Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • ن لیگ کے ارسطو کے الزامات کی چین نے سی پیک کے مغربی روٹ پرکام شروع کرکے ہوا نکال دی

    ن لیگ کے ارسطو کے الزامات کی چین نے سی پیک کے مغربی روٹ پرکام شروع کرکے ہوا نکال دی

    اسلام آباد: ن لیگ کے ارسطو کے الزامات کی چین نے سی پیک کے مغربی روٹ پرکام شروع کرکے ہوا نکال دی ،اطلاعات کے مطابق چین نے سی پیک کے مغربی روٹ پرکام شروع کرکے ن لیگ کے ارسطواحسن اقبال کے الزامات کی ہوانکال دی ہے ،

    دوسری طرف اس حوالے پاکستانی وفاقی وزیربرائے مواصلات مراد سعید نے بتایا ہے کہ پاک چین دوستی کی اعلیٰ مثال سی پیک منصوبے کے مغربی روٹ پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد سعید کا کہنا تھا کہ سی پیک تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور نئے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کی جانب سے مغربی روٹ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ مغربی روٹ کے تحت ڈی آئی خان اور ژوب سڑک کی منظوری دی گئی۔ حیدر آباد اور سکھر موٹروے کا ٹینڈر رواں سال ہوگا۔ قومی خزانے پر بوجھ بنے بغیر 1800 کلومیٹر سڑکیں بنائیں گے جبکہ جی ٹی روڈ کے علاقوں کو موٹرویز سے منسلک کریں گے۔

    مراد سعید کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں سڑکوں پر کم خرچہ ہو رہا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سڑکیں پہلے سے زیادہ بن رہی ہیں۔ سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں منصوبوں کو ترجیح دی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ رواں سال کے پی ایس ڈی پی میں 57 منصوبے رکھے گئے ہیں۔ حویلیاں، تھاکوٹ، ملتان اور سکھر روٹ پر ترجیحی بنیادوں پر کام مکمل کیا۔ اب پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹروے بھی بنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ دو دن قبل وفاقی حکومت کی طرف سے بجٹ پرتنقید کرتے ہوئے ن لیگ کے ارسطو احسن اقبال نے حکومت پرطنزیہ انداز میں کہا تھا کہ حکومت نے جس طرح سی پیک کے لیے بجث میں رقم رکھی جس طرح ابھی مغربی روٹ پرکام شروع نہیں ہوا اس پر تو 197 سال لگ جائیں گے

    دو دن بعد ہی چین نے مغربی روٹ پرکام شروع کرکے ن لیگ کے ارسطوکے الزامات کہ نہ صرف ہوانکالی ہے بلکہ ارسطو‌احسن اقبال کے بیانات کو بچگانہ قرار دیتے ہوئے ہوا میں اڑا دیا

  • کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو بڑا دھچکا، شرح نمو تیزی سے نیچے آنے لگی،دنیا کے بڑے بڑے مضبوط ملکوں کا دیوالیہ نکل گیا

    کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو بڑا دھچکا، شرح نمو تیزی سے نیچے آنے لگی،دنیا کے بڑے بڑے مضبوط ملکوں کا دیوالیہ نکل گیا

    واشنگٹن :کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو بڑا دھچکا، شرح نمو تیزی سے نیچے آنے لگی،دنیا کے بڑے بڑے مضبوط ملکوں کا دیوالیہ نکل گیا،اطلاعات کے مطابق مہلک کورونا وائرس کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات جاری ہیں اور اقتصادی لحاظ سے دنیا کے مضبوط ممالک پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو تیزی سے نیچے آرہی ہے۔

    وبا سے جہاں روز لاکھوں لگ متاثر اور ہزاروں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں وہیں دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں اقتصادی نقصان بھی تمام ممالک کے لیے شدید دھچکا ہے اور اس منفی رجحان کی وجہ سے عالمی جی ڈی پی کو 9 ہزار ارب ڈالر کے نقصان کا امکان ہے۔تاہم عالمی سطح پر پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں وبا کے اتنے منفی اقتصادی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘اے پی پی’ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق اگر کورونا وائرس کی دوسری لہر نہیں آتی تو 2019 کے مقابلے میں 2020 میں امریکا میں جی ڈی پی کی شرح نمو 7.3- فیصد، برطانیہ میں 11.5- فیصد، فرانس میں 11.4- فیصد، جرمنی میں 6.6- فیصد، بھارت میں 3.7- فیصد اور چین میں 2.6- فیصد رہے گی۔

    ان اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ سال پاکستان کی جی ڈی پی میں منفی 0.4 فیصد تک کمی کا اندازہ ہے۔قومی اقتصادی جائزہ کے مطابق اس وبا سے پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار کو 3 ہزار ارب روب روپے کے نقصان کا اندازہ ہے۔وائرس سے قبل پاکستان کی طرف سے اقتصادی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کی جی ڈی پی میں 3 فیصد تک اضافے کا امکان تھا، تاہم وبا کی وجہ سے یہ اب منفی 0.4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

    باوثوق اور مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق صرف اپریل میں امریکا میں پہلی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی میں 48 فیصد اور برطانیہ میں 20.4 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔یورپی یونین میں، جس کا عالمی جی ڈی پی میں 20 فیصد حصہ ہے، گزشتہ 14 برسوں میں پہلی بار بڑے پیمانے پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    عالمی بینک کے تازہ ترین جائزے میں بیس لائن کی بنیاد پر سال 2020 میں عالمی جی ڈی پی میں 5.2 فیصد کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے، حکومتوں کی جانب سے موثر مالیاتی اور زری اقدامات کے باوجود گزشتہ کئی عشروں میں یہ کساد بازاری کی بدترین صورتحال ہے۔

    عالمگیر وبا کی وجہ سے سال 2020 میں کئی ممالک کساد بازاری کا سامنا کریں گے، ان ممالک میں 1870 کے بعد پہلی دفعہ فی کس آمدنی میں کمی آئے گی جبکہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں 7 فیصد تک سکڑنے کا اندازہ ہے۔

    عالمی بینک کے مطابق مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں صرف 0.5 فیصد کا معمولی اضافہ ہوگا تاہم جنوبی ایشیا کے خطے کی معیشتوں میں 2.7 فیصد، سب صحارا افریقہ میں 2.8 فیصد، مشرق وسطیٰ و شمالی امریکا میں 4.2 فیصد، یورپ اور وسطی ایشیا میں 4.7 فیصد اور لاطینی امریکا کی معیشتوں میں 7.2 فیصد تک سکڑاؤ کا امکان ہے۔

    عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ترقی یافتہ معیشتیں 7 فیصد تک سکڑاؤ کا سامنا کرسکتی ہیں جس کے اثرات ان ابھرتی ہوئی ترقی پذیر معیشتوں کو منتقل ہوجائیں گے جن کی معیشتوں میں اوسطاً 2.5 فیصد کے سکڑاؤ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

  • بجٹ غریب دشمن ہے ، ہمیں نہیں منظور، عوام کی رائے دیکھئے باغی ٹی وی پر

    بجٹ غریب دشمن ہے ، ہمیں نہیں منظور، عوام کی رائے دیکھئے باغی ٹی وی پر

    لاہور:بجٹ غریب دشمن ہے ، ہمیں نہیں منظور ، عوام کی رائے دیکھئے باغی ٹی وی پر ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کیئے جانےوالے بجٹ کو عوام الناس کی اکثریت نے مسترد کردیا ہے ،اس حوالے سے عوامی رائے جاننے کے لیے باغی ٹی وی نے مختلف لوگوں سے ان کی رائے لی ہے جو کچھ اس طرح ہے

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک شہری کا کہنا تھا کہ اس بجٹ کا غریب کو کوئی فائدہ نہیں اگرغریب کوکوئی چیز سستی ملنی ہی نہیں یا بالکل ہی نہیں ملنی تو پھرسستے بجٹ کا کیا فائدہ ہے ،

    ایک شہری کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں‌ اگرکوئی فائدہ ہوا ہے تو وہ پیسے والوں کو ہوا ہے ، غریب کو کوئی پوچھتا نہیں ، لوگ آٹے چینی کےلیے پھررہے ہیں ہم کیا کرنا ہے اس فری ٹیکس بجٹ کو

    ایک شہری کہتے ہیں‌ کہ پٹرول ملتا نہیں اور کہا جارہا ہے کہ پٹرول سستا ہوگیا ہے لوگ قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں‌ کیا فائدہ اس سستے پٹرول کا اورٹیکس فری بجٹ کا

    ایک خاتون شہری نے تو حد کردی اور کہا کہ آٹا چینی ملتا نہیں سارا بجٹ امیر لےاڑتے ہیں اورنام غریبوں کا استعمال کیا جارہا ہے

  • ڈنڈا سب دا پیر،احتیاط نہ کرنےوالےہوجائیں تیار،سختی ہوگی بہت زیادہ ،منتیں نہیں ہوں گی باربار،کل سےسخت لاک ڈاون شروع

    ڈنڈا سب دا پیر،احتیاط نہ کرنےوالےہوجائیں تیار،سختی ہوگی بہت زیادہ ،منتیں نہیں ہوں گی باربار،کل سےسخت لاک ڈاون شروع

    لاہور:ڈنڈا سب دا پیر،احتیاط نہ کرنے والے ہوجائیں تیار،سختی ہوگی بہت زیادہ،منتیں نہیں ہوں گی ہربار،کل سے سخت ترین لاک ڈآون شروع،اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نےانتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ، عوام نے حفاظتی تدابیر پر عمل نہ کیا تو لاک ڈاؤن سخت کرنا پڑے گا۔

    عالمی ادارہ صحت نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے کہا، اگر عمل نہ کیا گیا تو پھر لاک ڈاؤن سخت کرنا پڑے گا، پابندیاں نرم کیں تو لوگ سمجھے وائرس چلا گیا، ایکٹمرا انجکشن کے کچھ فوائد لیکن لائف سیونگ نہیں۔

    ادھرحکومت کی طرف سے کہا ہے کہ حکومت نے لاک ڈاون میں نرمی کی تو لوگوں نے سمجھا کروناچلا گیا، عوام کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کورونا کیسز مزید بڑھے، حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کو جرمانے کئے اور مارکیٹیں بند کیں۔

    ادھر حکومت کی طرف سے کہا جارہا ہےکہ جولوگ احتیاط نہیں کریں گے وہ سخت سزاوں کے مستحق ہوں گے اورپھر کسی قسم کی رعایت بھی نہیں کی جائے گی ، یہی حل ہے کہ عوام کو زبردستی کرونا وائرس سے دوررکھا جائے

  • کورونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے فیس ماسک پر زور کیوں دیا جارہا ہے؟غیرضروری تصورکرنے والوں کے لیے اہم پیغام

    کورونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے فیس ماسک پر زور کیوں دیا جارہا ہے؟غیرضروری تصورکرنے والوں کے لیے اہم پیغام

    کینیڈا :کورونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے فیس ماسک پر زور کیوں دیا جارہا ہے؟غیرضروری تصورکرنے والوں کے لیے اہم پیغام،اطلاعات کےمطابق رواں ماہ ایسی متعدد نئی تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر فیس ماسک کا استعمال نوول کورونا وائرس کو پھیلنے سے روک سکتا ہے۔

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے فنڈز سے 172 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ جریدے جرنل لانسیٹ میں شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ فیس ماسک کو پہننا کورونا وائرس کا شکار ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔کینیڈا کی میکماسٹر یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر ہولگر شیکومان کا کہنا تھا کہ ہمارے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ فیس ماسکس کا استعمال زیادہ ہجوم اور طبی مراکزز میں بہت زیادہ تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

    مگر تحقیق کے نتائج کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہمارا یقین بہت زیادہ ٹھوس نہیں، یعنی محققین نتائج پر بہت زیادہ پراعتماد نہیں۔اس حوالے سے کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریو نویمیر (جو میکماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق کا حصہ نہیں تھے) نے کہا کہ وبا کے دوران مکمل طور پر کنٹرول ٹرائل ناممکن ہوتا ہے تو محققین نے دیگر تجزیوں کا جائزہ لیا۔

    دی لانسیٹ میں شائع تحقیق میں متعدد چھوٹی رپورٹس کے ڈیٹا کو اکٹھا کردیا گیا اور ہولگر شیکومان کا کہنا تھا کہ ان کا کام مشاہداتی ہے اور عملی طور پر ٹرائلز نہیں کیے گئے۔مشاہداتی تحقیق عام طور پر کنٹرول تحقیق کے مقابلے میں محدود ہوتی ہے کیونکہ ان میں خارجی عناصر کے اثر کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔

    میکماسٹر کے محقق کا کہنا تھا کہ فیس ماسکس کا استعمال اس وقت زیادہ موثر آتا ہے جب ان کے ساتھ ہاتھوں کی صفائی اور سماججی دوری کا بھی خیال رکھا جائے۔اس تحقیقی تجزیے میں شامل رپورٹس میں سے اکثر ہسپتال یا دیگر طبی مراکز پر مبنی تھیں جبکہ کچھ میں ایسے گھروں کا جائزہ لیا گیا تھا جہاں کوئی مریض مقیم تھا۔

    تاہم کولمبیا یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر جیفری شامان نے کہا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ فیس ماسک کا استعمال کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک اہم ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ منہ سے خارج ذرات اور ہوا میں موجود ذرات کو روک سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایشیائی ممالک جیسے جنوبی کوریا، تائیوان اور ویت نام میں وبا کے آغاز پر فیس ماسک کے استعمال کی شرح بہت زیادہ تھی اور انہیں اپنی معیشت کو رواں رکھنے کے ساتھ وائرس کو کچلنے میں زیادہ بہتر کامیابی ملی۔ویک فورسٹ یونیورسٹی کے وبائی امراض کے پروفیسر ارنسٹ بیشوف کا کہنا تھا کہ فیس ماسک بہت اہم ہیں کیونکہ یہ سانس، زور سے بات کرنے، چیخنے اور گانے کے دوران منہ سے خارج ہونے والے وائرل ذرات کی روک تھام کرتے ہیں۔

    پروفیسر ارنسٹ کو وائرسز کی نظام تنفس سے منتقلی کی تحقیقی رپورٹس کے حوالے سے جانا جاتا ہے اور ان کا مزید کہنا تھا کہ جب آپ معمول کے کام جیسے سانس لینا، بات کرنا اور گانے کا حصہ بنتے ہیں، تو آپ ذرات کو ماحول میں خارج کرتے ہیں، تو آپ کو ان کو روکنے کے لیے ایک سیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کے خیال میں فیس ماسکس وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے انتہائی اہم عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ضروری نہیں کہ این 95 ماسک ہی درکار ہو درحقیقت کپڑے کے عام ماسک بھی اس سے تحفظ میں مدد فراہم کرسکتے ہیں، جیسا میکماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا۔رواں ہفتے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ بڑے پیمانے پر فیس ماسکس کا استعمال اور حکومتی پابندیوں کے اطلاق سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

    تحقیق میں رچرڈ اسٹیوٹ کا کہنا تھا ‘آپ لاک ڈاؤن لگاسکتے ہیں، آپ ماسکس پہن سکتے ہیں، مگر بہترین نتائج اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب ان دونوں کا امتزاج کیا جائے’۔

    ان کا کہنا تھا کہ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ منہ کو ماسک سے ڈھانپنا مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا مگر اس نے اسمولیشن سے عندیہ ملتا ہے کہ ایسی کسی بھی چیز کا استعمال جو منہ سے خارج ہونے والے بڑے ذرات کو روک سکے، وائرس کے زیادہ پھیلاؤ کی روک تھام کرسکتا ہے۔

    فیس ماسک کے استعمال کا ایک اور فائدہ بھی ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا لوگ ایسے لوگوں سے دور کھڑے ہوتے ہیں جو ماسک پہنتے ہیں، اس سے وائرس کا ایک سے دوسرے فرد میں منتقلی کا امکان کم ہوتا ہے۔مگر تمام ماہرین فیس ماسک کے استعمال پر نئی تحقیق کے نتائج سے مطمئن نہیں۔

    جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز جرنل میں ماہرین کے ایک گروپ کے مقالے میں سوشل میڈیا کو استعمال کرکے فیس ماسک سے نیویارک کے لوگوں کے تحفظ کی بات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

    امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی کی وبائی امراض کی ماہر کیٹ گریبوسکی نے اس مقالے پر جریدے کو اسے واپس لینے کا مشورہ دیا ہے جبکہ برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم وان سچایک نے بھی اسے افسوسناک قرار دیا۔اس مقالے کو تحریر کرنے والوں میں شامل ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے رینائی زینگ نے مقالے کو واپس لینے کے مطالبے کو مسترد کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقالہ ٹھوس سائنسی شواہد پر مشتمل تھا، اس کے طریقہ کار اور نتیجے پر عوامی سطح پر سائنسی انداز سے بحث کی جاسکتی ہے، مگر عوامی تصورات کی بنیاد پر نہیں۔

    کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریو نویمیر کا کہنا ہے کہ تحقیق میں کچھ کمزوریاں ہوسکتی ہیں مگر جب سابقہ تحقیقی رپورٹس بشمول 2013 میں کیمبرج یونیورسٹی پریس کے مقالے کو اکٹھا کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ کپڑے کے ماسک ذرات کے پھیلاؤ کو کم کرسکتے ہیں، مجموعی نتائج میں بھی فیس ماسکس کے فوائد کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔

    کولمبیا یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر جیفری شامان کا کہنا تھا ‘دونوں تحقیقی رپورٹس میں فیس ماسکس کے استعمال کے کچھ اثرات کا ذکر کیا گیا’۔اینڈریو نویمیر کا کہنا تھا کہ فیس ماسکس مکنہ طور پر ذرات کی مقدار کو کم کرسکتے ہیں مکمل طور پر روک نہیں سکتے، مگر یہ بھی کسی فرد کو وائرس سے متاثر ہونے سے بچانے کے لیے کافی ہے۔انہوں نے کہا ‘ہمیں اسکوبا گئیر کی ضرورت نہیں، یہاں تک کہ مکمل رکاوٹ کی بھی نہیں، یہ عام ماسکس بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں’۔

  • ڈی ایم ایس لاہورسروسزہسپتال ڈاکٹراعجازسندھوکی سرعام مریضوں کےلواحقین کودھمکیاں اورگالیاں

    ڈی ایم ایس لاہورسروسزہسپتال ڈاکٹراعجازسندھوکی سرعام مریضوں کےلواحقین کودھمکیاں اورگالیاں

    لاہور:ڈی ایم ایس لاہورسروسزہسپتال ڈاکٹراعجازسندھوکی سرعام مریضوں کےلواحقین کودھمکیاں اورگالیاں،اطلاعات کے مطابق ایک طرف ڈاکٹرز اپنے آپ کو مسیحا سمجھتے ہیں‌تو دوسری طرف یہی ڈاکٹربخیلی کی تمام حدیں بھی پارکرجاتے ہیںَ ، جیسا کہ لاہور سروسز ہسپتال کے ڈی ایم ایس نائٹ نے کردکھایا

    باغی ٹی وی کی مطابق ڈی ایم ایس نائٹ لاہور سروسز ہسپتال ڈاکٹر اعجاز سندھو کی سر عام مریضوں کے لواحقین کو دھمکیاں اور گالیاں دیتے ہیں اورپھرمریضوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں‌کہ جس کو شکایت لگانی لگا دو میرا کوئی کچھ نہیں کر سکتا ،

     

    سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ایک تازہ ترین ویڈیو میں ڈاکٹراعجازسندھو مریضوں سے انتہائی بدتمیزی سے پیش آتے ہیں‌اورساتھ ہی اس قسم کی گندی زبان استعمال کرتے ہیں‌کہ سننے والے بھی اف اف کراٹھتے ہیں‌،

    دوسری طرف عوام کی طرف سے یہ مطالبہ زورپکڑرہا ہے کہ حکومت اس ڈی ایم ایس سمیت دیگرایسے بخیل اورعوام دشمن ڈاکٹرزکی ان حرکتوں کا نوٹس لیں اوران کے کردارکی تربیت کریں‌ تاکہ مریض ڈاکٹرکو مل کرخوش ہوجائے نہ کہ ڈاکٹرکے رویہ سے دلبرداشتہ ہوکراپنے آپ کو بسترمرگ پرلٹا لے

  • جولائی کے اخر تک 10 سے 12 لاکھ ہوسکتے ہیں، اسد عمر نے خبردار کردیا، یقینا جاہلونہ کورونا سے بھی زیادہ مہلک ہے، طلعت حسین

    جولائی کے اخر تک 10 سے 12 لاکھ ہوسکتے ہیں، اسد عمر نے خبردار کردیا، یقینا جاہلونہ کورونا سے بھی زیادہ مہلک ہے، طلعت حسین

    اسلام آباد:جولائی کے اخر تک 10 سے 12 لاکھ ہوسکتے ہیں، اسد عمر نے خبردار کردیا، یقینا جاہلونہ کورونا سے بھی زیادہ مہلک ہے،اطلاعات کے مطابق معروف صحافی طلعت حسین نے کرونا وائرس کے حوالے سے اسد عمر کا پیغام شیئرکرتے ہوئے آڑے ہاتھوں‌لیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق طلعت حسین نے کہا ہے کہ یہ ٹھیک ہےکہ اسد عمرکا یہ کہنا کہ جون کے آخرتک کرونا مریضوں کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہوسکتی ہے ، یہ بات درست ہے کیوں کہ جس طرح‌کرونا دنیا بھرمیں پھیل رہا ہے اس حساب سے یہ اعدادوشمارحالات کی سنگینی کا احساس دلا رہے ہیں‌

    طلعت حسین نے کہا کہ اسد عمر کا یہ کہنا کہ جولائی کے آخر تک کرونا مریضوں کی تعداد 10 سے بارہ لاکھ ہوسکتی ہے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے جس طرح ملک میں کرونا وائرس کی رفتارتیز ہے اس حساب سے اتنی تعداد ہوسکتی ہے

    طلعت حسین نے اسد عمر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ چند دن قبل یہی ارسطو ٹریفک حادثات کے اعدادوشماربتاکریہ ثابت کررہے تھے کہ ان دنوں کرونا کے کیس ٹریفک حادثات سے کم تھے ،مگراب خود ہی اعدادوشماربتا کرسب کو پریشان کردیا ہے

  • سندھ میں‌ کرونا کی وجہ سے مزید 15 مریض موت کا شکار ہوگئے

    سندھ میں‌ کرونا کی وجہ سے مزید 15 مریض موت کا شکار ہوگئے

    سندھ میں‌ کرونا کی وجہ سے مزید 15 مریض موت کا شکار ہوگئے

    باغٰ ٹی وی رپورٹ‌ کے مطابق :وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں عالمی وبا کورونا کا شکار مزید 15 مریض انتقال کرگئے، انتقال کرنے والے مریضوں کی تعداد 831 ہوگئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11197 ٹیسٹ کیے گئے، 11197 ٹیسٹوں کے نتیجے میں 2287 نئے کیسز سامنے آئے، اب تک 298332 ٹیسٹ کیے گئے ہیں ان میں 53805 کیسز سامنے آئے ہیں۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس وقت 27368 مریض زیر علاج ہیں، زیر علاج مریضوں میں 25483 مریض گھروں میں، 96 آئسولیشن سینٹرز میں اور 1789 مریض مختلف اسپتالوں میں ہیں، اس وقت 573 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ آج 80 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں، آج 1219 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو چلے گئے، صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 25606 ہوگئی ہے۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی میں آج 1499 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، ضلع وسطی میں 242، شرقی369، کورنگی 185، ملیر 122، جنوبی 418 اور غربی میں 163 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    سندھ کے دیگر شہروں کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ سجاول میں 68، خیر پور 49، حیدرآباد 44، گھوٹکی 39، مٹیاری 38، شہید بے نظیر آباد 37، لاڑکانہ 22، سانگھڑ 20، میرپور خاص 15، کشمور 14، جامشورو13، سجاول 10، شکار پور 7، دادو 7،بدین 4، ٹھٹھہ 3، نوشہروفیروز 3 اور قمبر میں 1 ایک کیس پورٹ ہوا۔

    ملک بھر میں کورونا وائرس سے مزید 81 افراد موت کے گھاٹ اتر گئے، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار 632 تک پہنچ گئی۔ اب تک مرض سے متاثرہ 51735 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 6825 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 39 ہزار 230ہو گئی۔ پنجاب میں 52691، سندھ میں 51518، خیبر پختونخوا 17450 اور بلوچستان میں 8028 مریض زیرعلاج ہیں۔ اسلام آباد میں 7934 ، گلگت بلتستان 1095، آزادکشمیر میں 604 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

    کورونا مزید 81 زندگیاں نگل گیا، ملک میں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2632 ہو گئی، 24 گھنٹوں میں 29546 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 68 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ این سی او سی کے مطابق اب تک کورونا سے متاثرہ 51735 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

  • پاکستانی عالمگیر وبا کو کیا سمجھتے ہیں؟

    پاکستانی عالمگیر وبا کو کیا سمجھتے ہیں؟

    معروف ٹی وی اینکر اور باغی ٹی وی کی رمضان اسپیشل ٹرانسمیشن کے ہوسٹ زین علی نے حال ہی میں لانچ کئے گئے گُد گُدی چینل پر پہلی ویڈیو علامگیر وبا کورونا وائرس کے متعلق اپ لوڈ کی جس میں انہوں نے دکھایا کہ ایک عام پاکستانی شہری اس وبا کو کیا سمجھتا ہے

    باغی ٹی وی :زین علی نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ گذشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پوری دنیا میں پھیلنے والی عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا لوگوں کو سماجی دوری اختیار کرنے او ر غیر ضروری گھروں سئ باہر نہ نکلنے کی تاکید کی گئی جس پر امریکہ جرمنی اٹلی چین اور دیگر ممالک نے عمل کیا لہذا وہاں یہ وبا سُکڑ کر رہ گئی؛

    لیکن جب یہ وبا پاکستان میں آیہ لوگوں کو گھروں میں رہنے سماجی دوری اختیار کرنے اور رواں سال 31 مارچ کو لاک‌ ڈاؤن نافذ کیا گیا تو لوگوں نے کہا لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہیئے یہ وبا ہے ہی نہیں کورونا کچھ نہیں یہ افواہ ہے لوگوں نے کہا کہ پاکسےتانی گورنمنٹ امریکہ سے پیسے لے رہی ہے جتنے لوگ مریں گے ڈبلیو ایچ او اتنے پیسے دے گا-

    اینکر زین علی نے عید کے موقع پر لوگوں کی شاپنگ کے حوالے سے رش پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر بازاروں میں رش بے حد رش تھا اوراحتیاطی اقدامات اختیار نہ کرنے کی وجہ سے آج یہ وبا بہت زیادہ پھیل چُکی ہے-

    زین علی نے اپنی ویڈیو میں باغی ٹی وی میں کام کرنے والے احسن قاسم کو عوامی نمائندے کے طور پر بُلایا جنہوں نے زین علی کے کورونا کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے مزاحیہ اور کورونا کے بارے میں عوام کے خیالات کے مطابق جوابات دیئے-

    زین علی نے عوامی نمائندے سے پوچھا کورونا کیا ہے آپ کورونا کے بارے میں کیا جانتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کیا ہے کورونا آپ کو ہے کرونا مجھے ہے کرونا سوشل میڈیا لڑکیوں سے بھرا پڑا ہے جو کہےی ہیں کرونا کرونا اور گھر میں عورتیں کہہ رہیں ہیں لاک ڈاؤن کو بند بھی کرونا -اینکر زین علی نے کہا وہ کرونا نہیں وبا کرونا جو چین سے آیا اور تیزی سے وائرل ہو گیا جس نے ہزاروں جانیں لے لیں-

    احمد قاسم عوامی نمائندے نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح سٹیٹمینٹس نہ دیں اکورونا چین سے آیا ادھر سے آیا اُدھر سے آیا جبکہ ابھی تک کورونا کو خود نہیں پتہ میں آیاور کہاں پہنچ گیا ہوں ا کہاں سے ہوں زین علی نے پوچھا کورونا ہے یا نہیں جس پر احمد قاسم نے کہا کہاں پر ہے آپکو پتہ ہے کونسا کا کورونا ہے آپ بتاؤ کونسا کورونا ہے جس پر میزبان نے کہا کورونا سے لوگ مر رہے ہیں ہسپتال بھرے پڑے ہیں لیکن لوگ کہتے ہیں کورونا کچھ نہیں ہے یہ حکومت کا ڈرامہ ہے-

    ماسک کے بارے میں بات کرتے ہوئے میزبان نے کہا ماسک لگائیں ورنہ حکومت جُرمانہ جر دے گی جس پر عوامی نمائندے نے کہا حکومت جۃرمانہ کب نہیں کرتی حکومت کو تو موقع چاہیئے جُرمانے کرنے کا ہم جیسی غریب عوام پرہیلمٹ پر موٹر سائیکل کے دھوئیں مارنے پر جُرمانہ اب ماسک پر بھی کردے اور ویسے بھی ہمرا وزیراعظم ماسک نہیں پہنتا تو ہم کیوں پہنیں-کیا پہلے ڈینگی سے اور پولیو سے لوگ نہیں مرتے تھے-

    ویڈیو میں میزبان زین علی نے کورونا سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا پیغام دیا جبکہ عوامی نمائندے نے کہا آپ نے کورونا کو وائرس وبا اور عالمی وبا کہنے کے بعد آکر مین بیماری کہا ہم عوام کو بیماری کی سمجھ لگتی ہے لہذا اللہ تعالی ہر کسی کو بیماری سے بچائے-

    کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟تحریر: احمد ندیم اعوان

  • نیوزی لینڈنےاگرکروناوائرس کوشکست دیدی توکیا ہوا،ہمارےکپتان   نےبھی1992 کےورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کوشکست دی تھی۔

    نیوزی لینڈنےاگرکروناوائرس کوشکست دیدی توکیا ہوا،ہمارےکپتان نےبھی1992 کےورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کوشکست دی تھی۔

    لاہور:نیوزی لینڈ اگر کرونا وائرس کو شکست دیدی ہے تو کیا ہوا،ہمارے کپتان نے بھی تو 1992 کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کو شکست دی تھی۔ معروف تجزیہ نگارارشاد بھٹی نے خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کو احساس دلایا ہے کہ ورلڈ کپ جیتنا اوربات ہے اورکرونا کوشکست دینا اوربات ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں‌ ارشاد بھٹی نے کہا ہےکہ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان نے 1992 کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں شکست دی تھی لیکن مزا تو تب ہےکہ کپتان کی یہ ٹیم کرونا وائرس کو بھی شکست دے

     

    ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ نیوزی لینڈ نے کرونا کوشکست دے کریہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اہل اورقابل ہیں اوروہ کسی بھی آفت کا مقابلہ کرسکتے ہیں، لیکن ہمیں‌ یہ دیکھنا ہے کہ اگرہم کرونا وائرس کوشکست دینے والے نیوزی لینڈ کوشکست دے سکتے ہیں تو بڑی امید ہےکہ ہم کرونا وائرس کو بھی شکست دے سکتے ہیں‌