Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • اگست کے وسط تک ڈیڑھ لاکھ پاکستانی کرونا سے وفات پاسکتے ہیں‌ : برطانوی تحقیقاتی ادارے کا انکشاف

    اگست کے وسط تک ڈیڑھ لاکھ پاکستانی کرونا سے وفات پاسکتے ہیں‌ : برطانوی تحقیقاتی ادارے کا انکشاف

    اسلام آباد :اگست کے وسط تک ڈیڑھ لاکھ پاکستانی کرونا سے وفات پاجائیں گے : الگورتھم چارٹ میں بہت بڑا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پر کورونا قہر بن کر ٹوٹ پڑا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوروان ملک بھر میں کورونا کے متاثرہ مزید 111 مریض چل بسے جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد2839 ہوگئی جبکہ ایک ہی دن میں کورونا کے 4443 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد ایک لاکھ 48 ہزار 921 تک جا پہنچی۔

    کورونا وائرس سے متعلق دنیا بھر کےطبی ماہرین اور سائنسدان نئے نئے انکشافات کررہے ہیں، آج برطانیہ کے معروف امپیریل کالج نے اپنے حالیہ منصوبے میں پاکستان میں کورونا سے متعلق حیران کن تخمینے دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اگست 2020 کی وسط تک پاکستان میں یومیہ کم از کم 80 ہزار اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ تک افراد وبا کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امپیریل کالج لندن نے برطانوی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز سے متعدد اداروں اور ماہرین کے ساتھ ایک الگورتھم منصوبے کے تحت پاکستان سمیت متعدد ممالک میں کورونا سے متعلق تخمینوں کی رپورٹ مرتب کی، آن لائن جاری کیے گئے منصوبے میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برازیل، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، روس، انڈونیشیا، شام اور ترکی سمیت درجنوں ممالک سے متعلق اندازوں پر مبنیٰ حیران کن اعداد و شمار جاری کیے گئے۔

    مذکورہ منصوبے کے تحت کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے کورونا سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے گئے، اس منصوبے میں امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات(یو اے ای) جیسے ممالک کو شامل نہیں کیا گیا، مذکورہ منصوبہ الگورتھم اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تمام ممالک میں جون کے پہلے ہفتے تک تصدیق ہونے والے کیسز کے مطابق بنایا گیا۔

    الگورتھم منصوبے کے تحت 2 طرح کے 6 اقسام کی رپورٹس تک صارفین کو رسائی دی گئی ہے، منصوبے کو ورژن ون اور ورژن ٹو کے نام سے 6 اقسام میں تیار کیا گیا ہے اور منصوبے کی تمام اقسام مختلف اعداد و شمار اور تخمینے فراہم کرتی ہیں، منصوبے کے ورژن ون کے الگورتھم تخمینوں کے مطابق پاکستان میں کورونا کی وبا اگست 2020 کے وسط تک اپنے عروج پر پہنچ چکی ہوگی اور ملک میں سب سے زیادہ اموات 10 اگست کو ہوں گی جو کہ ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد ہوں گی۔

    اسی طرح ورژن ٹو کے الگورتھم تخمینوں میں بھی پاکستان میں اگست میں کورونا کی وبا کے عروج پر پہنچنے کے تخمینے لگائے گئے ہیں اور 10 اگست 2020 ء کو سب سے زیادہ یعنی 77 ہزار تک اموات ہوں گی، اسی الگورتھم چارٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 اگست کے بعد پاکستان میں کورونا سے اموات کم ہونا شروع ہوجائیں گی اور دسمبر کے آخر تک وبا سے ملک میں زیادہ سے زیادہ 2 تک اموات ہوں گی۔

    الگورتھم چارٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں جنوری 2021 ء تک کورونا تقریبا ختم ہوچکا ہوگا، تاہم اس وقت ملک میں 22 لاکھ سے 23 لاکھ کے درمیان لوگ وبا کے باعث مر چکے ہوں گے، حیران کن تخمینوں کے مطابق جنوری 2021ء تک پاکستان میں ایک کروڑ 35 لاکھ سے لے کر ڈیڑھ کروڑ افراد وبا سے متاثر ہوچکے ہوں گے۔

    پاکستان کی طرح بھارت اور افغانستان سمیت دیگر ممالک کے حوالے سے بھی حیران کن تخمینے بتائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے مذکورہ منصوبے کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  • پاکستان میں کرونا کے وار جاری، ایک اور وفاقی وزیر بنے کرونا کا نشانہ

    پاکستان میں کرونا کے وار جاری، ایک اور وفاقی وزیر بنے کرونا کا نشانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے

    اراکین اسمبلی بھی کرونا کا شکار ہو رہے ہیں، اب خبر آئی ہے کہ وفاقی وزیر اور رہنما ایم کیو ایم امین الحق کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا جس کے بعد انہوں نے خود کو اسلام آباد میں آئسولیٹ کر لیا۔

    امین الحق نے عوام سے جلد صحت یابی کی دعا کیلئے اپیل کی۔ انہوں نے کہا خود کو پارلیمنٹ لاجز میں آئسولیٹ کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر اسمبلی سیشن میں شرکت کیلئے اسلام آباد میں موجود ہیں۔ چند دن قبل وفاقی وزیر امین الحق نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر سے ملاقات بھی کی تھی

    واضح رہے کہ پاکستان میں کئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، اراکین سینیٹ کرونا کا شکار ہو چکے ہیں،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق ، وزیر ریلوے شیخ رشید ،کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہر یار آفریدی، رکن پنجاب اسمبلی سیف الملوک کھوکھر، پی پی کے رہنما سینیٹر مولا بخش چانڈیو، لیگی رہنما سلمان رفیق ، بلوچستان کے وزیرخزانہ ظہور بلیدی ، پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسملی شہلا رضا بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں

    سابق کرکٹر شاہد آفریدی بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، سینیٹر ثنا جمالی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ایم این اے اُسامہ قادری بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں

    چند روز قبل جمعیت علما اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی سید فضل آغا کورونا کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسی طر ح نواب ثنا اللہ زہری دور حکومت میں صوبائی وزیر صنعت رہنے والے سردار در محمد ناصر بھی کورونا کا شکار ہوکر وفات پا چکے ہیں

    کرونا مریضوں میں اضافہ، کراچی میں آغا خان ہسپتال سمیت دیگر نے مریض لینے سے انکار کر دیا

    لیاقت نیشنل ہسپتال کا کارنامہ،ٹریفک حادثہ میں جاں بحق خاتون کو کرونا مثبت قرار دیکر لاش ضبط کر لی

    کرونا کے کتنے مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں؟ وہ کونسا صوبہ جہاں وینٹی لیٹرز پر کوئی مریض نہیں؟

    شکریہ عمران خان، آپ نے میرے والد کی زندگی خطرے میں ڈال دی،یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی تنقید

    بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے رکن قومی اسمبلی اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی بھی کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور انہوں نے خود کو قرنطینہ کر رکھا ہے

  • کیا ڈاکٹریاسمین راشد کی چھٹی ہوجائے گی یا پھراحتیاط نہ کرنے والوں اورکرونا پھیلانے والوں کوغلطی تسلیم کرنا ہوگا،اہم خبرآگئی

    کیا ڈاکٹریاسمین راشد کی چھٹی ہوجائے گی یا پھراحتیاط نہ کرنے والوں اورکرونا پھیلانے والوں کوغلطی تسلیم کرنا ہوگا،اہم خبرآگئی

    لاہور:کیا ڈاکٹریاسمین راشد کی چھٹی ہوجائے گی یا پھرغلطی کرنے والوں کوتسلیم کرنا ہوگا،اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے لاہوریوں کے لئے نامناسب الفاظ کرنے پر لیگی ایم پی اے کنول لیاقت ایڈووکیٹ نےوزیرصحت سے لاہوریوں سے معافی مانگنے اورقلمدان واپس لینے کےمطالبےکی قرارداد اسمبلی میں جمع کردی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق قرارداد میں کہاگیا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کا ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاط نہ کرنے کے بارے میں انتہائی غیر مناسب الفاظ کا استعمال کرنا قابل مذمت ہے،صوبائی وزیر صحت نے نہ صرف لاہور کے تاریخی شہر میں رہنے والوں کی بےعزتی کرنےکی کوشش کی بلکہ انھوں نے پوری پاکستانی قوم کو جاہل اور ڈھیٹ جیسے نازیبا الفاظ و القاب دے کر پوری قوم کی شدید دل آزادی کی ہے۔

    کنول لیاقت ایڈووکیٹ نے قرارداد میں مطالبہ کیاکہ وزیر صحت سے فوری وزارت کا قلمدان واپس لیا جائے اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ پوری پاکستانی قوم اور لاہور میں بسنے والے لاہوریوں سے معافی مانگتے ہوئے اپنے الفاظ واپس لیں۔

    واضح رہے کہ اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیرصحت یاسمین راشد نے نہ صرف لاہوریوں کو بلکہ تمام پاکستانیوں کو جاہل قوم قراردیا،ان کا کہناتھا کہ لاہوری اللہ تعالیٰ کی ایک علیحدہ مخلوق ہے،لاہوری کسی کی بات سننےکوتیارہی نہیں،کچھ بھی کہہ لیں،لاہوری عمل نہیں کرتے،شایدہی کوئی قوم اتنی جاہل ہوگی۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پرایک طرف ڈاکٹرز،پیرامیڈیکل ،پولیس اورسرکاری اداروں کے لوگ ڈاکٹریاسمین راشد کی حمایت میں آگئے ہیں اوران کا کہنا ہےکہ ان کی بات میں بہت وزن ہے کیوں کہ پوچھیئے ان سے جوفرنٹ لائن پرلڑرہے ہیں ، ڈاکٹریاسمین راشد پوری پنجاب انتظامیہ کے تعاون سے لوگوں کوکرونا سے بچاو کے لیے دن رات محنت کررہی ہیں ، ان حالات میں‌اگرلوگ پھرالٹ جانا چاہتے ہیں اورکرونا وائرس سے احتیاط کی بجائے اس کے پھیلاو کا سبب بن رہے ہیں‌توان کو اور کیا کہا جاسکتا ہے یہ واقعی ان الفاظ کے مستحق ہیں‌

     

     

    یادر ہے کہ چند دن قبل و  داتا دربار لاہور کے ایڈمنسٹریٹر کرونا وائرس سے انتقال کرگئے

    کرونا وائرس نے پاکستان میں اس وقت تباہی مچا رکھی ہے۔  تازہ ترین اطلاعات کے مطابق داتا دربار لاہور کے منتظم اعلیٰ کرونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔ ایڈمنسٹریڑ داتا دربار ذوالقرنین کھچی کو ایک ہفتہ قبل دربار عوام کے لئے کھلنے کے بعد وائرس منتقل ہوا تھا۔ وہ لاہور کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ انہیں طبیعت بگڑنے پر ایک ہفتہ قبل ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ جاںبر نہ ہوسکے۔ 

  • پلازمہ کی فروخت شرعاً درست نہیں ہے اور اس طرح کا عمل کرنے والا قانونی اور شرعی مجرم ہو گا۔علمائے کرام کا موقف آگیا

    پلازمہ کی فروخت شرعاً درست نہیں ہے اور اس طرح کا عمل کرنے والا قانونی اور شرعی مجرم ہو گا۔علمائے کرام کا موقف آگیا

    لاہور:پلازمہ کی فروخت شرعاً درست نہیں ہے اور اس طرح کا عمل کرنے والا قانونی اور شرعی مجرم ہو گا۔علمائے کرام کا موقف آگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان علماء کونسل اور دارالافتاء پاکستان نے کورونا وائرس سے صحت مند ہونے والے افراد کو پلازمہ عطیہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پلازمہ کی فروخت شرعاً درست نہیں ہے اور اس طرح کا عمل کرنے والا قانونی اور شرعی مجرم ہو گا۔

    علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد و المدارس کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور دیگر علماء و مفتیان اور مشائخ عظام نے ایک فتویٰ میں کہا کہ کورونا کی وبا کی وجہ سے انسانیت ابتلا اور آزمائش میں ہے ، اس آزمائش اور ابتلا میں انسانیت کی خدمت کرنے والا اللہ کریم کے ہاں اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، اسلام انسانیت کی بقاء اور سلامتی کا دین ہے اور کسی ایک فرد کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔

    فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی وبا کی وجہ سے سعودی عرب کی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حج کے سلسلہ میں مناسب اور شریعت کے مطابق فیصلہ کرے ، اگر حج میں وبا پھیلنے کے خدشات موجود ہیں تو حج کی عددی تعداد کو مختصر کیا جا سکتا ہے تا کہ مسلمان اس اذیت و تکلیف سے دور رہیں۔

    پلازمہ کیا ہے؟

    پلازمہ دراصل خون کا ایک شفاف حصہ ہوتا ہے جو خونی خلیے کو علیحدہ کرنے پر حاصل ہوتا ہے، پلازمہ میں اینٹی باڈیز اور دیگر پروٹین شامل ہوتے ہیں، پلازمہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے شخص کے خون سے حاصل کیا جاتا ہے اور پھر اس کو تشویشناک حالت کے مریض میں منتقل کیا جاتا ہے۔

    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے اسپیشلٹ ڈاکٹر طاہر شمسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کورونا کوشکست دینے والے افراد ہر ہفتے اپناپلازمہ عطیہ کرسکتے ہیں، پلازمہ دینے والے شخص کو کسی قسم کا سائیڈ افیکٹ نہیں ہوسکتا ہے ،مزید بہتری آتی ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نےعالمگیر وبا کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے پلازمہ عطیہ کرنے کے لیے ہیلپ لائن قائم کردی، این ڈی ایم اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ کوروناوائرس سے متاثرہ صحت یاب ہونے والے افراد اپنا پلازمہ عطیہ کرنے کےلئے ہیلپ لائن نمبر 03041110161 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ ہیلپ لائن چوبیس گھنٹے فعال رہے گی۔

  • کرونا کے بڑھتے کیسز اسلام آباد کے مزید سیکٹرز کو بھی سیل کرنے کا پلان بن گیا

    کرونا کے بڑھتے کیسز اسلام آباد کے مزید سیکٹرز کو بھی سیل کرنے کا پلان بن گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا کے بڑھتے کیسز اسلام آباد کے مزید سیکٹرز کو بھی سیل کرنے کا پلان بن گیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کرونا وائرس کا گڑھ بننے لگا انتظامیہ نے فوج، رینجرز اور پولیس کی مدد سے کئی علاقوں کو سیل کردیا۔
    اسلام آباد کےعلاقے جی نائن کرونا وائرس 400 سے زائد کیسز سامنے آگئے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کہ اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے کیسس کی وجہ سے ہم سیکٹر آئی – 8 ( یہاں ایک دن میں دو سو کیسس نکلے ہیں ) اور سیکٹر آئی -10 ( یہاں ٹوٹل چار سو کیسس ہو چکے ہیں ) کو سیل کرنے کا پلان بنا رہے ہیں ۔ آگئے 24 گھنٹوں میں نوٹیفیکیشن ایشو ہو سکتا ہے ۔

    قبل ازیں کورونا وائرس ہاٹ سپاٹس سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور کورنٹائن حکمت عملی کے تحت ملک کے 20 شہروں کی نشاندہی کر لی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کورونا کیسز بڑھنے کے لحاظ سے ملک کے 20 شہروں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے،کورونا سے متاثرہ شہروں میں لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، ڈی جی خان، گھوٹکی، سوات، مالاکنڈ، مردان اور دیگر شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کےعلاقے جی نائن ٹو اور جی نائن 3 میں 300 سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ آئی 8، آئی 10، غوری ٹاؤن، بارہ کہو، جی 6 اور جی 7 کے علاقے نیو ہاٹ سپاٹ ہیں۔ جن شہروں میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، وہاں حفاظتی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے

  • بھارت میں اظہارآزادی رائے جرم بن گیا،لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو بنایا گیا تشدد کا نشانہ

    بھارت میں اظہارآزادی رائے جرم بن گیا،لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو بنایا گیا تشدد کا نشانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں اظہارآزادی رائے جرم بن گیا،لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو رپورٹنگ کے جرم میں نشانہ بنایا گیا

    رائٹس اینڈ رسکس انیلیسیز گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں25 مارچ سے 31 مئی تک لاک ڈاون کے دوران کم از کم 55 صحافیوں کو رپورٹنگ اوراپنی رائے کا اظہار کرنے پر کے لئے نشانہ بنایا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں، 10 کو گرفتار کیا گیا اور 9پر حملہ کیا گیا۔آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت کم از کم 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایف آئی آر ان تارکین وطن کی حالت زار ، انتظامیہ کی بدانتظامی ، اور سیاسی رہنماں پر تنقید کی وجہ سے ان کی رپورٹ پر درج کی گئیں۔

    اس رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم از کم 10 صحافی گرفتار ہوئے اور چار دیگر کو سپریم کورٹ نے گرفتار کرنے سے بچایا۔ جبکہ سات صحافیوں کو سمن جاری کرنے یا شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ۔ نو افراد کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو پولیس تحویل میں تھے۔ اترپردیش میں 11 صحافیوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا ، اس کے بعد جموں و کشمیر (6)، ہماچل پردیش (5)، اور تمل ناڈو ، مغربی بنگال ، اڈیشہ اور مہاراشٹرا میں سے ایک ایک صحافی پر حملہ کیا گیا۔

    مودی سرکار پر تنقید کرنے والے اپوزیشن جماعت کے اراکین اسمبلی اور صحافیوں کو کرونا کے بہانے قرنطینہ مرکز بھجوا دیا، 5 اراکین اسبملی سمیت 10 افراد کو قرنطینہ مرکز بھجوایا گیا ہے

    واقعہ بھارتی ریاست کیرالہ کا ہے جہاں کرونا مریض کے رابطے میں آنے کے بعد اپوزیشن جماعت کانگریس کے 5 اراکین اسمبلی سمیت 10 افراد کو قرنطینہ مرکز بھجوا دیا گیا ہے، ان تمام کے کرونا ٹیسٹ بھی کروائے جائیں گے

    بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے اراکین اسمبلی اور میڈیا کے نمائندوں نے والیان میں ایک نوجوان سے ملاقات کی تھی جس میں کرونا کی تشخیص ہوئی اس کے بعد کانگریس کے اراکین پارلیمٹ ٹی این پرتاپن وی کے شری کانت اور ریمیا ہری داس اور دو رکن اسمبلی شفی پرمبل اور انل اکّارا کیرلا کو قرنطینہ مرکز بھجوا دیا گیا ہے

    محکمہ صحت کے افسران کے مطابق کرونا سے متاثرہ مریض سے ملاقات کرنے والے صحافیوں کو بھی گھر میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے،انکے اور انکی فیملی کے کرونا ٹیسٹ کروائے جائیں گے.

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    دوسری جانب کانگریس نے الزام لگایا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو جان بوجھ کر قرنطینہ مرکز بھجوایا گیا تا کہ وہ مودی سرکارکی ناکامیوں کا پول نہ کھول سکیں، پھر بھی ذمہ دار شہری کی حیثیت سے وہ قرنطینہ میں 14 روز مکمل کریں گے اور اسکے بعد مودی کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے رکھیں گے

  • کرونا سے صحتیاب 50 ہزار پاکستانیوں سے گورنر پنجاب نے کی اپیل

    کرونا سے صحتیاب 50 ہزار پاکستانیوں سے گورنر پنجاب نے کی اپیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کورونا سے صحت یاب ہونیوالوں سے پلازمہ عطیہ کر نے کی اپیل کردی

    گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا ویڈیا پیغام میں کہنا تھا کہ کوروناکو شکست دیکر ابتک 50ہزار سے زائد لوگ صحت یاب ہوچکے ہیں ‘صحت یاب ہونیوالوں کو اللہ تعالیٰ نے موقعہ دیا ہے وہ دوسروں کی مدد کریں ،میں کورونا کیخلاف جنگ جتنے والوں سے اپیل کرتاہوں وہ اپنا پلازمہ عطیہ کریں ،

    گورنر پنجاب چودھری سرور کا مزید کہنا تھا کہ ایس اوپیز پرعمل نہ کرنیوالوں کو کورونا نہیں چھوڑ ےگا. ایس او پیز پر عمل نہ کر نیوالوں کے ساتھ سختی کا حکومتی فیصلہ قوم کی تر جمانی ہے ، ماسک سمیت تمام حفاظتی اقدامات میں کوتاہی کی ا ب کوئی گنجائش نہیں ایس اوپیز پر عمل نہ کر نیوالے کسی رعایت کے مستحق نہیں حکومت ایکشن لے گی، ہم سب نے ملکر پاکستانی عوام کو کورونا وباء سے بچانا ہے

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

    کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

    ماہر امراض خون اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز( این آئی بی ڈی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہاہے کہ پلازمہ کے عطیات کے حوالے سے لوگوں کا ردعمل اچھا نہیں،

    ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر روز300 افراد کی پلازمہ کےلئے درخواست موصول ہو رہی ہیں،انسانیت کے نام پر اپیل کررہے ہیں لیکن وہ رسپانس نہیں دے رہے ۔کورونا کے خاتمے کےلئے بغیر دوا کے علاج کررہے ہیں،اب تک دو سو سے زائد افراد کو ملک بھر میں پلازمہ لگایا گیا ہے۔

    ڈاکٹر طاہر شمسی کا مزید کہنا تھاکہ نوے فیصد لوگ جو وینٹی لیٹر پر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے ، پلازمہ کی دستیابی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، اسے جمع کرنے کی سہولتیں نہیں ہیں ،پلازمہ دینے والے ہماری بات نہیں سمجھ رہے .

    ڈاکٹر طاہر شمسی کا مزید کہنا تھا کہ پلازمہ والے80 فیصد مریض وینٹی لیٹر پر جانے سے بچ گئے جو حوصلہ افزا نتائج ہیں ، پلازمہ کے اخراجات انتہائی کم ہیں، صحت یاب ہونے والا ہر مریض ہر ہفتے پلازمہ دے سکتا ہے،دو سے تین روز میں دوبارہ پلازمہ بن سکتا ہے،ایک پلازمہ سے دو افراد بچ سکتے ہیں۔

  • لاہوری جاہل ہیں، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد

    لاہوری جاہل ہیں، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لاہوری جاہل ہیں،

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کس طرف جائیں، ہمیں سمجھ نہیں آئی،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے لوگوں نے جتنا سماجی فاصلے کا کہا گیا اتنا نہیں کیا،بہت بڑی کھیپ عید کے دنوں میں نمودار ہوئی

    پتہ نہیں اللہ نے ہم پر کوئی خاص مہربانی کی ہے، شاید اللہ ہمارے لئے ایکسٹرا کام کر رہے ہوں گے پاکستان کے لئے، شاید ہم اتنے جاہل ہیں،لاہوریئے اللہ تعالیٰ کی الگ مخلوق لگتے ہیں وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے دیگر ممالک کی نسبت ہمارے ہاں شرح اموات کم ہے

    گزشتہ رات ایک ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور کے بارے میں عجیب اور نازیبا الفاظ کہے،شاید انہوں نے الیکشن ہارنے کا غصہ اتارا کیونکہ وہ لاہور سے کم از کم 3 بار الیکشن ہار چکی ہیں اور پھر خصوصی سیٹ پر عمران خان نے انہیں ایم پی اے بنا کر وزیر صحت بنا دیا

    ایک شہری کا ڈاکٹر یاسمین راشد کے لاہوریوں بارے کمنٹس پر کہنا تھا کہ گذشتہ دس سال سے ہم بھی لاہور میں مقیم ہیں الفاظ ناگوار گزرے ہیں مگر ایک اور بات کہ تصور کریں اگر یہی بات کراچی کے بارے میں کی گئی ہوتی تو اب تک کتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہوچکا ہوتا۔لاہور کے لوگ صرف زندہ دل ہی نہیں بڑے دل کے بھی ہیں، لسانی تعصب میں نہیں پڑتے،

    شہری کا کہنا تھا کہ ایک افسوسناک امر کہ یہی ڈاکٹر یاسمین راشد اسی لاہور سے الیکشن لڑیں گی اور عوام سے ووٹ بھی مانگیں گی۔

    واضح رہے کہ 2013کے الیکشن میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو نوازشریف سے بری طرح شکست ہوئی،2017کے ضمنی الیکشن میں بیگم کلثوم نواز سے شکست ہوئی،2018کے الیکشن میں وحید عالم خان جو ن لیگی امیدوار تھے ان سے شکست ہوئی،

  • کرونا کی وبا اور بحیثیت مسلمان ہمارا کردار بقلم :غلام زادہ نعمان صابری

    کرونا کی وبا اور بحیثیت مسلمان ہمارا کردار بقلم :غلام زادہ نعمان صابری

    کرونا کی وبا اور بحیثیت مسلمان ہمارا کردار
    غلام زادہ نعمان صابری
    چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والی وبا کورونا نے ساری دنیا میں تباہی مچادی۔ اس مصیبت کی گھڑی میں غیر مسلموں نے اپنی قوم کےلئے ہرطرح کی سہولیات پیدا کیں،تمام شعبہ ہائے زندگی نے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کسی نے ایک دوسرے کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا۔
    پاکستان بھی اس موذی وبا کا شکار ہوا یہاں بھی لوگ اس سے متاثر ہوئے۔
    حکومت نے حفاظتی اقدامات کے تحت عوام کو کچھ تجاویز پر عمل کرنے کا کہا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچا جاسکے اور اس سے بچنے کا واحد حل احتیاطی تدابیر تھیں جن پر عمل کر کے بچا جاسکتا تھا۔
    ان احتیاطی تدابیر میں ماسک اورسینیٹائزر کااستعمال اور سماجی رابطوں سے پرہیز کرنا تھا۔
    بحیثیت مسلمان ہم نے آپس میں ایک دوسرے کی سہولت کے لئے کیا سوچا اور ایک دوسرے کی کتنی مدد کی اور خاص کر ان حالات میں ہمارے کاروباری طبقے کا کیا کردار رہا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
    الاماشاءاللہ کچھ لوگوں نے بہت اچھا کردار ادا کیا لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے انسانیت کو پس پشت ڈال کر شیطانیت کا کردار ادا کیا۔
    انہوں نے پہلے ماسک اور سینیٹائزر بلیک کئے
    10 روپے میں ملنے والا ماسک 100 روپے سے بھی بڑھ کر بیچا گیا، 50 روپے والا سینیٹائزر 200روپے میں بیچا گیا
    ڈیٹول کو بازار سے ایسے غائب کر دیا گیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔
    ڈرگ مافیا نےکلوروکوئین ٹیبلٹ کی ڈبی 3000 روپے کی کردی. کسی حکیم نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سناء مکی کا قہوہ پینے کا مشورہ دیا سناء مکی کے درختوں سے پاکستان بھرا پڑا ہے اس کی کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن سناء مکی 200 روپے کلو سے 2400 روپے کلو تک بک رہی ہے بلکہ بعض علاقوں میں یہ کئی گنا زیادہ مہنگی بیچی جا رہی ہے۔
    پھر ڈرگ مافیا نے ایک انجکشن بارے میں شوشہ چھوڑا کہ یہ کورونا کےلئے مفید ہے جس کی قیمت 3 لاکھ سے 6 لاکھ تک پہنچا دی گئی.
    پلازمہ جو مفت امدادی طور پر دیا جارہا تھا اسے لاکھوں روپے میں بیچا جانے لگا.
    پھر ناجائز منافع خوروں اور انسانیت کے دشمنوں کو پتہ چلا کہ پرائیویٹ سکولوں کو N95 ماسک اور ٹمپریچر گن لینا لازم ہے تو 800 والی گن مارکیٹ میں 22000 روپے میں بکنے لگی.
    انسانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانےوالوں نےکبھی آٹا مہنگا کردیا تو کبھی چینی ، کورونا کو بہانہ بنا کر غریب عوام کا مہنگائی کر کے خون چوسا گیا۔ حکومت اگر کوئی چیز سستی کرتی بھی ہے تو اسے بازار سے غائب کر دیا جاتاہے ۔
    ایمان کے دعویدار ایمانداری کالبادہ اوڑھ کرغریب اور مظلوم عوام کا بڑی بے دردی سے استحصال کر رہےہیں کیا ان کو کورونا سے کوئی خوف نہیں یا کورونا ان کا کوئی خالو پھوپھا لگتا ہے۔
    بحیثیت مسلمان ہم اسلام کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں لیکن ہمارے کرتوت دیکھ کر یہودو نصاری بھی شرماتے ہیں
    جنہیں ہم اسلام سے خارج سمجھتے ہیں وہ اپنی قوم کےلئے کس قدر مخلص ہیں ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہم مسلمانوں کا سارا کردار وہ سمیٹ کرلے گئے ہیں۔
    ہم ایسی بےحس اور مردہ ضمیر قوم ہیں کہ
    اللہ کے عذاب کو سامنے دیکھ کر بھی بے ایمانی اور بے غیرتی سے باز نہیں آتے
    کورونا کی وبا کے ان دنوں میں بحیثیت مسلمان ہمارا کردار نہایت منافقانہ رہا ہے جو شرمناک ہے۔

  • پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، ایک دن میں ریکارڈ 111 اموات

    پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، ایک دن میں ریکارڈ 111 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ جاری، اموات اور مریضوں مین اضافہ ہو رہا ہے

    پاکستان میں گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے 111 افراد انتقال کرگئے،یہ ایک روز کے دوران ملک میں جان گنوانے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے

    پاکستان میں 24گھنٹے میں4ہزار 443کوروناکےنئے کیس سامنے آ گئے،ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 1 لاکھ 48 ہزار921 ہوگئی،ملک میں کورونا کے 56 ہزار 390 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں،گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران 25 ہزار 15 ٹیسٹ کئے گئے

    پنجاب میں کورونا کےسب سے زیادہ 55878 کیسز ہیں،سندھ میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 55581 ہو گئی،کے پی میں کورونا سے متاثر ہ مریضوں کی تعداد 18472 ہوگئی،آزاد جموں و کشمیر663 اورگلگت میں کورونا مریضوں کی تعداد1143 ہو گئی

    کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے حکومت نے ہاٹ سپاٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،کورونا وائرس ہاٹ سپاٹس سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور کورنٹائن حکمت عملی کے تحت ملک کے 20 شہروں کی نشاندہی کر لی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کورونا کیسز بڑھنے کے لحاظ سے ملک کے 20 شہروں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے،کورونا سے متاثرہ شہروں میں لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، ڈی جی خان، گھوٹکی، سوات، مالاکنڈ، مردان اور دیگر شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کےعلاقے جی نائن ٹو اور جی نائن 3 میں 300 سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ آئی 8، آئی 10، غوری ٹاؤن، بارہ کہو، جی 6 اور جی 7 کے علاقے نیو ہاٹ سپاٹ ہیں۔ جن شہروں میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، وہاں حفاظتی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے