Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • بھارتی کرونا ویکسین نہ صرف غیرموثربلکہ انتہائی نقصان دہ جنوبی افریقہ نے واپس کردی:شرمندگی اٹھانا پڑگئی

    بھارتی کرونا ویکسین نہ صرف غیرموثربلکہ انتہائی نقصان دہ جنوبی افریقہ نے واپس کردی:شرمندگی اٹھانا پڑگئی

    دنیا کے کئی ممالک کی طرح جنوبی افریقہ نے بھی بھارت کی تیار کردہ کورونا ویکیسن لینے سے انکار کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ویکسین جنوبی افریقہ پہنچنے پر جب وہاں کی حکومت کی جانب سے اس کا مشاہدہ کروایا گیا تو اس میں ثابت ہوا کہ بھارت کی تیار کردہ کورونا ویکسین ناصرف ناقص ہے بلکہ اس کی معیاد بھی انتہائی مختصر ہے ،

    تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کی ویکسین بنانے کی دعویدار مودی حکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے، جنوبی افریقہ کی حکومت نے بھارت میں مقامی سطح پر تیار کردہ کرونا وائرس کی ویکسین کو غیر معیاری اور بیکار قرار دے کر لینے سے انکار کر دیا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کی حکومت کے ذرائع نے بھارتی کرونا وائرس کی ویکسین کو نہ صرف بیکار اور غیر معیاری قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ بھارتی ویکسین کی میعاد مختصر ترین ہے،

     

    اس مشاہدے کے بعد جنوبی افریقہ نے بھارت سے منگوائی ہوئی عالمی وباء کورونا ویکسین کی ایک ملین خوراکیں واپس بھجوانے کا اعلان کردیا۔

    یاد رہے کہ بھارت کے سیرم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تیار کی گئی کرونا وائرس کی ویکسین جنوبی افریقہ کو بیچی گئی تھی، جس کا جنوبی افریقہ کی وزارت صحت نے لیبارٹری میں ٹیسٹ کروایا تو بھارتی تیار کردہ کرونا ویکسین کرونا وائرس کے خلاف بے اثر اور غیر معیاری نکلی۔

    قبل ازیں بھارت کواس وقت بھی عالمی سطح پر خفت کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی تیار کردہ کورونا ویکسین دنیا کا کوئی ملک فری میں بھی لینے کو تیار نہ ہوا ،

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی تیار کردہ عالمی وباء کورونا وائرس کی ویکسین ’کوواکسن‘ کی 8.1 لاکھ خوراکوں میں سے جو بھارت کی جانب سے 7 ممالک کو بطور امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور کوویڈ19 کے خلاف بھارت کی پہلی دیسی ویکسین خیر سگالی کے طور پر میانمار ، منگولیا ، عمان ، بحرین ، فلپائن ، مالدیپ اور ماریشیس کو بھیجی گئی تھی ،

    بھارتی ویکسین کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے صرف ایک ملک میانمار نے 2 لاکھ خوراکیں رکھی ہیں جب کہ باقی تمام ممالک کے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھی بھارت کی تیار کردہ ویکسین کی خواراکیں لینے سے انکار کردی

    یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جبکہ ایشیا میں کرونا وائرس سے سب سے متاثرہ ملک بھارت خود ہے جس میں کرونا وائرس کی وبا دن بہ دن کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جارہی ہیں اور کرونا وائرس کے روزانہ سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد بھی لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔

    دوسری جانب بھارت کے سیرم انسٹیٹیوٹ کی تیار کردہ کرونا وائرس کی ویکسین کے بیکار ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی وزیر صحت انیل وج نے بھارتی ساختہ ویکسین لگوائی تھی جس کے چند روز بعد ہی بھارتی وزیر صحت میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو گئی تھی۔

     

     

    یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ جنوبی افریقہ میں جووائرس پایا جارہا ہے وہاں برطانیہ کی فائزرویکیسن بے اثرہوگئی ہے وہاں بھارتی ویکسین کی کیا حیثیت ہے ، بھارتی ویکسین تو جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے کرونا وائرس کے لیے بالکل ہیے بے اثرہے

     

    دوسری طرف یہ بھی بحث زورپکڑ رہی ہے کہ جیسا کہ سنا جا رہا ہے کہ پاکستان بھارت سے ویکسین منگوانا  چاہتا ہے توپھریہ بہت ہی شرمندگی کا مقام ہوگا پاکستان کے لیے کہ جس بھارت کی ویکسین نہ صرف غیر موثرہے بلکہ نقصان دہ اس ویکسین کو جسے دنیا مسترد کرچکی ہے پاکستان منگواتا ہے تو پھر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے

     

     

    لیکن جب اس سلسلے میں محکمہ صحت اورحکومتی زرائع سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے بتایا کہ یہ پراپیگنڈہ ہے پاکستان کو بھارت کی ویکسین پراعتبار ہی نہیں دوسری بات ہے کہ پاکستان کیوں بھارت سے منگوائے جبکہ پاکستان کے پاس پہے ہی چین کی طرف سے فراہم کردہ ویکسین موجود ہے ، اس لیے یہ پراپیگنڈہ ہے جسے مسترد کرتے ہیں

     

    یاد رہےکہ بہت پہلے ہی بھارت میں تیار کی گئی کرونا (کورونا) وائرس ویکسین پر اس کی افادیت اور آزمائشی استعمال سے متعلق کم تفصیلات کی بنا پر طبی ماہرین اور سیاسی حزب اختلاف کی جانب سے سوالا ت اٹھائے جا رہے تھے

    ‘کوویکسن’ نامی ویکسین کے محدود پیمانے پر استعمال کی اتوار کو ہنگامی بنیادوں پر منظوری دی گئی تھی۔ بھارت نے جمعے کو ماہرین کی جانب سے سبزجھنڈی دکھائے جانے کے بعد پہلی منظوری آکسفورڈ، آسٹرازنیکا کے لیے دی تھی۔

    اس کے فوری بعد ‘کوویکسن’ کی منظوری دی گئی, جو حیدرآباد میں قائم ادویات ساز کمپنی بھارت بائیوٹیک نے سرکاری ادارے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے اشتراک سے تیار کی تھی

     کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی خبر بھارت کے ڈرگز کنٹرول جنرل (ڈی سی جی آئی) نے سنائی جسے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اور ان کی حکومت نے ‘گیم چینجر’ اور ملک کے’خود انحصاری’ حاصل کرنے کے وسیع تر ایجنڈے کی فتح کے طور پر سراہا۔

    تاہم ماہرین نے آزمائشی استعمال کے تیسرے مرحلے کی تکمیل یا افادیت سے متعلق تفصیلات کی اشاعت سے پہلے بظاہر ویکسین کے استعمال کی جلدی میں دی گئی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔

    بھارتی حکام نے آج دوماہ قبل ہی کہہ دیا تھا کہ  بائیوٹیک کی ویکسین کو آکسفورڈ – آسٹرازنیکا کا بیک اپ قرار دیا ہے، جو سخت نگرانی میں لگائی جائے گی اور صرف اس صورت میں لگائی جائے گی کہ جب ایسا دکھائی دے کہ ملک میں کرونا وائرس کے کیس بڑی تعداد میں بڑھ رہے تھے

    بھارت کے ڈرگرز کنٹرولر جنرل وی جی سومانی نے پہلے ہی کہا تھا  کہ ویکسین کی ‘عوامی مفاد میں وافر احتیاطی تدابیر کے طور پر اور آزمائشی انداز میں استعمال کی منظوری دی گئی تا کہ ویکسین کے معاملے میں زیادہ راستے کھلے ہوں۔ خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب نئی قسم کے وائرس سے ہونے والے انفیکشن کا سامنا ہو۔’

    لیکن صحت کے شعبے کی نگرانی کرنے والے خود مختار ادارے آل انڈیا ڈرگ ایکشن نیٹ ورک (اے آئی ڈی اے این) نے اپنے بیان میں کہا  تھا کہ وہ ویکسین کی منظوری پر ‘ہل کر رہ گیا ہے۔’ ادارے نے  ڈی جی سی آئی پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے لیکن نہ تونظرثانی کی گئی اورنہ اس کوتاہی کااظہارکیا گیا

    یہ بھی یاد رہے کہ انہیں دنوں کی بات ہے کہ ادارے نے ‘ویکسین کی افادیت سے متعلق ڈیٹا کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات’ کا اظہار بھی کیا تھا ۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ ‘اس دعوے کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں کہ کوویکسن وائرس کی نئی قسم سے ہونے والے انفیکشن کی صورت میں مؤثر ہو گی۔’

    اے آئی ڈی اے این نے بیان میں کہا تھا کہ : ‘ایسی ویکسین کی منظوری جس کی افادیت کے بارے میں تحقیق مکمل نہیں ہوئی، کا فیصلہ چاہے وہ سارے عمل کی رفتار بڑھا کر کیا گیا ہو، جوابات کے مقابلے میں سوالات زیادہ پیدا کرتا ہے اور ممکن ہے کہ اس سے سائنس کے شعبے میں فیصلہ کرنے والے ہمارے اداروں پر اعتماد میں اضافہ نہیں ہوگا۔

  • پاکستان میں کرونا سے مزید 47 اموات،مریضوں کا بھی اضافہ

    پاکستان میں کرونا سے مزید 47 اموات،مریضوں کا بھی اضافہ

    پاکستان میں کرونا سے مزید 47 اموات،مریضوں کا بھی اضافہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق کرونا سے پاکستان میں مزید 47 اموات اور 958 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 333 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 64 ہزار 77 ہو گئی ہے۔ ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 25 ہزار 997 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 25 ہزار 383 ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا سے پنجاب میں 5 ہزار 51 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 219، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 995، اسلام آباد میں 486، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 199 اور آزاد کشمیر میں 281 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 42 ہزار 688، خیبر پختونخوا میں 69 ہزار 990، سندھ میں 2 لاکھ 53 ہزار 762، پنجاب میں ایک لاکھ 64 ہزار 268، بلوچستان میں 18 ہزار 942، آزاد کشمیر میں 9 ہزار 487 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 940 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا کی دوسری لہر کے دوران مثبت کیسزمیں نمایاں کمی ہوئی اور شرح تین اعشار نو فیصد ہوگئی ہے۔ صورتحال 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب واپس آ گئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ اپریشن سینٹر کے مطابق کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.68 فیصد ہے۔ اسلام آباد میں 1.18فیصد، خیبر پختونخوا میں 5.25، پنجاب5.97 اور سندھ میں مجموعی طور پر مثبت کیسز کی شرح 10.23 فیصد ہے۔آزاد کشمیر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 5.97، بلوچستان3.52 اور گلگت بلتستان میں 0.56 فیصد ہے۔

  • وزیر تعلیم بھی کرونا کا شکار ہو گئے.

    وزیر تعلیم بھی کرونا کا شکار ہو گئے.

    وزیر تعلیم بھی کرونا کا شکار ہو گئے.
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، کرونا کے مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،اہم شخصیات بھی کرونا کا شکار ہو رہی ہیں

    پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کاکورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے،مراد راس نے سوشل میڈیا پر ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کردی،وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ جتنے لوگوں نے مجھ سے ملاقات کی وہ اپنے کورونا ٹیسٹ کروائیں،

    این سی او سی کے مطابق کرونا سے پاکستان میں مزید 26 اموات اور ایک ہزار 48 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 333 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 64 ہزار 77 ہو گئی ہے۔ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 25 ہزار 997 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 25 ہزار 747 ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا سے پنجاب میں 5 ہزار 51 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 219، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 995، اسلام آباد میں 486، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 199 اور آزاد کشمیر میں 281 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • پاکستان میں بزرگ شہریوں کے لئے کرونا ویکسین کی رجسٹریشن کا آغاز

    پاکستان میں بزرگ شہریوں کے لئے کرونا ویکسین کی رجسٹریشن کا آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بزرگ شہریوں کے لئے کرونا ویکسین کی رجسٹریشن شروع کر دی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کہ 65 سال اور اس سے زائد عمر کے شہری کورونا ویکسین کے لیے اپنی رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بزرگ شہری رجسٹریشن کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر بھیجیں۔ مارچ میں ویکسین کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

    حکومتی فیصلے کے تحت پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن کی جا رہی ہے۔ این سی او سی کے مطابق ملک میں 27228 فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرزکی ویکسینیشن ہو چکی ہے. اعداد و شمار کے مطابق سب سےزیادہ ہیلتھ ورکرزکی ویکسی نیشن سندھ میں ہوئی۔

    پاکستان میں 3 فروری سے مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔ ترجیحی بنیادوں پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو سب سے پہلے ویکسین لگائی جارہی ہے

    عالمی ادارہ صحت کی پاکستان کو کرونا ویکسین بارے بڑی یقین دہانی

    کرونا ویکسین کا راز ہیکرز کی جانب سے چوری کرنے کی کوشش ناکام

    کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

    صوبائی وزیر میر محمد عارف محمد حسنی نے چاغی میں کرونا ویکیسن کا آغاز کردیا ضلع میں کووڈ کے فوکل پرسن جواد مینگل کو ویکسین لگا کر آغاز کردیا گیا۔

    سول ہسپتال بہاول پور میں فرنٹ لائن ورکرز کو کورونا ویکسین لگاکر مہم کا آغاز کردیا گیا۔ ضلع بھر میں پہلے فیز میں 1330 فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر مظفر خان سیال سول ہسپتال کے ڈاکٹر سید شہاب الدین کو کورونا ویکسین لگائی گئی۔

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    پاکستان میں کرونا ویکسین کہاں تک پہنچ گئی، مبشر لقمان کے ساتھ ڈاکٹر جاوید اکرم کے تہلکہ خیز انکشافات

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    برطانیہ میں کورونا ویکسین سب سے پہلے کس کو لگائی گئی؟

    کرونا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا،شہری عدالت پہنچ گیا

    کورونا ویکسین لگنے سے 500 کے قریب بھارتیوں کی حالت بگڑ گئی

    ہیلتھ ورکرز کی کورونا ویکسینیشن کا عمل جاری

  • کرونا سے پاکستان میں مزید 26 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ

    کرونا سے پاکستان میں مزید 26 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق کرونا سے پاکستان میں مزید 26 اموات اور ایک ہزار 48 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 333 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 64 ہزار 77 ہو گئی ہے۔ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 25 ہزار 997 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 25 ہزار 747 ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا سے پنجاب میں 5 ہزار 51 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 219، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 995، اسلام آباد میں 486، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 199 اور آزاد کشمیر میں 281 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 42 ہزار 688، خیبر پختونخوا میں 69 ہزار 990، سندھ میں 2 لاکھ 53 ہزار 762، پنجاب میں ایک لاکھ 64 ہزار 268، بلوچستان میں 18 ہزار 942، آزاد کشمیر میں 9 ہزار 487 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 940 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے دوران مثبت کیسزمیں نمایاں کمی ہوئی اور شرح تین اعشار نو فیصد ہوگئی ہے۔ صورتحال 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب واپس آ گئی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.68 فیصد ہے۔ اسلام آباد میں 1.18فیصد، خیبر پختونخوا میں 5.25، پنجاب5.97 اور سندھ میں مجموعی طور پر مثبت کیسز کی شرح 10.23 فیصد ہے۔آزاد کشمیر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 5.97، بلوچستان3.52 اور گلگت بلتستان میں 0.56 فیصد ہے۔

  • "کرونا فری ” نیوزی لینڈ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے:3کیسز کے آنے کے بعد حواس باختہ

    "کرونا فری ” نیوزی لینڈ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے:3کیسز کے آنے کے بعد حواس باختہ

    نیوزی لینڈ :نیوزی لینڈ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے:3کیسز کے آنے کے بعد حواس باختہ،اطلاعات کےمطابق کورونا کے مکمل خاتمےکے بعد نیوزی لینڈ میں پھر 3کیس سامنے آگئے جس کے بعد متاثرہ شہر آکلینڈ میں 3 روزہ لاک ڈاؤن لگادیا گیا۔

    خبر ایجنسی کے مطابق نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں گذشتہ روز کورونا کے تین کیس رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے آکلینڈ میں تین روزہ لاک ڈاون کا حکم دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نیوزی لینڈ نے آکلینڈمیں 3 دن کےلیے لیول تھری لاک ڈاؤن کا حکم دیا ہے اور اس دوران اسکول اور کاروباری ادارے بند رہیں گے اور صرف ضروری خدمات جاری رہیں گی۔حکام کے مطابق آکلینڈمیں لاک ڈاؤن کا نفاذ آج رات 12 بارہ بجےسے ہوگا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں ایک ماہ کے طویل لاک ڈاؤن کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں اب تک 2 ہزار 330 کورونا کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور 25 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

  • دنیاکوبتادو:کورونا وائرس کی نئی لہر’’بی117″پہلے  وائرسزسےزیادہ خطرناک:برطانوی سائنسدانوں کاانتباہ

    دنیاکوبتادو:کورونا وائرس کی نئی لہر’’بی117″پہلے وائرسزسےزیادہ خطرناک:برطانوی سائنسدانوں کاانتباہ

    لندن :دنیاکوبتادو:کورونا وائرس کی نئی لہر’’بی117″پہلےوائرسزسےزیادہ خطرناک:برطانوی سائنسدانوں کاانتباہ،اطلاعات برطانوی جینیاتی ادارے جنیو مکس نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ 19 کی نئی قسم 50 سے زائد ممالک میں شناخت کی جا چکی ہے۔

    عالمی وباء قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کی نئی قسم زمین پر زیادہ خوف و ہراس پیدا کر سکتی ہے کیونکہ یہ زیادہ وبائی اور جان لیوا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات برطانوی جینیٹک تجزیاتی پروگرام "جنیو مکس یو کے” کے ڈائریکٹر شیرون پی کاک نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتائی ۔

    برطانوی جینیٹک تجزیاتی پروگرام "جنیو مکس یو کے” کے ڈائریکٹر شیرون پی کاک نے کہا کہ کووڈ 19 کی نئی قسم کی 50 سے زائد ممالک میں شناخت کی جا چکی ہے۔

    برطانوی جینیٹک تجزیاتی پروگرام "جنیو مکس یو کے” کے ڈائریکٹر شیرون پی کاک نے کہا کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ کورونا کی نئی قسم دنیا بھرکو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

    دوسری جانب عالمی وباء کورونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن مہم کے مثبت اثرات مرتب ہونے لگے ہیں اور سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا ویکسینیشن کے نتیجے میں شرح اموات میں کمی آنے لگی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی کمی کے ساتھ مارچ کے وسط تک دو تہائی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ سائنسدان انتہائی نگہداشت میں شرح اموات میں بھی 36 فیصد تک ریکارڈ کمی کیلئے پر امید ہیں۔

  • نیوزی لینڈ میں‌لیول تھری کا لاک ڈاؤن نافذ

    نیوزی لینڈ میں‌لیول تھری کا لاک ڈاؤن نافذ

    نیوزی لینڈ میں‌لیول تھری کا لاک ڈاؤن نافذ

    باغی ٹی وی : نیوزی لینڈمیں21روزبعد3کوروناکیسزرپورٹ ہوئے ، ذرائع کے مطابق آکلینڈمیں کورونامیں مبتلاتینوں افرادایک ہی خاندان کےہیں،نیوزی لینڈمیں24جنوری کےبعدسےکوروناکیس رپورٹ ہونےکاپہلاواقعہ ہے.وزیراعظم جسینڈاآرڈن کاآکلینڈمیں3دن کیلئےلیول تھری لاک ڈاوَن کاحکم دے دیا .

    دنیا میں کورونا کے 8 کروڑ 11 لاکھ 26 ہزار سے زائد مریض صحتیاب ہوچکے اور 2 کروڑ 54 لاکھ 20 ہزار سے زائد زیر علاج ہیں۔

    امریکہ میں کورونا کی صورتحال سب سے خوفناک ہے جہاں 4 لاکھ 96 ہزار 63 اموات ہوچکی ہیں اور 2 کروڑ 81 لاکھ 96 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔

    بھارت کورونا کیسز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں اموات کی تعداد ایک لاکھ 55 ہزار 673اور ایک کروڑ 9 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

    برازیل میں کورونا سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 38 ہزار 647 اور 98 لاکھ 11 پزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔

    روس میں 40 لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد 79 ہزار 696 ہے۔برطانیہ میں 40 لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں اور ایک لاکھ 16 ہزار 908 اموات ہوچکی ہیں۔ فرانس میں 34 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 81 ہزار 647 جان کی بازی ہار چکے ہیں.
    اسپین میں 30 لاکھ 56 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 64 ہزار 747 اموات ہوئی ہیں۔ اٹلی میں بھی 27 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں جبکہ 93 ہزار 356 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    پہلے پانچ کروڑ کیسز 356 دنوں میں رپورٹ ہوئے تھے جب کہ آخری پانچ کروڑ کیسز صرف اناسی روز میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کا پہلا کیس 17 نومبر 2019 کو رجسٹرڈ ہوا تھا جس کے بعد 27 جون 2020 کو کیسز کی تعداد ایک کروڑ ہوگئی تھی۔

    24 نومبر کو کورونا کیسز کی تعداد چھ کروڑ ہوئی تھی، دس دسمبر 2020 کو کیسز سات کروڑ تک پہنچ گئے تھے، 25 دسمبر کو کیسز کی تعداد آٹھ کروڑ ہو گئی، 9 جنوری کو کیسز نے نو کروڑ کا ہندسہ عبورکرلیا تھا اور 25 جنوری کو کیسز دس کروڑ سے بڑھ گئے تھے۔

  • کوروناوائرس کی ہیئت میں تبدیلی،جواب میں  برطانیہ نے اٹھایا قدم

    کوروناوائرس کی ہیئت میں تبدیلی،جواب میں برطانیہ نے اٹھایا قدم

    کوروناوائرس کی ہیئت میں تبدیلی،جواب میں برطانیہ نے اٹھایا قدم

    باغی ٹی وی : برطانیہ میں کوروناوائرس کی ہیئت میں تبدیلی سےمقابلےکی ویکسین کی تیاری شروع ہوگئی . نئی ویکسین کوروناوائرس کومدافعتی نظام کوبائی پاس کرنےسےروک دےگی، برطانوی میڈیا کے مطابق رضاکاروں پرنئی ویکسین کی آزمائش چند ہفتوں میں کی جائےگی.نئی ویکسین یونیورسٹی آف ناٹنگھم میں تیار کی جا رہی ہے،

    دوسری طرف امریکی ادارہ خوراک ایف ڈی اے نے ملک میں دو کوویڈ19 ویکسینوں کو ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت دے دی ہے اور امریکہ میں لاکھوں افراد جن میں چلڈرن ہیلتھ کیئر کارکنان شامل ہیں ان کو اپنی خوراکیں بھی مل چکی ہیں۔

    اس حوالے سے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے بچوں پر کورونا ویکسین کی تحقیق کا اعلان کیا ہے، اس تحقیق میں چھ سے سترہ سال تک کے بچے شامل ہوں گے۔

    اس سلسلے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی کے عہدیدار پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بتایا کہ مذکورہ تحقیق میں بچوں پر آکسفورڈ کی ویکسین آسٹرا زینیکا کے اثرات جانے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ تحقیق میں تین سو رضا کار بچے حصہ لیں گے، تحقیق کا آغاز رواں ماہ آکسفورڈ، لندن، برسٹل اور ساؤتھ ہیمپٹن میں ہوگا۔

    پروفیسر اینڈریو پولارڈ کا کہنا تھا کہ کورونا نے بچوں کو کم متاثر کیا ہے لیکن پھر بھی حفاظتی تدابیر کے طور پر تحقیق کرنا ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تحقیق میں ویکسین کے بچوں کی قوت مدافعت (امیون سسٹم ) پر مثبت یا منفی ردعمل سے متعلق جانچ پڑتال کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں آئرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں اس بات انکشاف کیا گیا تھا کہ وبا سے متاثرہ بچوں میں بدہضمی، ہیضہ اور الٹیوں کی شکایت کوویڈ19 کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔

    اس وقت برطانیہ میں بچوں میں کورونا وائرس کی علامات میں تیز بخار، مسلسل کھانسی اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی بتائی گئی ہیں۔

  • کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 31 اموات، مجموعی تعداد کہاں تک پہنچ گئی

    کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 31 اموات، مجموعی تعداد کہاں تک پہنچ گئی

    کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 31 اموات، مجموعی تعداد کہاں تک پہنچ گئی

    باغی ٹی وی : عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 31 اموات اور ایک ہزار 404 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 307 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 61 ہزار 625 ہو گئی ہے۔

    ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 23 ہزار 700 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 25 ہزار 635 ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 5 ہزار 26 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 199، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 986، اسلام آباد میں 484، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 198 اور آزاد کشمیر میں 281 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں

    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 42 ہزار 513، خیبر پختونخوا میں 69 ہزار 386، سندھ میں 2 لاکھ 53 ہزار 90، پنجاب میں ایک لاکھ 63 ہزار 367، بلوچستان میں 18 ہزار 924، آزاد کشمیر میں 9 ہزار 408 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 937 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا کی دوسری لہر کے دوران مثبت کیسزمیں نمایاں کمی ہوئی اور شرح تین اعشار نو فیصد ہوگئی ہے۔ صورتحال 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب واپس آ گئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ اپریشن سینٹر کے مطابق کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.68 فیصد ہے۔ اسلام آباد میں 1.18فیصد، خیبر پختونخوا میں 5.25، پنجاب5.97 اور سندھ میں مجموعی طور پر مثبت کیسز کی شرح 10.23 فیصد ہے۔

    آزاد کشمیر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 5.97، بلوچستان3.52 اور گلگت بلتستان میں 0.56 فیصد ہے۔