Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • سیکڑوں پولیس اہلکار کورونا وائرس کا شکار،استعفوں کی بھرمار ہوگئی

    سیکڑوں پولیس اہلکار کورونا وائرس کا شکار،استعفوں کی بھرمار ہوگئی

    نئی دہلی :ب سیکڑوں پولیس اہلکار کورونا وائرس کا شکار،استعفوں کی بھرمار ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں سیکڑوں بھارتی پولیس اہلکار حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ واضح رہے کہ بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن جاری ہے جس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے 30 لاکھ پولیس اہلکار ڈیوٹی کررہے ہیں۔

    خیال رہے کہ بھارت میں 25 مارچ سے ملک گیر لاک ڈاؤن جاری ہے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق وہاں 50 ہزار مثبت کیسز ہیں جبکہ ایک ہزار 694 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔مغربی ریاست مہاراشٹرا کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پچھلے ہفتے پولیس فورس میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد تقریباً دگنی ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹر میں منگل تک مجموعی طور پر 15 ہزار 515 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    اس ضمن میں ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ریاستی پولیس فورس کے 450 سے زاید اہلکاروں کے طبی نتائج مثبت آئے ہیں اور 4 وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ریاست کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے مطابق مہاراشٹر میں پولیس کو درپیش طبی مسائل سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر کنٹرول روم قائم کیے جارہے ہیں۔

    6 ریاستوں میں 6 سینئر پولیس افسران نے بتایا کہ ان کی ریاستوں میں درجنوں پولیس اہلکار بیماری کے خوف سے چھٹی کے خواہاں ہیں۔بھارت کے وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہیں اور وہ صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    ممبئی کے پولیس اہلکار نے بتایا کہ کوویڈ 19 سے متاثرہ علاقوں میں گشت اور بھیڑ پر قابو پانا خطرناک ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کم از کم ان کیسز میں ہم دشمن کو دیکھ سکتے ہیں۔

    ایک سینئر عہدیدار کے مطابق گجرات میں کم از کم 155 پولیس اور نیم فوجی دستے وائرس سے متاثر ہیں۔ریاست کے مرکزی شہر احمد آباد کے پولیس کمشنر نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ 95 پولیس اور نیم فوجی دستے کوویڈ 19 کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہیں۔

    وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہزاروں مزید پولیس اہلکار میں وائرس کے نتائج مثبت آسکتے ہیں اور یہ وائرس پولیس ہاؤسنگ میں ان کے اہل خانہ میں منتقل ہوسکتا ہے۔

  • آٹو رکشہ پر واردات کرنیوالی خواتین کا گروہ سرگرم،پولیس بھی حیران

    آٹو رکشہ پر واردات کرنیوالی خواتین کا گروہ سرگرم،پولیس بھی حیران

    لاہور: آٹو رکشہ پر واردات کرنیوالی خواتین کا گروہ سرگرم،پولیس بھی حیران ،اطلاعات کے مطابق خبردار ہوشیار، آٹو رکشہ میں نوسرباز خواتین کا گروہ سرگرم ہو گیا ، مغلپورہ ڈولفن سکواڈ نے ایسے ہی نوسر بازی کی وارداتیں کرنے والے ایک گروہ کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق آٹو رکشہ پر وارداتیں کرنیوالی 3خواتین اور ان کے ساتھی رکشہ ڈرائیور گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان اپنے طریقے واردات میں رکشہ پر خواتین مسافروں کو لفٹ دیتے تھےاور اس کے بعد یہ گروہ سرگرم ہو جاتا ۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ یہ گروہ بالخصوص خواتین کو اپنا شکار بناتا تھا ،ایسی نوسربازی کا شکار ہونیوالی خاتون نے ڈولفن ٹیم کو مدد کیلئے کال کی ،جہاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر خواتین گروہ سے ہتھیائی گئی 15 ہزار 900 روپے برآمد کر کے ان کے مالکان کے حوالے کر دیئے۔ خواتین گروہ دوران سفر طبیعت خراب ہونے کا بہانے کرکے مسافروں سے وارداتیں کرتے تھے۔ڈولفن ٹیم نے نوسرباز خواتین کو تھانے مغلپورہ کے حوالے کر دیاہے۔

    دوسری جانب لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں خواتین پر تشدد سمیت گلی محلوں کی لڑائیوں میں اضافہ ہوا جبکہ دوسری جانب پولیس نے دعویٰ کیا کہ کرائم کا گراف انتالیس فیصد کم رہا۔

    لاہور میں جزوی لاک ڈاون چوالیس دن پورے کر گیا اس دوران شہریوں کی بڑی تعداد اپنے گھروں میں رہی اور شائد یہی وجہ تھی کہ گھروں میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا۔ ریسکیو ون فائیو کے ریکارڈ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران جو ون فائیو پر گھریلو تشدد کی کالز آئیں ان کی تعداد عام دنوں کے مقابلے میں پچیس فیصد زیادہ رہیں جبکہ گلی محلوں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات میں بھی بارہ فیصد اضافہ ہوا۔

    پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کرائم کی وارداتوں میں کمی ہوئی،جزوی لاک ڈاون کے دوران ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں 39 فیصد کمی ہوئی،روڈ اینڈ شاپ روبری کیسز میں 42 فیصد کمی دیکھنے میں آئی،لاک ڈاون کے دوران روڈ سنیچنگ کی وارداتوں میں 37 فیصد کمی ہوئی،لاک ڈاون کے دوران قتل کے کیسز میں 80 فیصد کمی ہوئی۔

    گاڑی چھیننے کی وارداتوں میں 30 فیصد جبکہ گاڑی چوری کی وارداتوں میں 29 فیصد کمی ہوئی،جزوی لاک ڈاون کے دوران چوری کی وارداتوں میں 33 فیصد کمی ہوئی، لاک ڈاؤن کے دوران پولیس نے شہر میں دو سو انتیس مقامات پر ناکہ بندی کی اور پولیس کی نفری سڑکوں پر گشت کرتی رہی اگر اسی طرح سال بھر پولیس پٹرولنگ اور ناکہ بندی کو موثر بنایا جائے تو شہریوں ہر پولیس کا اعتماد بڑھے گا۔

  • الخدمت ہسپتال کا ایک اور طبی عملے کا اہلکار کرونا سے جان کی بازی ہار گیا

    الخدمت ہسپتال کا ایک اور طبی عملے کا اہلکار کرونا سے جان کی بازی ہار گیا

    الخدمت ہسپتال کا ایک اور طبی عملے کا اہلکار کرونا سے جان کی بازی ہار گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے فلاحی ہسپتال الخدمت میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے او پی ڈی اٹینڈنٹ مقامی ہسپتال میں جان کی بازی ہار گئے

    32سالہ نعمان احمد اورنگی ٹاؤن میں جماعت اسلامی کے فلاحی ادارے الخدمت کے اسپتال میں بحیثیت او پی ڈی اٹینڈنٹ کام کرتے تھے ،مرحوم کی چار ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔

    کرونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد انہیں کراچی کے مقامی ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ 10دن زیر علاج رہے۔انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا جس کی بدولت ان کی حالت سنبھل گئی تھی اور وہ اسپتال سے گھر واپس لوٹ گئے تھے۔

    جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کا کہنا ہے کہ چند دن قبل نعمان کی طبیعت ایک مرتبہ پھر بگڑ گئی جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    واضح رہے کہ اس سے قبل 6 اپریل کو جماعت اسلامی کے الخدمت ہسپتال سے وابستہ عبدالقادر سومرو صاحب(سابق ناظم اسلامی جمعیت طلبہ سندھ، سابق صدر PIMA سندھ،) کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے خود بھی کرونا وائرس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے تھے

    قوم کو ٹائیگر فورس نہیں رضا کاروں کی ضرورت ہے، الخدمت نے "بندروں” کو بھی خوراک دی،سراج الحق

  • نیا کورونا وائرس پھیپھڑوں کے ساتھ آنتوں کو بھی نشانہ بناسکتا ہے، نئی تحقیق نے مزید پریشان کردیا

    نیا کورونا وائرس پھیپھڑوں کے ساتھ آنتوں کو بھی نشانہ بناسکتا ہے، نئی تحقیق نے مزید پریشان کردیا

    نیدرلینڈ :نیا کورونا وائرس پھیپھڑوں کے ساتھ آنتوں کو بھی نشانہ بناسکتا ہے، نئی تحقیق نے مزید پریشان کردیا ،اطلاعات کے مطابق نئے کورونا وائرس سے پھیپھڑے تو متاثر ہوتے ہی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ جراثیم آنتوں کے خلیات میں بھی اپنی نقول بناتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں کو معدے کے امراض کا سامنا بھی ہوتا ہے۔یہ بات نیدرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

    طبی جریدے جرنل سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق نیا نوول کورونا وائرس انسانی معدے پر حملہ آور ہوکر اپنی نقول بناسکتا ہے کیونکہ وہ وہ انزائمے جو یہ وائرس خلیات میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، جسم کے اس حصے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ایس 2 نامی یہ انزائمے نظام تنفس میں بھی پائے جاتے ہیں۔اس مقصد کے لیے محققین نے اس وائرس اور انسانی آنتوں کے خلیات کو لیا اور لیبارٹری میں ان کو آپس میں ملادیا۔24 گھنٹے بعد وائرس نے کچھ خلیات پر حملہ کردیا اور 60 گھنٹے بعد متاثرہ خلیات کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ ہوگیا۔

    اراسموس ایم سی یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ نتائج سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ یہ نیا کوورنا وائرس غذائی نالی کے خلیات میں بھی اپنی تعداد کو بڑھاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ہم ابھی یہ نہیں جان سکے کہ کووڈ 19 کے مریضوں کی آنتوں میں یہ وائرس آگے دیگر افراد میں منتقلی میں کوئی کردار ادا کرتا ہے یا نہیں، اس امکان کے بارے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ویسے یہ پہلا موقع نہیں جب سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس اور نظام ہاضمہ کے درمیان تعلق کو دریافت کیا ہو۔

    گزشتہ ماہ جریدے دی امریکن جرنل آف گیسٹروانٹرالوجی میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے کچھ مریضوں کو نظام ہاضمہ کے مسائل خصوصاً ہیضے کا سامنا پہلی علامت کے طور پر ہوتا ہے۔حقیق کے مطابق ایسے مریض جن میں ہیضہ پہلی علامت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، ان میں بیماری کی شدت معتدل تھی، نظام تنفس کی علامات بعد میں طاہر ہوئیں بلکہ کچھ کیسز میں تو ایسی علامات نظر ہی نہیں آئیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ کووڈ 19 کی عام علامات جیسے بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل کے بغیر اکثر ایسے کیسز کی تشخیص نہ ہونے کا امکان ہوتا ہے اور یہ مریض بیماری کو دیگر افراد تک پھیلا سکتے ہیں۔مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نظام ہاضمہ کے امراض بہت عام ہیں اور ضروری نہیں کہ ان کے شکار افراد کووڈ 19 ہو، مگر اچانک ہیضے کی صورت میں وبائی مرض کے بارے میں سوچنا ضرور چاہیے، کیونکہ جلد تشخیص نہ ہونے پر یہ مریض صحت مند افراد کو اس وائرس کا شکار بناسکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ اہم پیغام یہ ہے کہ کووڈ 19 صرف کھانسی یا نمونیا کا نام نہیں، درحقیقت اس کے بارے میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ معلوم ہورہا ہے۔اس بیماری کے نتیجے میں دل کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، گردے متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ دماغی صحت کی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔اس کے علاوہ خون گاڑھا ہونے سے لاتعداد ننھے لوتھڑے یا کلاٹس بننے کا مسئلہ بھی بہت زیادہ بیمار افراد میں دریافت کیا گیا ہے جو ہلاکتوں کا امکان بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔اسی طرح خون میں آکسیجن کی سطح میں بہت زیادہ کمی کے باوجود اس کے آثار مریضوں پر ظاہر نہ ہونے کے عمل نے بھی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا ہے

  • بجٹ میں عوام کوزیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے ، وزیراعظم نے حکم دے دیا

    بجٹ میں عوام کوزیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے ، وزیراعظم نے حکم دے دیا

    اسلام آباد :بجٹ میں عوام کوزیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے ، وزیراعظم نے حکم دے دیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں‌کہ بجٹ 21-2020ء میں عام آدمی اور انڈسٹری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے ، اس حوالے سے وزیراعظم نے اہم اجلاس بھی طلب کرلیا ہے

    وزیراعظم عمران خان نے بجٹ 21-2020ء کے حوالے سے اپنی معاشی ٹیم سے بریفنگ طلب کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بجٹ 21-2020ء کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے اور وزیراعظم نے معاشی ٹیم سے بجٹ پر بریفنگ مانگ لی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ وزیراعظم عمران خان کو بجٹ پر بریفنگ دیں گے۔رپورٹ کے مطابق وزیراعظم سے مشاورت کے بعد بجٹ پر کام تیز کیا جائے گا جب کہ بجٹ میں عام آدمی اور انڈسٹری کو ریلیف دیے جانے کا امکان ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کا مالی سال یکم جولائی سے 30 جون تک ہوتا ہے اور ہر سال جون میں بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ 2018 میں حکومت میں آنے کے بعد سے تحریک انصاف حکومت کی جانب سے یہ دوسرا سالانہ بجٹ ہوگا۔

  • لاہور میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ

    لاہور میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ

    لاہور:لاہور میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ،اطلاعات کے مطابق لاہور میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔لاہورپولیس کی جانب سے کورونا سے بچاؤ کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران جرائم کی تقابلی جائزہ رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شہر میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں 25 فیصد جب کہ گلی محلوں کے لڑائی جھگڑوں میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔لاہور پولیس کی رپورٹ کے مطابق شہر میں گاڑی چھیننے کی وارداتوں میں 30 فیصد اور چوری کی وارداتوں میں 29 فیصد کمی آئی ہے۔کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سیفٹی اور سیکیورٹی یقینی بنائے ہوئے ہیں، قانون شکن عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاﺅن جاری رہے گا۔

    خیال رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دنیا بھرمیں متعدد ممالک میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے جس کے باعث دنیا کے مختلف ممالک سمیت پاکستان میں بھی گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    حکومتِ پاکستان کی وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے ایک ہیلپ لائن متعارف کرائی گئی ہیں جہاں کسی بھی قسم کے تشدد کا شکار افراد شکایت کر سکتے ہیں۔وزارتِ انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کی وجہ سے متعدد خواتین اور بچوں کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہماری ہیلپ لائن آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • پنجاب میں کورونا مریضوں کو گھر میں قرنطینہ کیا جاسکے گا، ضابطہ کار منظور

    پنجاب میں کورونا مریضوں کو گھر میں قرنطینہ کیا جاسکے گا، ضابطہ کار منظور

    لاہور :پنجاب میں کورونا مریضوں کو گھر میں قرنطینہ کیا جاسکے گا، ضابطہ کار منظور،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کورونا مریضوں کو گھر میں قرنطینہ کرنے کے ضابطہ کار کی اصولی منظوری دے دی۔گزشتہ روز وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو طے کردہ ضابطہ کار پربریف کیا گیا تھا۔

    پنجاب حکومت کے مطابق وفاق کی اجازت کے بعد ہوم قرنطینہ کا نفاذ پنجاب میں کیا جائے گا اور ہوم قرنطینہ سے متعلق عالمی معیار کے مطابق گائیڈ لائنز فراہم کی جائیں گی۔قرنطینہ کے معیار سے متعلق ضروری نکات سے تحریری طورپر آگاہ کیا جائے گا اور ہوم قرنطینہ اپنانے پر شہری کو بیان حلفی دینا ہوگا جبکہ حکومت کی مقرر کردہ ٹیمیں گھروں میں جا کر قرنطینہ کے معیار کو چیک کرسکیں گی۔

    متاثرہ شخص کو حکومت کے قائم کردہ قرنطینہ مراکز اور ہوٹل میں جانے کا بھی آپشن دیا جائے گا، 24 گھنٹے میں سیمپل کی رپورٹ آجائے گی اور مثبت ہونے کی صورت میں قرنطینہ میں جانا ہوگا۔متعلقہ اضلاع میں بھیجے جانے والے کورونا مریضوں کی آمدورفت کے لیے فول پروف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ پنجاب میں کورونا وائرس سے اب تک 156 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور متاثرہ مریضوں کی تعداد 8693 ہے۔

  • بھارتی فوج میں کرونا پھیل گیا،3 کیمپ سیل کر دیئے گئے

    بھارتی فوج میں کرونا پھیل گیا،3 کیمپ سیل کر دیئے گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس بھارت میں تیزی سے پھیل رہاہے، آئے روز ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے

    بھارتی فوج میں بھی کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے بھارتی فوج میں خوف کی فضا ہے، تریپورہ کے ضلع دھلائی میں بی ایس ایف کے کئی اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد تین بی ایس ایف کیمپوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ امباسا سب ڈویژن میں تعینات 138 بٹالین کے میس ورکر سمیت 13 اہلکاروں میں کرونا کی گزشتہ روز تشخیص ہوئی ،تریپورہ میں ہفتہ کے روز سے اب تک دو بچوں سمیت بھارتی فوج کے کل 40 اہلکار کرونا کا شکار ہو چکے ہیں

    دوسری جانب دہلی میں بھی بھارتی فوج کے 30 بی ایس ایف اہلکاروں کو جنہیں جودھپور منتقل کیا گیا تھا،ان میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے

    قبل ازیں بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس بی ایس ایف کے اہلکار میں کرونا کی تشخیص کے بعد دہلی میں ہیڈ کوارٹر کی دو منزلوں کو سیل کر دیا گیا ہے

    بی ایس ایف کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات ایک ہیڈ کانسٹیبل میں کرونا کی تشخیص ہوئی وہ ہیڈ آفس کی دوسری منزل پر کام کرتا ہے اور آخری مرتبہ یکم مئی یعنی جمعہ کو دفتر آیا تھا۔ اس کے رابطہ میں آنے والے تمام افراد کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے ان کے ٹیسٹ بھی کروائے جائیں گے۔ بی ایس ایف نے احتیاط کے طورپر ہیڈ آفس کی آٹھ منزلہ عمارت کی پہلی اور دوسری منزل کو سیل کردیا ہے

    بی ایس ایف نے کرونا سے بچاؤ کے لئے دو روز تک ہیڈ آفس کو بند رکھا اور اسکے بعد کھولا،اب بھی وہاں اہلکاروں کی تعداد کم کر دی ہے، صرف ضروری ڈیوٹی پر تعیناتی کی گئی ہے

    قبل ازیں دہلی میں بھارتی فوج کے ایک ڈاکٹر میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے، اس اہلکار سے جتنے افراد کی ملاقات یا رابطہ ہوا تھا سب کو قرنطائن کر دیا گیا ہے،جس ڈاکٹر میں کرونا کی تشخیص ہوئی وہ لیفٹیننٹ کرنل ہے،اس نے بیرون ملک کا سفر بھی نہیں کیا،کرونا کی تشخیص کے بعد اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    اس سے قبل 29 مارچ کو کولکتہ میں ایک فوجی ڈاکٹر جو کرنل رینک کا ہے اور ایک جے سی او میں کرونا کی تشخیص ہوئی تھی، لداخ میں تعینات کچھ اہلکاروں میں بھی کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، بھارتی فوج نے اپنے اہلکاروں کو کرونا سے بچاؤ‌کے لئے ہدایات بھی جاری کر رکھی ہیں.

    بھارتی فوج کے افسر میں کرونا وائرس کی تشخیص ہونے پر فوج میں کھلبلی مچ گئی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    اپوزیشن جماعت کے سینئر رہنما،سابق پارٹی ترجمان کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، اگست تک بھارت میں ہو سکتے ہیں 3 کروڑ مریض،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی

    کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل

    کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے

    قبل ازیں دہلی میں کرونا وائرس سے ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے جسے پولیس میں پہلی ہلاکت کہا جا رہا ہے، دہلی کے بھرت نگر تھانہ میں تعینات کانسٹیبل میں کرونا کی تشخیص ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت ہو گئی، 31 سالہ امت دہلی میں کرونا کے ریڈ زون میں ڈیوٹی پر تعینات رہا تھا

    بھارتی فوج کے بعد نیوی میں بھی کرونا پھیل گیا

  • خبردار،قرنطینہ مرکز سے بھاگنے ،طبی عملے سے بدتمیزی پر ہو گی سزا

    خبردار،قرنطینہ مرکز سے بھاگنے ،طبی عملے سے بدتمیزی پر ہو گی سزا

    خبردار،قرنطینہ مرکز سے بھاگنے ،طبی عملے سے بدتمیزی پر ہو گی سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والا کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے، بھارت میں بھی کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے

    بھارتی ریاست اتر پردیش کی یوگی سرکار نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے مریضوں کو سامنے رکھ کر ایک قرارداد پاس کی ہے . قرارداد کے مطابق اگر کوئی کورونا کا مریض قصداً پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتا ہے تو اسے ایک سے تین سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ قرنطینہ سنٹر سے بھاگنے والوں کو بھی اتنی ہی سزا ہوگی اور 1 لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی لگ سکتا ہے۔

    اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ‘اتر پردیش عوامی صحت اور وبائی مرض کنٹرول آرڈیننس 2020’ پاس ہوا جس میں سیکورٹی اہلکاروں کے حوالہ سے بھی سخت قانون بنائے گئے ہیں

    نئے قانون کے مطابق محکمہ صحت کے اہلکاروں، سبھی پیرامیڈیکل سٹاف، پولس اہلکاروں اور صفائی کرنے والوں کے ساتھ انتظامیہ کی طرف سے تعینات کسی بھی کورونا مریض کی جانب سے بدتمیزی پر،یا غلط جملے پر،یا کسی حملے پر 6 مہینے سے لے کر 7 سال تک کی سزا دی جائے گی۔اور 50 ہزار سے لے کر 5 لاکھ تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    سبزی و فروٹ منڈی میں بھی کرونا پھیل گیا، 12 تاجروں میں تشخیص

    کرونا وائرس سے خاتون سکول ٹیچر کی ہوئی موت

    88 سالہ خاتون نے کرونا کو شکست دے دی

    کرونا کا خوف، بھارت کے 37 اضلاع میں ڈاکٹر ڈیوٹی سے غائب

    واضح رہے کہ بھارت میں 17 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ ہے،مودی سرکار نے کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت بھر میں لاک ڈاؤن کو مزید دو ہفتے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ 4مئی کے بعد مزید 2 ہفتے لاک ڈاؤن جاری رہے گا، جہاں خطرہ کم ہوگا، وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی جائے گی،نئے احکامات کے تحت 17 مئی تک لاک ڈاؤن لاگو رہے گا۔

    بھارت کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جس نے کورونا کی وبا کے پیش نظر سخت سفری پابندیاں عائد کیں۔ 25 مارچ کوشروع ہونے والے اس لاک ڈاؤن کے بعد ملک بھر میں ٹرینوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    بھارت کرونا کو شکست نہیں دے سکتا، بھارتی طبی ماہرین نے مودی سرکار کا بھانڈا پھوڑ دیا

  • بھارت کرونا کو شکست نہیں دے سکتا، بھارتی طبی ماہرین نے مودی سرکار کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بھارت کرونا کو شکست نہیں دے سکتا، بھارتی طبی ماہرین نے مودی سرکار کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بھارت کرونا کو شکست نہیں دے سکتا، بھارتی طبی ماہرین نے مودی سرکار کا بھانڈا پھوڑ دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے، بھارت نے کرونا کے مریضوں کی کم تعداد دکھانے کے لئے ٹیسٹنگ میں کمی کر دی ہے جس کی وجہ سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کم ہوں گے تو ہم کرونا کو شکست نہیں دے سکتے

    ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کرونا کو شکست دینی ہے تو ٹیسٹنگ کی سہولت بڑھانی ہو گی لیکن بھارت نے ٹیسٹنگ کی سہولت کئی ریاستوں میں کم کر دی ہے،مغربی بنگال اور بہار میں 10 لاکھ کی آبادی میں صرف 230 اور 267 افراد کا بالترتیب ٹیسٹ ہوا ہے

    ایک رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال، بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں کرونا وائرس کے حوالہ سے حالات بہت خراب ہیں۔ یہ ریاستیں کورونا ٹیسٹ کے معاملے میں قومی اوسط سے 25 فیصد تک پیچھے چل رہی ہیں۔ بھارت میں اب تک 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کرایا جا چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی فی 10 لاکھ کی آبادی پر ٹیسٹ بڑھ کر 818 ہو گیا ہے۔ لیکن مغربی بنگال اوربہار میں کم ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں

    کرونا وائرس کے بھارت میں بڑھتے ہوئے مریضوں کے بعد انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی جانب سے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں وہ تشویش ناک ہیں۔ مغربی بنگال اور بہار کے بعد اتر پردیش کی حالت بھی بہت اچھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ وہاں ہر 10 لاکھ کی آبادی پر 429 ٹیسٹ کرائے جا رہے ہیں جب کہ مدھیہ پردیش میں یہ تعداد محض 642 ہے

    بھارتی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کئی ریاستوں میں ٹیسٹ کٹ صحیح نہ ملنے کی وجہ سے وقت لگ رہا ہے۔ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ ریاست اگر صحیح طریقے سے ٹیسٹ کریں تو کرونا مریضوں کی تعداد میں تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے ٹیسٹ کم ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

    سبزی و فروٹ منڈی میں بھی کرونا پھیل گیا، 12 تاجروں میں تشخیص

    کرونا وائرس سے خاتون سکول ٹیچر کی ہوئی موت

    88 سالہ خاتون نے کرونا کو شکست دے دی

    واضح رہے کہ بھارت میں 17 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ ہے،مودی سرکار نے کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت بھر میں لاک ڈاؤن کو مزید دو ہفتے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ 4مئی کے بعد مزید 2 ہفتے لاک ڈاؤن جاری رہے گا، جہاں خطرہ کم ہوگا، وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی جائے گی،نئے احکامات کے تحت 17 مئی تک لاک ڈاؤن لاگو رہے گا۔

    بھارت کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جس نے کورونا کی وبا کے پیش نظر سخت سفری پابندیاں عائد کیں۔ 25 مارچ کوشروع ہونے والے اس لاک ڈاؤن کے بعد ملک بھر میں ٹرینوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    کرونا کا خوف، بھارت کے 37 اضلاع میں ڈاکٹر ڈیوٹی سے غائب