Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پلازما تھراپی کورونا وائرس کے علاج کے لیے موثر نہیں‌ ، صرف رقم بٹورنے کا طریقہ ہے ، رپورٹ

    پلازما تھراپی کورونا وائرس کے علاج کے لیے موثر نہیں‌ ، صرف رقم بٹورنے کا طریقہ ہے ، رپورٹ

    پلازما تھراپی کورونا وائرس کے علاج کے لیے موثر نہیں‌ ہے، صرف رقم بٹورنے کا طریقہ ہے ، رپورٹ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق نئی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ پلازما تھراپی کورونا وائرس کے علاج کے لیے موثر نہیں‌ ہے . لوگوں سے خطر رقم بٹوری جارہی ہے . لوگ خطرناک اور استعمال شدہ تھراپی کے لیے خطیر رقم خرچ کررہے ہیں.

    پاکستان میں "کونواولیسنٹ پلازما تھراپی” کے طور پر جس چیز کی تشہیر کی جارہی ہے وہ ایک آسان پلازما کی منتقلی ہے جو بطور کوویڈ انفیکشن بہتر ہوئے ہیں۔ یہ مخصوص امیونو تھیراپی نہیں ہے

    اس میں کیا فرق پڑتا اگر وہ پلازما کے گاما گلوبلین حصے (جس میں تمام حفاظتی امیونوگلوبلینز پر مشتمل ہے) کو پاک کرسکتے ، اور اس میں عام ہیرم کی بجائے ایک "ہائپر امیون” سیرم تشکیل دیا جاتا جس میں لاکھوں افراد شامل ہوتے ہیں۔ ایسے اجزاء ، جن میں اینٹی باڈیز ، خاص طور پر کوویڈ 19 کے خلاف ، بہت کم ہوجائیں گی (ایک حصے کا دسواں)

    وہ لوگ جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہوچکے ہیں ان کے خون (اینٹی باڈیز) میں بیماری سے قدرتی دفاع تیار کرتے ہیں۔ اینٹی باڈیز خون کے اس حصے میں پائے جاتے ہیں جسے پلازما کہتے ہیں۔ بازیاب مریضوں سے عطیہ کردہ خون سے پلازما ، جس میں کوڈ 19 اینٹی باڈیز ہوتی ہیں ، کو دو تیاریوں کے ل. استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے ، convalescent پلازما ، جو پلازما ہے جس میں یہ اینٹی باڈیز ہیں۔ دوم ، ہائپریمیمون امیونوگلوبلین ، جو زیادہ مرتکز ہوتا ہے ، اور اس وجہ سے زیادہ اینٹی باڈیز ہوتا ہے
    میں پلازما کو صاف کرنے کی تکنیکوں کے بارے میں آگے بڑھ سکتا تھا ، یہاں تک کہ آپ اس مرحلے پر پہنچ جاتے ہیں جہاں آپ کو صرف انٹی باڈیز مل جاتی ہیں جن کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے ، لیکن اس میں بہت بڑی تعداد میں عطیہ دہندگان ، اور بہت سارے پلازما لینے جا رہے ہیں۔ چونکہ ہر انسان ان کے مدافعتی ردعمل میں مختلف ہے ، لہذا کوئی بہت سے اینٹی باڈیز تیار کرے گا اور کچھ بہت ہی کم ، لہذا "سپاہیوں” کی حیثیت سے اینٹی باڈیز کا معیار بھی مختلف ہوگا ”

    اور پاکستان میں ایسی کوئی لیب موجود نہیں ہے جو دور دراز سے یہ بھی جانتی ہو کہ اینٹی باڈیز کو غیرجانبدار اور جانبدار بنانے کے لئے کس طرح کی جانچ کرنا ہے۔

    کوویڈ 19 کے لئے پلازما تھراپی سے متعلق سٹدیز نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    سب سے قابل اعتماد کوچران کا جائزہ جس میں پلازما تھراپی سے متعلق 48 مطالعات کا جائزہ لیا گیا ہے ، اس کی تائید کرتا ہے ، اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے: "ہمیں اس بات سے بے یقینی ہے کہ COVID-19 سے بازیاب ہونے والے لوگوں کا پلازما COVID-19 والے لوگوں کا موثر علاج ہے یا نہیں۔”

    امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل کی تازہ ترین تحقیق میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ: "شدید یا جان لیوا خطرے سے دوچار COVID-19 کے مریضوں میں ، اکیلے معیاری علاج کے مقابلے میں ، پلازما تھراپی نے معیاری علاج میں اضافہ کیا ، اس کے نتیجے میں وقتی طور پر اعداد و شمار میں اہم بہتری نہیں لائی گئی۔

  • کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے حکومت کا ہاٹ سپاٹ کو بند کرنے کا فیصلہ ،شہروں کی نشاندہی ہوگئی

    کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے حکومت کا ہاٹ سپاٹ کو بند کرنے کا فیصلہ ،شہروں کی نشاندہی ہوگئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے، کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے حکومت نے ہاٹ سپاٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    کورونا وائرس ہاٹ سپاٹس سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور کورنٹائن حکمت عملی کے تحت ملک کے 20 شہروں کی نشاندہی کر لی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کورونا کیسز بڑھنے کے لحاظ سے ملک کے 20 شہروں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے،کورونا سے متاثرہ شہروں میں لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، ڈی جی خان، گھوٹکی، سوات، مالاکنڈ، مردان اور دیگر شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کےعلاقے جی نائن ٹو اور جی نائن 3 میں 300 سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ آئی 8، آئی 10، غوری ٹاؤن، بارہ کہو، جی 6 اور جی 7 کے علاقے نیو ہاٹ سپاٹ ہیں۔ جن شہروں میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، وہاں حفاظتی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے

    قبل ازیں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہاہے کہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق صوبہ بھر میں 54138 کورونا وائرس کے کنفرم مریض ہیں۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 1537افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج وزیراعلیٰ آفس میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کمشنر لاہور سیف اللہ انجم، سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سپیشلائیزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر آصف طفیل، سی ای او میوہسپتال پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم خان اور ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال بھی موجود تھے۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے اس موقع پر مزیدکہاکہ صوبہ بھر میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرتے ہوئے 1038افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 62افراد کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہوئے۔صوبہ بھر میں کورونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 18000ہے۔چوبیس گھنٹوں کے دوران صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 9103تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جبکہ تشخیصی ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 356678 ہے۔ لاہور کو کورونا وائرس کی وباء کا مرکز تصور کیاجا رہا ہے۔لاہور میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 26487 ہے۔راولپنڈی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد4217،ملتان میں 3140،گوجرانوالہ میں 2014،فیصل آبادمیں 3750 اور پنجاب کے باقی بڑے شہروں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 500سے 700کے دوران ہے۔لاک ڈاؤن ختم کرنے کے بعد عوام کواحتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کرنے کیلئے آگاہی مہم چلائی گئی جس کی زیادہ تر لوگوں نے خلاف ورزی کی۔حکومت نے خلاف ورزی پر مارکیٹس اور دکانیں بھی سیل کیں جس کے باوجود لاہور کے باسیوں نے کورونا وائرس کی وباء کو سنجیدہ نہ لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے لاہور کے دورہ کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہونے والے علاقوں میں پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مختلف حکمت عملی اپنانے کاعندیہ دیاتھا۔گذشتہ دو روز کے دوران لاہور شہر کے سروے کے مطابق کورونا وائرس نے جن علاقوں کو زیادہ متاثر کیا ان میں شاہدرہ،اندرون شہر، مزنگ،شادباغ،ہربنس پورہ، گلبرگ ،کینٹ، نشتر ٹاؤن اورعلامہ اقبال ٹاؤن کے علاوہ کچھ رہائشی کالونیاں بھی شامل ہیں

    فیصلہ کے مطابق ان علاقوں کو بندکرنے کے بعد کھانے پینے کی چیزوں، میڈیکل سٹورز،طبی حفاظتی سامان بنانے والی فیکٹریوں و دیگر متعلقہ شعبہ جات کو کھولا جائے گا۔کل رات بارہ بجے سے ان فیصلوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کو بند کر دیاجائے گا۔متاثرہ علاقہ جات کو کم از کم دو ہفتے کیلئے بند رکھاجائے گا لیکن اس دورانیہ میں کورونا وائرس کے کیسز کا باقاعدہ جائزہ لیاجائے گا۔متاثرہ علاقہ جات میں کورونا وائرس کے کیسزکی تعداد کم ہونے کے باعث بندکئے گئے ایریاز کو کھولا بھی جاسکتاہے جس کا فیصلہ بعد میں کیاجائے گا۔عوام سے حکومت کی جانب سے دیئے گئے ایس او پیز پرمکمل عملدرآمد کرنے کی اپیل کی جاتی ہے ورنہ ان علاقوں کی طرح کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر دوسرے علاقے بھی بند کر دیئے جائیں گے۔کورونا وائرس سے بچاؤ کا واحد حل سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمدکرنا ہے۔کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے جس سے دنیابھر کی معیشت بری طرح متاثرہوئی ہے۔چائنہ جیسے بڑے ملک نے انتہائی زبردست حکمت عملی اپناکر اس وباء کو روکا لیکن وہاں بھی اب دوبارہ کورونا وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

    لیاقت نیشنل ہسپتال کا کارنامہ،ٹریفک حادثہ میں جاں بحق خاتون کو کرونا مثبت قرار دیکر لاش ضبط کر لی

    کرونا کے کتنے مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں؟ وہ کونسا صوبہ جہاں وینٹی لیٹرز پر کوئی مریض نہیں؟

    شہبازشریف، احسن اقبال کے بعد مسلم لیگ ن کی ایک اور اہم ترین شخصیت کرونا کا نشانہ بن گئی

    پنجاب میں کرونا کے بعد ٹائیفائیڈ بخار زور پکڑ گیا،10 دن میں 20 ہزار مریض سامنے آ گئے

    نیوزی لینڈ کی آبادی لاہور کی آبادی کی نسبت پچاس فیصد ہے۔پاکستان دنیا کی آبادی کے حوالہ سے پانچواں بڑا ملک ہے جہاں آبادی زیادہ ہوگی وہاں قدرتی طور پر کورونا وائرس کے کیسز کی تعدادبھی زیادہ سامنے آئے گی۔اگر پاکستان کا مقابلہ بھارت کے ساتھ کیا جائے تو پاکستان کورونا وائرس کی وباء کے خلاف جنگ انتہائی کارآمد حکمت عملی کے مطابق لڑ رہا ہے۔پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں اور کیسز کی تعداد ابھی بھی دوسرے ممالک کی نسبت کم ہے۔بطور حکومت کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے اور تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔پنجاب میں کورونا وائرس کے مریضوں کی سہولت کی خاطرہر قسم کی طبی سہولیات موجود ہیں۔پنجاب میں سپیشلائیزڈہیلتھ کیئر کے 140ہائی ڈیپینڈنسی بستر،نجی ہسپتالوں میں 368بستردستیاب جبکہ کل بستروں کا تیس فیصد کورونا وائرس کے مزید مریضوں کیلئے مختص کیاگیاہے۔آج کے دن میوہسپتال لاہور میں مزید15نئے وینٹی لیٹرز اور 15وینٹی لیٹرز جناح ہسپتال میں انسٹال کر دیئے گئے ہیں۔اگلے ہفتے کے دوران ہائی ڈیپینڈنسی بستروں میں ایک ہزار کا مزید اضافہ کر دیاجائے گا۔ایکٹیمرا انجکشن پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ہے اور ضرورت کے تحت کورونا وائرس کے مریضوں کو لگایاجا رہاہے۔اسی طرح ہیلتھ کیئر کمیشن کو نجی ہسپتالوں میں بھی ایکٹیمراانجکشن کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔نشتر میڈیکل کالج میں آج 10نئے وینٹی لیٹرزانسٹال کرنے کے علاوہ طیب اردگان ہسپتال میں تمام وینٹی لیٹرز کو فعال کر دیا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر عوام کے درمیان کورونا وائرس کے حوالہ سے افراتفری پھیلانے کیلئے غلط خبروں کا استعمال بند کیاجائے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔پنجاب کی 1033ہیلپ لائن نمبر ہے جہاں کوئی بھی شخص کورونا وائرس سے متعلق شکایت درج کروانے،مشورہ لینے یا ہسپتالوں میں داخل اپنے پیاروں کے علاج معالجہ بارے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔لاہور کے شہری 042-99211136-8پر رابطہ کرسکتے ہیں۔کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کو بندکرنے سے وباء پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ہم امید رکھتے ہیں کہ عوام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کریں گے

    ۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ بندکئے جانے والے متاثرہ علاقوں میں مارکیٹس بند کر دی جائیں گی اور صرف اشیائے ضروریہ کی دکانوں کو کھولا جائے گا۔علامہ اقبال ٹاؤن میں 358کیسزجبکہ واپڈاٹاؤن میں کورونا وائرس کے 259کیسزسامنے آئے ہیں۔ہر مریض کے اہلخانہ کی خواہش پر مریض کو وینٹی لیٹر پر منتقل نہیں کیاجاسکتا بلکہ ضرورت کے مطابق کورونا وائرس کے شکار مریض کووینٹی لیٹر پر منتقل کیا جاتا ہے۔دو روز پہلے وائی ڈی اے کے تمام نمائندگان کے ساتھ ملاقات ہوئی جن کو بتایاگیاکہ کسی بھی ڈاکٹر کو علاج معالجہ کے حوالہ سے ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے گی جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہارکیاہے۔این ڈی ایم اے بہت تعاون کر رہا ہے۔فرنٹ لائن ورکرز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹرز،نرسزاور پیرامیڈیکل سٹاف کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

  • کرونا علاج کے لئے ادویات کی عدم دستیابی پر وزیراعظم کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    کرونا علاج کے لئے ادویات کی عدم دستیابی پر وزیراعظم کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    کرونا علاج کے لئے ادویات کی عدم دستیابی پر وزیراعظم کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیرِ اطلاعات سینٹر شبلی فراز، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، فوکل پرسن برائے کوویڈ ڈاکٹر فیصل سلطان، چئیرمین این ڈی ایم اے اور سینئر افسران شریک ہوئے،

    اجلاس میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال، آئندہ چند دنوں کے تخمینوں اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر غور کیا گیا۔ ملک کے مختلف صوبوں میں کورونا مریضوں کے لئے موجود بیڈز، آکسیجن، وینٹی لیٹرز اور سہولیات کی موجودہ صورتحال اور اس میں اضافے کے لئے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں کورونا ٹیسٹ کرنے والی ایک سو سات لیبارٹریز کام کررہی ہیں اور روانہ کی بنیاد پر پچیس ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ شروع میں ان کی تعداد محض دو تھی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں چار ہزار آٹھ سو وینٹی لیٹرز موجود ہیں ۔ شروع میں ان کی کل تعداد سات سو تھی۔ موجود چار ہزار آٹھ سو وینٹی لیٹرز میں مزید سولہ سو کا اضافہ بہت جلد ہو جائے گا۔ملک میں این -95اور وینٹی لیٹرز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی تک تمام صوبوں کے مختلف ہسپتالوں میں دو ہزار کوویڈ بستروں کا مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔ کورونا سے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بیس بڑے شہروں میں ان مقامات کی نشاندہی کردی گئی ہے جہاں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے اور جہاں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انتظامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیرِ اعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں کورونا سے متعلق حفاظتی لباس اور پرسنل پروٹیکٹیو کٹس کی تمام ضروریات با احسن طریقے سے پوری کی جار ہی ہیں۔

    وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی اقدامات کی بدولت کرونا کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں عوام کا کلیدی کردار ہے۔ اب تک سامنے آنے والے تخمینوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہےہیں تاہم اس حوالے سے عوام کا تعاون حکومتی کوششوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار کا حامل ہے۔

    وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام مقامی قیادت اور لیڈرشپ اپنے اپنے علاقوں میں انتظامیہ کی مدد سے نہ صرف ہسپتالوں میں کوویڈ سہولیات کا جائزہ لیں بلکہ اپنے اپنے حلقوں کی عوام کا حفاظتی اقدامات کے حوالے سے تعاون یقینی بنانے میں بھی متحرک کردار ادا کریں۔
    صوبوں کو متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے لئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اس حوالے سے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ آنے والے چند مشکل ہفتوں کے دوران حفاظتی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں میں توازن رکھا جا سکے۔

    وزیرِ اعظم نے کوویڈ مریضوں کے استعمال میں آنے والی چند ادویات اور انجیکشنز کی دستیابی میں مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے چئیرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مطلوبہ ادویات اور انجیکشن باآسانی میسر ہوں

  • چین کی جانب سے شہبازشریف کو کرونا کے علاج کی ایک بار پھر پیشکش

    چین کی جانب سے شہبازشریف کو کرونا کے علاج کی ایک بار پھر پیشکش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کو معاونت اور علاج کی ایک بار پھر پیشکش کی گئی ہے

    عوامی جمہوریہ چین کے قونصل جنرل لانگ دینگ بِن نےشہبازشریف کو خط لکھا ہے، قونصل جنرل چین نے خط میں لکھا ہے کہ کورونا سے آپ کے متاثر ہونے کی اطلاع پر بے حد دکھ ہے، آپ سے دلی ہمدردی ہے ،آپ کو ہر طرح کی معاونت کی فراہمی کی پیشکش کرتے ہیں،دعا ہے کہ آپ جلد صحت یاب ہوں

    خط میں مزید کہا گیا کہ سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو پارٹنرز کے طورپر کورونا کے خلاف چین کی حمایت پر پاکستان کے شکرگزار ہیں،کورونا وائرس پر قابو پانے تک چین پاکستان کی ہر طرح کی مدد کے لئے تیار ہے،سی پیک کی تعمیر کے لئے آپ کی غیرمعمولی کارکردگی ہمیں بہت اچھی طرح سے اب بھی یاد ہے،اورنج لائن، کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا ساہیوال کا منصوبہ آپ کی غیرمعمولی کاوش کا مظہر ہے

    دینگ بِن نے شہبازشریف کو خط میں مزید کہا کہ وزیراعلی پنجاب کے طورپر آپ نے چین پاکستان کی دوستی بڑھانے میں کردار ادا کیا.مستقبل قریب میں آپ سے تعاون کے لئے چشم براہ ہوں

    واضح رہے کہ شہباز شریف کرونا کا شکار ہو چکے ہیں, کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر شہباز شریف نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے،مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہا کہ شہباز شریف کو ان حالات میں نیب میں طلب کر کے انکی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا، تحریری طور پر نیب کو متعدد بار آگاہ کیا کہ میاں شہباز شریف کینسر کے مرض میں مبتلا رہے ہیں اور ان کی قوت مدافعت عام لوگوں کی نسبت کم ہے، یہاں تک کہ ویڈیو لنک پر تفتیش کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن نیب نہیں مانا.

  • سندھ اسمبلی پر کرونا کے وار جاری، پیپلز پارٹی کی اہم ترین شخصیت کرونا کا شکار

    سندھ اسمبلی پر کرونا کے وار جاری، پیپلز پارٹی کی اہم ترین شخصیت کرونا کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، اراکین سندھ اسمبلی میں کرونا کی تشخیص ہو رہی ہے

    اب خبر آئی ہے کہ رکن سندھ اسمبلی شہلا رضا میں بھی کرونا کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے،شہلا رضا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کرونا وائرس کی تشخیص کی تصدیق کی ہے، شہلا رضا کا کہنا تھا کہ علامات ظاہر نہ ہونے پر فی الحال گھر پر ہی ہوں

    شہلا رضا نے اپنی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دعا کی درخواست، گھر والوں کے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں ،انکی رپورٹ کا انتظار ہے

    واضح رہے کہ پاکستان میں کئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، اراکین سینیٹ کرونا کا شکار ہو چکے ہیں،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق ، وزیر ریلوے شیخ رشید ،کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہر یار آفریدی، رکن پنجاب اسمبلی سیف الملوک کھوکھر، پی پی کے رہنما سینیٹر مولا بخش چانڈیو، لیگی رہنما سلمان رفیق ، بلوچستان کے وزیرخزانہ ظہور بلیدی بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں

    سابق کرکٹر شاہد آفریدی بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، سینیٹر ثنا جمالی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ایم این اے اُسامہ قادری بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں

    چند روز قبل جمعیت علما اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی سید فضل آغا کورونا کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسی طر ح نواب ثنا اللہ زہری دور حکومت میں صوبائی وزیر صنعت رہنے والے سردار در محمد ناصر بھی کورونا کا شکار ہوکر وفات پا چکے ہیں

    کرونا مریضوں میں اضافہ، کراچی میں آغا خان ہسپتال سمیت دیگر نے مریض لینے سے انکار کر دیا

    لیاقت نیشنل ہسپتال کا کارنامہ،ٹریفک حادثہ میں جاں بحق خاتون کو کرونا مثبت قرار دیکر لاش ضبط کر لی

    کرونا کے کتنے مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں؟ وہ کونسا صوبہ جہاں وینٹی لیٹرز پر کوئی مریض نہیں؟

    بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے رکن قومی اسمبلی اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی بھی کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور انہوں نے خود کو قرنطینہ کر رکھا ہے

    شکریہ عمران خان، آپ نے میرے والد کی زندگی خطرے میں ڈال دی،یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی تنقید

  • میو ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کرونا وارڈز میں ڈیوٹی کرنے سے انکار کر دیا

    میو ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کرونا وارڈز میں ڈیوٹی کرنے سے انکار کر دیا

    باغی ٹی و ی کی رپورٹ کے مطابق میو ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کرونا وارڈز میں ڈیوٹی کرنے سے انکار کر دیا

    ڈاکٹروں کی جانب سے انکارکے بعد محکمہ صحت نے ہلچل مچ گئی، محکمہ صحت نے دیگر ڈاکٹروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا، باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میو ہسپتال کے نیورالوجی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک لیٹر میں کہا گیا کہ ڈاکٹروں کی کرونا وارڈ میں ڈیوٹی سے 5 ڈاکٹروں میں کرونا کی تشخیص ہوئی جبکہ ایک ڈاکٹر کی والدہ کی کرونا سے موت ہو چکی ہے

    لیٹر مین کہا گیا کہ ڈاکٹر کرونا وارڈ میں ڈیوٹی کریں گے لیکن کرونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات کئے جائیں، ڈاکٹروں سے زیادہ ڈیوٹیز لینے پر بھی اعتراض کیا گیا ہے،

    ڈرمٹالوجی ڈیپارٹمنٹ میو ہسپتال کی جانب سے جاری لیٹر میں کہا گیا ہے کہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر کی ایکسپو قرنطینہ سنٹر میں کرونا کے مریضوں پر ڈیوٹی لگا دی گئی لیکن انہیں کرونا سے بچاؤ اور مریضوں کی دیکھ بھال کے حوالہ سے کسی قسم کی کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی، ڈاکٹروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ،ڈاکٹر کرونا مریضوں کا بغیر ٹریننگ کے علاج نہیں کر سکتے

    نیورالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین نے چیف ایگزیکٹو میو ہسپتال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ڈاکٹروں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، بغیر ٹریننگ کے ڈاکٹرز کو کرونا وارڈ میں تعینات کرنا انکی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے، اگر ڈاکٹر انکار کر رہے ہیں تو میں کیسے انہیں کہوں جب 5 ڈاکٹر کرونا کا شکار ہو چکے ہیں.

    لاہور کے میو اسپتال میں ڈاکٹر باسط غفور زندگی کی بازی ہارگئے، 15 دن پہلے کورونا پازیٹیو آیا اور 3 دن سے وینٹی لیٹر پر تھے۔ شاہدرہ اسپتال کے سابق ایم ایس ڈاکٹر مشتاق بھی میو اسپتال میں دم توڑ گئے

    میو اسپتال میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔ سی ای او میو اسپتال پروفیسر اسد اسلم کا کہنا تھا کہ میو اسپتال میں جاں بحق کرونا مریضوں کی تعداد 76 ہوگئی۔ 246 جاں بحق مشتبہ مریضوں کی رپورٹ آنا باقی ہے، جاں بحق زیادہ تر مریض مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا تھے۔

    محکمہ صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ لاہور میں کرونا وائرس سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 325 ہوگئی ہے

  • پاکستان میں ‌کرونا کی سپیڈ جاری، 24 گھنٹوں میں مزید 97 اموات

    پاکستان میں ‌کرونا کی سپیڈ جاری، 24 گھنٹوں میں مزید 97 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں‌5 ہزار سے زائد مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 97 اموات ہوئی ہیں،

    پاکستان میں مریضوں‌کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 44 ہزار 478 تک پہنچ گئی جبکہ ااموات کی تعداد 2 ہزار 729 ہوگئی ہے

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 248 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 54 ہزار 138، سندھ میں 53 ہزار 805، خیبر پختونخوا میں 18 ہزار 13، بلوچستان میں 8 ہزار 177، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 129، اسلام آباد میں 8 ہزار 569 جبکہ آزاد کشمیر میں 647 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    پاکستان میں اب تک 8 لاکھ 97 ہزار 650 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 ہزار 85 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 53 ہزار 721 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 729 ہوگئی۔ پنجاب میں ایک ہزار 31، سندھ میں 831، خیبر پختونخوا میں 675، اسلام آباد میں 71، گلگت بلتستان میں 16، بلوچستان میں 85 اور آزاد کشمیر میں 13 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.

  • سروسز ہسپتال،مریض رُل گئے ، کوئی پرسان حال نہیں ، ہرطرف بے بسی کے آنسو،مریضوں کے لواحقین بھی مریض بن گئے

    سروسز ہسپتال،مریض رُل گئے ، کوئی پرسان حال نہیں ، ہرطرف بے بسی کے آنسو،مریضوں کے لواحقین بھی مریض بن گئے

    لاہور: سروسزہسپتال میں کورونا کے 241 مشتبہ مریض زیرعلاج ہیں، 4 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی، ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر افتخار احمد کی پریس کانفرنس، مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے،

     

     

     

    https://web.facebook.com/BaaghiTVOfficial/videos/265852474492296/?t=11

     

    باغی ٹی وی کےمطابق اس وقت سروسز ہسپتال میں مریضوں کی حالت اس قدر خراب ہے کہ مریضوں کے لواحقین اپنے پیاروں کو ادھر ادھر لئے پھررہے ہیں اوران کوکوئی پوچھنے والا نہیں ، جس کی وجہ سے لواحقین خود بیمار ہوگئے ہیں

    دوسری طرف ہستپال انتظامیہ بھی مریضوں کے ساتھ تعاون کرنے کےلیے تیارنہیں ، مریضوں کو ایسے ہسپتال میں گھمایا اورپھرایا جارہا ہے جیساکہ ہسپتال میں کوئی انتظام نیں ، دوسری طرف مریضوں اوران کے لواحقین کا کہنا ہےکہ عملہ تعاون نہیں کررہا ، ہماری وزیراعلیٰ عثمان بزدار اوروزیراعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ وہ ہماری مدد کریں

  • خود بھی بچیں دوسروں کو بھی بچائیں ،کرونا کسی کونہیں چھوڑتا،ایمرا نے رپورٹرزسے ہمدردانہ اپیل کردی

    خود بھی بچیں دوسروں کو بھی بچائیں ،کرونا کسی کونہیں چھوڑتا،ایمرا نے رپورٹرزسے ہمدردانہ اپیل کردی

    لاہور:خود بھی بچیں دوسروں کو بھی بچائیں ،کرونا کسی کونہیں چھوڑتا،ایمرا نے رپورٹرزسے ہمدردانہ اپیل کردی ،اطلاعات کے مطابق الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا)کے صدرمحمدآصف بٹ اور ایمراسیکرٹری سلیم شیخ و ایمرا باڈی کی جانب سے میڈیا مالکان اور بیٹ رپورٹرز سے ہمدردانہ اپیل ہے کہ صحافتی ورکرز کورونا وائرس جیسی سنگین صورتحال سے بچاو کےلئے حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔

    باغی ٹی وی کےمطابق ایمرا صدر محمد آصف بٹ کاکہنا ہے کہ خصوصی طور پر ایسے بیٹ رپورٹرز حضرات سے اپیل ہے کو جن کی بیٹس سے متعلقہ محکموں اور اداروں میں کوروناوائرس سے متاثرہ افراد کے کیسز سامنے آچکے ہیں وہ ان محکموں سے متعلقہ امور پر بذریعہ واٹس ایپ یا فون کال پررپورٹنگ کریں اور بذات خود ایسے متاثرہ اداروں اور محکموں میں جانے سے 14 روز کے لئے مکمل طورپرہیز کریں تاکہ وہ یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت اور زندگی کا خیال رکھ سکیں۔

    ایمرا صدر محمد آصف بٹ نے اس موقع پرکہا کہ کیونکہ کورونا وائرس سے بچاو صرف اور صرف احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اور ان محکموں میں جانے سے پرہیز کریں۔ جہاں جہاں پر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے خاص طور پر پبلک ڈیلنگ والے محکموں میں جانے سےمکمل  پرہیزاور احتیاطی تدابیر اختیارکی جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحافتی اداروں کے مالکان کو بھی چاہئے کہ وہ ان محکموں کے بیٹ رپورٹرز کو ریلیف دیں۔تاکہ وہ خود اور اپنی فیملیز کو کورونا وائرس جیسی سنگین صورتحال پر  محفوظ  بناسکیں۔ تمام بیٹ رپورٹرز حضرات دوران کوریج کورونا وائرس سے بچاؤ متعلق ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل کریں۔ تاکہ وہ خود بھی محفوظ رہ سکیں۔

    الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا)کے صدرمحمدآصف بٹ اور ایمراسیکرٹری سلیم شیخ و ایمرا باڈی کی جانب سے میڈیا مالکان اور بیٹ رپورٹرز سے ہمدردانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ، اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی جیسے  بڑے شہروں میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان شہروں میں ہمارے جو صحافی بھائی اپنی صحافتی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ان کو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے محمکوں میں جانے کی بجائے ان سے متعلقہ خبریں اور رپورٹس بذریعہ واٹس ایپ یا فون کال رپورٹنگ پر حاصل کریں۔ امید کرتاہوں میڈیا مالکان ہمارے صحافی بھائیوں اور ان کے اہل خانہ کی قیمتی زندگیوں کو مذنظر رکھتے ہوئے ہماری اس اپیل پر عملدرآمد کریں گے۔

    الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا)کے صدرمحمدآصف بٹ اور ایمراسیکرٹری سلیم شیخ و ایمرا باڈی کی جانب سے میڈیا مالکان اور بیٹ رپورٹرز سے ہمدردانہ اپیل نے پھردرخواست کرتے ہوئے کہا کہ

    محدود رہیں۔۔۔۔محفوظ رہیں

  • یورپی ممالک نے کورونا وائرس کی ویکسین خریدنے کا پیشگی معاہدہ کرلیا،برطانیہ کواربوں ڈالرزملنے کا امکان

    یورپی ممالک نے کورونا وائرس کی ویکسین خریدنے کا پیشگی معاہدہ کرلیا،برطانیہ کواربوں ڈالرزملنے کا امکان

    لندن :یورپی ممالک نے کورونا وائرس کی ویکسین خریدنے کا پیشگی معاہدہ کرلیا،برطانیہ کواربوں ڈالرزملنے کا امکان ،اطلاعات کے مطابق یورپی ممالک نے تیار ہونے سے قبل ہی دوا ساز ادارے سے کورونا وائرس کی ویکسین خریدنے کا پیشگی معاہدہ کرلیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کورونا وائرس سے شدید متاثر یورپی ممالک جرمنی، فرانس، اٹلی اور ہالینڈ نے برطانیہ کے ایک دوا ساز ادارے سے کورونا ویکسین خریدنے کا پیشگی معاہدہ کیا ہے۔پیشگی معاہدےکا مقصد ہے کہ جب بھی ویکسین بنانے میں مصروف برطانوی دوا ساز ادارے کو کامیابی حاصل ہوگی وہ ترجیحی بنیادوں پر ان ممالک کو کورونا ویکسین فراہم کرے گا۔

    رپورٹ کے مطابق برطانوی دواساز ادارہ جسے امید ہے کہ وہ 2020 کے آخر تک ویکسین بنانے میں کامیاب ہوجائے گا، ان 4 یورپی ممالک کو 30 سے 40 کروڑ ویکسین فراہم کرے گا۔نیدر لینڈ کے وزیر صحت نے اس معاہدے کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ ان 4 ممالک میں کورونا سے 6 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

    خیال رہے کہ چار ممالک پر مشتمل اتحاد نے یورپی یونین سے ہٹ کر علیحدہ سے یہ معاہدہ کیا ہے جب کہ یورپی یونین بھی کسی ایسے ہی معاہدے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں 2 ارب 40 کروڑ یورو کا فنڈ بھی مختص کیا جاچکا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ویکسین بنانے میں مصروف برطانوی دوا ساز ادارہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے کام کررہا ہے اور اس ادارے سے برطانوی حکومت کے علاوہ امریکا اور ایک بھارتی دوا ساز ادارے سمیت ویکسین فروخت کرنے والی بعض کمپنیوں نے بھی معاہدہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 79 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ 4 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔کورونا سے بچاؤ کی ویکسین بنانے کے لیے دنیا بھر کے سائنسدان سر توڑکوششیں کررہے ہیں اور بعض ممالک میں ویکسین کے انسانوں پر ابتدائی تجربات بھی شروع کیے جاچکے ہیں۔