Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پاکستان میں کرونا کے ایکٹو کیسز 6 ہزار سے کم ہو گئے

    پاکستان میں کرونا کے ایکٹو کیسز 6 ہزار سے کم ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 665 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 4 اموات ہوئی ہیں

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مجموعی طور پر 3 لاکھ 3 ہزار89 مریض سامنے آئے جبکہ 6 ہزار 393 افراد کی موت ہوئی، پاکستان میں 2 لاکھ 90 ہزار760 کرونا مریض صحتیاب ہوچکے ہیں اور ایکٹیو کیسز کی تعداد 5 ہزار 936 رہ گئی ہے۔

    سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 32 ہزار591 ہوگئی ہے۔ پنجاب 97 ہزار946، خیبرپختونخوا میں37 ہزار14، بلوچستان میں 13 ہزار690، اسلام آباد میں 15 ہزار984، آزاد جموں و کشمیر میں 2 ہزار441 اور گلگت میں 3 ہزار297 مریض سامنے آ چکے ہیں

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار220 اور سندھ میں 2 ہزار 448، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 257، اسلام آباد میں178، بلوچستان میں 145، ‏گلگت بلتستان میں79 اور آزاد کشمیر میں66 اموات ہو چکی ہیں.

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 29 ہزار 97 ٹیسٹ کیے گئے اور اب تک مجموعی طور پر30 لاکھ 24 ہزار 987 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں،

    ملک میں 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں اور متعدد شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے،پاکستان کے 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں اور اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرزکی تعدادایک ہزار920 ہے،

  • پڑھایا کچھ نہیں توپھرامتحانات کیوں؟ جامعہ کراچی میں امتحانات کیخلاف طلباء کا احتجاج

    پڑھایا کچھ نہیں توپھرامتحانات کیوں؟ جامعہ کراچی میں امتحانات کیخلاف طلباء کا احتجاج

    کراچی: پڑھایا کچھ نہیں توپھرامتحانات کیوں؟ جامعہ کراچی میں امتحانات کیخلاف طلباء کا احتجاج،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کےباعث 6 ماہ بعد تعلیمی ادارے کھولنے پر جامعہ کراچی اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے گلشن کیمپس میں طلباء نے پہلے ہی روز یونیورسٹی انتظامیہ کےخلاف اختجاج کیا۔

    ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی میں طلباء نےایڈمن بلاک کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث دوران لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز میں اساتذہ نے کچھ نہین پڑھایا صرف اسائمنٹ دیتے رہے اب امتحان کیوں لیے جارہے ہیں۔

    طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ طلباء سے کسی قسم کے امتحانات نہ لیے جائیں بلکہ آن لائن کلاسز ہی بنیاد پر پروموشن دیا جائے۔

    دوسری جانب کورونا وائرس کے 6 ماہ بعد وفاقی اردو یونیورسٹی کے گلشن کیمپس میں طلباء جب یونیورسٹی پہنچے تو انتظامیہ گیٹ کھولنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر کی جانب سےیونیورسٹی میں کوئی ایس او پیز جاری نہیں کیے گئے اس وجہ سے طلباء کو اندر نہین آنے دیا جارہا ۔

    یونیورسٹی کا گیٹ نہ کھولنےپر طلباء پریشان اور شدید گرمی میں خوار ہوتےرہےجبکہ بعض طلباء کلاس لیے بغیر گھر چلے گئے۔

  • تعلیمی ادارے کھلنے کا پہلا دن،اسلام آباد میں 16 مریض سامنے آنے پر ادارہ سیل

    تعلیمی ادارے کھلنے کا پہلا دن،اسلام آباد میں 16 مریض سامنے آنے پر ادارہ سیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی ادارے کھلنے کے پہلے روز ہی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تعلیمی ادارہ سیل کر دیا گیا

    این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسزرپورٹ ہونے پربڑا تعلیمی ادارہ سیل کر دیا گیا،این سی او سی کے مطابق ٹارگٹڈ ٹیسٹنگ کے دوران ادارے میں16کورونا کیسز رپورٹ ہوئے،کورونا کی روک تھام کیلئے کنٹکٹ ٹریسنگ کا عمل جاری رہےگا،

    این سی او سی نے کہا ہے کہ والدین اور اساتذہ سے گذارش ہے کہ بچوں کو اسکول بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خاص خیال رکھیں  بچوں کو ماسک پہنا کر اسکول روانہ کریں چاہے وہ کپڑے کا ماسک ہی کیوں نہ ہو۔ ۔بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اسکول ہر گز نہ بھیجیں.اگر طبیعت ذیادہ خراب ہو تو بچوں کا فوری ٹیسٹ کروایا جائے۔ پوزیٹیوآنےکی صورت میں اسکول کو مطلع کیا جائے۔

    این سی او سی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے درمیان سماجی فاصلہ برقرار رکھیں. ۔یقین کریں کہ بچے اپنے ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں یا ہینڈ سینیٹائیزر کا استعمال کریں. ڈرائیور حضرات جو بچوں کو اسکول یا کالج لے کر جاتے ہیں وہ اپنی گاڑیوں میں سماجی فاصلہ یقینی بنائیں. گاڑی میں بیٹھاتے وقت یقین کریں کہ بچوں نے فیس ماسک پہنے ہوں۔

    قبل ازیں چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد وفاقی وزیر شفقت محمود نے اسلام آباد کے سرکاری اسکول کا دورہ کیا، اور تعلیمی ادارے کھلنے پر صورت حال کا جائزہ لیا ،وفاقی وزیر تعلیم نے متعلقہ انتظامیہ کو ایس او پیز پر عمل درآمد ہرصورت یقینی بنانے پر زور دیا۔

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کہا کہ چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھل گئے ، ہمیں طلبہ کی اسکولوں میں واپسی پر خوشی ہے، کورونا سے بچاوَ کےلئے ایس او پیز پرعمل درآمد ضروری ہے،ضلعی انتظامیہ اسکولوں میں کورونا سے بچاوَ کے انتظامات کاجائزہ لے گی۔

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مرحلہ وار بچوں کی تعداد بڑھائی جائے، اسکول آنے اور جانے کا مرحلہ بھی بہت اہم ہے، کورونا سے بچاؤ کے لیے ہرممکن کوششیں کررہے ہیں ،صوبائی حکومتیں بھی کوشش کررہی ہیں کہ ایس او پیز پر عملدرآمد ہو ،ایس او پیز پرعملدرآمد نہ کرنے پرپہلےوارننگ، پھر ادارہ بند کر دیا جائے گا،اساتذہ نے پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایس او پیز پر عملدرآمد بھی کروانا ہے،

    مراد راس ڈنگر ڈاکٹر، ڈگری جعلی ہو سکتی ہے،اساتذہ کے معاشی قتل عام کا ذمہ دارمراد راس، کاشف مرزا کے سنگین الزامات

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر مراد راس کا صوبے میں سکول کھلنے کے حوالے اہم اعلان

    جہاں بھی اسکولز کھل رہے ہیں وہاں کورونا سے متعلق مسائل سامنے آرہے ہیں،مراد راس

    تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل وزیراعظم نے دیا اہم پیغام

    تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل این سی او سی نے جاری کیں اہم ہدایات

    عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں بند تعلیمی ادارے آج 6 ماہ بعد کھل گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں انٹر اور یونیورسٹی کے طلبہ کو تعلیمی اداروں میں بلایا گیا ہے جبکہ باقی تعلیمی ادارے بتدریج اگلے دو ہفتوں میں کھلیں گے،

    تعلیمی اداروں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے اسپرے کیے گئے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے بینرز بھی آویزاں کئے گئے ہیں،پہلے مرحلے میں نویں، دسویں اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو بلایا گیا ہے۔ اس کے ایک ہفتے بعد 23 ستمبر کو چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبا کو سکول آنے کی اجازت ہوگی۔ جبکہ تیسرے مرحلے میں تمام پرائمری سکول کے بچوں کو 30 ستمبر سے سکول جائیں گے۔

  • کوروناوائرس کے باعث دنیا میں 2 کروڑ 94 لاکھ 45 ہزار سے زائد افراد متاثر

    کوروناوائرس کے باعث دنیا میں 2 کروڑ 94 لاکھ 45 ہزار سے زائد افراد متاثر

    کوروناوائرس کے باعث دنیا میں 2 کروڑ 94 لاکھ 45 ہزار سے زائد افراد متاثر

    باغی ٹی وی : عالمی وبا کوروناوائرس کے باعث دنیا میں 2 کروڑ 94 لاکھ 45 ہزار847 افراد متاثر اور 9 لاکھ 32 ہزار746 جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 2 کروڑ12لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہوئے اور اس وقت ایکٹیو کیسز کی تعداد 72 لاکھ 32 ہزار908 رہ گئی ہے۔

    امریکہ میں کورونا مریضوں کی تعداد 67 لاکھ49 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ امریکہ میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ99 ہزار ہو گئی ہے۔

    بھارت میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 49 لاکھ 30 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ بھارت میں اموات کی مجموعی تعداد 80ہزار 808ہوگئی ہے۔

  • پاکستان میں کرونا سے مزید 6 اموات

    پاکستان میں کرونا سے مزید 6 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6 اموات ہوئی ہیں جبکہ 404 نئے مریض سامنے آئے ہیں

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 6389 ہو گئی ہے جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد 3لاکھ 2 ہزار 424 ہوگئی ہے۔

    سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 32 ہزار 250 ہوگئی ہے۔ پنجاب میں 97 ہزار817، خیبرپختونخوا میں37 ہزار89، بلوچستان میں 13 ہزار621، اسلام آباد میں 15 ہزار962، آزاد جموں و کشمیر میں 2 ہزار426 اور گلگت میں 3 ہزار269 مریض سامنے آ چکے ہیں

    کرونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار220 ، سندھ میں 2 ہزار 445، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 257، اسلام آباد میں 178، بلوچستان میں 145، ‏گلگت بلتستان میں78 اور آزاد کشمیر میں66 اموات ہو چکی ہیں

    مراد راس ڈنگر ڈاکٹر، ڈگری جعلی ہو سکتی ہے،اساتذہ کے معاشی قتل عام کا ذمہ دارمراد راس، کاشف مرزا کے سنگین الزامات

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر مراد راس کا صوبے میں سکول کھلنے کے حوالے اہم اعلان

    جہاں بھی اسکولز کھل رہے ہیں وہاں کورونا سے متعلق مسائل سامنے آرہے ہیں،مراد راس

     

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں 2 لاکھ 90 ہزار 261 کورونا متاثرین صحتیاب ہوچکے ہیں اورایکٹیو کیسز کی تعداد 5 ہزار 774 رہ گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 27 ہزار 277 ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے 29 لاکھ 95 ہزار 890 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    پاکستان کے 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں اور اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرزکی تعدادایک ہزار920 ہے۔ ملک میں 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں اور متعدد شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اور قرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے,

  • رفاء یونیورسٹی اسلام آباد سیل کر دی گئی

    رفاء یونیورسٹی اسلام آباد سیل کر دی گئی

    ملک میں تعلیمی ادارے کھلنے سے ایک روز قبل کورونا وائرس کا بڑا وار۔
    اسلام آباد میں قائم رفاء یونیورسٹی سیل کر دی گئی۔ ایک ہی دن میں رفاء یونیورسٹی میں سولہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ڈی ایچ او حکام کے مطابق انہیں پتہ چلا تھا کہ ایک طالب علم میں کورونا کی علامات ہیں۔جس کے بعد ٹیسٹ کروائے گئے تو سولہ افراد کی کورونا رپورٹ مثبت آئی۔

  • تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل این سی او سی نے جاری کیں اہم ہدایات

    تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل این سی او سی نے جاری کیں اہم ہدایات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی نے کہا ہے کہ انشاءاللہ 15ستمبر سے تمام تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جارہے ہیں۔ والدین اور اساتذہ سے گذارش ہے کہ بچوں کو اسکول بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خاص خیال رکھیں ۔

    این سی او سی کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو ماسک پہنا کر اسکول روانہ کریں چاہے وہ کپڑے کا ماسک ہی کیوں نہ ہو۔ ۔بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اسکول ہر گز نہ بھیجیں.اگر طبیعت ذیادہ خراب ہو تو بچوں کا فوری ٹیسٹ کروایا جائے۔ پوزیٹیوآنےکی صورت میں اسکول کو مطلع کیا جائے۔

    مراد راس ڈنگر ڈاکٹر، ڈگری جعلی ہو سکتی ہے،اساتذہ کے معاشی قتل عام کا ذمہ دارمراد راس، کاشف مرزا کے سنگین الزامات

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر مراد راس کا صوبے میں سکول کھلنے کے حوالے اہم اعلان

    جہاں بھی اسکولز کھل رہے ہیں وہاں کورونا سے متعلق مسائل سامنے آرہے ہیں،مراد راس

    این سی او سی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے درمیان سماجی فاصلہ برقرار رکھیں. ۔یقین کریں کہ بچے اپنے ہاتھ باقاعدگی سے دھوتے رہیں یا ہینڈ سینیٹائیزر کا استعمال کریں. ڈرائیور حضرات جو بچوں کو اسکول یا کالج لے کر جاتے ہیں وہ اپنی گاڑیوں میں سماجی فاصلہ یقینی بنائیں. گاڑی میں بیٹھاتے وقت یقین کریں کہ بچوں نے فیس ماسک پہنے ہوں۔

    تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل وزیراعظم نے دیا اہم پیغام

  • کرونا سے پاکستان میں مزید 4 اموات

    کرونا سے پاکستان میں مزید 4 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز میں مسلسل کمی آ رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 539 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 4 اموات ہوئی ہیں

    پاکستان میں کرونا سے اب تک مجموعی طور پر 6 ہزار 383 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 3 لاکھ 2 ہزار 2 مریض سامنے آئے ہیں،پاکستان میں اب تک 2 لاکھ 89 ہزار 806 کورونامتاثرین صحت یاب ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران کورونا کے 28 ہزار 823 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 32 ہزار 84 ہوگئی ہے۔ پنجاب میں 97 ہزار760، خیبر پختونخوا میں 36 ہزار 992، بلوچستان میں 13 ہزار595، اسلام آباد میں 15 ہزار 941، آزاد جموں و کشمیر میں 2 ہزار421 اور گلگت میں 3 ہزار227 مریض سامنے آ چکے ہیں

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار 217 اور سندھ میں 2 ہزار 445،خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 257، اسلام آباد میں  178، بلوچستان میں 145، ‏گلگت بلتستان میں 76 اور آزاد کشمیر میں 65 اموات ہو چکی ہیں،

    پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزاراموات 21 مئی تک ہوئیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے کی رفتار کافی سست ہوچکی ہے لیکن پھر بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں اور اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرزکی تعدادایک ہزار920 ہے۔

  • سعودی عرب کا عمرے پرعائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ سفری پابندیاں بھی ختم کی جارہی ہیں‌

    سعودی عرب کا عمرے پرعائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ سفری پابندیاں بھی ختم کی جارہی ہیں‌

    ریاض:سعودی عرب کا عمرے پرعائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ سفری پابندیاں بھی ختم کی جارہی ہیں‌،اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت نے عمرے پر عائد پابندی ہٹانے کا فیصلہ کرلیا، کورونا وائرس کی صورتحال بتدریج بہتر ہونے کے بعد جلد ہی عمرہ بحال کرنے کا اعلان کیا جائےگا، یکم جنوری سے آمدورفت کیلئے زمینی، بحری اور فضائی راستے کھولنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کے مطابق سعودی عرب نے یکم جنوری2021ء سے شہریوں کیلئے بری، بحری اور فضائی راستوں پر سفری سرگرمیوں کیلئے ٹریفک سسٹم بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    سعودی عرب میں کوویڈ19 کے باعث آمدورفت کی سرگرمیاں معطل کی گئی تھیں۔ سعودی عرب میں کورونا کیسز میں مسلسل کمی کے باعث کاروباری اور دیگر سرگرمیوں کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔

    جس کے تحت سعودی عرب نے تجارتی سرگرمیوں سمیت زمینی، فضائی اور بحری راستوں پر مملکت میں آمدورفت کیلئے تمام تر سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سعودی عرب نے یکم جنوری 2021 سےکرونا کے باعث لگائی گئی سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق یکم جنوری 2021 سے سعودی ائیرپورٹس، بندرگاہیں اور سرحدی چوکیاں کھول دی جائیں گی اور سعودی شہری بیرون مملکت آ جا سکیں گے جب کہ خروج وعودہ (مخصوص ویزے) پر موجود غیر ملکیوں کو سعودی عرب واپس آنے کی اجازت ہوگی۔

    سعودی حکام کا کہنا ہے کہ عمرے سے متعلق لائحہ عمل بعد میں طے کیا جائے گا۔سعودی میڈیا کے مطابق 15 ستمبر سے مخصوص کیٹیگریز میں شامل سعودی شہریوں اور رہائشیوں کو بین الاقوامی سفر کی اجازت ہوگی۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب میں کورونا کے باعث 4 ہزار افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • کورونا ویکسین کی تیاری کی دوڑ چین جیتنے کے لیے تیار،کسی بھی وقت اعلان کرسکتا ہے ،ٹیلی گراف کا دعویٰ

    کورونا ویکسین کی تیاری کی دوڑ چین جیتنے کے لیے تیار،کسی بھی وقت اعلان کرسکتا ہے ،ٹیلی گراف کا دعویٰ

    لندن :کورونا ویکسین کی تیاری کی دوڑ چین جیتنے کے لیے تیار،کسی بھی وقت اعلان کرسکتا ہے ،ٹیلی گراف کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق معروف اخبارٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کرونا ویکسین تیارکرنےمیں کامیاب ہوگیا ہے

    برطانوی روزنامے ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کی روک تھام کی ویکسین کے حوالے سے کئی مثبت اعلانات کیے گئے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب ایک رضاکار کی نامعلوم بیماری کی وجہ سے اس دوڑ میں سب سے آگے سمجھے جانے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کا ٹرائل کچھ روز تک التوا کا شکار رہا۔

    یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین پہلی بار سنجیدگی سے خیال کرنے لگے ہیں کہ چین دنیا میں کورونا کی روک تھام کے لیے پہلی موثر ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔یہ اس لیے بھی ممکن ہے کیونکہ دنیا بھر میں 9 کورونا ویکسینز کے ٹرائلز کے تیسرے اور آخری مرحلے سے گزر رہی ہیں اور ان میں سے 4 چین کی ہیں۔

    بائیو میڈیکل تھنک ٹینک پالیسی کیورز ریسرچ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ویپول چوہدری کے مطابق ‘چین کی 4 میں سے تین ویکسینز میں غیرفعال کووڈ 2 وائرس استعمال کیا گیا ہے جو کہ اس وبا کی روک تھام کے لیے ممکنہ طور پر بہترین طریقہ کار ہوسکتا ہے’۔

    انہوں نے کہا کہ ‘یہ ویکسینز وائرس کو ناکارہ بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی اینٹی جین خصوصیات کو برقرار رکھ سکتی ہیں، یہ روایتی طریقہ کار ہے، تو اس سے عموماً بیماری کے خلاف اچھا دفاع ملتا ہے اور مضر اثرات کا امکان کم ہوتا ہے’۔

    فلاڈلفیا کے چلڈرنز ہاسپٹل کے ویکسین ایجوکیشن سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پال اوفیٹ نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ‘میں اس طریقہ کار پر مبنی ویکسینز کے حوالے سے زیادہ بہتر سوچ رکھتا ہوں کیونکہ ہمیں ان کا بہت زیادہ تجربہ حاصل ہے، اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ کو صرف اسپائیک پروٹین کے خلاف نہیں بلکہ کورونا وائرس کے تمام پروٹینز کے خلاف مدافعتی ردعمل بنانے میں مدد مل سکتی ہے’۔

    رواں ہفتے چائنا نیشنل بائیوٹیک گروپ (سی این بی جی جو چین کی سرکاری ویکسین کمپنی ہے) نے اپنی 2 ویکسینز کے تیسرے مرحلے کے ابتدائی ڈیٹا کے بارے میں اعلان کیا تھا کہ وہ رضاکاروں میں کووڈ 19 کو بچانے کے لیے موثر ثابت ہوئی ہیں۔

    سی این بی جی کے سیکرٹری زاؤ سونگ نے چائنا نیشنل ریڈیو کو بتایا کہ اب تک لاکھوں شہریوں کو کمپنی کی 2 تجرباتی ویکسینز دی گئیں، جو اس وقت کلینکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا ‘ویکسین استعمال کرنے والے کسی بھی فرد میں کوئی مضر اثر نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی کووڈ سے متاثر ہوا’۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ویکسین سے ایک فرد کو ممکنہ طور پر 3 سال تک کورونا وائرس سے تحفظ مل سکے گا۔

    ان کا کہنا تھا ‘جانوروں پر ہونے والے تجربات کے نتائج اور دیگر تحقیقی نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین سے ملنے والا تحفظ ایک سے 3 سال تک برقرار رہ سکتا ہے’۔

    چین کی جانب سے کامیاب ویکسین کو دیگر ممالک کو بھی فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں اور چینی کمپنیوں کی جانب سے وہاں ویکسین کے ٹرائلز بھی کیے جارہے ہیں۔

    ویکسین کی تیاری کے بعد بڑے پیمانے پر اسے تقسیم کرنے کے حوالے سے لاجسٹک اور مینوفیکچرنگ کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
    ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے حوالے سے چین عالمی سطح پر بڑا نام نہیں بلکہ بھارت کو اس میں سبقت حاصل ہے۔

    تاہم سی این بی جی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک نیا کارخانہ تعمیر کیا جارہا ہے جو ویکسین کی سالانہ ڈوز کی گنجائش 20 کروڑ سے زیادہ بڑحا دے گا۔

    دوسری جانب سینوویک کی جانب سے بھی بیجنگ میں ایک نیا پلانٹ تعمیر کیا جارہا ہے جو سالانہ 30 کروڑ ڈوز تیار کرسکے گا۔

    واضح رہے کہ اگست میں چین نے کہا تھا کہ کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی منظوری اسی صورت میں دی جائے گی جب ان کی افادیت کی شرح کم از کم 50 فیصد اور کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت 6 ماہ تک برقرار رکھ سکے گی۔

    چین کے سینٹر فار ڈرگ ایولوشن (سی سی ڈی ای) کا تجویز کردہ مسودہ سامنے آیا ہے جس میں کورونا ویکسین کے حوالے سے ضوابط دیئے گئے ہیں۔

    مسودے کے مطابق ویکسینز کے ہنگامی استعمال کے لیے کم از کم افادیت کی شرح رکھی گئی ہے اور ان میں ایسی ویکسین بھی شامل ہوگی جس کا کلینیکل ٹرائل مکمل نہ ہوا ہو مگر افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کے استعمال کی منظوری دے دی جائے گی۔

    ویکسین کی افادیت کے حوالے سے چینی گائیڈلائنز میں عالمی ادارہ صحت اور یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ہدایات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔یہ گائیڈلائنز اس وقت سامنے آئیں جب چین میں 4 کورونا ویکسینز کلینیکل ٹرائلز کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔