Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی،وفاقی وزیر بھی کرونا کا نشانہ بن گئے

    وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی،وفاقی وزیر بھی کرونا کا نشانہ بن گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی سپیڈ جاری ہے ، ایک دن میں‌ 78 اموات ہوئی ہیں

    دوسری جانب وفاقی وزیر شہر یار آفریدی بھی کرونا کا شکار ہو گئے، شہر یار آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میرا کرونا وائرس ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے اور میں نے ڈاکٹرز کی ہدایت پر اپنے آپ کو گھر پر آئسولیٹ کرلیا ہے.

    شہر یار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو موذی وباء سے محفوظ بنائے اور وزیراعظم عمران خان سرخرو ہوں. آمین

    قبل ازیں گزشتہ روز حکمران جماعت تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ملک کرامت کھوکھر کورونا کا شکار ہو گئے

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ملک کرامت کھوکھر نے کورونا ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ مثبت آئی، کرامت کھوکھر نے خو د کو گھر پر قرنطینہ کر لیا ہے۔

    کرامت کھوکھر لاہور کے حلقے این اے 135 سے تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں نمائندگی کرتے ہیں.

    چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے بھی چند روز قبل کرونا کا ٹیسٹ کروایا تھا جو منفی آیا تھا

    وزیرآباد سے مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی شوکت منظور چیمہ کرونا کا شکار ہوئے تھے، ان کی حالت بگڑنے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے، کرونا کا ٹیسٹ مثبت آنے پر انہوں نے گھر میں خود کو قرنطینہ کر لیا تھا تا ہم طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    قبل ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما انجینئر امیر مقام، سینٹر نہال ہاشمی، عطاء اللہ تارڑ میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا تھا، شہباز شریف کے آفس سیکرٹری کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد شہباز شریف نے بھی خود کو قرنطینہ کر لیا ہے

    سندھ اسمبلی کے 8 ارکان کے کورنا ٹیسٹ مثبت آگئے ,3جون کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کیلئے تمام ارکان کو کورنا ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی جس پر سندھ اسمبلی کے اراکین نے کرونا کے ٹیسٹ کروائے جن میں سے 8 اراکین میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے،

    سیکرٹری سندھ اسمبلی کا کہنا ہے کہ کورنا ٹیسٹ کرائے بغیر کسی رکن کو اسمبلی آنے کی اجازت نہیں ہوگی، ڈپٹی اسپیکر اور اسپیکر سندھ اسمبلی بھی کورنا ٹیسٹ کرائیں گے،محکمہ صحت کی ہدایت پر تمام ارکان اسمبلی کو عمل کرنا ہوگا، سعدیہ جاوید اور ساجد جوکھیو میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں آئسولیٹ کر لیا ہے.

    سندھ کے صوبائی وزیرغلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ,غلام مرتضیٰ بلوچ دو دن سے کرونا کی علامات محسوس کر رہے تھے، انہوں نے ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا ، کرونا تشخیص ہونے کے بعد صوبائی وزیر ںے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے

    رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سہراب سرکی سمیت گھر کے 6افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے،رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سہراب سرکی نے ویڈیو بیان میں کرونا وائرس کی تصدیق کی، انکا کہنا تھا کہ گھر کے 6 افراد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد مجھ سمیت سب نے خو دکو قرنطینہ کر للیا ہے

    ایم کیو ایم کی رکن سندھ اسمبلی منگلا شرما میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ منگلا شرما کا کہنا تھا کہ میرے شوہر نے حال ہی میں بلوچستان کا سفر کیا تھا جس کے بعد شوہر اور مجھ میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔میں اور میرے شوہر قرنطینہ میں ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے سندھ سے اقلیتی نشست پر رکن صوبائی اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ،اس حوالہ سے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھہیم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرپارکر سے سندھ اسمبلی کی خصوصی نشست پر منتخب پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی رانا ہمیر سنگھ کی کرونا کی رپورٹ مثبت آئی ہے، انہوں نے کرونا کا ٹیسٹ کروایا تھا جس کی رپورٹ میں ان میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے

    واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی وہ صحتیاب ہو چکے ہیں. پاکستان میں کرونا سے دو اراکین اسمبلی کی موت ہو چکی ہے، پنجاب سے تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شاہین کی گزشتہ روز موت ہوئی، بلوچستان کے رکن اسمبلی اور سابق گورنر کی بھی کرونا کی وجہ سے موت ہو چکی ہے

    ملتان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک کرونا کا شکار ہوگئے صوبائی وزیر نے گزشتہ روز کرونا ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ پازیٹو آئی ڈاکٹر اختر ملک گھر میں آئیسولیٹ ہوگئے ہیں ۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے

    بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور بلیدی بھی کرونا وائرس کا شکار بن گئے .کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد ظہور بلیدی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثب آیا ہے، مجھ میں کورونا کی علامات ظاہرنہیں ہوئیں لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت پرخود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔صحت یاب ہو رہا ہوں، صحت یابی کےلیے دعا کرنے والوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، متعدد اراکین اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے،سیاسی رہنماؤن میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے کچھ صحتیاب ہو چکے ہیں

    سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی، ڈاؤ یونیورسٹی کی ماہر امراض نسواں پروفیسر نصرت شاہ کرونا وائرس کا شکار ہو گئی ہیں،رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے اپنی بہن کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کردی،

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بعد اب قومی اسمبلی کے 2 اراکین اور متعدد ملازمین میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی  ۔ سپیکر قومی اسملبی کرونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں.اراکین پارلیمنٹ کے ٹیسٹ کی رپورٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد نے جاری کی ہے ۔ جس کے مطابق کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی گل ظفر خان اور محبوب شاہ میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ، رکن قومی اسمبلی گل ظفر کا تعلق باجوڑ سے جبکہ رکن قومی اسمبلی محبوب شاہ کا تعلق لوئر دیر سے ہے .

    گزشتہ ماہ کے آخر میں ہی متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی اور خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ خان کو بھی کورونا وائرس ہوا تھا۔

    لوئردیر میں اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی حاجی بہادرخان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی حاجی بہادرخان، ان کے بیٹے عبدالرشیدخان نواسہ عبدالواجدخان اور بخت بیدارجان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد سب کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے،

    وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی راشد ربانی کا کورنا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے،وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی نے تصدیق کردی، راشد ربانی میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے

    وبا کے کامیاب طریقہ علاج کی طرف پیشرفت، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    ناامیدی کفر ہے، مشکل حالات میں امید کی کرن…مبشر لقمان کی تازہ ترین ویڈیو لازمی دیکھیں

    امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی کرونا کا شکار ہوئے وہ صحت یاب ہو چکے ہیں ، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید بھی خاندان کے 9 افراد کے ہمراہ کرونا کا شکار بنے ،وہ صحتیاب ہو چکے ہیں. ن لیگی رہنماؤں امیر مقام، نہال ہاشمی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے.

  • کرونا کی پاکستان میں سپیڈ جاری، ایک دن میں 78 اموات، مریضوں‌ میں بھی اضافہ

    کرونا کی پاکستان میں سپیڈ جاری، ایک دن میں 78 اموات، مریضوں‌ میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا نے سپیڈ پکڑ لی ہے، کرونا سے ایک دن میں 78 اموات ہوئی ہیں، 2429 نئے مریض سامنے آئے ہیں

    پاکستان میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 66 ہزار 457 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار 395 ہوگئی ہے

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2429 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 24 ہزار 104، سندھ میں 26 ہزار 113، خیبر پختونخوا میں 9 ہزار 67، بلوچستان میں 4 ہزار 87، گلگت بلتستان میں 660، اسلام آباد میں 2 ہزار 192 جبکہ آزاد کشمیر میں 234 مریض ہیں

    پاکستان میں اب تک 5 لاکھ 32 ہزار 37 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 ہزار 20 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 24 ہزار 131 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 78 افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار 395 ہوگئی۔ سندھ میں 424، پنجاب میں 439، خیبر پختونخوا میں 445، گلگت بلتستان میں 9، بلوچستان میں 46 اور اسلام آباد میں 23 مریض جان بحق ہو چکے ہیں.

    پاکستان میں اب تک 462 ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز مریضوں کا علاج جاری ہے، ان ہسپتالوں میں 7295 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے.

    لاک ڈاؤں میں نرمی کے بعد عوام کی جانب سے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے کرونا مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، عوام کو چاہئے کہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی ایس او پیز پر عمل کریں

  • دو ڈاکٹروں کا بیٹا اور ڈاکٹری کا طالب علم، کرونا سے لڑتے لڑتے شہید

    دو ڈاکٹروں کا بیٹا اور ڈاکٹری کا طالب علم، کرونا سے لڑتے لڑتے شہید

    لاہور :ٌدو ڈاکٹروں کا بیٹا اور ڈاکٹری کا طالب علم، کرونا سے لڑتے لڑتے شہید،باغی ٹی وی کے مطابق میڈیکل سٹوڈنٹ سلمان طاہر ڈاکٹری کے اس طالب کے ماں باپ بھی ڈاکٹر ہیں۔ یہ آج کورونا سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بعض لوگوں کی کم علمی اورجہالت کے حوالے سے کرونا سے لڑنے والوں نے شکوہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جبکہ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے جلاد لوگ ہیں جو یہ کہ رہے ہیں کہ کورونا نہیں ہے ڈاکٹر خود سے موت کا #ٹیکہ لگا رہے ہیں! اپنے بچوں کو بھی کورونا میں ڈال کر ٹیکہ لگا دیا کیا؟؟ جاگو پاکستانیوں! جہالت اور جھوٹ کے پیچھے مت بھاگو! احتیاط کرو!

    ادھر اطلاعات کے مطابق ایسے بھی واقعات سامنے آرہے ہیں‌کہ ایک ہی خاندان کے کئی کئی افراد اس مہلک وائرس سے ہلاک ہورہے ہیں‌، جیسا کہ ریڈیوپاکستان کی نیوزکاسٹرکی والدہ محترمہ ، ہمشیرہ محترمہ اورہماظفرخود اس وائرس کی وجہ سے وفات پاگئیں‌اورتین دن کے اندر ایک ہی خاندان کی تین افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ، تو پھربھی اگرکسی کو شک ہو تو وہ اللہ سے معافی مانگے

  • کرونا وائرس ، پاکستان نے کل جرمنی اور اٹلی کو مشترکہ طور پر پیچھے چھوڑ دیا

    کرونا وائرس ، پاکستان نے کل جرمنی اور اٹلی کو مشترکہ طور پر پیچھے چھوڑ دیا

    اسلام آباد:کرونا وائرس ، پاکستان نے کل جرمنی اور اٹلی کو مشترکہ طور پر پیچھے چھوڑ دیا ،باغی ٹی وی کے مطابق جہاں دوسرے ممالک میں کرونا وائرس کے کیسز میں کمی آرہی ہے پاکستان میں یہ وائرس اسی قدرتیزی سے پھیل رہاہے ، اطلاعات یہ ہیں کہ آج کے دن پاکستان میں‌ جرمنی اوراٹلی دونوں ملک سے مجموعی طورپرزیادہ کیسز سامنے آئے ہیں‌

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج جرمنی اور اٹلی میں 1150 کیسز رپورٹ ہوئے مگرپاکستان میں آج رپورٹ ہونےوالے کیسز کی تعداد 2067 سے تجاوز کرگئی ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں مگرجو سب سے زیادہ وجہ رپورٹ ہورہی ہے وہ اس وائرس سے بچنے کے لیے احیتاط کی کمی ہے ، ماہرین کہتے ہیں کہ جتنی زیادہ احتیاط کی جائے گی اتنا ہی زیادہ اس وائرس سے بچنے اورمحفوظ رہنے کے امکانات زیادہ ہیں‌

  • ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

    ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

    ایک مریض جو گذشتہ ہفتے فوت ہوا۔ آئیے جانتے ہیں کہ کس طرح ایک ہفتے میں کورونا انفیکشن موت کا باعث بن سکتا ہے۔ مریض پر دستیاب محدود معلومات کی وجہ میں مزید ضروری تفصیلات شامل نہیں کر سکا۔

    ‎مئی۱۶ ۔ مریض کو سر درد محسوس ہوا اور اسے ہلکا بخار

    ‎ مئی۱۸۔ مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ، اور اس نے اینٹی بائیوٹک زپیک کا آغاز کیا۔

    ‎ اس مرحلے پر ، کنبہ اور مریض کو احساس ہوا کہ یہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے۔ یہاں سے ہر دن اور ہر گھنٹہ بہت اہم تھا۔
    ‎ انہوں نے پھر بھی اسپتال سے رابطہ کرنے کا انتظار کیا جو بعد میں جان لیوا ثابت ہوا۔

    ‎ مئی۲۰: بخار بڑھ رہا تھا اور 104 تک پہنچ گیا۔

    ‎ مئی۲۱: مریض کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ آکسیجن کی سطح کی جانچ پڑتال کی گئی اور اسے 94 پر پایا گیا۔ ڈاکٹر نے نمونیا کے سیریس کیس کی تشخیص کی ، لیکن بہتری کے آثار دیکھے جاسکتے تھے۔

    ‎ مئی۲۳: آکسیجن کی سطح 96 ، مریض اب بھی بہتر ہورہا تھا۔

    ‎ مئی۲۴: صبح سویرے ، اسپتال نے اہل خانہ کو فون کیا گیا کہ وہ مریض کو وینٹیلیٹر پر رکھنے کی اجازت چاہتے ہیں کیونکہ آکسیجن میں مسلسل کمی آرہی تھی۔

    ‎ اسی دن ، مریض وینٹیلیٹر پر دو گھنٹوں میں فوت ہوگیا ، شدید نمونیہ کی وجہ سے پھیپھڑے متاثر پائے گئے۔

    ‎ پوری صورت حال کا تجزیہ:

    ‎ کورونا وائرس کی متوقع تشخیص کیے بغیر بخار۲ دن تک معمول کے بخار کے طور پر لیا گیا تھا۔ آج ، اگر ہمیں بخار یا کھانسی ہے ، تو ہمیں یہ فرض کر لینا چاہئے کہ یہ کورونا ثابت ہوگا۔ یہ دو دن اہم تھے اور پھیپھڑوں پر اثر ہونا شروع ہوگیا اور اینٹی بائیوٹک کے ساتھ خود سے علاج معاون ثابت نہیں ہوا۔ یہ دو دن مریض سے کورونا فیملی میں منتقل ہونے کا سبب بنے۔ خاندان کے باقی افراد کو بچانے کے لئے یہاں فوری طور پر قرنطین کی ضرورت تھی۔

    ‎ پانچ دن کے بعد ، بخار کی شکل میں کورونا کی پہلی نشاندہی کے بعد سے ، مریض کو اسپتال لے جایا گیا۔ ، 5 دن دیر ہونے سے پھیپھڑوں پر بری طرح اثر پڑا ہے۔

    ‎ جب مریض میں بہتری آرہی تھی تو اچانک کیوں ہسپتال کے عملے نے مریض کو وینٹیلیٹر لگانے کا سوچا اور پھر بھی مریض وینٹی لیٹر لگانے کے بعد گھنٹوں میں ہی دم توڑ گیا۔ یہاں لگتا ہے کہ ہسپتال سے کچھ غفلت برتی گئی ، وہ بگڑتی ہوئی حالت کو بروقت نہیں دیکھ سکے اور وینٹی لیٹر پر مریض ڈالنے میں دیر کردی۔ کورونا مریض کے ساتھ کوئ فیملی ممبر نہیں ہوسکتا اور مریض مکمل طور پر اسپتال کے عملے کے رحم و کرم پرھوتا ہے اور اسپتال کی کسی بھی غفلت کا پتہ نہیں چلے گا، چاہے اس کی وجہ سے موت واقع ہو جاۓ۔ یہ کورونا علاج کی ایک افسوسناک حقیقت ہے۔

    ‎ مجھے یقین نہیں ہے کہ ہمارے کسی محکمہ صحت میں سے کسی نے بھی کسی سطح پر ایسی آگاہی پیدا کی ہے جہاں ہر مریض کی حالت "روزانہ کی بنیاد پر” کو عوامی شعور کے لیے پھیلایا گیا ہو تاکہ لوگوں کو مطلوبہ ایکشن کے بارے میں بہتر طور پر تیار کیا جاسکے۔ مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ میڈیا کے کسی بھی حصے نے اس طرح کی آگاہی کی کوشش نہیں کی۔

    ‎ پھر بھی یہ تبصرہ ناکافی ہے کیوں کہ میں 16 مئی سے لے کر 25 مئی تک گھر میں اور بعد میں اسپتال میں مریض کو دیئے جانے والے علاج کی تفصیلات نہیں جانتا اور نہ کوئ ایکسپرٹ تجویز دے سکتا ہوں۔

    ‎ آنے والے دنوں میں ، اسپتالوں کی استعداد مریضوں کو بچانے کے لئے کافی نہیں ہو گی، جو ہمیں ایک سنگین سوال کی طرف لے جاتا ہے۔ کیا ہم نے اسپتالوں کے بغیر کورونا مریض کے انفرادی سطح کے علاج معالجے اور ہینڈلنگ کے کے بارے میں سوچا ہے؟ یہ صورتحال جلد ہی آرہی ہے ، یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس ممکنہ منظرنامے کو پورا کرنے کے لئے "ابتدائی طبی امداد” سے متعلق خود سے متعلق علاج کے بارے میں شعور پیدا کیا جاۓ۔

    ‎جان بچانے کیلۓ غیر روایتی آپشن بھی لی جا سکتی ہے ، لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ ریموٹ آپشنز کیا ہیں؟ عوام کو کون نصیحت کرے گا؟ کون بیداری پیدا کرے گا؟ ہمیں جان بچانے کے علاج کی حکمت عملی کو بہتر بنانا چاہئے۔

    ‎ آئیے یہ سوالات تمام صوبوں اور علاقوں اور خاص کر میڈیا پر زیر بحث لاۓ جائیں

    ‎ کیا ہم نے نجی اسپتالوں اور فارمیسیوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا ہے جب ایک بار سرکاری اسپتالوں کی صلاحیت کم ہوجائے گی؟ ہمیں نجی اسپتالوں کو کورونا علاج ، وینٹیلیٹر اور ائسولیشن کے کمروں کی دستیابی کے لئے حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔ ہمیں صحیح دوائیوں کے ساتھ کورونا مریض کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے فارمیسیوں کو تیار کرنا چاہئے۔

    ‎ کیا ہم نے گھر میں قرنطینہ کے بارے میں شعور پیدا کیا ہے؟

    ‎ کیا ہم مزید طبی مراکز کی تیاری کر رہے ہیں؟ مزید پھیلنے کی صورت میں

    ‎ ھرڈ امینونٹی ہمارا آپشن نہیں ہوسکتا ، یہ صرف فطرت کا اختیار ہے جب
    ‎ جب انسان وبائی مرض پر قابو پانے میں ناکام ہوجاتا ہے تو یہ مکمل ہو گا اور اسکا مطلب ہے کہ وائرس پاکستان کی 70٪ آبادی کو متاثر کرے گا۔ پاکستان میں ہرڈ امیینوٹی کا مطلب ہے کہ 10 سے 20 ملین افراد کو کھونا۔ میری عاجز رائے کے مطابق ، ھرڈ امینونٹی کو حکمت عملی کے طور پر بات کرنا جرم ہے۔

    ‎کرونا مریض – انفیکشن سے موت تک کا سفر —از— احمد جواد

  • پاکستان میں کورونا کے باعث دوبہنوں اور ان کی والدہ کی ہوئی موت

    پاکستان میں کورونا کے باعث دوبہنوں اور ان کی والدہ کی ہوئی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں ریڈیو پاکستان کے دو سینیئر ممبران کورونا وائرس کا شکار ہونے کے باعث انتقال کر گئے ۔جن میں براڈکاسٹر ڈاکٹر ہما ظفر بھی شامل تھیں۔

    وہ گذشتہ دو دہائیوں سے ریڈیو پاکستان کے شعبہ نیوز اینڈ کرنٹ افیئرزکے ساتھ منسلک تھیں۔ گذشتہ دنوں ان کی والدہ میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔بدھ کی شب ڈاکٹر ہما ظفر کی والدہ جب کہ جمعرات کی صبح وہ خود انتقال کر گئیں۔جب کہ اگلے دن ان کی بہن بھی لاہور میں کورونا کے باعث وفات پاگئیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انھوں نے حال ہی میں برطانیہ سے سائیکالوجی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کیا تھا اور وہ راولپنڈی کے وقارالنسا گرلز کالج میں بطور پروفیسراپنی خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔

    ہما ظفر نے یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے شعبہ نفسیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی فیلوشپ کی۔ وہ نفسیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر تھیں اور محکمہ تعلیم ، ہائر ایجوکیشن ونگ میں محکمہ تعلیم پنجاب میں پوسٹ گریجویٹ کلاسوں کی سربراہ رہیں۔ انہوں نے اپلائیڈ سائیکالوجی میں ماسٹر کی ڈگری شاندار تعلیمی کارکردگی کے ساتھ حاصل کی۔ 2005 میں ، انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد سے خصوصی تعلیم میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ 2007 میں اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد ، انہوں نے نفسیات میں ایم پی ایل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکولوجی ، سنٹر آف ایکسی لینس ، قائداعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد ، 2009 میں ، اور 2014 میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد میں نفسیات میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کے ڈاکٹریٹ مقالے کا عنوان تھا: نوعمروں میں غیر فعال علیحدگی اور انفرادیت اور خود مختاری: نفسیاتی دباو کا اظہار اور ان کا نظم۔

    انہوں نے نفسیات کے شعبے میں کتابیں بھی تصنیف کیں اور ان کے کریڈٹ پرکئی قومی اور بین الاقوامی اشاعتیں ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق وہ قومی اور بین الاقوامی جرائد کی ایڈیٹر اورپاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں ایم ایس سی اور ایم فل طالب علموں کے لئے بیرونی معائنہ کار بھی تھیں۔

    ڈاکٹر ہما ظفر کی رفقا پروفیسرز کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی عظیم خاتون تھیں جس کی مثال ملنا ناممکن تھیں۔ انہوں نے صرف اس لئے شادی نہیں کی تھی کہ ان کی والدہ سے انہیں شدید محبت تھی اور انہیں یہ گوارا نہیں تھا کہ وہ والدہ سے ایک لمحہ بھی جدا رہیں۔چنانچہ انہوں نے جب اپنی والدہ کی وفات کی خبرسنی تو اسی وقت انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہوسکیں

  • میجر گورو جتنے پیسے بالی وڈ فلمز پر لگائے اسکا کچھ حصہ عوام پر لگاتے تو اکثر گھروں میں ٹوائلٹ ہوتے۔ وینا ملک

    میجر گورو جتنے پیسے بالی وڈ فلمز پر لگائے اسکا کچھ حصہ عوام پر لگاتے تو اکثر گھروں میں ٹوائلٹ ہوتے۔ وینا ملک

     

    لاہور:میجر گورو جتنے پیسے بالی وڈ فلمز پر لگائے اسکا کچھ حصہ عوام پر لگاتے تو اکثر گھروں میں ٹوائلٹ ہوتے۔ ٌپاکستان کی معروف اداکارہ وینا ملک نے ایک بارپھربھارت پرچڑھائی کردی ہے، وینا ملک نے پاکستان کے خلاف زیراگلنے والے بھارتی میجر کو آڑے ہاتھوں لیا

     

     

    وینا ملک نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ہےکہ بھاری فوج اور مودی حکومت جس طرح پاکستان اورچین کے خلاف سازشیں کررہی ہے،اس کا نقصان بھارت کی عوام کو ہورہا ہے

     

     

    وینا ملک نے میجرگورو کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ جتنے آپ نے پیسے بالی ووڈ کے ذریعے پاکستان اورچین کو نقصان دینے کے لیے صرف کردیئے اگر اس سے آدھے پیسے بھارتیوں کے لیے طہارت حانے بنانے پرلگادیتے توآج بھارتیوں کے گھروں میں بھی طہارت خانے ہوتے اوران کو دور دور اس تکلیف کواٹھانے کے لیے نہ جانا پڑتا

  • ایک ہی دن میں چار ڈاکٹروں سمیت 72 پاکستانی کرونا کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے

    ایک ہی دن میں چار ڈاکٹروں سمیت 72 پاکستانی کرونا کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے

     

    لاہور:ایک ہی دن میں چار ڈاکٹروں سمیت 72پاکستانی کرونا کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کی تباہیاں جاری ہیں اورپچھلے 24 گھنٹے بہت ہی زیادہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں

     

     

    پاکستان میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے حوالے سے وجاہت کاظمی نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں لکھا ہےکہ پچھلے 24 گھنٹوں مٰیں 4 ڈاکٹروں سمیت 72 مریضوں کا کرونا کی وجہ سے فوت ہوجانا اب تک سب سے بڑا نقصان ہے ،

     

     

     

    وجاہت کاظمی کہتے ہیں کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاو کی ابتدا سے لیکرآج تک اس دن کا کیسز سب سے زیادہ ہیں ،اس وقت صورت حال ہے کہ ہسپتالوں میں جگہ نہیں اورنئے مریضوں کی تعداد میں کمی نہی آرہی ، بلکہ آج تو بہت زیادہ مریض ہسپتالوں می پہنچے

  • کرونا وائرس کی ویکسین تیارکرلی،99فیصد کامیاب اورموثرہوگی ، چینی فرم نے بڑا دعویٰ کردیا

    کرونا وائرس کی ویکسین تیارکرلی،99فیصد کامیاب اورموثرہوگی ، چینی فرم نے بڑا دعویٰ کردیا

    بیجنگ :کرونا وائرس کی ویکسین تیارکرلی،99فیصد کامیاب اورموثرہوگی ، چینی فرم نے بڑا دعویٰ کردیا،باغی ٹی وی کے مطابق ایک چینی فرم نے دعویٰ کیا ہےکہ اس نے کرونا وائرس سے بچاو کی ایک کامیاب ترین ویکسین تیارکرلی ہے ، چینی فرم نے تو اپنے دعوے میں اس ویکسن کے موثرہونے کا بڑے وثوق سے اعلان کیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق بیجنگ میں یہ چینی قائم بائیوٹیک کمپنی اس وقت ایک تجارتی پلانٹ بنا رہی ہے جس کا مقصد 100 ملین دوائی کی ڈوزز یعنی خوراک بنانے پرکام کررہی ہے ،یہ چینی بائیوٹیک کمپنی سونووک کے اندر ، جہاں ایک کورونا وائرس ویکسین بنانے پر کام کررہی ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ چینی سائنس دان اس ویکسین پر کام مکمل کرچکے ہیں اور اسے کسی بھی وقت مارکیٹ میں پیش کردیا جائے گا ،

    اسکائی نیوز کے مطابق چینی ماہرین کی تیارکی ہوئی یہ ویکسین بہت زیادہ کامیاب اورموثرہوگی ، چینی ماہرین کے مطابق اگریہ کہا جائے کہ یہ ویکسین 99 فیصد تک کارگرہوگی تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے ۔ بیجنگ میں قائم بائیوٹیک کمپنی سینوواک اس ویکسین کے دومختلف ٹرائلز میں کامیاب تجربات کرچکی ہے ، اسکائی نیوز کے مطابق یہ چینی کمپنی اس ویکسین کا بیرون ملک پہلا ٹرائل برطانیہ میں کرے

    اسکائی نیوز کے نمائندے نے سینوواک کے ایک محقق لوؤ بائشن سے پوچھا ، کیا ان کے خیال میں یہ ویکسین کامیاب ہوگی۔ "تو اس کا بڑے وثوق کے ساتھ کہنا تھا کہ ہاں ، ہاں۔ یہ کامیاب ہونا ضروری ہے ،گذشتہ ماہ سائنوک نے اکیڈمک جریدے سائنس میں اس ویکسین کے نتائج شائع کیے تھے جس میں دکھایا گیا تھا کہ کورونا وایکس نامی ویکسین بندروں کو کورونا وائرس کے ذریعے انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کمپنی کا سب سے بڑا مسئلہ چین میں COVID-19 کی کم تعداد ہے ، جو وبائی امراض کی صورتحال کو جانچنا مشکل بنا دیتا ہے۔

    اس ویکسین کے دوسرے ممالک میں ٹرائل اوراستعمال کے حوالے سے سینئر ڈائریکٹر ہیلین یانگ نےکہا ہے کہ ، "ہم کئی یوروپی ممالک سے بات کر رہے ہیں اور میرے خیال میں برطانیہ کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے۔ "فی الحال یہ بحث کا ایک انتہائی ابتدائی مرحلہ ہے۔” :: ایپل پوڈکاسٹس ، گوگل پوڈکاسٹس ، اسپاٹائفے ، اسپریکر پر روزانہ پوڈ کاسٹ سنیں کمپنی تحقیق کے ساتھ ہی ، کمپنی کی تیاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

    اسکائی نیوز کے مطابق اس چینی فرم نے اس حوالے سے مزید کہا ہے کہ جیسا کہ امید کی جارہی ہے کہ یہ ویکسین بہت کارگرثابت ہوگی تو پہلا مرحلہ یہ ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ اس ویکسین کو پہلے کہاں آزمایا جائے اوراستعمال کیا جائے ، چینی ماہرین نے اپنی رائے میں کہا ہےکہ وہ اس حوالے سے کئی دیگرممالک سے بھی رابطہ کررہے ہیں ، تاہم برطانیہ میں اس کے استمعال پرمذاکرات جاری ہیں

    چینی فرم کا یہ بھی کہنا ہےکہ اس ویکسین کو پہلے ایسے لوگوں کوپلائی جائےگی جو فرنٹ لائین پرکرونا وائرس کے خلاف لڑ رہے ہیں ، تاکہ وہ بے خوف وخطرہوکر دکھی انسانیت کی خدمت کا سفر جاری رکھیں ،چینی فرم کا کہنا ہے کہ اس ویکسن کا چینی حکومت کو بھی بڑا فائدہ ہوگا

  • لاہور میں خاتون ڈاکٹر کرونا کے باعث جان کی بازی ہار گئیں

    لاہور میں خاتون ڈاکٹر کرونا کے باعث جان کی بازی ہار گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں کرونا وائرس کا شکار لیڈی ڈاکٹر جان کی بازی ہار گئی

    پنجاب کے محکمہ صحت نے اس ضمن میں تصدیق کر دی ہے، لیڈی ڈاکٹر ثناء فاطمہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا وہ مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔

    محکمہ صحت کے مطابق لیڈی ڈاکٹر پرائیویٹ ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کے علاج پر تعینات تھیں، لیڈی ڈاکٹر کو 20 مئی کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق آج صبح خاتون ڈاکٹرجان کی بازی ہار گئیں

    ڈاکٹر ثنا پتھالوجسٹ تھیں اور فاطمہ میموریل میڈیکل کالج سے گریجویٹ تھیں

    دوسری جانب ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 927 نئے کیس، تعداد 22964 ہو گئی۔ لاہور میں 428 نئے کیس، کل تعداد 10329 ہو گئی،ننکانہ 1، شیخوپورہ 119، جہلم 1، گوجرانوالہ 26، سیالکوٹ میں 29نئے کیس سامنے آئے۔ ناروال1، گجرات 37، حافظ آباد 77منڈی 2، ملتان 98، خانیوال 1، وہاڑی 9، فیصل آباد میں 39 نئے کیس سامنے آئے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق ٹوبہ 1، رحیم یار خان 7، سرگودھا 15، خوشاب 1، بہاولنگر6، بہاولپور 5، لودھراں 2، ڈی جی خان 5، لیہ 6، ساہیوال 5اوکاڑہ 2اور پاکپتن میں 4نئے کیس سامنے آئے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق کورونا وائرس سے29 مزید اموات ہوئیں جس کے بعد پنجاب میں اموات کی کل تعداد 410 ہو چکی ہے،اب تک 223074 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد6338 ہو چکی ہے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فورا 1033 پر رابطہ کریں۔