پنجاب میں کورونا کے مزید کیسز رجسٹرڈ، تعداد 43460 ہو گئی
باغی ٹی وی رپورٹ :ترجمان پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ،کورونامانیٹرنگ روم کی اطلاعات کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 2641 نئے کیس، تعداد 43460 ہو گئی۔ لاہورمیں 1408، ننکانہ13، قصور8، شیخوپورہ61، راولپنڈی254، اٹک6، چکوال 3، گوجرانوالہ49 اور سیالکوٹ میں 37کیسز رپورٹ ہوئے۔
گجرات5، حافظ آباد3، ملتان147، وہاڑی7، فیصل آباد228، چنیوٹ9، ٹوبہ ٹیک سنگھ26، جھنگ20 اور رحیم یارخان میں 9کیسز سامنے آئے.سرگودھا میں 14، میانوالی 2،خوشاب2، بھکر2، بہاولنگر17، بہاولپور99، لودھراں 11، ڈی جی خان99، مظفر گڑھ49، راجن پور 5،لیہ 38، ساہیوال8، اوکاڑہ1، پاکپتن میں 1 کیس سامنے آیا۔ کورونا وائرس سے 34 مزید اموات، کل تعداد 807 ہو چکی ہیں۔
اب تک 308,806 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 8643 ہو چکی ہے۔
عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فورا 1033 پر رابطہ کریں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ڈرنے کی بجائے اللہ سے ڈریں ،
اپنے ایک بیان میں چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ مزدوری کرنے والوں، اپنے ملازمین اور اردگرد غریب اور مستحق لوگوں کو ڈھونڈیں اور ان کو کھانا دیا کریں۔ جب اللہ راضی ہوتا ہے تب ہی معجزات ہوتے ہیں، اس کی مثال میری اپنی زندگی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اللہ راضی ہے تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ میرے اور تمام لوگوں کیلئے یہ واقعی لمحہ فکریہ ہے، کورونا وائرس سے ڈرنے کی بجائے اللہ سے ڈریں۔
چودھری شجاعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ اس وباء سے بچنے کیلئے اللہ کو راضی کریں اور حضورﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنی زندگی گزاریں۔ میں بار بار سب کو یہی تاکید کر رہا ہوں کہ یہ وائرس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وارننگ ہے۔ دوا کے ساتھ ساتھ دعا کا ہونا بہت ضروری ہے۔
چودھری شجاعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی غلطیوں کا احساس کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔ یہ سمجھنے کی بات ہے کہ پوری دنیا میں طاقت کا معیار بدل چکا ہے، ایٹم بم اور میزائل اس وائرس کو نہیں مار سکتے ۔ طاقتور ہونے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ چکے ہیں۔ میرا اس بات پر یقین اور پختہ ہو گیا ہے کہ دوا کے ساتھ ساتھ دعا کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر اللہ راضی ہے تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے
ریسکیو 1122 نے پنجاب میں کتنے کرونا مریضوں کو ہسپتال و قرنطینہ مراکز منتقل کیا؟ اعدادوشمار جاری
کوروناوارڈ کا مقصد ریسکیورز کی بہتر دیکھ بھال کرنا اور ان کے خاندان اور دوستوں میں کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اس حوالے سے ریسکیو ہیڈکوارٹرز لاہور میں اجلاس ہوا جس میں ر یسکیو ہیڈ کوارٹرزاورایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
کورونا کے شکار ریسکیورز کے لیے دوہال اور چھ کمروں پر مشتمل کوروناریسکیو وارڈ میں ریسکیورز کے لیے رہنے، کھانے پینے اور نرسنگ کئیر کے بہترین انتظامات موجود ہیں۔ڈی جی ریسکیو پنجاب نے رجسٹرار ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کو ہدایات دیں کہ وہ کورونا ریسکیو وارڈ کے تمام انتظامی معاملات کو اپنی نگرانی میں یقینی بنائیں خاص طور پر وارڈ میں موجود نرسنگ کئیرسٹاف کو باقاعدہ سیفٹی کٹس فراہم کریں،صفائی و ستھرائی کا خیال رکھیں، مریضوں کی استعمال شدہ چیزوں کی باقاعدہ ڈس انفیکشن،بروقت لانڈری سروسز،اچھا کھانااور صحت مندماحوال فراہم کریں تاکہ کورونا کے شکارریسکیور زکوبہتر سہولیات میسرہوں اور وہ جلد صحت یاب ہو کر عوام کی خدمت کرسکیں۔ یہ سہولت پنجاب بھر کے ان ریسکیورز کے لیے ہے جن کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور ان کے گھر میں الگ رہنے کے لیے مناسب انتطامات موجودنہیں ہے۔
ڈاکٹر رضوان نصیر نے کورونا مریضو ں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ تمام ریسکیورز اور ریسکیو افسران جن کو کورونا علامات ظاہر ہوں فوراً اپنا کورونا ٹیسٹ کروائیں تاکہ ان کو کام سے الگ کر کے صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں اور انکی فیملیز اور ساتھ کام کرنے والوں میں کورونا کے ممکنہ پھیلاؤکی روک تھام کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی سروس نے اب تک پنجاب بھرمیں 11000ممکنہ کورونا مریضو ں کو شفٹ کیا جس میں سے 8116 مریضوں کو ہسپتال اور 2884مریضوں کو قرنطینہ سنٹر میں منتقل کیاگیا۔ مزید برآں 963ممکنہ کورونا میتوں کی تدفین بھی ریسکیورز نے کی۔ ریسکیورز کورونامریضوں کی منتقلی سے لے کر تدفین تک تمام مراحل میں فرنٹ لائن ایمرجنسی ریسپانڈرز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس لیے انہیں اپنی سیفٹی کو بھی یقینی بنانا چاہیے تاکہ دوسروں کو محفوظ رکھ سکیں۔
قبل ازیں اجلاس کے دوران ڈاکٹر فرحان خالد لیڈر پاکستان ریسکیو ٹیم نے ڈی جی ریسکیوپنجاب کو لاہور ایکسپوسنٹر میں قائم کئے گئے درجہ بندی(Triage) سنٹر و اسپتال کے بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 31مارچ 2020سے اب تک کل36 42مریض درجہ بندی(Triage) سنٹر آئے جن میں سے 2759مریض معمولی کھانسی نزلہ وبخار کی علامات کی وجہ سے ڈاکٹر سے ہدایات لینے کے بعد گھر چلے گئے۔1208کرونا مثبت کے مریضوں کو ایکسپو آئسولیشن سنٹر میں داخل کیاگیا اور 268کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ ریسکیوسروس24/7کورونا اور معمول کی دوسری ایمرجنسیز میں عوام کی مدد کیلئے موجود ہے تاہم عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ سمارٹ لاک ڈاؤن کو احترام کریں اور غیرضروری طور پر گھروں سے نکلنے اور ہجوم کی صورت اکٹھا ہونے سے گریز کریں گورنمنٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات پر عمل پیرا ہوں تاکہ کرونا کے پھیلاؤکو روکا جاسکے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورونا کے تشویشناک مریضوں کے لئےایکٹمرا انجیکشن خریدنے پرپابندی عائد کردی گئی ،
کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے ایکٹمرا انجکشن کے ایس اوپیزجاری کردیئے ، محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈی ہیلتھ نے ہسپتالوں کو ایکٹمراانجکشن خریدنے پر پابندی عائد کردی،اگر کوئی ہسپتال انجکشن خریدنا چاہتا ہے تو ضرورت کے مطابق آگاہ کرے گا۔
ڈی ایچ کیو ،ٹی ایچ کیو میں ایکٹمرا استعمال کرنے کافیصلہ کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کریگا،ایکٹمراانجکشن کورونا مریضوں کو تجویز کرنے اور لگانے کیلئے ایکسپرٹ کی ضرورت ہوتی ہے ،
پرائمری اینڈ سکینڈی ہیلتھ کیئرپنجاب نے تمام ہسپتالوں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کردیا۔
کورونا کے شدید مریضوں کی جان بچانے والا انجیکشن ایکٹمرا چند ہفتہ پہلے 25 ہزار روپے فی انجیکشن تھا۔ جب سے اسےکورونا مریضوں کیلیے تجویز کیا گیا یے اسکی پاکستان میں بلیک مارکیٹ میں قیمت تین لاکھ سے چار لاکھ روپے ہوگئی ہے
ایکٹمرا انجیکشن کے فوائد نظر آئے ہیں۔ دنیا کے مقابلے میں بہت بڑے پیمانے پر ہم اس کا ٹرائل کرنے جارہے ہیں۔1 ہزار مریضوں پہ ٹرائل کی وزیر اعلیٰ پنجاب نے باقاعدہ اجازت دی ہے۔
یاد رہے ایکٹمرا انجیکشن ہر کسی کو لگانے کی اجازت نہیں، اس کا ایک مخصوص کرائٹیریا اسکے استعمال سے قبل اجازت لینا ضروری ہے۔ اس کا غلط استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی پر پاکستان ایشیا، بحر الکاہل کا چوتھا خطرناک ترین ملک قرار،کورونا سے نمٹنے کی صلاحیت میں پاکستان دنیا کے پہلے سو ممالک میں بھی شامل نہیں
بھارت 56،بنگلہ دیش 84 اور پاکستان 148 نمبر پر ہے ،کرونا سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی صلاحیت کو کم تر قرار دیا گیا ہے، رپورٹ میں سوڈان کو خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے.
ہانگ کانگ کے اسٹڈی گروپ نے ممالک کی درجہ بندی کی تیاری میں وبا سے نمٹنے کے لیے طبی وسائل کے استعمال، قرنطینہ کی سہولیات، وائرس کی تشخیص کی صلاحیت اور معاشی نقصانات کی رفتار کو معیار بنایا ہے۔
درجہ بندی میں سوئٹزرلینڈ کورونا سے کم نقصان اٹھانے والے ممالک میں سرفہرست ہے جب کہ دوسرے نمبر جرمنی اور تیسرے نمبر پر اسرائیل ہے۔
فہرست میں چین کا ساتواں، نیوزی لینڈ کا 9، جنوبی کوریا 10، سعودی عرب 17 ، ترکی 37، بھارت 56، امریکا 58، برطانیہ 68 اور بنگلادیش کا 84 واں نمبر ہے۔
200 خطوں اور ممالک کی اس رپورٹ میں پاکستان کا نمبر 148 ہے۔ رپورٹ میں خطوں کے حساب سے ملکوں کاسیفٹی اسکور جاری کیا گیا ہے۔
ایشیا اینڈپیسیفک ریجن میں سب سے زیادہ سفیٹی اسکور سنگاپور کا ہے، پاکستان کا سیفٹی اسکور 370، بھارت کا اسکور 535 اور بنگلادیش کا 482 بتایا گیا ہے تاہم خطے کا سب سے کم سیفٹی اسکور افغانستان کا 310 ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5 ہزار سے اائد مریض سامنے آئے ہیں، پاکستان میں اموات مین بھی آئے روز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اراکین اسمبلی بھی کرونا کا شکار ہو رہے ہیں، پاکستان میں کوئی بھی کرونا سے محفوظ نہیں رہا، صحافی، سیاستدان، پولیس، ڈاکٹر، وکیل، جج ہر کوئی کرونا کا نشانہ بن رہا ہے
چکوال میں شوگر کے مریض کی موت، محکمہ صحت کی جانب سے کرونا ظاہر کرنے پر لواحقین کی وزیراعظم کو گالیاں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضلع چکوال کی ہسپتال انتظامیہ نے شوگر کے مریض کی موت ہونے پر اسے کرونا مریض ظاہر کر دیا جس پر مریض کے لواحقین نے ہسپتال کے باہر احتجاج کیا ہے
چکوال میں شوگر اور گردوں کی بیماری میں مبتلا مریض کی موت ہو گئی جسکی ڈیڈ باڈی کو کرونا کی ٹیم لینے آ گئی اس پر مریض کے لواحقین نے احتجاج کیا اور انکو باڈی لے ک جانے سے روک دیا ۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال سے قبل وائرل ہونے والی ویڈیو جس میں لواحقین پیرا میڈیکل سٹاف کیخلاف احتجاج کررہے ہیں کی مریضہ نگہت یاسمین زوجہ محمد عمران ساکن ارڑ دوران علاج وفات پاگئیں مرحومہ ذیابیطس اور گردے کے امراض میں مبتلا تھیں
محکمہ صحت کی ٹیم نے مریضہ کی تدفین نے کرونا ایس او پیز کے تحت تدفین کے لئے ٹیم کو بلا لیا جس پر لواحقین نے ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اس احتجاج میں مرد اور خواتین جمع تھے، احتجاج میں شامل خواتین نے وزیراعظم عمران خان کو گالیاں دیں، مرد حضرات بھی پیچھے نہیں رہے اور وزیراعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا.
محکمہ صحت کے افسران کیمطابق مرحومہ کا کوروناء ٹیسٹ بھی لیا گیا تھا لیکن اس کی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی لیکن مرحومہ میں دوسری بیماریوں کی علامات زیادہ پائی جاتی تھیں
بعد ازاں مرحومہ نگہت کےبھائی محمد مزمل کیمطابق ان کا ڈاکٹرز کیخلاف احتجاج غلط فہمی کا نتیجہ تھا جو بعدازاں دور کردی گئی مرحومہ کو ان کے آبائی گاوں ارڑ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر نے ملک بھر میں وینٹی لیٹرز کے حوالہ سے تازہ ترین اعدادوشمار جار ی کر دیئے
پنجاب کے اسپتالوں میں کورونا کےلیے 9 ہزار 276 بیڈ مختص کئے گئے ہیں،پنجاب میں 3 ہزار 500 بیڈز پر آکسیجن کی سہولت موجود ہیں،پنجاب میں 387 وینٹی لیٹرز موجود ہیں،لاہور 214،فیصل آباد 57،راولپنڈی 64 اور ملتان میں 18 وینٹی لیٹرزموجود ہیں،پنجاب میں اس وقت 159 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں،
سندھ میں کورونا کے 8ہزار 94 بیڈ موجود ہیں،سندھ میں 548بیڈ کے ساتھ آکسیجن کی سہولت موجود ہے،سندھ میں وینٹی لیٹرز کی تعداد 304ہے،کراچی 214 اور حیدر آباد میں 20 وینٹی لیٹرز ہیں،سندھ میں اس وقت 83 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں،
خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 110 بیڈ کورونا کےلیے مختص ہیں،628بیڈز کے پی میں آکسیجن کے لیے موجود ہے، خیبر پختو نخوا میں 313 وینٹی لیٹرز ہیں،پشاور 79 اور ایبٹ آباد میں 12 وینٹی لیٹرز ہیں،خیبرپختونخوا میں اس وقت 70 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں،
بلوچستان میں 2 ہزار 148 بیڈ کورونا مریضوں کےلیے مختص کئے گئے ہیں،بلوچستان میں 68بیڈز پر آکسیجن کی سہولت موجود ہے، بلوچستان میں 29 وینٹی لیٹرز موجود ہیں،اس وقت بلوچستان میں کوئی مریض وینٹی لیٹر پرنہیں،
اسلام آباد میں کورونا کےلیے 520 بیڈ مختص ہیں،اسلام آباد میں 262بیڈز کے ساتھ آکسیجن کی سہولت موجود ہے،اسلام آبادمیں 94 وینٹی لیٹرز موجود ہیں،اسلام آبادمیں اس وقت 10 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں،
گلگت بلتستان میں کورونا کےلیے 151 بیڈ مختص ہیں،گلگت بلتستان میں 43بیڈز پرآکسیجن کی سہولت موجود ہے،گلگت بلتستان 28 اور گلگت میں 5 وینٹی لیٹرز ہیں،اس وقت گلگت بلتستان میں کوئی مریض وینٹی لیٹر پرنہیں،
آزادکشمیر میں کورونا کے مریضوں کےلیے 379 بیڈز مختص ہیں،آزادکشمیر میں 68بیڈز پر آکسیجن کی سہولت موجود ہے،آزادکشمیر میں 43 وینٹی لیٹرز ہیں، مظفرآباد 18 اور میرپور میں 11 وینٹی لیٹرز ہیں،آزادکشمیر میں بھی کوئی مریض وینٹی لیٹرپرنہیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے، مریضوں اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،
گزشتہ 24 گھنٹوں میں 83 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5385 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد پاکستان میں مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 13 ہزار 702 ہو گئی ہے، پاکستان میں اموات کی مجموعی تعداد 2255 ہو گئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 385 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 43 ہزار 460، سندھ میں 41 ہزار 303، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 527، بلوچستان میں 7 ہزار 31، گلگت بلتستان میں 974، اسلام آباد میں 5 ہزار 963 جبکہ آزاد کشمیر میں 444 مریض سامنے آئے
پاکستان میں کرونا کے اب تک 7 لاکھ 54 ہزار 252 افراد کے ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں. گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 ہزار 799 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 36 ہزار 308 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 83 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 2 ہزار 255 ہوگئی۔ سندھ میں 696، پنجاب میں 807، خیبر پختونخوا میں 610، اسلام آباد میں 57، گلگت بلتستان میں 14، بلوچستان میں 62 اور آزاد کشمیر میں 9 مریض جان کی بازی ہار گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں لیاقت نیشنل اسپتال انتظامیہ نے ٹریفک حادثہ میں جاں بحق خاتون کو کورونا پازیٹیو ڈیکلئر لاش ضبط کرلی۔
عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ روڈ ایکسڈنٹ میں جابحق ہونے والی مقبول کاکڑ کی اہلیہ کو لیاقت نیشنل اسپتال انتظامیہ کی جانب سے کورونا پازیٹیوں ڈیکلیئر کرنا انکے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے. تحقیقات ہونی چاہیئے کہ آیا کس بنیاد پر لیاقت نیشنل اسپتال کی انتظامیہ روڈ ایکسڈنٹ میں جابحق ہونے والی کو کرونا پازیٹیوں ڈیکلیئر کررہی ہے.
شاہی سید کا کہنا تھا کہ اسپتال انتظامیہ جلد سے جلد مرحومہ کی لاش لواحقین کے حوالے کرے. تاکہ لواحقین میت کی تدفین کے انتظامات کرسکے. بصورت دیگر حالات خراب ہونے کی تمام تر زمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگی. سندھ حکومت سے واقعہ کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کرتا ہوں. غیر جانبدار صحت کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو انکوائری کرے کہ آیا وہ کیا محرکات ہے جنکی وجہ سے حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کو ہسپتال انتظامیہ کرونا مریض ڈیکلیئر کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ مقبول کاکڑ جو کہ عوامی نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ ساؤتھ کراچی کے نائب صدر ہے. دو روز قبل فیملی کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی آتے ہوئے انکا روڈ ایکسڈنٹ ہواتھا. ایکسڈنٹ میں انکا بیٹا موقع پر ہی جاںبحق ہوگیا تھا. جبکہ وہ خود اور انکی اہلیہ شدید زخمی تھے. اور علاج کی غرض سے لیاقت نیشنل ہسپتال کراچی میں داخل تھے.
آج صبح انکی اہلیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئی،. ہسپتال انتظامیہ نے انکی اہلیہ کو کرونا پازیٹیوں ڈیکلیئر کرکے انکی لاش لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کردیا. جس پر انکے خاندان کے آفراد اور اے این پی کے کارکنان میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وبا کا خطرہ بڑھ گیا ہے،کیا سندھ اسمبلی بن ہونی چاہئے، متاثرہ اراکین اسمبلی کیا کرونا پھیلا رہے ہیں، سندھ میں لاک ڈاؤں کا پورے ملک میں ڈھنڈورہ پیٹنے والی حکومت خود سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھ رہی، خدشہ کے پوری کی پوری سندھ اسمبلی وبا کی لپیٹ میں آ چکی ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے وبا کے خلاف اقدامات کرنے پر تعریفوں کے پل باندھے جاتے تھے، مراد علی شاہ خود بھی وفاقی حکومت کے خلاف لاک ڈاؤن کے حوالہ سے بڑے اچھل اچھل کر تنقید کرتے نظر آتے تھے اور شروع میں تو دعوے کئے گئے کہ سندھ میں تو پنجاب سے بھی زیادہ وبا سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے گئے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وبا کے خلاف کام کرنے سے کہا جا رہا تھا کہ اس سے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی ماضی کی تمام ناکامیاں اور نااہلیاں دھل گئیں،مگر اب یہ دھلے دھلائے سب سے زیادہ بیمار ی کا باعث بن رہے ہیں اور بیماری پھیلا رہے ہیں،یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ سندھ اسمبلی وبا کا نیا ایپک سنٹر نہ بن جائے، سندھ اسمبلی کے اجلا س سے قبل ایس او پیز کے تحت 50 فیصد سے زائد اراکین اور ملازمین کے کرونا کے ٹیسٹ کی رپورٹ ملی ہی نہیں،اور کئی مثبت اراکین اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے، اب نیگٹو اراکین میں وبا کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اراکین سندھ اسمبلی کے وبا کے نمونے سندھ اسمبلی میں ہی لئے گئے،مگر سندھ اسمبلی اجلاس کے بعد بھی اراکین اور اسمبلی سٹاف کو رپورٹ نہیں ملیں،حیران کن طور پر ٹیسٹ رپورٹ نہ ملنے کے باوجود اراکین اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے،جس سے وبا دوسروں کو منتقل ہوا، اب پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا، اب سندھ اسمبلی سیشن میں یہ شرکت کر رہے ہیں، ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی شاہانہ اشعر کو بھی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ دوران اجلاس ملی، سیکرٹری سندھ اسمبلی نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ اراکین اسمبلی اور اسٹاف کو ٹیسٹ کی رپورٹ ملی ہی نہیں، خدشہ ہے کہ اسمبلی اجلاس میں شریک دیگر اراکین اور ملازمین وائرس کا شکار نہ ہوں، اندازہ نہ لگائیں 50 فیصد اراکین کے ٹیسٹ ہوئے اور کئی کی رپورٹ نہیں ہوئی، جبکہ باقی 50 فیصد کے ٹیسٹ ہی نہیں ہوئے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سندھ اسمبلی میں 50 فیصد اراکین اسمبلی کے ٹیسٹ پازیٹو ہیں، یا 70 فیصد یا پھر پوری اسمبلی، اب اس بارے میں بات نہیں ہو سکتی،اب سارا ملبہ محکمہ صحت پر ڈالا جا رہا ہے کہ انہوں نے وقت پر ٹیسٹ نہیں کئے، محکمہ صحت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا جس کی وجہ سے اراکین اسمبلی وبا کا شکار ہو گئے، لیکن کیا یہ اراکین اسمبلی اتنے غریب تھے کہ اپنے ٹیسٹ خود نہیں کروا سکتے تھے،اور جو مثبت تھے یا ان میں علامات تھیں تو کیا انہوں نے احتیاط کیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے حالات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں کیونکہ شیخ رشید او رشاہد خاقان کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں،قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی نے کئی اراکین کو متاثر کر دیا ہو گا، سپیکر قومی اسمبلی تو کرونا کا شکار ہو کر صحتیاب ہو چکے ہیں،پہلے ہی کئی اراکین اسمبلی کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں، اگر ایس او پیز کو فالو کرنے کا کہا جا رہا ہے اور سیاسی شخصیات جو ایس او پیز کو فالو نہیں کر رہیں اور دوسروں کو بھی وبا سے متاثر کر رہی ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ کیا اسمبلی کو بند کر دیا جائے،اور تمام مثبت اراکین اسمبلی کو گھروں کی بجائے انہی جگہ پر قرنطین ہونا چاہئے جہاں انہوں نے عوام کو رکھا ہوا ہے تا کہ انہیں پتہ چلے کہ وہاں رہا کیسے جاتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، وبا کے متاثرین تیزی سے بڑھ رہے ہیں،یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہیں، دنیا بھر میں 70 لاکھ 91 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں، امریکہ آج بھی عالمی وبا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، امریکہ میں جاری مظاہروں کے بعد یہ تعداد مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہے، امریکہ کے بعد برطانیہ میں کرونا کے سب سے زیادہ مریض ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، خدشہ ہے کہ انڈیا وبا سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک ہو گا،لاک ڈاؤن ختم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وبا ختم ہو گئی ہے لیکن ہمارے رویوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب تک ہم پر سختی نہ کی جائے ہم نہین مانیں گے، نتیجہ آپ کے سامنے ہے، ملک میں تیزی سے وبا پھیل رہی ہے، اگر اب بھی بطور قوم احتیاط نہ کی تو نتایج اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ،آمین