Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کینیڈا جانیوالوں کیلیے نئی پابندیاں عائد، ہوں گے کرونا کے تین ٹیسٹ، مزید کیا پابندی لگی؟

    کینیڈا جانیوالوں کیلیے نئی پابندیاں عائد، ہوں گے کرونا کے تین ٹیسٹ، مزید کیا پابندی لگی؟

    کینیڈا جانیوالوں کیلیے نئی پابندیاں عائد، ہوں گے کرونا کے تین ٹیسٹ، مزید کیا پابندی لگی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ کرونا کی وجہ سے کینڈا آنے والے مسافروں کے لئے نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو 22 فروری سے نافذ العمل ہوں گی

    کرونا سے بچاؤ کے لئے نئے اقدامات میں ہوٹل بھی شامل ہے، کینڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کو سزا نہیں دے رہے بلکہ انکو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں”یہ سرحدی اقدامات COVID-19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں معاون ثابت ہوں گے۔”

    جنوری کے آخر میں ، کینڈا کے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ہوائی جہاز کے ذریعہ ملک آنے والے مسافروں کو لازمی طور پر پی سی آر کورونا وائرس کا ٹیسٹ دینا ہوگا۔ ٹیسٹ کے نتایج آنے تک ہوٹل میں رہنا پڑے گا،

    کرونا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد ہوٹل چھوڑ کر گھر میں قرنطینہ کیا جا سکے گا،جن لوگوں کا ٹیسٹ مثبت آئے گاان کو فوری طور پر سرکاری سہولیات دی جائیں گی اور انکی دیکھ بھال کی جائے گی

    جمعہ کو متعدد پریس کانفرنسوں کے دوران ، حکومتی وزراء اور عہدیداروں نے وضاحت کی کہ کینیڈا آنے والے مسافروں کو تین الگ الگ COVID-19 ٹیسٹ لینا ہوں گے۔ کینیڈا کی سرحد یا ہوائی اڈے پر پہنچنے پر ٹیسٹ لیا جائے گا۔اس کے بعد مسافروں کو پہنچنے کے بعد ایک اضافی ٹیسٹنگ کٹ فراہم کی جائے گی ، جو تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لئے 10 دن بعد استعمال ہوگی۔

    پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ، وزیر صحت پیٹی حاجدو نے لازمی ہوٹل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کیں اور کہا کہ حکومت سے منظور شدہ ہوٹلوں کو 18 فروری تک بکنگ کی ویب سائٹ پر درج کیا جائے گا۔ یہ چاروں شہروں میں ہوائی اڈوں کے قریب واقع ہیں جن کو اس وقت بین الاقوامی پروازیں قبول کرنے کی اجازت دی گئی ہے: وینکوور ، کیلگری ، ٹورنٹو اور مونٹریال۔ن ہوٹل کے اخراجات ہر مقام پر تھوڑا سا مختلف ہو سکتے ہیں۔قیمت میں کمرے ، خوراک ، صفائی ستھرائی ، انفیکشن سے بچاؤ اور کنٹرول کے اقدامات ، اور سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ نقل و حمل سے متعلق اخراجات شامل ہوں گے۔

    اگر کسی مسافر کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی واپس آتا ہے تو ، انہیں گھر کے لئے ہوٹل چھوڑنے کی اجازت دی جاتی ہے ، یا ان سے منسلک پرواز کو اپنی آخری منزل تک لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔تاہم ، اس کے نتیجے میں آنے میں تین دن لگ سکتے ہیں – ایک ایسی حقیقت جو وزیر پبلک سیفٹی بل بلیئر نے کہا مسافروں کو سمجھنے کا ذمہ دار ہے۔

  • کرونا سے مزید 58 اموات، مریضوں میں بھی کمی نہ آ سکی

    کرونا سے مزید 58 اموات، مریضوں میں بھی کمی نہ آ سکی

    کرونا سے مزید 58 اموات، مریضوں میں بھی کمی نہ آ سکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق کرونا سے پاکستان میں مزید 58 اموات اور ایک ہزار 262 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 276 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 60 ہزار 363 ہو گئی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا سے پنجاب میں 4 ہزار 994 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 183، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 980، اسلام آباد میں 483، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 197 اور آزاد کشمیر میں 279 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 42 ہزار 401، خیبر پختونخوا میں 69 ہزار 164، سندھ میں 2 لاکھ 52 ہزار 719، پنجاب میں ایک لاکھ 62 ہزار 875، بلوچستان میں 18 ہزار 916، آزاد کشمیر میں 9 ہزار 359 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 929 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 18 ہزار 164 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 25 ہزار 649 ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے دوران مثبت کیسزمیں نمایاں کمی ہوئی اور شرح تین اعشار نو فیصد ہوگئی ہے۔ صورتحال 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب واپس آ گئی ہے۔کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.68 فیصد ہے۔ اسلام آباد میں 1.18فیصد، خیبر پختونخوا میں 5.25، پنجاب5.97 اور سندھ میں مجموعی طور پر مثبت کیسز کی شرح 10.23 فیصد ہے۔

  • کرونا سے پاکستان میں مزید 33 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ

    کرونا سے پاکستان میں مزید 33 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق کرونا سے پاکستان میں مزید 33 اموات اور ایک ہزار 270 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 218 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 60 ہزار 363 ہو گئی ہے۔ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 18 ہزار 164 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 29 ہزار 981 ہے۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا کے سبب پنجاب میں 4 ہزار 994 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 183، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 980، اسلام آباد میں 483، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 197 اور آزاد کشمیر میں 279 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 42 ہزار 401، خیبر پختونخوا میں 69 ہزار 164، سندھ میں 2 لاکھ 52 ہزار 719، پنجاب میں ایک لاکھ 62 ہزار 875، بلوچستان میں 18 ہزار 916، آزاد کشمیر میں 9 ہزار 359 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 929 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے دوران مثبت کیسزمیں نمایاں کمی ہوئی اور شرح تین اعشار نو فیصد ہوگئی ہے۔ صورتحال 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب واپس آ گئی ہے۔پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

  • پاکستان میں کرونا سے مزید 57 اموات، مریضوں میں  بھی اضافہ

    پاکستان میں کرونا سے مزید 57 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق کرونا سے پاکستان میں مزید 57 اموات اور ایک ہزار 502 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 185 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 59 ہزار 93 ہو گئی ہے۔

    ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 16 ہزار 683 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 30 ہزار 225 ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 4 ہزار 982 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 171، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 976، اسلام آباد میں 481، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 197 اور آزاد کشمیر میں 276 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 42 ہزار 279، خیبر پختونخوا میں 68 ہزار 972، سندھ میں 2 لاکھ 52 ہزار 296، پنجاب میں ایک لاکھ 62 ہزار 391، بلوچستان میں 18 ہزار 898، آزاد کشمیر میں 9 ہزار 334 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 923 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا کی دوسری لہر کے دوران مثبت کیسزمیں نمایاں کمی ہوئی اور شرح تین اعشار نو فیصد ہوگئی ہے۔ صورتحال 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب واپس آ گئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ اپریشن سینٹر کے مطابق کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.68 فیصد ہے۔ اسلام آباد میں 1.18فیصد، خیبر پختونخوا میں 5.25، پنجاب5.97 اور سندھ میں مجموعی طور پر مثبت کیسز کی شرح 10.23 فیصد ہے۔ آزاد کشمیر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 5.97، بلوچستان3.52 اور گلگت بلتستان میں 0.56 فیصد ہے۔

  • ویکسینیشن کے باوجود کرونا کیسزمیں اضافہ:عرب امارات نے گھروں سے کام کرنا فرض قراردے دیا

    ویکسینیشن کے باوجود کرونا کیسزمیں اضافہ:عرب امارات نے گھروں سے کام کرنا فرض قراردے دیا

    دبئی :ویکسینیشن کے باوجود کرونا کیسزمیں اضافہ:عرب امارات نے گھروں سے کام کرنا فرض قراردے دیا ،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست شارجہ میں کورونا کے بڑھتےکیسز کے باعث سرکاری ملازمین کوگھر سےکام کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔

    اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ تمام تراقدامات کے باوجود کرونا کیسزمیں اضافہ ہورہاہے ،لٰہذا تمام سرکاری ملازمین اپنے گھروں سے کام کیاکریں گے

    یاد رہے کہ عرب امارات سمیت دنیا بھرمیں سرکاری اورغیرسرکاری اداروں نے گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کررکھی ہے، یہ بھی رپورٹ پیش کی گئی ہےکہ اس حکم کے بعد کام میں تسلسل آیا ہے اوربہتری بھی ، اس کے ساتھ ساتھ دفتروں کے اضافی اخراجات سےبھی جان چھوٹ گئی ہے

    خلیجی اخبار کے مطابق شارجہ کے حکام نے سرکولر کے ذریعے تمام سرکاری اداروں کو حکم دیا ہےکہ وہ اپنے عملے سے گھر سے ہی کام کروائیں اور جن اداروں میں گھر سے کام کرنا ممکن نہیں وہ 2 شفٹوں میں 50،50 فیصد عملے سے کام کروائیں تاکہ دفتر میں زیادہ رش نہ ہو۔

    حکام کا کہنا ہےکہ دفتر میں کام کے دوران سماجی فاصلے اور کورونا کے حوالے سے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔رپورٹ کے مطابق گھر سے کام کرنے سے متعلق نیا حکم 14 فروری سے نافذالعمل ہوگا۔

  • جلسوں کی وجہ سےکرونا تیزی سےپھیلنےلگا:مولانا  فضل الرحمن کےقریبی ساتھی کی نمازجنازہ اداکردی گئی

    جلسوں کی وجہ سےکرونا تیزی سےپھیلنےلگا:مولانا فضل الرحمن کےقریبی ساتھی کی نمازجنازہ اداکردی گئی

    اسلام آباد:جلسوں کی وجہ سے کرونا تیزی سے پھیلنے لگا:مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھی کورونا کی وجہ سے وفات پا گئے،اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی الحاج عالم زین خان کورونا کے باعث وفات پا گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سابق نگران وفاقی وزیر الحاج عالم زین خان کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔سابق نگران وفاقی وزیر کے بیٹے گل نواز خان نے اپنے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔

    ادھر تھاہ کوٹ سے آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سابق نگران وفاقی وزیرالحاج عالم زین خان کی نمازجنازہ اداکردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ والد محترم 3 ہفتوں سے عالمی وبا کورونا کے باعث علیل تھے۔عالم زین خان کا تعلق جمعیت علائے اسلام سے تھا اور ان کا شمار مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں میں کیا جاتا تھا۔

    سیاسی رہنماؤں کی جانب سے الحاج عالم زین خان کے انتقال پر اظہار افسوس کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا کے باعث کئی سیاسی رہنمان زندگی ہار چکے ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مولانا کی ضد کی وجہ سے کرونا وائرس سے دوری اورمحفوظ رہنے کے لیے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑدیا گیا تھا جس کی وجہ سے جلسوں میں شرکت کرنےوالے افراد میں کرونا پھیلنے کی اطلاعات تھیں ،

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ جمعیت اس قسم کے واقعات کو چھپاکراپنے جلسے کامیاب کرنے کے چکروں میں بڑی بڑی شخصیات کو کرونا کا شکاربنانے میں‌سہولت کاری کاکردار ادا کرچکی ہے جس کی وجہ سے اب یہ لہر تیزی سے پھیلنا شروع ہوگئی ہے

  • کرونا سے مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی ،سابق وفاقی وزیر چل بسے

    کرونا سے مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی ،سابق وفاقی وزیر چل بسے

    کرونا سے مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی ،سابق وفاقی وزیر چل بسے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے وار جاری ہیں، کرونا سے اموات اور مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    کورونا کے باعث بٹگرام سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر جاں بحق ہو گئے ہیں عالم زیب خان کئی ماہ سے کورونا کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج تھے،عالم زیب خان کی نماز جنازہ آج دن 3 بجے تھاکوٹ میں ادا کی جائے گی ۔

    عالم زیب خان کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے تھا اور وہ نگران وزیر مملکت رہ چکے ہیں

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا سے مزید 62 اموات ہوئی ہیں جبکہ ایک ہزار 72 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 128 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 57 ہزار 591 ہو گئی ہے۔ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 14 ہزار 951 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 30 ہزار 512 ہے۔

  • پاکستان میں کرونا سے اموات کے سلسلہ میں کمی نہ آ سکی، مریضوں میں بھی مسلسل اضافہ

    پاکستان میں کرونا سے اموات کے سلسلہ میں کمی نہ آ سکی، مریضوں میں بھی مسلسل اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا سے مزید 62 اموات ہوئی ہیں جبکہ ایک ہزار 72 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہزار 128 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 57 ہزار 591 ہو گئی ہے۔ملک میں کورونا سے 5 لاکھ 14 ہزار 951 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 30 ہزار 512 ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 4 ہزار 948 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار 157، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 970، اسلام آباد میں 481، گلگت بلتستان میں 102، بلوچستان میں 197 اور آزاد کشمیر میں 273 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 42 ہزار 188، خیبر پختونخوا میں 68 ہزار 786، سندھ میں 2 لاکھ 51 ہزار 758، پنجاب میں ایک لاکھ 61 ہزار 757، بلوچستان میں 18 ہزار 891، آزاد کشمیر میں 9 ہزار 291 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 920 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا کی دوسری لہر کے دوران مثبت کیسزمیں نمایاں کمی ہوئی اور شرح تین اعشار نو فیصد ہوگئی ہے۔ صورتحال 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب واپس آ گئی ہے۔راچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.68 فیصد ہے۔ اسلام آباد میں 1.18فیصد، خیبر پختونخوا میں 5.25، پنجاب5.97 اور سندھ میں مجموعی طور پر مثبت کیسز کی شرح 10.23 فیصد ہے۔آزاد کشمیر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 5.97، بلوچستان3.52 اور گلگت بلتستان میں 0.56 فیصد ہے۔

  • برطانیہ پھرماراگیا:پہلےکروناوائرسز پرقابوپایا نہیں‌ جاسکا مزید دونئی خطرناک ترین اقسام دریافت:ہمت جواب دےگئی

    برطانیہ پھرماراگیا:پہلےکروناوائرسز پرقابوپایا نہیں‌ جاسکا مزید دونئی خطرناک ترین اقسام دریافت:ہمت جواب دےگئی

    لندن :برطانیہ پھرماراگیا:پہلےکروناوائرسز پرقابوپایا نہیں‌ جاسکا مزید دونئی خطرناک ترین اقسام دریافت:ہمت جواب دےگئی،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کی دو نئی اقسام دریافت ہو گئی ہیں ۔

    غیر ملکی میڈیا خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں دریافت ہونے والی دو نئی اقسام کے 76 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دو نئی اقسام دریافت ہوئی ہیں ،

    برطانوی ماہرین طب کا کہنا ہے کہ جن میں سے ایک وائرس کی قسم میں وہی خصوصیات پائی گئی ہیں جو جنوبی افریقی اور برازیلین کورونا وائرس میں پائی گئی تھیں ۔

    جبکہ دوسری قسم کا وائرس برطانوی شہر برسٹول میں پایا گیا ہے جس کو پہلی قسم کی ہی ایک اور شکل قرار دیا گیا ہے ۔

    برطانوی محکمہ صحت کی جانب سے قائم کردہ سائنسدانوں کے گروپ کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے جو کورونا وائرس کی قسم دریافت ہوئی تھی وہ لیورپول سے ہوئی تھی اور اس قسم کی ساخت سمجھنے کے لیے اس پر تحقیق جاری ہے ۔

    بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی اقسام میں ای 484 کے میوٹیشن سپائک پروٹین پائی گئی ہے جو کہ بالکل اسی طرح کی تبدیلی ہے جو برازیلین اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی اقسام میں تھی ۔

    برطانوی محکمہ صحت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کورونا وائرس کی نئی اقسام کے 76 مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ دیگر مریضوں کے بھی ٹیسٹس جاری ہیں، دوسری جانب سائنسدانوں کا بھی ایک گروپ نئی اقسام پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے ۔

  • آزادی اظہار کی  دعویدار ٹویٹر انتظامیہ  کو مودی کے ظلم کی حمایت کرنے پر شرم آنی چاہیے ، سید فیاض الحسن  رہنما پی ٹی آئی

    آزادی اظہار کی دعویدار ٹویٹر انتظامیہ کو مودی کے ظلم کی حمایت کرنے پر شرم آنی چاہیے ، سید فیاض الحسن رہنما پی ٹی آئی

    آزادی اظہار کی دعویدار ٹویٹر انتظامیہ کو مودی کے ظلم کی حمایت کرنے پر شرم آنی چاہیے ، سید فیاض الحسن رہنما پی ٹی آئی

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ایم این اے سید فیاض الحسن این نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہا کہ بھارت میں‌کسانوں کے حق کے لیے آواز اٹھانے پر انٹر نیشنل سوشل میڈیا کے بانیوں اور ذمہ داران کی جانب سے پاکستان میں اکاؤنٹ بند کرنے اور کی بات بہت ہی قابل مزمت ہیں.

    دنیا بھر میں‌آزادی اظہار رائے کی بات کرنے والے اس وقت مودی کی تنگ زہنی اور ظلم پر مبنی پالیسیوں کی حمایت کر رہے ہیں. بھارت میں مظلوم قلیتوں کی بات کرنا اور کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانا سوشل میڈیا پر جرم بن چکا ہے . اور جو بھی یہ آواز اٹھاتا ہے اس کا اکاؤنٹ بن کردیا جاتا ہے .جو کہ سراسر ظلم اور فریڈم آف سپیچ کے خلاف ہے .

    واضح رہے کہ بھارت میں کسانوں کے حقوق کی بات کرنے اور کشمیریوں‌ کے لیے آواز اٹھانے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کی جانب سے باغی ٹی وی کو وارننگ موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ باغی ٹی وی ہمارے قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے، مودی سرکار کی جانب سے ٹویٹر پر دباؤ کے بعد باغی ٹی وی کے اکاونٹ کو ای میل بھیج کر وارننگ دی گئی ہے

    مودی سرکار بھارت میں ایک طرف کسانوں کو کچلنے، اقلیتوں پر مظالم روا رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب انکے حق میں اٹھنے والی آواز کو بھی دبانے کی کوششوں میں مگن ہے، کسان تحریک کے دوران کئی کسان رہنماؤں کے ٹویٹر اکاؤنٹس معطل کروائے گئے ہیں اب مودی سرکار نے پاکستان کے اکاونٹس پر نظر رکھ لی ہے

    باغی ٹی وی نے کسان تحریک میں کسانوں کے مطالبات، انکے بھارت بند مارچ، ٹریکٹر مارچ سمیت تمام پروگراموں کی بھرپور کوریج کی اور کسانوں کے مطالبات کو عالمی دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے مودی سرکار کا چہرہ بے نقاب کیا جس نے کسان تحریک کے دوران کسانوں کے قتل عام کی سازش رچی اور عین وقت پر حملہ آور کسانوں نے پکڑ لیا

    بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کرنیوالی مودی سرکار پاکستان کے خلاف تو پروپیگنڈہ کرتی ہی رہتی ہے اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی، اب باغی ٹی وی نے مودی سرکار کو آئینہ دکھایا تو باغی ٹی وی کا اکاؤنٹ بند کرنے کی سفارش کر دی گئی، گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنیوالے تمام ادارے بے نقاب ہوئے پھر بھی مودی سرکار کو شرم نہ آئی بلکہ اب باغی ٹی وی کا اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کر کے آزادی اظہار رائے کو دبانے کی مذموم کوشش کی گئی