Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • حکومت تھیٹر بند ہونے کی وجہ سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کرے گی،راجہ بشارت کی یقین دہانی

    حکومت تھیٹر بند ہونے کی وجہ سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کرے گی،راجہ بشارت کی یقین دہانی

    صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت سے تھیٹر، آرٹسٹس اینڈ پرڈیوسرز ایسوسی ایشن پنجاب کے وفد کی ُملاقات ہوئی ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ُملاقات کرنے والوں میں میں سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور، چئیر مین قیصر ثنااللہ ، پیٹران چیف راشد محمود ، قیصر پیا، بلال چوہدری ، طاہر انجم ،شاہد خان ، محمد یوسف ، اور شہزاد شامل تھے

    وفد نے تھیٹرز کے فنکاروں اور پرڈیوسروں کے مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی،وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت کو بخوبی ادراک ہے کہ چہروں پر مسکراہٹ لانے والے تھیٹر بند ہونے سے کس حد تک پریشان ہیں

    وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا مزید کہنا تھا کہ جلد ہی ایس او پیز بنا کر تھیٹر کھولیں گے،حکومت کی بہترین حکمت عملی سے کرونا وبا شکست کے قریب ہے ،پنجاب حکومت تھیٹر بند ہونے کی وجہ سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کرے گی،

    وزیر قانون پنجاب نے متعلقہ محکموں کو ایسوسی ایشن کی مشاورت سے ایس او پیز تیار کرنے کی ہدایت کی، وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وبا نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے ،حکومت متاثرہ شعبوں کی ہر ممکن امداد کرے گی

  • پاکستان میں کرونا سے اموات 6 ہزار کے قریب پہنچ گئیں

    پاکستان میں کرونا سے اموات 6 ہزار کے قریب پہنچ گئیں

    پاکستان میں کرونا سے اموات 6 ہزار کے قریب پہنچ گئیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 2 لاکھ 77 ہزار 402 ہوگئی۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس نے مزید 32 افراد کی جان لے لی، جس کے بعد اموات کی تعداد 5 ہزار 924 ہوگئی۔

    لرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 114 نئے کیسز رپورٹ ہوئے،

    پنجاب میں 92 ہزار 655، سندھ میں ایک لاکھ 20 ہزار 52، خیبر پختونخوا میں 33 ہزار 845، بلوچستان میں 11 ہزار 708، گلگت بلتستان میں 2 ہزار 90، اسلام آباد میں 14 ہزار 987 جبکہ آزاد کشمیر میں 2 ہزار 65 کیسز رپورٹ ہوئے۔

  • ‏حجاج کرام کورونا کے باعث سماجی فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مناسک حج ادا کر رہے ہیں

    ‏حجاج کرام کورونا کے باعث سماجی فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مناسک حج ادا کر رہے ہیں

    مکہ مکرمہ :‏حجاج کرام کورونا کے باعث سماجی فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مناسک حج ادا کر رہے ہیں،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سعودی عرب میں حاجیوں کی محدود تعداد کے ساتھ مناسک حج کا آغاز ہوگیا ہے اور ایک ہزار کے قریب عازمین نے مکہ مکرمہ کے باہر وادی منیٰ کا رخ کرنا شروع کردیا۔

    عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق یومِ ترویہ کے ساتھ ہی مناسک حج کا آغاز ہوگیا اور حجاج کرام جمعرات (30 جولائی) کے طلوع آفتاب تک اپنا وقت عبادت میں صرف کریں گے۔

    خیال رہے کہ منیٰ، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے شمال مشرق سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور عام طور پر دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی ہے جہاں 25 لاکھ حاجیوں کی رہائش کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

    تاہم عالمی وبا کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے رواں برس حاجیوں کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے اور صرف سعودی شہری یا سعودی عرب میں موجود تارکین وطن ہی شرکت کررہے ہیں۔

    مناسک حج کے آغاز سے قبل حجرِ اسود کو عطر لگایا گیا ہے—فوٹو: رائٹرز
    تقریباً ایک ہزار عازمینِ حج، آج (29 جولائی کو) حج کے آغاز کے لیے مکہ مکرمہ کے باہر واقع وادی منیٰ کا رخ کررہے ہیں۔

    رواں برس حج کے لیے منتخب ہونے والے افراد کے مکہ مکرمہ پہنچنے پر درجہ حرارت چیک کیا گیا تھا اور مکہ مکرمہ میں آمد پر انہیں قرنطینہ کیا گیا تھا جبکہ ہیلتھ ورکرز نے ان کے سامان کو سینیٹائز کیا تھا۔

    علاوہ ازیں صحت و تحفظ کے عملے نے مسجدالحرام میں مطاف کے حصے کو جراثیم سے پاک کیا جبکہ رواں برس حج حکام کی جانب سے کورونا وائرس کے خدشات کے باعث خانہ کعبہ کے گرد رکاوٹیں لگائیں گئی ہیں اور حاجیوں کو خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    منیٰ، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے شمال مشرق سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے—فوٹو: رائٹرز
    علاوہ ازیں حکام نے عازمینِ حج کی دیکھ بھال کے لیے طبی مراکز، موبائل کلینکس اور ایمبولینسز بھی قائم کی ہیں جبکہ حاجیوں کے لیے ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ اختیار کرنا لازم ہے۔

    خیال رہے کہ مکہ مکرمہ میں آمد سے قبل تمام عازمین کے لیے کورونا وائرس کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا تھا اور فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد انہیں قرنطینہ کیا جائے گا۔

    سعودی عرب کے ڈائریکٹر پبلک سیکیورٹی خالد بن قرار الحربی نے کہا کہ اس حج میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات نہیں ہیں لیکن عازمینِ حج کی تعداد میں کمی انہیں عالمی وبا کے خطرے سے بچانے کے لیے ہیں۔

    جمعرات کے روز حجاج کرام، خطبہ حج سننے کے لیے میدان عرفات کا رخ کریں گے، اس کے بعد وہ مزدلفہ جائیں گے اور جمرات کے لیے منیٰ واپسی سے قبل وہاں رات بھر قیام کریں گے۔

    حاجیوں کے لیے کورونا وائرس کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے—فوٹو:سعودی وزارت حج
    فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ریاستی میڈیا نے ہیلتھ ورکرز کا سامان سینیٹائز کرتے ہوئے اور کچھ حاجیوں کو الیکٹرانک رسٹ بینڈز دیتے ہوئے دکھایا تاکہ حکام ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کرسکیں۔ ‘ علاوہ ازیں سعودی حکومت کی جانب سے مکہ مکرمہ تک رسائی سخت کیے جانے کے باعث رواں برس غیر ملکی پریس کو حج کی کوریج سے روک دیا گیا ہے۔

    آب زمزم کے حصول کا طریقہ کار تبدیل
    العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یوم ترویہ (پانی بھرنے کے دن) ماضی میں مشاعر میں مٹی کے برتنوں میں آب زمزم رکھا جاتا تھا اور حجاج کرام ترویہ کے روز اپنی پیاس وہاں سے بجھاتے تھے تاہم اب 8 ذی الحج کو یوم ترویہ کا طریقہ کار تبدیل ہوچکا ہے۔

    سعودی حکومت کی جانب سے مناسک حج کے تمام مقامات پر زمزم فراہم کرنے کے لیے پانی کے کولر نصب کیے گئے ہیں مگر اس بار کورونا وائرس کے باعث ان کولرز کو ہٹا دیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے وزارت صحت کے وضع کردہ ایس اوپیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے حج کے دوران علیحدہ سے آب زمزم کولرز یا ٹینکیوں میں رکھنے کے بجائے حجاج کرام کو پیک کی گئی بوتلوں میں دیا جائے گا اور ایک فرد کے لیے ایک بوتل ہوگی جسے ایک وقت میں پیا جاسکتا ہے۔

    ‘ناقابلِ بیان احساس’
    اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ ملک میں موجود ایک ہزار حاجیوں کو حج کی اجازت دی جائے گی لیکن مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ 10 ہزار افراد کو فریضہ حج کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی۔

    سعودی وزارت حج کی دستاویز کے مطابق عازمینِ حج کو سہولت کٹس بھی فراہم کی گئی ہیں جس میں جمرات کے لیے سینیٹائزڈ کنکریاں، ڈِس انفیکٹنٹس، ماسک، جائے نماز اور احرام شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں سعودی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں امارتی حاجی عبداللہ الکھتیری نے کہا کہ میں نے توقع نہیں کی تھی کہ لاکھوں مسلمانوں میں سے مجھے منظوری سے نوازا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل بیان احساس ہے خاص طور پر اس لیے کہ یہ میرا پہلا حج ہے۔

    اس حوالے سے وزارت حج کا کہنا ہے کہ سعودی شہریوں کے علاوہ 160 ممالک کے شہریوں نے آن لائن سیلیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے افراد نے آن لائن درخواست دی تھی۔

    دوسری جانب کچھ مایوس کن درخواست گزاروں نے شکایت کی ہے کہ حکومتی قرعہ اندازی کا واضح خاکہ نہیں تھا اور ان کی درخواست مسترد ہونے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    معاشی بحران
    سعودی وزارت حج کو مسترد کیے گئے درخواست گزاروں کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شکایات کا سامنا ہے لیکن سعودی وزیر برائے حج و عمرہ امور محمد صالح بن طاہر بنتن نے اصرار کیا ہے کہ انتخاب کا عمل شفاف تھا۔

    انہوں نے العربیہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ صحت کا تعین کرنے والے افراد نے حج کے لیے لوگوں کے انتخاب کی بنیاد تشکیل دی تھی۔

    عالمی وبا کے باوجود کئی عازمین حج رواں برس ہجوم کے بڑے حج میں شرکت کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ عام طور پر حج کے دوران کچھ حاجی بیمار ہوجاتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بننے کے خدشے کے باعث حج کو محدود کیا لیکن یہ اقدام سعودی عرب کے معاشی بحران کو بڑھادے گا۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے مکہ میں حج سے متعلق کاروبار متاثر ہوئے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
    مختلف ممالک میں ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤنز کے باعث عالمی سطح پر طلب میں کمی سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کی وجہ سے سعودی عرب مشکلات کا شکار ہے۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے مکہ میں حج سے متعلق کاروبار متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کی ملازمتوں پر بھی اثر پڑا ہے۔

    خیال رہے کہ عمرہ اور حج کے باعث سعودی عرب کی آمدن میں سالانہ 12 ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے۔

    حجاج کرام کیلئے قواعد و ضوابط
    خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب نے رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام کی تعداد کو محدود کردیا اور اس حوالے سے متعدد قواعد و ضوابط جاری کیے گئے جن کے مطابق نماز اور طواف کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    19 جولائی 2020 یعنی 28 ذیقعد 1441 ہجری سے لے کر 2 اگست، 2020 یعنی 12 ذی الحج تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت نامے کے بغیر داخلے کی ممانعت ہے۔

    اس سال حاجیوں کو خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی—فوٹو:رائٹرز
    حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔

    مسجد الحرام کے منتظمین اس امر کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ زائرین، سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں اور اس دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹریک لائنز بنائی جائیں، علاوہ ازیں مطاف اور صفا و مروہ کی جگہ کو حج زائرین کے ہر کاررواں کے طواف اور سعی کے بعد سینیٹائز کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

    رواں برس خانہ کعبہ اور حجرِ اسود کو چھونا منع ہوگا اور ان مقامات تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔

    ساتھ ہی مسجد الحرام سے قالین ہٹادیے گئے جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں کمی کے لیے ہر حاجی کو اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے گی، مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور مسجد کے صحن میں بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    حجاج کرام کے داخلے اور باہر نکلنے کو آسان بنانے، ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی مقامات مختص کیے گئے ہیں۔

    علاوہ ازیں مزدلفہ اور عرفات میں عازمین کو ہر وقت سماجی فاصلے پر لازمی عمل کرنا ہوگا، ماسکس پہننے ہوں گے اور منتظمین کے لیے 50 مربع گز کے خیمے میں 10 سے زائد عازمین حج موجود نہ ہوں اور ہر ایک کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ یقینی ہو۔

    اس کے ساتھ ہی جن عازمین کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہونے پر انہیں مکمل طبی معائنے کے بعد حج کی اجازت دی جائے گی اور انہیں مشتبہ کیسز کے مخصوص گروہوں میں شامل کیا جائے گا، ان کی حالت کو دیکھ کر متعلقہ رہائش گاہ اور الگ ٹریکس کی بسیں مختص کی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ 24 جون کو سعودی عرب کی حکومت نے حج کی ادائیگی کی اجازت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث حج 2020 کے لیے عازمین کی تعداد کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    وزارت کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ہجوم اور لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے سے کورونا کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ رواں برس حج محدود عازمین کے ساتھ ہوگی’۔

    بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک کے شہری حج کی ادائیگی کرپائیں گے اور یہ فیصلہ حج کو محفوظ طریقے سے ادا کرنے کے لیے کیا گیا ہے’۔

    خیال رہے کہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال سعودی عرب جاتے ہیں اور رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس تقریباً 25 لاکھ مسلمانوں نے حج ادا کیا تھا۔

    تاہم رواں برس کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک سے حج کے لیے کوئی نہیں آسکے گا۔

  • ترکش ایئرلائنزنے پاکستانیوں پرپابندی عائد کردی

    ترکش ایئرلائنزنے پاکستانیوں پرپابندی عائد کردی

    اسلام آباد :ترکش ایئرلائنزنے پاکستانیوں پرپابندی عائد کردی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سے ترکی جانیوالے مسافروں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا گیا،ترکش ائیر لائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا نیگٹو رپورٹ کے بغیر مسافروں کو بورڈنگ پاس جاری نہیں کیا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق ترکش ائیر لائن نے اپنی پروازوں کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی ، جس میں پاکستان سے ترکی جانیوالے مسافروں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا ۔

    ترکش ائیر لائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ترکی کے مختلف شہر جانیوالے مسافروں کو 96گھنٹے کے اندر اپنا ٹیسٹ کرانا لازمی ہوگا، 8 اگست سے مسافروں کے ٹیسٹ لازمی قرار دئے گئے ہیں۔

    ٹریول ایڈوائزری کے مطابق کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سے ترکی جانیوالے مسافروں کو چغتائی لیب، شوکت خانم میموریل اور جیریز ویزا کوویڈ19 ٹیسٹ مینجمنٹ سے لازم قرار دیا گیا ہے۔

    ائیر لائن انتظامیہ نے کہا ہے کہ ترکش ایوی ایشن اتھارٹی کی ہدایت پر کورونا ٹیسٹ کی شرط لاگو کی گئی ہیں ،کرونا نیگٹو رپورٹ کے بغیر مسافروں کو بورڈنگ پاس جاری نہیں کیا جائے گا۔ایڈوائزری میں مسافروں کو چیک ان سے قبل کرونا نیگٹو رپورٹ دیکھانا لازمی قراردیا گیا ہے

  • پی آئی اے یورپی سیفٹی ایجنسی کے پابندی کے فیصلے کو بدلنے کیلئے متحرک ،اپیل تیار،حالات بہترہونے کی امید دلا دی

    پی آئی اے یورپی سیفٹی ایجنسی کے پابندی کے فیصلے کو بدلنے کیلئے متحرک ،اپیل تیار،حالات بہترہونے کی امید دلا دی

    کراچی :پی آئی اے یورپی سیفٹی ایجنسی کے پابندی کے فیصلے کو بدلنے کیلئے متحرک ،اپیل تیار،حالات بہترہونے کی امید دلا دی ،اطلاعات کےمطابق قومی ایئرلائن پی آئی اے یورپی سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پابندی کے فیصلے کو بدلنے کیلئے سفارتی سطح پر رابطوں کے ساتھ بیک ڈور چینل کا بھی استعمال شروع کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق قومی ایئرلائن پی آئی اے یورپی سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پابندی کے فیصلے کو بدلنے کیلئے متحرک ہیں ،اس سلسلے میں پی آئی اے نے سفارتی سطح پر رابطوں کے ساتھ بیک ڈور چینل کا بھی استعمال شروع کردیا ہے ۔

    پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان کے مطابق پی آئی اے نے یورپی سیفٹی ایجنسی کے لئے اپیل تیار کرلی اور وکلا کی خدمات بھی حاصل کرلیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم سافٹ ویئربھی تیار کر لیا گیا، فائنل ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے، بر طا نیہ اور یورپ میں پروازوں کی بحالی کیلئے یورپی سیفٹی ایجنسی کو ٹھوس موثراقدمات ذریعئے قائل کر یں گے۔

    پی آئی اے ترجمان کے مطابق امید ہے فول پروف انتظامات کے بعد یورپین یونین کے خدشات دور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، پی آئی اے کو دو ماہ کے اندر فیصلے پر اپیل کا حق حاصل ہے۔

    عبداللہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پائلٹس کے ایشوز کے بعد یورپی سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگائی تھی ،اس وقت پی ائی اے آپنے تاریخ کے سب سے بہترین سیفٹی انڈیکس پر ہے ، جو کی 61۔0 ہے ، نظام کے ساتھ ساتھ سیفٹی کلچر کا فروغ انتظامیہ کے اہم اقدامات میں سے ہے۔

    ترجمان کے مطابق پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ کی اصلاحات کے عمل کی وجہ سے ایئر لائن میں بتدریج بہتری آئی۔

  • عالمی ماہرین طب کے خدشات درست ثابت ہوئے:چین میں کروناوائرس پھر سر اٹھانے لگا

    عالمی ماہرین طب کے خدشات درست ثابت ہوئے:چین میں کروناوائرس پھر سر اٹھانے لگا

    بیجنگ:عالمی ماہرین طب کے خدشات درست ثابت ہوئے:چین میں کروناوائرس پھر سراٹھانے لگا،اطلاعات کےمطابق چین میں کروناوائرس کی دوسری لہر میں آہستہ آہستہ شدت آرہی ہے، گزشتہ تین ماہ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے کیسز میں آج ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کروناوائرس کے 101 نئے مریض سامنے آئے جو رواں سال اپریل کے بعد روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

    دو روز قبل ایک دن میں کرونا کے 61 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جسے ریکارڈ اضافہ قرار دیا جارہا تھا لیکن گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 101 کرونا کیسز نے پچھلے ریکارڈ توڑ دیے، مریضوں میں مسلسل اضافہ حکومت کے لیے چیلنج بن گیا۔

    رپورٹ کے مطابق نئے کیسز سب سے زیادہ چینی علاقہ ژن جیانگ میں رپورٹ ہوئے جہاں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے، کرونا کے وار میں اضافہ دیکھتے ہوئے حکومت نے کرونا ٹیسٹنگ میں بھی اضافہ کردیا اور متاثرین کو بڑے پیمانے پر قرنطینہ کیا جارہا ہے۔

    خیال رہے کہ چین نے رواں سال اپریل میں کروناوائرس کو شکست دینے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں نئے کیسز رپورٹ ہونے پر بیجنگ حکومت کو دھچکا لگا، البتہ ماضی کے مقابلے میں چین نے کرونا پر کافی حد تک قابو پایا ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ چین کرونا کی دوسری لہر کو بھی شکست دینے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہا ہے۔

  • ’شوہر کرونا مریضوں کیساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے‘ بیوی نے طلاق کا مطالبہ کردیا،عدالت نے کمال کردیا

    ’شوہر کرونا مریضوں کیساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے‘ بیوی نے طلاق کا مطالبہ کردیا،عدالت نے کمال کردیا

    ابوظبی : ’شوہر کرونا مریضوں کیساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے‘ بیوی نے طلاق کا مطالبہ کردیا،عدالت نے کمال کردیا،اطلاعات کے مطابق اماراتی خاتون نے کرونا مریضوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے اور گھر میں وقت نہ دینے پر پر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست الفجیرۃ کی رہائشی خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف شریعت عدالت میں طلاق کی درخواست دائر کی ہے۔

    خاتون نے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا کہ میرا شوہر ہر وقت اسپتال میں رہتا ہے اور زیادہ وقت کرونا مریضوں کو دیتا ہے، میں دو بچیوں کو اکیلے سنبھالتی ہوں۔

    خاتون نے کہا کہ میرا شوہر مجھے وقت دیتا ہے اور نہ ہی میری عزت کرتا ہے، میں نے اپنے شوہر سے افہام و تفہیم سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی نظر میں میری کوئی اہمیت نہیں لہذا مجھے طلاق دلوائی جائے۔

    شوہر نے عدالت میں اپنے دفاع میں کہا کہ میں ایک سرکاری اسپتال میں بطور ڈاکٹر ملازم ہوں اور کرونا کی وبائی صورتحال کے دوران ایمرجنسی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے جس کے باعث مجھے بہت کم وقت گھر میں دیتا ہوں اور جب تھک کر گھر جاتا ہوں کسی قسم کی بات چیت کرنے کی حالت میں نہیں ہوتا۔

    شوہر نے عدالت میں کہا کہ میں اپنی بچیوں سے بہت محبت کرتا ہے لیکن اس وقت وبائی صورتحال کے باعث مشکل سے دوچار ہوں، لیکن ان تمام مسائل کا حل طلاق نہیں ہے۔

    میاں بیوی کے بیانات سننے کے بعد فجیرۃ کی شریعت عدالت نے طلاق کا دعوی مسترد کردیا اور بیوی کو حکم دیا کہ وہ اپنا دعوی ثابت نہیں کرسکی ہے لہذا وہ شوہر کے ہمراہ مصالحت کے ساتھ زندگی گزارے۔

  • عالمی ہوائی ٹریفک 2024 سے پہلے معمول پر نہیں آ سکے گی:انٹرنیشنل ادارے کا انکشاف

    عالمی ہوائی ٹریفک 2024 سے پہلے معمول پر نہیں آ سکے گی:انٹرنیشنل ادارے کا انکشاف

    کینیڈا: عالمی ہوائی ٹریفک 2024 سے پہلے معمول پر نہیں آ سکے گی:انٹرنیشنل ادارے کا انکشاف،اطلاعات کے مطابق انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی ہوائی ٹریفک کی بحالی توقع سے کم رہی ہے، کرونا بحران کے باعث عالمی ہوائی سفر کی بحالی میں توقع کے برعکس زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق بین الاقوامی ادارے ایاٹا نے کہا ہے کہ عالمی ہوائی ٹریفک 2024 سے قبل کرونا وائرس کی وبا سے پہلی والی سطح پر نہیں آ پائے گا، خیال رہے کہ اس سے قبل ایاٹا کی جانب سے اس سلسلے میں 2023 کی پیش گوئی کی تھی۔

    انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) نے انکشاف کیا ہے کہ 2019 کے مقابلے میں رواں سال مسافروں کی تعداد میں 55 فی صد کی کمی متوقع ہے، تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ 2021 میں مسافروں کی تعداد 62 فی صد تک بڑھ جائے گی تاہم پھر بھی یہ 2019 کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی کم ہوگی۔

    انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے یہ ‘مایوس کن’ پیش گوئی اس تناظر میں کی ہے کہ امریکا اور ترقی پذیر ممالک میں کرونا وائرس کی روک تھام کی رفتار بہت سست ہے۔

    یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا سے باہر ترقی یافتہ ممالک نے کرونا وائرس کی وبا پر قابو پالیا ہے لیکن اس کی دوبارہ آمد اور پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے،

    دوسرا امر یہ ہے کہ اہم ابھرتی معیشتوں کا امریکا کے ساتھ مل کر جو عالمی ایئر ٹریول مارکیٹ ہے وہ 40 فی صد ہے، دیگر عوامل میں یہ بھی شامل ہے کہ کرونا وائرس لاحق ہونے کے خطرے کے پیش نظر کاپوریٹ ٹریول کم ہو چکا ہے، صارفین کا اعتماد بھی کم زور ہو چکا ہے کہ اگر کرونا سے متاثر ہوئے تو نوکریاں جا سکتی ہیں۔

    خیال رہے کہ جون میں انٹرنیشنل ٹریفک 96.8 فی صد تک سکڑ گیا تھا، ایاٹا کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف کام یاب ویکسین کی تیاری ہی عالمی ایئر ٹریفک کی جلد بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

  • 24 گھنٹے میں کرونا سے پاکستان میں 27 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ

    24 گھنٹے میں کرونا سے پاکستان میں 27 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ

    24 گھنٹے میں کرونا سے پاکستان میں 27 اموات، مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ بتدریج کم ہونے لگا، گزشتہ 24 گھنٹے مین‌27 اموات ہوئی ہی جبکہ 1063 نئے مریض سامنے آئے ہیں.

    پاکستان میں‌کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 5 ہزار 892 ہوگئی ہے جبکہ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 2 لاکھ 76 ہزار 288 ہوگئی ہے

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 63 نئے مریض سامنے آئے پنجاب میں 92 ہزار 452، سندھ میں ایک لاکھ 19 ہزار 398، خیبر پختونخوا میں 33 ہزار 724، بلوچستان میں 11 ہزار 654، گلگت بلتستان میں 2 ہزار 42، اسلام آباد میں 14 ہزار 938 جبکہ آزاد کشمیر میں 2 ہزار 55 مریض ہیں

    ملک بھر میں اب تک 19 لاکھ 31 ہزار 102 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21 ہزار 256 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 2 لاکھ 44 ہزار 883 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار 217 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 27 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 5 ہزار 892 ہوگئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 133، سندھ میں 2 ہزار 172، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 186، اسلام آباد میں 165، بلوچستان میں 136، گلگت بلتستان میں 50 اور آزاد کشمیر میں 50 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں.

  • کورونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے،بار بارسراٹھا سکتی ہے : عالمی ادارہ صحت

    کورونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے،بار بارسراٹھا سکتی ہے : عالمی ادارہ صحت

    جنیوا:کورونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے،بار بارسراٹھا سکتی ہے ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کو ‘ایک بڑی لہر’ قرار دیتے ہوئے شمالی نصف کرہ میں موسم گرما کے دوران وبا کی منتقلی سے متعلق خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس انفلوئنزا کی طرح نہیں جو موسمی رجحانات کی پیروی کرے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں ورچوئل بریفنگ کے دوران عالمی ادارہ صحت کی عہدیدار مارگریٹ ہیریس نے کہا کہ لوگ تاحال موسموں کے بارے میں سوچ رہے ہیں، لیکن ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ نیا وائرس ہے اور یہ مختلف طرح سے برتاؤ کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی وبا کی پہلی لہر ہے، یہ ‘ایک بڑی لہر’ بننے جارہا ہے، اس میں اتار چڑھاؤ آئیں گے لہٰذا یہی بہتر ہے کہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔

    مارگریٹ ہیرس نے امریکا میں گرمی کے موسم کے باوجود بڑھتے ہوئے کیسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وائرس کی سست منتقلی کے لیے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ یہ لوگوں کے بڑے اجتماعات کے ذریعے پھیل رہا ہے۔

    انہوں نے شمالی نصف کرہ میں سردی کے دوران موسمی انفلوئنزا کے ساتھ کورونا کیسز سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔