Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • گورنر پنجاب سے چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی قیادت میں8سینٹرز سمیت بلوچستان کے وفد کی اہم ملاقات

    گورنر پنجاب سے چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی قیادت میں8سینٹرز سمیت بلوچستان کے وفد کی اہم ملاقات

    لاہور:گورنر پنجاب سے چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی قیادت میں8سینٹرز سمیت بلوچستان کے وفد کی اہم ملاقات،اطلاعات کے مطابق گورنر پنجاب سے چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کی قیادت میں8سینٹرز سمیت بلوچستان کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے جس میں کورونا کیخلاف مل کرجدوجہد کرنے کا عزم دہرایا گیا

    ذرائع کے مطابق اس اہم ملاقات میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہاکہ وقت ہے کہ سب مل کراس وبائی مرض کےخلاف حکمت عملی سے کام کریں ،چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تمام صوبوںکی سیاسی ومذہبی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے

    اس موقع پرگورنرپنجاب نے وفد کا شکریہ ادا کیا اوران کی مفید نصیحت کو اپنانے اوراس پرعمل کرنے کا دم بھی بھرا، گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور نے کہاکہ چند دنوں تک اس وبائی مرض کا اثرکم ہونا شروع ہوجائے گا، حالات بھی اہستہ آہستہ بہتری کی جانب رواں دواں ہوجائیں گے ،

    دونوں حکومتی رہنماوں نے اس موقع پراس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ حکومت کے خلاف ہونے والی تمام اندورنی اوربیرونی سازشوں کا ناکام بنا دیں گے

  • کرونا وائرس کی ویکسین ملنے کے بعد امریکی فوجیوں کو سب سے پہلے دی جائے گی،اگریہ خبرپاکستان کی ہوتی تو!

    کرونا وائرس کی ویکسین ملنے کے بعد امریکی فوجیوں کو سب سے پہلے دی جائے گی،اگریہ خبرپاکستان کی ہوتی تو!

    لاہور:کرونا وائرس کی ویکسین ملنے کے بعد امریکی فوجیوں کو سب سے پہلے دی جائے گی،اگریہ خبرپاکستان کی ہوتی تو!اطلاعات کےمطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ کرونا وائرس کی ویکسین ملنے کے بعد امریکی فوجیوں کو سب سے پہلے دی جائے گی،

    باغی ٹی وی کے مطابق سوشل میڈیا پراس حوالے سے بہت بڑی بحث چل رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے بیان پرکسی کواعتراض نہیں کیونہ افواج واقعی ہی اعزاز کی مستحق ہوتی ہیں ، ویسے بھی یہ امریکہ ہے جس کی جومرضی ہوتی ہے وہ کرتا ہے اورپاکستان میں موجود لبرل ایسے بیانات پربغلیں بجاتے ہیں‌

     

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اگریہی بات پاکستان کی حکومت نے کی ہوتی توآج پتہ نہیں کیاکچھ ہوچکا ہوتا، ہرطرف سے تنقید ، ملامت اوربڑے بڑے خطرناک تبصروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہوتا ،مگرافسوس کہ وہ لوگ جو پاکستان سے نفرت کرتے ہیں اورپاک افواج کو نشانہ بناتےہیں ان کو چاہیے کہ امریکی صدر کے بارے میں بھی کوئی تبصرے کرتے لیکن ایسا نہیں ہوگا کیونکہ یہ لبرل پاک فوج سے دلی نفرت کرتے ہیں

  • ملکی بحران اور ان کاحل…!!! تحریر:جویریہ بتول

    ملکی بحران اور ان کاحل…!!! تحریر:جویریہ بتول

    ملکی بحران اور ان کاحل…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    وطنِ عزیز اس وقت کئی بحرانوں کی زد میں ہے، کورونا وبا جہاں بے قابو ہو کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے وہیں وطنِ عزیز میں بھی متاثرین کی بڑھتی تعداد تشویشناک بات ہے۔
    لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی پرواہ نہ کرنے کا خمیازہ قوم اس تیزی سے پھیلتے ہوئے مرض کی صورت میں بھگت رہی ہے۔
    اور آئے دن متاثرین کی تعداد میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔
    کُچھ وقت کاروبار بند رہنے کی وجہ سے اربوں روپے کے نقصانات الگ ہیں جن کا حل کاروباری حضرات نے ضرورت کی تمام اشیاء بشمول ملبوسات وغیرہ کی ہوشربا قیمتیں بڑھا کر نکالا ہے۔
    پیٹرول مافیا نے الگ ایشو کھڑا کر کے پمپس پر شہریوں کی ذلت کو ہوا دی ہے کہ جہاں لمبی لمبی قطاریں ہوش بھلا دیتی ہیں،دیہاڑی دار ڈرائیور جو اپنے رکشوں اور گاڑیوں کا پہیہ رواں رکھ کر دن بھر کی روزی کماتے ہیں،پریشانی اور نفسیاتی مسائل کا شکار نظر آ رہے ہیں،
    جو اپنے گھر والوں اور بچوں کے اخراجات کی مد پوری کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں۔
    قومی نوعیت کے مسائل قومی جذبہ سے ہی حل ہونے چاہئیں۔
    دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے مجبور مسافروں کو بھی بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ٹڈی دل کے فصلوں پر حملے نے زرعی پیداوار کے شعبے میں بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔
    اور ایک غذائی بحران کا بھی قوم کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    دوسری طرف آٹے اور چینی کے بحران وقتًا فوقتًا پیدا ہو کر شہریوں کے لیئے الگ پریشانی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔
    گندم کی فصل اس بار ویسے بھی اکثر علاقوں میں بے موسمی بارش اور ژالہ باری سے نقصان سے دو چار ہوئی ہے۔
    پاکستان کسان اتحاد کے مطابق گندم کی کاشت کے اکثر علاقوں میں جو پیدوار فی ایکڑ پچاس سے ساٹھ من تھی،وہ ان بارشوں کی وجہ سے اس بار تیس سے پینتیس من رہ گئی ہے۔
    یعنی کورونا کی اس وبا کے پیچھے بحرانوں میں شدت آ گئی ہے اور ان کا تعلق بھی ضروریاتِ زندگی اور عام آدمی سے ہے،
    کیونکہ سکولز،کالجز بند ہونے کی وجہ سے پڑھائی تو آن لائن ممکن ہے لیکن غذائی قلت کی صورت میں غریب کے لیئے آن لائن خوراک کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔
    ٹڈی دل کے حملوں سے متاثرہ فصلوں میں گنا،کپاس اور سبزیوں کی فصل بھی شامل ہیں۔اور زراعت پاکستان کی جی ڈی پی کا بیس فیصد ہے،جہاں معاشی نمو میں کمی کا سامنا ہے۔
    نئے بجٹ میں تنخواہوں اور پنشنز میں بھی اضافہ نہ ہونے کی نوید سنائی دے رہی ہے تو یہ ساری کیفیات اور صورتِ حال ذہنی دباؤ اور اُلجھن کا باعث ضرور ہیں لیکن بحیثیت ایک قوم کے ہم سب کو ان مسائل پر ہی سر پکڑ کر بیٹھنے اور بحث کی بجائے ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
    اپنی ترجیحات کو کم کر کے فی الحال ضروریات پر فوکس کرنا ہوگا۔
    اپنے بجٹ اور اخراجات کا ازسر نو جائزہ لے کر اس میں ترمیم کرنا ہو گی تاکہ گھروں کے اندر گزرتا یہ وقت کسی تلخی کی بجائے حلاوت سے گزرے۔
    ہم صرف مہنگائی کا رونا روتے ہیں،لیکن اپنے گھر یا کھیت کی زمین پر موسمی سبزیاں اُگا کر اُن کی دیکھ بھال کر کے فائدہ اٹھانے سے کنی کتراتے ہیں۔
    ہم بجلی کے بلز پر نالاں دکھائی دیتے ہیں مگر بجلی کے بے دریغ اور غیر ضروری استعمال کی طرف توجہ نہیں کرتے…
    ہم پانی کے بحران سے آگاہ رہ کر چوبیس گھنٹے کسی نہ کسی طریقہ سے یہ وائٹ گولڈ ضائع کرنے سے باز نہیں آتے۔
    ہم فصلوں کی وسیع پیداوار کے باوجود چند روپوں کے منافع کی خاطر غریب کے لیئے مصنوعی بحران پیدا کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔
    حالانکہ ہنگامی حالات کے تقاضے ہنگامی ہوا کرتے ہیں،اپنے خاندان،اپنے ارد گرد، مستحقین کا خیال رکھنا ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے،
    جو لوگ بھی اس وبا کے پیشِ نظر معاشی مسائل میں ہیں ان کی اعانت بھی اخلاقی فریضہ ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللّٰہ اور توبہ و انابت سے تیر آنسوؤں کے ساتھ اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں پر صدقِ دل سے معافی بھی مانگیں کہ اللّٰہ تعالٰی ہمیں ان آفات اور وباؤں سے نجات دے،وہی ہمارا خالق،رازق اور مالک ہے۔
    ہم جتنی مرضی ترقی کے زینے طے کر لیں لیکن قانونِ قدرت کے آگے بے بس ہی دکھائی دیتے ہیں۔
    قومیں افراد سے بنتی ہیں،اور سبھی افراد کا اپنے اپنے شعبے اور میدان میں ادا کیا جانے والا کردار ہی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
    ورنہ سستی، کاہلی و بے عملی اور صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا رہنے سے معاملات نہیں سُلجھا کرتے…!!!
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،
    نہ ہو جس کو خیال،آپ اپنی حالت کے بدلنے کا…!!!
    بلکہ مسائل سے نکلنے کے لیئے ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جہدِ مسلسل اور عزمِ پیہم کی ضرورت بہر حال موجود رہتی ہے۔
    اپنی دنیا آپ پیدا کر،اگر زندوں میں ہے…!!!
    ہمیں محض تنقید برائے تنقید کی سوچ سے آگے بڑھ کر بھی سوچنا چاہیئے،
    تعمیری،ترقی اور مملکت کی فلاح کی سوچ پیدا کر کے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔
    الحمدللہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے،بس ہم نے وہ جذبہ بیدار کرنا اور رکھنا ہے جو سازشوں کے جال کاٹ کر رکھ دے،حقائق کا ساتھ دے،قومی مفادات ترجیح بنیں اور ہم ذاتی مفادات کے بھنور سے باہر نکل کر سوچنے والی متحد و مضبوط قوم بن کر سامنے آئیں۔
    اپنی اپنی سوچ مسلط رکھنے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور جلد یا بدیر اُس کے نقصانات واضح ہو کر رہتے ہیں۔
    اگر ہم صرف وطنِ عزیز کے لیئے سوچنے والے بن جائیں تو کوئی مسئلہ ایسا نہیں رہے گا جو قابلِ حل نہ ہو،کیونکہ اس مملکت کے قیام کے مقصد کے اندر تمام مسائل کا حل چھپا ہوا ہے مگر بد قسمتی سے ہم اس سے پہلو تہی اختیار رکھے ہوئے ہیں۔
    جب قومیں مضبوط اور ایک پیج پر متفق ہو جاتی ہیں تو بڑے سے بڑے بحران سے بھی بآسانی نمٹ جایا کرتی ہیں،یہی تاریخ کے صفحے پر درج سبق ہے…
    اسباب کا قحط اتنا نقصان دہ نہیں ہوا کرتا،جتنا نقصان دہ قحط الرجال ہوا کرتا ہے…
    مشکل اور آسان ادوار آتے جاتے رہتے ہیں اور تربیت و کردار ہی ان سے نمٹنا بھی سکھاتے ہیں۔
    گفتار کی وضاحت بعد میں بھی کی جا سکتی ہے،مگر کردار ادا ہو کر ایک انمٹ باب بن جایا کرتا ہے۔
    ہمیں اس چیز کو ہر زاویہ نگاہ سے دیکھ کر آگے بڑھنے کا عزم کرنا ہے…اور اس وطن کے دفاع کے لیئے ہمہ وقت کمر بستہ رہنے کا عہد کرنا ہے وہ دفاع نظریاتی ہو یا دفاعی،
    منفی سازشوں کے خلاف تعمیری اور اصلاحی سوچ کا دفاع ہو یا اپنے وسائل کا دفاع،
    امانت و دیانت کا سبق پڑھ کر جب ہم عزم بالجزم سے لیڈ کرنے کی ٹھان لیں گے تو یقینِ کامل ہے ہم سے امامت کا کام لیا جا سکے…
    ورنہ محض باتوں اور بے عملی سے ہوائی قلعے تو تعمیر ہو ہی جاتے ہیں…
    مضبوط بنیاد کی حامل عمارت کبھی استوار نہیں کی جا سکتی کہ جس کی مضبوطی کا انحصار اس کی بنیاد میں ناقص اور خیالی نہیں بلکہ کامل اور مضبوط تعمیری میٹیریل کے استعمال پر ہوتا ہے…!!!!!
    ہم میں سے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہے اور ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ…!!!
    ================================

  • کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے  بقلم : سلطان سکندر

    کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے بقلم : سلطان سکندر

    کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست

    فیکٹریوں کے دھوئیں سے گلوبل وارمنگ ڈسٹرب ہورہی ہے اور گلوبل وارمنگ کے بڑھنے سے ایٹماسفئیر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے(یعنی گرمی بڑھ رہی ہے)، جسکی بدولت گلیشیرز بہت تیزی سے پگھل کر سمندر بنتے جارہے ہیں۔

    لیکن سائنسدانوں کے مطابق انٹارٹکا اور سائیبریا میں موجود ہزاروں سال پرانے برف والے گلیشیرز کے نیچے ایسے وائرسز موجود ہیں جو سائز میں بڑے ہیں اور انکا سر پیر بھی انسان نہیں جانتے، اگر انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پگھلنا شروع ہوگئے تو یہ وائرسز وہاں سے تیزی سے پھیل جائیں گے،

    ہر جاندار میں اچھے وائرسز بھی موجود ہوتے ہیں۔
    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہر طرح کے جانور میں کئی طرح کے وائرسز ہوتے ہیں جو کہ جسم کو انرجی دینے میں مدد کرتے ہیں جیسا کہ ایک چمکاڈر 137 وائرسز لیے گھوم رہا ہوتا ہے تو اسے کھانے سے انسان میں جانوروں کے وائرسز منتقل ہوتے ہیں جس سے بیماریاں جنم لیتی ہیں، اس لیے مسلمانوں کو حلال جانور کھانے کا حکم ہے،

    تو تحقیق کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز کے نیچے ہزاروں سال پہلے جو جانور ان وائرسز کا شکار تھے وہ برف تلے دب کر مرگئے لیکن ان کی لاشوں کے ساتھ ساتھ انکے وائرسز بھی محفوظ حالت میں اب بھی وہاں موجود ہیں۔
    اس لیے ہمیں فیکٹریوں کے دھوئیں کے متبادل کوئی راستہ نکالنا ہوگا جو گلوبل وارمنگ کو ڈیمیج نہ کرے اور جس سے انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز پگھلنے سے محفوظ رہ سکیں۔
    ورنہ انسانوں کی نسلیں انہی وائرسز کا متبادل ڈھونڈنے اور لاشیں اٹھانے میں گزریں گی۔
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • کرونا ویکسین کا تجربہ، چین میں بندروں کی قلت،1400 ڈالرمیں ملنے والا بندراب 14000ہزارڈالرزمیں بھی نہیں مل رہا

    کرونا ویکسین کا تجربہ، چین میں بندروں کی قلت،1400 ڈالرمیں ملنے والا بندراب 14000ہزارڈالرزمیں بھی نہیں مل رہا

    بیجنگ: کرونا ویکسین کا تجربہ، چین میں بندروں کی قلت،1400 ڈالرمیں ملنے والا بندراب 14000ہزارمیں بھی نہیں مل رہا،اطلاعات کے مطابق چین میں کرونا ویکسین کے تجربے کے لیے بندروں کا استعمال بڑھا تو بندروں کی قلت پیدا ہوگئی۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین میں بندر انڈر گراؤنڈ ہوگئے؟ کرونا ویکسین کا تجربہ کرنے کے لیے بندروں کی سخت ضرورت لیکن تجربے کے لیے بندر ہی کم پڑ گئے۔

    کرونا کیسز بڑھنے پر بندروں کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے جبکہ دوسرے ممالک میں بندروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق چینی لیب یشینگ بائیو فارما گذشتہ جنوری سے ویکسین کی تلاش میں شامل ہے۔ کمپنی اپنی ویکسین کی آزمائش جانوروں پر کر رہی ہے جبکہ اس کے بعد انسانوں کی باری آتی ہے۔ان کے مطابق چوہوں اور خرگوشوں پر ویکسین کے اچھے نتائج آئے ہیں جس سے جسم میں اینٹی باڈیز بننے میں مدد ملی۔

    کمپنی کے مطابق ویکسین صرف وائرس سے محفوظ نہیں رکھے گی بلکہ مریضوں کو صحت یاب ہونے میں بھی مدد دے گی۔

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کے لیے اگلا مرحلہ ویکسین کی بندروں پر آزمائش ہے۔ یہ مرحلہ اب مہنگا ہوگیا ہے کیونکہ کئی لیبارٹریاں کووڈ 19 کے لیے اپنی ادویات اور ویکسینز کی بندروں پر آزمائش کر رہی ہیں جس سے ان کی طلب کافی زیادہ ہوگئی ہے۔

    لیبارٹری کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق پہلے ہر بندر کے لیے 1400 سے 2800 ڈالر ادا کرنا پڑتے تھے۔ لیکن اب ہر بندر کے لیے 14 ہزار ڈالر تک کی قیمت لگ چکی ہے لیکن پھربھی کوئی بندردینے کے لیے تیارنہیں ،۔ چین پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر لیبارٹریوں کے لیے بندروں کی برآمد کرتا ہے۔

  • ڈیکسا میتھازون خطرناک، کورونا مریض خود سے نہ لیں: طبی ماہرین نے خبردارکردیا

    ڈیکسا میتھازون خطرناک، کورونا مریض خود سے نہ لیں: طبی ماہرین نے خبردارکردیا

    اسلام آباد:ڈیکسا میتھازون خطرناک، کورونا مریض خود سے نہ لیں: طبی ماہرین نے خبردارکردیا ،اطلاعات کے مطابق طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے مرض میں ڈیکسا میتھازون نامی دوا صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جائے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسٹیرائیڈ ہے اور اسے وینٹی لیٹر پر موجود مریض کو یا بیماری کی شدت بڑھنے پر جان بچانے کے لیے دیا جاتا ہے، اس دوا کے غلط استعمال سے انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

    برطانیہ میں کرونا کے علاج کیلئے ڈیکسا میتھازون نامی دوا کا تجربہ کامیاب رہا تاہم یہ عام دوا نہیں بلکہ اسٹیرائیڈ ہے اور مرض بگڑنے کی صورت میں صرف جان بچانے کے لیے استعمال کرائی جاتی ہے۔

    طبی ماہرین نے اسی لئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں اس کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جائے کیونکہ اس کے غلط استعمال سے انسانی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اس حوالے سے وفاقی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ ڈیکسا میتھازون کو طبی ماہرین کے مشورے کے بعد ہی کرونا وائرس کے مرض میں استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ کرونا کے علاج کے حوالے سے جن دواؤں کے نام سامنے آ رہے ہیں، ان کے بارے میں جینیاتی نام سمیت ہر طرح کی معلومات عوام کو فراہم کی جائیں۔

  • سورج گرہن کے حوالے سے ڈاکٹر ،حکیم اور ماہر نجوم کی رائے جانئے باغی ٹی وی پر

    سورج گرہن کے حوالے سے ڈاکٹر ،حکیم اور ماہر نجوم کی رائے جانئے باغی ٹی وی پر

    لاہور: سورج گرہن کے حوالے سے ڈاکٹر ،حکیم اور ماہر نجوم کی رائے جانئے باغی ٹی وی پراپنے اپنے خیالات کا کھل کراظہارکیا ہے ، لوگوں نے اس حوالے سے اپنے اپنے انداز سے اپنی رائے دیکرسورج گرہن کے حوالے سے اہم گفتگو کی ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹراویس ہاشمی کہتے ہیں کہ لوگوں کوسورج گرہن لگ جائے تو اس کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ اس دوران لوگوں کو منع بھی کرتے ہیں لیکن لوگ اس بات کا خیال نہیں رکھتے

     

    دوسری طرف ماہرنجوم سید اجمل رحیم نے کہا کہ میں ان تاویلات کو نہیں مانتا اسلام بھی اس قسم کے خیالات اورتاویلوں کا قائل نہیں

    حکیم محمد اشرف جنجوعہ کہتے ہیں کہ ایک تو موسم بھی ٹھیک نہیں دوسرا کرونا کی وجہ سے بہت سے حالات خراب ہیں اس لیے میرا تو خیال ہےکہ سورج کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے کیوں سورج کی اس دوران ایسی شعائیں زمین پرآتی ہیں جو کہ بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں‌

  • ڈاکٹروں پر بڑھتے حملوں کو روکا جائے ، سفید کوٹ کی حرمت کیلئے کسی حد جانے سے گریز نہیں کریں گے، ینگ ڈاکٹرز

    ڈاکٹروں پر بڑھتے حملوں کو روکا جائے ، سفید کوٹ کی حرمت کیلئے کسی حد جانے سے گریز نہیں کریں گے، ینگ ڈاکٹرز

    لاہور:ڈاکٹروں پر بڑھتے حملوں کو روکا جائے ، سفید کوٹ کی حرمت کیلئے کسی حد جانے سے گریز نہیں کریں گے، ینگ ڈاکٹرزکا اعلان ، اطلاعات کے مطابق ایک طرف توڈاکٹرز کو فرنٹ لائن پرلڑنے والے ہیروقرار دیا جارہا ہے تو دوسری طرف انہیں ڈاکٹروں پرتشدد اورحملوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ کسی ایک شہر یا کسی ایک ہسپتال کا نہیں بلکہ پورے ملک سے اس قسم کےواقعات نے جہاں ڈاکٹرز کو پریشان کررکھا ہے وہاں عام شہری بھی اپنے طبیبوں کے ساتھ ہونے والے اس سلوک پربہت زیادہ پریشان ہیں

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے تازہ واقع آج گوجرنوالا کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں پیش آیا جہاں ایک میت کے ورثا نے ڈیوٹی پرموجود ڈاکٹرز کی خوب پٹائی کی اوربرا بھلا بھی کہا ،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پرخواتین ڈاکٹرز تھیں لیکن میت کے لواحقین جن میں عورتیں اورمرد بھی تھے نے مل کرتشدد کا نشانہ بنایا

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس واقعہ پرجہاں میت کے لواحقین نے تمام اخلاقی اوراداراتی حدیں پامال کیں وہاں ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے ان کے خلاف کارروائی نہ کرکے بیڈ گورننس کا ثبوت دیا گیا ، جس کی وجہ سے ڈاکٹرز اور بھی زیادہ پریشان ہوگئے

    دوسری طرف ینگ ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگریہی سلسلہ رہا تو وہ اس سفید کوٹ کی حرمت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیارہیں

  • پنجاب بھر میں عوامی مقامات پر منہ ڈھانپنالازمی قراردیا گیا

    پنجاب بھر میں عوامی مقامات پر منہ ڈھانپنالازمی قراردیا گیا

    لاہور:پنجاب بھر میں عوامی مقامات پر منہ ڈھانپنالازمی قراردیا گیا ،اطلاعات کے مطابق کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاوکوروکنے کے لیے حکومت پنجاب کے ذیلی ادارہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پنجاب بھر میں عوامی مقامات پرمنہ ڈھانپنا لازمی قراردیا گیا

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کیپٹن (ر) محمد عثمان نے نوٹیفکیشن جاری کردیا،ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ پابندی قانون برائے امتناع وبائی امراض پنجاب 2020 کے سیکشن 4 اور 5 کے تحت لگائی گئی

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ منہ ڈھانپے بغیر آئے گاہکوں کو کسی قسم کی سروس فراہم نہ کی جائے۔

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تاکید کی گئی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروایں۔

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پابندی کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر لگائی گئی ہے۔

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کیپٹن (ر) محمد عثمان منہ ڈھانپنے سے کورونا وائرس کے پھیلاو میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
    پابندی کا اطلاق فی الفور ہو گا، ہابندی تاحکم ثانی لاگو رہے گی۔

  • آذربائیجان میں پھنسے پاکستانی طلباء کی حکومت پاکستان سے اپیل

    آذربائیجان میں پھنسے پاکستانی طلباء کی حکومت پاکستان سے اپیل

    اسلام آباد: آذربائیجان میں پھنسے پاکستانی طلباء کی حکومت پاکستان سے اپیل،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے پیش نظرآذربائیجان میں پھنسے پاکستانی طلباء نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ اُن کو جلد از جلد وطن واپس لایا جائے۔

    توصیف نامی امی ایک پاکستانی طالب علم نے جو آذربائیجان میں پھنس گئے ہیں اور وطن واپس آنے کے منتظر ہیں۔

    ایک اورپاکستانی طالب علم عبدالرحمن کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں ایک طالب علم نے کہا کہ ’اِس وقت ہم آذربائیجان کے شہر باکومیں ہیں، ‘

    انہوں نے کہا کہ ’ہماری طرح اور بھی بہت سے پاکستانی طلباء آذربائیجان کے دیگر شہروں میں موجود ہیں، جن میں سے کچھ گریجویٹ ہوچکے ہیں جبکہ کچھ طلباء ابھی پڑھ رہے ہیں لیکن وہ بھی پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں۔‘

    اُنہوں نے مزید کہا کہ ’طلباء کے علاوہ یہاں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے آئے تھے، اُن میں سے کچھ لوگوں کے ویزا ختم ہوچکے ہیں جبکہ کچھ کے ویزا ختم ہونے والے ہیں۔‘