Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پاکستانیو ! گھبرانا نہیں ،کرونا سے نمٹنےکے لیےمیڈیکل مشن بھیج رہے ہیں‌ ،پاکستان نے بھی مشکل میں ساتھ دیا ، مشکورہیں‌،چین کا اعلان

    پاکستانیو ! گھبرانا نہیں ،کرونا سے نمٹنےکے لیےمیڈیکل مشن بھیج رہے ہیں‌ ،پاکستان نے بھی مشکل میں ساتھ دیا ، مشکورہیں‌،چین کا اعلان

    بیجنگ :پاکستانیو ! گھبرانا نہیں ، چین نے کرونا سے نمٹنےکے لیے بہت بڑا اعلان کردیا ، حکومت پاکستان کی کوششوں سے بھی مطمئن ،اطلاعات کےمطابق چین نے پاکستان کی درخواست پر اپنے طبی ماہرین کی ٹیم کورونا وائرس کے خلاف مدد کے لیے پاکستان بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں ،

    کوروناوائرس کے خلاف دنیا کے ساتھ چینی تعاون کے حوالےسے پریس کانفرنس کرتے ہوئےچین کےنیشنل ہیلتھ کمیشن کے نائب صدرنے کہا کہ پاکستان نے طبی ماہرین بھیجنے کی درخواست کی تھی جس پر چین اپنے ماہرین کی ٹیم پاکستان بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کے پھیلنے کےبعد سے ہی چین مسلسل پاکستان سے اپنے تجربات پر مشتمل معلومات کا تبادلہ کررہا ہے اور کنٹرول پلان ، تشخیص اور علاج کے منصوبے بھی شیئر کر رہا ہے۔

    پریس کانفرنس میں چین کی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے وائس چیئرمین ڈین بوکنگ نے کہا کہ نے پریس کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی حکومت کرونا سے نمٹنے کے لیے بالکل صیح سمت جارہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ چین کرونا وائرس کے چین میں تباہ کن اثرات کےدوران پاکستان کی حکومت کے چین کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے نہ صرف مطمئن ہے بلکہ مشکل وقت میں‌ جس انداز سے وزیراعظم عمران خان حکمت عملی سے کام لیا اس پرپاکستان کا مشکور بھی ہے

    پریس کانفرنس میں چین کی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کے وائس چیئرمین ڈین بوکنگ نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ اور اسے روکنے کے حوالے سےچین پاکستان کے ساتھ مزید اپنے تجربات شیئر کرے گا۔یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو کراچی میں سامنے آیا تھا جس کے بعد اب تک ملک بھر میں اس مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 11 سے بڑھ چکی ہے جن میں بڑی تعداد ایران سے آنے والے زائرین یا بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے چین پاکستان کو میڈیکل سپلائیز جن میں این 95 ماسک، میڈیکل دستانے، سرجیل ماسک، سانس کی مشینیں اور ٹیسٹ کٹس کی چار بیچ روانہ کر چکا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ چین پاکستان کو قرنطینہ کے لیے عارضی اسپتال کے قیام میں بھی مدد فراہم کرے گا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز چین کی علی بابا فاؤنڈیشن اور جیک ما فاؤنڈین کی جانب سے میڈیکل آلات بشمول این 95ماسک کی پہلی کھیپ کراچی پہنچی تھی۔دونوں فاؤنڈیشن کی جانب میڈیکل سپلائیز کی مزید دو کھیپ ایک ہفتے میں پاکستان پہنچیں گی ۔

  • نیا کورونا وائرس خواتین کی نسبت مردوں کے لیے زیادہ جان لیوا کیوں؟ کرونا سے نمٹنےوالے طبی ماہرین نے بتادیا

    نیا کورونا وائرس خواتین کی نسبت مردوں کے لیے زیادہ جان لیوا کیوں؟ کرونا سے نمٹنےوالے طبی ماہرین نے بتادیا

    لندن :نیا کورونا وائرس خواتین کی نسبت مردوں کے لیے زیادہ جان لیوا کیوں؟ کرونا سے نمٹنےوالے طبی ماہرین نے بتادیا،اطلاعات کےمطابق ایک سائنسی جائزے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مردوں میں اموات کی شرح 2.8 فیصد اور خواتین میں 1.7 فیصد رہی۔

    اٹلی (اس ملک میں اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں) میں 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں میں 71 فیصد مرد ہیں جبکہ اسپین کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ مردوں کی شرح اموات خواتین کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہے۔اب یہی فرق فرانس، جرمنی، ایران، اٹلی، جنوبی کوریا اور اسپین میں بھی نظر آرہا ہے۔

    تو آخر یہ وبا مردوں کو زیادہ متاثر کیوں کررہی ہے؟اس کا خوبصورت جواب دیتے ہوئے لندن کالج یونیورسٹی کے سینٹر فار جینیڈر اینڈ گلوبل ہیلتھ کی ڈائریکٹر پروفیسر سارہ ہاکس کا کہنا ہے ‘اس کا ایماندارانہ جواب تو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہے’۔

    اس سے پہلے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ تمباکو نوشی اس فرق کی وجہ ہوسکتی ہے۔چین میں تمباکو نوشی کرنے والے مردوں کی شرح 50 فیصد جبکہ خواتین کی محض 2 فیصد ہے، تو پھیپھڑوں کی صحت کا فرق بھی مردوں کے لیے کووڈ 19 کو زیادہ بدتر بنانے کی وجہ ہوسکتا ہے۔

    اس خیال کی تصدیق گزشتہ ماہ ایک طبی تحقیق میں بھی کی گئی جس میں دریافت کیا گیا کہ آئی سی یو میں زیرعلاج یا ہلاک ہونے والے 26 فیصد افراد تمباکو نوشی کے عادی تھے۔ایسا بھی خیال کیا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی وائرس سے متاثر ہونے کا ذریعہ بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس کعادی افراد اپنے ہونٹوں کو زیادہ چھوتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ آلودہ سیگریٹ شیئر بھی کرلیں۔

    کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ مردوں میں ذاتی صفائی کا رجحان جیسے ہاتھ دھونے کا امکان کم ہوتا ہے، اگر ہاتھ دھوتے ہیں تو صابن استعمال نہیں کرتے، طبی امداد کے لیے رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں اور حکومتی طبی مشوروں کو نظرانداز کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ امراض کے لیے زیادہ آسان ہدف بن جاتے ہیں۔مگر ماہرین میں یہ احساس بھی بڑھ ررہا ہے کہ بنیادی حیاتیاتی عناصر بھی اس میں کردار ادا کررہے ہیں۔

    اگرچہ بیشتر ممالک میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی زیادہ تعداد مردوں کی ہوتی ہے مگر اٹلی میں 28 فیصد مرد اور 19 فیصد خواتین تمباکو نوشی کے عادی ہیں، مگر پھر بھی مردوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔امریکا کے جونز ہوپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی پروفیسر سابرا کلین کے مطابق اٹلی، چین، اسپین ہر جگہ ہم نے مردوں میں اموات کی شرح کو زیادہ دیکھا اور ہم نے متعدد ممالک اور ثقافتوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا ‘جب میں یہ دیکھتی ہوں، تو سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہوں کہ کچھ ایسا ہے جو دنیا بھر میں اس کی وجہ بنتا ہے، میرا نہیں خیال کہ تمباکو نوشی بنیادی عنصر ہے’۔

    ان کی ایک سابقہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مردوں میں مختلف اقسام کے انفیکشنز جیسے ہیپا ٹائٹس سی اور ایچ آئی وی کے خلاف اینٹی وائرل مدافعتی نظام خواتین کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، جو ہوسکتا ہے کہ کورونا وائرسز کے حوالے سے بھی درست ہو، تاہم اب تک اس پر تحقیق نہیں ہوئی۔پروفیسر سابرا کے مطابق ممکنہ طور پر مردوں کا مدافعتی نظام وائرس کے حملے کی ابتدا پر مناسب ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔

    اس حوالے سے ہارمونز بھی کردار ادا کرتے ہیں، ایسٹروجن نامی ہارمون مدافعتی خلیات میں اینٹی وائرل ردعمل کو بڑھاتا ہے، جبکہ بیشتر جینز جو مدافعتی نظام کو ریگولیٹ کرتے ہیں وہ ایکس کروموسوم کی مدد سے متحرک ہوتے ہیں جو مردوں میں ایک اور خواتین میں 2 ہوتے ہیں۔دنیا بھر میں کووڈ 19 کے حوالے سے اینٹی باڈی سرویز میں اس صنفی امتیازی ردعمل کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکتی ہے اور پروفیسر سابرا کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی چینی ٹیموں کے مقالوں پر نظرثانی کرچکی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حیاتیات، طرز زندگی اور رویے سب کردار ادا کرتے ہیں، مگر اس کی تصدیق بڑے پیمانے پر ڈیٹا کی دستیابی سے ممکن ہوگی۔اب تک 20 میں سے صرف 6 ممالک نے کیسوں کی تعداد اور اموات سے متعلق تمام تفصیلات کو ظاہر کیا ہے جن میں برطانیہ اور امریکا شامل نہیں۔

  • مائیکل جیکسن نے بھی کورونا وائرس کی پیشگوئی کی تھی،مائیکل جیکسن کے باڈی گارڈ کا انکشاف

    مائیکل جیکسن نے بھی کورونا وائرس کی پیشگوئی کی تھی،مائیکل جیکسن کے باڈی گارڈ کا انکشاف

    نیویارک :مائیکل جیکسن نے بھی کورونا وائرس کی پیشگوئی کی تھی،مائیکل جیکسن کے باڈی گارڈ کا انکشاف ،اطلاعات کےمطابق عالمی شہرت یافتہ اور پاپ موسیقی کے بادشاہ کہلائے جانے والے امریکی گلوکار آنجہانی مائیکل جیکسن نے بھی کورونا وائرس جیسی ایک عالمی وبا کی پیشگوئی اپنی زندگی میں ہی کردی تھی۔

    دی سن کی رپورٹ کے مطابق مائیکل جیکسن کے سابق باڈی گارڈ برٹ میٹ فڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاپ اسٹار نے اپنی زندگی میں ایک ایسی وبا کی پیشگوئی کردی تھی اور یہی وجہ ہے کہ مذاق بننے کے باوجود وہ زیادہ تر ماسک پہنے نظر آتے تھے۔

    برٹ میٹ فڈز کے مطابق وہ تقریباً ایک دہائی تک مائیکل جیکسن کے ساتھ رہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ مائیکل جیکسن پوری دنیا کا دورہ کرتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ ایسی ایک وبا دنیا میں ضرور پھیلے گی اور اس سے اپنی حفاظت کے لیے ہی انہوں نے ماسک پہننا شروع کردیا تھا۔

    41 سالہ باڈی گارڈ کے مطابق ایک دن انہوں نے مذاق میں مائیکل جیکسن سے کہا تھا کہ وہ ماسک پہننا چھوڑ دیں کیوں کہ ایسے کرنے پر ان کا مذاق بنایا جاتا ہے، اور ان کے ہمراہ تصویر کھچوانے سے شرمندگی بھی ہوتی ہے۔

    اس پر مائیکل جیکشن نے انہیں جواب دیا کہ ’برٹ میٹ میں بیمار ہونا نہیں چاہتا، میں نہیں چاہتا میرے مداح مایوس ہوں، مجھے کنسرٹس میں پرفارم کرنا ہوتا ہے، میں اس دنیا میں کسی وجہ سے ہوں، میں اپنی آواز کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، مجھے صحت مند رہنا ہے‘۔

    انہوں نے کہا مائیکل جیکسن کہتے تھے کہ وہ کبھی کبھار ایک دن میں 4 ممالک کا بھی دورہ کرتے تھے اور سفر کے دوران ان کا سامنا متعدد افراد سے ہوتا تھا۔برٹ میٹ فڈز کا کہنا تھا کہ اگر مائیکل جیکسن آج زندہ ہوتے تو وہ لوگوں سے یہ ضرور کہتے کہ ’دیکھو میں نے کہا تھا نا‘ لیکن وہ یہ سوچ کر غصہ بھی ہوتے کہ کسی نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا۔

  • دنیا والو ! ہوشیارہوجاؤ: کورونا کے بعد بھوک اورخوراک کی کمی کا بحران آنے والا ہے، ترجمان اقوام متحدہ نے خبردارکردیا

    دنیا والو ! ہوشیارہوجاؤ: کورونا کے بعد بھوک اورخوراک کی کمی کا بحران آنے والا ہے، ترجمان اقوام متحدہ نے خبردارکردیا

    لندن :دنیا والو ! ہوشیارہوجاؤ: کورونا کے بعد بھوک اورخوراک کی کمی کا بحران آنے والا ہے، ترجمان اقوام متحدہ نے خبردارکردیا،اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ (یو این) کے خوراک و زراعت سے متعلق ذیلی ادارے کے چیف معاشیات میکسیمو توریرو نے کہا ہے کہ نیا بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حکومتوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات مستقبل قریب میں خوراک کی قلت کا باعث بن سکتے ہیں۔

    میسکمو توریرو نے برطانوی اخبار دی گارجین سے بات کرتے ہوئے دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے کورونا سے بچنے کے لیے اٹھائے جانے والے کچھ اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا اور انہیں خوراک کی ترسیل کو روکنے کا سبب قرار دیا۔ادارہ خوراک و زراعت کے چیف معاشیات کے مطابق اگرچہ دنیا بھر میں اس سال اچھی فصل ہوئی ہے تاہم خوراک کی ایک سے دوسرے ملک تک ترسیل کے لیے کھڑی کی گئی رکاوٹیں دنیا بھر میں خوراک کی قلت کا باعث بن سکتی ہیں۔

    میسکمو توریرو کا کہنا تھا کہ دنیا کے متعدد ممالک نے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے زمینی سرحدوں کی بندش سمیت لوگوں کو گھروں تک محدود کردیا ہے جس وجہ سے خوراک کی ترسیل والے افراد بھی محدود ہوگئے ہیں اور یقینا اس عمل سے دنیا بھر میں خوراک کی قلت پیدا ہوگی۔

    چیف معاشیات میکسیمو توریرو کے مطابق حکومتوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے باوجود خوراک کی ترسیل کے معاملات پر بندش نہیں لگانی چاہیے اور فری تجارت کو جاری رہنے دینا چاہیے، کیوں کہ یہ وقت فری تجارت کو روکنے کا نہیں۔

    میسکمو توریرو نے یہ بھی کہا کہ کورونا کی وجہ سے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے کچھ ممالک کی جانب سے برآمدات پر بھی پابندی لگائی گئی ہے اور دنیا کو ایسے عمل کے خلاف بولنا پڑے گا اور اچھی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ اب اس عمل کے خلاف بات کرنے لگے ہیں۔میسکمو توریرو کا کہنا تھا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کے نمائندے نے کئی ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جانے کے باعث خوراک کی برآمدات روکنے کی بات کی تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے چیف معاشیات نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب کہ کچھ دن قبل ہی امریکی اخبار بلوم برگ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے تحت متعدد ممالک نے خوراک کی برآمدات بھی روک دی ہیں۔

    یاد رہےکہ چند دن قبل اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے عالمی ادارے بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ دنیا بھر مین گندم کے آٹے کی فراہمی کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک قازقستان نے کورونا وائرس کے پیش نظر آٹے کی برآمدات پر پابندی عائد کردی۔

  • مدھیہ پردیش کے مرینا ضلع میں ایک رکن اسمبلی سمیت 450 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے

    مدھیہ پردیش کے مرینا ضلع میں ایک رکن اسمبلی سمیت 450 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے

    مدھیہ پردیش :مدھیہ پردیش کے مرینا ضلع میں ایک رکن اسمبلی سمیت 450 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے مرینا ضلع میں ایک رکن اسمبلی سمیت 450کورونا متاثرہ مشتبہ افراد کو ہوم آئسولیشن پر رکھا گیا ہے۔ ان میں پندرہ غیرملکی سفر سے واپس آنے والے مشتبہ افراد ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مرینا کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ افسر ڈاکٹر آرسی باندل نے بتایا کہ گزشتہ تین دن پہلے یہ تعداد 24تھی جو بڑھ کر ساڑھے چار سو سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان میں پندرہ کورونا مشتبہ غیرملک سے و اپس آنے والے ہیں جبکہ ایک مرینا ضلع کے سبل گڑھ اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے رکن اسمبلی بیجناتھ کشواہ سمیت دیگر نزدیکی ریاستوں سے آئے ہوئے ہیں۔

    ان تمام کو ہوم آئسولیشن پر رکھا گیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ رکن اسمبلی مسٹر کشواہ بھوپا ل میں سابق وزیراعلی کملناتھ کی اس پریس کانفرنس میں شامل تھے جس میں ایک صحافی کو کورونا پازیٹیو نکلا ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ڈاکٹر باندل نے بتایا کہ کورونا مشتبہ رکن اسمبلی بیجناتھ کشواہ کیلارس میں اپنے گھر پر آئسولیشن پر ہیں۔

  •  دنیاکو کورونا کی ہلاکتوں اور لاک ڈاﺅن سے بچنے کے لیے مظلوم کشمیریوں کالاک ڈاﺅن ختم کروانا ہو گا :قاری زوار بہادر

     دنیاکو کورونا کی ہلاکتوں اور لاک ڈاﺅن سے بچنے کے لیے مظلوم کشمیریوں کالاک ڈاﺅن ختم کروانا ہو گا :قاری زوار بہادر

    لاہور: جمعیت علماءپاکستان کے رہنماءمفکر اسلام علامہ قاری محمد زوار بہادر نے کہاہے کہ دنیاکو کورونا کی ہلاکتوں اور لاک ڈاﺅن سے بچنے کے لیے مظلوم کشمیریوں کالاک ڈاﺅن ختم کروانا ہو گا ۔اگرمظلوم کشمیریوںکو آزادی دلوادی جائے تو اللہ رب العزت کی بارگاہ سے امید ہے کہ پوری دنیا سے یہ عذاب ختم ہو سکتا ہے اقوام عالم مظلوم کشمیری عوام کو گزشتہ تقریباً8 ماہ سے جاری لاک ڈاﺅن ختم کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    قاری زوار بہادر نے کہا ہےکہ مودی ہٹلر نے مقبوضہ کشمیر میں بچوں ، بوڑھوں ، خواتین اور عوام الناس کو گھروں میں بند کرکے لاک ڈاﺅن کیا ہوا ہے ۔اشیائے خوردونوش اور ادویات کی کمی کی وجہ سے وہاں عوام موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پوری دنیا ایک خطرناک وائرس کا مقابلہ کررہی ہے اور تقریباًدنیا کا بڑا حصہ لاک ڈاﺅن میں ہے ۔

    امریکہ ،برطانیہ، فرانس اور یورپ کے بیشتر ممالک لاک ڈاﺅن میں ہیں دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت نے گزشتہ 8 ماہ سے وادی کشمیر میں لاک ڈاﺅن اور کرفیو لگا رکھا ہے مگر دنیا کے تمام ممالک نے کشمیری عوام کی آزادی اور لاک ڈاﺅن ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔آج دنیا کشمیری عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ کرسکتی ہے ۔

    جب تک ان مظلوم کشمیریوںکا لاک ڈاﺅن ختم نہیں ہوتا دنیا کا یہ امتحان جاری رہے گا ۔ نام نہادانسانی حقوق کے علمبرداراورمسلم ممالک نے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کیلئے کوئی کردارادا نہیں کیا اور خاموش تماشائی بنے رہے آج یہی بڑے ممالک بہت بڑی آزمائش میں ہیں ۔انہیںجلدکشمیری مسلمانوں کی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

    جاری کردہ انچارج
     میڈیا سیل جمعیت علماءپاکستان

  • چئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹرز اورسٹاف کی تنخواہیں ایمرجنسی فنڈمیں دینے کا اعلان کرکے دل خوش کردیئے

    چئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹرز اورسٹاف کی تنخواہیں ایمرجنسی فنڈمیں دینے کا اعلان کرکے دل خوش کردیئے

    اسلام آباد: چئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹرز اورسٹاف کی تنخواہیں ایمرجنسی فنڈمیں دینے کا اعلان کرکے دل خوش کردیئے ،اطلاعات کے مطابق چئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی ہدایت پر سینیٹرز ، سٹاف کی تنخواہیں ایمرجنسی فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے،

    ذرائع کےمطابق چئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے تین ماہ کی تنخواہ ایمرجنسی فنڈ میں دینے کا اعلان کیا جبکہ سینیٹرز کی ایک ماہ کی تنخواہ ایمرجنسی فنڈ میں جائیگی ،ترجمان سینیٹ کےمطابق گریڈ 20، 21 اور 22 کے افسران کی پانچ دن کی تنخواہ ایمرجنسی فنڈ میں جائیگی

    ترجمان سینیٹ کے مطابق گریڈ 17 سے 19 کی تین دن کی تنخواہ ایمرجنسی فنڈ میں جائیگی۔ جبکہ گریڈ 7 سے 16 کی ایک دن کی تنخواہ ایمرجنسی فنڈ میں جائیگی۔ سینیٹ نے ہر۔مشکل وقت میں ایسے فیصلے کئے ہیں۔

    اس موقع پر چئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ مشکل فیصلے کرینگے تو کرو نا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے گا۔ عوام گھروں میں رہیں گے تو حکومت کو مریضوں کی دیکھ بھال کرنے میں آسانی ہو گی۔

    حکومتی اقدامات لائق تحسین ہیں، وسائل کو مل جل کر پورا کرنے کی کوششیں کرنا ہونگی۔ باقی ادارے بھی آگے آئیں اور دل کھول کر عطیات دیں۔صاحب ثروت اور مخیر حضرات بھی اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

  • لاک ڈاؤن کے دوران پہلا احتجاج ‘ ریلوے ملازمین کا کورونا سے بچاؤ کیلئے حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر مظاہرہ

    لاک ڈاؤن کے دوران پہلا احتجاج ‘ ریلوے ملازمین کا کورونا سے بچاؤ کیلئے حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر مظاہرہ

    لاہور :لاک ڈاؤن کے دوران پہلا احتجاج ‘ ریلوے ملازمین کا کورونا سے بچاؤ کیلئے حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر مظاہرہ،اطلاعات کےمطابق سینکڑوں افراد کے جمع ہونے کی ویڈیو وائرل ، ڈیوٹی پر آنے کو تیار ہیں ، کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی انتظامات کئے جائیں

    تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان نے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بزرگ افراد اس وائرس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں ۔

    تاہم وفاقی وزارت ریلوے کی جانب سے کیرج ورکشاپ کے ملازمین کو ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب ریلوے ملازمین نے ورکشاپ میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر احتجاج ریکارڈ کرا یا ہے۔ جہاں ملک بھر میں کسی ایک شخص کو بھی غیر ضروری طور پر باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے ۔

    ویہی بزرگ ریلوے ملازمین اپنے زندگیوں کی حفاظت کیلئے احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریلوے ملازمین جن میں زیادہ تر تعداد بزرگ ملازمین کی ہے سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔پولیس کی گاڑیاں بھی موقع پر موجود ہیں تاہم اس احتجاج کو منتشر کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر آنے کو تیار ہیں وزارت ریلوے کورونا سے بچاؤ کیلئے حفاظتی انتظامات کرے۔

  • توُناں تےتیریاں یاداں ہی سئی:ورلڈکپ 1992؛ بورڈ نے ٹرافی قذافی اسٹیڈیم میں سجا دی،28 سال کی یادیں بھی کرونا کی نظرہوگئیں

    توُناں تےتیریاں یاداں ہی سئی:ورلڈکپ 1992؛ بورڈ نے ٹرافی قذافی اسٹیڈیم میں سجا دی،28 سال کی یادیں بھی کرونا کی نظرہوگئیں

    لاہور: توُناں تےتیریاں یاداں ہی سئی:ورلڈکپ 1992؛ بورڈ نے ٹرافی قذافی اسٹیڈیم میں سجا دی،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ورلڈ کپ فتح کو 28 سال مکمل ہوگئے جب کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سالگرہ نہ منائی جا سکی۔

    25 مارچ 1992 کو میلبورن میں کھیلے جانے والے فائنل میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر تاریخ میں پہلی اور آخری بار ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا، گروپ مرحلے میں بڑی مشکل سے سفر جاری رکھنے والے گرین شرٹس فارم میں آئے تو پھر کسی حریف کو خاطر میں نہیں لائے اور فیورٹ نہ ہونے کے باوجود مشن مکمل کرتے ہوئے دنیا کو حیران کردیا، ٹیم کی قیادت کرنے والے عمران خان نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور اس وقت ملک کے وزیراعظم ہیں۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں پی سی بی سالگرہ کی تقریب کا اہتمام نہیں کر سکا،البتہ کرسٹل ٹرافی کو قذافی اسٹیڈیم میں رکھ کر تصویر اور یادگار سفر کی ویڈیو جاری کر دی۔فاتح ٹیم کے 2ارکان رمیز راجہ اور وسیم اکرم نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ فتح کے بعد قوم نے ہمیں ہیرو کا درجہ دیا، ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے تو نصف گھنٹے کا سفر 6 گھنٹے میں طے ہوا۔

    ذرائع کےمطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ اس فتح سے دنیا میں پاکستان کی پہچان ہوئی، ہم سب کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی، بعد ازاں ہم میں سے کئی، کوچ، کپتان بنے، عمران خان کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ ایک تو سیاستدان اور وزیر اعظم بھی بن گیا۔

  • کورونا وائرس کا خطرہ، ہائی کورٹ کا پنجاب بھر کی جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کا حکم

    کورونا وائرس کا خطرہ، ہائی کورٹ کا پنجاب بھر کی جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کا حکم

    کورونا وائرس کا خطرہ، پنجاب بھر کی جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کا حکم

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس سے تحفظ کے پیش نظر لاہور ہائیکورٹ نے صوبے بھر کی تمام جیلوں میں قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے تمام خواتین، کم عمر اور معمولی جرائم میں قید قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کردیا۔ ڈی جی ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری نے صوبے بھر کے تمام سیشن ججز کو مراسلہ ارسال کردیا۔

    مراسلہ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے متعلقہ سپرنٹنڈنٹس جیلز کو معمولی نوعیت کے مقدمات میں قید ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں دائر کرنے کی ہدایت کی جائے، متعلقہ سیشن ججز ضمانت کی درخواستیں متعلقہ ٹرائل میں سماعت کیلئے مقرر کریں، 7 سال سے کم قید والے، کم عمر اور خواتین قیدیوں کی ضمانت کی درخواستیں ترجیحی بنیادوں پر منظور کی جائیں، 7 سال سے زائد قید والے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں جیل سپرنٹنڈنٹس براہ راست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کریں۔
    اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہماری جیلوں میں 16 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں، قیدیوں کی تعداد کم کرنا چاہتا ہوں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ قیدی معمولی کیس میں بند ہیں یا اپنی سزا پوری کرچکے ہیں، جو قیدی ضامن نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں ان کو رعایت دی جائے اور جو قیدی اپنی سزا پوری کرچکے ہیں اور جرمانہ دینے کے قابل نہیں ہیں ان کا جرمانہ حکومت ادا کرے گی۔

    ادھر مراد علی شاہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہر قیدی، اس کا جرم، عمر و صحت سے متعلق فہرست بنا کر مجھے بھیجیں، میں پھر قانون کے حساب سے دیکھوں گا کہ کتنے قیدیوں کو چھوڑ سکتے ہیں۔

    انہوں نے عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر جیل میں قیدیوں کی صحت سے متعلق ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو بہترین سہولیات دیں ، قیدیوں کو صفائی ستھرائی کے ساتھ رہنے کی ہدایت کریں۔
    وضح رہےکہ برطانوی جیل میں کورونا وائر س سے84سالہ قیدی ہلاک ہو گیا،برطانیہ میں 19 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے

    دنیابھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد22ہزار20ہوگئی،دنیابھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افرادکی تعداد4لاکھ 86 ہزار 702 ہوگئی ہے،24گھنٹوں کےدوران ایران میں 157 افراد جان کی بازی ہار گئے ایران میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 234 ہو گئی ،