کورونا سے مزید 54 افراد لقمہ اجل بن گئے، نئے کیسز میں اضافہ کہاں تک پہنچ گیا
باغی ٹی وی : کورونا وائرس کی وجہ سے 54 افراد لقمہ اجل بن گئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 13 ہزار 430 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کےمریضوں کی تعداد 6 لاکھ 198 ہوگئی۔
ملک بھرمیں ایکٹو کیسز کی تعداد 18 ہزار703 ہے۔ 5 لاکھ 68 ہزار65افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔
کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 5 ہزار698افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار452، خیبر پختونخوا 2 ہزار138، اسلام آباد میں 520، گلگت بلتستان میں 103، بلوچستان میں 202 اور آزاد کشمیر میں 317 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 701 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 82 ہزار 576، سندھ میں 2 لاکھ 60 ہزار 661، خیبر پختونخوا میں 75 ہزار 52، بلوچستان میں 19 ہزار 171، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 959، اسلام آباد میں 46 ہزار 963 جبکہ آزاد کشمیر میں 10 ہزار 816 کیسز رپورٹ ہوئے۔
اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 46 ہزار963، خیبر پختونخوا 75 ہزار52، سندھ 2 لاکھ 60 ہزار661، پنجاب میں ایک لاکھ 82 ہزار576، بلوچستان 19 ہزار171، آزاد کشمیر 10 ہزار816اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 959 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں.
پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور دوسرے مرحلے میں60 سال سے بڑی عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور ویکسینیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکنزم سے کنٹرول کیا جائے گا.
وزارت کے شعبہ منصوبہ بندی، آپریشن اسٹیبلشمنٹ اور فنانس کے افسران وملازمین کرونا کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ سیکرٹری ریلوے پہلے ہی کرونا کا شکار ہوچکے ہیں ۔اس خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت ریلوے میں کرونا کے وار شدت اختیار کرگئے ہیں ۔وزارت ریلوے کے شعبہ منصوبہ بندی کے ڈی جی اور افسران اور ان کا سٹاف جن میں خواتین بھی شامل ہیں کرونا کا شکار ہوگئے ہیں ۔اس کے ساتھ شعبہ آپریشن کے ڈی جی بھی کرونا کاشکار ہوچکے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ملازمین کو بھی کرونا ہوگیا ہے شعبہ اسٹیبلشمنٹ اور فنانس کے ملازمین میں بھی کرونا نکل آیا ہے ۔
جبکہ وزارت ریلوے کے سیکرٹری پہلے ہی کرونا کا شکار ہیں۔وزارت میں بڑی تعداد میں افسران و ملازمین کے کرونا کے شکار ہونے کے بعد ملازمین میں خوف وہراس پھیل گیا ہے مگر حکام کی طرف سے ابھی تک معاملہ کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا۔ملازمین کو معمول کے مطابق ڈیوٹی پر بلایا جارہاہے جس سے کرونا کے مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔
لاہور:جب بادشاہ کسی کے باغ سے انارتوڑے تواس کے سپاہی باغ اجاڑدیتے ہیں:محکمہ صحت بھی انہیں روایات کی عکاسی کرنے لگا،پاکستان جوکہ اس وقت تاریخ کے مشکل دورسے گزررہا ہے اورجہاں ایک طرف کرپشن اورچوربازاری کوروکنے کے لیے اقدامات کیئے جارہے ہیں وہاں یہ مرض اسی رفتارسے بڑھ رہاہے
APP44-280121 FAISALABAD: January 28 – Captain Retired Muhammad Usman (Secretary, Primary & Secondary Healthcare Department addressing a seminar on Typhoid Conjugate Vaccine (TCV)2021 Campaign at local hotel. APP photo by Tasawar Abbas
ضرب المثل ہے کہ "رسی جل گئی پر بل نہ گیا”
یہ قوم بھی اسی صورت حال سے دوچار ہے ، ملک اورمعاشرہ تباہ ہوچکا مگرہماری عادتوں میں تبدیلی نہ آسکی ، جب یہ صورت حال پیدا ہوجائے توپھراللہ کی طرف سے آنے والا عذاب کوئی نہیں ٹال سکتا
جس ملک کے بڑے لوگ ، حکمران طبقہ یا دوسرے صاحب الاقتدارشیخ سعدی کے قول کے مطابق انارتوڑرہےہیں توسرکاری اہلکارباغ اجاڑرہے ہیں اوراگریہ سلسلہ نہ رک سکا توپھروہ وقت دورنہیں جب تقدیرکا وارچلے گا اورپھراس جرم میں مبتلا بڑے اورچھوٹے ذلیل ورسوا ہوں گے
رشوت ستانی اورچوربازاری اس قدرعام ہوگئی ہے کہ انسانیت کے مسیحا بھی خدمت انسانیت کی آڑ میں کمزوروں کا حق مارجاتے ہیں ، ماتحتوں کی مزدوری کوہڑپ کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے جس طرح پنجاب کے محکمہ صحت کے افسران کا حال ہے
یاد ہوگا کہ پچھلے مہینے کے آغازمیں ملک بھرکی طرح لاہوراورگردونواح میں ٹائیفائیڈ کی ویکسینیشن کی گئی جس کے لیےکونسل کی سطح پرمختلف لوگوں کی خدمات لی گئی ،
اس پروگرام کے تحت لاہور کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرزکی قیادت میں شروع ہونے والی مہم میں ہرکونسل سے یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز اوران کے ساتھ ساتھ موبلائزنگ ٹیم کی خدمات حاصل کی گئیں
اس مہم کوجس طرح ان یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز اوران کے ساتھ ساتھ موبلائزنگ ٹیم نے احسن انداز سے سرانجام دیا اس کی مثال نہیں ملتی
مگرجب ان یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز اوران کے ساتھ ساتھ موبلائزنگ ٹیم کوان کی مزدوری ، معاوضہ دینے کا وقت آیا توٹال مٹول سے کام لیا جارہاہے ، یہ معاوضہ جوکہ مجموعی طور پر 48 ہزاربنتا ہے ،بعض یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز کو کچھ رقم دی گئی ہے ،
کسی کو بیس ہزاردیا گیا تو کسی کو18 ہزارغرض یہ کہ ڈی ڈی اوز کو متنقل ہونے والی یہ رقم ابھی تک حقداروں کو نہیں مل سکی
جبکہ اسی پروگرام کے تحت دیگراضلاع میں کام کرنے والے یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرزکو48000 روپے معاوضہ اداکردیا گیا ہے
اس حوالے سے جب لاہور کے مختلف ڈی ڈی اوز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو مذکورہ مسئلے کے حقیقی ہونے کی تصدیق بھی ہوگئی جب سی او ہیلتھ لاہور ڈاکٹرمحمد صدیق نے کہا کہ آپ کی طرف سے اس مسئلے کی نشاندہی کرنے کے بعد ڈی ڈی اوز کوہدایت کردی گئی ہے کہ وہ یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز کو ان کے بقایا جات جلد ادا کردیں
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مسئلے پرتوجہ دلاو کوشش کے دوران ڈی ڈی اوزکے درمیان ہونے والی گفتگونے ان سرکاری افسران کی بے رحمی اوردوسروں کا حق کھانے کی عادت کوبھی عیاں کردیا
دوسری طرف یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا توانہوں نے اس خبرکی تصدیق کرتے ہوئے اس درست قراردیا اورکہا کہ واقعی کسی کو بھی اس کے واجبات جن کی مالیت 48000ہزاربنتی ہے ابھی تک ادا نہیں کیئے گئے
یہ توہیں بنیادی واجبات اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پریوسی ایم او کو 850 روپے ، سکلڈ پرسن 500 روپے روزانہ اورایسے ہی اے ای ایف آئی ایف پی ٹریننگ کے لیے رزانہ 850 روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگروہ بھی نہیں ملے
ان یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرزنےافسران بالا کے قہرسےڈرتے ہوئے سہمے ہوئے اوربے بسی کے عالم میں اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس حق کے دعوے کے بعد اب ان ڈی ڈی اوزکی طرف سے عتاب کا بھی ڈر ہے
بہرکیف ان حالات میں جب ملک میں رشوت ستانی کوایک جائزشکل قراردینے کی کوشش کی جارہی ہے اگرافسران بالا نے نوٹس نہ لیا تویہ یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرزدیگراپنے ہم وطنوں کی طرح صبرکرلیں گے لیکن مجھے ڈرلگتا ہے کہ وہ ذات جسے رحیم وکریم کہتے ہیں وہ قہاروجباربھی ہے
اگراس ذات کا صبرلبریز ہوگیا تو پھریہاں اس ملک میں اللہ وہ نشانیاںدکھائیں گے جومصائب ، مشکلات اورآزمائشوں میں صبرکرنے والی اقوام کواللہ بے بسی کی حالت میں دکھاتے ہیں ،ہمیں ان حرکتوں سے بازآجانا چاہیے کیوں کہ کوئی تو دیکھ رہا ہے
پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر ،اموات اور مریضوں میں مسلسل اضافہ جاری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے،کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
این سی او سی کے مطابق کرونا وائرس سے پاکستان میں مزید53 اموات ہوئی ہیں اور2ہزار258 مزید مریض سامنے آئے ہیں۔پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 13 ہزار377 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 97 ہزار497 ہو گئی ہے ،ملک بھرمیں کرونا کے مریضوں کی تعداد 16 ہزار699 ہے۔ 5 لاکھ 66 ہزار493افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔
این سی او سی کے مطابق کورونا سب سے پنجاب میں 5 ہزار662افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار448، خیبر پختونخوا 2 ہزار129، اسلام آباد میں 516، گلگت بلتستان میں 104، بلوچستان میں 202 اور آزاد کشمیر میں 316 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 46 ہزار579، خیبر پختونخوا 74 ہزار722، سندھ 2 لاکھ 60 ہزار406، پنجاب میں ایک لاکھ 80 ہزار944، بلوچستان 19 ہزار157، آزاد کشمیر 10 ہزار730 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 959 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔
ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کئے جا چکے ہیں ویکسینیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکنزم سے کنٹرول کیا جائے گا ویکسینیشن کے پہلے مرحلے کے لئے پنجاب میں 189 اور سندھ میں 14 مراکز قائم کئے گئے ہیں خیبرپختونخوا میں 280، بلوچستان میں 44 اور اسلام آباد میں 14 ویکسینیشن سنٹر قائم آزاد کشمیر میں 25 اور گگلگت بلتستان میں 16 مراکز کے ذریعے ویکسینیشن کی جائے گی
ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث این سی او سی کی ہدایات پر وفاقی حکومت کی طرف سے اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں ذرائع کےمطابق وفاق نے نئی پابندیوں کے اطلاق کی ہدایات جاری کر دی جس کے مطابق عوامی و دیگر مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وائرس پھیلنے والے ممکنہ مقامات پر سمارٹ لاک ڈائون اور مائیکرو لاک ڈائون کیا جا سکے گادوسری طرف یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ متعلقہ اداروں کی منظوری سے 50 فی صد کام گھر سے کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد ہو گا
اسلام آباد:کرونا وائرس کےحملے پھرتیز:اہل وطن نےکیاحفاظتی تدابیراختیارکرنی ہیں تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث این سی او سی کی ہدایات پر وفاقی حکومت کی طرف سے اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں
ذرائع کےمطابق وفاق نے نئی پابندیوں کے اطلاق کی ہدایات جاری کر دی
جس کے مطابق عوامی و دیگر مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وائرس پھیلنے والے ممکنہ مقامات پر سمارٹ لاک ڈائون اور مائیکرو لاک ڈائون کیا جا سکے گا
دوسری طرف یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ متعلقہ اداروں کی منظوری سے 50 فی صد کام گھر سے کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد ہو گا
ادھر اس حوالے سے کہا جارہا ہےکہ تمام تجارتی سرگرمیوں پر رات دس بجے کے بعد پابندی عائد ہو گی ،جبکہ ہسپتال ، میڈیکل سٹور اور اشیائے خوردونوش کی دوکانوں پر دس بجے کے پابندی لاگو نہیں ہو گی
وفاقی حکومت کی طرف سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہےکہ تمام پارکس شام چھے بجے کے بعد بند کر دئیے جائیں گے ، یہ بھی پیغام دیا گیا ہےکہ شادی ہالز اور ہوٹلز کے اندر بیٹھ کر کھانوں پر 15 مارچ سے دی جانے والی اجازت منسوخ کی جاتی ہے
ادھر اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ سینما ہالز اور مزارات پر بھی پابندی برقرار رہے گی ،ہدایات کے مطابق کھلے مقامات پر تین سو افراد کے اجتماع پر کورونا ایس او پیز کے مطابق اجازت ہو گی ، تمام پابندیوں کا اطلاق 15 اپریل تک رہے گا ،
وفاقی حکومت کی طرف سے ہدایت کی گئی ہے کہ ان پابندیوں میں نرمی یا مزید سختیوں کے حوالے سے 12 اپریل کو فیصلہ ہو گا
اسلام آباد:کرونا وائرس سےبچاوکےلیےہائیرایجوکیشن نے دوہفتوں کےلیےہنگامی اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے کوڈ 19 معاملات میں حالیہ اضافے کی وجہ سے منتخب شہروں میں تعلیمی اداروں میں موسم بہار کی تعطیلات کے اعلان کے بعد ہائیرایجوکیشن کیطرف سے اہم اعلان سنادیا گیا ہے ،
ذرائع کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام یونیورسٹیاں جاری ہدایات کے مطابق کام کرتی رہیں گی۔ قبل ازیں مندرجہ ذیل شہروں میں جامعات اور اعلی تعلیمی اداروں کے علاوہ فیصل آباد ، لاہور ، ملتان ، سیالکوٹ ، پشاور ، گوجرانوالہ ، گجرات ، راولپنڈی اور اسلام آباد ان دنوں بند رہیں گیں
مذکورہ بالا شہروں میں تمام جامعات اور اعلی تنظیمیں 15مارچ سے 28 مارچ کے دوران جسمانی حاضری کے لئے بند رہیں گی۔
یہ بھی بتایا جارہاہے کہ اس عرصے کے دوران تعلیمی سرگرمیاں آن لائن جاری رہیں گی۔ مزید یہ کہ ، کوویڈ ۔19 صحت اور حفاظت کے پروٹوکول کی مکمل پابندی کے ساتھ منصوبہ بندی کے مطابق جاری اور پہلے سے طے شدہ امتحانات کا انعقاد کیا جاسکتا ہے۔
ہائیرایجوکیشن کے مطابق یونیورسٹیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کوڈ 19 کم سے کم صحت اور حفاظت کے پروٹوکول کی سختی سے پابندی کریں ،
ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ تھرمل سکیننگ ، چہرے کا ماسک پہننا ، معاشرتی دوری ،سینیٹائزرزکی دستیابی اور باقاعدگی سے استعمال اور عمارتوں کی صفائی کو یقینی بنائیں۔ مزید برآں ، یونیورسٹیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر کوڈ 19 یا نگرانی کمیٹی کے چیئر یا صوبائی / علاقائی ممبران سے ضرورت ہو تو مزید رہنمائی حاصل کریں۔
لاہور: جعلی ڈگری:اب کس پرتلوارچلنے والی ہے :اہم خبر نے ہلچل مچادی، ویسے تو سیاستدانوں کے بارے میں کہا جاتارہا ہے کہ وہ جعلی ڈگریوں کی بدولت اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے بھی طبقات ہیں کہ جواس میدان میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ،
یہ کوئی سیاستدان نہیں بلکہ صدر لاہور ٹیکس بارعلی احسن رانا اور ان کے ساتھیوں کی جعلی ڈگریوں کی تصدیق کے متعلق کیس کی سماعت ,چیف جسٹس ہائی کورٹ محمد قاسم خان کے رخصت پر ہونے کے باعث کیس کی سماعت سترہ مارچ تک ملتوی کردی گئی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے صدر لاہور ٹیکس بار احسن علی رانا سمیت دیگرز وکلاء کی ڈگریوں کے متعلق رپورٹ طلب کررکھی ہے، عدالت نے اس کیس میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور کنٹرولر امتحانات کو طلب کررکھا ہے ،
یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ ہائی کورٹ کے حکم پر سیکریٹری لاہور ٹیکس بار رانا کاشف نے صدر کی ڈگری کی تصدیق کے لیے پنجاب بار کونسل کا مراسلہ لکھا تھا اور ہائیکورٹ میں بھی صدر لاہور ٹیکس بار علی احسن رانا کی ڈگری کی تصدیق کے لیے درخواست دائر ہے۔
اسلام آباد سے اہم شخصیت کرونا کا شکار،کھلبلی مچ گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے اہم رہنما کرونا کا شکار ہو گئے
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا کرونا ٹیسٹ مثبت آ گیا جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا، قاسم خان سوری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میرا کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آ گیا ہے دو تین دنوں سے ہلکا سا بخار اور سر میں درد تھا، آپ سب سے اپنی خاص دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست ہے،
میرا کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آ گیا ہے دو تین دنوں سے ہلکا سا بخار اور سر میں درد تھا، آپ سب سے اپنی خاص دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست ہے، اللہ تعالیٰ سب کو اس موذی وائرس سے محفوظ رکھے، براہِ کرم اس تیسری لہر کو سنجیدگی سےلیں اور خاص طور پر اپنے بزرگوں کو کورونا ویکسین لازمی لگوائیں۔
قاسم خان سوری کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس موذی وائرس سے محفوظ رکھے، براہِ کرم اس تیسری لہر کو سنجیدگی سےلیں اور خاص طور پر اپنے بزرگوں کو کورونا ویکسین لازمی لگوائیں۔
واضح رہے کہ قاسم خان سوری نے سینیٹ اجلاس میں بھی شرکت کی تھی اسکے بعد بھی وہ اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں کرتے رہے، قاسم خان سوری کو کرونا ہونے کے بعد کئی اراکین اسمبلی نے بھی کرونا کا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے
آنجہانی بالی ووڈ اداکار رشی کپور کے بیٹے اداکار رنبیر کپور کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے تصدیق ان کی والدہ نیتو سنگھ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے کی تھی جس کے بعد ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی کا بھ کورونا ٹیسٹ پوزیٹیو آیا تھا تاہم رنبیر اور سنجے لیلا کے کورونا پوزیٹیو آنے کے خبر کے بعد عالیہ بھٹ بھی وائرس کے خوف میں مبتلا ہوگئی ہیں۔
باغی ٹی وی : ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی اور اداکار رنبیر کپور کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد عالیہ بھٹ کافی پریشان ہوگئی ہیں اور روزانہ کووڈ ٹیسٹ کروارہی ہیں تاہم اداکارہ کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عالیہ بھٹ نے رنبیر کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر اپنا کووڈ ٹیسٹ کروایا ہے تاہم گزشتہ روزبھی انہوں نے ٹیسٹ کرایا جو منفی آیا ہے، اسکے باوجود اداکارہ نے خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ اداکار رنبیر کپور اور ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کا کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جب کہ عالیہ بھٹ دونوں ہی کے ساتھ فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھیں۔