Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • بھارتی اداکارہ جینیلیا دیش مُکھ نے کورونا کو شکست دے دی

    بھارتی اداکارہ جینیلیا دیش مُکھ نے کورونا کو شکست دے دی

    بالی وڈ کے نامور اداکار رتیش دیش پُکھ کی اہلیہ اور معروف اداکارہ جینیلیا دیش مُکھ کا کہنا ہے کہ وہ 21 دن قبل عالمی وبا کورونا کا شکار ہوگئی تھیں تاہم اب وہ کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں ہیں ۔

    باغی ٹی وی : جینیلیا نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام پر اپنی پوسٹ میں کورونا میں قرنطینہ اختیار کئے 21 دنوں کو چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ڈیجیٹل دنیا آپ کی تنہائی کو کبھی ختم نہیں کرسکتی۔
    https://www.instagram.com/p/CEebYQSJI0J/?utm_source=ig_embed
    اداکارہ نے لکھا کہ تین ہفتے قبل انہوں نے کورونا کا مثبت تجربہ کیا تھا ان میں 21 دن پہلے کورونا کی علامات ظاہر ہوئیں تھیں خدا کی مہربانی سےآج میرا کورونا ٹیسٹ منفی آگیا ہے اور میں نے اس بیماری کو شکست دے دی ہے۔

    اداکارہ نے کہا کہ میں خود کو عطا کردہ نعمتوں کو گنوں تو اس مرض کے ساتھ میری جنگ کافی آسان رہی لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اعتراف کرنا بھی لازم ہے کہ کورونا کا تجربہ کرنے کے بعد قرنطینہ میں گزارے گئے 21 دن میرے لیے بہت زیادہ چیلنجنگ رہے۔

    جینیلیا دیش مُکھ نے کورونا میں وقت گزاری کے حوالے سے بتایا کہ ڈیجیٹل وقت گزارنے سے تنہائی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنے اہل خانہ اور پیاروں کے درمیان واپس آنے پر بےحد خوش ہیں محبت کرنے والوں کے گرد رہنا ہی سچی طاقت ہے اور سب کو اس کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جلد ٹیسٹ کروانا، صحت مند کھانا، فٹ رہنا ہی کورونا سے لڑنے کا واحد راستہ ہے۔

    بھارتی فنکاروں کا امیتابھ بچن اور ابھیشیک بچن کی صحتیابی کے لئے دعائیہ پیغامات

    کورونا وائرس کا شکار ایشوریا رائے بچن طبیعت بگڑنے پر بیٹی سمیت ہسپتال منتقل

  • کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے ؟ کورونا ویکسین کے لیے جلدبازی وبا کو مزید بدتر کرسکتی ہے، سائنسدانوں کا انتباہ

    کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے ؟ کورونا ویکسین کے لیے جلدبازی وبا کو مزید بدتر کرسکتی ہے، سائنسدانوں کا انتباہ

    لندن : کورونا ویکسین کے لیے جلدبازی وبا کو مزید بدتر کرسکتی ہے، سائنسدانوں کا انتباہ ،اطلاعات کے مطابق معروف سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے لوگوں کو تحفظ فرام کرنے کے لیے جلدبازی میں غیرموثر ویکسین متعارف کرانا اس وبا کو مزید بدتر بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔

    مختلف ممالک کی حکومتوں اور کمپنیوں کی جانب سے دنیا میں پہلی لائسنس شدہ ویکسین متعارف کرانے کا مقابلہ ہورہا ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بہتر خدمت کے لیے ضرورت ہے کہ اس وقت تک انتظار کیا جائے جب تک کم از کم 30 سے 50 فیصد موثر ویکسین تیار نہیں ہوجاتی۔

    برطانیہ نے گزشتہ ہفتے کسی بھی ویکسین کی منظوری کے عمل کو رواں سال کے آخر تک تیزرفتاری سے مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں شیڈول صدارتی انتخابات سے قبل ایک ویکسین کا اعلان کرنے کے خواہشمند ہیں۔

    کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے ویکسین ضروری ہے مگر آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور عالمی ادارہ صحت کے مشیر سر رچرڈ پیٹو کا کہنا ہے کہ پہلی ویکسین کو خریدلیا جائے گا اور دنیا بھر میں استعمال کیا جائے گا چاہے وہ زیادہ موثر نہ بھی ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ویکسین آبادی کے معمولی حصے کو ہی تحفظ فراہم کرسکی تو اسے دیگر ویکسینز کے لیے معیار سمجھا جائے گا، جبک بعد میں مزید ناقص ویکسینز کی منظوری کا امکان بڑھ جائے گا۔

    انہوں نے بتایا ‘میرے خیال ہر ایک جلدبازی سے کام لے رہا ہے، جو کسی طرح کی قومی فخر اور کمائی کی جلدبازی بھی ہے، کہ ایک ویکسین سب سے پہلے رجسٹر کرائی جائے اور ایسا ہونے پر دیگر ویکسینز کا تجزیہ مزید مشکل ہوجائے گا۔ ہمیں ایک ویکسین کی ضرورت ہے اور بہت جلد ضرورت ہے مگر ہمیں اس کی افادیت کے لیے ٹھوس شواہد بھی چاہیے ہوں گے’۔

    متعدد ممالک میں ویکسینز کے ٹرائل ہورہے ہیں جن میں جنوبی افریقہ اور برازیل جیسے کورونا سے زیادہ متاثر ممالک بھی شامل ہیں، جہاں دیگر ممالک کی جانب سے ٹرائلز ہورہے ہیں، جہاں کے نتائج سے ویکسین کی افادیت کا تیزی سے اندازہ ہوگا۔اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین اس دوڑ میں آگے ہے مگر چین میں بھی 4 ویکسینز انسانی آزمائش کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔

    برطانوی محکمہ صحت نے 28 اگست کو کہا تھا کہ وہ ایسے ہنگامی اقدامات کو یقینی بنارہا ہے جس سے محفوظ اور افادیت کے حوالے سے مناسب شواہد پر برطانیہ میں رواں سال ایک ویکسین کا لائسنس یقینی ہوسکے

    31 دسمبر تک برطانیہ کو یورپین میڈیسینز ایجنسی کی جانب سے منظوری کا انتظار کرنا ہوگا، تاہم اگلے سال بریگزٹ کے بعد برطانیہ اپنی ویکسینز اور ادویات کو خود لائسنسز جاری کرسکے گا۔

    برطانوی حکومت کے مطابق ویکسینز پر مشترکہ برطانوی کمیٹی کسی ویکسین کے لائسنس کے عمل کو آگے بڑھانے کی ذم دار ہوگی جس کی سربراہی آکسفورڈ ویکسین گروپ کے ڈائریکٹر پروفیسر اینڈریو پولارڈ کریں گے۔سر رچرڈ پیٹو عالمی ادارہ صحت کے یکجہتی ویکسینز ٹرائل ایکسپرٹ گروپ کے رکن یں، جو دنیا بھر کے معروف سائنسدانوں کا تیار کردہ گروپ ہے، جس کا مقصد عالمی ادارے کو مختلف ویکسینز کے حوالے سے مشاورت فرام کرنا ہے۔

     

    اس گروپ نے گزشتہ ہفتے طبی جریدے دی لانسیٹ میں کہا تھا کہ ایک ناقص معیار کی ویکسین وبا کو کسی ویکسین کے نہ ہونے سے زیادہ بدتر بناسکتی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے لوگ تصور کریں گے کہ اب انہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں اور سماجی دوری کے اقدامات پر عملدرآمد رک جائے گا۔

    گروپ کا کہنا تھا ‘ایک کم موثر ویکسین کووڈ 19 کی وبا کو مزید بدتر بنادے گی کیونکہ انتظامیہ کو لگے گا کہ اب خطرہ نمایاں حد تک کم ہوچکا ہے یا ویکسین کے عمل سے گزرنے والے افراد میں محفوظ ہونے کا غلط احساس پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں وہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے’۔

    گروپ نے تمام ریگولیٹرز پر زور دیا تھا کہ وہ عالمی ادارہ صحت کی رہنمائی کو مدنظر رکھیں، جس کا کہنا ہے کہ 30 فیصد سے کم موثر ویکسین کو کسی صورت میں منظوری نہیں دی جانی چاہیے بلکہ کم از کم 50 فیصد افادیت پر ایسا ہونا چاہیے۔

    امریکی ریگولیٹر ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ وہ اس مشورے پر عمل کرے گا مگر کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ سیاسی دباؤ پر یہ ادارہ کسی ویکسین کو لائسنس جاری کرسکتا ہے۔عالمی سائنسدانوں کے گروپ نے کہا کہ متعدد ویکسینز کے حوالے سے یکجہتی ہی آگے بڑھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    انہوں نے کہا ‘مختلف ویکسینز کے انفرادی ٹرائلز کے موازنہ کیساتھ، ایک گلوبل ملٹی ویکسین ٹرائل جسے ایک کنٹرول گروپ سے شیئر کیا جائے، سے زیادہ برق رفتار اور قابل انحصار نتائج مل سکیں گے۔

  • ٔپاکستان کی معیشت بہتر جبکہ بھارت کی معیشت ڈوبنے لگی:عالمی ادارے حیران

    ٔپاکستان کی معیشت بہتر جبکہ بھارت کی معیشت ڈوبنے لگی:عالمی ادارے حیران

    نئی دہلی : ٔپاکستان کی معیشت بہتر جبکہ بھارت کی معیشت ڈوبنے لگی:عالمی ادارے حیران ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی معیشت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران تعطل کا شکار معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے اپریل تا جُون کی سہ ماہی میں ملک کی ریکارڈ سب سے بڑی کمی کے ساتھ سُکڑ گئی ہے۔

    حکومت کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ معیشت گزشتہ سال کے اِسی دورانیے کے مقابلے میں 23.9 فیصد سُکڑ گئی۔ بھارت کی جانب سے 1996ء میں سہ ماہی اعداد و شمار جاری کیے جانے کے آغاز کے بعد سے یہ تیزترین تخفیف ہے۔

    حکومت کی جانب سے مارچ میں دنیا کے سخت ترین کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں سے ایک نافذ کیے جانے کے بعد سے بھارت کی معیشت مشکلات سے نبردآزما ہے۔

    حکومت لاک ڈاؤن اقدامات کو جُون سے مرحلہ وار نرم کر رہی ہے۔ لیکن ملک میں ابھی تک یومیہ لگ بھگ 80 ہزار نئے متاثرین کی تصدیق ہو رہی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ رواں مالی سال میں بھارت کی معیشت سُکڑے گی۔

    دوسری طرف عالمے ادارے جن میں‌موڈیز،ورلڈ بینک،آئی ایم ایف،بلوم برگ اورایسے ہی دیگرعالمی ادارے اس بات پرحیران ہیں کہ پاکستان اس مشکل وقت میں اپنی معیشت کوبچانے میں نہ صرف کامیاب ہوا ہے بلکہ اس وقت پاکستان کی معاشی صورتحال پہلےسے بہت بہترہے

  • دنیا بھر میں کورونا سے 8 لاکھ 54 ہزار 860 افراد جان کی بازی ہار چکے

    دنیا بھر میں کورونا سے 8 لاکھ 54 ہزار 860 افراد جان کی بازی ہار چکے

    کورونا سے 8 لاکھ 54 ہزار 860 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں.

    باغی ٹی وی : کوورونا وائرس کے باعث دنیا میں متاثرہ افراد کی تعداد 2 کروڑ 56 لاکھ 44 ہزار سے زائد ہوگئی ہے اور 8 لاکھ 54 ہزار 860 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں.

    عالمی وبا کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں امریکہ کا پہلا نمبر ہے جہاں 62 لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے اورایک لاکھ 87 ہزار 736 اموات ہوئی ہیں۔برازیل میں کورونا مریضوں کی تعداد 39 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی اوراموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 21 ہزار515 تک پہنچ گئی ہے۔بھارت کورونا سے متاثر ہونے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں 36 لاکھ 94 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے اور اموات کی مجموعی تعداد 65 ہزار 469 ہے۔

    روس کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے جہاں 9 لاکھ 95 ہزار 319 افراد متاثر ہوئے اور اموات کی مجموعی تعداد 17 ہزار 176 ہوگئی ہے۔پیرو میں بھی چھ لاکھ 52 ہزار سے زائد افراد متاثر اور28 ہزار944 جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 14 ہزار 149ہو گئی ہے جبکہ 6 لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ میکسیکو میں 5 لاکھ 99 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں جبکہ 64 ہزار 414 اموات ہوئی ہیں۔

    دنیا بھر میں اب تک ایک کروڑ 79 لاکھ 41 ہزار 701 افراد صحت یاب ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں اس وقت ایکٹو کیسز کی تعداد 68 لاکھ40ہزار868 ہے۔

    کورونا کے پہلے 50 لاکھ کیسز 185 دن رپورٹ ہوئے جبکہ آخری 50 لاکھ کیسز صرف 18 دنوں میں سامنے آئے۔ کوروناوائرس کا پہلا کیس17 نومبر 2019 کو رپورٹ ہوا تھا اور 6 مارچ کو دنیا بھر میں کیسز کی تعداد 1 لاکھ سے زائد ہوگئی۔

    دنیا بھر میں 20 مئی کو کورونا کیسز کی تعداد 50 لاکھ ہوگئی جب کہ 27 جون کو یہ تعداد ایک کروڑ سے زائد ہوگئی۔ 22 جولائی کو مجموعی کیسز کی تعداد ڈیڑھ کروڑ ہوگئی۔ دنیا بھر میں 9 اگست کو مجموعی کیسز کی تعداد 2 کروڑ سے زائد تھی۔

  • چینی صوبے ووہان میں کرونا کے خاتمے پر نائٹ کلب کھل گئے، پارٹیاں شروع

    چینی صوبے ووہان میں کرونا کے خاتمے پر نائٹ کلب کھل گئے، پارٹیاں شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس کے چین میں خاتمے کے بعد حالات زندگی معمول پر آنے لگ گئے

    کرونا وائرس چین کے صوبے ووہان سے پھیلا تھا جس کے بعد ووہان کو بند کر دیا گیا تھا تا ہم اب کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ چینی صوبے ووہان میں زندگی معمول پر آنے لگی، ہزاروں کی تعداد میں طالبعلموں کی واپسی شروع، طلبہ نے کورونا وبا کی وجہ سے تقریبا آدھا سال 2020 گھروں پر گزارا ہے

    https://twitter.com/Adamiington/status/1300666065811251202

    ووہان میں شہریوں پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، کرونا لاک ڈاؤں کے مکمل خاتمے کے بعد شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا، چینی شہریوں کی جانب سے مختلف پارٹیز کا انعقاد کیا گیا،کرونا کے خاتمے پر چینی شہریوں نے جشن منایا، باربی کیو پارٹیز کا انعقاد کیا، جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کرونا کے خاتمے کے بعد چینی شہریوں نے پہلی بار پارٹیوں کا انعقاد کیا جس میں سماجی فاصلے اور کرونا ایس او پیز کا خیال رکھا گیا

    چین کے صوبے ووہان میں نائیٹ کلب بھی کھل چکے ہیں،تعلیمی ادارے بھی کھل چکے ہیں اور معمولات زندگی بحال ہو چکے ہیں.

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

    بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    کرونا مریضوں کے علاج کیلئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو ملی بڑی کامیابی

    گزشہ برس دسمبر 2019 سے چین کے انڈسٹریل شہر ووہان سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس نے دنیا بھر کو لپیٹ میں لے لیا تھا،کرونا کا پہلا مریض ووہان میں سامنے آیا تھا جس کے بعد اب دنیا بھر میں لاکھوں افراد کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں

    ووہان میں کرونا پھیلنے کے بعد چین نے ووہان میں لاک ڈاؤن کر دیا تھا اور ووہان کے ساتھ فضائی اور زمینی رابطے منقطع کر دئے تھے،چین نے 23 جنوری کو ہوبی صوبے کے شہر ووہان کا لاک ڈاؤن کیا تھا جسے 76 روز بعد ختم کیا گیا تھا کیونکہ اب ووہان میں وائرس پر مکمل طور پر قابو پایا جاچکا ہے۔

  • پاکستان میں کرونا کیسز میں کمی،24 گھنٹوں میں 4 اموات

    پاکستان میں کرونا کیسز میں کمی،24 گھنٹوں میں 4 اموات

    پاکستان میں کرونا کیسز میں کمی،24 گھنٹوں میں 4 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں بتدریج کمی ہو رہی ہے. گزشتہ 24 گھنٹوں میں 300 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 4 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینڑ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کوونا کیسز کی مجموعی تعداد2 لاکھ 96 ہزار143 ہوگئی ہے جبکہ6 ہزار298 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں

    پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد8 ہزار881رہ گئی ہے۔ گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران 20 ہزار 882 کوروناٹیسٹ کیے گئے ۔ ملک بھر میں کورونا ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 26 لاکھ 42 ہزار28 ہے۔

    سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 29 ہزار 348 ہوگئی ہے۔ پنجاب میں‌ 96 ہزار769، خیبرپختونخوا میں 36 ہزار44، بلوچستان میں 12 ہزار869، اسلام آباد میں 15ہزار625، آزاد جموں و کشمیر میں 2 ہزار298 اور گلگت میں2 ہزار896 کرونا مریض ہیں.

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار198 اور سندھ میں 2 ہزار401 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار250، اسلام آباد میں 175، بلوچستان میں141، ‏گلگت بلتستان میں 67 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 62 ہو چکی ہے.

  • کورونا کیسز میں کمی کے بعد ماسک اور سینیٹائزر کی قیمتیں گر گئیں

    کورونا کیسز میں کمی کے بعد ماسک اور سینیٹائزر کی قیمتیں گر گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں کورونا کیسز میں کمی کے بعد ماسک اور سینیٹائزر کی قیمتیں گر گئیں

    کراچی میں وبا کے دوران سرجیکل فیس ماسک کی قیمت 55 روپے تک پہنچ گئی تھی جس کے بعد سرجیکل فیس ماسک 100 عدد کے پیکٹ کی قیمت 5500 روپے تک پہنچ گئی تھی تاہم اب سرجیکل فیس ماسک 100 عدد کے پیکٹ کی قیمت 2000 روپے ہے۔

    کراچی میں ہینڈ سینٹائزر کی قیمت 1200 روپے لیٹر تک پہنچ گئی تھی جو اب کم ہوکر 450 روپے لیٹر ہوگئی ہے جب کہ وبا کے دوران ڈاکٹر کٹس کی قیمت 1200 روپے ہوگئی تھی جو اب 550 روپے ہوگئی ہے

    پی آئی اے کے لئے سنہری موقع،دنیا کی بڑی ایئر لائن تباہی کے دہانے پر، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خوشخبری، رمضان گناہوں کے ساتھ ساتھ وبا سے بھی ڈھال ،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    کیا آپ بھی اس شخص سے اتنی نفرت کرتے ہیں جتنی میں؟ کون ہے وہ شخص ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    ملک کے باقی شہروں میں ماسک اور سیناٹائیزرز کی قیمتیں گر گئی ہیں،کرونا کیسز میں واضح کمی کے بعد لوگوں نے ماسک پہننا چھوڑ دئے ہیں جس کی وجہ سے ماسک کی طلب میں کمی ہو گئی ہے، اسی وجہ سے ماسک کی قیمتیں گر گئی ہیں،کرونا کیسز میں اضافے کے وقت ماسک کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی تھیں

    واضح رہے کہ ماہ جون میں کرونا کسیز میں اضافے کے بعد پنجاب اور سندھ کے سرکاری دفاتر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا گیا تھا، پنجاب حکومت کے جاری مراسلہ کے مطابق تمام سرکاری ملازمین اور افسر فیس ماسک لازمی پہنیں گے۔ سندھ حکومت نے بھی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سرکاری دفاتر میں فیس ماسک، ہینڈ واش اور سینی ٹائزر کو لازمی قرار دیدیا جبکہ عوام پر سرکاری دفاتر میں آنے پر پابندی لگا دی ہے۔ لوگوں کو کسی محکمے میں کام ہے تو وہ آن لائن پورٹل پر یا میل کے ذریعے رابطہ کریں۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ماسک نہ پہننے پر 3000 جرمانہ عائد ہو گا، اس حوالہ سے نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیس ماسک نہ لگانے پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی، عمل نہ کرنے والوں‌ پر جرمانے عائد کئے جائیں‌گے. اطلاق مساجد، بازار، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریل اور ہوائی سفر پر ہوگا۔

    خبردار،شہری ہو جائیں ہوشیار، اگر مفت ماسک کی تلاش میں ہیں تو آپکے ساتھ ہو سکتا ہے یہ گھناؤنا کام

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے اس ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے. فیس ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر اور مجسٹریٹ کاروائی کے مجاز ہوں گے۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کئے جائیں گے، مجسٹریٹ 3 ہزار روپے تک جرمانے کر سکیں گے، خلاف ورزی کرنے والے کو دفعہ 188 تعزیرات کے تحت جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے

    کرونا سے بچاؤ کے لئے سرکاری دفاتر میں ماسک، وزیراعلیٰ پنجاب نے بڑا حکم دے دیا

  • بھارت میں پھنسے ہوئے 200 پاکستانی شہریوں کی 3 ستمبر کووطن واپسی

    بھارت میں پھنسے ہوئے 200 پاکستانی شہریوں کی 3 ستمبر کووطن واپسی

    کورونا وائرس لاک ڈاون اور پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث بھارت کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کی فریاد سنی گئی۔ بھارت میں پھنسے ہوئے 200 پاکستانی شہریوں کی 3 ستمبر کوواپسی ہو گی۔ پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی اٹاری واہگہ بارڈر کے راستے ہو گی۔ واہگہ بارڈر ایک بار پھر خصوصی طور پر کھولا جائے گا۔ پاکستانی شہری بھارت میں مختلف شہروں گجرات۔مہاراشٹر۔مدھیہ پردیش ۔دہلی۔ راجھستان میں پھنسے ہوے تھے۔نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی کوششوں کی وجہ سے مذکورہ پاکستانیوں کی وطن واپسی ممکن ہورہی ہے۔

  • پاکستان سنھبلنے لگا : سٹاک مارکیٹ میں استحکام، سرمایہ کاروں نے 2 کھرب کا فائدہ اٹھا لیا

    پاکستان سنھبلنے لگا : سٹاک مارکیٹ میں استحکام، سرمایہ کاروں نے 2 کھرب کا فائدہ اٹھا لیا

    کراچی :پاکستان سنھبلنے لگا : سٹاک مارکیٹ میں استحکام، سرمایہ کاروں نے 2 کھرب کا فائدہ اٹھا لیا،اطلاعات کے مطابق پاکسان کی معیشت کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے باوجود سنبھلنے لگی ہے ، پاکستان سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوگئی، سرمایہ کاروں کو 2 کھرب روپے سے زائد کا فائدہ ہوا،

    ذرائع کے مطابق پاکستانیوں کے لیے یہ ایک طرح کی بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ملکی کرنٹ اکاونٹ خسارہ سرپلس ہونے اور ایکسٹرنل اکاؤنٹ بحران ختم ہونے کی اطلاعات سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ ہیں، سرمایہ کاروں نے آئل گیس ایکسپلوریشن، سیمنٹ، اسٹیل سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچپسی لی۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے مجموعی طور پر تیزی کا رحجان جاری رہا۔ سٹاک مارکیٹ میں استحکام سے سرمایہ کاروں کو2 کھرب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سرمایہ کاروں کا پاکستان میں سرمایہ کاری پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔ اس کی وجہ ملکی کرنٹ اکاونٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہونا اور ایکسٹرنل اکاؤنٹ بحران ختم ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    اسی طرح عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی پیشگوئیاں بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنی۔ ہفتہ وار کاروبار میں تیزی سے انڈیکس کی 41000 پوائنٹس کی نفسیاتی سطح عبور کرگیا ہے۔ ہفتے کے پانچ سیشن میں طوفانی بارشوں کے بعد انٹرنیٹ موبائل فونز اور لینڈ لائنز کی خدمات معطل ہونے سے اختتامی ایک سیشن میں مندی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طورحصص کی مالیت میں2 کھرب 49 ارب 11کروڑ 8لاکھ 39 ہزار 166روپے کا نمایاں اضافہ ہوا جس سے مجموعی سرمایہ بڑھ کر 76 کھرب 10ارب 31 کروڑ 75 لاکھ 59 ہزار 674 روپے ہوگیا۔

    واضح رہے بین الاقوامی بزنس سروس بلوم برگ نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 490 پوائنٹس اور 1.23فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ شرح سود میں کمی کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج کورونا وباء کے دور کے تمام نقصانات بحال کرچکی ہے۔25 مارچ سے 25 اگست تک چار ماہ کے دوران 48 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان سٹاک مارکیٹ کو ایشیئن ایکویٹی انڈیکس مین سب سے بہترین قرار دیا جاسکتا ہے۔

  • کورونا کا خوف:لوگوں کا قسمت جاننے کیلئے نجومیوں کی طرف رخ،ملاقات کی فیس 100 روپے

    کورونا کا خوف:لوگوں کا قسمت جاننے کیلئے نجومیوں کی طرف رخ،ملاقات کی فیس 100 روپے

    نئی دہلی:کورونا کا خوف:لوگوں نے قسمت جاننے کیلئے نجومیوں کا رخ کرلیا،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس سے خوفزدہ بھارتیوں نے قسمت کا حال جاننے کے لیے نجومیوں کا رخ کرلیا ، ماہر فلکیات سے لے کر روحانی علاج کرنے والے صوفیوں اور جوتشیوں کے پاس کثیر تعداد میں بھارتیوں کو دیکھا جا رہا ہے ۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس حوالے سے ستاروں سے قسمت کا حال بتانے والے ایک نجومی سنجے شرما نے کہا ہے کہ لوگ اپنے مستقبل سے ڈرے ہوئے ہیں اس لیے وہ قسمت کا حال جاننے کے لیے ان کے پاس آتے ہیں ، لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کہیں وہ کورونا وائرس کا شکار تو نہیں ہو جائیں گے؟

    رپوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کورونا کی وبا مزید پھیلی تو ان کا کیا ہو گا؟ ملازمت برقرار رہے گی یا نہیں؟ نئی نوکری کب ملے گی؟ لوگ اس بارے میں خوفزدہ ہیں کہ عالمی وبا کے دوران اُن کا کاروبار جاری رہے گا یا ختم ہو جائے گا؟ وائرس کی وجہ سے جو کاروبار مندی کا شکار ہوا ہے وہ دوبارہ کب ایک بار پھر گا؟ مالی بحران کب ختم ہو گا اور انہیں ذہنی آسودگی اور راحت کب میسر ہو گی؟

    واضح رہے کہ بھارت میں عوام کی طرف سے ان کی قسمت کا حال جاننا ایک معمول کی بات ہے جہاں لوگ شادی، سفر، منگنی، نئے کاروبار کے آغاز، کرائے کا مکان تبدیل کرنے یا گھر تعمیر کرنے سمیت تمام اہم امور سے پہلے اس کا مستقبل جاننے کیلئے ایک بار نجومیوں کے پاس ضرور جاتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں قسمت کا حال بتانے اور مستقبل کی ایک جھلک دکھانے والا یہ شعبہ سالانہ لاکھوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرتا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ نجومیوں کی طرف سے ان کے پاس آنے والے افراد سے مختصر ملاقات کے 100 روپے اور تفصیلات کے کئی ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں، بڑی بیماریوں میں مبتلا مریض تو الگ ڈپریشن کا شکار کئی افراد بھی نجومیوں کے پاس آتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نجومیوں اور جوتشیوں کے پاس جا کر انہیں اپنے مسائل سے نجات اور ان کے حل کیلئے معلومات ملتی ہیں