Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کرونا وائرس کی وجہ سے مشکل حالات ، عثمان بزدار نے تاریخی پیکج کااعلان کرکے غریبوں کے دل جیت لیئے

    کرونا وائرس کی وجہ سے مشکل حالات ، عثمان بزدار نے تاریخی پیکج کااعلان کرکے غریبوں کے دل جیت لیئے

    لاہو: کرونا وائرس کی وجہ سے مشکل حالات ، عثمان بزدار نے تاریخی پیکج کااعلان کرکے غریبوں کے دل جیت لیئے،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال کے پیش نظرپنجاب میں 18ارب روپے کے صوبائی ٹیکسز معاف کردیئے گئے اورروزگار کی بندش سے متاثر ہونے والے 25لاکھ گھرانوں کو 4ہزار روپے فی گھرانہ ادا کیے جائیں گے۔جس کیلئے 10ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ آفس میں خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے کنفرم مریض 530 ہیں جبکہ ڈی جی خان میں 207، منڈی بہاوالدین4، ملتان75، ناروال1، لاہور 119، رحیم یار خان 1،گجرات 51، سرگودھا 2،گوجرانوالہ 10،اٹک 1،جہلم 19،بہاولنگر1،راولپنڈی 15، میانوالی2، فیصل آباد 9،ننکانہ صاحب 2 اورخوشاب ایک مریض ہے۔ گزشتہ روزسے صوبہ میں کورونا وائرس کے82مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بے شمار لوگوں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں اورخاص طورپر دیہاڑی دار طبقہ اورمزدور بھائی اس کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ہمیں ان کی مشکلات کا بھر پور احساس ہے،ہم ان کو مشکل کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے حکومت پنجاب ان کے ساتھ ہے۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبہ بھر میں 10ارب روپے کی لاگت سے 25 لاکھ گھرانوں کو چار ہزار روپے مالی امداد دی جائے گی۔یہ امدادی رقم وفاقی حکومت کے دیگر پیکیج کے علاوہ ہوگی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ڈاکٹراور ہیلتھ پروفیشنل ہیروہیں۔ہم ان کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں۔ہم ڈاکٹرزاورہیلتھ پروفشنلزجوکورونا وارڈز میں کام کررہے ہیں ان کیلئے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ بطورپر سپیشل الاؤنس دیں گے۔ یہ ان کی خدمات کا معاوضہ نہیں بلکہ حکومت پنجاب کی طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔پنجاب حکومت کورونا کے خلاف مہم میں کام کرنے والے ملازمین،ڈاکٹروں اورہیلتھ پروفیشنل کے جاں بحق ہونے پر شہداء پیکیج دے گی۔

    عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب کی جیلوں میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ401کے تحت پنجاب کی جیلوں میں کورونا وباء کی روک تھا م کیلئے قیدیوں کی90روز کیلئے سزا معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب میں تقریباً3100 قیدی مستفید ہوں گے۔اس فیصلے کا اطلاق سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں پرنہیں ہوگااور انڈرٹرائل قیدیوں کے حوالے سے سفارشات تیار کرلی گئی ہیں اوروہ جلد وفاقی حکومت کو پیش کردی جائینگی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں آج سے امتناع وبائی امراض آرڈیننس (Punjab Infectious Diseases Control and Prevention Ordinance,2020)نافظ العمل ہوچکا ہے جس سے انتظامیہ اورمحکمہ صحت کے حکام کو کورونا کنٹرول کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر عملدر آمد میں سہولت ہوگی اور قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔وزیراعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت پنجاب صحافیوں کیلئے پیکیج کا بھی جائزہ لے گی اوران کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرے گی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے عملے کے لئے پرسنل پروٹیکشن ایکیوپمنٹ ضرورت کے مطابق موجود ہیں،پریشانی کی کوئی بات نہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ کرفیو نہیں جزوی طورپر غیر ضروری ادارے بند کیے گئے ہیں اوردفعہ144کی خلاف وزری کرنے کے خلاف کارروائی کو بھی مانیٹر کیا جارہا ہے۔صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ حکومت اگلے بجٹ میں 100ارب روپے کے ایسے ترقیاتی منصوبے لائے گی جہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملے۔

    انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کے پروگرام کے تحت آن لائن سادہ فارم پر کر کے امداد حاصل کی جاسکتی ہے جسے موجود ڈیٹا بیس پر چیک کرنے کے بعد امدادی رقم ٹرانسفر کی جائے گی۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت،صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان،چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اربن سروسز،سیکرٹری خزانہ،سیکرٹری اطلاعات اوردیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
    ٭٭٭

  • پاکستان اور سپریم کورٹ بار میدان میں آگئیں،کوئی کرونا کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کاحامی توکوئی مخالف

    پاکستان اور سپریم کورٹ بار میدان میں آگئیں،کوئی کرونا کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کاحامی توکوئی مخالف

    لاہور:پاکستان اور سپریم کورٹ بار میدان میں آگئیں،کوئی کرونا کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کاحامی توکوئی مخالف،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس خدشات کے پیش نظر جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی درخواست پر پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے تشویش کا اظہار کردیا۔

    وائس چئیرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی اور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سید قلب حسن سمیت دیگر ممبران کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    پاکستان بار اور سپریم کورٹ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ وقت کی ضرورت کے مطابق ہے۔ دیگر اعلیٰ عدالتوں کو بھی کورونا وائرس کے پیش نظر قیدیوں کی رہائی سے متعلق فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

    مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان چند ممالک میں سے ہے جہاں زیر تفتیش ملزمان بھی جیلوں میں ہیں جس سے جیلوں میں رش بڑھ گیا ہے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ درخواست سنتے وقت موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھے گی اور سپریم کورٹ کا فیصلہ انسانی حقوق سے متعلق نظام عدل کو مزید واضح کرے گا۔

  • بھارت میں لاک ڈاؤن: روزگار کے خاتمے، بھوک کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی پرمجبور

    بھارت میں لاک ڈاؤن: روزگار کے خاتمے، بھوک کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی پرمجبور

    نئی دہلی :بھارت میں لاک ڈاؤن: روزگار کے خاتمے، بھوک کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی پرمجبور،اطلاعات کےمطابق بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے ملک میں سوا ارب سے زائد آبادی کو لاک ڈاؤن کا سامنا ہے جس کے باعث ملک کی غریب آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہو گئی ہے

    بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک میں‌ ان پابندیوں کی وجہ سے روزگار کے خاتمے اور بھوک کے سبب مختلف شہروں سے آئے لوگ اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے باعث 17 افراد ہلاک اور 700 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو ملک میں 21 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔بھارت میں پہلا کیس 30 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا لیکن حالیہ ہفتوں میں کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھنے کے بعد ماہرین صحت نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

    تاہم مسلسل مطالبات کے باوجود بھارت میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے تاخیر کی گئی جس پر مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

  • کورونا وائرس: رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے؟عالمی اداروں نے گائیڈ لائن دے دی

    کورونا وائرس: رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے؟عالمی اداروں نے گائیڈ لائن دے دی

    واشنگٹن :کورونا وائرس: رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے؟عالمی اداروں نے گائیڈ لائن دے دی ،تفصیلات کےمطابق کورونا وائرس کے باعث جہاں ملک بھر میں لاک ڈاؤن اور پابندیاں لگائی گئی ہیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود کیا گیا ہے وہیں کچھ ایسے شعبے بھی ہیں جس سے وابستہ لوگ اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

    انہی شعبوں میں ایک شعبہ ذرائع ابلاغ کا بھی ہے جہاں خواتین و حضرات فرائض کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں، کچھ صحافی رپورٹنگ کے ذریعے معلومات فراہم کررہے ہیں تو بہت سے ایسے صحافی بھی ہیں جو گھروں سے کام کے ذریعے عوام تک بروقت معلومات فراہم کر رہے ہیں۔یہ ہدایات یونیسیف کی طرف سے جاری کی گئی ہیں بعد ازاں دیگر اداروں نے اس کو اپنے اپنے نقطہ نظرسے شائع کیا ہے

    صحافیوں خاص طور پر رپورٹنگ کے فرائض انجام دینے والوں کو اس عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے، یونیسیف کےبعد سینٹر فار ایکسی لینس ان جرنلزم (سی ای جے) کی جانب سے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے تعاون سے بھی کچھ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ان ہدایات کو کچھ اقسام میں تبدیل کیا گیا ہے، جس میں ایک اپنا خیال رکھیں، کورونا سے متعلق آگہی، مصدقہ رپورٹنگ، مثبت رویوں کے فروغ کیلئے رپورٹنگ، طبی عملے اور زیر علاج افراد کے احترام کا لحاظ شامل ہے۔

    کورونا وائرس کی اس عالمی وبا کے دوران رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے ہدایات دی گئی کہ وہ باہر نکلتے وقت یا لوگوں سے ملتے وقت ماسک ضرور پہنیں، اس کے علاوہ جتنا ممکن ہوسکے ہاتھ دھوتے رہیں۔

    اس کے علاوہ یہ بھی رہنمائی کی گئی کہ لوگوں سے ملتے وقت کم سے کم بھی ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں اور اپنے موبائل فون میں کورونا ہیلپ لائن نمبر، محکمہ صحت کے مختص ترجمان کا نمبر، معالج کا نمبر اور اس قریبی شخص کا نمبر رکھیں جس سے ہنگامی صورتحال میں رابطہ کیا جاسکے۔

    ساتھ ہی اپنا خیال رکھیں کٹیگری میں جن باتوں کو گریز کرنے کا کہا گیا ہے ان میں آنکھ اور ناک یا چہرے کے دوسرے کسی حصے کو چھونے سے گریز کریں، اجتماعات اور مجمع میں لوگوں کے قریب نہ جائیں اور ان نمبرز کو محفوظ رکھنا نہ بھولیں۔کورونا سے متعلق جن آگہی کے بارے میں ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے ان میں کورونا وائرس کی صورت میں پھیلنے والی نئی بیماری سے متعلق لوگوں تک معلومات پہنچانا شامل ہے۔

    اس کے علاوہ ان لوگوں کو موضوع بحث بنائیں جو کورونا سے متاثر ہوئے ہیں، اس کے ساتھ انہیں بھی اسی طرح موضوع بحث بنائیں جو ممکنہ طور پر وائرس یا وبا سے متعلق مفروضات کا شکار ہوسکتے ہیں۔مذکورہ ہدایات میں کہا گیا کہ ان لوگوں کے حوالے سے بات کریں جو کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں یا پھر جانبر ہوئے ہیں۔

    ان ہدایات میں کورونا وائرس کی نسبت کسی قوم یا خاص مقام کی طرف کرنے سے گریز کرنے کا کہا ہے، ساتھ ہی بتایا گیا کہ اس بیماری کو کووڈ 19 کا نام اس لیے دیا گیا تاکہ اسے کسی قوم، قبیلے یا مقام سے نہ جوڑا جائے۔ساتھ ہی اس وائرس کے کووڈ 19 کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں co سے مراد کورونا، vi سے مراد وائرس، d سے مراد ڈیزیس (بیماری) ہے جبکہ 19 کا ہندسہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بیماری 2019 میں سامنے آئی۔

    کورونا وائرس سے متعلق یہ جن باتوں میں احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے وہ شبہ کی بنیاد پر کسی کیس کو موضوع بحث بنانا ہے، ساتھ ہی کہا گیا کہ اس بیماری کو کسی جرم یا غیر انسانی اقدام کے طور پر پیش کرنے سے گریز کریں۔
    رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی رہنمائی کے لیے بتایا گیا ہے کہ بیماری کے علاج کی دریافت کو مرکزی موضوع نہ بنائیں، اس طرح متاثرہ افراد مایوس ہوسکتے ہیں۔

    ادھر سی ای جے نے مصدقہ رپورٹنگ سے متعلق یہ ہدایات جاری کیں کہ لوگوں کو سائنسی اعداد و شمار اور حکام کی طرف سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں کورونا کی سنگینی کے بارے میں بتائیں، اس کے علاوہ کسی بھی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے وقت احتیاط برتیں اور اس بات کو دیکھ لیں کہ یہ رپورٹ معتبر علمی اور تحقیقی اداروں کی توثیق سے شائع ہوئی یا نہیں۔

    تاہم جن چیزوں سے احتیاط کرنے کو کہا گیا ہے اس میں غیرمصدقہ اطلاعات کو دہرانے اور پھیلانے سے گریز کرنے، غیر معتبر اداروں اور افواہ ساز حلقوں کی جاری کردہ معلومات کو بطور حوالہ پیش کرنا شامل ہے۔علاوہ ازیں محکمہ صحت کے ذمہ داران اور تشخیصی سہولت کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

    مذکورہ ہدایات میں کہا گیا کہ کورونا سے متعلق بات کرتے وقت مثبت انداز کو اختیار کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے ہدایات کتنی ضروری ہیں جبکہ ایسی تصاویر کا بھی استعمال کیا جائے جو کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کو آسانی سے بیان کرسکتی ہوں۔

    تاہم منفی طرز عمل اختیار کرنے اور کسی کو دھمکی دینے سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے ساتھ ہی صحافیوں کو دوا اور ویکسین کے حصول کے لیے زور دینے سے گریز کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔مزید یہ کہ رپورٹنگ پر موجود افراد زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسی تصاویر شیئر نہ کریں جو غلط رہنمائی یا غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہوں۔

    سی ای جے کی جانب سے صحافیوں کو کہا گیا کہ وہ طبی عملے اور زیر علاج افراد کا احترام کرتے ہوئے مریض اور اس کے تیمار داروں کی راز داری کا خیال کریں۔اس کے علاوہ اپنے رویے اور روابط کے ذریعے لوگوں میں یہ احساس اجاگر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس سے طبی عملی کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

    ساتھ ہی رپورٹرز کو اطلاعات و معلومات کے لیے ہسپتال یا محکمہ صحت کی طرف سے متعین کردہ ذمہ دار سے رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے۔صحافیوں پر زور دیا گیا کہ مریض اور ان کے تیمار داروں کی رضا مندی کے بغیر کوئی خبر نشر کرنے سے اجتناب کریں اور طبی عملے کی اہم سرگرمیوں کو بے بنیاد خبروں سے متاثر نہ کریں۔

  • ہم حاضر،ہم تیار، پاک فوج کے دستے ملک بھر میں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہے ہیں،صبروتحمل کا مظاہرہ کریں‌ : آئی ایس پی آر

    ہم حاضر،ہم تیار، پاک فوج کے دستے ملک بھر میں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہے ہیں،صبروتحمل کا مظاہرہ کریں‌ : آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:پاک فوج کے دستے ملک بھر میں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہے ہیں،اطلاعات کےمطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے دستے ملک بھر میں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہے ہیں۔ تفتان میں 600 افراد کیلئے قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق وفاق و صوبائی انتظامیہ کورونا وائرس سےعوام کے تحفظ میں مصروف ہے، فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف داخلی و خارجی راستوں کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں 182 قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

    ہم حاضر،ہم تیار، پاک فوج کے دستے ملک بھر میں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہے ہیں،صبروتحمل کا مظاہرہ کریں‌ ،اپنے پیغام میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آزاد کشمیر میں کوٹلی، بھمبر، میرپور، مظفرآباد میں جوان تعینات ہیں، باغ، راولاکوٹ، کیل اور برنالہ میں فوجی جوان تعینات ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق بلوچستان کے 9 اضلاع میں فوجی جوان خدمات انجام دے رہے ہیں، آوران، چاغی، لسبیلہ، قلات، گوادر، سبی، خضدار، نوشکی کےعلاقےشامل ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق تفتان میں 600 افراد کیلئے قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے، چمن میں 805 خیموں پر مشتمل قرنطینہ مرکز بنایا گیا ہے، چمن کے گاؤں کلی فیضو میں 300 افراد کیلئے کنٹینرمیں قرنطینہ بنائے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں، پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے خنجراب پاس سے طبی آلات کی منتقلی کی گئی چین سے درآمد 5 وینٹی لیٹر، ماسک، میڈیکل اور ٹیسٹنگ کٹس کی منتقلی کی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق خیبرپختونخوا کے 26 اضلاع میں پاک فوج کے جوان خدمات انجام دے رہے ہیں، چاروں انٹرنیشنل بارڈر ٹرمینلز میں نقل و حرکت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق لنڈی کوتل میں 1500 افراد کیلئے قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے، پاک فوج کی جانب سے 4 ہزار مشتبہ کورونا کیسزکی ٹریکنگ کی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پنجاب کے 34 اضلاع میں مشترکہ چیک پوسٹیں اور پٹرولنگ کی جارہی ہے، لاہور ایکسپورسینٹر، فیصل آباد اور ملتان میں قرنطینہ مراکز میں معاونت کی جارہی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سندھ کے 29 اضلاع میں بھی تمام داخلی اور خارجہ مراکز کی نگرانی جا رہی ہے، کراچی ایکسپوسینٹرمیں قرنطینہ مرکزمیں سول انتظامیہ کی مددکی جارہی ہے۔

  • ہائیرپاکستان کی جانب سے کرونا سے نمٹنے کے لیے 50 ہزارسرجیکل ماسک کا عطیہ

    ہائیرپاکستان کی جانب سے کرونا سے نمٹنے کے لیے 50 ہزارسرجیکل ماسک کا عطیہ

    لاہور:ہائیرپاکستان کی جانب سے کرونا سے نمٹنے کے لیے 50 ہزارسرجیکل ماسک کا عطیہ ،اطلاعات کےمطابق ہائیر پاکستان کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے حکومت پاکستان کو 50،000سرجیکل ماسکس عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

    پاکستان کے نمبرون ہوم اپلائنسس ہائیر پاکستان نے ملک میں کورونا وائرس کے خاتمے میں مدد کے لیے حکومت پاکستان کو پچاس ہزار سرجیکل ماسکس عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے.ہائیر پاکستان کے سی ای او جاوید آفریدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں کورونا وائرس سے مقابلہ متحد ہوکر کیا جاسکتاہے۔

    جاوید آفریدی کا کہنا ہےکہ ایسے وقت میں جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور حکومت پاکستان اس وائرس کے ملک سے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں ہائیر پاکستان بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریگا ۔جاویدآفریدی نے عوام سے اپیل کہ وہ گھروں میں رہیں اور حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں ۔

  • احتیاط کی کمی یا قسمت ہاری ، لاہور کے 46 تھانوں میں 209 افراد کرونا وائرس کا شکارہوگئے

    احتیاط کی کمی یا قسمت ہاری ، لاہور کے 46 تھانوں میں 209 افراد کرونا وائرس کا شکارہوگئے

    میں لاہور:احتیاط کی کمی یا قسمت ہاری ، لاہور کے 45 تھانوں میں‌ 209 افراد کرونا وائرس کا شکارہوگئے ،باغی ٹی وی کےمطابق لاہور کے 46 تھانوں کے پولیس اہلکاروں کوکرونا وائرس کی شکایت نے جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے، ذرائع کےمطابق اتنی تعداد میں افراد کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد صورت حال بہت پچیدہ ہوگئی ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق اس وقت مزید ٹیسٹ جاری ہیں لیکن فی الحال شام 6 بجے تک آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ لوگ اس وجہ سے سخت خوف میں مبتلا ہیں ، ادھر پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہےکہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اکثرمریضوں کی حالت بہتری کی طرف جارہی ہے

    یاد رہے کہ کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے، ادھر پاکستانی حکومت نے اپنی وسعت سے بڑھ کرانتظامات کیئے ہیں لیکن چونکہ یہ ایک وبا کی شکل اخیتارکرتا جارہا ہے،اس لیے اس سے بچاوکےلیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں

    پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور ملک کے مختلف حصوں میں مزید متاثرہ افراد سامنے آنے سے مجموعی تعداد 1427 ہوگئی۔ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کے 7 نئے کیسز سامنے آئے۔

    ترجمان محکمہ صحت پنجاب قیصر آصف کا کہنا تھا کہ صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 497 ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ اب تک صوبے میں 5 اموات ہوئیں جبکہ 4 مریض صحت یاب ہوئے۔

    متاثرین کی تفصیل سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان سے 207 اور ملتان سے 46 زائرین کے علاوہ لاہور میں 116 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ترجمان کے مطابق گجرات سے 51، گوجرانوالہ سے 9، جہلم سے 19 اور راولپنڈی سے 15 مریضوں رپورٹ ہوئے۔

    List of police stations with more corona virus cases

    PS DEFENCE C 14
    PS MUGHALPURA 10
    PS SHAHDARAH 10
    PS KAHNA 10
    PS SAMANABAD 09
    PS SHADBAGH 09
    PS WAHDAT COLONY 09
    PS GULBERG 09
    PS JOHAR TOWN 07
    PS IQBAL TOWN 07
    PS SATOKATLA 07
    PS GREEN TOWN 05
    PS CHUNG 05
    PS DEFENCE A 05
    PS RAIWIND 05
    PS ICHHRA 05
    PS HANJARWAL 05
    PS MODEL TOWN 04
    PS HARBANSPURA 04
    PS SUNDER 04
    PS SOUTH CANTT 04
    PS TOWN SHIP 03
    PS MUSTAFA TOWN 03
    PS SANDAH 03
    PS KOT LAKHPAT 03
    PS GHAZI ABAD 03
    PS CIVIL LINES 03
    PS LYTTON ROAD 03
    PS NAWAN KOT 03
    PS SHAHDARA TOWN 03
    PS SHALIMAR 03
    PS RANG MAHAL 03
    PS SABZAZAR 03
    PS GUJJAR PURA 02
    PS NISHTAR COLONY 02
    PS DEFENCE B 02 PS RACE COURSE 02
    PS SARWAR ROAD 02
    PS OLD ANARKALI 02
    PS MISRI SHAH 02
    PS MUSLIM TOWN 02
    PS SHERA KOT 02
    PS BHATI GATE 02
    PS BATA PUR 02
    PS GULSHAN RAVI 02
    PS MUSTAFABAD 02

    Total 209

    +

  • پاکستانیو!طاقت ورامریکہ میں  سہولیات کی عدم فراہمی، کچرے کی تھیلی پہننے والا ڈاکٹر جان کی بازی ہار گیا

    پاکستانیو!طاقت ورامریکہ میں سہولیات کی عدم فراہمی، کچرے کی تھیلی پہننے والا ڈاکٹر جان کی بازی ہار گیا

    نیویارک: پاکستانیو طاقت ورامریکہ کا یہ حال ہے کہ سہولیات کی عدم فراہمی، کچرے کی تھیلی پہننے والا ڈاکٹر جان کی بازی ہار گیا،اطلاعات کےمطابق امریکا میں کرونا وائرس سے حفاظتی سامان کی قلت ہونے کے باعث طبی عملہ کچرے کی تھیلیاں استعمال کرنے پر مجبور ہے، تھیلیاں استعمال کرنے والا ایک ڈاکٹر کرونا وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک سٹی ہاسپٹل میں طبی عملہ کچرے کے لیے استعمال کیے جانے والے پلاسٹک بیگز پہننے پر مجبور ہے۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طبی عملے کے 3 افراد نے کچرے کے لیے استعمال کیے جانے والے سیاہ پلاسٹک بیگز پہن رکھے ہیں۔

    اسی اسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر بھی وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے۔ 48 سالہ ڈاکٹر کیلی میں ایک ہفتہ قبل کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور گزشتہ رات وہ انتقال کر گئے،مقامی حکام نے ڈاکٹر کی موت پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    کرونا وائرس کے کاری وار کے بعد نیویارک کے تقریباً سب ہی اسپتالوں میں ذاتی حفاظت کے سامان جیسے ماسک اور آئسولیشن گاؤنز کی قلت ہے۔مقامی انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس اضافی این 95 اور 99 ماسک، گاؤنز یا دستانے موجود ہیں تو انہیں طبی عملے کو عطیہ کردیں۔

    خیال رہے کہ امریکا میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، امریکا میں کرونا سے ہلاکتیں 15 سو سے زائد ہوگئی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 کھرب ڈالرز کے ریلیف بل پر بھی دستخط کردیے ہیں۔

  • کرونا وائرس ، لاک ڈاون یا کوئی اور وجہ : دنیا بھرمیں کنڈوم کی کمی ہوگئی

    کرونا وائرس ، لاک ڈاون یا کوئی اور وجہ : دنیا بھرمیں کنڈوم کی کمی ہوگئی

    ملیشکا :کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بیچ دنیا بھر میں کنڈوم کی کمی ہوگئی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کنڈوم بنانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے چلتے ہم پیداوار بند کرنے کو مجبور ہوگئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق دنیا بھر میں ملیشکا کا کاریکس بی ایچ ڈی عالمی سطح پر 5 کنڈوم کی پیداوار فراہم کرنے کا بہت بڑا کارخانہ ہے ۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے حکومت کے ذریعے لگائے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک ہفتے سے زیادہ وقت تک کمپنی نے اپنے تین ملیشیائی کارخانوں میں ایک بھی کنڈوم نہیں بنایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود کہ کمپنی کو خاص چھوٹ اور صرف 50 فیصدی ملازمین کے ساتھ پیداوار کو پھر سے شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    چیف ایکزیکٹو آفیسر گوہ میا نے کہا کہ فیکٹریوں کو صلاحیت کے ساتھ مطالبات کو پورا کرنے میں وقت لگے گا۔ گوہ میا نے کہا، "ہم کنڈومزکی عالمی کمی کا سامنا کررہے ہیں جو کہ بہت بھیانک ہے”۔ انہوں نے کہا، "میراخیال ہے کہ کمی صرف ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں چل سکتی ہے

  • میو اسپتال میں جاں بحق ہونے والے کورونا مریض کا دل مکمل طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔ینگ ڈاکٹرزکی پریس کانفرنس

    میو اسپتال میں جاں بحق ہونے والے کورونا مریض کا دل مکمل طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔ینگ ڈاکٹرزکی پریس کانفرنس

    لاہور:میو اسپتال میں جاں بحق ہونے والے کورونا مریض کا دل مکمل طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔ینگ ڈاکٹرزکی پریس کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہےکہ لاہور میو اسپتال میں جاں بحق کورونا مریض کا دل مکمل طور پر کام نہیں کر رہا تھا

    ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے میواسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نرسز سے بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی لی جارہی ہے، حفاظتی کٹس کے بغیر کورونا کاؤنٹرز پر کام کررہے ہیں، ایک کٹ دی گئی ہے جو بار بار دھو کر استعمال کررہے ہیں۔

    ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کورونا وارڈ میں انتقال کرنے والے بزرگ مریض کا دل مکمل کام نہیں کررہا تھا، رات 12 اور صبح 4 بجے مریض کو چیک کیا تھا، کورونا وائرس کی وجہ سے مریض کو کوئی انجیکشن نہیں لگاسکتے تھے، ایسےمریض کوباندھ دیاجاتاہے۔ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ کسی نےجان بوجھ کر ایسی ویڈیو بناکر ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز نے شکوہ کیا کہ کورونا سےمتعلق ٹریننگ کی گئی نہ ہی کٹس پہننےکاطریقہ بتایاگیا، آگاہ نہیں کیاگیاکہ کس شعبہ کے ڈاکٹر، نرس اور پیرامیڈک اسٹاف کو کورونا مریضوں کا علاج کرنا ہے۔گزشتہ روز لاہور کے میو اسپتال میں ایک بزرگ مریض دم توڑ گیا تھا جس کے حوالے سے یہ کہا گیا تھا کہ اسے کسی نے آکسیجن نہیں دی اور اس نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔

    پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی اور ملک بھر میں سب سے زیادہ 5 ہلاکتیں اب تک پنجاب میں ہوئی ہیں جب کہ ملک میں مزید نئے کیسز کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد 1415 تک جا پہنچی ہے۔پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے پنجاب میں سب سے زیادہ 5 ہلاکتیں ہوئی ہیں جہاں لاہور میں 3، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ایک ایک ہلاکت ہوئی جب کہ خیبرپختونخوا میں 3، بلوچستان، سندھ اور گلگت میں ایک ایک ہلاکت ہوچکی ہے۔