Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • 376   تبلیغی جماعت والوں  کےخلاف 35 مقدمات درج کرلیے گئے

    376 تبلیغی جماعت والوں کےخلاف 35 مقدمات درج کرلیے گئے

    گجرات: 376 تبلیغی جماعت والوں کےخلاف 35 مقدمات درج کرلیے گئے ،اطلاعات کے مطابق پولیس نے نظام الدین مرکز میں مذہبی اجتماعات میں شرکت کے لیے آئے 34 ممالک کے 376 غیرملکی تبلیغی شرکا کے خلاف ویزا شرائط کی خلاف ورزی اور ’مشنری سرگرمیوں‘ میں ملوث ہونے کے الزام میں مجموعی طور پر 35 چارج شیٹ داخل کردیں۔

    ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی پولیس نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران 26 تاریخ کو 20 ممالک کے 82 غیر ملکیوں تبلیغی شرکا کے خلاف 20 چارج شیٹس عدالت میں پیش کی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز 14 ممالک کے 294 غیر ملکی تبلیغی شرکا کے خلاف 15 چارج شیٹ دائر کی گئیں۔

    چارج شیٹ کے مطابق تمام غیر ملکی تبلیغی شرکا پر ویزا قوانین کی خلاف ورزی، کورونا وائرس وبائی مرض کے عدم پھیلاؤ کے لیے جاری کردہ ہدایات اور وبائی امراض ایکٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کی دفعہ 144 کی خلاف وزری پر مقدمہ درج کیا گیا۔

    مذکورہ افراد پر دفعہ 188 (سرکاری ملازمین کے نافذ کردہ احکامات کی نافرمانی)، 269 (لاپرواہی کی وجہ سے بیماری کے انفیکشن کو خطرناک حد تک پھیلانے)، 270 (انفیکشن کے پھیلاؤ) اور 271 (قرنطینہ قوانین کی خلاف ورزی) کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔اس ضمن میں نئی دہلی نے غیرملکی تبلیغی شرکا کے ویزا منسوخ کرکے ان کو بلیک لسٹ کردیا۔26 تاریخ کو جن غیرملکی تبلیغی شرکا کے خلاف چارج شیٹ پیش کی گئی ان کا تعلق ملائیشیا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور متعدد افریقی ممالک سے تھا۔

    بعدازاں گزشتہ روز جن 82 غیر ملکی تبلیغی شرکا پر الزامات عائد کیے گئے ان کا تعلق افغانستان، برازیل، چین، امریکا، آسٹریلیا، قازقستان، مراکش، برطانیہ، یوکرائن، مصر، روس، اردن، فرانس، تیونس، بیلجیم، الجیریا، سعودی عرب، فجی، اور فلپائن سے ہے۔منگل کے روز پولیس نے دہلی ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کی تھی۔

    نئی دہلی پولیس نے کہا کہ 723 غیر ملکیوں کے پاسپورٹ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے 23 شہریوں کے شناختی کارڈ قبضے کر لیے گئے۔پولیس رپورٹ کے مطابق 150 سے زیادہ غیر ملکی شہری اپنا پاسپورٹ مہیا کرنے سے قاصر رہے۔

    اس رپورٹ میں کہا گیا نظام الدین کے اسٹیشن ہاؤس افسر کی شکایت پر تبلیغی جماعت کے رہنما مولانا سعد کاندھلوی اور 6 دیگر افراد کے خلاف 31 مارچ کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔پولیس نے بتایا کہ مولانا سعد کاندھلوی پر بعد میں مذہبی جماعت کے کچھ شرکا کی کووڈ 19 کے باعث موت ہونے پر ان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجتماع میں شامل ہونے والے افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم اس میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد 3400 تک تھی جس میں سے زیادہ تر غیر ملکی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تبلیغی جماعت کے لیے دنیا بھر سے آنے والے لوگ نئی دہلی کے ناظم الدین کے علاقے میں واقع عالمی تبلیغی مرکز میں 13 مارچ سے جمع ہونا شروع ہوئے تھے۔

    ناظم الدین تبلیغی مرکز میں بیرون ممالک سے آنے والے افراد کے بھارت پہنچنے کے تین دن بعد دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے شہر میں کسی بھی جگہ 50 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی لگاتے ہوئے مذہبی اجتماعات پر بھی پابندی لگادی تھی، تاہم تبلیغی جماعت نے حکومتی احکامات کو نظر انداز کیا۔

    ناظم الدین مرکز میں 15 سے 18 مارچ کے درمیان تین روزہ تبلیغی اجتماع ہوا اور بعد ازاں اس میں شریک ہونے والے افراد بھارت کی دوسری ریاستوں میں پھیل گئے۔جس کے بعد بھارت میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد وہاں کی اقلیتوں کے ساتھ حکومت کے ناروا سلوک میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے اور جہاں یہ خبریں سامنے آئیں کہ ہندوستان میں کورونا سے متاثر ہر مذہب و فرقے، خاص طور پر مسلمانوں و کم ذات ہندوؤں کے لیے الگ قرنطینہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

    وہیں تمام مسلمانوں کو تبلیغی قرار دے کر انہیں کورونا پھیلانے کے ذمہ دار بتانے کی حکومتی پالیسی میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور بھارتی میڈیا تقریباً ہر مسلمان کو تبلیغی اور ہر تبلیغی شخص کو کورونا کا مریض قرار دینے کی دوڑ میں ایک دوسرے آگے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔

    مسلمانوں کے ساتھ ایسے رویے کو دیکھتے ہوئے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین و ارکان نے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کو ایک کھلا خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ حکومت مسلمانوں سے متعلق اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور میڈیا کو بھی اسلامو فوبیا سے روکا جائے۔

    بھارت میں ڈیڑھ لاکھ سےز ائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور اب تک ساڑھے چار ہزار سے زائد افراد وائرس کی زد میں آکر ہلاک ہو چکے ہیں۔سوا ارب سے زائد آبادی کے حامل ملک بھارت میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 30 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

  • کورونا ٹریکنگ کیلئے دہشتگردوں کا پتہ لگانے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کا سن کرکرونا مریض رپوش ہونے لگے‌

    کورونا ٹریکنگ کیلئے دہشتگردوں کا پتہ لگانے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کا سن کرکرونا مریض رپوش ہونے لگے‌

    لاہور: کورونا ٹریکنگ کیلئے دہشتگردوں کا پتہ لگانے والی ٹیکنالوجی کا استعمال،بڑے بڑے بھی پکڑے جاسکتے ہیں‌،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں انٹیلی جنس سروسز کورونا وائرس کے مریضوں اور ان سے رابطے میں رہنے والے افراد کو ٹریک کرنے کے لیے دہشت گردوں کا پتہ لگانے والی خفیہ ٹیکنالوجی استعمال کررہی ہیں۔

    فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت وائرس سے نمٹنے میں مدد کے لیے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی مدد لے رہی ہے جو پورے پاکستان میں اب تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    مذکورہ منصوبے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئی لیکن دو عہدیداروں نے اے ایف پی نے انٹیلی جنس سروسز کو بتایا کہ انٹیلی جنس سروسز جیو-فینسنگ اور فون مانیٹرنگ سسٹمز استعمال کررہے ہیں جو عام طور پر مقامی اور غیرملکی دہشت گردوں کے اہداف تک پہنچنے کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں۔

    جیو-فینسنگ ایک محتاط ٹریکنگ سسٹم ہے جو کسی شخص کی جانب سے مخصوص جغرافیائی علاقے سے نکلنے پر حکام کو خبردار کرتا ہے، اس سے حکام کو لاک ڈاؤن کیے گئے علاقوں کی نگرانی میں مدد ملی ہے۔اس کے ساتھ ہی حکام نگرانی کے لیے کورونا وائرس کے مریضوں کی کالز بھی سن رہے ہیں کہ ان کے رابطے میں موجود افراد علامات سے متعلق بات کررہے ہیں یا نہیں۔

    انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا کہ ٹریس اینڈ ٹریکنگ سسٹم بنیادی طور پر ہمیں کورونا مریضوں اور ان سے رابطے میں رہنے والے افراد کے موبائل فونز ٹریک کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایجنسیز اب ‘کافی مؤثر طریقے’ سے کورونا وائرس کے کیسز کو ٹریک کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت مریضوں کا پتہ لگانے میں کامیاب رہی ہے یہاں تک کہ وہ بھی سامنے آئے جو کورونا پازیٹو تھے اور اپنا مرض چھپارہے تھے۔آگاہی کی کمی اور خوف کے باعث کورونا کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود لوگ علاج نہیں کروارہے یہاں تک کہ ہسپتالوں سے بھاگ رہے ہیں۔

    وزیراعظم نے حال ہی میں اس پروگرام کی تعریف کی ہے جو کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے پر عوام میں زیر بحث رہا۔انہوں نے کہا کہ یہ نظام دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہوتا لیکن اب کورونا وائرس کے خلاف فائدہ مند ہے۔

    اب تک پاکستان میں 61 ہزار سے زائد مریض کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں جبکہ 12 سو سے زائد اموات ہوئی ہیں تاہم ٹیسٹنگ محدود ہونے کے باعث حکام پریشان ہیں کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کے گروہوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ حکام جن پر ملک کی ثقافتی اور سیاسی زندگی کے کئی پہلوؤں پر وسیع اثر و رسوخ رکھنے کا الزام ہے وہ ان اختیارات کے ذریعے سیاسی مخالفین کا پتہ لگاسکتے ہیں۔

  • پاکستان کورونا کو شکست دینے والے ’ٹاپ 20‘ ممالک میں شامل ہوگیا،

    پاکستان کورونا کو شکست دینے والے ’ٹاپ 20‘ ممالک میں شامل ہوگیا،

    کراچی:پاکستان کورونا کو شکست دینے والے ’ٹاپ 20‘ ممالک میں شامل ہوگیا، ،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے تناظر میں کم تر شرحِ اموات اور اس بیماری کو شکست دے کر صحت یاب ہوجانے والوں کی ایک بڑی تعداد کے تناظر میں دنیا بھر کے 210 سے زائد ممالک میں پاکستان کا 19 واں نمبر ہے۔

    اگر ایک طرف دنیا بھر میں ناول کورونا وائرس (کووِڈ 2019) سے متاثرہ افراد کی تعداد ساٹھ لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد اس وبا کے ہاتھوں موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں تو دوسری جانب کورونا وائرس کے پچیس لاکھ سے زیادہ متاثرین اس بیماری کو شکست دے کر صحت یاب بھی ہوچکے ہیں، جو ایک خوش آئند بات ہے۔پاکستان بھی ان ٹاپ 20 ملکوں میں شامل ہے جو اس عالمی وبا کو بڑے پیمانے پر شکست دے رہے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 2,076 نئے کیسز کے ساتھ، پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد 61,226 ہوچکی ہے۔ البتہ، پاکستان میں اب تک کیے گئے 508,086 کورونا ٹیسٹوں کے مقابلے میں یہ تعداد صرف 12 فیصد بنتی ہے۔

    پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے 20,231 مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں کورونا کو شکست دینے والے مریضوں کی شرح 33 فیصد ہے جو ایک حوصلہ افزاء امر ہے۔

    آبادی کے تناظر میں دیکھا جائے تو کورونا وائرس سے متاثرہ پاکستانیوں کی شرح 0.0278 فیصد (یعنی دس لاکھ میں سے 278) ہے جو عالمی اوسط (745 فی دس لاکھ) سے بہت کم ہے۔ پاکستان کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے جائزہ لیں تو کورونا وائرس کے ہاتھو لقمہ اجل بننے والوں کا تناسب 0.0006 فیصد (دس لاکھ میں سے صرف 6) ہے۔ یہ بھی عالمی اوسط (45.9 فی دس لاکھ) سے بہت کم ہے۔

    ان تمام نکات کی بنیاد پر پاکستان اُن 20 ملکوں میں شامل ہے جو کورونا وائرس کے خلاف بہت مؤثر انداز میں کامیاب ہورہے ہیں۔

  • اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار نوید رضا نے کورونا کی تصدیق کرتے ہوئے کورونا کے حوالے سے خصوصی پیغام جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کا شکار اداکار نوید رضا نے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ اداکاروں کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ میری اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنے ڈرامہ سیریل کے ساتھی اداکاروں کو خود میں ظاہر ہونے والی کورونا علامات سے آگاہ کر سکوں۔

    ڈرامہ سیریل میرا دل میرا دشمن کے اداکار نے کہا کہ پہلے دن مجھے سر اور جسمانی درد کے ساتھ پانی کی کمی محسوس ہوئی جبکہ اُس کے اگلے دن مجھے بخار کے ساتھ ہی کمزوری بھی محسوس ہونے لگی لیکن اس کے ساتھ نہ مجھے فلو ہوا اور نہ ہی گلا خراب ہوا۔

    نوید رضا نے بتایا کہ تیسرے دن بھی میرے یہ ہی حالت رہی اور اُس کے بعد میں نے اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا جو کہ مثبت آیا۔

    اداکار نے اپنے ویڈیو پیغام میں ہدایتکار، پوڈیوسرز اور دیگر اداکاروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ شوٹنگ کے لیے سیٹ پرجاتے ہیں تو براہ مہربانی احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں کیونکہ ہم ہی ایک دوسرے کو اس وائرس سے بچا سکتے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CAkyC6ZgMA4/?igshid=lj03nidv7ln
    انسٹا گرام پر شئیر کی گئی اپنی اور اہلیہ کی تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا کہ وقت اچھا ہو یا بُرا گزر ہی جاتا ہے

    اداکار نے مداحوں سے ان کو اور انکی فیملی کو دعاؤں میں یاد رکھنے کی بھی درخواست کی-

    نادیہ جمیل کا بریسٹ کینسر کی کیمو تھراپی کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل

    دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ ممالک میں امریکہ پہلے اور برازیل دوسرے نمبرپر،بھارت دسویں اورپاکستان اٹھاروہویں نمبرپرآگیا

    پاکستان میں‌ کرونا کی سپیڈ جاری، 24 گھنٹوں میں‌2 ہزار سے زائد نئے مریض، اموات میں بھی اضافہ

    ندا یاسر ،اپنے شوہر کے ہمرا کرونا کا شکار

  • بالآخرمسجدالاقصی کو کھولنے کا فیصلہ ہو گیا

    بالآخرمسجدالاقصی کو کھولنے کا فیصلہ ہو گیا

    مقبوضہ بیت المقدس :بالآخرمسجدالاقصی کو کھولنے کا فیصلہ ہو گیا،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے مسجدالاقصی کو دو مہینے تک بند رکھنے کے بعد اتوار کو کھول دیا جائے گا۔

    آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق ہر چند کہ مسجدالاقصی کو دو ماہ بند رکھنے کے بعد اتوار کو کھول دیا جائے گا تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ مسجدالاقصی کو نمازیوں کے لئے کھولا جائے گا یا پھر صرف مسجد کے صحن کو کھولا جا رہا ہے۔

    البتہ گزشتہ چند روز کے دوران کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے قدس شہر کے کئی مذہبی مقامات اور مراکز کو کھول دیا گیا تھا تاہم مسجدالاقصی کو عید الفطر کے موقع پر بھی بند رکھا گیا تھا۔

  • راولپنڈی، 4 ایس ایچ او سمیت 15 پولیس اہلکار کرونا کا بنے شکار

    راولپنڈی، 4 ایس ایچ او سمیت 15 پولیس اہلکار کرونا کا بنے شکار

    راولپنڈی، 4 ایس ایچ او سمیت 15 پولیس اہلکار کرونا کا بنے شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی پولیس کورونا وائرس کے خلاف برسرپیکار،فرض کی ادائیگی کے دوران کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر کردار ادا کرتے ہوئے راولپنڈی پولیس کے 04ایس ایچ اوز سمیت 15افسران وملازمان کورونا وائرس کا شکارہو گئے، افسران و ملازمان کے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آنے پر انہیں قرنطینہ کیاگیا۔

    راولپنڈی پولیس کے افسران وملازمان دیگر لاء اینڈ آرڈرکی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے خلاف برسرپیکارہیں،قرنطینہ سینٹر میں ڈیوٹی دینے کے ساتھ ساتھ سیل شدہ علاقوں میں فرض کی ادائیگی کے دوران کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر کردار ادا کرتے ہوئے ایس ایچ اوسول لائنز احسن تنویرکیانی،ایس ایچ اوٹیکسلا اعجاز حسین،ایس ایچ اونصیر آباد ندیم عباس اورایس ایچ اورتہ امرال مرزا شکیل احمدسمیت15 افسران وملازمان کے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آئے،

    کوروناٹیسٹ پازیٹو آنے تمام افسران وملازمان کو قرنطینہ کیا گیا،اس موقعہ پر سٹی پولیس آفیسرمحمد احسن یونس کاکہناتھاکہ کورونا وائرس سے متاثرہونے والے افسران وملازمان کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجارہاہے، راولپنڈی پولیس کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پرکردار ادا کرنے کے ساتھ شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کے بھی فرائض سرانجام دے رہی ہے،راولپنڈی پولیس کورونا کے خلاف جنگ جیسے قومی فریضہ کی ادائیگی میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

    کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر کردار ادا کرتے ہوئے ایس ایچ اورتہ امرال راولپنڈی کورونا وائرس کا شکارہو گئے ایس ایچ او رتہ امرال مرز ا شکیل احمد کاکورونا ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد گھر میں قرنطینہ کر دیا گیا

    ایس پی راول رائے مظہراقبال نے کہاکہ ایس ایچ اورتہ امرال مرزا شکیل احمد کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے،تھانہ رتہ امرال میں تعینات دیگر افسران و ملازمان کے بھی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں،

  • دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ ممالک میں امریکہ پہلے اور برازیل دوسرے نمبرپر،بھارت دسویں اورپاکستان اٹھاروہویں نمبرپرآگیا

    دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ ممالک میں امریکہ پہلے اور برازیل دوسرے نمبرپر،بھارت دسویں اورپاکستان اٹھاروہویں نمبرپرآگیا

    اسلام آباد :دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ ممالک میں امریکہ پہلے اور برازیل دوسرے نمبرپر،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 57 لاکھ 90 ہزار 103 ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 3 لاکھ 57 ہزار 432 ہو گئیں۔

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں نا صرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 2 ہزار 107 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 17 لاکھ 45 ہزار 803 ہو چکی ہے۔

    امریکا کے اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں 11 لاکھ 53 ہزار 566 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 17 ہزار 166 کی حالت تشویشناک ہے ۔کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 14 ہزار 661 تک جا پہنچی ہے جبکہ یہ وائرس 25 ہزار 697 زندگیاں نگل چکا ہے۔

    برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 37 ہزار 460 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 67 ہزار 240 ہو گئی۔اٹلی میں کورونا وائرس کی وباء سے مجموعی اموات 33 ہزار 72 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 2 لاکھ 31 ہزار 139 رپورٹ ہوئے ہیں۔

    فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 28 ہزار 596 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 82 ہزار 913 ہو گئے۔اسپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 83 ہزار 849 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جب کہ اس وباء سے اموات 27 ہزار 118 ہو چکی ہیں۔

    جرمنی میں کورونا سے کُل اموات کی تعداد 8 ہزار 533 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 81 ہزار 895 ہو گئے۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموات 3 ہزار 968 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار 680 ہو چکی ہے۔

    ایران میں کورونا وائرس میں ایک لاکھ 41 ہزار 591 افراد مبتلا ہوئے کہ جن میں سے ایک لاکھ 11 ہزار 176 افراد صحت یاب ہوئے تاہم اب تک 7 ہزار 564 افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے۔ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 4 ہزار 431 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 59 ہزار 797 ہو گئے۔

    چین جہاں دنیا میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا وہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 82 ہزار 995 اور اس سے اموات 4 ہزار 634 ہوگئی ہیں۔سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک کل اموات 425 رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 78 ہزار 541 تک جا پہنچی ہے۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 57 لاکھ 90 ہزار 103 ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 3 لاکھ 57 ہزار 432 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 29 لاکھ 35 ہزار 53 مریض اب بھی اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 52 ہزار 974 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 24 لاکھ 97 ہزار 618 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

  • کورونا کے خوف کے باعث مائیں بچوں کو دودھ پلانا نہ چھوڑیں، ماں کے دودھ سے بڑھ کرکوئی شئے نہیں : رپورٹ

    کورونا کے خوف کے باعث مائیں بچوں کو دودھ پلانا نہ چھوڑیں، ماں کے دودھ سے بڑھ کرکوئی شئے نہیں : رپورٹ

    اسلام آباد: کورونا کے خوف کے باعث مائیں بچوں کو دودھ پلانا نہ چھوڑیں، ماں کے دودھ سے بڑھ کرکوئی شئے نہیں : رپورٹ،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 57 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں اور وبا کے باعث بچوں کی غذائی قلت جیسے معاملات بھی سر اٹھا رہے ہیں تاہم ایک تازہ رپورٹ میں ماؤں کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ وبا کے ڈر سے بچوں کو دودھ پلانا نہ چھوڑیں، اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ کورونا ماں کے دودھ میں ہوسکتا ہے۔

    یہ بات عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) یونائیٹڈ نیشنز چلڈرین فنڈ (یو این سی ایف) اور انٹرنیشنل بے بی فوڈ ایکشن نیٹ ورک (آئی بی ایف اے این) کی جانب سے (چھاتی کے دودھ کے متبادل ذرائع پر عالمی معیار کے مطابق قومی درآمد) کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ بریسٹ فیڈنگ یا چھاتی کا دودھ پلائے جانے سے بچے میں وائرس منتقل ہو سکتا ہے، یہ خدشات ایسی ماؤں کی جانب سے سامنے آرہے ہیں جو کورونا میں مبتلا ہو چکی ہیں یا ان میں کورونا جیسی علامات پائی جاتی ہیں تاہم اگر کورونا میں مبتلا خواتین بھی چاہیں تو نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلا سکتی ہیں۔

    ایسی ماؤں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ الکوحل یا صابن سے بار بار ہاتھ دھوتی رہیں اور خاص طور پر جب وہ بچوں کو چھونا چاہیں تو ایسا لازمی کریں، بچے کو گود میں لینے سمیت اسے دودھ پلاتے وقت فیس ماسک کا استعمال کریں، کھانستے اور چھینکتے وقت ٹشو کا استعمال کریں اور پھر محفوظ طریقے سے اس ٹشو کو تلف کرنے کے بعد دوبارہ ہاتھ دھوئیں۔انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر ماؤں کے پاس میڈیکل فیس ماسک نہیں ہے تو وہ انفیکشن سے محفوظ رہنے کے لیے دیگر حفاظتی اقدامات اٹھائیں مگر بچوں کو دودھ پلانا نہ چھوڑیں۔

    انٹرنیشنل بے بی فوڈ ایکشن نیٹ ورک گلوبل کونسل کی عہدیدار پیٹی رنڈال کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ کورونا کی منتقلی کے خوف کی وجہ سے دنیا بھر میں ماؤں کی جانب سے نوزائیدہ بچوں کو دودھ دینے میں کمی ہوئی ہے، کئی ممالک میں بچوں اور ماؤں کو احتیاط کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث جہاں بچوں کو دودھ نہیں دیا جا رہا، وہیں انہیں اسکن ٹو اسکن ریلیف بھی نہیں مل رہا اور یہ سب کچھ تصدیقی ثبوتوں کے بغیر ہی کیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق ساتھ ہی بے بی فوڈ انڈسٹری کو غلط مشورے اور تجاویز دے کر اسے نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی مشورے دینے والے دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اس شعبے کے خیر خواہ ہیں اور وہ ان کے قابل بھروسہ ساتھی بھی ہیں۔

    رپورٹ میں حاملہ خواتین، ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز کے بریسٹ ملک سبسٹی ٹیوٹ (بی ایم ایس) کے نامناسب کردار پر بھی بات کی گئی ہے اور اس میں ہیلتھ ورکرز اور طبی سہولیات کا جائزہ لے کر ان کے خلاف قانونی اقدامات کا جائزہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا کہ نقصان دہ بی ایم ایس کی حوصلہ شکنی کے باوجود کئی ممالک میں والدین کو گمراہ کن معلومات فراہم کی جا رہی ہے۔

    کورونا وائرس نے اس بات کی بھی اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ صحت کے حوالے سے جھوٹے دعوے اور غلط معلومات سمیت بی ایم ایس کے حوالے سے گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔چھاتی کا دودھ جہاں بچے کی زندگی کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، وہیں وہ بچے کو اینٹی باڈیز فراہم کرنے سمیت اس کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

    مذکورہ رپورٹ میں جن 194 ممالک کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے، ان میں سے 136 ممالک میں بی ایم ایس کی مارکیٹنگ سے متعلق عالمی قوانین کے تحت کچھ قانون سازی موجود تھی، جسے عالمی ادارہ صحت کی اسمبلی نے تجویز کیا تھا، رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر کے 44 ممالک نے گزشتہ 2 سال میں اس ضمن میں کوششیں لے کر مارکیٹنگ ضوابط کو مزید سخت بنایا ہے۔

    صرف 79 ممالک ایسے ہیں جہاں صحت کی سہولیات کے دوران بی ایم ایس پر مکمل پابندی ہے جب کہ 51 ممالک میں بی ایم ایس کی مفت یا سستے داموں سے متعلق پابندیاں عائد ہیں تاہم بیشتر ممالک میں صحت کی سہولیات کے دوران اس کی مکمل مارکیٹنگ پر پابندی عائد نہیں ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے نیوٹریشن اینڈ فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فرانسسکو برانکا کے مطابق بی ایم ایس کی جارحانہ مارکیٹنگ نقصان دہ ہے اور خاص طور پر اس کی پیشہ ور صحت کے رضاکاروں سے کی جانے والی مارکیٹنگ نقصان دہ ہے اور یہ عالمی سطح پر نوزائیدہ بچوں کی صحت کی بہتری میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر سسٹم کو والدین کو بچوں کو دودھ پلانے کے لیے حوالے سے حوصلہ دینا چاہیے، تاکہ بچوں کی زندگی محفوظ ہو سکے۔

    عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف تجویز دیتا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو ابتدائی 6 ماہ تک صرف ماں کا دودھ ہی دینا چاہیے جب کہ اس کے بعد 2 سال تک ماں کے دودھ سمیت بچوں کو صحت سے بھرپور غذائیت دی جانی چاہیے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 سال میں 44 ممالک کے اندر غلط بی ایم ایس مارکیٹنگ کے خلاف سخت ضوابط نافذ کیے گئے، 2018 کے بعد 11 ممالک جن میں پاکستان کے صوبے پنجاب، بحرین، چاڈ، مصر، لاؤ پیپلز ڈیموکریٹک ری پبلک، نائیجیریا، ری پبلک آف مولڈووا، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ازبکستان نے قوانین میں تبدیلی یا ترمیم بھی کی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے صوبے پنجاب نے دیگر صوبوں سے بازی لے جاتے ہیں اس طرح کی نامناسب پریکٹس کو روکنے یا اس کی حوصلہ شکنی کےلیے نئے قوانین نافذ کرائے۔ علاوہ ازیں رپورٹ میں پاکستان، نیپال اور میانمار کو اس ضمن میں بنائے گئے قوائد کے حوالے سے متعدل قرار دیا گیا ہے، دوسری جانب افغانستان، بنگلہ دیش، سعودی عرب اور بھارت جیسے ممالک کے ضوابط کو معقول قرار دیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے پاکستان نیوٹریشن کے منیجر ڈاکٹر بصیر خان اچکزئی نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چند سال تک پاکستان میں بریسٹ فیڈنگ کی شرح 38 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 48 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

    درست انداز میں چھاتی کا دودھ پلانے کے حوالے سے ہدایات فراہم کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس طرح کا کوئی بھی طریقہ کار نہیں ہے، جس میں ماؤں کو سمجھایا جائے کہ بچوں کو بہتر اور درست انداز میں کس طرح چھاتی کا دودھ پلایا جاتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2009 میں ایک قانون بنایا گیا تھا جس پر بی ایم ایس کمپنیوں کو بڑی مشکل سے عمل کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ اپنی مصنوعات پر لکھیں کہ بچوں کے لیے ماں کے دودھ کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

  • زینب قتل کیس کے وقت قصور کے ڈی پی او سات سالہ بیٹی، بیٹے،بیوی سمیت کرونا کا شکار

    زینب قتل کیس کے وقت قصور کے ڈی پی او سات سالہ بیٹی، بیٹے،بیوی سمیت کرونا کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے، پنجاب پولیس میں بھی کرونا پھیل رہا ہے

    ڈی پی او نارووال ذوالفقار احمد کرونا کا شکار ہوگئے انہوں نے کرونا کا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا ہے، ڈی پی او نارووال ذوالفقار احمد کے اہلخانہ کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے

    ڈی پی او ذوالفقار احمد کی بیوی، 7 سالہ بیٹی حاجرہ، 13 سالہ بیٹے حمزہ کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، ڈی پی او کی گھریلو ملازمہ سمیہ کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے

    ڈی پی او نارووال ذوالفقار احمد نے خود اور اہلخانہ میں کرونا کی تشخیص کے بعد پوری فیملی اورملازمہ سمیت خود کو گھر میں آئسولیٹ کرلیا ہے

    واضح رہے کہ قصور میں جب زینب قتل کیس کا واقعہ ہوا تھا تو ذوالفقار احمد ڈی پی او قصور تھے اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے لواحقین سے ایف آئی آر درج کرنے کے پیسے مانگے تھے، واقعہ پر جب عوامی احتجاج ہوا تھا تو انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا بعد ازاں انہیں مختلف اضلاع میں ایس ایچ او تعینات کیا گیا، فی الوقت وہ نارووال میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں

    واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے، آئی جی پنجاب شعیب دستگیرنے صوبہ بھرمیں کورونا وائرس کے حوالے سے ڈیوٹیاں دینے والے ملازمین کے کوروناوائرس کے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا تھا۔اب تک کروائے گئےٹیسٹوں میں موصول ہونے والے نتائج میں مریضوں کی تعداد557ہوگئی ہے۔

    پنجاب پولیس میں کرونا کے اب تک 146پولیس افسران اوراہلکارصحت یاب ہوچکےجبکہ 390مثبت ملازمین مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ پنجاب پولیس کے 3 اہلکار کرونا سے شہید ہو چکے ہیں.

    پنجاب میں 15ہزار870ہزارسے زائدپولیس ملازمین کے کرونا ٹیسٹ کئے گئے تھے۔ آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ملازمین کابہترین علاج معالجہ کرایاجارہا ہے، کورونا وائرس کا شکار ہونے والے ملازمین کو فی کس25ہزارامداد دے رہےہیں۔

  • کورونا وباءاوراس کے بعد کی صورتحال پر اعلی سطحی ایف ایف ڈی تقریب

    کورونا وباءاوراس کے بعد کی صورتحال پر اعلی سطحی ایف ایف ڈی تقریب

    وزیراعظم عمران خان کورونا وباءاور اس کے بعد کے دور میں ترقی کے لئے سرمایہ کاری سے متعلق اعلی سطحی ورچوئل تقریب میں آج شرکت کریں گے۔
    اس تقریب کی میزبانی کینیڈا، جمیکا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کررہے ہیں۔ دنیا بھر سے چنیدہ سربراہان مملکت وحکومت اس اعلی سطحی تقریب میں مدعو کئے گئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے علاوہ، فرانس، جنوبی افریقہ، قزاخستان کے صدور، برطانیہ، جاپان، ناروے، اٹلی، آئیرلینڈ کے وزرا اعظم، جرمن چانسلر اور سعودی عرب کے ولی عہد اس اعلی سطحی تقریب سے خطاب کریں گے۔ ترقی پزیر ممالک کے قرض سے متعلق مسائل مالی امور سے متعلق ان چھ موضوعات میں شامل ہیں جن پر اعلی سطحی تقریب میں بات ہوگی۔

    وزیراعظم عمران خان نے اپریل کے مہینے میں ’قرض میں ریلیف دینے کے عالمی اقدام‘ کا آغاز کیاتھا تاکہ ترقی پزیر ممالک کے لئے وسائل کی فراہمی کی گنجائش پیدا کی جائے تاکہ وہ کورونا وباءکے نتیجے میں درپیش موجودہ بحران سے موثر انداز میں نمٹ سکیں اور پائیدار معاشی ترقی کی بحالی ممکن ہوپائے۔ ان کے اس اقدام اور پاکستان کی قیادت میں ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک کے نمائندہ گروپ اور بڑے مالیاتی اداروں نے اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پراس موضوع پر غیررسمی صلاح مشورہ شروع کیا تاکہ بعض امور اور ان عملی اقدامات پر اتفاق رائے پیدا ہو جن کے ذریعے ترقی پزیر ممالک کو درپیش قرض کے مسئلہ سے نبردآزما ہواجاسکے۔

    اس اعلی سطحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان اپنے وژن سے آگاہ کریں گے کہ کس طرح قرض کے مسئلے اور ترقی پزیر ممالک کودرپیش شدید مالی مشکلات سے نمٹا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت ترقی پزیر ممالک کے مخلص ترجمان کے طورپر ان کے کردار اور غریب ممالک کو قرض کے دباو سے نجات کے اجتماعی حل کے ان کے بروقت مطالبے کے اعتراف کا مظہر ہے۔ اس اعتراف نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بڑی معاشی واقتصادی طاقتوں سمیت معتبر ممالک کے گروپ کے ساتھ مل کرقرض کے مسئلے کو حل کرے۔

    قرض، لیکویڈٹی، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی جیسے کلیدی مسائل کے حل کے لئے وزیراعظم عمران خان کے قائدانہ کردار سے پاکستان اور دیگر ترقی پزیر ممالک کے لئے امکانات میں بے انتہاءاضافہ ہوا ہے کہ وہ عالمی حمایت، یک جہتی اور تعاون حاصل کریں جس کی انہیں اس وقت اشد ضرورت ہے تاکہ ایک صدی قبل آنے والی بدترین عالمی کساد بازاری کے بعد سے درپیش موجودہ شدید معاشی بحران سے دنیا کی تیزی کے ساتھ بحالی کی طرف واپسی یقینی ہوسکے ۔