراد اور دوسرے گروپ کے 5 – 6 افراد بیمار ہو جائیں تو اس کی تاثیر 94 – 95
    فی صد ہو گی جو RComirnaty اور 19-COVID ویکسین RModerna کی صورت میں درست ہے۔

    دوسری طرف اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ صرف 95 فی صد محفوظ ہیں، اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ
    کو 19-COVID کی بیماری لگنے کا خطرہ 5 فی صد ہے، اگرچہ آپ کو ویکسین لگوائی گئی ہو۔ در حقیقت، خطرہ انتہائی
    کم ہے، کیونکہ آپ کو یہ بھی خیال کرنا ہوگا کہ 19-COVID کی بیماری لگنے کا خطرہ کم ہوتا ہے چاہے آپ کو ویکسین
    لگوائی گئی ہو یا نہیں۔

    مثال کےطورپر،انفیکشن)واقعات کے وقوع پذیر ہونے( کی شرح 100 کا مطلب یہ ہےکہ گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران ہر ایک الکھ کی آبادی میں سے 100 افراد کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ اگر ہم یہ فرض کرلیںکہ ان میں سے تقریبا نصف آبادی میں عالمات بھی پائی جاتی ہیں، یعنی وہ 19-COVID کا شکار ہیں، تو پھر ویکسینکی مؤثر ہونے کا مطلب یہ ہوگا –

    اگر سب کو ویکسین لگوائی گئی ہوں – کہ متاثرہ افراد میں سے صرف 3 – 4 افراد کو19-COVID کا عارضہ الحق ہو چکا ہے، جبکہ ویکسین نہ لگوانے کی صورت میں 50 افراد بیمار ہو جائیں گے۔